تیراہ: بچی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج پر فائرنگ سے ہلاکتوں کی اطلاعات، وزیر اعلیٰ کی جانب سے اظہارِ افسوس

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مارٹر گولہ گِرنے سے ایک بچی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاحال سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ میں مارٹر گولہ گِرنے سے ایک بچی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے پر فائرنگ میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
  • رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کا دعویٰ ہے کہ وادی تیراہ میں اتوار کی صبح مقامی افراد کا تیراہ ہیڈکوارٹر کے مقام پر احتجاج جاری تھا جس پر فائرنگ سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ سرکاری سطح پر ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
  • خیبر پختونخوا حکومت نے تیراہ میں ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے لیے ایک، ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔
  • وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں پر مشتمل جرگہ پشاور طلب کیا ہے تاکہ ’مقامی جذبات و تحفظات کو سنا جا سکے‘

لائیو کوریج

  1. عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا اسرائیل سے عملے کے رکن کی فوری رہائی کا مطالبہ

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں ڈبلیو ایچ او کے عملے کے ایک رکن کو رہا کرے جسے پیر سے حراست میں رکھا گیا ہے۔

    گیبریسس نے ایکس پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’چار دن ہو گئے ہیں۔ ہمارا ساتھی ابھی بھی حراست میں ہے۔ ہم ایک بار پھر ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

    پیر کے روز ڈبلیو ایچ او نے اطلاع دی تھی کہ وسطی غزہ کے علاقے دیر البلاح میں اس کے عملے کی رہائش گاہ کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور اسے اس وقت نقصان پہنچا جب اس کے اہلکار اور ان کے اہل خانہ اندر موجود تھے۔

    اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عملے کے ارکان کو حراست میں لیا گیا، ان کے انڈر ویئر اتارے گئے، ہتھکڑیاں لگائی گئیں، آنکھوں پر پٹی باندھی گئی اور بندوق کی نوک پر پوچھ گچھ کی گئی۔

  2. کمبوڈیا کا تھائی لینڈ سے ’فوری‘ جنگ بندی کا مطالبہ

    تھائی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کمبوڈیا نے تھائی لینڈ کے ساتھ ’فوری‘ جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحد پار سے لڑائی جاری ہے۔

    اقوام متحدہ میں کمبوڈیا کے سفیر چیا کیو نے کہا کہ ان کا ملک ’غیر مشروط‘ اور پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔

    تھائی لینڈ نے جنگ بندی کی تجویز پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    اس سے قبل کمبوڈیا کی سرحد سے متصل آٹھ اضلاع میں مارشل لا کا اعلان کیا گیا تھا۔

    دونوں ممالک میں کم از کم 16 افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہو چکے ہیں، جنہوں نے جمعرات کو ایک دوسرے پر پہلی گولی چلانے کا الزام لگایا تھا۔

    تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیر اعظم فومتھم ویچایاچائی نے جمعے کے روز خبردار کیا تھا کہ یہ جھڑپیں ’جنگ کی طرف بڑھ سکتی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ لڑائی میں اب بھاری ہتھیار شامل ہیں اور سرحد کے ساتھ 12 مقامات تک پھیل چکے ہیں۔

    تھائی لینڈ نے کمبوڈیا پر شہری علاقوں میں فائرنگ کا الزام بھی عائد کیا اور ان تمام دیہاتوں کو خالی کرا لیا جو اس کے راکٹوں کے دائرے میں ہیں۔

    اسی بارے میں

    دوسری جانب کمبوڈیا نے تھائی لینڈ پر کلسٹر گولہ بارود استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    شہری آبادی پر اندھا دھند اثرات کی وجہ سے دنیا کے بیشتر حصوں میں کلسٹر گولہ بارود پر پابندی عائد ہے۔ تھائی لینڈ نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔

    دریں اثنا تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تنازعے میں تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی ضرورت نہیں ہے جبکہ عالمی رہنماؤں نے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

  3. غزہ میں تقریبا ایک تہائی لوگوں کوکئی دنوں سے کھانا نہیں ملا: اقوام متحدہ کے فوڈ پروگرام کا انتباہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے فوڈ ایڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں ہر تین میں سے ایک شخص کئی دن تک بغیر کھائے گزار رہا ہے۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ایک بیان میں کہا، ’غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے اور 90،000 خواتین اور بچوں کو فوری علاج کی ضرورت ہے۔‘

    رواں ہفتے غزہ میں بھوک کی وارننگ میں شدت آئی ہے۔ حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق جمعے کے روز غذائی قلت کی وجہ سے مزید نو افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک غذائی قلت کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 122 ہو گئی ہے۔

    اسرائیل، جو غزہ میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ علاقے میں امداد کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور وہ کسی بھی غذائی قلت کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہراتا ہے۔

    اسرائیل کے ایک سکیورٹی اہلکار نے جمعے کے روز کہا تھا کہ آنے والے دنوں میں غزہ میں فضا سے امداد گرانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس کے بارے میں امدادی ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ میں رسد پہنچانے کا ایک غیر مؤثر طریقہ ہے۔

