شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں دوبارہ گرفتار، تحریک انصاف کی مذمت

لاہور پولیس نے اتوار کو اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مزید آٹھ مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ اب پولیس جیل میں ہی ان سے تفتیش کرے گی۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ یہ گرفتاری بلا جواز ہے کیونکہ جن مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی ان تمام مقدمات میں عدالت نے انھیں ضمانت دے رکھی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مجاہد کالونی میں مبینہ توہینِ مذہب کے الزام پر ہونے والے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا ہے جبکہ مشتعل ہجوم کو منتشر کر کے وقوعہ میں ملوث ملزم کو حراست میں لے لیا ہے
  • حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ’شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی‘
  • اسلام آباد کے ڈی چوک پر مظاہرین کو گاڑی سے کچلنے والے ملزم ’ملٹری پولیس کی تحویل میں ہیں‘
  • قائم قام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور دیگر شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے
  • چینی و غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے داسو، چلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ لگانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا: نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے کہا ہے کہ ’ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر صدارت سے ہٹا دیا تھا اب کارکن مجھے واپس لائے ہیں تو انکو خوشی منانے دیں۔‘

    پارٹی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد نواز شریف نے پہلا خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو خوشی اس لیے نہیں منانی کہ نواز شریف دوبارہ صدر بنا ہے بلکہ اس لیے خوشی منائیں کہ ثاقب نثار کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’آج نواز شریف پھر آپ کے سامنے کھڑا ہے۔ فیصلہ کس لیے کیا کہ نواز شریف تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ میں نے تمھارے بیٹے سے تنخواہ نہیں مانگی تھی۔‘

    انھوں نے کاکنوں سے خطاب میں کہا کہ بلائیں ثاقب نثار کو اور ان کو دکھائیں کہ کارکنوں کا فیصلہ کیا تھا۔

  2. یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!

    بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا۔27 مئ کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  3. شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں دوبارہ گرفتار، تحریک انصاف کی مذمت

    شاہ محمود قریشی

    لاہور پولیس نے اتوار کو اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مزید آٹھ مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ اب پولیس جیل میں ہی ان سے تفتیش کرے گی۔

    پولیس نے شاہ محمود قریشی سے جیل میں تفتیش کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس پر لاہور کی انسداد دہشت گردی کی نے پولیس کو نو مئی کے مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما سے تفتیش کی اجازت دے دی۔

    لاہور پولیس کی خصوصی ٹیم شاہ محمود قریشی کو گرفتار کرنے اڈیالہ جیل پہنچی اور تفتیشی ٹیم نے عدالت سے شاہ محمود قریشی کو لاہور منتقل کرنے کی اجازت مانگی لیکن عدالت نے سکیورٹی خدشات کے باعث شاہ محمود کو لاہور منتقل کرنے سے منع کردیا۔

    تفتیشی ٹیم کی استدعا پر عدالت نے شاہ محمود قریشی کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔لاہورپولیس کی ٹیم نے ملزم شاہ محمود قریشی سےاڈیالہ جیل میں ہی بیان ریکارڈ کیا۔

    شاہ محمود قریشی ویڈیو لنک کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی کسی بھی مقدّمے میں گرفتاری کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق جن مقدمات میں شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈالی گئی ان تمام مقدمات میں عدالت نے انھیں ضمانت دے رکھی ہے۔

    ترجمان کے مطابق شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے نظریے پر جم کر کھڑا رہنے کی سزا دی جا رہی ہے۔

  4. بشام میں چینی شہریوں پر حملہ ٹی ٹی پی کی ہدایت پر ہوا، منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی: پاکستانی حکومت

    پاکستان، چین، ٹی ٹی پی، افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ رواں برس مارچ میں خیبرپختونخوا کے علاقے بشام میں چینی انجینیئرز پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور یہ حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت کے احکامات پر ہوا تھا۔

    اتوار کو پاکستانی وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے کوآرڈینیٹر رائے طاہر نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چینی انجینیئر پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی افغانستان میں تیار کی گئی تھی۔

    خیال رہے رواں برس 26 مارچ کو بشام کے قریب ہونے والے خودکش کار حملے میں پانچ چینی شہری اور ان کا پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہوا تھا۔

    نیکٹا کے کوآرڈینیٹر رائے طاہر نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہ پاکستان اور چین کے تعلقات پر حملہ تھا‘ اور اس حملے کے فوراً بعد پاکستانی حکومت نے ایک جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم تشکیل دی جس میں تمام اداروں کے افسران شامل تھے۔

    حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’گاڑی افغانستان میں تیار ہوئی، ٹرانسپورٹ بھی افغانستان سے ہوئی اور خودکش بمبار کو ٹریننگ بھی افغانستان میں دی گئی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چینی شہریوں پر حملہ ٹی ٹی پی کی قیادت کی ہدایات پر کیا گیا اور انھوں نے اس حملے کے لیے ’ہماری مخالف انٹیلی جنس ایجنسی سے بھاری رقم بھی وصول کی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا پاکستانی سکیورٹی ادارے اس حملے میں ملوث 11 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں اور وہ خیبر پختونخوا کے محکمہ انسدادِ دہشتگری کی تحویل میں ہیں۔

    خیال رہے پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت اس وقت افغانستان میں موجود ہے۔ ماضی میں ٹی ٹی پی اس حملے میں ملوث میں ہونے کی تردید کر چکی ہے۔

    وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ’ہم افغانستان کی عبوری حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہاں پر جو بختیار شاہ، قاری عبداللہ اور خان لالہ ہیں انھیں فوری طور پر گرفتار کریں۔‘

    ’خاص طور پر جو ٹی ٹی پی کا امیر ہے نور ولی محسود اور کمانڈر عظمت اللہ محسود اور جتنی بھی ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت افغانستان میں ہے ان کو وہ فوری طور پر گرفتار کریں۔‘

