آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران کو ایک بھی امریکی پیسہ نہیں دیا جائے گا، ایرانی عناصر معاہدے پر پروپیگنڈا کر رہے ہیں: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر نے کہا ’ایرانی معاشرے کے کچھ عناصر اس معاہدے کو اپنے ملک کے عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی رقم کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا، نہ 300 ارب ڈالر، نہ 24 ارب ڈالر، نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور رقم۔‘

خلاصہ

  • برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
  • ایران کی افزودہ یورینیم ضبط کرنے کی جلدی نہیں، معاہدہ منظوری کے لیے کانگریس کو بھیجا جائے گا: صدر ٹرمپ
  • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 'دہشتگردی' افغانستان سے ہو رہی ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘
  • پاکستانی وزیرِ دفاع نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔‘
  • حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران، امریکہ مذاکرات کا نیا دور جمعے سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا: عباس عراقچی
  • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت ہو گی: جے ڈی وینس

لائیو کوریج

  1. طویل المدتی توانائی کے بحران سے بچنے کے امکانات روشن، عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارے, بی بی سی کے معاشی امور کے مدیر فیصل اسلام کا تجزیہ

    اگرچہ اس معاہدے کے حوالے سے بعض تحفظات اور خدشات اپنی جگہ موجود ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں طویل المدتی توانائی بحران سے بچنے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ خلیج میں رکے ہوئے سیکڑوں آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ اسی طرح خطے میں جنگ کے دوران متاثر ہونے والی متعدد گیس تنصیبات کی بحالی میں بھی کئی ماہ درکار ہوں گے۔ مزید یہ کہ تمام پیش رفت کا انحصار ایک نازک اور غیر یقینی امن معاہدے پر ہے۔

    تاہم اہم بات یہ ہے کہ اب دنیا کو ایک طویل اور شدید توانائی بحران کا سامنا کرنے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔

    عالمی معیشت اور برطانوی معیشت نے اب تک اس بحران کے دوران توقعات سے کہیں زیادہ مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ صورتحال ان انتہائی معاشی جھٹکوں تک نہیں پہنچی جو چار سال قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھنے میں آئے تھے۔

    پیٹرول کی قیمتوں اور فکسڈ شرح سود پر دستیاب ہاؤسنگ قرضوں (مارگیج) کی شرح میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ جولائی میں گھریلو توانائی بلوں میں اضافہ متوقع ہے تاہم موسم سرما سے قبل اکتوبر میں متوقع بڑے اضافے کے امکانات اب کم ہو گئے ہیں۔

    اسی طرح جنوبی نصف کرے میں زرعی کاشت کے موسم کے دوران انتہائی مہنگی کھادوں کے استعمال سے متعلق خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں جس سے خوراک کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے خطرات میں کمی آنے کی امید ہے۔

    برطانیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح شاید چار فیصد تک بھی نہ پہنچے، جبکہ سنہ 2022 میں مہنگائی دو ہندسوں تک جا پہنچی تھی۔

    عالمی سطح پر حکومتی قرضوں کی لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں بھی فکسڈ مارگیج ریٹس میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ مالیاتی منڈیاں اب شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت کم محسوس کر رہی ہیں۔

    اگرچہ یہ امن معاہدہ ابھی بھی نازک نوعیت کا ہے تاہم عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس تنازع کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کو مکمل معمول پر آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ دنیا طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور معاشی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ پیش رفت بلاشبہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں معیشت اور عوام کے معیارِِ زندگی کے لیے ایک مثبت خبر سمجھی جا رہی ہے۔

  2. معاہدے میں اسرائیل کے لبنان پر حملوں کے خاتمے سے متعلق ’فیصلہ کن‘ شق شامل کیا جانا اہم پیش رفت ہے: لبنانی صدر جوزف عون

    امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے معاہدے پر لبنان کی سیاسی قیادت نے مثبت ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد کے مطابق اس معاہدے کے تحت ’لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں‘ بند کی جائیں گی۔

    لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ’لبنانی عوام امید رکھتے ہیں کہ یہ مفاہمتیں عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گی اور خطے میں جاری تشدد کے سلسلے کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔‘

    انھوں نے معاہدے کے قیام میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’انھیں امید ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں استحکام اور امن کے فروغ کے لیے ایک وسیع تر عمل کا آغاز ثابت ہوگی۔‘

    دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری جو امل تحریک کے سربراہ اور حزب اللہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

    انھوں نے ایران اور امریکہ دونوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملوں کے خاتمے سے متعلق ایک ’فیصلہ کن‘ شق شامل کی گئی ہے، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔‘

    تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے بیانات کے باعث معاہدے کے عملی نفاذ کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات اور خدشات موجود ہیں۔

  3. معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کرتا ہوا دیکھا گیا: میرین ٹریفک, شروتی مینون، بی بی سی نیوز

    بی بی سی ویریفائی نے بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد کم از کم ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔

    جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’میرین ٹریفک‘ کے مطابق مالٹا کے پرچم بردار آئل ٹینکر ’دیشا‘ نے 13 جون کو قطر کی راس لفان بندرگاہ سے سامان لے کر روانہ ہوا تھا۔

    اسی دوران پاناما کے پرچم بردار مال بردار جہاز ’ایم ڈی ایل کامران‘ نے 11 جون کو ایرانی امام خمینی بندرگاہ سے سفر شروع کیا اور گزشتہ روز آبنائے ہرمز عبور کی۔

    رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت جہاز کے مقام کی نشاندہی کرنے والے ٹریکرز بند تھے، تاہم آبنائے ہرمز سے نکلنے کے بعد انھوں نے دوبارہ سگنل بھیجنا شروع کر دیا۔

    یہ جہاز اس وقت عمان کی شناس بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے۔

    تاہم دوسری جانب ایرانی اخبار کے مطابق آبنائے ہرمز میں صورتحال غیر معمولی ہو گئی ہے، جہاں مسلسل 96 گھنٹوں سے پاسنگ پرمٹ جاری نہیں کیے گئے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بحری فوج نے گزشتہ چار دنوں سے کسی بھی جہاز کو آبنائے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی۔

    ایرانی اخبار میں پاسدارانِ انقلاب سے متعلق سامنے آنے والے اس بیان مںی مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ نوٹس تک آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کے لیے داخلے اور اخراج کے راستوں میں بند کر دیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی آمد و رفت کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

  4. ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بارے میں کیا معلوم ہے اور ابھی کیا واضح نہیں؟

    امریکہ، ایران اور خطے کی صورتحال سے متعلق مجوزہ معاہدے کے بارے میں کچھ اہم نکات سامنے آئے ہیں، تاہم کئی بنیادی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔

    لبنان

    • اس سارے عمل میں ثالث کا کردار ادا کنے والے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔
    • تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ بھی اس معاہدے کی مکمل پابندی کریں گے یا نہیں۔
    • دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ ایران لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ’مکمل خاتمے‘ کا مطالبہ کر رہا ہے۔

    آبنائے ہرمز

    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی اور خطے کے دونوں اطراف تیل کی ترسیل بحال ہو جائے گی۔
    • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں شامل ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ ایرانی بندرگاہوں پر امریکہ کی بحری ناکہ بندی 30 روز کے اندر ختم کر دی جائے گی۔
    • تاہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حتمی وقت اور مستقبل میں وہاں بحری آمدورفت کے انتظام کے طریقہ کار کے بارے میں ابھی کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    جوہری پروگرام

    • ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔
    • رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ 60 دنوں کے دوران امریکہ اور ایران اس بات پر اتفاق کریں گے کہ جوہری مواد کو کس طرح تلف اور ختم کیا جائے۔
    • تاہم ابھی یہ معلوم نہیں کہ یورینیم افزودگی پر کیا پابندیاں عائد ہوں گی اور ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل کیا ہوگا۔