    اگرچہ مقامی میڈیا نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات اور اردن تازہ ترین قطرے پلائیں گے لیکن اردن کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی فوج کو ابھی اسرائیل سے ایسا کرنے کی اجازت نہیں ملی ہے۔

    اقوام متحدہ نے اس اقدام کو اسرائیلی حکومت کی جانب سے ’غیر فعالیت کی طرف توجہ ہٹانے‘ کا حربہ قرار دیا ہے۔

    یہ اقدام غزہ میں انسانی حالات کے بارے میں بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کے بعد کیا گیا ہے۔

    جمعے کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس علاقے میں ’امداد کے رسائی پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے‘۔

    ایک مشترکہ بیان میں انھوں نے غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیل کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کے لیے ضروری انسانی امداد روکنا ناقابل قبول ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ’بین الاقوامی برادری میں بہت سے لوگوں کی جانب سے جس سطح کی بے حسی اور بے عملی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ اس کو بیان نہیں کر سکتے۔ ‘

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انسانی امداد اور جنگی جرائم

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عالمی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 27 مئی سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی خوراک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن (جی ایچ ایف) نے اقوام متحدہ کے زیر قیادت نظام کے متبادل کے طور پر سامان تقسیم کرنا شروع کیا تھا۔

    مئی اور جون 2025 میں جی ایچ ایف کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی سکیورٹی کنٹریکٹر نے جمعے کے روز بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ’بلا شبہ اس دوران جنگی جرائم ہوتے ہوئے دیکھے۔‘

    انتھونی اگیلر نے کہا کہ انھوں نے آئی ڈی ایف اور امریکی ٹھیکیداروں کو خوراک کی تقسیم کے مقامات پر شہریوں پر براہ راست گولہ بارود، توپ خانے، مارٹر گولوں اور ٹینکوں سے فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

    ریٹائرڈ فوجی نے کہا ’اپنے پورے کیریئر میں، میں نے کبھی بھی کسی شہری آبادی کے خلاف اس قدر بربریت اور اندھا دھند اور غیر ضروری طاقت کا استعمال نہیں دیکھا جو میں نے آئی ڈی ایف اور امریکی ٹھیکیداروں کے ہاتھوں غزہ میں دیکھا۔‘

    اپنے جواب میں جی ایچ ایف نے کہا کہ یہ دعوے ایک ناراض سابق ٹھیکیدار کی جانب سے سامنے آئے ہیں جنہیں ایک ماہ قبل بدسلوکی کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہget

    جنگ بندی کے لیے مذاکرات غیر یقینی کا شکار

    دریں اثنا، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے قطر سے اپنی مذاکراتی ٹیموں کے انخلا کے بعد نئی جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کا مستقبل اب تک غیر یقینی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس کوئی معاہدہ نہیں کرنا چاہتی۔

    انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں وہ مرنا چاہتے ہیں۔‘

    حماس نے امریکی بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے بی بی سی کے غزہ کے نامہ نگار کو یہ بھی بتایا کہ ثالثوں نے بتایا ہے کہ گروپ کے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے ہیں اور توقع ہے کہ اسرائیلی وفد اگلے ہفتے دوحہ واپس آئے گا۔

    اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کی زیر قیادت حملے کے جواب میں غزہ میں جنگ کا آغاز کیا تھا جس میں تقریبا 1200 افراد ہلاک اور 251 دیگر کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 59 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اسرائیل نے مارچ کے اوائل میں امداد کی ترسیل کی مکمل ناکہ بندی کر دی تھی اور دو ہفتے بعد حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کر دی تھی۔

    اس نے کہا کہ وہ گروپ پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے کہ وہ اپنے باقی ماندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرے۔

    اگرچہ عالمی ماہرین کی جانب سے قحط سالی کے انتباہ کے بعد تقریبا دو ماہ بعد ناکہ بندی میں جزوی طور پر نرمی کی گئی تھی لیکن خوراک، ادویات اور ایندھن کی قلت مزید بڑھ گئی ہے۔

    غزہ کی زیادہ تر آبادی متعدد بار بے گھر ہو چکی ہے اور ایک اندازے کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ مکانات تباہ یا مکمل منہدم ہو چکے ہیں۔

    جمعرات کے روز فرانس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا جس سے اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی امریکہ ناراض ہو گئے تھے۔

    اس کے ایک روز بعد برطانیہ کے ایک تہائی سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو ایک خط پر دستخط کیے جس میں برطانیہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ بھی اس کی پیروی کرے۔

    لیکن انھوں نے اشارہ دیا کہ اس طرح کا اقدام فوری نہیں ہوگا۔ یہ ایک ’وسیع تر منصوبے کا حصہ ہونا چاہیے جس کے نتیجے میں بالآخر دو ریاستی حل‘ ہوگا - اسرائیل کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست۔

  4. امداد نہیں تجارت کو مستقبل سمجھتے ہیں، امریکہ کے ساتھ باہمی فائدے پر مبنی تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں: پاکستانی وزیرِ خارجہ

