اسرائیل کا لبنان میں ’محدود زمینی کارروائی‘ کا منصوبہ، امریکہ کو مطلع کر دیا گیا
ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے لبنان میں محدود زمینی کارروائی کے منصوبے کے بارے میں امریکہ کو مطلع کیا ہے جو پیر سے شروع ہوسکتی ہے۔
خلاصہ
لبنان میں حکام کے مطابق اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 105 افراد ہلاک اور 359 زخمی ہوئے۔
سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی اپیل پر پنجاب میں الیکشن ٹربیونلز سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس منیب اختر نے سپریم کورٹ میں آئین کے ارٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیلوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں شمولیت سے انکار کردیا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے مسلسل فضائی حملوں کی وجہ سے لبنان بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
لائیو کوریج
یمن: الحدیدہ پر اسرائیلی حملے میں چار ہلاک اور 33 زخمی
یمن میں حوثیوں کے زیر انتظام میڈیا کا کہنا ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں چار افراد ہلاک اور 33 زخمی ہو گئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں شہر کے شمال میں واقع الحلی پاور پلانٹ میں بندرگاہ کا ایک کارکن اور تین انجینئر شامل ہیں اور ریسکیو ٹیمیں اب بھی ملبے تلے دبے لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔
ویڈیو فوٹیج میں الحدیدہ کے ایک پاور پلانٹ میں اب بھی بڑے پیمانے پر آگ لگی دیکھی جا سکتی ہے تاہم بی بی سی اس ویڈیو کی تصدیق کرنے سے قاصر ہے۔
بریکنگ, اسرائیل کا یمن میں پاور پلانٹس اور سمندری بندرگاہ پر فضائی حملہ
،تصویر کا ذریعہX
اسرائیل نے یمن میں پاور پلانٹس اور سمندری بندرگاہ پر فضائی حملہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے یمن میں راس عیسیٰ اور الحدیدہ کے علاقوں میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی حملے میں ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایکس پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ آج بڑے پیمانے پر کیے گئے فضائی آپریشن میں فضائیہ کے درجنوں طیاروں بشمول لڑاکا طیاروں اور انٹیلی جنس طیاروں نے راس عیسیٰ اور حدیدہ کے علاقوں میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’آئی ڈی ایف نے پاور پلانٹس اور ایک سمندری بندرگاہ پر حملہ کیا جو تیل کی درآمد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔‘
یاد رہے اسرائیل اس سے پہلے بھی الحدیدہ کی بندرگاہ پر حملہ کر چکا ہے۔
حوثی خبر رساں ایجنسی نے الحدیدہ میں حملے کو ’اسرائیلی جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’یمن کا حمایتی محاذ اور صہیونی دشمن کے خلاف ہمارے حملے نہیں رکیں گے۔‘
کراچی میں حزب اللہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی کے دوران ’ہنگامہ آرائی‘، پولیس کی مزید نفری طلب
،تصویر کا ذریعہMWM Media Cell
پاکستان کے شہر کراچی میں
لبنانی تنظیم حزب اللہ کی حمایت میں نکالی جانے والی ایک ریلی کے شرکا اور پولیس کے
درمیان تصادم ہوا ہے۔
اتوار کو مذہبی سیاسی جماعت
مجلس وحدتِ مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور دیگر گروہوں نے نمائش چورنگی سے امریکی قونصلیٹ
تک احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
ایم ڈبلیو ایم کے میڈیا
سیل کی جانب سے صحافیوں کو بھیجی جانے والی ویڈیوز میں ریلی کے شرکا کو حزب اللہ کے
جھنڈے اور جمعے کو اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے لبنانی تنظیم کے سربراہ
حسن نصر اللہ کی تصاویر اُٹھائے سڑکوں پر مارچ کرتے ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔
مقامی صحافیوں کے مطابق احتجاجی
ریلی جب امریکی قونصلیٹ کے قریب ایم ٹی خان روڈ پر پہنچی تو پولیس کی جانب سے شرکا
کو منتشر کرنے کی کوشش کی گئی اور مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے گئے۔
ایک بیان میں ایم ڈبلیو
ایم کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے خواتین اور بچوں پر شیلنگ کی گئی
ہے۔
دوسری جانب سندھ کے محکمہ
داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ریلی کے دوران ’ہنگامہ آرائی
اور پتھراؤ‘ کیا گیا ہے۔
اس بیان میں صوبائی وزیرِ
داخلہ ضیاالحسن لنجار کا کہنا تھا کہ ’ہنگامی آرائی، پتھراؤ اور مشتعل افراد کو
روکنے کے لیے پولیس کی مزید نفری طلب کی جائے۔‘
محکمہ داخلہ کی جانب سے
مزید کہا گیا ہے کہ ڈی آئی جی ساؤتھ کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ’قانون کی رٹ کے
قیام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں‘ اور ’صحافیوں
سمیت عام شہریوں کو ریسکیو کیا جائے۔‘