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن ایسا اس ہی صورت میں ممکن ہے جب افغانستان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

  5. مبینہ توہینِ مذہب کا معاملہ: سرگودھا پولیس نے 500 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا

    سرگودھا، پنجاب، توہینِ مذہب

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں پولیس نے مبینہ توہینِ مذہب کے معاملے پر ہونے والی ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور پُرتشدد مظاہرے میں ملوث ہونے کے الزام میں 16 نامزد اور 500 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    اتوار کو پولیس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقدمے میں اقدامِ قتل، انسداد دہشتگردی اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق توہینِ مذہب کے الزام میں ایک مسیحی شخص کو بھی گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق مشتعل مظاہرین نے مسیحی شخص کو موقع پر ہی قتل کرنے کی کوشش کی اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل کا استعمال کر کے مظاہرین کو منتشر کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    خیال رہے گذشتہ روز سرگودھا میں ہونے والے پُرتشدد مظاہرے میں ایک شخص زخمی ہوا تھا۔

    ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح کے وقت مشتعل لوگوں نے جوتوں کی فیکڑی کو نذر آتش کیا جبکہ ایک 75 سالہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کے مطابق پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس شخص کو بچایا۔ ’مجاہد نگر کے علاقے میں کافی مسیحی آباد ہیں۔ وہاں پر ایک چرچ ہے۔ مشتعل ہجوم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو پولیس نے ہجوم کو وہاں جانے اور توڑ پھوڑ سے روکا۔‘

    دوسری جانب صوبہ پنجاب کی پولیس کا کہنا ہے کہ سرگودھا میں مبینہ توہین مذہب کے معاملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ’مشتعل افراد کے پتھراؤ سے پولیس کے 10 سے زائد افسران اور جوان زخمی ہوئے ہیں۔‘

  6. وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا وفاق سے لوڈشیڈنگ سمیت دیگر معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے پر اتفاق: وزارتِ داخلہ

    CM KP Ali Amin, Interior Minister Mohsin Naqvi

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of Interior

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری سے ملاقات اور معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وزارتِ داخلہ میں ہونے والی اس ملاقات میں صوبے کی موجودہ صورتِ حال، لوڈشیڈنگ اور بجلی سے متعلق معاملات اور دیگر مسائل کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق تینوں لیڈران کی پیر کے روز ایک بار پھر ملاقات ہو گی۔

    اس سے قبل اتوار کے روز ایس آئی ایف سی کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا تھا کہ ان کی لوڈ شیڈنگ سے متعلق وزیر داخلہ اور وزیر توانائی سے اہم ملاقات ہونی ہے۔

    انھوں نے کہا تھا کہ ’کچھ لوگ اسے بجلی چوری جبکہ وہ اسے مجبوری کہتے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اس وقت وفاق ان کے واجبات ادا کر رہا ہے اور نہ ہی انھیں ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔‘

    خیال رہے کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت ہے جبکہ وزیرِ اعلٰی بننے کے بعد سے علی امین گنڈاپور وفاق کے حوالے سے شدید تنقید کرتے دکھائی دیے ہیں۔

    اس حوالے سے علی امین گنڈاپور نے لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا اور اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کی حکومت کی جانب سے وفاق سے پہلے ہی بجٹ بھی پیش کر دیا تھا۔

  7. کوٹ ادو میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک

    Accident

    ،تصویر کا ذریعہRescue 1122

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں ٹرک اور وین میں تصادم کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔

    ملتان سے بھکر جانے والی مسافر وین کو حادثہ کوٹ ادو میں چوک سرور شہید اڈا محمد والا سٹاپ کے قریب پیش آیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق مسافر وین میں سوار افراد کا تعلق ملتان کی بستی لاڑ سے تھا اور وہ بھکر میں اپنے رشتہ داروں کے پاس جارہے تھے۔ مرنے والے افراد میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔لاشوں اور زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    حادثےکی شکار وین میں ایک ہی خاندان کے 20 سے زائد افراد سوار تھے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوٹ ادو میں ملتان میانوالی روڈ پر ٹریفک حادثہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    دوسری جانب سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے بھی ٹریفک حادثے میں 11 افراد کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

  8. ’آج دورانِ اجلاس آرمی چیف سے ملاقات ہوئی‘، علی امین گنڈاپور کو جلد ’اچھے نتائج‘ کی امید

    Ali Amin

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے ایس آئی ایف سی کے ایپکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اجلاس میں ان کی دو بار آرمی چیف عاصم منیر سے ملاقات ہوئی ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان ان کی ترجیح نمبر ایک ہیں۔ وہ سیاسی جدوجہد علیحدہ ہے۔ اس سطح پر بات چیت کا عمل شروع ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مجھے ویسے ہی (بات چیت کا) موقع مل رہا ہے تو مجھے آج کے اس اجلاس میں جہاں موقع بھی نہ ہو، ماحول بھی نہ ہو، وہاں اور لوگ بھی ہوں تو پھر ایسی بات کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘

    مذاکرات سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ’عمران خان نے قید سے قبل یہ بار بار واضح کیا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ ماحول نہیں بن رہا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اب عدالتوں سے فیصلے آنے لگے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور جلد بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کے مطابق مئی اور جون اچھے مہینے ہیں، (ان میں) کچھ نہ کچھ فیصلے سامنے آئیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان کے خلاف کارروائی کی منظوری پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، اس طرح کے معاملات ایجنڈے میں نہیں آنے چاہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ آج ایس آئی ایف سی کے اجلاس میں ’ہم اپنی نمائندگی کرنے آئے تھے۔‘ ان کے مطابق ’پہلے انھیں اس اجلاس کے لیے مدعو نہیں کیا گیا جو کہ ایک زیادتی تھی مگر اس سے ان کے صوبے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر جب انھیں اجلاس کے لیے مدعو کیا گیا تو وہ شریک ہو گئے۔‘

