آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

شاہ محمود قریشی اڈیالہ جیل میں دوبارہ گرفتار، تحریک انصاف کی مذمت

لاہور پولیس نے اتوار کو اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو نو مئی کے مزید آٹھ مقدمات میں گرفتاری ڈال دی ہے۔ اب پولیس جیل میں ہی ان سے تفتیش کرے گی۔ ترجمان تحریک انصاف نے کہا کہ یہ گرفتاری بلا جواز ہے کیونکہ جن مقدمات میں گرفتاری ڈالی گئی ان تمام مقدمات میں عدالت نے انھیں ضمانت دے رکھی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے مجاہد کالونی میں مبینہ توہینِ مذہب کے الزام پر ہونے والے پُرتشدد احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا ہے جبکہ مشتعل ہجوم کو منتشر کر کے وقوعہ میں ملوث ملزم کو حراست میں لے لیا ہے
  • حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی ’شفاف تحقیقات کر کے ملوث افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی‘
  • اسلام آباد کے ڈی چوک پر مظاہرین کو گاڑی سے کچلنے والے ملزم ’ملٹری پولیس کی تحویل میں ہیں‘
  • قائم قام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے ملتان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی اور دیگر شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے
  • چینی و غیر ملکی شہریوں کی فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے داسو، چلاس میں سیف سٹی پراجیکٹ لگانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس جاری، وزیرخزانہ آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کر رہے ہیں

    خیبرپختونخوا اسمبلی کا بجٹ اجلاس جاری ہے، جس کے دوران صوبائی وزیر خزانہ آفتاب عالم سال 25-2024 کا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔

    اجلاس کی صدارت سپیکر بابر سلیم سواتی کر رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ 8 فروری کے انتخابات میں عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو واضح مینڈیٹ دیا۔

    خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل کی حکومت ہے۔ یہ پاکستان میں پہلی اسمبلی ہے جو وفاقی حکومت کے بجٹ سے قبل ہی سالانہ بجٹ پیش کر رہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بے مثال ترقیاتی کام کیے ہیں۔ ان کے مطابق ترقیاتی منصوبوں میں سے اہم صحت انصاف کارڈ کا اجرا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عوام کو صحت کی یکساں سہولیات مفت فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا، پی ٹی آئی نے سکولوں، کالجز اور جامعات کی تعداد میں اضافہ کیا۔

    آفتاب عالم نے کہا کہ تعلیمی معیار کی بلندی کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کرائے، تعلیمی اصلاحات سے طلبہ کے لیے حصول تعلیم کے زیادہ سے زیادہ موقع پیدا ہوئے۔

    وزیرخزانہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے منصوبوں نے معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کردیا، عوام کو سستی اور معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کا اولین فرض ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات سے غریب طبقہ زیادہ مستفید ہوا، ضم اضلاع کے اخراجات کے لیے اب تک صرف 123 ارب روپے ملے، ضم اضلاع کے لیے 147 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ضم اضلاع کا سالانہ حصہ 262 ارب روپے بنتا ہے۔ آفتاب عالم کے مطابق صوبے کو ہرسال واجب الادا رقم اپنے حصے کے مقابلے میں کم ملتی ہے۔

    احساس جوان، احساس روزگار اور احساس اپنا گھر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق احساس روزگار پروگرام کے تحت ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار دیا جائے گا جبکہ احساس اپنا گھر کے تحت تین ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا جس کے تحت پانچ ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے۔

    احساس جوان اور احساس روزگار کے لیے 12 ارب رکھے گئے ہیں۔

  2. جیل سے بیان دینے اور برطانوی اخبار کو مضمون بھیجنے پر پنجاب کابینہ کی عمران خان کے خلاف کارروائی کی منظوری

    اڈیالہ جیل سے بیان دینے پر پنجاب حکومت نے عمران خان کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اب عمران خان کے خلاف صوبائی حکومت کی طرف سے ’کپمپلینٹ فائل‘ کی جائے گی۔

    صوبائی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس سے خـطاب کرتے ہوئے کہا صوبائی کابینہ اس کارروائی کی منظوری دی ہے کیونکہ یہ پاکستان اور اس کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ صوبائی وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی بنائی تھی، جس کی رپورٹ کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ ان کے مطابق اس محکمے کے راولپنڈی کے ایک دفتر میں تیار کی گئی اس رپورٹ میں یہ درج ہے کہ 11 بارعمران خان نے اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب یہ محکمہ داخلہ اور متعلقہ لوگ دیکھ کر اس حوالے سے پیٹیشن کے متن کا جائزہ لیں گے کہ یہ کس قسم کی آئینی درخواست ہو۔‘

    انھوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل سے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے۔ ’بار بار وہاں سے اشتعال انگیزی ہو رہی ہے، بار بار وہاں سے اداروں کے خلاف بغاوت کی کوشش ہو رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے برطانوی اخبار کو ایک زہریلا مضمون بھیجا، جس میں کہا کہ انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔

    تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ ’عمران خان نے سب آئین اور قانون کے تحت کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ ہمیں بھی پتا چلا ہے کہ آج پنجاب کی کابینہ میں ایجنڈا نمبر 11 پر عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق تھا۔ بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ یہ جو مرضی کر لیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں ایک ٹک ٹاکر وزیراعلیٰ ہیں جو ہر ادارے کی وردی پہن لیتی ہیں۔

  3. سی ڈی اے نے بغیر نوٹس دیے، پارٹی سیکرٹیریٹ پر دھاوا بولا: تحریک انصاف کے رہنماؤں کی پریس کانفرنس

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’سی ڈی اے نے ہم پر حملہ کیا ہے، اسے ہم حملہ سمجھتے ہیں کیونکہ ہمیں نوٹس تک نہیں دیا گیا۔‘

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’یہ بلڈنگ پر قبضہ کا کیس نہیں ہے، سی ڈی اے نے کہا کہ یہ تجاوزات کا کیس ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم عدالت کے سامنے یہ سب حقائق رکھیں گے۔‘

  4. گھوٹکی کے صحافی نصر اللہ کا قتل، صحافیوں کا سندھ اسمبلی میں احتجاج, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    گھوٹکی کے صحافی نصر اللہ کے قتل کے خلاف سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن نے سندھ اسمبلی میں احتجاج کیا ہے۔

    صحافیوں نے سندھ اسمبلی اجلاس سے علامتی واک آؤٹ بھی کیا۔ اس احتجاج کے دوران صحافیوں نے سندھ حکومت سے صحافی جان محمد کے قاتل بھی گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

    صدر پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن سندھ کامران رضی نے کہا کہ ’سندھ میں صحافیوں کے قتل واقعات بڑھ رہے ہیں سندھ حکومت نوٹس لے۔‘

    وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن سندھ پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کو یہ یقین دہانی کرائی کہ پولیس صحافی نصر اللہ قاتلوں کی گرفتاری کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

    وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ ’صحافی نصر اللہ کیس میں تین افراد کو حراست میں لیا ہے، ایک ہفتے کے اندر قاتلوں تک پہنچ جائیں گے۔‘

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ ’ہم نے صحافی نصر اللہ کے علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’متقول صحافی کے اہلخانہ کی مالی مدد کی جائے گی۔‘ وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحافیوں کی سکیورٹی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔

  5. عدالت نے پیمرا کو میڈیا کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا، پیمرا اور سیکریٹری اطلاعات کو نوٹس جاری, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر پابندی کے خلاف صحافی تنظیموں کی درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی۔ عدالت نے پمرا کو چینلز کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیمرا اور سیکریٹری اطلاعات کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کیا گیا۔ عدالت نے پیمرا نوٹیفیکیشن معطلی کی متفرق درخواست پر بھی نوٹس جاری کیا۔ پیمرا نوٹیفیکیشن کے خلاف درخواست پر سماعت 28 مئی کو دوبارہ ہو گی۔

    عدالتی کارروائی کے بعد صحافی حامد میر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے آزادی اظہار پر پابندی کے خلاف قانونی رستہ اختیار کیا ہے۔

    صحافی فیاض محمود نے کہا کہ جب 21 مئی کا پیمرا کا غیر آئینی نوٹیفکیشن سامنے آیا تو ہم نے اجلاس بلایا اور پیمرا سے مطالبہ کیا کہ اس عدالتی رپورٹنگ پر پاپبندی کے نوٹیفکیشن کو واپس لیا جائے۔ ان کے مطابق جب یہ نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا گیا تو پھر ہم نے آئینی درخواست کے ذریعے اس کا رستہ روکا کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار رائے کی آزادی یقینی بات کرتے ہیں۔

    فیاض محمود کے مطابق پیمرا نے صحافیوں کو صرف تحریری فیصلے کو رپورٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے مگر دوسری طرف لائیو سٹریمنگ بھی کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن واپس لیا جائے اور انفارمیشن کے حصول کو آسان بنائیں، اس سے شفافیت آئے گی اور چیزیں بہتری کی طرف جائیں گی۔

  6. ’ہم نے کسی حکومت کی، نہ کسی ایجنسی کی نہ ہی کسی اور ادارے کی بی ٹیم بننا ہے‘: چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے جمعے کو وکلا کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم نے کسی حکومت کی، نہ کسی ایجنسی کی نہ ہی کسی ادارے کی بی ٹیم بننا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’جج کسی پریشر میں نہ آئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’عرش والے خدا کا خوف رکھیں گے، فرشی خداؤں سے نہیں ڈریں گے۔‘ چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم نے اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہے، آخرت میں کوئی ساتھ نہیں کھڑا ہو گا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’آزاد عدلیہ اس ملک کے لوگوں کا ایک خواب تھا۔‘