جنوبی بیروت پر حملے میں حسن نصر اللہ کے علاوہ حزب اللہ کی 20 سینیئر شخصیات بھی ہلاک ہوئیں: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
اسرائیل کا کہنا ہے کہ
جمعے کو جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر کیے گئے فضائی حملوں میں حسن
نصراللہ کے ساتھ تنظیم کی دیگر 20 سینیئر شخصیات بھی ہلاک ہوئی ہیں۔
حزب اللہ نے حسن نصراللہ،
علی کرکی اور نبیل قاووق سمیت متعدد شخصیات کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ
انھوں نے حسن نصراللہ کے سکیورٹی یونٹ کے سربراہ ابراہیم حسین جزینی اور حزب اللہ
کے سربراہ کے ’مشیر اور قریبی ساتھی‘ سمیر توفیق دیب کو بھی ہلاک کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے
کہ جنوبی بیروت میں حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر رہائشی عمارتوں کے نیچے واقع تھا۔
حزب اللہ کا گڑھ ضاحیہ ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے, ہیوگو بچیگا، نمائندہ برائے مشرقِ وسطیٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بیروت میں ضاحیہ کا علاقہ
کبھی حزب اللہ کا دِل تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن اب وہ سنسان اور ویران نظر آ رہا
ہے۔
ہم نے ضاحیہ میں گاڑی میں سفر کیا اور دیکھا کہ
سڑکیں سُنسان تھیں اور تمام دُکانیں بند تھیں۔
ہزاروں افراد پہلے ہی یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں
جبکہ مزید افراد بھی ضاحیہ چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ افراد ایسے
ہیں جو پیدل ہی دوسرے مقامات کی طرف نکل پڑے ہیں۔
گذشتہ روز ہم نے ایک علاقے کا دورہ کیا تھا جہاں
اسرائیلی فضائی حملہ ہوا تھا۔ وہاں پڑے ملبے سے اس وقت بھی دھواں اُٹھ رہا تھا اور
فضا میں دھماکہ خیز مواد کی بو موجود تھی۔
اس مقام پر ہر تھوڑی دیر بعد کچھ لوگ آ رہے تھے
تاکہ اپنی آنکھوں سے وہاں ہونے والے نقصان کو دیکھ سکیں۔
دوسری جانب آج صبح بیروت میں ہر طرف ہمارے سروں
پر اُڑنے والے ڈرونز کی آوازیں سُنائی دے رہی تھیں۔
اسرائیل نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان
مقامات سے دور رہیں جہاں حزب اللہ کی موجودگی ہے اور کہا ہے کہ لبنانی عسکری گروہ
کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ابھی ہمضاحیہ سے نکلے ہی تھے کہ آدھے گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس
کی جانب سے علاقے میں ایک اور فضائی کارروائی کی گئی ہے۔ تصاویر میں علاقے سے
اُٹھنے والا دھواں دیکھا جا سکتا تھا۔
اب بھی یہی سوال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی
حملوں پر حزب اللہ کیا ردِعمل دے گی۔ لبنانی تنظیم کے پاس اب بھی اسلحے کا ذخیرہ
موجود ہے جس میں دور تک مار کرنے والے میزائل بھی شامل ہیں جن سے اسرائیلی شہروں
کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
حزب اللہ کمزرو ضرور ہوئی ہے لیکن اسے شکست نہیں
ہوئی۔ شمالی اسرائیلی پر اس کے حملوں میں کمی ضرور آئی ہے لیکن یہ حملے ابھی رُکے
نہیں ہیں۔
اسرائیلی فوج کے بیروت میں مزید حملے
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے
کہ اس کی جانب سے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے ضاحیہ
میں مزید فضائی حملے کیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا مزید کہنا
ہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں اس نے لبنان میں حزب اللہ کے متعدد اہداف کو نشانہ
بنایا ہے جس کا مقصد لبنانی تنظیم کے راکٹ لانچرز اور اسلحے کے گوداموں کو تباہ
کرنا تھا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ضاحیہ میں ایک عمارت پر راکٹ حملہ ہوا اور وہ ’فوراً
زمین بوس‘ ہوگئی۔
حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی لاش مل گئی: روئٹرز
،تصویر کا ذریعہGetty Images
خبر رساں ادارے روئٹرز کے
مطابق حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی لاش بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں
ایک مقام سے مل گئی ہے جہاں جمعے کے روز اسرائیلی فضائی حملے ہوئے تھے۔
میڈیکل اور سکیورٹی ذرائع
کا حوالہ دیتے ہوئے روئٹرز نے اطلاع دی ہے کہ حسن نصر اللہ کے جسم پر ’براہِ راست
کسی زخم‘ کا نشان نہیں۔
خیال رہے گذشتہ روز حزب
اللہ نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
دوسری جانب حزب اللہ نے
تصدیق کی ہے کہ تنظیم کے جنوبی محاذ کے کمانڈر علی کرکی بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔
گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے
ایک بیان میں کہا تھا کہ علی کرکی بھی حسن نصر اللہ کے ساتھ ہلاک ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا خیرمقدم کریں گے: لبنانی وزیراعظم
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لبنان کے وزیراعظم نجیب
