غزہ اسرائیل جنگ : امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت کے لیے تل ابیب پہنچ گئے

امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن اسرائیل کا دورہ ایک ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی ترمیم شدہ تجاویز پیش کی گئی ہیں اور جس کا مقصد فریقین کے درمیان دیرینہ خلیج کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

خلاصہ

  • امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیش رفت کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔
  • سٹیٹ بینک اور پاکستان میں کام کرنے والے ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک 1 لنک نے اے ٹی ایم مشینوں کی بندش یا سائبر حملے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔
  • غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے متوقع مذاکرات کے لیے اسرائیلی وفد آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچ رہا ہے۔
  • اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے سربراہ نے کہا ہے کہ روس کے زیر قبضہ یوکرین میں زاپوریژیا پاور پلانٹ میں جوہری تحفظ کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے

    بی بی سی اردو کے لائیو پیج پر تازہ ترین خبریں جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔

  2. غزہ اسرائیل جنگ : امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن جنگ بندی کے معاہدے پر پیش رفت کے لیے اسرائیل پہنچ گئے, جیمز گریگوری، بی بی سی نیوز

    انتونی بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر پیش رفت کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔

    اکتوبر 2023 میں غزہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد سے خطے میں ان کا نواں دورہ ہے۔

    یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی ترمیم شدہ تجاویز پیش کی گئی ہیں اور جس کا مقصد فریقین کے درمیان دیرینہ خلیج کو ختم کرنا بتایا جا رہا ہے۔

    امریکہ اور اسرائیل گزشتہ ہفتے قطر میں مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے ایک معاہدے کے بارے میں پرامید ہیں تاہم عسکریت پسند تنظیم حماس کا الزام ہے کہ پیش رفت کی تجاویز ایک ’فریب‘ ہیں۔

    حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے لیے اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کی پٹی سے مکمل طور پر انخلا کرنا ہو گا۔

    غزہ کے دیر البلاح میں ااسرائیلی فوج کا فضائی حملہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنغزہ کے دیر البلاح میں اسرائیلی فوج کی طرف سے فضائی حملے کے بعد فلسطینی شہری دھماکے سے بچنے کے لیے بھاگ رہے ہیں

    حماس کے ایک ذرائع نے سعودی میڈیا کو بتایا ہے کہ ان تجاویز میں غزہ کی مصر کے ساتھ جنوبی سرحد کے ساتھ ایک تنگ پٹی، فلاڈیلفی کوریڈور کے ساتھ اسرائیلی افواج کی موجودگی کو کم کرنا شامل ہے۔

    تاہم اسرائیلی ذرائع نے ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا ہے کہ معاہدے کے پہلے مرحلے میں سرحد کےعلاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے بجائے دیگر تجاویز پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کے لیے غزہ میں جنگ کا آغاز کیا۔

    حماس کے جنگجؤوں نےاس دوران عام شہریوں سمیت تقریباً 1200 افراد کو ہلاک کیا اور 251 کو یرغمال بنایا گیا۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اس کے بعد سے غزہ میں 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نومبر2023 میں ایک جنگ بندی معاہدے پر اتفاق کیا گیا جس میں حماس نے ایک ہفتے کی جنگ بندی کے بدلے میں 105 یرغمالیوں کو رہا کیا اور اسرائیلی جیلوں میں قید تقریباً 240 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ 111 یرغمالی ابھی تک قید ہیں جن میں سے 39 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  3. ’اسرائیل کو تسلسل سے اسلحے کی فروخت کا کوئی جواز نہیں بنتا‘: برطانوی دفترِ خارجہ کے افسر مستعفی, ٹوم بیٹمین، بی بی سی نیوز

    برطانیہ، اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی دفترِ خارجہ کے ایک افسر نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہٰ فروخت کرنے کے معاملے پر احتجاجاً استعفیٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی حکومت بھی ’شاید جنگی جرائم میں ملوث ہے۔‘

    برطانوی دفترِ خارجہ میں ملازمت کے دوران مارک سمتھ انسدادِ دہشتگردی کے امور پر کام کر چکے ہیں اور حالیہ دنوں میں وہ ڈبلن میں سفارتخانے میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

    جمعے کو انھوں نے اپنے ساتھیوں کو بھیجی گئی ای میل میں لکھا کہ انھوں نے دفترِ خارجہ میں ’ہر سطح پر‘ اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    برطانوی فارن، کامن ویلتھ اور ڈویلپمنٹ آفس (ایف سی ڈی او) نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بین الاقوامی قوانین کا تحفظ کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

    مارک سمتھ نے اپنا استعفیٰ ای میل کے ذریعے برطانوی حکومت کے سینکڑوں حکام، سفارتخانے کے ملازمین اور دفترِ خارجہ کے مشیروں کو بھیجا ہے۔

    مارک سمتھ نے اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ وہ اس سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں ہتھیاروں کی برآمدات کے امور پر کام کر چکے ہیں اور ’ہر دن‘ ان کے ساتھی غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم اور خلاف ورزیوں کی ’واضح مثالیں‘ دیکھ رہے تھے۔

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’برطانیہ کی جانب سے اسرائیل کو تسلسل سے ہتھیاروں کی فروخت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔‘

    برطانوی دفترِ خارجہ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی نے یہ معلوم کرنے کے لیے ریویو کا آغاز کردیا ہے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین پر عمل کر رہا ہے یا نہیں۔

    برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں سینکڑوں حکام اسرائیل اور غزہ میں جنگ کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن ان معاملات پر چند ہی استعفے دیکھنے میں آئے ہیں۔

    مارک سمتھ کی ای میل کے مطابق وہ بطور ’سیکنڈ سیکریٹری کاؤنٹر ٹیررازم‘ خدمات سرانجام دے رہے تھے، جو کہ ایک جونیئر رینک کی پوزیشن ہے۔

    انھوں نے اپنی ای میل میں مزید لکھا کہ وزرا دعویٰ کرتے ہیں کہ برطانیہ اسلحے کی فروخت کے حوالے سے شفافیت کو ملحوظِ خاطر رکھتا ہے تاہم ’یہ بات حقیقت کے برعکس ہے۔‘

    اسرائیل کی جانب سے متعدد مرتبہ غزہ میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

  4. دالبندین: کھمبوں سے بندھی لاشوں کی شناخت ہوگئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں بجلی کے کھمبوں سے بندھی لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔

    ضلع چاغی پولیس کے سربراہ حسین احمد لہڑی نے بی بی سی کو بتایا کہ مارے جانے تمام افراد افغان شہری تھے اور ان کی شناخت روزی محمد، رحمت اللہ، آغا ولی، سمیع اللہ اور سردار ولی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    خیال رہے ان پانچوں افراد کی لاشیں دالبندین شہر سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ڈگری کالج کے نزدیک سے جمعے کو ملی تھیں۔

    پولیس افسر مزید کہتے ہیں کہ ان افراد کا تعلق افغانستان کے صوبے ہلمند کے علاقے لشکرگاہ سے تھا اور ان کی لاشیں کوئٹہ منتقل کردی گئی ہیں جہاں سے انھیں افغان حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

    ایڈیشنل ایس ایچ او دالبندین پولیس عبدالحکیم کے مطابق پانچوں افراد کو کہیں اور قتل کر نے کے بعد ان کی لاشوں کو اس علاقے میں لاکر کھمبوں سے باندھ دیا گیا تھا۔

    ان افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری کے حوالے سے تاحال کوئی دعویٰ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اس حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک ویڈیو منظرِعام پر آئی ہے۔