    پابندیاں

    • یہ بات تقریباً یقینی سمجھی جا رہی ہے کہ ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی اور اس کے منجمد اثاثوں کی جزوی یا مکمل بحالی معاہدے کا حصہ ہوگی۔
    • تاہم پابندیوں میں نرمی کے وقت اور طریقہ کار کے بارے میں اب تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی اور یہ بھی واضح نہیں کہ یہ اقدامات حتمی معاہدے سے پہلے ہوں گے یا بعد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں نافذ کیے جائیں گے۔
    • مجموعی طور پر معاہدے نے کئی اہم پیش رفت کا عندیہ دیا ہے لیکن اس کی حتمی کامیابی اور عملی شکل کا انحصار آنے والے مذاکرات اور معاہدے کی مکمل تفصیلات پر ہوگا۔
  5. ایران امریکہ معاہدہ حتمی، باضابطہ دستخط جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے: ایرانی نائب وزیر خارجہ, غنچہ حبیبزاد، نامہ نگار بی بی سی فارسی

    ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گزشتہ روز ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور اس پر باضابطہ دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے۔

    انھوں نے ایک بار پھر امریکہ پر ایران کے عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’تہران امریکی وعدوں اور ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی کڑی نگرانی کرے گا۔‘

    غریب آبادی کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ رات اسرائیل کے بیروت پر حملے کے بعد ایران کی جانب سے اسرائیل اور امریکہ کو دی جانے والی دھمکیوں نے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے اور بعض متنازع امور کو حل کرنے کے عمل میں مدد فراہم کی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایران کو امید ہے کہ مذاکرات 60 روزہ مدت کے اندر مکمل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اس عرصے کے دوران ایران پر عائد تمام پابندیوں کے خاتمے اور ملک کے جوہری پروگرام سے متعلق بین الاقوامی قراردادوں کے معاملے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔‘

    ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’جنگ کے بعد معاشی بحالی اور تعمیرِ نو کا معاملہ بھی ان 60 دنوں کے دوران ہونے والے مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا۔‘

  6. امریکہ اسرائیل معاہدہ: بی بی سی کے نامہ نگاروں کا تجزیہ، معاہدہ کیا بتاتا ہے اور کیا نہیں؟

    امریکہ اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد بی بی سی کے مختلف نمائندگان نے اس پر اپنی آراء اور تجزیے پیش کیے ہیں۔

    شمالی امریکہ کے نامہ نگار انتھونی زرکر کے مطابق ’اگرچہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے اہداف فی الحال حاصل نہیں ہوئے تاہم یہ معاہدہ اس تنازع کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے مگر اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا۔‘

    بی بی سی کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے ٹام بیٹمین کا کہنا ہے کہ ’معاشی وجوہات کی بنا پر یہ معاہدہ امریکہ اور ایران دونوں کی ضرورت تھا تاہم کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب ہیں، جن میں جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی جیسے بنیادی نکات پر بامعنی اتفاق رائے شامل ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کی نامہ نگار غنچہ حبیبزاد کے مطابق ’ایران میں اس معاہدے کو ملک کی کامیابی اور امریکہ و اسرائیل کی ناکامی یا شکست کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔‘

    عالمی امور کے نامہ نگار سباسٹین اُشر لکھتے ہیں کہ ’ایران کے عرب خلیجی ہمسایہ ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب اس پیش رفت پر کسی حد تک اطمینان محسوس کریں گے کیونکہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں نے ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ تاہم لبنان کے مستقبل کے حوالے سے اب بھی کئی سوالات موجود ہیں۔‘

    مشرق وسطیٰ کے نمائندے ہوگو بچیگا کے مطابق ’لبنان میں بعض خاندان اپنے علاقوں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں لیکن عوام معاہدے کے فریم ورک اور اس کے حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔‘

    سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی ’امن معاہدے‘ کی اصل کامیابی کا اندازہ طویل مدت میں ہوگا۔ اہم سوال یہ ہے کہ آیا ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے خطرے میں واقعی کمی آئی ہے، جیسا کہ صدر ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں یا پھر ایران کے سخت گیر عناصر جوہری بم کے حصول کی کوششیں مزید تیز کر سکتے ہیں۔‘

    شمالی امریکہ سے نامہ نگار گیری او ڈونوگھو کے مطابق ’یہ ابتدائی معاہدہ محض ایک آغاز ہے۔ آبنائے ہرمز سمیت کئی اہم معاملات پر اب بھی سوالات برقرار ہیں جن کے جواب معاہدے کا مکمل متن منظر عام پر آنے کے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔‘

  7. فوج غیر معینہ مدت تک لبنان میں موجود رہے گی: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان میں اپنی موجودگی بغیر کسی وقت کی پابندی کے برقرار رکھے گی۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی اور اسرائیلی حکام کے درمیان ایک ابتدائی نوعیت کے معاہدہ کا اعلان کیا گیا ہے، جسے پاکستان کی ثالثی سے طے کیا گیا۔ ثالثوں کے مطابق اس معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کی شق شامل ہے۔

    عبرانی زبان میں جاری اپنے بیان میں اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ’اسرائیل، موجودہ اور متوقع بین الاقوامی دباؤ کے باوجود لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی مخالفت کرتا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے ساتھ اتفاقِ رائے کے تحت اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم ’سکیورٹی زونز‘ میں غیر معینہ مدت تک موجود رہے گی۔‘

    وزیر دفاع کے مطابق اسرائیل کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ’شدت پسندوں کی تمام تنصیبات‘ کو تباہ کیا جائے گا اور اسرائیل نے اپنے اس مؤقف سے امریکی حکام کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    اسرائیل کاٹز نے مزید کہا کہ ’اگر لبنان کے واقعات کے باعث ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیل پوری قوت کے ساتھ جواب دے گا۔‘

  8. لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ضروری ہے: ایران کا مطالبہ

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ نے آج صبح ترکیہ، عراق اور مصر کے اپنے ہم منصبوں سے ٹیلیفونک رابطے کیے۔ عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام پیغام میں بتایا کہ دیگر رہنماؤں سے ہونے والی بات چیت کے دوران لبنان کی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    انھوں نے زور دیا کہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کو مکمل طور پر روکا جانا چاہیے۔ عراقچی نے اس حوالے سے امریکہ کی ذمہ داری کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں واشنگٹن کا کردار اہم ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اقدامات اور جنگ بندی کے وعدوں پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

  9. تجزیہ: لبنان میں لوگ اب بھی امریکہ، ایران معاہدے کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں, ہوگو بچیگا، بی بی سی کے مشرقِ وسطیٰ کے نامہ نگار

    لبنان کو ایک بار پھر امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروہ حزب اللہ کے درمیان جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔

    لبنان کے جنوبی حصے میں جہاں اسرائیل تواتر سے فضائی حملے کرتا آیا ہے آج صبح صورتحال بظاہر پُرسکون نظر آئی۔ تاہم لوگ جنگ بندی کے اعلان کو لے کر اب بھی کافی محتاط دکھائی دیتے ہیں۔

    حکام کی جانب سے انتباہات کے باوجود کے علاقے میں واپس آنا ابھی محفوظ نہیں کچھ خاندان نے لوٹنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بے گھر ہونے والے افراد کا ایک قافلہ جب اپنے گاؤں پہنچا ہے تو ایک سڑک اسرائیلی ٹینک کی وجہ سے بند تھی۔

    ایران اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ بات حزب اللہ کے حامیوں میں ایران کا امیج مضبوط بنانے کے لیے اہم ہے جو اس تنازع سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ لبنان میں تہران کے اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

    یہ سب اُس وقت ہو رہا ہے جب لبنانی حکومت دونوں محاذوں کو علیحدہ رکھنے، ایرانی اس اثر و رسوخ کم کرنے اور اس کے نتیجے حزب اللہ کو مزید تنہا کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ تاہم حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مقصد تاحال حاصل نہیں کیا جا سکا۔