میقاتی نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا ’خیرمقدم‘ کریں گے اور اگر
ایسا ہوتا ہے تو اس کا اطلاق لبنان اور اسرائیل دونوں پر ہونا چاہیے۔
جب ان سے اس تنازع کو ختم
کرنے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا ’سفارتی حل کے
علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں۔‘
اس سے قبل لبنانی وزیرِ اطلاعات نے
حکومتی کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ لبنان میں جنگ بندی کے لیے
سفارتی کوششیں ’جاری ہیں۔‘
اس سے قبل امریکہ اور اس
کے اتحادی بھی لبنان میں 21 روزہ جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ تاہم اس کے
باوجود بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔
گذشتہ روز حزب اللہ نے
تصدیق کی تھی کہ ان کے سربراہ حسن نصر اللہ ایک حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیل نے کہا
تھا کہ اس نے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں فضائی حملوں میں حسن نصراللہ سمیت حزب
اللہ کے متعدد کمانڈروں کو ہلاک کیا ہے۔
حزب اللہ اور ایران کے جوابی حملوں کا خدشہ، اسرائیل کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان کے شہر بیروت میں حسن نصر اللہ کی ہلاکت نے عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کو ہوا دی ہے۔
اس ہلاکت نے ممکنہ طور پر خطے کو ایک وسیع تر اور اس سے بھی زیادہ نقصان دہ تنازعے کے مزید قریب کر دیا ہے جس میں ایران اور امریکہ دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔
تو بات یہاں سے کہاں تک جانے کا امکان ہے؟ اور اس کا انحصار کن تین بنیادی سوالوں پر ہے؟
حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد اسرائیل کبھی امن نہیں دیکھ سکے گا: ایرانی وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی
نے ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کو اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں خبردار کیا ہے کہ
لبنان میں حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد اسرائیل ’امن نہیں دیکھے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا ہے کہ اسرائیل
کی اس کارروائی نے ’صیہونی حکومت کے زوال کو تیز کر دیا۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے لبنان میں
اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں سے متعلق امریکہ کے بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا
کہ ’امریکہ اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔‘
عباس عراقچی نے حسن نصراللہ کے
قتل کو ایک ’بڑا نقصان‘ قرار دیا لیکن کہا کہ ’اس سے مزاحمت میں کوئی خلل نہیں پڑے
گا‘ اور اُن کا ’خون‘ حزب اللہ کو ’مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا۔‘
دوسری جانب ایرانی پاسداران
انقلاب نے اپنے ایک بیان میں پاسداران انقلاب کے ڈپٹی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عباس
نیلفورشن کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ نیلفورشن 27 ستمبر کو لبنان پر
اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے
حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کئی بار جوابی کارروائی کا وعدہ کیا تھا، جنھیں جولائی کے اواخر میں تہران میں
قتل کر دیا گیا تھا۔
بیان میں نیلفورشن کو ’مزاحمتی
محاذ‘ اور ایران کے دفاع میں ان کے کردار کی تعریف کی گئی ہے اور سپریم لیڈر آیت
اللہ خامنہ ای نے ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور ایرانی عوام کے ساتھ ان کی وفات پر تعزیت
کا اظہار کیا ہے۔
نیلفورشان کو 2019 میں علی زاہدی
کی جگہ پاسداران انقلاب کا آپریشن ڈپٹی مقرر کیا گیا تھا۔
اس سے قبل وہ پاسداران انقلاب کی
کمانڈ اینڈ سٹاف یونیورسٹی کے سربراہ اور امام حسین ہیڈکوارٹرز کے قائم مقام ڈپٹی
کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں جو نیم فوجی بسیج فورسز کی تربیت اور
تنظیم کا ذمہ دار ہے۔
لبنان پر تازہ اسرائیلی حملوں میں 15 افراد ہلاک، اسرائیلی فوج کا بحیرہ احمر سے ڈرون حملہ روکنے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر ہونے
والے تازہ ترین حملوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
لبنانی میڈیا کے مطابق ملک کے
جنوب میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شمال مشرقی لبنان میں حزب اللہ کا
مضبوط گڑھ وادی بیکا میں مزید نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
عرب اخبار ’النہار‘ کے مطابق جنوبی
لبنان کے قصبے انکون میں تین افراد ہلاک ہوئے جبکہ دیگر تین افراد جنوبی علاقے
نباتیہ کے دیگر مقامات پر ہلاک ہوئے۔
ایک اور رپورٹ میں اخبار کا کہنا
ہے کہ وادی بیکا کے علاقے میں ایک شامی خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے جن میں بچے