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہYouTube/Atlantic Council

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات بہتر ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ’تعمیری کوششیں‘ کر رہے ہیں۔

    جمعے کو واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’ہم امریکہ کے ساتھ اپنی اقتصادی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور امداد نہیں بلکہ تجارت کو اپنا مستقبل سمجھتے ہیں۔‘

    ’پاکستان امریکی منڈیوں تک بہتر رسائی چاہتا ہے اور ہم امریکی مصنوعات کو بھی اپنی بڑی مارکیٹ تک بہتر رسائی دینا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور ان میں ٹیکسٹائل، ڈیجیٹل تجارت اور ذراعت کے شعبے بھی شامل ہیں۔‘

    ’ہم جلد از باہمی فائدے پر مبنی تجارتی معاہدہ چاہتے ہیں۔‘

    پاکستانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کا ملک معدنیات سے مالا مال ہے اور ان میں نایاب معدنی ذخائر بھی شامل ہیں۔

    ’ہم توانائی، کان کُنی، ٹیکنالوجی اور سٹارٹ اپس میں امریکی سرمایہ کاری کے لیے پُرامید ہیں۔ ایک اچھا تجارتی معاہدہ ہماری معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔‘

    اسحاق ڈار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اپنے طویل خطاب میں پاکستانی وزیرِ خارجہ نے تجارتی معاہدے کے علاوہ پاکستان اور انڈیا اور چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے ساتھ ایران اور افغانستان کی صورتحال پر بھی گفتگو کی۔

    پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی

    اپنے خطاب کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کے حصول کے لیے امریکہ اور دیگر دوست ممالک نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور امن چاہتا ہے۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشمیر تنازع اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت حل ہونے چاہیے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ انڈیا دنیا کو گمراہ کرنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے دہشتگردی کا سہارا لیتا ہے۔

    ’انڈیا نے 22 اپریل کو بھی پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگایا تھا۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکہ، دوست ممالک اور سفارتکاری نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔‘

    ’ہم صدر ٹرمپ، سیکریٹری روبیو اور ان کی ٹیم کے شکر گزار ہیں جنھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کروانے میں مدد کی۔‘

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے رواں برس مئی میں انڈیا اور پاکستان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ’زمین اور آسمان پر (انڈین حملوں پر) ردِ عمل اپنے دفاع میں دیا تھا۔‘

    ’پاکستان اپنے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا۔‘

    ’چین سٹریٹجک پارٹنر اور امریکہ پُرانا دوست‘

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان بلاک پر مبنی سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور چین اور امریکہ کے درمیان دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔

    ’چین ہمارا سٹریٹجک پارٹنر اور امریکہ پُرانا دوست ہے۔ ماضی میں ہم نے ان دو عظیم ممالک کے درمیان پُل کا کردار ادا کیا ہے اور ہم دوبارہ بھی ایسا کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

    اپنے خطاب کے دوران وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے اور وہ اپنے پڑوسی ملک میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’افغانستان کی سرزمین سے دہشتگردی کا خطرہ حقیقت پر مبنی ہے اور یہ پاکستان کی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘

    ’ان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے چاہیے۔‘

    اس موقع پر پاکستانی وزیرِ خارجہ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کا ذکر کرتے ہوئے کہا پاکستان ’ایران کے معاملے پر مذاکرات چاہتا ہے۔‘

    ’ہم نے خطے میں سفارتکاری کی حمایت کی اور اس جنگ کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی جو ہم نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روز تک دیکھی۔‘

    پاکستانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ’ہم مذاکرات اور سفارتکاری کے لیے ایران کی حوصلہ افزائی جاری رکھیں گے۔‘

  5. پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملاقات

    PAK US FO

    ،تصویر کا ذریعہFOREIGN OFFICE

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے واشنگٹن ڈی سی میں اہم ملاقات کی ہے۔

    پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پہنچنے پر امریکی حکام کی جانب سے نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار کا استقبال کیا۔

    امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں دونوں فریقین کی جانب سے سینئر حکام شریک ہوئے۔

    خیال رہے کہ پاکستا ن اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان یہ پہلی با لمشافہ ملا قات ہے۔

    ملاقات میں پاک امریکہ تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں ممکنہ تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    دوطرفہ تجارتی و اقتصادی روابط کے فروغ، سرمایہ کاری، زراعت، ٹیکنالوجی، معدنیات سمیت اہم شعبہ جات میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی امن کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

    نائب وزیر اعظم محمد اسحاق ڈار نے عالمی امن کے فروغ کے حوالے سے صدر ٹرمپ اور امریکی قیادت کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    انھوں نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے صدر ٹرمپ کا کردار اور کاوشیں لائق تحسین ہیں۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا۔

    ’عالمی و علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان نے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا ہے۔‘

    اسحاق ڈار نے کہا کہ ’پاک امریکہ دوطرفہ تعلقات میں مزید وسعت اور استحکام کے خواہاں ہیں دونوں ملکوں کے درمیان جاری ٹریڈ ڈائیلاگ میں مثبت پیش رفت کے حوالے سے پر امید ہیں۔