    چیف جسٹس نے وکلا سے کہا کہ ’بار اور بینچ کی لڑائی سے عدلیہ کا ادارہ کمزور ہوتا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’وکلا کی ایک بڑی تعداد اچھے انسانوں پر مشتمل ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہڑتال کلچر ختم کرنے میں جنھوں نے مدد کی میں ان کا مشکور ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’مقدمات میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ ہڑتالیں ہیں۔‘

  7. احمد فرہاد گمشدگی کیس: سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر فہیم رضا ذاتی حیثیت میں طلب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی درخواست پر سماعت میں ایس پی آپریشنز کوسیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر فہیم رضا کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیکٹر کمانڈر اگلی سماعت میں ذاتی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوں۔

    دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ ’ہماری کورٹ میں آئندہ مسنگ پرسنز کی سماعت براہ راست نشر ہو گی۔ میں آرڈر کررہا ہوں آئندہ اس کیس کی لائیو کوریج ہوگی۔‘

    دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ جج نے قانون دیکھ کر فیصلہ کرنا ہے۔ بندہ بازیاب کر لینا معاملہ کا حل نہیں ہے۔ اگلی تاریخ میں بتائیں کون سے قانون کے ذریعے ایجنسی ریگولیٹ ہوتی ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’مسنگ پرسن کے کیس میں سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو کروڑ کروڑ روپے جرمانہ کیا تھا۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی عدالت نے دہشت گرد کو ضمانت دی ہو۔

    جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ ’مسنگ پرسنز کے کیسز اب لارجر بینچ میں بھجوانے کا کہوں گا۔‘

    ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو پولیس کی معاونت کر رہی ہے، پولیس آئی بی سے ہی معاونت لیتی ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ اگر پولیس کو پتہ لگ جائے کہ بندہ کسی اور ایجنسی کی تحویل میں ہے تو پھر کیا میکنزم ہے؟ جس پر آئی جی پولیس نے بتایا کہ سیکرٹری داخلہ کے ذریعے سیکرٹری دفاع سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ پولیس سیکریٹری داخلہ کے ذریعے سیکریٹری دفاع کو شواہد دیتی ہے۔ پولیس پھر اس کیس کو جبری گمشدگی کا کیس قرار دے دیتی ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آپ کی بات مجھے بڑی عجیب لگی کہ جب پتا چل جاتا ہے تو اسے جبری گمشدگی قرار دے دیتے ہیں۔

    عدالت نے ایس پی آپریشنز کوسیکٹر کمانڈر بریگیڈئیرفہیم رضا کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ سیکٹر کمانڈر بریگیڈئیر فہیم رضا اگلی سماعت میں ذاتی حیثیت سے عدالت میں پیش ہوں۔

    جسٹس محسن اختر کیان نے کہا کہ ’میرا یہ ماننا ہے سکیٹر کمانڈر ایک ایس ایچ او کے برابر ہے۔‘

    عدالت نے احمد فرہاد کی مبینہ جبری گمشدگی سے متعلق درخواست پر مزید سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی۔

  8. پاکستان سٹاک ایکسچینج انڈیکس پہلی بار 76 ہزار پوائنٹس عبور کر گیا، اس تیزی کی وجہ کیا ہے ؟, تنویر ملک ، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج انڈیکس پہلی بار 76 ہزار پوائنٹس عبور کر گیا ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعے کے روز تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے اور سرمایہ کاروں کی جانب سے خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔

    جمعے کے روز کاروبار کے آغاز سے ہی مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی اور انڈیکس میں پہلے دس منٹ میں پانچ سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں مسلسل اضافہ جاری رہا۔

    مارکیٹ میں کاروباری روز کے پہلے سیشن کے اختتام پر انڈیکس میں 956 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 76070 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جو سٹاک مارکیٹ میں میں انڈیکس کی بلند ترین سطح ہے۔

    جمعے کے روز تیزی کے بعد انڈیکس اس وقت بلند ترین سطح پر موجود ہے جس میں ساڑھے نو سو پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے۔

    سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ پر تبصرہ کرتے ہوئے معاشی امور کے ماہر محمد سہیل نے بتایا کہ جمعے کے روز تیزی کی دو بڑی وجوہات رہیں۔ انھوں نے کہا تیزی کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ نئے قرضہ پروگرام پر ہونی والی پیش رفت ہے۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے سٹاف لیول معاہدے کے لیے پاکستان نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے آٹھ ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

    محمد سہیل نے کہا آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے نے مارکیٹ میں مثبت رجحان کو فروغ دیا ۔ انھوں نے کہا گزشتہ رات متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان اور پاکستان کی جانب سے ریکو ڈیک منصوبے میں اپنے حصص کو سعودی عرب کو بیچنے کے اعلان نے بھی مارکیٹ میں کاروبار کو فروغ دیا۔