اور ماں بھی شامل ہیں جن کا تعلق لبنانی تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بحیرہ
احمر سے ایک ڈرون حملے کو روکے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی ڈی ایف کی جانب سے جاری ہونے
والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی شمالی سرحد پر سرحد پار سے فائرنگ اور
راکٹ حملوں کے ساتھ ساتھ اسے جنوب کی جانب سے بھی خطرات کا سامنا ہے۔
اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی
ایف) نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے ملک کے جنوب میں بحیرہ احمر کے پار سے
آنے والے ایک ڈرون کو روک لیا ہے۔
گزشتہ روز انھوں نے یہ بھی کہا
تھا کہ انھوں نے یمن سے ایرانی حمایت یافتہ باغی گروپ حوثیوں کی جانب سے داغے گئے
میزائل کو بھی ناکام بنا دیا ہے جو اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھتا ہے۔
اسرائیل، حزب اللہ کشیدگی: گذشتہ چند گھنٹوں میں کیا ہوا؟
،تصویر کا ذریعہReuters
لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری
کشیدگی کی تازہ صورتحال پر ایک نظر:
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل
انتونیو گوتریس نے لبنان میں تنازعات میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یورپی یونین نے فضائی کمپنیوں کو
مشورہ دیا ہے کہ وہ لبنان اور اسرائیل کی فضائی حدود میں پرواز کرنے سے گریز کریں۔
لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے
جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے لبنان پر حملوں میں اب تک 700 افراد
کی جانیں جا چکی ہیں۔ وزارت کے مطابق سنیچر کے روز ہونے والے حملوں میں 33 افراد
ہلاک اور 195 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے
مہاجرین کے سربراہ نے کہا ہے کہ لبنان کے اندر کم از کم دو لاکھ افراد بے گھر ہو
چکے ہیں جن میں سے 50,000 سے زیادہ نے شام کی جانب نقل مکانی کی ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری
کشیدگی میں امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے ایک بار پھر فریقین سے جنگ بندی کا
مطالبہ کیا ہے۔
سنیچر کو امریکی صدر سے ایک صحافی
نے لبنان پر اسرائیلی کی جانب سے زمینی کارروائی کے امکان پر سوال کیا تو انھوں نے
ردعمل میں بس اتنا کہا کہ ’اب جنگ بندی کا وقت ہے۔‘
برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے
بھی لبنانی وزیر اعظم نجیب میقاتی کے ساتھ بات چیت میں فوری جنگ بندی اور خونریزی
روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ادھر ایران نے اقوام متحدہ کو
لکھے گئے خط میں لبنان پر اسرائیل کے حملوں اور حسن نصر اللہ کی ہلاکت کی تحقیقات
کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی ہے۔
اسرائیلی افواج کا حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر درجنوں حملے کیے ہیں۔
اتوار کے روز ٹیلی گرام پر شائع
ہونے والے ایک بیان میں اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا کہ ان اہداف میں اسرائیل کی
جانب نشانہ بننے والے میزائل لانچر بھی شامل ہیں۔
بیان کے مطابق ان حملوں میں ان
عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے کہ جہاں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ذخیرے موجود
تھے۔
اسرائیلی افواج کی جانب سے اتوار
کو جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز حزب اللہ کے ’سینکڑوں‘
ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
’اسرائیل لبنان پر زمینی حملہ بھی کر سکتا ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP
،تصویر کا کیپشنلبنان کی سرحد پر اسرائیلی ٹینک
خبر رساں ادارے سی بی ایس کے مطابق
سنیچر کے روز اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ملک بھر
میں خدمات انجام دینے کے لیے ریزرو فوجیوں کی مزید تین بٹالین کو متحرک رہنے کے
احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔‘
ایک امریکی عہدیدار نے سنیچر کو
سی بی ایس نیوز کو اس بات کی تصدیق کی کہ ’اسرائیل اپنی شمالی سرحد پر زمینی افواج
بھیجنے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے، اور اگر ایسا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اگلے
چند دنوں میں ’لبنان میں محدود زمینی حملہ کیا جاسکتا ہے۔‘
اسرائیل کی جانب سے لبنان میں ممکنہ
زمینی کارروائی کی تیاری کے لئے پہلے ہی مُلک کے شمالی حصے میں دو بریگیڈ بھیج دی
ہیں۔
تاہم سنیچر کے روز اپنے ایک بیان
میں اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ہرزی حلوی نے کہا کہ نصراللہ کے قتل سے
ظاہر ہوتا ہے کہ ’جو کوئی بھی اسرائیلی شہریوں کو دھمکی دیتا ہے، ہم جانتے ہیں کہ
ان تک کیسے پہنچنا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images/AFP