  6. پنجاب میں بارشوں کے نئے سلسلے کی پیش گوئی، اربن فلڈنگ اور سیاحتی مقام مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

    punjab

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کےادارے، پی ڈی ایم اے نے مون سون بارشوں کے نئے سلسلے کا الرٹ جاری کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاہور ،راولپنڈی، گجرانوالہ اور فیصل آباد میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ سیاحتی مقامات مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

    ادارے نے اپنے تحریری بیان میں بتایا ہے کہ 28 سے 31 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی ہے اور یہ مون سون کا پانچواں سپیل ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاوالدین، گجرات، گجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، خوشاب، سرگودھا، میانوالی، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اور اوکاڑہ میں بارش کی پیشگوئی ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 29 جولائی سے 31 جولائی تک ڈیرہ غازی خان، بھکر، بہاولپور، خانیوال، پاکپتن، وہاڑی، لودھراں، مظفرگڑھ اور راجن پور میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے صوبہ بھر کے کمشنرز و ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    اس صورتحال میں انتظامیہ نے پنجاب کی سول ڈیفنس، ریسکیو و متعلقہ اداروں کو پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث مری و گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے عوام کے نام پیغام میں کہا ہے کہ ’پنجاب بارشوں کے باعث کچے مکانات مخدوش عمارتوں کو نقصان کا خدشہ ہے۔ مسافر اور سیاح موسمی صورتحال کے پیش نظر محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

    ’اربن و فلیش فلڈنگ کی صورت میں محفوظ مقامات پر رہیں، گاڑی ہرگز بہتے ہوئے پانی سے کراس نہ کریں۔ ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔‘

  7. سوشل میڈیا کمپنیاں دہشت گردوں کے اکاؤنٹس بند کریں اور ڈیٹا شیئر کریں: وزیر مملکت برائے داخلہ

    social media

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردوں کے اکاؤنٹس کو بند کریں اور ڈیٹا شیئر کریں۔

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے وزیر مملکت برائے قانون عقیل ملک کے ساتھ پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا کمپنیوں سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز فرضی اکاؤنٹس کو بند کریں اور فرضی اکاونٹس چلانے والے افراد کا ڈیٹا بھی وفاقی حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی سے متعلق دو ہزار 417 شکایات زیر غور ہیں۔

    انھوں نے بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا کہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیلات دیں اور جعلی اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کریں۔

    وزیر مملکت عقیل ملک نے کہا کہ اب تک حکومت نے اس قسم کے 481 اکاؤنٹس کا پتہ لگایا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا کمپنیوں سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے اکاؤنٹس کو نہ صرف رپورٹ کریں بلکہ انھیں بلاک بھی کریں۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمزکو یہ پیشکش بھی کی کہ پاکستان میں اپنے دفاتر قائم کریں تاکہ بہتر رابطہ ممکن ہو سکے گا۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگا رہے بلکہ ہم دہشت گردی کے سامنے دیواریں کھڑی کر رہے ہیں۔

  8. غزہ میں غذائی قلت کے باعث مزید ہلاکتیں: آنے والے دنوں میں فضا سے امداد پہنچانے کی اجازت دی جا سکتی ہے: اسرائیل

    gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں غزہ میں فضائی ذریعے سے امداد فراہم کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

    دوسری جانب حماس کے ماتحت غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید نو افراد غذا کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد جنگ کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 122 ہو چکی ہے ان میں 83 بچے شامل ہیں۔

    خیال ہے کہ کچھ ممالک نے گذشتہ موسم بہار میں فضا سے نیچے موجود متاثرین کو امداد پھینکے کی کوشش کی تھی لیکن امدادی اداروں نے خبردار کیا تھا کہ یہ غذا میں سپلائی کا یہ طریقہ کار غیر موثر ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ دوسرے ممالک بھی فضائی امداد کی رسد میں حصہ لے سکیں گے۔

    ٹائمز آف اسرائئل کا کہنا ہے کہ فضا سے امداد پہنچانے میں اردن اور متحدہ عرب امارات حصہ لے گا تاہم بی بی سی نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    گذشتہ برس برطانیہ، امریکہ اور اردن نے غزہ میں فوجی طیاروں کے ذریعے امداد فراہم کی تھی لیکن مداد سمندر میں گرنے کے بعد متاثرین اسے حاصل کرنے کی کوشش میں ڈوب بھی گئے تھے۔

  9. بلوچستان: چار کم عمر بہنیں ندی میں ڈوب کر ہلاک, محمد کاظم بی بی سی اردو

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع دُکی میں چاربچیاں ایک ندی میں ڈوب کر ہلاک ہوگئی ہیں۔

    ‎دُکی میں لیویز فورس کے ایک اہلکار صفی اللہ نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ ضلع کی یونین کونسل لاکھی کے علاقے تلائو میں المبار ندی میں پیش آیا۔

