شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں دوبارہ گرفتار، تحریک انصاف کی مذمت

لاہور پولیس نے اتوار کو اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مزید آٹھ مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ اب پولیس جیل میں ہی ان سے تفتیش کرے گی۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ یہ گرفتاری بلا جواز ہے کیونکہ جن مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی ان تمام مقدمات میں عدالت نے انھیں ضمانت دے رکھی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مجاہد کالونی میں مبینہ توہینِ مذہب کے الزام پر ہونے والے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا ہے جبکہ مشتعل ہجوم کو منتشر کر کے وقوعہ میں ملوث ملزم کو حراست میں لے لیا ہے
  • حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ’شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی‘
  • اسلام آباد کے ڈی چوک پر مظاہرین کو گاڑی سے کچلنے والے ملزم ’ملٹری پولیس کی تحویل میں ہیں‘
  • قائم قام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور دیگر شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے
  • چینی و غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے داسو، چلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ لگانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں

لائیو کوریج

  1. بلوچستان میں بدامنی اور شورش کا ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار سیاسی حل بھی موجود ہے: گورنر بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے ’بلوچستان میں امن اور استحکام کی جانب سفر‘ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں بدامنی اور شورش کا مسئلہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا پائیدار سیاسی حل بھی موجود ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’حالات جتنے بھی کشیدہ اور مایوس کن ہو پھر بھی ہمیں مشاورت اور مسلسل مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے۔‘

    گورنر نے کہا کہ بعض اوقات کسی اجتماعی مسئلے کا بروقت حل نکالنا بہت ضروری ہو جاتا ہے۔ اجتماعی مسئلے کو نظر انداز کرنے کی صورت میں ہم سیاسی اور سماجی سطح پر کئی دیگر خدشات و خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار انھوں نے بیوٹمز یونیورسٹی میں وائس آف بلوچستان کے زیر اہتمام تقریب ’بلوچستان میں امن اور استحکام کی جانب سفر‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    اس موقع پر صوبائی وزرا راحیلہ حمید خان درانی، ظہور احمد بلیدی، میر ضیاء لانگو، بیوٹمز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد حفیظ، اور صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند سمیت طلبہ بھی موجود تھے۔

    گورنر بلوچستان گلزار امام اور سرفراز بنگلزئی کے قومی دھارے میں شامل ہونے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یقیناً یہ ہم سب کے لیے ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں شورش اور کشیدگی کے حوالے سے ہمیں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے اور اس سے سرکاری اور عوامی سطح پر بہت جانی اور مالی نقصانات بھی ہوئے ہیں۔

    گورنر نے کہا کہ قومی دھارے میں شمولیت سے متعلق پروگرام کا انعقاد لائق تحسین عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ ’میں بذات خود اپنے ناراض بھائیوں سے نتیجہ خیز مذاکرات کرنے اور قومی مفاد کی خاطر ہتھیار ڈالنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔‘

    گورنر بلوچستان نے کہا کہ اس کے علاوہ بلوچستان میں پشتون بلوچ کی شاندار اقدار و روایات کے پیش نظر یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ عوامی سطح پر بھی جرگہ و معرکہ کے ذریعے درپیش مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

    ان کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ صوبہ میں شورش، غربت، مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے بلوچستان کا عام آدمی بہت مشکل میں ہے لہٰذا ہمیں درپیش پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے فوری طور پر سنجیدہ فیصلے کرنے ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب بھی روشن امکانات موجود ہیں کہ ہم کشیدہ صورتحال اور سیاسی بحران کا قابل عمل اور سب کے لیے قابل قبول سیاسی حل ڈھونڈیں۔‘

  2. سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پیکا قانون میں ترامیم کرکے مزید سخت بنایا جائے گا: رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومتی کمیٹی پیکا قانون میں ترامیم کرکے اس قانون کو مزید سخت اور موثر بنائے گی۔