،تصویر کا کیپشن28 ستبمر 2024۔ اسرائیلی افواج کے ٹینکوں کی لبنان کے ساتھ ملک کی شمالی سرحد پر منتقلی کے مناظر
امریکی صدر جو بائیڈن سے امریکہ
میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا اب لبنان میں اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی
ناگُزیر دکھائی دے رہی ہے؟ جس کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اب جنگ بند
ہو جانی چاہیے۔‘
لبنان میں اسرائیل کی زمینی کارروائی کا دائرہ کار ابھی تک واضح نہیں ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ کو سرحد سے دور دھکیلنے کے لیے زمینی حملے کا امکان ہے۔ اسرائیل نے تیاری کے طور پر ہزاروں فوجیوں کو سرحد کی طرف منتقل کر دیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر بڑھتے دباؤ اور حملوں کی وجہ سے سرحد کی دونوں جانب ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دو لاکھ سے زائد لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔
ایرانی رہبرِ اعلیٰ محفوظ مقام پر منتقل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کو بیروت پر اسرائیل کے
حملوں اور حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی خدشات میں
اضافے کے بعد محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
دو علاقائی عہدیداروں نے رائٹرز
کو بتایا کہ حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد اگلے اقدامات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے
لیے ایران حزب اللہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای نے
حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر پانچ روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حزب اللہ
کے سربراہ کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات مزدور ہلاک اور ایک زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے
ضلع پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات
مزدور ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا ہے۔
پنجگور پولیس
کے مطابق مزدوروں کو پنجگور شہر کے قریب خدابادان کے علاقے میں نشانہ بنایا گیا
ہے۔ پنجگور پولیس کے ایک اہلکار شہزاد بلوچ نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے
مزدور ایک گھر میں رہائش پزیر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنیچر کی شب نو بجے کے بعد
نامعلوم مسلح افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور وہاں رہائش پزیر
مزدوروں پر فائر کھول دیا۔
انھوں نے
بتایا کہ فائرنگ سے چھ مزدور موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔ ان کا
کہنا تھا کہ زخمی مزدوروں کو ہسپتال منتقلی کے دوران ان میں سے ایک زخموں کی تاب
نہ لا کر چل بسے۔
ہلاک ہونے
والے مزدوروں کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا
ہے۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والے مزدوروں کی شناخت ہوگئی ہے
جن کا تعلق ملتان کے مختلف علاقوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مزدور مختلف علاقوں
میں کام کرتے تھے اور رات کو خدابادان کے علاقے میں ایک گھر میں رہتے تھے۔
پولیس
اہلکار کے مطابق واقعے کے حوالے سے شواہد اکھٹے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے
تاہم یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے۔
درایں اثنا
وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک
مرتبہ پھربلوچستان میں ’دہشت گردوں‘ نے غریب پاکستانی مزدوروں پر وار کیا ہے۔ ایک
بیان میں انھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد کب تک بلوں میں چھپیں گے۔ چن چن کر بے گناہ
پاکستانیوں کے قتل کا حساب لیں گے۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
پنجگور کہاں واقع ہے؟
پنجگور ایران سے متصل بلوچستان کا سرحدی ضلع ہے۔ پنجگور شہر اس ضلع کا ہیڈکوارٹر ہے جو کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے اندازاً ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دور جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اس ضلع کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے۔ پنجگور کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔ پنجگور میں پہلے بھی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
اگرچہ تاحال اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم ماضی میں بدامنی کے ایسے واقعات کی ذمہ داری کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ پنجگور انتظامی لحاظ سے مکران ڈویژن کا حصہ ہے۔ اس ڈویژن کے دیگر دو اضلاع گوادر اور کیچ میں اس نوعیت کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