    ‎انھوں نے بتایا کہ چاروں بہنوں کی لاشیں مقامی افراد نے نکال کر ہسپتال منتقل کردی۔

    ‎ان کا کہنا تھا کہ جاں بحق ہونے والی بہنوں کی شناخت زرخوا، خاتون بی بی، فریحہ بی بی اور سوا کے نام سے ہوئی جن کی عمریں 4 سال سے 11سال کے درمیان ہیں۔

    ‎لیویز فورس کے اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ‎تاہم انھوں نے اس شبے کا اظہار کیا کہ چاروں بہنیں نہاتے ہوئے ندی میں ڈوب گئیں۔

  10. برطانیہ، فرانس اور جرمنی کا ایران کو نئے جوہری معاہدے کے لیے پانچ ہفتوں کا الٹی میٹم

    grossy

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران اور تین یورپی ممالک برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے درمیان جوہری مذاکرات استنبول میں ہوئے ہیں۔

    ایران اور تین یورپی ممالک کے درمیان مذاکرات جو کہ استنبول میں ایران کے قونصل خانے میں نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر ہوئے، 12 روزہ تعطل کے بعد پہلی بات چیت ہے۔

    ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے یورپ کی دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد بھی پہلی بات چیت ہے۔

    ایران کی طرف سے بین الاقوامی امور کے نائب وزیر کاظم غریب آبادی اور ایرانی وزارت خارجہ میں سیاسی امور کے نائب وزیر مجید تخت روانچی ان مذاکرات میں شریک تھے۔

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی تین حکومتوں نے ایران کو اگست کے آخر تک یعنی اب سے تقریباً پانچ ہفتے کا وقت دیا ہے کہ وہ نیا جوہری معاہدہ کر لے ورنہ یہ ممالک سلامتی کونسل کی پابندیوں کو بحال کرنے کی کوششیں شروع کر دیں گے۔

    ایک روز قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام کو جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔

    ایران اور تین یورپی ممالک کے درمیان استنبول مذاکرات کے ساتھ ہی سنگاپور کا دورہ کرنے والے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا کہ ایران کو اپنی جوہری تنصیبات اور جوہری سرگرمیوں کے بارے میں شفاف ہونا چاہیے۔

    انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معائنہ کار اس سال کے اختتام سے پہلے ایران واپس جا سکیں گے۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ تہران کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا بہت ضروری ہے کہ ایجنسی کے ملک کے دوروں کو دوبارہ کیسے شروع کیا جائے۔

    رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس بات پر متفق ہونے کی ضرورت ہے کہ کہاں جانا ہے اور اسے کیسے کرنا ہے۔ ہمیں ان احتیاطی تدابیر کے بارے میں ایران کے خیالات کو بھی سننے کی ضرورت ہے جو وہ اپنانا چاہتے ہیں۔‘

    دو دن پہلے ایران نے اعلان کیا کہ اس نے ایجنسی کی ایک تکنیکی ٹیم کےاپنے ملک کے دورے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن وہ معائنے کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔

    اطلاعات کے مطابق اس گروپ کی سربراہی نائب رافیل گروسی کریں گے۔

    آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل تقریباً ایک ماہ میں بورڈ آف گورنرز کے سہ ماہی اجلاس میں پیش کرنے کے لیے ایران کے جوہری پروگرام کی صورتحال پر ایک نئی رپورٹ تیار کرنے والے ہیں اور ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد یہ پہلی رپورٹ ہے۔

  11. بات چیت ناکام نہیں ہوئی، اگلے ہفتے اسرائیلی وفد دوحا جائے گا: حماس, رشدی ابوالوف، نامہ نگار

    حماس کے ایک سینئیر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مصالحت کاروں نے اطلاع دی ہے کہ امریکی سفیر سٹیو وٹکوف کی جانب سے حالیہ ریمارکس اور اسرائیلی اور امریکی وفد کے مذاکراتی عمل کو چھوڑنے کے باوجود بات چیت ناکام نہیں ہوئی ہے۔

    حماس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ اگرچہ ابھی حتمی تاریخ طے نہیں پائی لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی وفد اگلے ہفتے دوحا آئے گا۔

    حماس نے ایک بیان میں امریکی سفیر کے بیان کو منفی قرار دیا تاہم حماس نے یہ ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو مکمل کرنے اور مستقل سیز فائر قیام کے لیے پرعزم ہے۔

  12. غزہ میں ہر چار میں سے ایک بچہ اور حاملہ خاتون غدائیت کی کمی کا شکار ہے: ایم ایس ایف

    water

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    غیر سرکاری طبی تنظیم میڈیسن سان فرنٹیئرز ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ غزہ میں موجود مریضوں اور ان کا سٹاف شدید غذائی قلت کا شکار ہے۔

    ادارے کی جانب سے تین اہم نکات کی جانب توجہ دلوائی گئی ہے۔

    ایم ایس ایف کے کلینکس میں معائیہ کیے جانے والے کل مریضوں میں سے 25 فیصد بچوں اور حاملہ خواتین غذا کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔

    ہر روز 25 فیصد ایسے نئے کیسز آتے ہیں جن میں غزہ میں کام کرنے والے ہیلتھ ورکرز میں بنیادی غدائیت کا فقدان سامنے آ رہا ہے۔ یہ تناسب صرف غزہ شہر کا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ امدادی کارکن بھی غذائی کی کمی کا شکار ہیں۔

    امداد کی تقسیم کے مراکز پر حملوں میں 1000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 7200 زخمی ہیں۔

  13. برطانیہ پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ, بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وقت ہی سب کچھ ہے۔

    فرانس کئی ماہ سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیتا چلا آرہا ہے۔ اس نے آخر کار غزہ کی مایوس کن صورتحال پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ساتھ ہی عالمی طاقتوں پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے کہ وہ اسے روکنے کے قابل نہیں ہیں۔

    فرانس کو امید ہے کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جب وہ باضابطہ طور پر یہ قدم اٹھائے گا یعنی جب وہ باضابطہ طور پر فلسطین اور ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا تو دیگر عالمی طاقتیں بھی اس کی پیروی کریں گی۔ یقیناً زیادہ تر ممالک نے بہت پہلے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ مئی میں سپین، آئرلینڈ اور ناروے نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔

    لیکن فرانس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بڑے صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کا پہلا رکن ہے جو ایسا کرنے جا رہا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام دی ورلڈ ٹونائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔

    ایک بہت بڑی غلطی یہ ہے کہ اسرائیل اسے کس طرح دیکھتا ہے اور اسے ’دہشت گردوں کے لیے ایک انعام‘ یا فائدہ مند قرار دینے کی مذمت کرتا ہے۔ امریکہ کے لیے بھی فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے یہ وقت غلط اور ایسا فیصلہ ’لاپرواہی‘ کے سوا کُچھ نہیں ہے۔

    لیکن اب برطانیہ اور جرمنی جیسے ممالک پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اپنے چند سفارتی ہتھیاروں میں سے ایک کا استعمال کریں کیونکہ غزہ میں فلسطینیوں کا مستقبل دن بدن تاریک ہوتا جا رہا ہے۔

  14. غزہ میں بھوک کا راج: ’میرا بیٹا 40 کلو کا تھا، 10 کلو کا رہ گیا ہے‘

    ،ویڈیو کیپشنبی بی سی عربی نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں جان لیوا غذائی قلت کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لواحقین سے بات کی۔

    بی بی سی عربی نے غزہ کے الشفا ہسپتال میں جان لیوا غذائی قلت کا سامنا کرنے والے لوگوں کے لواحقین سے بات کی۔ دریں اثناء عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل نے غزہ کی صورتحال کو ’انسانی ساختہ اجتماعی بھوک‘ قرار دیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (انروا) نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ غزہ میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر روز ان کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    انروا کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے ایک ساتھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’غزہ کے لوگ نہ مرے ہیں اور نہ ہی زندہ، وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔‘

  15. فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پرعزم ہیں تاہم ایسا کب ہوگا یہ ابھی واضح نہیں: برطانوی وزیر

    BBC

    برطانیہ کے وزیر پیٹر کائل کا کہنا ہے کہ حکومت فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے پرعزم ہے لیکن اس کے لیے ابھی وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔

    حال ہی میں فرانس کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ وہ ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا اور جب برطانوی وزیر پیٹر کائل سے بی بی سی بریک فاسٹ پروگرام میں پوچھا گیا کہ کیا برطانیہ بھی فرانس کے نقشِ قدم پر چلے گا؟

    تو اس کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ ’آج ہماری ترجیح ’غزہ کی ہنگامی صورتحال پر توجہ مرکوز کرنا ہے جو فلوقت ہمارے سامنے ہے‘ اور ایسے میں سب سے اہم بات ’لوگوں تک خوراک کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں ملاقات کرنے والے ہیں۔

    برطانیہ کے وزیر پیٹر کائل نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ اس حکومت کا منشور ہے کہ ہم فلسطین کے لیے ریاست کا درجہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فلسطین کو بااختیار بنایا جائے اور طویل مدتی امن اور استحکام فراہم کرے۔‘

  16. امریکہ فرانس کے فلسطین کو بطور ریاست تسلم کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتا ہے: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے فلسطین کو بطور ریاست تسلم کرنے سے متعلق فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر کہا ہے کہ ’ایمانویل میکخواں کا یہ فیصلہ ’صرف اور صرف حماس کے پروپیگنڈے کو فروغ دیتا ہے۔‘

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’امریکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے ایمانویل میکخواں کے منصوبے اور فیصلے کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’یہ غیر ذمہ دارانہ فیصلہ صرف حماس کے پروپیگنڈے کو فروغ دے گا اور بدامنی میں اضافہ کرے گا۔ یہ سات اکتوبر کے حملے کے متاثرین کے منہ پر طمانچہ ہے۔‘

    واضح رہے کہ فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

    فرانس کے صدر نہ کہا کہ ’آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور شہری آبادی کو بچایا جائے، امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ہمیں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے عوام کو بڑے پیمانے پر انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔‘

    فلسطینی حکام نے تو ایمانویل میکخواں کے فیصلے کا خیر مقدم کیا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ’دہشت گردی کو فروغ دینے اور انعامات سے نوازنے کے مترادف' ہے۔

  17. اسرائیل اور امریکہ قطر میں غزہ جنگ بندی سے متعلق ہونے والے مذاکرات سے دستبردار

    AFP via Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    اسرائیل اور امریکہ کے مذاکرات کاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے، واشنگٹن نے حماس پر ’نیک نیتی سے کام نہ کرنے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

    ایک بیان میں امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ ’ہم نے حماس کی جانب سے تازہ ترین ردعمل کے بعد مشاورت کے لیے اپنی ٹیم کو دوحہ سے وطن واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

    حماس نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مذاکرات میں شامل تمام فریقین بشمول ثالث اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اہم معاملات پر مزید بات چیت ہونا باقی ہے۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے بیان میں وٹکوف نے کہا کہ ’اگرچہ ثالثوں نے بہت کوشش کی ہے لیکن حماس نیک نیتی سے کام کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب ہم یرغمالیوں کو وطن واپس لانے اور غزہ کے عوام کے لیے زیادہ محفوظ اور مستحکم ماحول پیدا کرنے کے لیے متبادل آپشنز پر غور کریں گے۔‘

    امریکہ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف نہ کہ ا کہ ’یہ بہت شرم کی بات ہے کہ حماس نے اس خود غرضانہ انداز میں کام کیا ہے۔ ہم اس تنازعے کے خاتمے اور غزہ میں مستقل امن کے خواہاں ہیں۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے ابھی تک عوامی طور پر اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے کہ اسرائیلی مذاکرات کار دوحہ سے کیوں واپس جا رہے ہیں۔‘

    تاہم سینئر اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات میں کوئی خلل نہیں پڑا۔

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    واضح رہے کہ دوحہ میں قطری اور مصری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات کا تازہ ترین دور دو ہفتوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) نے کہا تھا کہ غزہ شہر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ اب غذائی قلت کا شکار ہے اور ہر روز ایسے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر خوراک کی کمی کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات لیں۔

    اسرائیل، جو فلسطینی علاقے میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا رہا ہے کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ غزہ کا کوئی محاصرہ نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیلی حکام غذائی قلت کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہراتے چلے آئے ہیں۔

  18. گڈ طالبان کے نام پر موجود مسلح افراد کی وجہ سے اداروں، حکومتوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

    Getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ’صوبے میں گڈ طالبان کے نام پر مسلح لوگ موجود ہیں جن کی موجودگی کی وجہ سے اداروں، حکومتوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔‘

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے بُلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں صوبے کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔ چند ماہ پہلے گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے طلب کی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں نے شرکت نہیں کی تھی۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اے پی سی کی بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’آج تمام شرکا سے مشاورت کے بعد یہ واضح طور پر بتایا رہا ہوں کہ صوبے میں گڈ طالبان موجود ہیں جس وجہ سے اداروں حکومتوں اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اس لیے یہ فیصلہ کیا ہے کہ گڈ طالبان کی موجودگی کو ختم کیا جائے اور کسی بھی علاقے میں گڈ طالبان کے نام پر مسلح افراد یہ گروہوں کی ضرورت نہیں ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان کی (گُڈ طالبان) موجودگی ختم کرنے کے بعد اگر کوئی بھی شخص مسلح طور پر نظر آئے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہو گی اور اس کی سفارش کرنے والے کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔‘

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ماضی میں امن و امان کے قیام کے لیے قبائلی علاقوں میں اپنی علاقائی فورس خاصہ دار کے نام پر ہوتی تھی اور وہ اپنے اپنے علاقوں کو بہتر انداز میں جانتے تھے لیکن قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد وہاں پولیس تعینات کی گئی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس لیے اب فیصلہ کیا ہے کہ تمام قبائلی اضلاع میں خاصہ دار فورس کی بھرتی کی جائے۔ اس کے لیے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہر ایک ضلع سے قبائلی رواج کے مطابق قبائل میں سے تین تین سو لوگ بھرتی کریں گے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا کیونکہ یہ لوگ ان علاقوں کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔‘

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے اور وفاقی حکومت ذمہ داری نبھا نہیں رہی اس لیے ہم وفاقی حکو مت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تاکہ ان سرحدوں سے مسلح گروہ یا شدت پسند نہ آ سکیں اور باقاعدہ طور سرحدوں کی حفاظت کریں اور اپنی فورسز لگائیں اور سرحد کے نیچے کے علاقے کے لیے صوبائی حکومت اپنا کردار صحیح انداز میں ادا کرے گی صوبائی حکومت میں صلاحیت ہے اور وہ بہتر پرفارم کرے گی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’قبائل کے ساتھ انضمام کے وقت اور اس کے بعد جو وعدے کیے گئے تھے ان پر عمل درآمد کیا جائے اور این ایف سی کا اجلاس بلا کر ہمیں اپنے حقوق دیے جائیں۔‘