    لبنان کے لیے یہ جنگ تباہ کن ثابت ہوئی ہے۔

    3,700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ملک کے تقریباً 5 فیصد علاقے پر اسرائیل کا قبضہ ہے اور اس انخلا کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہیں۔ جنوبی علاقوں کے درجنوں دیہات تباہ ہو چکے ہیں اور یہ واضح نہیں کہ تعمیرِ نو کے اخراجات کون برداشت کرے گا۔ دس لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں، جن میں اکثریت شیعہ مسلمانوں کی ہے جو کہ حزب اللہ کی حمایتی ہیں۔

    لبنانی عوام کے پاس شکوک و شبہات کی وجوہات موجود ہیں۔ 2024 میں ختم ہونے والی جنگ بندی بھی امن نہیں لا سکی تھی۔ اسرائیل تقریباً روزانہ حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا، اور بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ جب عالمی توجہ اس خطے سے ہٹ جائے گی تو حالات دوبارہ ویسے ہی ہو سکتے ہیں۔

  10. آبنائے ہرمز سے باردوی سرنگیں صاف کرنے میں کتنا وقت لگے گا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا ہے کہ جمعے کے روز ’معاہدے‘ پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو ’بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے‘ کھول دیا جائے گا۔

    تہران نے 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد آبنائے کو مکمل طور پر بند کر دیا تھا۔

    امریکی بحریہ کے ایک ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ کو بتایا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرنے میں ’کئی ہفتوں سے لے کر مہینوں تک‘ کا وقت لگ سکتا ہے۔

    ایڈمرل مارک مونٹگمری جو فاؤنڈیشن فار دی ڈیفنس آف ڈیموکریسیز میں سینئر فیلو بھی ہیں کہتے ہیں کہ اس عمل میں تمام بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور انھیں ہٹانا شامل ہے تاکہ امریکی یا اتحادی فوجی جہازوں کی نگرانی کے بغیر آبنائے ہرمز سے مکمل آزادی کے ساتھ آمدورفت ممکن ہو سکے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ بحری ٹریفک بحال ہونے کے بعد تیل کی برآمدات پر پابندیوں کے اثرات سے دنیا کو ’مکمل ریلیف‘ ملنے میں دو ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر کچھ ’واضح ریلیف‘ ضرور محسوس کیا جا سکے گا۔

  11. امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائیں گے: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    پیر کے روز پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے نتیجے میں آنے والے عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے تباہ کن اثرات سے پوری دنیا اور اس کی معیشت لرز گئی اور پاکستان کی معیشت پر بھی بے پناہ اثر آیا جو اب تک جاری ہے۔

    ’میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ حکومت اس امن معاہدے کے نتیجے میں عالمی معاشی استحکام کے ثمرات ہر پاکستانی کو پہنچائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف پاکستان میں بسنے والوں بلکہ دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے باعثِ افتخار ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس جنگ کے شعلے بھجانے اور امن کے قیام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے شب و روز وقف کر دیے۔

    انھوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران اس دوران کئی مواقع ایسے آئے جب لگا کہ ابھی معاملہ ختم ہو جائے گا مگر فیلڈ مارشل نے ہمت نہیں ہاری جس کے نتیجے میں کل رات جنگ بندی کا اعلان ہوا۔

  12. جمعہ کو جنیوا میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا: شہباز شریف

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہو گی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔

    پیر کے روز پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا نے امن کا تاریخی سنگِ میل عبور کیا ہے اور ایران اور امریکہ نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ’اس تاریخی معاہدے کی باضابطہ تقریب جمعہ 19 جون کو جنیوا میں ہوگی اور اس تقریب کی میزبانی پاکستان کی ہو گی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف دو ممالک کے درمیان معاہدہ نہیں بلکہ امن اور مکالمے کی فتح، یہ سفارتکاری کی کامیابی اور جنگ کی تباہی ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ اور ایرانی صدر سمیت اس امن عمل میں شریک میں تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہیں ہیں جنھوں نے تدبر، دانش اور صبر کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔

    مذاکرات کے ’کٹھن اور صبر آزما عمل‘ میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی، سعودی علی عہد محمد بن سلمان، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

  13. ہم ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے شراکت دار نہیں اور نہ ہی ہم اس کے پابند ہیں، اسرائیلی وزیر

    اسرائیل کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر تاحال باضابطہ طور پر بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    تاہم اسرائیل کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے اس معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اس معاہدے کے شراکت دار نہیں جو ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا، اور نہ ہی یہ ہمیں کسی طور پابند کرتا ہے۔‘

    اُنھوں نے لبنان سے تعلق رکھنے والے اس مسلح سیاسی گروپ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو ’حزب اللہ کے خاتمے‘ سے کم کسی چیز پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔

    ’لبنان سے اسرائیل کی جانب بھیجا جانے والا ہر ڈرون، بغیر پائلٹ طیارہ یا میزائل داحیہ میں اسرائیلی حملے کا باعث بنے گا۔‘

    بن گویر اکثر اپنی ہی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں اور برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اُن پر ’فلسطینیوں کے خلاف بار بار تشدد پر اکسانے‘ کے الزامات کے تحت پابندیاں بھی عائد کی جا چکی ہیں۔

  14. مردان میں پاکستان فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دونوں پائلٹ ہلاک, بلال احمد، بی بی سی پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع مردان کے علاقے کاٹلنگ روڈ پر پاکستان فضائیہ کا ایک تربیتی طیارہ گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ اس حادثے میں طیارے میں سوار دونوں پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب وہ حادثے کا شکار ہوا۔

    آئی ایس پی آر نے اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افسران کی شناخت پاکستان فضائیہ کے فلائیٹ لیفٹننٹ محمد قاسم عبداللہ اور پاکستان بحریہ کے لیفٹننٹ طحہ عباسی کے نام سے کی ہے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی کے مطابق جہاز کاٹلنگ روڈ پر جبر نہر کے قریب صبح کے وقت حادثے کا شکار ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ ریسکیو 1122 کو اطلاع ملتے ہی فائر وہیکل اور دیگر عملہ فورا جائے حادثہ پر پہنچا۔ ان کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو مردان میڈیکل کمپلیکس منتقل کردیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی کاٹلنگ عجب خان نے بھی بی بی سی کو تربیتی طیارہ مردان کے جبر تھانہ کی حدود میں گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    اس حادثے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے جس میں صبح آٹھ بج کر 13 منٹ پر معمول کے مطابق جبر نہر کے علاقے میں ٹریفک رواں تھی کہ اچانک جہاز آ گرا اور آگ کے شعلے بلند ہو گئے۔

  15. امریکہ، ایران معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 2800 پوائنٹس کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار میں تیزی کا رجحان دیکھا گیا اور کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 2800 پوائنٹس اضافے کے بعد 175183 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

    پیر کے روز جب کاروبار آغاز ہوا تو انڈیکس میں 4500 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انڈیکس 176814 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا تھا جو بعد ازاں 1700 پوائنٹس نیچے آگیا۔

    سٹاک ایکسچینج کے تجزیہ کاروں کے مطابق انڈیکس میں اضافے کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی ہے جس کا پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر مثبت اثر مرتب ہوا۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے پر پاکستان سٹاک تیزی کی توقع تھی اس لیے جیسے ہی معاہدے کا اعلان ہوا اور تیل کی قیمتوں میں کمی ہوئی تو اس کا مثبت ردعمل سٹاک ایکسچینج میں کاروبار پر دیکھا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ بجٹ میں سپر ٹیکس پر ریلیف کا بھی مارکیٹ میں مثبت اثر پڑا ہے۔ جبران سرفراز کا مزید کہنا ہے کہ بجٹ مجموعی طور پر مثبت رہا اس لیے مارکیٹ نے اس پر مثبت ردعمل دیا ہے۔