    اس ویڈیو میں چھ افراد ایران میں شدت پسندی کی کارروائیاں کرنے والی تنظیم کالعدم جیش العدل کے ایک رہنما مراد نوتیزئی عرف طارق کو ہلاک کرنے کا اعتراف کررہے ہیں۔

    اس ویڈیو میں نظر آنے والے چھ میں سے پانچ افراد اپنا نام وہی بتارہے ہیں جو کہ دالبندین میں ہلاک ہونے والوں کے ہیں۔ اس ویڈیو میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کا تعلق افغانستان کے صوبے ہلمند سے ہے۔

    تاہم اس ویڈیو کی ابھی تک آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

  5. ’اے ٹی ایم مشینیں بند رہیں گی‘: سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گردش کرنے والے اس پیغام کی حقیقت کیا ہے؟

    اے ٹی ایم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گذشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک پوسٹ گردش کر رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک سائبر حملے کے سبب ملک بھر میں اے ٹی ایم مشینیں دو سے تین روز تک بند رہیں گی۔

    اس میسج میں لکھا گیا ہے کہ ’پاکستان میں رینسم ویئر سائبر حملے کی وجہ سے دو سے تین تک تمام اے ٹی ایم مشینیں بند رہیں گی۔ آج رقوم کی آن لائن منتقلی نہ کریں۔‘

    سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کی جانے والی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ معلومات ’بی بی سی ریڈیو‘ کی جانب سے نشر کی گئی ہے۔ رینسم ویئر حملوں سے مراد وہ حملے ہیں جن کا مقصد وائرس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کا ڈیٹا چُرانا اور بلیک میلنگ ہوتا ہے۔

    یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ پاکستان میں بی بی سی اردو ریڈیو کی آخری نشریات 31 دسمبر 2022 کو نشر کی گئی تھی۔ بی بی سی کی جانب سے پاکستان میں اے ٹی ایم مشینوں کی بندش یا کسی سائبر حملے کی خبر بھی گذشتہ کئی دنوں سے نشر نہیں کی گئی۔

    پاکستان میں کام کرنے والے ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک 1 لنک نے بھی اے ٹی ایم مشینوں کی بندش یا سائبر حملے کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔

    کمپنی کی جانب سے جاری ایک مفصل بیان میں کہا گیا ہے کہ ’عوام ایسی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی کے لیے اپنے بینکوں سے رابطہ کریں۔‘

    بی بی سی کے رابطہ کرنے پر پاکستان کے مرکزی بینک کے ترجمان نے 1 لنک کے بیان کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر گردش کرنے والی افواہ کے حوالے سے ’ضروری وضاحت‘ اس میں موجود ہے۔

    سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جھوٹے میسج میں کہا گیا ہے کہ لوگ اپنے جاننے والوں کو مطلع کریں کہ وہ ’ڈانس آف دا ہیلری‘ کے عنوان والی کوئی ویڈیو نہ کھولیں کیونکہ یہ ایک وائرس ہے جو موبائل فون کا ڈیٹا اُڑا دیتا ہے۔

    اے ٹی ایم

    ،تصویر کا ذریعہX

    ،تصویر کا کیپشنواٹس ایپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہر یہ افواہ گذشتہ دو دنوں سے گردش کر رہی ہے

    1 لنک کا اپنے اعلامیے میں کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں بھی ایک ایسی ہی افواہ پھیلائی گئی تھی کہ بینک سیکٹر پر ’وانا کرائے‘ نامی رینسمویئر حملہ آور ہو گیا ہے اور اس سے کچھ بینکوں میں زیرِ استعمال مائیکرو سوفٹ کی مصنوعات بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2017 میں بھی پاکستان کے بینکنگ سیکٹر نے اپنا کامیابی سے دفاع کیا تھا۔

    1 لنک نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان تمام نجی بینکوں اور 1 لنک کے ساتھ مل کر ملک کے بینکنگ سیکٹر اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کی سکیورٹی کو مضبوط بنا رہا ہے۔

    ’اے ٹی ایم مشینوں اور آن لائن بینکنگ سسٹم پر کوئی سائبر حملہ نہیں ہوا ہے اور فنانشل شعبہ جات ہمیشہ کی طرح چوکس ہیں۔‘

  6. بریکنگ, اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز تر، اسرائیلی وفد آج قاہرہ پہنچے گا

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی چینل’آئی24‘ کی رپورٹ کے مطابق ایک اسرائیلی وفد آج اتوار کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ پہنچے گا جس کا مقصد ثالثوں کی موجودگی میں مذاکرات کا دور دوبارہ شروع کرنے سے قبل کچھ معاملات پر ’مشترکہ بنیاد‘ تلاش کرنا ہے۔

    اسرائیلی چینل نے اشارہ دیا ہے کہ مذاکرات کاروں نے قاہرہ روانگی سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم سے بات چیت کی۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وفد نے قاہرہ کا یہ دورہ سنیچر کی رات کرنا تھا تاہم بعد میں اسے اتوار کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔

    اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے وضاحت کی کہ اسرائیل کے اندر یرغمالیوں کے معاہدے کو قبول کرنے کا رجحان ہے اور سینیئر اسرائیلی عہدیدار وں کا ہدف بھی یہی ہوگا کہ اگلے ہفتے یرغمالیوں کے معاہدے کے حصول کا ہدف ہوگا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے سنیچر کی شام جاری ہونے والے ایک بیان میں اسرائیلی مذاکراتی ٹیم نے غزہ میں یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر سمجھوتے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں ’محتاط امید‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ’تازہ ترین امریکی تجویز کی بنیاد پر، جو مئی کے فریم ورک پر مبنی ہے، جس میں اسرائیل کے لیے قابل قبول شقیں بھی شامل ہیں۔‘

    دوسری جانب حماس کے عہدیدار سمیع ابو زہری کا کہنا تھا کہ معاہدے کی اطلاعات ’گمراہ کن دعوے‘ ہیں۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جوبائیڈن بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ ’پرامید‘ ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے مذاکرات کے تازہ ترین دور کے بعد کہا کہ ’ہم پہلے سے کہیں زیادہ (معاہدے کے) قریب ہیں‘۔

    انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ کو اسرائیل بھیج رہے ہیں تاکہ ’اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔‘

  7. بریکنگ, روس کے زیر قبضہ یوکرین کے زاپوریژیا جوہری پاور پلانٹ کا تحفظ خطرے میں ہے: اقوامِ متحدہ

    نیوکلیئر پلانٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوام متحدہ کے نیوکلیئر واچ ڈاگ کے سربراہ نے کہا ہے کہ روس کے زیر قبضہ یوکرین میں زاپوریژیا پاور پلانٹ میں جوہری تحفظ کی صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا کہ وہ ’انتہائی فکرمند‘ ہیں اور انھوں نے پلانٹ کی حفاظت کے لیے ’ہر طرف سے زیادہ سے زیادہ تحمل‘ برتنے کی اپیل کی ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے حملے سے مرکز کے باہر ایک سڑک متاثر ہوئی جو ضروری پانی کے چھڑکاؤ کے تالابوں کے قریب اور باقی رہ جانے والی واحد ہائی وولٹیج لائن سے تقریبا 100 میٹر دور ہے۔

    اس پلانٹ پر روسی افواج نے جنگ کے اوائل میں قبضہ کر لیا تھا اور اس پر متعدد حملے ہو چکے ہیں جن کے لیے فریق ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پلانٹ کے کولنگ ٹاورز میں سے ایک میں آگ لگنے کے بعد کیئو اور ماسکو نے اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی تھی۔