    جمعے کے روز سٹاک مارکیٹ میں تیزی کی وجہ سے جن شعبوں میں زیادہ خریداری دیکھی گئی ان میں کمرشل بینکوں میں ہونے والی سرمایہ کاری سب سے زیادہ رہی اور صرف اس شعبے نے انڈیکس میں 371 پوائنٹس کا اضافہ کیا ۔ فرٹیلائزرز ، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں ، تیل و گیس کے شعبوں کی کمپنیوں ، سیمنٹ اور گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں زیادہ خریداری کا رجحان ریکارڈ کیا گیا۔

  9. پاکستان سے سٹاف لیول معاہدے پر پیش رفت ہوئی، مذاکرات جاری رہیں گے: آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے سٹاف لیول معاہدے کی جانب پیش رفت ہوئی ہے تاہم حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق پاکستانی حکام کی درخواست پر نیتھ پورٹر کی قیادت میں 13 سے 23 مئی تک اسلام آباد کا دورہ کیا گیا جس کے دوران اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ مقامی معاشی ترقی کے پروگرام میں کیسے مدد کی جا سکتی ہے۔

    اس دورے کے اختتام پر نیتھن پورٹر نے کہا ہے کہ 2023 میں کامیابی سے مکمل ہونے والے پروگرام کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنے کے بعد ایک جامع معاشی پالیسی اور اصلاحاتی ایجنڈا پر معاہدہ کی جانب پیش رفت ہوئی ہے جس کی ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی کے تحت مدد کی جا سکتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکام کا اصلاحاتی پروگرام ملک کو استحکام سے مضبوط ترقی کی جانب لے جانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے منصفانہ ٹیکس نظام، معاشرتی تحفظ اور ترقیاتی منصوبوں پر سرمایہ کاری کرتے ہوئے مقامی طور پر ریوینیو کا نظام بہتر بنا کر کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کی نجکاری اوراصلاحات، توانائی سیکٹر کو محفوظ بنانا اور بجلی سمیت دیگر توانائی کے ذرائع کی قیمتوں میں کمی لانا شامل ہے تاکہ مناسب ایکسچینج ریٹ اور افراط زر کی شرح برقرار رکھتے ہوئے نجی سیکٹر کی مدد سے سرمایہ کاری اور گورننس کا نظام بہتر بنایا جائے۔

    آئی ایم ایف کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا تاکہ انھیں حتمی شکل دی جا سکے جس میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے پارٹنر اداروں اور ممالک سے درکار معاشی مدد پر بھی بات ہو گی۔

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی حکام، نجی سیکٹر اور ترقیاتی شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا گیا۔

  10. بریکنگ, احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت: اب ایجنسیز کہیں چھپ کر نہیں بیٹھیں گی، جسٹس محسن اختر کیانی, شہزاد ملک/ بی بی سی اردو، اسلام آباد

    مغوی شاعر احمد فرہاد کی بازیابی کی درخواست پر سماعت میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے ہیں کہ اب ایجنسیز کہیں چھپ کر نہیں بیٹھیں گی، ایجنسیز کا بھی ایک سٹرکچر ہو گا۔

    کیس کی سماعت کے آغاز میں اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور استدعا کی کہ انھیں سی ڈی آر سے ٹریس کیا جا رہا ہے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ’آپ کہہ رہے ہیں کہ ریاست ناکام ہو گئی ہے۔‘ جس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ ابھی ریاست ناکام نہیں ہوئی۔

    یاد رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی کی خبر گزشتہ جمعے کو منظر عام پر آئی تھی اور اس حوالے سے ان کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ 17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔

    واضح رہے کہ احمد فرہاد کی گمشدگی کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ لوئی بھیر میں درج کیا گیا تھا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ریکور کرنا سٹیٹ کی مجبوری ہے ورنہ ریاست کی ناکامی ہے، ریاست کی ناکامی محض الفاظ ہیں، اس کے نتائج ہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکرٹری دفاع کو پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ ’سیکریٹری دفاع پیش ہو کر ورکنگ سمجھائیں۔‘

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت دی کہ لاپتہ افراد کیس میں اب سیکٹر کمانڈر کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا، اور پولیس افسر ان کا بیان لے کر ضمنی لکھے گا۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ’اب ایجنسیز کہیں چھپ کر نہیں بیٹھیں گی، یہ پولیس والے یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ کیونکہ یہ جوابدہ ہیں۔ کنگ کی شفافیت بہت ضروری ہے، امن و امان کی صورتحال خراب بھی ہوتی ہے۔ پولیس والے ماریں کھاتے ہیں، وردی بھی پھٹواتے ہیں۔اگر ادارے جوابدہ نا ہوں اور آپ انھیں جوابدہ بھی نا کر سکیں تو کیا ہو گا؟

    محسن اختر کیانی نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ ایجنسیز کا بھی ایک سٹرکچر ہو گا، کوئی کسی کو جوابدہ ہو گا۔ ہمیں سارے سوال سمجھنے اور اس ججمنٹ میں دینے ہیں، اب اس آدمی کا ریکور ہونا رہ گیا ہے، ہم کچھ چیزیں طے کریں گے۔‘