    علی امین گنڈا پور نے کہا کہ انھوں نے آج کے اجلاس کو بتایا کہ ’فاٹا اور پاٹا پر ٹیکس ممکن نہیں، وہاں لوگوں کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوا۔

    وزیر اعلیٰ کے مطابق ’انھوں (اجلاس کے شرکا) نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔‘

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ سے متعلق وزیر داخلہ اور وزیر توانائی سے اہم ملاقات ہونی ہے۔ ان کے مطابق کچھ لوگ اسے بجلی چوری جبکہ وہ اسے مجبوری کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت وفاق ان کے واجبات ادا کر رہا ہے اور نہ انھیں ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔

    علی امین نے کہا کہ وہ صوبے کے عوام کے حقوق کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کے مطابق ہائیڈل پاور سے سب سے زیادہ بجلی ان کا صوبہ پیدا کر رہا ہے۔

    بجٹ سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آئین پہلے بجٹ پیش کرنے سے منع نہیں کرتا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کا فلاحی بجٹ ہے، میرے بجٹ میں مجھے مزید ریلیف بھی ملے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’میں اپنے ٹیکسز اپنے حساب سے لگاؤں گا، فلاحی بجٹ ہے، عوام کو ریلیف دینا ہے، روزگار اور بلا سود قرضے دیں گے۔‘ انھوں نے صوبائی بجٹ کو ایک بہترین بجٹ قرار دیا۔

  9. پشاور میں ’زبردستی بجلی بحال کرنے‘ پر رکن صوبائی اسمبلی کے خلاف کارروائی کی درخواست

    فضل الٰہی

    ،تصویر کا ذریعہKPK

    مبینہ طور پر رکن خیبرپختونخوا اسمبلی فضل الٰہی کی جانب سے ہجوم کے ہمراہ پیسکو سب ڈویژن میں داخل ہو کر زبردستی بجلی بحال کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر پیسکو نے پشاور پولیس کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی۔

    درخواست میں کہا گیا کہ کار سرکار اور پیسکو کے امور میں مداخلت پر ایم پی اے فضل الہیٰ اور دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ فضل الٰہی 2024 کے عام انتخابات میں پشاور کے حلقے پی کے 84 سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہو کر ایوان تک پہنچے تھے۔

    وہ 2013 اور 2018 میں بھی تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔

    رحمان بابا پولیس سٹیشن کے معاون محرر ظہور خان نے بی بی سی کو بتایا کہ پیسکو کے ایگزیکٹو انجینئر نے مقدمے کے اندراج کی درخواست تھانہ رحمٰن بابا کے ایس ایچ او کو بھیجی ہے، جس میں کہا گیا کہ ایم پی اے فضل الہیٰ 400 سے 450 افراد کے ہجوم کے ہمراہ پیسکو کے دفتر چمکنی سب ڈویژن میں داخل ہوئے۔

    درخواست میں کہا گیا کہ ایم پی اے فضل الہیٰ نے چھ فیڈرز کی بجلی زبردستی بحال کی اور صبح دس بجے سے دوپہر ایک بجے تک بجلی کی فراہمی جاری رکھی گئی جس سے پیسکو کو شدید نقصان پہنچا کیونکہ تمام فیڈرز میں کچھ نہ کچھ خرابی ہے۔

    درخواست میں ان کا کہنا تھا کہ تین گھنٹے میں 70 ہزار یونٹ بجلی خرچ ہونے سے 36 لاکھ روپے کا نقصان ہوا اور یہ سب رکن صوبائی اسمبلی کے غیرقانونی عمل کی وجہ سے ہوا۔

    پولیس کے مطابق رکن اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے قبل پولیس تفتیش کرے گی اور پھر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ تھانے سے ایک اہلکار کو تفتیشی افسر بنا کر جلد بھیجا جائے گا جو بیانات اور حقائق ریکارڈ کر کے اپنی رپورٹ دے گا۔

    PESCO

    ،تصویر کا ذریعہPESCO

  10. سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مکمل یکسو ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری ’ایس آئی ایف سی‘ کے ذریعے ہو گی: وزیراعظم

    PM

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی میں ایس آئی ایف سی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

    یہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی اپیکس کمیٹی کا 10واں اجلاس تھا جس میں مختلف اقدامات اور منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس کی صدارت وزیراعظم نے کی جبکہ اس میں آرمی چیف، وفاقی کابینہ، صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

    آرمی چیف نے ملک کی معاشی خوشحالی اور عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کے لیے حکومتی اقدامات کے حوالے سے پاک فوج کے پختہ عزم کی یقین دہانی کرائی۔ کمیٹی نے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا اور پائیدار پالیسی اقدامات کے ذریعے اسے مزید سازگار بنانے کی ہدایات دیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ’ابھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے جو اعلانات ہوئے ہیں، وہ مکمل یکسو ہیں کہ یہ ساری سرمایہ کاری ’ایس آئی ایف سی‘ کے ذریعے ہوگی۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے خود 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ولی عہد ’محمد بن سلمان بالکل سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں، اب تیاری ہماری طرف سے ہونی ہے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ اس سے قبل ایس آئی ایف سی پر خدشات کا اظہار کیا جاتا تھا مگر اس کونسل کی کامیابی نے ناقدین کے منہ بند کر دیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے بلوچستان حکومت کو اعتماد میں لے کر ریکوڈک کے منصوبے کو یقینی بنایا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق ’ایس آئی ایف سی‘ صرف فوجی افسران پر مشتمل نہیں، اس میں وزرا اور وزیراعظم بھی شامل ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’صوبائی قیادتوں کا شکرگزرا ہوں، سبھی کونسل پر پورا اعتماد کرتے ہیں۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ صوبائی حکومتیں پورا ساتھ دیں گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو بھی یہ کام کرے گا وہ ہمارے سروں کا تاج ہے۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا سمیت تمام صوبائی قیادت کا ساتھ دینے پر شکریہ ادا کیا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو مکمل بدلنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ڈیجٹلائزیشن کے لیے ایک غیرملکی فرم کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

