لاہور میں خودکش دھماکہ، کب کیا ہوا؟
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے خودکش دھماکے پر بی بی سی کی لائیو کوریج۔
لائیو کوریج

،تصویر کا ذریعہEPA
بریکنگ, لاہور دھماکے میں ہلاکتوں میں اضافہ
لاہور کے ڈی سی او کیپٹن (ر) محمد عثمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں کم از کم 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق دھماکے میں 73 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعظم، صدرِ مملکت اور آرمی چیف کی دھماکے کی مذمت
پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف، صدر ممنون حسین اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے اس دھماکے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ اس افسوس ناک واقعے میں لاہور کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
آرمی چیف جنرل باجوہ نے تمام خفیہ ایجنسیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سویلین انتظامیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کریں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بریکنگ, دھماکہ خودکش تھا، ہلاکتیں 10 ہوگئیں
پنجاب کے وزیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکہ تھا جس میں دو پولیس افسران اور ایک اہلکار سمیت 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
لاہور سے نامہ نگار حنا سعید کے مطابق وزیر نے بتایا کہ گنگا رام ہسپتال میں آٹھ جبکہ میو ہسپتال میں دو لاشیں لائی گئی ہیں۔
دھماکے میں 70 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ ان میں سے سات افراد کی حالت نازک ہے۔
لاہور میں دہشت گردی کے خدشے کی تنبیہ

دھماکے میں درجنوں افراد زخمی
دھماکے میں درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے اور آگ بجھانے کا عملہ جائے وقوعہ پر پہنچ گیا اور زخمیوں کو گنگا رام ہسپتال پہنچانے کا عمل جاری ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک اور ایس ایس پی آپریشنزز کی ہلاکت کی تصدیق
لاہور پولیس کے حکام نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک سے بات کرتے ہوئے دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد محمود گوندل کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
حکام کے مطابق ان کے علاوہ مزید سات افراد اس دھماکے میں ہلاک ہوئے ہیں۔
بریکنگ, لاہور میں چیئرنگ کراس پر دھماکہ
،ویڈیو کیپشنلاہور مال روڈ پر دھماکے کے بعد کے مناطر دھماکے میں اعلیٰ پولیس افسران کی ہلاکت کی اطلاعات
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مال روڈ پر چیئرنگ کراس کے مقام پر ہونے والے دھماکے میں لاہور پولیس کے دو افسران سمیت نو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یہ دھماکہ پنجاب اسمبلی کے قریب اس مقام پر ہوا جہاں ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین جمع تھے۔