    بدھ کو جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا کا کہنا تھا کہ پیکا قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے حکومتی کمیٹی بات چیت کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے اپوزیشن کو بھی دعوت دیتے ہیں کہ وہ کمیٹی میں حکومت کے ساتھ بیٹھیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’پیکا قانون میں مزید ترامیم کر کے اسے موثر بنانا چاہتے ہیں، سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر کوئی بندہ محفوظ نہیں ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی نہیں ہونی چاہیے لیکن ریگولیٹ ہونے چاہئیں۔‘

    رانا ثنا اللہ کے مطابق ’اس کے غلط استعمال پر جو باتیں کی جا رہی ہیں اس میں ہم کہتے ہیں کہ کمیٹی ان تمام امورکو دیکھے گی۔ اپوزیشن اس معاملے میں ہمارے ساتھ بیٹھے۔‘

  3. وزیراعظم شہباز شریف ایک روزہ ’مختصر مگر اہم دورے‘ پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے

    PAKISTAN UAE

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف متحدہ عرب امارات کے ایک روزہ دورہ کے لیے ابو ظہبی پہنچ گئے ہیں۔

    ابو ظہبی پہنچنے پر نائب صدر اور نائب وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعظم کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمزی نے اُن کا استقبال کیا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا دورہ ہے۔ وزیراعظم نے اپنے ایک ٹویٹ میں اپنے اس دورے کو ’مختصر مگر انتہائی اہمیت کا حامل‘ قرار دیا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا وہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور برادرانہ رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔

    وزیرِ اعظم اپنے دورے کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی اور متحدہ عرب امارات کی کاروباری شخصیات و سرمایہ کاروں سے ملاقات کریں گے۔

    اس کے علاوہ وزیرِ اعظم متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور اماراتی کاروباری شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔

    وزیرِ اعظم کے ساتھ اس دورے پر اُن کے وفد میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔

  4. عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر فیصلہ محفوظ

    عمران خان، بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر کی گئی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

    بشریٰ بی بی کے سابق شوہر اور شکایت کنندہ خاور مانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی بارہا عدالت کو یقین دہانی کروانے کے باوجود بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں اس سال تین فروری کو عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں دونوں کو سات سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے عدت کے دوران نکاح کے مقدمے میں سزا کی خلاف اپیلوں پر سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں دوبارہ شروع ہوئی۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان ریاض خان نے جواب الجواب دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدت میں نکاح کیس کی شکائت تاخیر سے دائر کی گئی اور اس سے قبل پرائیویٹ شکائت دائر کی گئی لیکن وکیل تب بھی رضوان عباسی ہی تھے۔

    انھوں نے کہا کہ ریکارڈ پر موجود ہے دورانِ عدت نکاح کی شکایت پانچ سال 11 ماہ بعد دائر کی گئی اور بدنیتی اور سیاسی انتقام لینے کے لیے دورانِ عدت نکاح کی شکائت دائر کی گئی۔

    سابق وزیر اعظم کے وکیل کا کہنا تھا کہ شکائت کے ذریعے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی معاشرے میں عزت کو نقصان پہنچانا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے ایک گواہ نکاح خواں مفتی سعید کو دورانِ ٹرائل سول عدالت نے روکا اور چںد سوالات کیےاور مفتی سعید سے سوالات پوچھنے کا مقصد مفتی سعید کے کیریکٹر کو واضح کرنا تھا۔

    عثمان گل نے الزام عائد کیا کہ نوے کی دہائی میں رجیم چینج میں مفتی سعید کا بھی کردار تھا، جس سے کیریکٹر واضح ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں میں مفتی سعید اس ٹیم کا ممبر تھا، جس نے حکومت گرانے کے لیے آپریشن خلیفہ کنڈکٹ کیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ پہلی درخواست کا شکایت کنندہ محمد حنیف ایک اجنبی شخص تھا، دوسری اپیل خاورمانیکا نے کی لیکن ان دونوں کا وکیل ایک ہی تھا۔ انھوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاورمانیکا کی شکائت تو تقریباً چھ سال بعد دائر ہوئی اور شکایت تاخیر سے دائر کرنے کے سوال پر شکایت کنندہ کے وکیل وضاحت دینے میں ناکام رہے۔