    آئی اے ای اے نے یہ نہیں بتایا کہ سنیچر کو ہونے والا حملہ کس نے کیا لیکن زاپوریزیہ میں تعینات اس کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ نقصان دھماکہ خیز مواد لے جانے والے ڈرون کی وجہ سے ہوا ہے۔

    ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ’ٹیم نے پلانٹ سے کچھ فاصلے پر بار بار دھماکوں، بھاری مشین گن اور رائفل فائر اور توپ خانے کی آوازیں سنی ہیں۔ ‘

    پلانٹ نے دو سال سے زیادہ عرصے سے بجلی پیدا نہیں کی ہے اور تمام چھ ری ایکٹرز اپریل سے بند ہیں۔ روس نے فروری 2022 میں اپنے ہمسایہ ملک پر حملے کا آغاز کیا تھا اور اس وقت مشرقی یوکرین کے مزید علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے پیش رفت کر رہا ہے۔ تاہم اسے اس وقت دھچکا لگا جب یوکرین کی فوجیں اس کے کرسک علاقے میں داخل ہوئیں جہاں وہ تقریبا دو ہفتوں سے اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہے ہیں۔ اس علاقے سے ہزاروں روسیوں کو نکال لیا گیا ہے۔

    اتوار کے روز یوکرین کی فضائیہ کے سربراہ میکولا اولیشک نے کہا تھا کہ ان کی افواج نے کرسک کے علاقے میں ایک دوسرے پل کو تباہ کر دیا ہے جس سے دشمن اپنی لاجسٹک صلاحیتوں سے محروم ہو گیا ہے۔

    اس ہفتے کے اوائل میں یوکرین نے دریائے سیم پر ایک پل کو تباہ کر دیا تھا جسے کریملن اپنے فوجیوں کی رسد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب غیر ملکی افواج روس کی سرزمین پر موجود ہیں۔

  8. نیو یارک کی انڈیا ڈے پریڈ جسے ’رام مندر کی جھانکی‘ کے باعث ’مسلمان مخالف‘ کہا جا رہا ہے, شکیل اختر، بی بی سی اردو نئی دہلی

    India

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے شہر نیویارک میں آج ہونے والی’انڈیا ڈے پریڈ‘ شدید تنازعہ کا شکار ہو گئی ہے۔ امریکہ کے مسلمانوں اور حقوق انسانی کی بعض تنظیموں نے نیو یارک کے گورنر اور میئر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس پریڈ میں ایودھیا کے رام مندر کی جھانکی یا شبہیہ کو شامل ہونے سے روکیں۔

    ان تنظیموں نے اس جھانکی کو ’مسلم مخالف‘ اور ’نفرت پھیلانے والا‘ قرار دیا ہے لیکن پریڈ کے منتظمین نے اسے ’ہندو دھرم اور روحانیت کا مرکزی نکتہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ہندوؤں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

    نیویارک میں انڈیا ڈے پریڈ کی تاریخ 40 سال سے زیادہ پرانی ہے۔ لیکن یہ سالانہ پریڈ اس سال تنازعات میں گھری ہوئی ہے۔

    یہ پریڈ انڈیا کے یوم آزادی کے تین روز بعد نیویارک کے میڈیسن ایونیو میں منعقد کی جاتی ہے۔

    اس پریڈ میں امریکہ میں مقیم مختلف انڈین گروپ اپنی اپنی ثقافتی اور تہذیبی جھلکیاں فلوٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

    پریڈ میں انڈیا کی اہم شخصیات کے علاوہ نیو یارک کے میئر اور مقامی سیاسی رہنما اور نمائندے بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔

    اس بار کی پریڈ میں ایودھیا کے رام مندر کی ایک 16 فٹ لمبی اور 8 فٹ اونچی جھانکی شامل کی جائے گی۔ ایودھیا میں یہ مندر پانچ سو برس پرانی مسجد کی جگہ تعمیر کیا گیا ہے جسے دسمبر 1992 میں ہزاروں سخت گیر ہندوؤں کے ایک ہجوم نے منہدم کر دیا کر دیا تھا۔

    اس واقعہ کے بعد پورے ملک میں بڑے پیمانے پر مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

    منہدم بابری مسجد کے مقام پر رام مندر تعمیر کیا گیا ہے جس کا افتتاح گذشبتہ جنوری میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ ہندوؤں کا ماننا ہے کہ بابری مسجد رام مندر کے مقام پر تعمیرکی گئی تھی۔

    ram mandir jhanki

    ،تصویر کا ذریعہVishwa Hindu Parishad of America

    نیویارک کی پریڈ کا اہتمام فیڈریشن آف انڈین ایسوسی ایشن کرتی ہے۔ فیڈریشن کے چیئرمین انکور ویدیا نے بتایا کہ رام منرر کا فلوٹ یا جھانکی اس پریڈ میں شامل کی جائے گی۔

    گذشتہ بدھ کو مسلم امیریکن اور اور انڈین امیریکن گروپس کے ایک تنظیم نے ایک خط میں نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمس اور گورنرکیتھی ہوچل سے اپیل کی کہ وہ رام مندر کی جھانکی کو اس پریڈ میں شامل ہونے سے روکیں۔

    اس تنظیم نے اس مجوزہ جھانکی کو ’امریکی اقدار کی توہین‘ قرار دیا ہے۔

    انڈین امیریکن مسلم کونسل نے کہا ہے کہ ’رام مندر کی مجوزہ جھانکی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کا جشن ہے۔ جس کی تباہی کے بعد ہونے والے فسادات میں ہزاروں لوگ مارے گئے تھے جن میں غالب اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔‘

    اس خط پر دستخط کرنے والی تنظیموں میں انڈین امیریکن مسلم کاؤنسل، کاؤنسل آن امیریکن اسلامک ریلیشنز اور ہندو فار ہیون رائٹس جیسی تنظیمں شامل ہیں۔

    رونامہ نیو یارک ٹائمز نے انڈین امیریکن کونسل کی کی ایک نمائندہ حسنہ ووہرہ جو سٹی ہال کے نزدیک ایک گروپ سے خطاب کر رہی تھیں، ان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے ’ذرا آپ سوچیے یہ نیو یارک شہر میں ہو رہا ہے۔ یہ امریکہ میں کہیں بھی ہوتا تو بھی یہ ڈراؤنا ہے لیکن اس کا ملی جلی تہذیبوں اور تقافتوں کے مرکز نیو یارک میں ہونا صورتحال کو اور بھی پیچیدہ بنا دیتا ہے۔‘

    دلت سالیڈیریٹی فورم نے بھی اس جھانکی کی مخالفت کی ہے۔ فورم کے رہنما ایکلن سنگھ نے کہا ہے کہ ’مینہٹن پریڈ میں رام مندرکی جھانکی کا جشن منانے کا تصور آزادی کے مجسمے کی توہین جیسا ہے۔‘

    منتظمین کیا کہتے ہیں؟

    رام مندر کی جھانکی کا اہتمام وشو پریشد آف امریکہ نے کیا ہے۔

    یہ تنظیم آرایس ایس سے وابستہ انڈیا کی سخت گیر ہندو تںظیم وشوہندو پریشد کی امریکی شاخ ہے۔

    پریشد کے رہنما اجے شاہ نے جھانکی کا دفاع کرتے ہوئے جمعرات کو کہا تھا کہ وہ ایودھیا میں رام مندر کے مقام کو ایک مقدس مقام مانتی ہے جو ہزاروں برس سے ہندو دھرم اور روحانیت کا مرکزرہا ہے۔

