خیبر پختونخوا حکومت نے آج ایک نئی روایت قائم کرتے ہوئے وفاق اور باقی تین صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کر دیا ہے۔
یہ بجٹ مالی سال 2024-25 کا ایک سو ارب روپے کا سر پلس بجٹ پیش کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے کل اخراجات 1654 ارب روپے ہوں گے۔
یہ بجٹ صوبائی وزیر آفتاب عالم نے آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔
صوبائی حکومت نے بجٹ تقریر میں وفاق سے ایک ہزار 212 ارب روپے سے زائد رقم ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اصافے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار آگے چل کر بیان کریں گے لیکن پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر خیبر پختونخوا حکومت کو اتنی جلدی کیوں تھی کہ وفاق اور دیگر صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کو وفاق سے لگ بھگ 70 سے 80 فیصد تک محاصل حاصل ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر بجٹ ترتیب دیا جاتا ہے۔
اگرچے وفاق اور دیگر صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کرنے میں کوئی آئینی یا قانونی الجھن نہیں ہے یعنی کوئی بھی صوبہ سالانہ بجٹ وفاقی حکومت سے پہلے پیش کر سکتا ہے۔ اس بارے میں ماہرین کی متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔
ڈان نیوز کے بیوروچیف علی اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس بارے میں عدالت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو معطل کیا ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کے بارے تھا۔
اس کیس کی اب سماعت 3 جون کو متوقع ہے۔
علی اکبر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ صوبائی حکومت تین جون سے پہلے پہلے بجٹ منظور کرانا چاہتی ہے کیونکہ اگر عدالت کا فیصلہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے خلاف آتا ہے تو ایسی صورت میں حزب اختلاف کو یہ نشستیں مل سکتی ہیں اور اگر پی ٹی آئی کے کچھ ناراض ارکان بھی اپوزیشن کے ساتھ مل جاتے ہیں تو حکومت کے لیے بجٹ منظور کرانا مشکل ہو سکتا ہے۔
علی اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت کی کوشش ہو گی کہ 3 جون سے پہلے پہلے بجٹ اسمبلی سے منظور کر ا لیا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے خلاف آتا ہے تو خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی نشستیں 17 سے بڑھ کے 51 تک ہو سکتی ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے آج کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ اس لیے انھوں نے پہلے پیش کر دیا ہے کیونکہ ان کی تیاری مکمل ہے۔
الیکشن کمیشن نے جب سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا اعلان کیا تھا تو صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ مخصوص نشستوں پر جن کی نوٹیفیکیشن ہوئے تھے وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حلف نہیں لے سکے تھے۔
اس وقت خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ مرکز اور دیگر تین صوبوں میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومتیں قائم ہیں۔
خیبر پختونخوا اور مرکز کے درمیان سیاسی اختلاف بھی ان دنوں عروج پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل یا ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس 25 مئی کو طلب کر لیا ہے لیکن اس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے بجٹ کا زیادہ انحصار وفاق سے ملنے والے محاصل پر ہوگا، جس کا حجم 1212 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ اس میں وفاقی کے قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ دہشتگرد کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب نو کروڑ ملیں گے اور اسی طرح پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملیں گے۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وفاق کے ذمے صوبے کے 1510 ارب روپے ہیں جو صوبے کو ملنے ہیں اور یہ وہ رقم ہے جس پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ روپے اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی۔ اس میں ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ضم اضلاع یا وہ قبائلی علاقے جو سنہ 2018 میں خیبر پختونخوا میں ضم کر دیے گئے تھے کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔
وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے جبکہ اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ضم اضلاع کے لیے 76 ارب کا ترقیاتی فنڈ وفاق سے ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اور اسی طرح بے گھر افراد کی مد میں 17 ارب وفاق سے ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے اخراجات کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں رکھا گیا ہے اور بجٹ تجاویز کے مطابق صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں، پینشن اور گرانٹ کی مد میں ایک ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی اس میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے۔
صوبائی حکومت پینشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔ جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں۔
صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع، چھ ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے۔ ۔پشاور میں بی آر ٹی سرور کے لیے سبسڈی میں کم لائی گئی ہے جس سے توقع ہے کہ بی آر ٹی کے کرائے بڑھائے جائیں گے۔