غزہ اسرائیل جنگ : امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت کے لیے تل ابیب پہنچ گئے

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اسرائیل کا دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی ترمیم شدہ تجاویز پیش کی گئی ہیں اور جس کا مقصد فریقین کے درمیان دیرینہ خلیج کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیش رفت کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔
  • سٹیٹ بینک اور پاکستان میں کام کرنے والے ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک 1 لنک نے اے ٹی ایم مشینوں کی بندش یا سائبر حملے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔
  • غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے متوقع مذاکرات کے لیے اسرائیلی وفد آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ رہا ہے۔
  • اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے سربراہ نے کہا ہے کہ روس کے زیر قبضہ یوکرین میں زاپوریژیا پاور پلانٹ میں جوہری تحفظ کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بلوچستان کے شہر دالبندین میں بجلی کے کھمبوں سے بندھی پانچ لاشیں برآمد

    پاکستان کے صوبے بلوچستان کے علاقے دالبندین سے پانچ افراد کی بجلی کی کھمبوں سے بندھی لاشیں ملی ہیں۔

    بی بی سی کے رابطہ کرنے پر دالبندین کے ایڈیشنل ایس ایچ او عبدالحکیم نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ تمام افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پانچوں افراد کو قتل کرنے بعد ان کی لاشوں کو شہر سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر ڈگری کالج کے نزدیک بجلی کے کھمبوں سے باندھا گیا تھا۔

    ایڈیشنل ایس ایچ او کے مطابق ان افراد کو اندازاً دس سے پندرہ گھنٹے پہلے کہیں اور قتل کر کے ان کی لاشوں کو ڈگری کالج کے قریب منتقل کیا گیا ہے۔

    لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    عبدلحکیم کا کہنا تھا کہ پانچوں افراد کو سینے میں پانچ سے سات گولیاں ماری گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق لاشوں کی فی الحال شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ مارے جانے والے افراد کی عمریں اندازاً 22 سال سے 27 سال کے درمیان ہے۔

    ایڈیشنل ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ واقعے کی مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

    دالبندین شہر میں اپنی نوعیت کا پہلا واقع

    بلوچستان کے سرحدی ضلع چاغی کا ہیڈ کوارٹر دالبندین صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 350 کلومیٹر سے زائد کے فاصلے پر واقع ہے۔

    مقامی حکام کے مطابق دالبندین اور اس کے نواحی علاقوں سے ماضی میں بھی لاشیں برآمد ہوتی رہی ہیں تاہم بیک وقت پانچ افراد کو مارنے کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کی لاشوں کو باندھنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

    شدت پسند تنظیم جیش العدل، جو سرحد پار ایران میں بھی کارروائیاں کرتی آئی ہے، ضلع چاغی اور اس سے متصل سرحدی ضلع واشک میں کافی سرگرم ہے۔

    ماضی میں جیش العدل جانب سے اس نوعیت کی کاروائیوں کی ذمہ داریاں بھی قبول کی جاتی رہی ہیں۔ تاحال اس واقعے کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    دوسری جانب مارے جانے والے افراد ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔

    اس ویڈیو میں ایک شخص بلوچی زبان میں جبکہ باقی چار پشتو میں بات کرتے دکھائی دے رہے ہیں جو اپنا تعلق افغانستان کے صوبہ ہلمند سے بتا رہے ہیں۔

    ویڈیو میں دکھائی دینے والے پانچوں افراد جیش العدل کے کچھ عرصہ قبل مارے گئے رہنما مراد نوتیزئی عرف طارق کے قتل کا اعتراف کر رہے ہیں۔

    تاہم آزاد ذرائع اور پاکستانی حکام کی جانب سے تاحال اس ویڈیو کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

  2. انٹرنیٹ بندش اور فائر وال کی تنصیب کے خلاف اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر

    انٹرنیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں فائر وال کی تنصیب اور انٹرنیٹ بندش کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کردی گئی ہے جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایسی ہی ایک درخواست زیرِ سماعت ہے۔ دوسری جانب حکومت نے پہلی مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت اپنا ’ویب مینیجمنٹ سسٹم‘ اپ گریڈ کر رہی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست حامد میر کی جانب سے وکیل ایمان مزاری نے دائر کی ہے۔