    انھوں نے جھانکی کی مخالفت کو ’ہندوؤں سے نفرت‘ قرار دیا اور کہا کہ ’ان کا چوبیس گھنٹے یہی کام ہے کہ وہ مین سٹریم ہندوؤں اور ان کے مذہب کو بدنام کرتے رہیں۔ ان کا مسئلہ ایک مندر سے نہیں ہے، سبھی مندروں سے ہے۔‘

    انھوں نے نیویارک کے منتخب نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ’ہندو دھرم اور اس کے پیروکاروں کو بدنام کرنے والی کال کو مسترد کر دیں۔‘

    پریشد نے مزید کہا کہ رام مندر کی جھانکی ہندوؤں کی ایک عبادت گاہ کی نماندگی کرتی ہے جس میں ایک دیوتا کو اجاگر کیا ہے جو انڈین اور ہندوؤں کی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔

    ایک دیگر تنظیم ہندو امیریکن فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ’یہ اظہار کی آزادی ہے۔‘

    پریڈ کا اہتمام کرنے والی تنظیم فیڈریشن آف انڈین ایسو ایشن نے کہا ہے کہ اتوار کی پریڈ انڈیا کی الگ الگ تقافتی پہلوؤں کو پیش کرے گی اور اس میں مختلف برادریوں کی جھانکی نظر آئے گی۔

    ram mandir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم مسلمانوں کے کولیشن گروپ کا کہنا ہے کہ ’اس پریڈ میں رام مندر کی شبیہ کی موجودگی ان ہندو تنظیموں کی اس کوشش کی عکاس ہے جس میں ہندو قوم پرستی کے نظریات کو انڈین شناخت کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا ایک ہندو ملک نہیں بلکہ سیکولر ملک ہے۔‘

    نیو یارک کے میئر ایرک ایڈمز نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا ’کہ اس پريڈ میں اگر کوئی شخص یا کوئی فلوٹ یعنی جھانکی ایسی ہے جو نفرت کو ہوا دیتی ہے تو اسے شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

    لیکن بعد میں میئر کے دفتر کے ترجمان نے خبر رساں ایجینسی اے پی کو بتایا کہ ’اظہار کی آزادی کے حق سے متعلق امریکہ کے آئین کی پہلی ترمیم انتظامیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ محض اس بنا پر کہ وہ کسی فلوٹ یا کسی پیغام سے اتفاق نہیں کرتی تو اس کی شمولیت یا اظہار کی اجازت نہ دے۔‘

    آج کی انڈیا ڈے پریڈ میں بالی وڈ کی اداکارہ سونا کشی سنہا اورپنکج ترپاٹھی شریک ہونے والے ہیں۔ مسلم کولیشن نے ان دونوں اداکاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس میں شریک نہ ہوں۔

    اس دوران انڈین امیریکن مسلم کاؤنسل نے کچھ دیر قبل جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ امریکہ کے ایک گروپ ’انڈین مسلمز آف نارتھ امریکہ‘ نے رام مندر کے مجوزہ فلوٹ سے پیدہ ہونے والی تشویش کے پیش نظر انڈیا ڈے پریڈ میں اپنا مسلم فلوٹ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

  9. اسرائیلی فوج کا لبنان کی رہائشی عمارت پر حملہ، کم از کم 10 افراد ہلاک

    لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے حملہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنلبنان کے وزیر صحت کے مطابق النبطیہ میں نشانہ بنائے جانے والی عمارت میں شامی پناہ گزین رہائش پذیر تھے

    لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے جانے والے ایک حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    لبنانی حکام کی جانب سے اس حملے کو حالیہ دنوں میں ہونے والے پر تشدد حملوں میں سب سے مہلک کہا جا رہا ہے۔

    لبنان کے وزیر صحت، فراس ابیاد نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر النبطیہ میں نشانہ بنائے جانے والی عمارت میں شامی پناہ گزین رہائش پذیر تھے۔

    دوسری جانب اسرائیل ن کا دعویٰ ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے کے جواب میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ نے اسرائیل کے شمال میں ایک کبوتز (ایسی یہودی بستیاں جو اسرائیل کی ریاست کی تاریخ میں ایک گہری علامتی حیثیت رکھتی ہیں) اور ایک اسرائیلی فوج کی چوکی پر راکٹوں سے حملہ کیا ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز آئی ڈی ایف نے کہا کہ حزب اللہ کے پہلے حملے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم دوسرے حملے میں دو اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال سات اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی طرف سے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اسرائیلی حملے کا آغاز ہوا۔

    اس کے بعد سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحد کے پار کم و بیش روزانہ فائرنگ کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

    خیال کیا جاتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل کا ہی ہاتھ تھا۔ ان کے قتل سے چند گھنٹے قبل اسرائیل نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے اہم رہنما فواد شکر کو بھی ہلاک کیا تھا۔

    حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی جانب سے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے مضبوط گڑھ میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

    حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ ن کی جانب سے اس قتل کا بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے دوحہ کی میزبانی میں ثالثی مذاکرات جاری ہیں۔

    قطر، مصر اور امریکہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں تینوں فریقین نے کہا ہے کہ دوحہ میں گذشتہ دو دنوں کے دوران ان کی حکومتوں کے اعلیٰ عہدیداروں نے جنگ کو ختم کرنے کے مقصد سے ثالث کے طور پر بات چیت میں حصہ لیا ہے۔

  10. پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی اور ’فائر وال کی تنصیب‘ کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر

    انٹرنیٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انٹرنیٹ کی سستی روی اور فائر وال کی تنصیب کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی گئی جس پر پیر کو سماعت ہوگی۔

    انٹرنیٹ پر مواد کو فلٹر کرنے کے لیے فائر وال کی مبینہ تنصیب اور انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی کے خلاف درخواست میں کہا گیا ہے کہ ذریعہ معاش کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق قرار دیا جائے، شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔ فائر وال کی تنصیب تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط قرار دی جائے۔

    درخواست میں کیا کہا گیا ہے؟

    سنئیر صحافی حامد میر نے ایمان مزاری ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست جمع کرائی ہے جس میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی ٹی اینڈ ٹیلی کام ،سیکرٹری داخلہ ،چیئرمین پی ٹی اے اور وزارت انسانی حقوق کو فریق بنایا گیا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ بظاہر فائر وال کی انسٹالیشن کے باعث انٹرنیٹ کی سپیڈ میں انتہائی کمی آئی اور نوجوانوں کا نقصان ہوا جو ڈیجیٹل اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق تھری جی اور فور جی سروسز کی بندش سے 1.3 ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے ۔ ایکس کی بندش اور فائروال کی انسٹالیشن سے انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

    ملک بھر کے صارفین کو ایک ماہ سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹاک شو میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست مخالف مواد کو فلٹر کیا جاتا ہے۔مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی دانیال چودھری نے امریکا اور یوکے میں فائروال کے استعمال کا دعوی کیا جو جھوٹا نکلا۔‘

    درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ شہریوں کی انٹرنیٹ تک بلا تعطل رسائی کو بحال اور یقینی بنانے کے احکامات دیے جائیں۔ فریقین سے فائر وال سے متعلق معلومات پر مبنی تفصیلی رپورٹ طلب کی جائے۔ درخواست پر فیصلہ ہونے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کردیا جائے۔

    درخواست پر اعتراضات

    انٹرنیٹ کیس ست روی اور فائر وال کی تنصیب کے حوالے سے دائر درخواست پر رجسٹرار ہائیکورٹ نے چار اعتراضات دائر کیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات سماعت کریں گے۔

    رجسڑار آفس نے درخواست پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کے سروس متاثر ہونے سے پٹشنر کا ذریعہ معاش کیسے متاثر ہو گا؟ کوئی دستاویز نہیں لگائی گئی، معلومات کے حصول کا پہلا فورم پاکستان انفارمیشن کمیشن ہے، ہائی کورٹ میں کیسے پہلے درخواست دائر کر سکتے ہیں؟