  19. مستونگ میں دہشت گردوں کے ساتھ جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے ایک میجر سمیت دو اہلکار ہلاک جبکہ تین عسکریت پسند بھی مارے گئے, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک جھڑپ میں سکیورٹی فورسز کے ایک میجر سمیت دو اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ تین عسکریت پسند بھی مارے گئے۔

    فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق عسکریت پسندوں کی موجودگی پر سکیورٹی فورسز نے ضلع مستونگ میں کارروائی کی جس کے نتیجے میں تین عسکریت پسند ہلاک ہوئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے میجر زیاد سلیم سمیت دو اہلکار ہلاک ہو گئے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 31 سالہ میجر زیاد سلیم کا تعلق خوشاب جبکہ مارے جانے والے 22 سالہ دوسرے اہلکار ناظم حسین کا تعلق جہلم سے تھا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔

    درایں اثنا گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے ضلع مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں پیش آنے والے اس واقعے پر سکیورٹی فورسز کے میجر سمیت دو اہلکاروں کے مارے جانے پر دُکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’بلوچستان کی پرامن صورتحال کو کسی طرح بھی سبوتاژ نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    بلوچستان میں گزشتہ دس روز کے دوران میجر رینک کے یہ تیسرے آفسر کی ہلاکت ہے۔

    میجر زیاد سلیم سے قبل میجر انور کاکڑ کو کوئٹہ شہر میں بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جبکہ میجر ربنواز 16جولائی کو آواران میں ایک جھڑپ میں مارے گئے تھے۔

    مستونگ کے علاقے اسپلنجی میں سکیورٹی فورسز پر حملے اور کوئٹہ میں بم حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

    درایں اثنا کالعدم بی ایل اے کی جانب سے اپنے پانچ جنگجوئوں کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    تنظیم کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق ان میں سے چار ضلع نوشکی میں ایک جھڑپ میں مارے گئے جبکہ پانچواں دہشت گرد سوراب کے علاقے میں گدر میں سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملے میں زخمی ہوئے تھے جو بعد زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

  20. فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا: صدر ایمانویل میکخواں

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ فرانس رواں سال ستمبر میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لے گا۔

    فرانس کے صدر ایمانویل میکخواں نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس کا باضابطہ اعلان نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’آج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو اور شہری آبادی کو بچایا جائے، امن کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ ہمیں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے عوام کو بڑے پیمانے پر انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت ہے۔‘

    فلسطینی حکام نے میکخواں کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ اقدام اسرائیل میں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد ’دہشت گردی کو سراہنے‘ کے مترادف ہے۔

    جی سیون بڑے صنعتی ممالک کا ایک گروپ ہے، جس میں فرانس کے ساتھ ساتھ امریکہ، برطانیہ، اٹلی، جرمنی، کینیڈا اور جاپان شامل ہیں۔

    فرانسیسی صدر میکخواں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دیرپا امن کے لیے اپنے تاریخی عزم پر قائم رہتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہمیں حماس کو غیر مسلح کرنے اور غزہ کو محفوظ بنانے اور تعمیر نو کی بھی ضمانت دینی ہوگی۔

    میکرون نے فلسطینی صدر محمود عباس کو ایک خط بھی ارسال کیا جس میں انھوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق میکخواں کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محمود عباس کے نائب حسین الشیخ نے کہا کہ فرانس کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ہماری آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب نیتن یاہو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ہم صدر میکخواں کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ان حالات میں ایک فلسطینی ریاست اسرائیل کو ختم کرنے کے لیے لانچ پیڈ ہوگی نہ کہ اس کے ساتھ امن سے رہنے کے لیے۔ واضح رہے کہ فلسطینی اسرائیل کے شانہ بشانہ ریاست کے خواہاں نہیں ہیں۔‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    حماس نے فرانس کے فیصلے کو ’درست سمت میں ایک مثبت قدم‘ قرار دیا اور دنیا کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ’فرانس کی پیروی کریں۔‘

    اس وقت فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 140 سے زائد تسلیم کرتے ہیں۔

    لیکن اسرائیل کے سب سے بڑے حامی امریکہ اور برطانیہ سمیت اس کے اتحادیوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی اسرائیل پر حملے کے جواب میں غزہ پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔

    دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ میں کم از کم 59 ہزار 106 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اب غزہ کے لوگوں کو خوراک کی شدید کمی کا سامنا ہے۔

    100 سے زائد بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں نے بھی غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر خوراک کی کمی کے بارے میں متنبہ کیا ہے اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات لیں۔

    اسرائیل، جو فلسطینی علاقے میں تمام رسد کے داخلے کو کنٹرول کرتا رہا ہے کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ غزہ کا کوئی محاصرہ نہیں کیا گیا ہے اور اسرائیلی حکام غذائی قلت کے لیے حماس کو مورد الزام ٹھہراتے چلے آئے ہیں۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images