    عمران خان کی اہلیہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ خاورمانیکا کو کرپشن کیس میں گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ضمانت ملنے پر شکائت دائر کی۔

    انھوں نے کہا کہ یہ کیس صرف اور صرف سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے لیے دائر ہوا ہے۔

    عثمان ریاض گل ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ شکایت تاخیر سے دائر ہو سکتی ہے مگر اس کی وجوہات بتانا ہوتی ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جون 2023 میں اینٹی کرپشن اوکاڑہ میں درج ایف آئی آر میں خاور مانیکا گرفتار ہوئے اور جوڈیشل لاک اپ میں رہے اور نومبر 2023 کو جوڈیشل لاک اپ سے رہا ہونے کے گیارہ دن بعد خاور مانیکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف شکایت دائر کی اور نومبر 2023 کو پہلے شکایت کنندہ محمد حنیف نے اپنی شکایت واپس لی اور ساتھ یہ کہا گیا کہ تکنیکی بنیادوں پر شکایت واپس لی جارہی ہے اور پھر شکایت واپس لینے کے 48 گھنٹے کے بعد اسی وکیل راجہ رضوان عباسی کے ذریعے ایک اور شکایت دائر کر دی جاتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کریمنل کورٹ کے پاس شادی کو جائز یا ناجائز قرار دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا اور فوجداری عدالت کے پاس اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا، اس معاملے کے ساتھ ڈیل کرنے کے لیے سپیشل کورٹس موجود ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ فیملی کورٹ کسی بھی شادی کو اگر غیر قانونی قرار دیتی ہے تو ہی فوجداری سماعت ہو سکتی ہے۔

    عثمان گل کا کہنا تھا کہ فیملی کورٹ کی ڈیکلریشن کے بغیر کسی بھی شادی کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    انھوں نے کہا کہ سابقہ پراسیکیوٹر رانا حسن عباس نے کیس کے حوالے سےحقائق عدالت کے سامنے رکھے تھے اور اگلے ہی روز ان کا ٹرانسفر آرڈر آ گیا۔

    ان اپیلوں کی سماعت کرنے والے جج شاہ رخ ارجمند نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس کے بعد کیا توقع کرسکتے ہیں؟

    بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدت نکاح کیس میں فیصلہ کلعدم قرار دینے کی استدعا کر دی کیونکہ ان کے بقول جس انداز میں اس مقدمے کا ٹرائل چلایا گیا وہ شکوک وشہبات کو جنم دیتا ہے۔

    اس مقدمے کے پراسیکیوٹر عدنان علی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دوران عدت نکاح پر ہم نے عمران خان اور بشریٰ کا نکاح ختم کرنے کے حوالے سے استدعا نہیں کی۔

    پراسیکیوٹر کے اس جملے پر کمرہ عدالت میں موجود پاکستان تحریک انصاف کی خواتین نے ’شیم شیم‘ کے نعرے لگانا شروع کردیے۔

    انھوں نے کہا کہ سنہ 1989 میں خاورمانیکا اور بشریٰ بی بی نے شادی کی اور وہ دونوں ہنسی خوشی رہ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اٹھائیس سال شادی کا عرصہ رہا، پانچ بچے ہوئے لیکن عمران خان کی مداخلت کے باعث بشریٰ بی بی کو طلاق ہوئی۔

    پراسیکیوٹر عدنان علی نے الزام عائد کیا کہ عمران خان بار بار خاورمانیکا، بشریٰ بی بی کی زندگی میں مداخلت کررہے تھے اور خاورمانیکا نے کہا عمران خان کی مداخلت کے باعث ہنستا بستا گھر اجڑ گیا۔

    انھوں نے کہا کہ خاورمانیکا رجوع کرنا چاہتے تھے لیکن دورانِ عدت بشریٰ بی بی نے نکاح کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کے گواہان نے حلف پر گواہی دی جبکہ عمران خان نے حلف کے بغیر 342 کا بیان ریکارڈ کروایا۔

    اس مقدمے کے پراسیکیوٹر نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی عدت میں نکاح کیس میں ٹرائل کورٹ کے سزا کے فیصلے کو برقرار رکھنے کی استدعا کردی۔