  11. سرگودھا میں مشتعل ہجوم کے پتھراؤ سے 10 پولیس اہلکار زخمی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: پولیس

    سرگودھا میں مشتعل ہجوم کے پتھراؤ سے 10 پولیس اہلکار زخمی، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا: پولیس

    ،تصویر کا ذریعہPUNJAB POLICE

    صوبہ پنجاب کی پولیس کا کہنا ہے کہ سرگودھا میں مبینہ توہین مذہب کے معاملے میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ’مشتعل افراد کے پتھراؤ سے پولیس کے 10 سے زائد افسران اور جوان زخمی ہوئے ہیں۔‘

    آئی جی پنجاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آر پی سرگودھا شارق کمال اور ڈی پی او سرگودھا ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی، ایس پیز سمیت سینیئر افسران کی سپرویژن میں سرگودھا پولیس نے وقوعہ کی اطلاع ملتے ہی بروقت ریسپانڈ کیا۔

    ’(انھوں نے) موقع پر پہنچ کر نہ صرف 10 قیمتی جانوں کو بچا لیا بلکہ حالات پر بھی قابو پا لیا۔ کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ مشتعل افراد کے پتھراؤ سے پولیس کے 10 سے زائد افسران اور جوان زخمی بھی ہوئے۔‘

    اس کے مطابق سرگودھا پولیس نے ’اپنی جان داؤ پر لگا کر فیملیز کو ریسکیو کر کے ہجوم سے نکالا۔ پولیس کی بروقت کارروائی کی بدولت سرگودھا بڑے سانحہ سے بچ گیا۔‘

    ’سرگودھا کے حالات الحمدللہ مکمل طور پر پُرامن اور کنٹرول میں ہیں۔ ڈسٹرکٹ امن کمیٹی اور کرسچین کمیونٹی کے ممبران نے پولیس کے ساتھ مل کر افہام و تفہیم اور امن کی فضا بحال کرنے میں موثر کردار ادا کیا۔‘

    ڈی پی او سرگودھا اعجاز ملہی نے کہا ہے کہ ’سرگودھا پولیس کے دو ہزار سے زائد افسران اور جوان سکیورٹی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔ ’کسی کو شرپسندی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے التماس ہے کہ شرپسند عناصر سے نمٹنے کے لیے پولیس کا ساتھ دیں۔‘

  12. اسلام آباد میں مظاہرین کو گاڑی سے کچلنے والے ملزم ’ملٹری پولیس کی تحویل میں‘

    اس حادثے میں ’سیف غزہ‘ دھرنے کے دو شرکا ہلاک جب کہ تین دیگر زخمی ہو گئے تھے

    ،تصویر کا ذریعہSaveGazaPK/Twitter

    پیر کے روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جناح ایوینیو پر حادثے میں ملوث ڈرائیور کو ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    اس حادثے میں ’سیف غزہ‘ نامی مظاہرے کے دو شرکا ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ ایک پولیس اہلکار بھی اس واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔

    پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزم کُا نام بلال فیصل ہے۔ پولیس کے ترجمان تقی جاوید نے ڈان نیوز کو بتایا ہے کہ ملزم حاضر سروس لیفٹیننٹ ہیں جبکہ ان کے والد ایک بریگیڈیئر ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو وقوعہ کے اگلے روز ہی ملٹری پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا جو ملزم کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

    اس رات ہوا کیا تھا؟

    بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے جماعتِ اسلامی کے سابق سینیٹر اور ’سیف غزہ‘ کے پیٹرن مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ دھرنے کے شرکا 12 مئی سے ڈی چوک پر بیٹھے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ وقوعہ کے وقت وہ خود وہاں موجود تھے۔ حادثے میں کوٹلی سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ رومان ساجد اور راولپنڈی کے 45 سالہ شیخ عمران ہلاک ہو گئے تھے۔

    مشتاق احمد کے مطابق ’ہمارے اوپر چڑھنے کے بعد گاڑی آگے جا کر ڈی چوک پر لگے آہنی گیٹ کے پاس جا کر رُک گئی۔ جب [گاڑی نے] یو ٹرن لیا تو ڈر پیدا ہوگیا کہ یہ ہمارے اوپر پھر چڑھے گا۔ میں ںے پولیس سے درخواست کی کہ اس کے ٹائروں کو گولی مار کر برسٹ کریں تاکہ گاڑی رُک جائے یا ہوائی فائر کریں تاکہ [ڈرائیور] گھبرا کر رُک جائے۔‘

    مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ’شاید پولیس اہلکاروں کے پاس بندوق نہیں تھی کیوںکہ انھوں نے گاڑی پر گولی نہیں چلائی۔‘

    ان کے مطابق گاڑی ان کے پاس سے گزر کر جناح ایوینیو پر رُک گئی تھی۔ ’ڈرائیور نیچے اترا اور اس کے ٹائروں میں کانٹے دار تاریں پھنس گئیں تھیں جو ڈی چوک کے پاس آہنی دروازی کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔‘

    مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ٹائر میں پھنسی تاریں نکالنے کے بعد ڈرائیور گاڑی کو ایک بار پھر مظاہرین کی طرف لایا۔ ’اس سے بچنے کے لیے ہم لوگ میٹرو سٹیشن کے لیے بنی جگہ پر چڑھ گئے۔ وہاں سے گزر کر یہ خواجہ نظام الدین روڈ کر جانب گیا۔ پولیس نے کچھ نہیں کیا۔‘

