بریکنگ, کابل ایئرپورٹ بند
دارالحکومت کابل کا ہوائی اڈہ برف کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان اور افغانستان میں شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
دارالحکومت کابل کا ہوائی اڈہ برف کے باعث بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ برفباری سے افغانستان کی اہم شاہراہیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں جن میں کابل قندہار ہائی وے شامل ہے۔ اس ہائی وے پر پرف میں پھنسے ہوئے 250 افراد کو پولیس اور فوج نے بچایا۔
کابل کے شمال میں واقع سلانگ پاس کو ڈھائی فٹ برف پڑنے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔
افغانستان میں گذشتہ تین روز میں 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کابل سے شمال کی جانب برفانی تودہ گرنے سے 16 افراد دب کر ہلاک ہو گئے۔ افغانستان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں بدخشاں، ننگرہار اور پروان شامل ہیں۔
پاکستان اور افغانستان میں شدید برفباری اور برفانی تودے گرنے کے باعث درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
چترال کے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف ایمرجنسی منیجمنٹ آغا خان ایجنسی نے پریس ریلز میں بتایا ہے کہ علاقے میں جاری برف باری سے اب تک محتلف علاقوں میں تین سے پانچ فٹ تک برف باری ہوئی ہے اور آئندہ دو دنوں کے دوران مزید برفانی تودے گرنے کے قوی امکانات ہیں۔
سوات سے صحافی انور شاہ کے مطابق چترال کے ڈپٹی کمشنر شہاب یوسف زئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ سنیچر کی رات دو بجے کے قریب گرم چشمہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں شیرشال نامی گاؤں پر برفانی تودہ گرنے سے پانچ مکانات تباہ ہوئے جس میں 12 افراد دب گئے تھے جس میں سے نو لاشوں کو نکال لیا گیا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ ہلاک ہونے والوں میں چھ خواتین، چار بچے اور ایک مرد شامل ہے۔
چترال
فوکس ہیومینیٹرین اسسٹنس پاکستان آغا خان ڈویلپمنٹ کے پبلک ریلیشنز آفیسر ولی محمد نے بتایا کہ چترال کے بعض علاقوں میں اب بھی برف باری جاری ہے۔
دوسری جانب شدید برفباری کا سلسلہ پاکستان کے ہمسائے ملک افغانستان میں بھی جاری ہے جہاں اب تک برفانی تودے گرنے کے باعث حکام کے مطابق 19 صوبوں میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
افغان حکام کے مطابق سب سے زیادہ نقصان پروان اور بدخشاں میں ہوا ہے۔ مرکزی شاہراہیں اور ہوائی اڈے بند ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق این ڈی ایم اے ایک خصوصی ہیلی کاپٹر روانہ کر رہا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس گاؤں میں 25 کے قریب گھر ہیں۔ تودہ گرنے کے خطرے کے پیش نظر 20 خاندان پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے تھے، البتہ پانچ خاندان علاقے میں مقیم رہے جو برفانی تودے کی لپیٹ میں آ گئے۔