    رجسٹرار نے اعتراض عائد کیا گیا کہ فائر وال لگائے جانے کو چیلنج کیا گیا لیکن کوئی آرڈر یا نوٹیفکیشن ساتھ نہیں لگایا گیا۔

    چیف جسٹس عامر فاروق درخواست پر رجسڑار کے اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کریں گے۔

  11. بریکنگ, غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے قریب ہیں۔ جو بائیڈن

    جوبائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ ’پرامید‘ ہیں کہ غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے مذاکرات کے تازہ ترین دور کے بعد کہا کہ ’ہم پہلے سے کہیں زیادہ (معاہدے کے) قریب ہیں‘۔

    انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے وزیر خارجہ کو اسرائیل بھیج رہے ہیں تاکہ ’اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔‘

    تاہم حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے اور ثالث ’خوش فہمیاں‘ پھیلا رہے ہیں۔

    اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ حماس کو یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے سے انکار سے روکنے کے لیے امریکہ اور ثالثوں کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر ہونے والے غیر معمولی حملے کے جواب میں حماس کو تباہ کرنے کے لیے غزہ میں ایک مہم شروع کی تھی، اس حملے میں تقریبا 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے۔

    حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس وقت سے اب تک غزہ میں 40 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نومبر میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کے نتیجے میں حماس نے ایک ہفتے کی جنگ بندی اور اسرائیلی جیلوں میں قید تقریبا 240 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے 105 یرغمالیوں کو رہا کیا تھا۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ 111 یرغمالی اب بھی زیر حراست ہیں جن میں سے 39 کے بارے میں خدشہ ہے کے وہ مارے جا چکے ہیں۔

    ایک حالیہ مشترکہ بیان میں امریکہ، قطر اور مصر نے کہا ہے کہ انھوں نے جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے جو اسرائیل اور حماس کے درمیان ’فاصلوں کو کم‘ کرے گی۔

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے لیے باقی یرغمالیوں کی رہائی ضروری ہوگی۔

    غزہ میں موجود یرغمالیوں کے رشتہ دار موجودہ مذاکرات کو اپنے پیاروں کے زندہ بچنے کا ’آخری موقع‘ قرار دے رہے ہیں۔

    اس وقت اسرائیل اور حماس پر 10ماہ کی جنگ اور ہزاروں ہلاکتوں کے بعد کسی پیش رفت کے لیے زبردست دباؤ ہے۔

    خدشہ ہے کہ اگر اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ختم ہوگئے تو یہ تنازع خطے میں پھیل سکتا ہے۔

  12. فیض حمید کا کورٹ مارشل: تحقیقات کا دائرہ کار ’بڑھ رہا ہے‘ مگر عمران خان کا کہنا ’ڈرا ہوا نہیں ہوں‘, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    پاکستان کی حکومت کا الزام ہے کہ نو مئی کو ملک کے خلاف سازش میں جنرل فیض اور ان کے ساتھیوں نے عمران خان کی سہولت کاری کی اور تحقیقات کا دائرہِ کار بڑھنے پر مزید گرفتاریاں کی جائیں گی جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال سے ڈرے ہوئے نہیں ہیں ورنہ جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کا مطالبہ نہ کرتے۔

    ’باقی اداروں کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے‘

    پاکستان کے وفاقی وزیرِاطلاعات عطا اللہ تارڑ نے نیوز بریفنگ میں کہا کہ فوج کے ادارے نے شفاف تحقیقات کی ہیں۔ فوج کا اپنا ایک خود احتسابی کا نظام ہے جو دنیا میں بہترین ہے ‘۔

    انھوں نہ کہا کہ ’تحقیقات کا دائرہ کار بڑھایا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں گرفتاریاں ہوئی ہیں اور مزید ہونے والی ہیں۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ ایک جماعت کے لیڈر نے انتشار کی سیاست کی۔ انھوں نے ان لوگوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اس ملک میں بد امنی پھیلانے کی کوشش کی۔ ‘

    عطا اللہ تارڑ نے الزام عائد کیا کہ ’یہ تمام سازشیں جو ہو رہی تھیں ان کا سرغنہ عمران نیازی تھے اور اس کی سہولت کاری جنرل فیض اور ان کے ساتھ کر رہے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک سیاسی گٹھ جوڑ تھا جس میں عمران خان خان، جنرل فیض اور دیگر اداروں کے لوگ شامل تھے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ایک سازش کے تحت طالبان کو واپس لا کر ملک میں بسایا گیا اور ملک میں آج بدامنی کی یہی وجہ ہے۔

    ان کا الزام تھا کہ جیل سے بپی ہیغام رسانی جاری تھی جو ملک میں انتشار پھیلانے کے لیے تھی۔ جو ملک کے خلاف سازشین کرنا چاہے گا۔ اس کا انجام یہی ہوگا۔ باقی اداروں کو بھی خود احتسابی کرنی چاہیے۔‘

    جنرل فیض

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/Lindsey Hilsum

    اگر ڈرا ہوا ہوتا تو جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کا مطالبہ نہ کرتا‘

    راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ کے مقدمے کی سماعت کے بعد عمران خان کی کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا ہے کہ ’آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کی گرفتاری پر نہ میں ڈرا ہوں نہ میں گھبرایا ہوں۔ اگر ڈرا ہوا ہوتا تو نو مئی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنائے جانے کا مطالبہ نہ کرتا۔‘

    اسی بارے میں

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی بابر ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نیوز کانفرنس پر بانی پی ٹی آئی نے رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’نواز شریف بیان جاری کرنے سے پہلے اکنامک سروے رپورٹ پڑھ لیتے وہ جھوٹ نہیں ہے۔‘

    انہوں نے کہا کہ ’2018 کے انتخابات کے بعد یہ لوگ ساڑھے 19 اربڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے تھے۔ شدید مالی مشکلات کا شکار ہونے کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کیا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف یہ کہتے ہیں سازش ہوئی، سازش تو ہمارے ساتھ ہوئی ہے سانحہ نو مئی ہمارے خلاف سازش ہے اٹھ فروری کے انتخابات چھینے گئے وہ ہمارے خلاف سازش ہے۔ ‘

    عمران خان نے کہا کہ ’دو مرتبہ میرے اوپر قاتلانہ حملہ ہوا وہ ہمارے خلاف سازش ہے۔‘

    ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اسٹیبلشمنٹ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ ہوش کے ناخن لے دیکھ لیں ملک تباہی کی طرف جارہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی اب تک 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو گیا۔ ایسی صورتحال میں سرمایہ کاری کہاں سے ائے گی ملک پہلے ہی بدترین معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا عوامی آواز ہے اس پر پابندی نہ لگائی جائے۔‘

    عمران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ’نو مئی کے تمام ثبوت ان کے یعنی ملڑی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں‘

    بشری بی بی کو 9 مئی کے مقدمات میں ڈالا گیا ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جنرل باجوہ نے حسین حقانی کو ہماری ہی حکومت میں ہمارے خلاف امریکہ میں لابنگ کے لیے 35 ہزار ڈالر میں ہائر کیا تھا جس کے بعد ڈونلڈ لو والا معاملہ اور سائفر والا معاملہ سامنے آیا۔‘