    ’گاڑی سے کچلے جانے کے باعث ایک شخص کا سر دھڑ سے جدا ہو گیا تھا۔ دوسرا بھی وہیں چل بسا۔‘

    پولیس کا کیا کہنا ہے؟

    اس حادثے کی ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے فوراً ناکہ بندی کروا کر گاڑی کو روک کر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تھا۔

    سابق سینیٹر نے الزام لگایا ہے کہ پولیس نے اپنی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی ہے جو کہ کمزور ہے جبکہ عینی شاہدین اور لواحقین کی مدعیت میں مقدمہ درج نہیں کر رہی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج مہیا نہیں کی جا رہی اور پولیس ملزم تک رسائی بھی نہیں دے رہی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پولیس نے پہلے کسی اور بندے کو دکھایا لیکن جب پریشر آیا تو اصلی ملزم کو پکڑا مگر ایف آئی آر میں اس کی ولدیت نہیں لکھی تھی۔‘

    تاہم تھانہ کوہسار پولیس سے جب مشتاق احمد کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو تفتیشی افسر نے بتایا کہ جب واقعے کی ایف آئی آر درج کی گئی تو اس وقت تک لواحقین کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تھی جس کے باعث پولیس نے اپنی مدعیت میں کیس درج کر لیا تھا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اب درخواست موصول ہوگئی ہے جسے ضمنی ایف آئی آر میں شامل کر لیا جائے گا۔

    دوسری جانب مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کریں گے۔

    ایف آئی آر میں ملزم کی ولدیت نہ لکھنے سے متعلق الزام کے جواب میں کیس کے تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ جب ملزم کو گرفتار کیا گیا تو اس نے اپنی ولدیت ظاہر نہیں کی تھی جس وجہ سے اسے ایف آئی آر میں نہیں شامل کیا گیا تھا۔

    پولیس کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس کی تفتیش اب ملٹری پولیس کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مقدمہ تھانہ کوہسار میں درج ہے اس لیے ملٹری پولیس ملزم سے ہونے والی تحقیقات پولیس سے شیئر کرے گی جسے مقدمے کے چالان میں شامل کیا جائے گا۔

  13. ’آئندہ بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے‘: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا اراکین پارلیمنٹ سے خطاب

    یوسف رضا گیلانی

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    قائمقام صدر اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور دیگر شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے۔‘

    چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ’معاشی خوشحالی ملک میں سیاسی استحکام سے منسلک ہے اور معاشی استحکام کے بغیر عوام کی حالت بہتر نہیں ہو سکتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’قومی مسائل کے حل کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لانے کی ضرورت ہے۔‘

    یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملتان میں ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بڑے پیمانے پر لوگ مستفید ہو رہے ہیں، مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ’جنوبی پنجاب میں تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹیشن کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم سے بات چیت شروع ہو چکی ہے۔‘

  14. داسو میں چینی شہریوں کے تحفظ کے لیے سیف سٹی منصوبے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل

    Safe City Project

    چینی و غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے داسو (چلاس) میں سیف سٹی پراجیکٹ لگانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت داسو، چلاس سیف سٹی پراجیکٹ کے قیام کا جائزہ لینے سے متعلق اجلاس ہوا۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے جامع پلان طلب کرتے ہوئے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی اور اس ٹیم کو 15 روز میں حتمی سفارشات پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    وزیر داخلہ نے آئی جی اسلام آباد، آر پی او ہزارہ اور واپڈا کے نمائندہ پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لیے کام کرنے والے چینی شہریوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کی ادائیگی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس اس سلسلے میں ہر قسم کی معاونت فراہم کرے گی۔ واپڈا، خیبر پختونخوا پولیس اور اسلام آباد پولیس مل کر اس سلسلے میں جامع پلان تیار کریں۔

    محسن نقوی کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت ہے کہ داسو میں سیف سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے، داسو میں سیف سٹی کا قیام اسلام آباد اور لاہور کی طرح جدید تقاضوں کے مطابق عمل میں لایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سیف سٹی کا مقصد صرف کیمرے لگانا نہیں بلکہ ایسا نظام ہے جو جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ٹولز سے لیس ہو، سیف سٹی پراجیکٹ سے اس علاقے کی نگرانی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

  15. ’سرگودھا پولیس نے مسیحی افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا‘, محمد زبیر خان، صحافی

    کمشنر سرگودھا ڈویژن محمد اجمل بھٹی نے مجاہد کالونی میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی ’شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔‘

    صوبہ پنجاب کے ڈائریکٹر انفارمیشن کے مطابق محمد اجمل بھٹی نے کہا کہ ’ہجوم کی جانب سے احتجاج کے دوران کوئی جانی و املاک کا نقصان نہیں ہوا۔ ایک شخص زخمی ہوا جس کی حالت بہتر ہے۔ تمام مسیحی افراد کو پولیس اور انتظامی اداروں نے بخوبی انداز میں ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔‘

    اجمل بھٹی کے مطابق شہری ’افواہوں پر کان نہ دھریں اور پُرامن رہیں۔‘

    ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ صبح کے وقت مشتعل لوگوں نے جوتوں کی فیکڑی کو نذر آتش کیا جبکہ ایک 75 سالہ شخص کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کے مطابق پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر اس شخص کو بچایا۔ ’مجاہد نگر کے علاقے میں کافی مسیحی آباد ہیں۔ وہاں پر ایک چرچ ہے۔ مشتعل ہجوم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو پولیس نے ہجوم کو وہاں جانے اور توڑ پھوڑ سے روکا۔‘

