سیلاب زدہ علاقوں سمیت پاکستان کے مختلف حصوں میں 5.9 شدت کا زلزلہ، خیبرپختونخوا میں سات سے نو ستمبر تک مزید بارشوں کی پیشگوئی

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 111 کلومیٹر اور مرکز کوہ ہندوکش افغانستان ریجن تھا۔ محکمہ موسمیات نے 7 ستمبر سے 9 ستمبر تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے مزید بارشوں، آندھی، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلادھار بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

خلاصہ

  • انڈیا نے دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سے سفارتی سطح پر رابطہ کرتے ہوئے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
  • پاکستان میں صوبہ پنجاب میں سیلابی صورتحال سے متعلق ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں سیلاب سے مجموعی طور پر 38 لاکھ 75 ہزار لوگ متاثر اور 46 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم سیلاب میں پھنس جانے والے 18 لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
  • پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق اگلے 72 گھنٹوں میں تینوں انڈین ڈیم فل ہونے کی توقع ہے جبکہ تھین ڈیم پہلے ہی فل ہو چکا ہے جس کے باعث اگلے دو سے تین ہفتے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ متوقع ہے۔
  • پاکستانی میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون کا نواں سپیل اگلے 24 سے 48 گھنٹوں تک مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ملک کے بالائی علاقوں میں مزید بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

لائیو کوریج

  1. دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، پانی کا بہاؤ تین لاکھ کیوسک سے زیادہ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے تین بڑے دریاؤں راوی، چناب اور ستلج میں ان دنوں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے ایکس پر جاری ایک بیان میں دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر آئندہ 24 گھنٹوں میں اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہو گیا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ دریائے چناب پر ہی خانکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاو تین لاکھ 67 ہزار، قادر آباد کے مقام پر پانی کا بہاو 2 لاکھ 53 ہزار اور ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کی سطح 412 فٹ ہے۔

    تاہم اس سے قبل منگل اور بدھ کی درمیانی شب دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کے سیلاب اور ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 45 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو جانے کے بعد دریائے راوی پر ہی ’مائی صفورہ‘ بند کو توڑ دیا گیا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق مائی صفورہ بند کو توڑنے کا فیصلہ سدھنائی ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے کیا گیا۔

  2. غزہ سٹی پر آئی ڈی ایف کی بمباری سے 50 فلسطینی ہلاک، شہر پر قبضے کے لیے ریزرو فوجیوں کی اسرائیلی فوج میں شمولیت

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے اور کنٹرول کے اپنے منصوبے کے تحت کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔

    غزہ سٹی پر قبضہ کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران ہزاروں ریزرو فوجیوں نے آئی ڈی ایف میں باقائدہ طور پر شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر حملے اور اس پر قبضے کے منصوبہ بندی کے دوران تقریباً 60 ہزار ریزرو فوجی اہلکاروں کو طلب کیا تھا۔

    برّی افواج پہلے ہی غزہ کے سب سے بڑے شہری علاقے کے مضافات میں داخل ہو چُکی ہے جس کے بارے میں فوج کا کہنا ہے کہ یہ حماس کا گڑھ رہا ہے۔

    یہ شہر اسرائیل کی بھاری فضائی اور توپ خانے کی بمباری کی زد میں بھی آ رہا ہے اور مقامی ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب سے اب تک وہاں 50 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چُکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے رہائشیوں کو فوری طور پر نقل مکانی کرنے اور جنوب کی طرف جانے کا حکم دیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ایک اندازے کے مطابق 20 ہزار افراد نقل مکانی کر چُکے ہیں لیکن تقریباً دس لاکھ لوگ اب بھی شہر میں باقی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ مکمل حملے کے اثرات نہ صرف شہر بلکہ پورے غزہ کی پٹی کے لئے ’تباہ کن‘ ہوں گے۔

    گزشتہ ماہ اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) نے کہا تھا کہ ’آپریشن گیڈونز رتھس ٹو‘ سے قبل تقریباً 60 ہزار ریزرو فوجیوں کو طلب کیا جانے کا منصوبہ ہے۔‘

    منگل کے روز اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہزاروں ریزرو فوجیوں نے ڈیوٹی پر آنا شروع کر دیا ہے۔

  3. کوئٹہ دھماکے میں 13 افراد ہلاک: ’دھماکے کے بعد کئی لوگوں کو زمین پر پڑا دیکھا‘

    BBC

    حکام کے مطابق کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکے میں ہلاکت ہونے والی تعداد 13 ہو گئی ہے۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 31 بتائی گئی ہے۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں نور احمد بھی شامل ہیں جو کہ سول ہسپتال کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیرِ علاج ہے۔

    انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جلسہ ختم ہونے کے بعد وہ ایک سفید گاڑی کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے کہ دھماکہ ہو گیا۔

    انھوں نے کہا کہ دھماکے کے باعث بعض چیزیں ان کے پیر اور ہاتھوں پر لگیں جن سے وہ زخمی ہو گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد انھوں نے اپنے سامنے آٹھ افراد کو زمین پر پڑا دیکھا تھا۔

    دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک لڑکے زمان بلوچ نے بتایا کہ وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد جلسہ گاہ سے کچھ فاصلے پر اپنے دوست کا انتظار کر رہے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ وہ فون پر اپنے اسی ساتھی سے رابطے میں تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا پیر چھرّہ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا۔

    زمان بلوچ نے بتایا کہ دھماکے کے بعد انھوں نے بہت سارے لوگوں کو زمین پر پڑا ہوا دیکھا اور ہر طرف چیخ و پکار تھی۔

    ٹراما سینٹر کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے بتایا کہ دھماکہ نواب نیاز زہری کی گاڑی کے قریب ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں ان کے بعض ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔

    BBC

    دھماکے میں تمام جماعتوں کے مرکزی قائدین محفوظ رہے تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق رکن بلوچستان اسمبلی میر احمد نواز بلوچ زخمی ہوئے ہیں۔

    بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما غلام نبی مری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع شاہوانی سٹیڈیم سے کچھ فاصلے پر اس مقام پر ہوا جہاں گاڑیوں کو پارک کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دھماکہ جلسے کے اختتام کے اندازاً دس سے پندرہ منٹ بعد ہوا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے وقت جلسہ گاہ سے نکلنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں سے گزر رہی تھی۔ انھوں نے خودکش حملہ آور کا دعویٰ کیا جس کی تاحال سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ ایک خودکش حملہ تھا۔

    ادھر صوبائی حکومت نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکہ ’انسانیت دشمنوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔‘

    ایک بیان میں ان کا کہنا تھا ’شرپسند عناصر معصوم شہریوں کے خون سے کھیل رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔‘

  4. دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے مائی صفورہ بند توڑ دیا گیا، متعدد دیہات زیرِ آب

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر کمالیہ میں دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر انتہائی خطرناک اور اونچے درجے کے سیلاب کا سامنا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ہونے والی سیلابی صورتحال کے مطابق سدھنائی ہیڈ ورکس میں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے دریائے راوی پر مائی صفورہ بند کو توڑ دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق بارودی مواد سے بند مائی صفورہ میں دو شگاف ڈالے گئے ہیں۔

    ہیڈ سدھنائی کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث مزید کئی دیہات زیر آب اور ہزاروں ایکڑ پر فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم آبپاشی سٹرکچر کو بچانے کے لیے بریچ یا بند توڑنا ناگزیر تھا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کے مطابق جب ہیڈ سدھنائی کو بچانے کے لیے بند توڑنے کا فیصلہ کیا گیا کہ تو اُس وقت اس فیصلے میں محکمہ انہار کے افسران اور متعلقہ ماہرین کجی رائے کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بند توڑنے سے قبل علاقہ مکینوں کو اپنے مال مویشی سمیت محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا تھا، ہیڈ سدھنائی کے سیلابی ریلے سے ضلع خانیوال کے 136 مواضعات متاثر ہوئے ہیں۔

    ادھر گزشتہ شب ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا ہے کہ دریائے توی میں اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے۔

    یاد رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک میں بارشوں اور سیلاب سے اب تک ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا ڈیٹا جاری کر دیا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک 863 افراد ہلاک اور 1176 زخمی ہوئے جن میں سے پنجاب میں 216 افراد ہلاک اور 625 زخمی ہوئے۔

  5. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے شہر بنوں میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے منگل کو جاری کیے گئے بیان میں بتایا کہ ’انڈین سپانسرڈ‘ شدت پسندوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی دیوارِ سے ٹکرائی اور خودکش دھماکے کے نتیجے میں دیوار کا کچھ حصہ گِر گیا اور قریبی سول انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا جس سے تین شہری زخمی ہوئے۔
    • انڈیا کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق انڈین وزارت خارجہ نے اسلام آباد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ممکنہ سیلاب سے متعلق انتباہ جاری کیے تھے۔ خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی ریاستوں شدید بارشوں کے باعث بڑے ڈیمز سے پانی چھوڑا گیا جس کے بارے میں پاکستان کو مطلع کیا گیا تھا کہ دریائے ستلج میں سیلاب کا ’قوی امکان‘ ہے۔
    • پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کے لیے 35 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان روانہ کیا۔ اس حوالے سے ایک تقریب پی ڈی ایم اے ہیڈ کوارٹر میں منعقد کی گئی۔ اس میں بتایا گیا کہ امدادی سامان میں ادویات، خیمے، ترپال، گدے، تکیے، رضائیاں اور کمبل شامل ہیں۔ ایک بیان میں صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ ’یہ سامان زلزلہ متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات پوری کرنے اور انھیں موسم کی سختیوں سے بچانے کے لیے فراہم کیا گیا ہے۔‘
    • اس سال مئی جون کے مہینوں میں ملک کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں دیکھنے میں آئی۔ اب پنجاب، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور ہماچل پردیش سمیت ملک کے کئی علاقوں کو شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں موسم کی خرابی کے باعث 500 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہیں۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو موسم کی تبدیلی کی وجہ سے سڑک کے حادثات میں ہلاک ہوئے۔
  6. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