    پاکستان میں گذشتہ چند ہفتوں سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہونے کی شکایات سامنے آرہی ہیں خصوصاً موبائل ڈیٹا کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی کافی مشکل ہو چکی ہے۔ نٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی خاموش ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب سے روکا جائے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فائر وال کی تنصیب کو تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط کیا جائے، اور درخواست پر فیصلہ آنے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کیا جائے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت حکومت کو شہریوں کی بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو یقینی بنانے کے احکامات دے۔

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اٹھارٹی اور وزارت انسانی حقوق کے علاوہ سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔

    ایسی ہی ایک درخواست لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس پر متعلقہ حکام کو دن 12 بجے طلب کر رکھا ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ حکومت نے بغیر نوٹس اور وجہ بتائے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپلی کیشنز بند کر دی ہیں۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بندش سے کاروبار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی متاثر ہو رہی ہے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت حکومت کا انٹرنیٹ بند کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملک میں انٹرنیٹ کو مکمل اور فوری طور پر بحال کرنے کے احکامات دے۔

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب سے روکا جائے۔

    ’حکومت اپنا ویب مینیجمنٹ سسٹم اپ گریڈ کر رہی‘

    جمعرات کے روز پہلی مرتبہ حکومت نے دبے الفاظوں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت اپنا ’ویب مینیجمنٹ سسٹم‘ اپ گریڈ کر رہی ہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی میٹنگ کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ کا کہنا تھا کہ انھیں فائر وال کی ٹیسٹنگ کا علم نہیں ہے تاہم ایک ’ویب مینیجمنٹ سسٹم‘ ہے جسے حکومت چلا رہی تھی۔

    ’اب اس کی اپگریدیشن کی جا رہی ہے جو کہ حکومت کا حق ہے۔‘

    شزہ فاطمہ کے مطابق فائروال ایک سائبر سکیورٹی اقدام ہے جو پوری دنیا کی حکومتیں لیتی ہیں۔

    وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک میں ہر چیز کا ایشو بنا دیا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے سائبر سکیورٹی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے حکومت کو اپنی صلاحیتیں بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ان خطرات سے کامیابی سے نمٹا جاسکے۔

    وزیرِ مملکت کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کے متعلق شکایات کے حوالے سے انھوں نی انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی کمپنیوں اور پی ٹی اے سے درکواست کی ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کا ڈیٹا مہیا کیا جائے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ واقعی انٹرنیٹ کی سپیڈ میں کمی آئی ہے یا نہیں۔

    تاہم پی ٹی اے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندش حوالے سے سب تک خاموش ہے۔ گذشتہ ماہ کے اواخر میں ایک ٹیلی کام کمپنی کے افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’جہاں تک ہماری معلومات ہیں اس کے مطابق ریاستی اداروں کی جانب سے انٹرنیٹ فائر وال لگائی گئی ہے جس کی وجہ سے سوشل میڈیا ایپلیکیشنز چلانے میں مسئلہ آ رہا ہے۔‘

    واضح رہے کہ انٹرنیٹ فائر وال بنیادی طور پر کسی بھی ملک کے مرکزی انٹرنیٹ گیٹ ویز پر لگائی جاتی ہیں جہاں سے انٹرنیٹ اپ اور ڈاؤن لنک ہوتا ہے اور اس نظام کی تنصیب کا مقصد انٹرنیٹ کی ٹریفک کی فلٹریشن اور نگرانی ہوتی ہے۔ اس نظام کی مدد سے ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود مواد کو کنٹرول یا بلاک کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ فائر وال سسٹم کی مدد سے ایسے مواد کے ماخذ یا مقامِ آغاز کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    ان مسائل کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ملک بھر میں سوشل میڈیا تک رسائی میں مشکلات کے حوالے سے پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل (ریٹائرڈ) حفیظ الرحمان کو 21 اگست کو کمیٹی کے سامنے وضاحت دینے کی درخواست کی ہے۔