رواں سال مئی کے مہینے میں ضلع گوادر کے علاقے سربندن میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے حجام کی دکان پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے سات افراد مارے گئے تھے۔ اس سے قبل گوادر سے متصل ضلع کیچ کے ہیڈکوارٹر تربت میں بھی اکتوبر 2023 میں فائرنگ سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے چھ مزدور ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران نے حزب اللہ کے رہنما حسن
نصراللہ کی ہلاکت کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا
مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر
امیر روحانی نے سلامتی کونسل کے 15 ارکان کے نام ایک خط میں اپنے ملک کے سفارتی
احاطے اور نمائندوں پر کسی بھی حملے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اس
طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب نے امریکہ پر اسرائیل کے حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے سلامتی کونسل کو مفلوج کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے ’فوری اور فیصلہ کن اقدامات‘ کرے اور خطے کو مکمل طور پر جنگ کی جانب جانے سے روکے۔
انھوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا
کہ وہ خطے کو جنگ کے میدان میں تبدیل ہونے اور حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے روکنے
کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت
اپنے بنیادی حقوق استعمال کرنے سے نہیں ہچکچائے گا اور نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنے دفاع
میں ہر ممکن قدم اُٹھانے کا اہل ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے
سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا تھا کہ نصراللہ کی موت کا بدلہ
لیا جائے گا۔
’اب جنگ بند ہو جانی چاہیے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر جو بائیڈن سے امریکہ
میں ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا اب لبنان میں اسرائیل کی جانب سے زمینی کارروائی
ناگُزیر دکھائی دے رہی ہے؟ جس کے جواب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’اب جنگ بند
ہو جانی چاہیے۔‘
واضح رہے کہ امریکہ اور اس کے
اتحادیوں نے بدھ کے روز اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کا
مطالبہ کیا تھا، تاہم اب تک جنگ بندی سے متعلق کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
تاہم گزشتہ روز امریکی صدر جو بائیڈن نے حسن نصراللہ کی موت کو بہت سے متاثرین کے لیے ’انصاف پر مبنی اقدام‘ قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ان متاثرین میں ’ہزاروں امریکی، اسرائیلی اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔‘
بائیڈن نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ’حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور کسی بھی ایرانی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ‘ کے خلاف اپنے دفاع کے لیے اسرائیل کے حق کی ’مکمل حمایت‘ کرتا ہے۔
گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ
ایک نظر ڈالتے ہیں گزشتہ روز کی
اہم خبروں پر
اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ
کی موت کو ’تاریخی اقدام‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حساب برابر کر دیا۔
امریکہ میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد اسرائیل واپسی پر نیتن یاہو نے
کہا کہ ’اسرائیل اپنے دشمنوں پر حملے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن نے حسن نصراللہ کی موت کو بہت سے متاثرین کے
لیے ’انصاف پر مبنی اقدام‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ ان متاثرین میں ’ہزاروں
امریکی، اسرائیلی اور لبنان کے شہری شامل ہیں۔‘
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر
پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ کے ’خون کا
بدلہ لیا جائے گا۔‘
عراق کے وزیر اعظم ہاؤس نے حسن نصر اللہ کی ہلاکت پر تین روزہ سوگ کا
اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ’تمام حدیں پار کر دی ہیں۔‘ دوسری جانب ایران
کی وزات داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ حملہ ’جنگی جرم‘ تھا جس کے لیے اسرائیل اور
امریکہ، دونوں کا احتساب ہونا ضروری ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق پاسدران انقلاب کی قدس فورس کے سینیئر کمانڈر
عباس نیلفروشن بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔ پاسداران انقلاب
اسلامی کا قیام 1979 میں ایرانی انقلاب کے بعد نئے اسلامی نظام کے دفاع کے لیے عمل
میں آیا تھا۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔
پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