    ایک سوال کے جواب میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے پر آئین کی دھجیاں اڑائی اڑائی جارہی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ نو مئی کا کیس ایک گھنٹے میں ختم ہو سکتا ہے۔ ’کس کے حکم پر مجھ پر تشدد کیا گیا اور مجھے اغوا کیا گیا۔ ایک گھنٹے میں پتہ چل سکتا ہے کہ سی سی ٹی وی کس نے چوری کی اور یہ کس قانون کے تحت یہ فیصلے کرتے ہیں، تمام ثبوت ان کے یعنی ملڑی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں۔

    ایک صحافی نے سوال یا کہ جیل سے جو نیٹ ورک پکڑا گیا کیا وہ واقعی آپ کی سہولت کاری میں ملوث تھا؟

    اس پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’میں چاہوں تو ایک گھنٹے میں آرٹیکل چھپوا سکتا ہوں۔ میرے سیل کے اطراف میں جیمرز لگے ہوئے ہیں وہاں موبائل کام نہیں کرتا۔ ‘

    عمران خان نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کا الزام دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارے ساتھ سب سے بڑا فراڈ 8 فروری کو ہوا۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’چیف جسٹس چیف الیکشن کمشنر کو دھاندلی پر تحفظ دے رہے ہیں۔ اب موجودہ حکومت کوشش ہو رہی ہے کہ چیف جسٹس کو مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔ ‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے 190 ملین پاؤنڈ کے حوالے سے ریمارکس اثر انداز ہونے کے لیے دیے۔

    یاد رہے کہ اسلام آباد میں مونال ریستوران کے معاملے میں توہینِ عدالت کے ایک مقدمے کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ’اصل ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی۔ برطانوی ادارے این سی اے نے جو 190 ملین پاؤنڈ حکومت کو بھیجے اسے عدالت کی جانب سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو کیے گئے جرمانے میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی گئی۔‘

    عمران خان نے کہا کہ ’جسٹس قاضی فائز عیسی نے 2023 میں جو آرڈر پاس کیا نیب نے اس پر کیس بنایا۔‘

  13. منکی پوکس: بیرونِ ملک سے آنے والوں میں علامات دیکھیں تو انھیں الگ کر دیں، ڈاکٹر ملک مختار

    منکی پوکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد نے ایک نبیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ پاکستان مںی فی الحال منکی پوکس نامی وبا کے حوالے سے کوئی ایمرجنسی صورتحال نہیں ہے تاہم لوگوں کو بیرونِ ملک سے آنے والے رشتہ داروں میں کسی بھی علامت کی صورت میں خور دار رہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ’مریض سے انتہائی قریبی رابطے اور جسم سے نکلنے والی رطوبتوں کے باعت پھیلتا ہے اس لیے مریض کو فوری طور پر الگ تھلگ کردیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’جن لوگوں کے خاندان کے لوگ سفر کر کے آ رہے ہیں انھیں دیکھیں اگر کوئی خارش ، جسم پر کوئی مسئلہ ہو تو اس کا خیال کریں۔ احتیاط کریں اور ٹیسٹ کروائیں۔ ‘

    ڈاکٹر ملک مختار کا کہنا تھا کہ ’جن کے رشتے دار بیرونِ ملک سے آ رہے ہیں بخار ، فلو، جسم میں درد یا خارش ہے تو انھیں الگ کر دیں۔ بیماری کی ابتدائی سٹیج پر ہسپتال لے جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر خارش بڑھ جائے تو ہسپتال لے جائیں۔ ‘

    انھوں نے بتایا کہ ’یہ وبا 99 فیصد قابلِ علاج ہے۔ اس سے بہت زیادہ اموات نہیں ہوتیں۔ اس لیے پریشان نہ ہوں۔ ‘

    منکی پاکس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ڈاکٹر ملک مختار نے بتایا کہ اس وبا کے حوالے سے اسلام اباد کے پمز ہسپتال میں فوکل پرسن ہوں گے۔ ان کے پاس 14 آئسولیشن روم ہیں۔

    انھوں نے بتایا ایسے لوگ جنھیں پہلے سے طبی مسائل ہیں انھیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

    انھوں بتایا کہ ’اب تک پاکستان میں کل 11 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے صرف ایک موت ہوئی تھی، وہ بھی اس لیے کہ متاثرہ شخص کو پہلے سے ایچ آئی وی تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک پاکستان میں سامنے آنے والے کیسز پنجاب میں چار، کے پی میں تین، ایک اسلام آباد، ایک بلوچستان، ایک سندھ میں تھا۔ یہ سب متاثرہ لوگ خلیجی ممالک سے آئے تھے۔ پاکستان مںی ایم پاکس کا پہلا کیس 11 اپریل 2023 کو رپورٹ ہوا تھا۔

    ڈاکٹر ملک مختار نے بتایا کہ ’ڈبلیو ایچ او نے ابھی کووڈ کی طرح کی کوئی ایمرجنسی نافذ نہیں کی۔ تاہم انھوں نے ممالک سے اس حوالے سے محتاط رہنے کی ہدایات کی ہیں۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہر طرح کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اسی لیے تمام لوگوں کو ہوشیار کر رہے ہیں کہ سب چوکس اور با خبر رہیں۔ اگر کسی شخص میں علامات ہیں تو اسے الگ تھلگ کر دیں۔

  14. اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کی بازیابی کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر: ’ویگو میں آئے نقاب پوش افراد نے بتایا کہ ان کا تعلق ’محکمے‘ سے ہے‘

    اڈیالہ جیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اڈیالہ جیل کے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ محمد اکرم کی اہلیہ میمونہ ریاض نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    محمد اکرم پر اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی سہولت کاری کا الزام ہے اور وہ اس وقت سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں۔

    سنیچر کے روز ہونے والی سماعت کے دوران درخواست گزار کی وکیل ایڈووکیٹ ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ 14 اگست سے اکرم سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    مزاری نے کہا کہ ان کی مؤکلہ نے تھانہ صدر بیرونی پولیس کو اپنے شوہر کے اغوا کے مقدمہ کے اندراج کی درخواست دی لیکن تاحال مقدمہ درج نہیں ہوا ہے۔

    عدالت نے صدر بیرونی پولیس کو 20 اگست کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ درخواست گزار کی وکیل کے مطابق اگلی سماعت 19 اگست کو ہوگی۔

    آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اکرم کو عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کے اغوا کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

    درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ محمد اکرم کو وکیل تک رسائی فراہم کی جائے، ان پر لگے الزامات بتائے جائیں اور ان کے گھر والوں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

    ’ویگو میں آئے نقاب پوش افراد نے بتایا کہ ان کا تعلق ’محکمے‘ سے ہے‘

    محمد اکرم کی بازیابی کے لیے ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 14 اگست کے روز علی الصبح تقریباً پانچ بجے اڈیالہ کی آفیسرز کالونی میں واقع ان کے گھر کی گھنٹی بجی۔

    میمونہ کا دعویٰ ہے کہ بیل کی آواز سے ان کی آنکھ کھلی تو ان کے شوہر نے کہا کہ ’گھنٹی بجانے کے انداز سے نہیں لگتا کہ بیل بجانے والے جیل کے عہدیداروں میں سے ہے بلکہ یہ شاید انٹیلی جنس والے ہیں۔‘

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جب وہ دورازے پر گئیں تو ویگو میں آئے نقاب پوش افراد نے انھیں بتایا کہ ان کا تعلق ’محکمے‘ سے ہے اور ان سے اکرم کو باہر بھیجنے کا کہا۔

    ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق اکرم نے مین گیٹ پر موجود لوگوں کو مطلع کیا کہ وہ ان کے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہیں لیکن اس سے پہلے انھیں اپنے کپڑے تبدیل کرنے اور بیت الخلا استعمال کرنا ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق مسلح افراد اس وقت تک گھنٹی بجاتے رہے جب تک اکرم اپنے دو بیٹوں، ایک بیٹی اور بیوی کے ساتھ مرکزی دروازے پر نہیں آگئے۔