  3. جنرل باجوہ نے مارشل لا لگانے کی دھمکی دی تھی: خواجہ آصف

    جنرل قمر جاوید باجوہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے مارشل لا لگانے کی دھمکی دی تھی۔

    جمعرات کے روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ آیا اس بات میں کوئی سچائی ہے کہ جنرل باجوہ نے ان کے سامنے مارشل لا لگانے کی دھمکیاں دیتے تھے تو انھوں اس بات کی تصدیق کی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا، ’ایک ملاقات میں انھوں نے اس طرف اشارہ کیا۔ جو آپ بات کر رہے ہیں یہ بھی اشارہ کیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بطور فوج کے سربراہ مارشل لا لگانے کا کہنے پر جنرل باجوہ کا احتساب نہیں ہونا چاہیئے، تو ان کا کہنا تھا کہ ’میں کون ہوتا ہوں، میں پہلے ہی اوقات سے بڑھ کر باتیں کر رہا ہوں۔ جب خواہشات کا ایک سیلاب ہو تو انسان بالآخر لڑکھڑا جاتا ہے۔ ٹھوکر کھاتا ہے۔‘

    ’خواہشات کنٹرول میں رہنی چاہیئے۔‘

    خواجہ آصف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک احمد خان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف مدتِ ملازمت میں توسیع (ایکسٹینشن) لینے سے منع کر دیا تھا۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل خواجہ آصف نے دعویٰ کیا تھا کہ جنرل باجوہ دوسری بار ایکسٹینشن لینے کے خواہشمند تھے۔

    ملک احمد خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وہ اور ملک احمد الگ الگ مواقع کی بات کر رہے ہیں۔

    ’میں جو باتیں کر رہا ہوں وہ آرمی چیف کی رہائش گاہ پر ہوئیں۔ میں اور ملک احمد خان وہاں موجود ٹھے، ساری باتیں وہاں ہوئی ہیں۔‘

    ان کے مطابق ملک احمد خان جنرل باجوہ کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اور نیویارک میں ان کی گفتگو کا حوالہ دے رہے ہیں۔

    ’ایک شخص کا پبلک فورم پر کہنا کہ میں ایکسٹینشن نہیں لوں گا، اور ایک ڈیڈ لاک کو ختم کرنے لیے آخری آپشن کے طور پر کوئی چیز پیش کرنا الگ بات ہے۔‘

    اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایکسٹینشن کی بات اس تناظر میں نہیں کی گئی جیسے پہلی دفعہ جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن ملی تھی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی پر پیدا ہونے ڈیڈ لاک کو ختم کرنے کے لیے جنرل باجوہ نے تجویز کیا تھا کہ عبوری مدت کے لیے انھیں ایکسٹینشن دے دی جائے۔

  4. غزہ میں جنگ بندی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز

    غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدے پر دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا آغاز امید انگیز ہے۔

    تاہم وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی کا کہنا کہ امن معاہدے کے فریم ورک کے نفاذ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ’ابھی بہت کام کرنا باقی ہے‘۔

    اس سے قبل حماس کے ایک سینئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ان کی تنظیم غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جمعرات کو دوحہ میں شروع ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ حماس امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ایک لائحہ عمل چاہتی ہے اور کسی ’مذاکرات برائے مذاکرات میں حصہ نہیں لے گی جس سے اسرائیل کو اپنی جنگ جاری رکھنے میں مدد ملے۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملک کی مذاکراتی ٹیم کو قدرے وسیع مینڈیٹ دیا گیا ہے، جب کہ غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کے لواحقین میں سے کچھ ان مذاکرات کو یرغمالیوں کو زندہ نکالنے کا ’آخری موقع‘ قرار دے رہے ہیں۔

    ثالثوں کو ان مذاکرات کے دوران کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں مصر کے ساتھ غزہ کے سرحد کے ساتھ موجود علاقے کا کنٹرول اور شمالی غزہ میں بے گھر فلسطینی شہریوں کی واپسی شامل ہے۔