    احمد فرہاد کی اہلیہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک ہفتہ قبل بجلی اور اّٹے کی قیمتوں کے معاملے پر ان کے شوہر نے ذمہ داران کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ان کے مطابق اس کے بعد 17 مئی کو ان کے شوہر کسی کام کے سلسلے میں باہر گئے ہوئے تھے اور جب وہ گھر لوٹے اور گھنٹی بجائی تو اتنے میں کچھ نامعلوم افراد وہاں پہنچ گئے اور احمد فرہاد کو زبردستی اٹھا کر لے گئے۔

  11. گھوٹکی کے صحافی نصراللہ گڈانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں فوت ہوگئے, ریاض سہیل، بی بی سی اردوڈاٹ کام، کراچی

    سندھ کے ضلع گھوٹکی کے صحافی نصراللہ گڈانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جمعے کی صبح کراچی کے ایک نجی ہسپتال میں فوت ہوگئے ہیں۔

    ان پر تین روز قبل میرپور ماتھیلو شہر میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کی تھی جس پر انھیں ابتدائی طور پر ماتھیلو سے رحیم یار خان ہسپتال منتقل کیا گیا اور دوسرے روز سندھ کے صحافیوں کے مطالبے پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر انھیں ایئر ایمبولینس کے ذریعے کراچی لایا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

    نصراللہ گڈانی پرہونے والا یہ دوسرا حملہ تھا اس سے قبل بھی ان پر تشدد کیا گیا تھا جبکہ ایک بار پولیس حکام کے حکم پر انھیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

    نصراللہ گڈانی مقامی سندھی اخبار کے رپورٹر تھے اس سے قبل وہ سوشل میڈیا پر مقبول ہوچکے تھے۔

    وہ اپنے فیس بک سے لائیو سے مقامی کرپشن اور بے قاعدگیوں پر آواز اٹھاتے اور مقامی سیاست دانواں پر بھی تنقید کرتے تھے۔

    اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی گھوٹکی کی قیادت میں پانچ رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے تاہم حملے کی وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں۔

    اس حوالے سے سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومت لواحقین کی ہر ممکن مدد کرے گی ۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور قرار دیا ہے کہ سندھ صحافیوں کے لیے خطرناک صوبہ بنتا جارہا ہے۔

  12. پی ٹی آئی کا سی ڈی اے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان

    اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سیکرٹریٹ کو سیل کردیا گیا جس پر پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سی ڈی اے کی کارروائی کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سی ڈی اے کی جانب سے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ رات کے اندھیرے میں ایسے حملے کیے جا رہے ہیں، مرکزی دفتر سیل کرنے اور گرانے کے خلاف آج عدالت جائیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ جمعے کے روز ہونے والی میٹنگ اسی مرکزی دفتر کی گری ہوئی دیوار کے ساتھ کروں گا۔

    ’آدھی رات کو کسی قانونی جواز کے بغیر ہمارے خلاف اٹھایا گیا اشتعال انگیز اقدام بانی چیئرمین عمران خان کیجانب سے پرامن احتجاج کی ملک گیر کال دینےکےاعلان کا ردّعمل اور ہمیں تشدد پر اُکسانے کی ایک قابلِ مذمت کوشش ہے۔‘

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے ڈائیلاگ کی بھی بات کی کچھ اور سوچ کر آگے بڑھ رہے ہیں، اب یہ نہیں ہوسکتا کہ بندوق ساتھ رکھ کر ڈائیلاگ کی بات کریں۔

    آپریشن کی اطلاع ملنے پر چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب موقع پر پہنچ گئے اور اس کی مذمت کرتے ہوئے آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اس معاملے پر مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے چیئرمین کے خلاف ایوان میں تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا۔

    عمر ایوب نے کہا کہ اگر بلڈنگ پر اعتراض تھا تو ہمارے پاس آتے، ہمیں تجاوزات کے حوالے سے بتایا جاتا، ہم ان کو الگ کرتے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے والے آتے، ہم ان کو اور وہ ہمیں دستاویزات دکھاتے تو احسن طریقے سے معاملے کو نمٹایا جاسکتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان چونکہ پاکستان میں آئین کی بات کر رہے ہیں اس لیے یہ سب ہوا۔

    واضح رہے کہ سی ڈی اے حکام نے اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں رات گئے سیکٹر جی ایٹ میں تـجاوزات کے خلاف کارروائی کی اور پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا۔

    سی ڈی اے کا موقف ہے کہ کارروائی تجاوزات کے قیام اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے جس میں بھاری مشینری نے حصہ لیا اور سینٹرل سیکریٹریٹ کے ارد گرد رکھے کنٹینرز، سیکیورٹی بیریئرز اور دیگر مبینہ تجاوزات کو گرا دیا۔

    سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیکٹر جی ایٹ میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں

  13. سی ڈی اے کا تجاوزات کے خلاف آپریشن، اسلام آباد میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ سیل

    اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے) نے بلڈنگ قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد سیکرٹریٹ کو سیل کردیا۔

    اسلام آباد میں سی ڈی اے حکام نے اسلام آباد پولیس کی نگرانی میں رات گئے سیکٹر جی ایٹ میں تـجاوزات کارروائی کی اور پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا۔

    سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ کارروائی تجاوزات کے قیام اور عمارت کے غیر متعلقہ استعمال پر کی گئی ہے جس میں بھاری مشینری نے حصہ لیا اور سینٹرل سیکریٹریٹ کے ارد گرد رکھے کنٹینرز، سیکیورٹی بیریئرز اور دیگر مبینہ تجاوزات کو مسمار کر دیا۔

    سی ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ عمارت سرتاج علی نامی شخص کے نام ہے جسے رہائشی عمارت سے سیاسی دفتر میں بدلا گیا جس پر متعلقہ مالک کو بارہا نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں تاہم قانون پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ سیکٹر جی ایٹ میں سیاسی جماعت کے ایک پلاٹ پر تجاوزات کو ختم کیا جا رہا ہے کیونکہ پلاٹ سے ملحقہ اراضی پر قبضہ کرکے تجاوزات قائم کی گئی ہیں۔

    سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ پلاٹ پر بلڈنگ قوانین کے خلاف ایک اضافی منزل بھی تعمیر کی گئی تھی جبکہ اس کے علاوہ بھی پلاٹ پر مالک کی طرف سے متعدد دیگر خلاف ورزیاں کی گئیں۔

    اعلامیے میں پلاٹ کے مالک کو متعدد بار نوٹسسز جاری کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا گیا کہ نوٹسز19نومبر2020، 22فروری 2021 اور 14جون 2022 کو جاری کیے گئے۔

    آپریشن کی اطلاع ملنے پر چیئرمین پی ٹی آئی گوہر خان اور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب موقع پر پہنچ گئے اور اسے کی مذمت کرتے ہوئے آپریشن کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سی ڈی اے کی جانب سے پی ٹی آئی سیکریٹریٹ کو کبھی کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے اس معاملے پر مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد اور سی ڈی اے چیئرمین کے خلاف ایوان میں تحریک استحقاق لانے کا اعلان کردیا۔

    عمر ایوب نے کہا کہ اگر بلڈنگ پر اعتراض تھا تو ہمارے پاس آتے، ہمیں تجاوزات کے حوالے سے بتایا جاتا، ہم ان کو الگ کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سی ڈی اے والے آتے، ہم ان کو اور وہ ہمیں دستاویزات دکھاتے تو احسن طریقے سے معاملے کو نمٹایا جاسکتا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ بانی چیئرمین عمران خان چونکہ پاکستان میں آئین کی بات کر رہے ہیں اس لیے یہ سب ہوا۔

  14. ’الحمدُللّہ ہم نے پنجاب میں روٹی کی قیمت آج مزید کم کر دی ہے‘: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

    پاکستان کے صوبے پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ پنجاب میں روٹی کی قیمت مزید کم کر دی گئی ہے۔

    اس حوالے سے ایکس پر نوٹیفکیشن شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’الحمدُللّہ ہم نے پنجاب میں روٹی کی قیمت آج مزید کم کر دی ہے۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے غلط فیصلوں نے روٹی کو غریب کی پہنچ سے باہر کر دیا تھا۔‘

  15. امید ہے ہتک عزت کے قانون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا: گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر نے کہ ہے کہ انھیں ’امید ہے ہتک عزت کے قانون کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔‘

    نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے گورنرپنجاب نے کہا کہ ’ہتک عزت بل کی وجہ سے طوفان برپا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر مسئلہ حل کرانے کی کوشش کریں گے۔

    سردار سلیم حیدر نے کہا کہ اس بل کی منظوری میں ’جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی، مشاورت سے لایا جاتا تو اچھا ہوتا۔‘ انھوں نے کہا کہ امکان ہے پنجاب میں حکومت کو ہتک عزت قانون پر دوبارہ نظرتانی کا کہوں۔

    صوبہ پنجاب اسمبلی نے حال ہی میں ہتک عزت کا ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکومت ایسے خصوصی ٹریبیونل بنا پائے گی جو چھ ماہ کے اندر اندر ایسے افراد کو سزا دیں گے جو ’فیک نیوز بنانے اور پھیلانے میں ملوث ہوں گے۔‘

    یہ سزا 30 لاکھ روپے تک ہرجانے کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ اور ہرجانے کی یہ سزا ٹریبیونل ٹرائل شروع ہونے سے قبل ہی ہتک عزت کی درخواست موصول ہونے پر عبوری حکم نامے میں سنا سکتا ہے۔