    میمونہ کا کہنا ہے کہ ان کے ’بچے اپنے والد کی جبری گمشدگی کے گواہ ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ اکرم نے مسلح اہلکاروں سے درخواست کی کہ جانے سے پہلے انھیں سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل سے مختصر ملاقات کی اجازت دی جائے تاہم ان کی درخواست مسترد کر دی گئی اور مسلح نقاب پوش اہلکار انھیں ان کے اہل خانہ کے سامنے گھسیٹ کر لے گئے۔

    اکرم کی اہلیہ نے دعوی کیا ہے کہ ان کے بڑے بیٹے نے اپنے والد کو اغوا کیے جانے کے واقعہ کا کچھ حصہ اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کر لیا تھا تاہم انٹیلی جنس اہلکاروں کی دھمکی پر بچے نے فون پھینک دیا جسے وہیں توڑ دیا گیا۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس دوران انھوں نے کمانڈ سنٹر سے رابطہ کرنے کی کوشش لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

    اکرم کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے 15 اگست کو اپنے شوہر کے اغوا کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے تھانہ صدر بیروونی سے رجوع کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے انھیں ڈائری نمبر یا درخواست کی وصولی دینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ وہ اپنے سینیئر افسران سے بات کیے بغیر ایسا نہیں کر سکتے ہیں۔

    درخواست گزار کا کہنا ہے کہ 15 اگست کی رات تقریباً 10:30 بجے ان کے گھر پر بنا کسی وارنٹ کے چھاپہ مارا گیا اور وہاں موجود تمام آلات غیر قانونی طور پر ضبط کر لیے گئے۔

    میمونہ کا کہنا ہے کہ چھاپے کے وقت وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر پر اکیلی تھیں۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے شوہر کی گمشدگی کے حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ اکرم ریاستی جبری گمشدگی کا شکار ہیں۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے دیگر افراد میں ایک ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ اور ایک اسسنٹ سپرنٹینڈنٹ شامل ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق اڈیالہ جیل سے ہٹائے گئے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سے حاصل ہونے والی ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مزید 6 ملازمین سے پوچھ گچھ کی جائے گی جس میں مذکورہ ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ کے 2 اردلی، 3 وارڈر اور ہیڈ وارڈز بھی شامل ہیں۔

    ان افراد کے بارے میں یہ تاثرعام ہے کہ وہ سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس کے نہ صرف قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں بلکہ مبینہ طور پر مالی معاملات میں بھی پیش پیش ہوتے ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق ان افراد کے زیرِ استعمال موبائل فونز کو بھی تحویل میں لے کر انھیں فرانزک کے لیے لیبارٹری میں بھجوا دیا گیا ہے اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے گئے تین افراد کے موبائل سے کچھ یورپی ممالک کے نمبروں پر بنائے گئے واٹس ایپ نمبروں کا بھی معلوم ہوا ہے۔ جن میں سے کچھ موبائل نمبروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ یہ نمبر پاکستان تحریک انصاف کے کچھ رہنماوں کے بھی ہیں جو اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں۔

    محکمہ جیل خانہ جات کے اہلکار کے مطابق حراست میں لیے جانے والے افراد کے پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت میں رہنے والے سابق وزرا سے بھی قریبی تعلق رہا ہے۔

    اہلکار کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ گDذشتہ چار سال سے اڈیالہ جیل میں ہی تعینات تھے جبکہ مجموعی طور پر اپنی سروس کے 15 سال ان کی تعیناتی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ہی رہی ہے۔

    سابق ڈپٹی سپرنٹینڈنٹ پولیس کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی اٹک سے اڈیالہ جیل منتقلی کے بعد ان کی سکیورٹی پر تعینات کیا گیا تھا۔

  15. پروفیسر یونس اور نریندر مودی کا ٹیلیفونک رابطہ: ’بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملوں کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے‘

    پروفیسریونس، نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ پروفیسر محمد یونس کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر حملوں کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔

    یہ بات انھوں نے جمعے کے روز انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی کو ٹیلیفونک گفتگو کے دوران بتائی۔ یہ پروفیسر یونس کے اقتدار سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا رابطہ ہے۔

    گفتگو کے دوران بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت اقلیتوں سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

    پروفیسر یونس نے انڈین صحافیوں کو بنگلہ دیش آنے کی دعوت بھی دی تاکہ وہ اقلیتوں کے تحفظ کے مسائل پر خود رپورٹ کر سکیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں صورتحال اب قابو میں ہے اور زندگی معمول پر آرہی ہے۔

    انڈین وزیر اعظم نے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ محمد یونس نے انھیں بنگلہ دیش میں ہندوؤں اور تمام اقلیتوں کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    نریندر مودی کا مزید کہنا تھا کہ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران انھوں نے ’جمہوری، مستحکم، پرامن اور ترقی پسند بنگلہ دیش کے لیے انڈیا کی حمایت کا اعادہ کیا۔‘

    خیال رہے کہ اس سے قبل انڈیا کے 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر دہلی میں خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں اقلیتوں کی صورتحال تشویشناک ہے۔

    ’بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم اپنے پڑوسیوں کی خوشی اور امن کے خواہاں ہیں۔‘

    بنگلہ دیش میں کوٹہ سسٹم مخالف تحریک کے نتیجے میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد ایسی متعدد رپورٹیں سامنے آئیں تھیں جن میں کہا گیا تھا کہ ملک میں اقلیتوں بالخصوص ہندوؤں کے لیے حالات سازگار نہیں اور انہیں بڑے پیمانے پر پرتشدد واقعات کا سامنا ہے۔

  16. کولکتہ میں ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے خلاف انڈیا میں ڈاکٹروں کی ملک گیر ہڑتال

    انڈیا ڈاکٹرز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں ڈاکٹرز مغربی بنگال کے شہر کولکتہ میں ایک خاتون ساتھی کے ریپ اور قتل کے خلاف احتجاج میں تیزی لاتے ہوئے ملک بھر میں ہڑتال کر رہے ہیں۔

    ملک میں ڈاکٹروں کی سب سے بڑی تنظیم انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کا کہنا نے کہا کہ سنیچر کے روز ملک بھر کے ہسپتالوں میں تمام غیر ضروری خدمات بند رہیں گی۔

    آئی ایم اے نے ملک میں ’خواتین کے لیے کام کرنے کی محفوظ جگہوں کی کمی‘ کو گذشتہ ہفتے کے ’وحشیانہ جرم‘ کی وجہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے ’انصاف کے لیے اپنی جدوجہد‘ میں ملک بھر سے حمایت کی درخواست کی ہے۔

    آئی ایم اے کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹے تک جاری رہنے والی ہڑتال کے دوران ایمرجنسی اور جانی نقصان کی خدمات کھلی رہیں گی۔

    کولکتہ واقعے کے خلاف احتجاج اور خواتین کے بہتر تحفظ کا مطالبہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایک ہجوم نے کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

    آئی ایم اے نے مطالبات کی ایک فہرست بھی جاری کی ہے جس میں طبی عملے کو تشدد کے خلاف بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے قانون میں ترامیم اور ہسپتالوں میں سکیورٹی میں اضافے کے علاوہ آرام کرنے کے لیے محفوظ مقامات فراہم کرنے کی مانگ بھی شامل ہے۔