    گزشتہ ماہ امن کی کوششوں کو کئی دھچکوں کا سامنا کرنا پڑا اور حماس کے سیاسی رہنما اور چیف مذاکرات کار اسماعیل ہنیہ کے تہران میں قتل کے بعد مذاکرات معطل ہو گئے تھے۔

  5. اسرائیلی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کئی گھر اور گاڑیاں نذرِ آتش کر دیں

    غربِ اردن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعرات کے روز اسرائیلی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں گھروں اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ درجنوں آباد کاروں نے جمعرات کی شام نابلس شہر کے قریب جِٹ گاؤں پر حملہ کیا۔ اس حملے میں پتھر اور مولوٹوف کاک ٹیل (پیٹرول بم) استعمال کیے گئے۔

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق حملے میں ایک 20 سالہ شخص ہلاک جبکہ ایک اور شخص کو سینے میں شدید چوٹ آئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جمعرات کو دیر گئے جِٹ میں مکانات اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔

    فوٹیج میں گاؤں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے نظر آ رہے ہیں۔

    اسرائلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ہلاکت کی رپورٹ کی تفتیش کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی سیاسی رہنماؤں نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے ذمی داروں کو سزا دی جائے گی۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’کسی بھی مجرمانہ فعل کے ذمہ داروں کو پکڑ کر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔‘

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے جِٹ سے ایک اسرائیلی شہری کو حراست میں لیا ہے۔

  6. پاکستان میں ایم پوکس کا مشتبہ کیس، این ایچ ایس نے ایڈوائزری جاری کر دی

    ایم پوکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایم پوکس کا ایک مشتبہ کیس رپورٹ ہوا ہے جبکہ پاکستان کے قومی ادارہ برائے صحت (این ایچ ایس) نے عالمی سطح پر ایم پوکس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیشِ نظر اس بیماری کے حوالے سے ایک ایڈوائزری بھی جاری کردی ہے۔

    ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ مردان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص میں ایم پوکس کا مشتبہ کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص خلیجی ملک سے آیا ہے اور اس میں ایم پوکس معمولی علامات ہیں۔ وائرس کی تصدیق کے لیے مریض سے لیے گئے نمونے قومی ادارہ صحت کو بھجودیے گئے ہیں۔

    اس سے قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے افریقہ کے کچھ حصوں میں ایم پوکس کی وبا کو بین الاقوامی تشویش کا باعث اور صحت عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا تھا جس کے بعد جمعرات کے روز پاکستان کے قومی ادارہ صحت نے ایڈوائزری جاری کی تھی۔

    این ایچ ایس کے مطابق ملک کے تمام داخلی راستوں بشمول ایئرپورٹس پر سکریننگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ این اچ ایس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں وفاقی ہسپتالوں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے جبکہ وزارت صحت اور بارڈر ہیلتھ سروسز ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں۔

    ایم پوکس کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟

    ایم پوکس ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جسے پہلے ’منکی پوکس‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس سے جمہوریہ کانگو میں کم از کم 450 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایم پوکس کی بیماری منکی پوکس وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ چیچک جیسے وائرس کے گروپ سے ہے لیکن کم نقصان دہ ہے۔

    یہ وائرس اصل میں جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا تھا لیکن اب انسانوں سے انسانوں کو بھی منتقل ہوتا ہے۔

    اس بیماری کی علامات کیا ہوتی ہیں اور اس سے کیسے بچا جائے اس بارے میں جاننے کے لیے یہال کلک کریں۔

  7. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    • پاکستانی فوج نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کارروائی کے معاملے میں پاکستانی فوج کے مزید تین ریٹائرڈ فوجی افسران بھی فوج کی تحویل میں ہیں۔
    • سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا کہنا تھہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید ہمارا اثاثہ تھے جنھیں ضائع کر دیا گیا۔
    • جمعرات کے روز پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر کشیدگی کے باعث بند طورخم بارڈر کو تین روز بعد کھول دیا گیا جس کے بعد تجارتی گاڑیوں اور مسافروں کی آمد و رفت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

    گذشتہ روز کی خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