    ٹرائل کے بعد جرم ثابت ہونے کی صورت میں عبوری طور پر لی گئی ہرجانے کی رقم ہرجانے کی حتمی رقم میں شامل کر لی جائے گی۔

    ہرجانے اور قانونی کارروائی کے علاوہ یہ ٹریبیونل ایسے شخص کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ یا ایسا کوئی بھی پلیٹ فارم جس کو استعمال کرتے ہوئے مبینہ ہتکِ عزت کی گئی ہو، اس کو بند کرنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔

  16. متحدہ عرب امارات کے صدر کی پاکستان میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی

    متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان نے پاکستان میں دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آج اپنے ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات کے صدر سے ابوظہبی میں ملاقات کی ہے، جس میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات بشمول سیاسی، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون پر گفتگو ہوئی۔

    وزیرِ اعظم نے پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے ساتھ شراکت داری بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی، قابل تجدید توانائی اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔

    وزیرِ اعظم نے متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں توانائی، پورٹ آپریشنز، غذائی تحفظ، مواصلات، معدنیات، بینکنگ اور مالیاتی سروسز کے شعبے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  17. آرمی چیف عاصم منیر سرکاری دورے پر اس وقت جرمنی میں ہیں: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر اس وقت سرکاری دورے پر جرمنی میں ہیں، جہاں ان کی جرمنی کے آرمی چیف سمیت اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے جرمن آرمی کامبیٹ ٹریننگ سینٹر کا دورہ بھی کیا، جہاں انھیں سنٹر کے مختلف پہلوؤں اورافواج کو دی جانے والی تربیت کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف کی جرمن وفاقی چانسلر کے خارجہ پالیسی اور سلامتی کے مشیر سے بھی ملاقات کی ہے۔ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرمن قیادت نے دہشتگردی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن واستحکام کے لیے پاکستانی فوج کے کردار کا اعتراف کیا ہے۔

    آرمی چیف ہمبرگ میں جرمن آرمڈ فورسز کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ متعدد ممالک سے آئے طلبہ سے خطاب میں پاکستان کی خطے اور عالمی سیکیورٹی سے متعلق نکتہ نظر واضح کریں گے اور اقوام متحدہ کے امن دستوں میں بھی پاکستان کی کوششوں پر روشنی ڈالیں گے۔

  18. کشکول توڑ دیا ہے، متحدہ عرب امارات سے مشترکہ سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں: وزیراعظم شہباز شریف کا یو اے ای میں خطاب

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، معدنیات، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، برآمدات، صنعت اور دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں، ہم نے کشکول توڑ دیا ہے کیونکہ اقوام عالم قرض یا امداد سے نہیں بلکہ دن رات محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔

    جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے اپنے ایک روزہ دورے پر پاکستان اور یو اے ای کی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری پر رائونڈ ٹیبل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’اسی جذبہ کے ساتھ ہمیں خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے، پاکستان میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں باہمی تعاون چاہتے ہیں، ہمیں محنت اور لگن کے ساتھ کام کرتے ہوئے خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے، گذشتہ اڑھائی ماہ میں آئی ٹی کے شعبہ کیلئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔‘

    وزیراعظم نے کہا کہ یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید کی قیادت میں متحدہ عرب امارات ترقی کی منزلیں طے کر رہا ہے، متحدہ عرب امارات اس وقت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ جدید خطوط پر آئی ٹی انفراسٹرکچر کو استوار کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہمارے لئے یہ خوش آئند ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ہونہار آئی ٹی پروفیشنلز یہاں موجود ہیں جبکہ اسی طرح پاکستان سے بھی ہونہار پروفیشنلز یہاں موجود ہیں جو معیشت کے مختلف شعبوں کو ڈیجیٹائز کرنے میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی آبادی جس میں اکثریت نوجوانوں کی ہے اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت مواقع موجود ہیں، ہماری آبادی کی 60 فیصد اکثریت 15 سے 30 سال کے درمیان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ’میں نے اپنی حکومت کے اڑھائی ماہ کے دوران زیادہ تر وقت آئی ٹی کے شعبہ کے فروغ پر صرف کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اپنے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، برآمدات بڑھانے، صنعت اور دیگر شعبوں پر توجہ مرکوز کی، آئی ٹی پروفیشنلز معیشت کے تمام شعبوں میں ڈیجیٹائزیشن کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ پاکستان میں بھی ڈیجیٹائزیشن کا عمل مکمل ہو۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ مستقبل تیل و گیس پر انحصار کی بجائے نوجوانوں کی تربیت اور ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ جیسی نان آئل و گیس اکانومی پر مبنی ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ محمد بن زید کا یہ وژن ہے کہ نہ صرف خام مال کی امپورٹ ایکسپورٹ بلکہ خام مال کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کرکے اس کی برآمدات میں یو اے ای کا نمایاں کردار ہو اس پر ہم انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں، وہ پاکستان کے عظیم دوست اور معاون ہیں، وہ اپنے عظیم والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جو ایک وژنری لیڈر تھے۔