    آر جی کار میڈیکل کالج کی خاتون ڈاکٹر گذشتہ ہفتے جمعے کی شب 36 گھنٹے کی سخت شفٹ کے بعد ہسپتال میں خواتین کے لیے آرام کی مخصوص جگہ نہ ہونے کے باعث ایک سیمینار ہال میں سو گئی تھی۔ اگلی صبح، ان کے ساتھیوں کو ہال میں پوڈیم کے قریب ان کی نیم برہنہ لاش ملی تھی جس پر بہت زیادہ زخم تھے۔

    31 سالہ ٹرینی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے سبب ملک بھر میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

  17. یوکرینی فوج کی روس میں پیش قدمی جاری، دریائے سیم پر موجود اہم پل تباہ

    روسی پل تباہ

    ،تصویر کا ذریعہTelegram

    یوکرین نے روس کے علاقے کرسک میں اپنی دراندازی جاری رکھتے ہوئے دریائے سیم پر موجود ایک اہم پل تباہ کر دیا ہے۔

    روسی حکام کے مطابق گلوشکوو قصبے کے قریب ہونے والے آپریشن کے نتیجے میں ضلعے کے کچھ حصے کا رابطہ باقی علاقے سے منقطع ہو گیا ہے۔

    روسی فوج اس پل کو اپنے فوجیوں کو رسد پہنچانے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ ان کی فوج کرسک میں اپنی پوزیشنیں مستحکم کر رہی ہے۔

    زیلنسکی قبضے میں لیے گئے علاقوں کو ایک ’ایکسچینج فنڈ‘ قرار دے رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے وہ شاید ان علاقوں کے بدلے ماسکو کے زیر تسلط یوکرینی علاقوں کو چھڑوانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

    دو سال قبل ماسکو کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک یہ یوکرین کی روس میں سب سے گہری دراندازی ہے۔

    یوکرین کی سرحد پار کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔

    یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں پر قبضے کے دعووں باوجود کیف کی جانب سے بارہا کہا گیا ہے کہ ان کا روس پر قبضے کا کوئی ارادہ نہیں۔

    جمعے کے روز یوکرینی صدر زیلنسکی کے ایک سینئر معاون میخائیلو پوڈولیاک نے کہا ہے کہ روس میں دراندازی کا ایک اہم مقصد ماسکو کو ’اپنی شرائط پر‘ مذاکرات کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

    تاہم، ایک طرف جہاں یوکرینی فوج مغربی روس میں پیش قدمی کر رہی ہے وہیں روسی افواج کو یوکرین کے مشرق میں کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں۔

    جمعے کے روز روس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے ایک اور یوکرینی قصبے سرہیوکا پر قبضہ کر لیا ہے۔

    اس تازہ ترین پیشرفت کے بعد روسی فوج پوکروسک شہر کے مزید قریب پہنچ گئی ہے جو مشرقی محاذ پر موجود یوکرینی فوجیوں کو رسد پہنچانے کے لیے استعمال ہونے والی ایک مرکزی شاہراہ پر موجود اہم لاجسٹک مرکز ہے۔

  18. غزہ امن مذاکرات کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کی جائے، امریکی صدر کا انتباہ

    جو بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں شامل تمام فریقوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امن معاہدے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کریں۔

    جمعے کے روز ہونے والے مذاکرات کے تازہ ترین دور کے بعد جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم پہلے سے کہیں زیادہ جنگ بندی کے قریب ہیں۔ تاہم حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے اس بارے میں زیادہ امید کا اظہار نہیں کیا ہے۔

    صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ امن معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو جاری رکھنے کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کو اسرائیل بھیج رہے ہیں۔

    اس سے قبل امریکہ، قطر اور مصر نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انھوں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے لیے ایک تجویز پیش کی ہے جس سے اسرائیل اور حماس کے مطالبوں کے درمیان دوری کم ہو گی۔

    قطر میں ہونے والے مذاکرات میں شامل طاقتیں کسی بھی ایسی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں جس سے غزہ جنگ کو ایک مکمل علاقائی تنازع میں بدلنے سے روکنے میں مدد مل سکے۔

    مذاکرات کے ثالثوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دنوں میں ہونے والی بات چیت ’سنجیدہ، تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئی۔‘

    اگرچہ ثالثوں کی جانب سے جاری بیان واضح طور پر ایک مثبت پیش رفت کی طرف اشارہ ہے لیکن جنگ بندی کے لیے ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    اس کے باوجود بلنکن کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کے لیے پہلے سے کہیں سے زیادہ پر امید ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کی وجہ نہیں بتا سکتے ہیں۔

    جب ان سے سوال کیا گیا کہ جنگ بندی کب تک متوقع ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔‘

  19. پنجاب میں بجلی صارفین کو 14 روپے فی یونٹ ریلیف دیا جائے گا، شہباز شریف بھی ریلیف دینے کا سوچ رہے ہیں: نواز شریف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مسلم لیگ کے رہنما نواز شریف کا کہنا ہے کہ انھوں نے مریم نواز اور شہباز شریف سے بات کی ہے اور پنجاب میں اگست اور ستمبر کے بلوں میں پانچ سو یونٹ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو 14 روپے فی یونٹ ریلیف دیا جائے گا۔

    نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف منصوبوں سے 45 ارب روپے نکال کر عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سولر پینل سکیم کے لیے بھی 700 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

    نواز شریف کا کہنا ہے کہ ’مجھے معلوم ہے عوام مہنگائی اور بجلی کے بلوں کے باعث کس کرب سے گزر رہے ہیں۔ میں آپ کے کرب کو محسوس کرتا ہوں۔‘

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’میرا ذہن بار بار 2017 کی طرف جاتا ہے جب بجلی کے بل تو آتے تھے مگر لوگ آسانی سے زندگی گزار رہے تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے چار سال ڈالر کو ایک قیمت (104 روپے) پر رکھا جب تک چند ججوں نے مجھے نکال نہیں دیا۔ چند ججوں نے بیٹے سے 10 ہزار درہم تنخواہ نہ لینے پر مجھے نکال دیا۔ کیا یہ مناسب وجہ تھی ؟ میں آج بھی پوچھتا ہوں مجھے کیوں نکالا۔‘

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’مجھے سازش کے تحت نہ نکالا جاتا تو ہم آج کوئی نہ کوئی مقام حاصل کر چکے ہوتے۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ مجھے کس نے اور کیوں نکالا؟ عمران خان کیسے اقتدار میں آئے؟ مجھے اقتدار کا شوق نہیں ہے مگر آپ سے درخواست ہے کہ ان لوگوں کے دھوکے میں نہ آئیں یہ ناقابلِ معافی لوگ ہیں۔‘

  20. روسی افواج پوکرووسک شہر کے قریب پہنچ گئیں، یوکرین کا شہریوں کو انخلا کا حکم

    AFP

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    یوکرین کے دونیتسک خطے میں روسی افواج کی پیش قدمی کے پیشِ نظر روس نے اپنے شہریوں کو پوکرووسک شہر سے انخلا کا حکم دیا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ روسی افواج اس خطے کے قریب پہنچ چکی ہیں۔

    ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں شہر کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’رہائشی انخلا میں دیر نہ کریں کیونکہ روسی فوجی تیزی سے پوکرووسک کے مضافات میں پہنچ رہے ہیں۔‘

    یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے مطابق کل یوکرین اور روسی افواج کے درمیان اس شہر میں شدید لڑائی ہوئی ہے۔

    ایکس پر ایک پوسٹ میں صدرزیلینسکی نے کہا کہ یہ شہر دفاعی افواج کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔

    اس کے علاوہ یہ شہر سب سے شدید روسی حملوں کا سامنا کرنے والے متعدد علاقوں میں سے بھی ایک ہے۔