    ترجمان سرگودھا پولیس عابد حسین کے مطابق پولیس نے ہر ممکنہ حد تک امن و امان کو بحال رکھا ہے۔ ’پولیس نے ناخوشگوار صورتحال سے بچایا، مذکورہ خاندان اور وہاں پر موجود دیگر چرچ بھی محفوظ کیے گئے۔‘

    آر پی او سرگودھا پولیس کے مطابق ’تمام مسیحی افراد کو پولیس نے بخوبی انداز میں ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔‘

    ’موثر حکمت عملی کے تحت ہجوم کو منتشر کروایا، زخمی کو ہسپتال منتقل کیا گیا جس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ وقوعہ کی شفاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘

    ادھر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مسیحی برادری کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک بیان میں اس کا کہنا ہے کہ ’اِطلاعات کے مطابق گاؤں گِل والا میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مسیحی برادری کی زندگی بہت بڑے خطرے سے دوچار ہے۔

    ’پنجاب پولیس اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر امن و امن بحال کرے، مجرموں کی سرکوبی کرے اور اِس کے ساتھ ساتھ یقینی بنائے کہ مسیحی برادری کو مزید کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔‘

  16. بریکنگ, سرگودھا میں توہینِ مذہب کے الزام میں ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا گیا ہے: سرگودھا پولیس, محمد زبیر خان، صحافی

    sargodha

    ،تصویر کا ذریعہCourtesy Sargodha Police

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے شہر کی مجاہد کالونی میں مبینہ توہینِ مذہب کے الزام میں ہونے والے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا ہے اور مظاہرین کو منتشر کر کے وقوعہ میں ملوث ملزم کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    سرگودھا پولیس کے ترجمان عابد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود ہے جبکہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے تاہم زخمیوں کو مظاہرین سے چھڑوانے کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق سرگودھا پولیس کے ترجمان عابد حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب سنیچر کو الزام عائد کیا گیا کہ مجاہد کالونی میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کی مبینہ طور پر بے حرمتی کی گئی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’ان دعوؤں کے بعد سیکڑوں افراد ہجوم کی صورت میں علاقے میں اکھٹے ہو گئے، اور اس وقت پولیس ان دعوؤں کی حقیقت جاننے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

    ترجمان کے مطابق ’ایک عینی شاہد نے بتایا کہ مشتعل ہجوم نے اقلیتی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے گھروں اور ایک فیکٹری پر چڑھائی کر دی تھی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ علاقے کو ناکہ لگا کر بند کر دیا گیا ہے اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں ہے جبکہ اس وقت اس کالونی اور اس کے اطراف میں موبائل فون سگنل بند کر دیے گئے ہیں جنھیں کچھ دیر میں کھول دیا جائے گا۔

  17. پاک چین اقتصادی راہداری کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا 13واں اجلاس، بشام حملے کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی, تنویر ملک، صحافی

    سی پیک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاک چین اقتصادی راہداری کی مشترکہ تعاون کمیٹی کا 13واں اجلاس آج اسلام آباد میں ہوا۔ پاکستان کی جانب سے اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔

    چین کی طرف سے اجلاس کی صدارت وائس چیئرمین نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن نے بذریعہ ویڈیو کی۔ اجلاس کے آغاز میں لی چونلِن، چینی وائس چیئرمین این ڈی آر سی کی جانب سے پاکستانی وزیر منصوبہ بندی کی سی پیک کے ساتھ گہری وابستگی اور اسے آگے بڑھانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے پر تحسین پیش کی گئی۔

    وائس چیئرمین این ڈی آر سی چین نے کہا کہ احسن اقبال نے اب تک منعقد ہونے والے 13 میں سے 10 جے سی سی اجلاسوں کی صدارت کی جو بجائے خود بہت اعزاز کی بات ہے۔

    وائس چیئرمین این ڈی آر سی، لی چنلن نے مزید کہا کہ چین پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں بھرپور تعاون کے لئے پر عزم ہے۔ مشترکہ تعاون کمیٹی کے اجلاس کے آغاز سے قبل بشام دہشت گرد حملے کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

    مشترکہ تعاون کمیٹی کے شرکا کو سی پیک کی پیشرفت پر مبنی دستاویزی فلم دکھائی گئی۔ دستاویزی فلم کے زریعے سی پیک کے دس سال مکمل ہونے کا جشن منایا گیا۔

    مشترکہ تعاون کمیٹی سی پیک کی فیصلہ سازی کا ایک اعلیٰ ادارہ ہے۔ مشترکہ تعاون کمیٹی کا اجلاس ہر سال اہم فیصلے کرنے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔

    اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان سی پیک کےدوسرے مرحلے کو اپ گریڈ کرنے کے لیے چین کے وژن کو سراہتا ہے۔ ’ہم دوسرے مرحلے کے منصوبے کو حتمی شکل دینے کے لیے چین کے قومی ترقیاتی اصلاحاتی کمیشن کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ دونوں ملکوں کے مشترکہ خوابوں کا سفر ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ میں چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ ریفارم کمیشن، تمام چینی وزارتوں اور مالیاتی اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ آج اس فورم پر جمع ہوئے۔ اس سٹریٹجک قدم کے تحت ہم سی پیک کے چیلنجز کو مل کر حل کریں گے۔ جن منصوبوں کا ہم نے کبھی خواب دیکھا تھا وہ اب عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ سی پیک اس خطے میں چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔ پچھلے 10 سالوں کے سفر نے ہمیں مسلسل کوششوں کی اہمیت اور خدشات کو فعال طور پر حل کرنے کی صلاحیت سکھائی۔

    اجلاس میں 10 ورکنگ گروپس کی جانب سے بریفننگ دی گئی اور اب تک مکمل کیے جانے والے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