    ان کے مطابق شیخ محمد بن زید کی طرف سے معیشت میں لائی گئی جدت قابل رشک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رائونڈ ٹیبل سیشن میں شرکت میرے لئے اعزاز ہے، یہ نشست اس بات کی متقاضی ہے کہ آئی ٹی کے شعبہ میں کس طرح اہداف کو حاصل کرنا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنی معیشت کی ہیئت تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے بھائیوں کے تعاون سے پاکستان کی معیشت کی ہیئت کو مکمل طور پر بدل دیں گے، جوائنٹ وینچرز اور نالج شیئرنگ شراکت داری کی بنیاد پر ہم یہ کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کشکول توڑ دیا ہے کیونکہ اقوام عالم قرض یا امداد سے نہیں بلکہ دن رات محنت اور لگن سے ترقی کی منازل طے کرتی ہیں،اسی جذبہ کے ساتھ ہمیں خود انحصاری کی منزل کو حاصل کرنا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پروگرام کے تحت اعلیٰ سطح کی ووکیشنل ٹریننگ اور جدید ہنر سے آراستہ کرنا شامل ہے تاکہ ہماری نوجوان نسل یو اے ای، ابوظہبی اور دبئی میں آ کر قانونی تقاضے پورے کرکے اپنے دفاتر قائم کرے اور پاکستان سے نوجوان خدمات سرانجام دیں جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں، ایس ایم ایز کو سپورٹ ملے اور میں یہ خطرہ مول لینے کیلئے تیار ہوں، میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شعبہ میں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہوں کیونکہ خطرہ مول لئے بغیر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے تانیہ ادریس اور آصف پیر کی پاکستان کے عوام کیلئے خدمات حاصل کی ہیں۔

  19. بلوچستان ہائیکورٹ: عمران خان کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے سے متعلق درخواست خارج, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ قائم کرنے سے متعلق ایک آئینی درخواست کو دائرہ اختیار نہ ہونے کی وجہ سے خارج کر دیا ہے۔

    عمران خان کے خلاف یہ آئینی درخواست سپریم کورٹ بار کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے دائر کی تھی۔

    درخواست گزار نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے یہ قرار دیا ہے کہ عمران خان کا سابقہ قومی اسمبلی کو توڑنے کا اقدام غیر آئینی تھا۔

    درخواست گزار نے ہائیکورٹ میں دائر پٹیشن میں یہ استدعا کی تھی کہ عمران خان کے قومی اسمبلی کو توڑنے کے غیر آئینی اقدام پر ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا حکم صادر کیا جائے۔

    سیّد اقبال شاہ ایڈووکیٹ سمیت تحریک انصاف کے دیگر وکلا نے جواب دعویٰ میں ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔

    درخواست کی سماعت بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے کی۔

    اقبال شاہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائیکورٹ نے اسے دائرہ اختیار نہ ہونے کی بنیاد پر نمٹا دیا۔

  20. ’1971 کی طرح آج بھی فرد واحد فیصلے کر رہا ہے، آئی ایس آئی کو سیاست زدہ کرنے کا نقصان ملک کو ہوگا‘: سیکریٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب

    پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی کو اپنا پیشہ وارانہ کردار ادا کرتے رہنا چاہیے نہ کہ کسی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا۔ عمران خان سے ملاقات کے بعد راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمر ایوب نے کہا کہ آئی ایس آئی کو سیاست زدہ کرنے سے جہاں ادارہ کمزور ہوتا ہے وہیں اس کا نقصان پاکستان اور اس کے مفاد کو ہو گا۔

    عمر ایوب خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز نے واضح طور پر چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھا کہ آئی ایس آئی نے کس طرح ان کے گھر والوں تک کو زدو کوب کیا گیا۔

    عمر ایوب خان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل یحیٰ کے کردار کی وجہ سے 1971 میں پاکستان دو لخت ہوا اور شیخ مجیب الرحمان سے مذاکرات کا رستہ بند کیا گیا۔ ان کے مطابق فوج فرد واحد کے فیصلوں میں شامل نہیں تھی۔

    عمر ایوب نے کہا کہ ’آج بھی فیصلے فرد واحد کے ہو رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا فرد واحد کے فیصلے ادارے پر اثر انداز نہیں ہونے چاہیں۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان نے آج یہ میاں اسلم اقبال اور حماد اظہر کے لیے یہ پیغام بھیجا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور پارٹی کی قیادت کریں۔ عمر ایوب کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ اگر حماد اظہر اور میاں اسلم اقبال کو اغوا کیا یا ان سے زبردستی بیان لیا گیا تو ہم اس بیان کو نہیں مانیں گے اور وہ دونوں رہنما تحریک انصاف کا حصہ ہی سمجھے جائیں گے۔