    یہ ورکنگ گروپس توانائی ، ٹرانسپورٹ ، گوادر، صنعتی تعاون، سماجی و اقتصادی ترقی میں تعاون، سکیورٹی، بین الاقوامی تعاون ، زراعت کے شعبے میں تعاون، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم انوار الحق کی طرف سے خصوصی ویڈیو پیغامات دکھائے گئے۔

    نیشنل ڈیولپمنٹ ریفارم کمیشن چین کے وائس چیئرمین نے کہا کہ سب سے پہلے، فیز 2 کے منصوبے شروع کرنے پر دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے ہے۔ دوم، فیز 2 پراجیکٹس کو نافذ کرنے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور کمپنیوں کے درمیان موثر رابطہ ہے۔

    تیسرا، دونوں ممالک نے نئے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے اور متعلقہ منصوبوں کی شمولیت کو بڑھانے کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ چوتھا، پاکستان چینی کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری، وفاقی وزیر برائے سمندری امور قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر برائے انڈسٹریز رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر بورڈ آف انوسٹمنٹ علیم خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی، سیکریٹری پلاننگ اویس منظور سمرا سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

  18. پاکستان کے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری: سٹیٹ بینک, تنویر ملک، صحافی

    STATE BANK OF PAKISTAN

    ،تصویر کا ذریعہSTATE BANK OF PAKISTAN

    پاکستان میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں آٹھ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک کی جانب سے اس کا اعلان جمعے کے روز کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا شکریہ ادا کیا گیا ہے، جو اس کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کا اس پر اعتماد کا مظہر ہے۔

    روشن ڈجیٹل اکاؤنٹ، پاکستان میں کام کرنے والے کمرشل بینکوں کے اشتراک سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ایک اہم اقدام ہے۔

    یہ اکاؤنٹس لاکھوں غیر مقیم پاکستانیوں (این آر پیز) کو، جن میں پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) کے حامل غیر مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، بینکاری کے جدید اختراعی طریقے فراہم کرتے ہیں، جو پاکستان میں بینکاری، ادائیگی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیاں انجام دینا چاہتے ہیں۔

  19. خیبرپختونخوا کا آئندہ مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیش، مگر پیسے کہاں سے آئیں گے؟, عزیزاللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہSceengrab

    خیبر پختونخوا حکومت نے آج ایک نئی روایت قائم کرتے ہوئے وفاق اور باقی تین صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کر دیا ہے۔

    یہ بجٹ مالی سال 2024-25 کا ایک سو ارب روپے کا سر پلس بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے بجٹ کا کل حجم 1754 ارب روپے ہے، جس میں خیبر پختونخوا کے کل اخراجات 1654 ارب روپے ہوں گے۔

    یہ بجٹ صوبائی وزیر آفتاب عالم نے آج صوبائی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ صوبائی اسمبلی کا اجلاس سپیکر بابر سلیم کی صدارت میں منعقد ہوا۔

    صوبائی حکومت نے بجٹ تقریر میں وفاق سے ایک ہزار 212 ارب روپے سے زائد رقم ملنے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اصافے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار آگے چل کر بیان کریں گے لیکن پہلے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر خیبر پختونخوا حکومت کو اتنی جلدی کیوں تھی کہ وفاق اور دیگر صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کر دیا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ صوبوں کو وفاق سے لگ بھگ 70 سے 80 فیصد تک محاصل حاصل ہوتے ہیں اور ان کی بنیاد پر بجٹ ترتیب دیا جاتا ہے۔

    اتنی جلدی کیوں؟

    اگرچے وفاق اور دیگر صوبوں سے پہلے بجٹ پیش کرنے میں کوئی آئینی یا قانونی الجھن نہیں ہے یعنی کوئی بھی صوبہ سالانہ بجٹ وفاقی حکومت سے پہلے پیش کر سکتا ہے۔ اس بارے میں ماہرین کی متضاد رائے سامنے آئی ہیں۔

    ڈان نیوز کے بیوروچیف علی اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنیادی طور پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس بارے میں عدالت نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو معطل کیا ہوا، جس میں پاکستان تحریک انصاف یا سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو دینے کے بارے تھا۔

    اس کیس کی اب سماعت 3 جون کو متوقع ہے۔

    علی اکبر کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ صوبائی حکومت تین جون سے پہلے پہلے بجٹ منظور کرانا چاہتی ہے کیونکہ اگر عدالت کا فیصلہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے خلاف آتا ہے تو ایسی صورت میں حزب اختلاف کو یہ نشستیں مل سکتی ہیں اور اگر پی ٹی آئی کے کچھ ناراض ارکان بھی اپوزیشن کے ساتھ مل جاتے ہیں تو حکومت کے لیے بجٹ منظور کرانا مشکل ہو سکتا ہے۔

    علی اکبر کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق صوبائی حکومت کی کوشش ہو گی کہ 3 جون سے پہلے پہلے بجٹ اسمبلی سے منظور کر ا لیا جائے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کے خلاف آتا ہے تو خیبر پختونخوا میں اپوزیشن کی نشستیں 17 سے بڑھ کے 51 تک ہو سکتی ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے آج کابینہ کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ اس لیے انھوں نے پہلے پیش کر دیا ہے کیونکہ ان کی تیاری مکمل ہے۔

    الیکشن کمیشن نے جب سنی اتحاد کونسل کی خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں دیگر سیاسی جماعتوں کو دینے کا اعلان کیا تھا تو صوبائی حکومت نے اس کے بعد سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب نہیں کیا تھا، یہاں تک کہ مخصوص نشستوں پر جن کی نوٹیفیکیشن ہوئے تھے وہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں حلف نہیں لے سکے تھے۔

    اس وقت خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جبکہ مرکز اور دیگر تین صوبوں میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومتیں قائم ہیں۔

    خیبر پختونخوا اور مرکز کے درمیان سیاسی اختلاف بھی ان دنوں عروج پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل یا ایس آئی ایف سی کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس 25 مئی کو طلب کر لیا ہے لیکن اس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو مدعو نہیں کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں کیا ہے؟

    خیبر پختونخوا حکومت کے بجٹ کا زیادہ انحصار وفاق سے ملنے والے محاصل پر ہوگا، جس کا حجم 1212 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ اس میں وفاقی کے قابل تقسیم محاصل سے 902 ارب 50 کروڑ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ دہشتگرد کے خلاف جنگ کے ایک فیصد کی مد میں 108 ارب 44 کروڑ ملنے کا امکان ہے۔

    خیبر پختونخوا کو پن بجلی خالص منافع کی مد میں 33 ارب نو کروڑ ملیں گے اور اسی طرح پن بجلی بقایاجات کی مد میں 78 ارب 21 کروڑ ملیں گے۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور بارہا یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ وفاق کے ذمے صوبے کے 1510 ارب روپے ہیں جو صوبے کو ملنے ہیں اور یہ وہ رقم ہے جس پر رضا مندی ظاہر کی گئی ہے۔

    آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت 93 ارب 50 کروڑ روپے اپنے وسائل سے اکھٹے کرے گی۔ اس میں ٹیکسیشن کی مد میں صوبائی حکومت کا 63 ارب 18 کروڑ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    ضم اضلاع یا وہ قبائلی علاقے جو سنہ 2018 میں خیبر پختونخوا میں ضم کر دیے گئے تھے کے لیے 259 ارب 91 کروڑ ملنے کی توقع ہے۔

    وفاق سے ضم اضلاع کے لیے 72 ارب 60 کروڑ ملیں گے جبکہ اضافی گرانٹ کی مد میں وفاق سے 55 ارب ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ ضم اضلاع کے لیے 76 ارب کا ترقیاتی فنڈ وفاق سے ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اور اسی طرح بے گھر افراد کی مد میں 17 ارب وفاق سے ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

    صوبائی حکومت کے اخراجات کا بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں رکھا گیا ہے اور بجٹ تجاویز کے مطابق صوبائی حکومت آئندہ برس تنخواہوں، پینشن اور گرانٹ کی مد میں ایک ہزار 237 ارب سے زائد خرچ کرے گی اس میں صوبائی ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں 246 ارب، تحصیل ملازمین کی تنخواہوں میں 263 ارب خرچ ہوں گے۔

    صوبائی حکومت پینشن کی مد میں 162 ارب 40 کروڑ سے زائد خرچ کرے گی۔ جاری اخراجات کی مد میں 264 ارب 70 کروڑ خرچ کیے جائیں گے۔

    صوبائی حکومت نے صحت انصاف کارڈ کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے 34 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

    صحت سہولت کارڈ میں 28 ارب بندوبستی اضلاع، چھ ارب قبائلی اضلاع کے لیے ہوں گے۔ ۔پشاور میں بی آر ٹی سرور کے لیے سبسڈی میں کم لائی گئی ہے جس سے توقع ہے کہ بی آر ٹی کے کرائے بڑھائے جائیں گے۔

  20. احمد فرہاد گمشدگی کیس: آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سیکٹر کمانڈرز اور آئی بی کے ڈائریکٹر بھی طلب، عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہو گی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    IHC

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے مغوی شاعر احمد فرہاد کے گمشدگی کے مقدمے میں آئی ایس آئی اور ایم ائی کے سیکٹر کمانڈرز جبکہ آئی بی کے ڈائریکٹرکو 29 مئی کی سماعت پر طلب کر لیا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا جس میں یہ درج ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان تاحال مغوی کو برآمد نہ کرسکے۔ تاہم، اٹارنی جنرل ایم آئی آئی ایس آئی اور سی ٹی سی سے رابطہ میں ہیں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل حکومت سے بات چیت کے ذریعے مغوی برآمد کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کررہے ہیں۔

    عدالت نے لاپتہ افراد کیس کو آئندہ سے لائیو نشر کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی حکمنامے کے مطابق لاپتہ افراد سے متعلق عدالتی کارروائی لائیو نشر کرنے سے عوام کو اہم قانونی معاملات اور نکات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

    اس سماعت پر وفاقی وزیر قانون اور سیکریٹری دفاع کو بھی طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں یہ کہا ہے کہ ان انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کام سے متعلق معاونت کے لیے انھیں طلب کیا گیا ہے۔ فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اگر احمد فرہاد سماعت سے قبل کسی وقت بازیاب ہو جائیں تو پھر رجسٹرار کے ذریعے عدالت کو اس متعلق آگاہ کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس محسن اختر کیانی نے پیمرا کے پابندی کے نوٹیفکیشن کے باوجود الیکٹرانک میڈیا کو احمد فرہاد بازیابی کیس کی رپورٹنگ کی اجازت دے دی۔

    حکمنامے میں لکھا ہے کہ صحافی حامد میر نے پیمرا کے الیکٹرانک میڈیا پر پابندی کے نوٹیفکیشن سے متعلق بتایا۔ اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ عدالت جس کیس میں مناسب سمجھے رپورٹنگ کا حکم دے سکتی ہے۔

    عدالت نے قرار دیا ہے کہ یہ مقدمہ اہم نوعیت کا ہے، پاکستانی عوام میں کافی تشویش ہے اس لیے عدالت رپورٹنگ کی اجازت دیتی ہے۔

    تحریری حکمنامے کے مطابق ایس ایس پی اور ایس ایچ او نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کا بیان قلمبند نہیں کیا گیا۔ عدالت تفتیشی افسر کو پابند کرتی ہے کہ سیکٹر کمانڈر کا 161 ضابطہ فوجداری کے تحت بیان قلمبند کرے۔

    تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تفتیشی افسر اپنی تحقیقات اور تفتیش عمل میں لائے۔