  16. تجزیہ: ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا معاہدہ اہم ہے لیکن یہ صرف آغاز ہے, گیری او ڈونو، چیف نامہ نگار برائی شمالی امریکہ

    یہ معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم لمحہ ہے — وہ اتوار کو اپنی 80ویں سالگرہ کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سفارتی پیش رفت کا جشن بھی منا رہے ہیں۔

    کئی مرتبہ امیدیں ٹوٹنے کے بعد اب ایسا لگتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کم از کم ایک بات پر متفق ہیں — کہ ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ اگرچہ دونوں دارالحکومتیں اس معاہدے کے اُن پہلوؤں کو اجاگر کر رہی ہیں جو ان کے نزدیک زیادہ قابلِ قبول ہیں۔

    ایک اور نمایاں نکتہ یہ ہے کہ دونوں فریقوں کی جانب سے مہیا کی گئی تفصیلات میں لبنان کا ذکر شامل ہے۔ حالانکہ اسرائیل اور حزب اللہ اس معاہدے کے فریق نہیں اس کے باوجود اس بات کا خدشہ ہے کہ آیا وہ معاہدے پر آمادہ ہوں گے یا نہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ — اگرچہ اہم ہے — صرف ایک آغاز ہے۔

    یہ 60 دن کے ایسے مرحلے کا آغاز کرے گا جس کے دوران امریکہ اور ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ ایران کے جوہری مواد کو کیسے تلف اور منتقل کیا جائے۔ یہ مرحلہ بڑی آسانی سے تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔

    آبناۓ ہرمز کے معاملے پر بھی ابھی تک اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے متعلق تفصیلات پر بھی دونوں فریقوں کے مؤقف میں ہم آہنگی نہیں۔

    ان میں سے بہت سے سوالات اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک مکمل اور حتمی متن منظرِ عام پر نہیں آ جاتا۔

    تاہم ایک بات واضح ہے: ٹرمپ کی جانب سے ایرانی عوام کو دی گئی یقین دہانی کہ ’مدد آ رہی ہے‘ اور یہ کہ امریکی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد حکومت ان کے ہاتھ میں آ جائے گی، فی الحال ممکن ہوتی نظر نہیں آتی۔

  17. ایران، امریکہ معاہدے کو مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہیں: پاکستانی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اہم پیش رفت مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت اور دوست ممالک کے اس اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ یہ عالمی منڈیوں اور عالمی معیشت بالخصوص ان ترقی پذیر ممالک کو اعتماد اور استحکام فراہم کرے گا جو علاقائی عدم استحکام سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

    ایکس پر جاری پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ اس تمام عرصے کے دوران پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہا اور مسلسل ضبط و تحمل اور تعمیری مذاکرات کی حمایت کرتا رہا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد کو سراہتا ہے۔

    انھوں نے مسئلے کے پُرامن اور سفارتی حل کے لیے ایران اور امریکہ کے عزم کی بھی تعریف کی۔

    ’ہم اپنے برادر ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر اور دیگر کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ اور اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کی حمایت اور مخلصانہ سفارتی کوششوں پر بھی شکر گزار ہیں، جو اس تمام عمل کے دوران قریبی رابطے میں رہے اور اس اہم سنگِ میل کے حصول میں مددگار ثابت ہوئے۔‘

    اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ زیرِ التوا معاملات پر مذاکرات کے دوران پاکستان اس معاہدے کو مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی حمایت کے لیے تیار ہے۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ یہ مثبت پیش رفت پائیدار امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کی راہ ہموار کرے گی۔

  18. فرانس میں جی-سیون اجلاس کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ زیرِ بحث آنے کا امکان

    آج فرانس میں جی-سیون ممالک کا اجلاس ہو رہا ہے جہاں دیگر معاملات کے علاوہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے ہونے والا معاہدہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

    اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے پر دستخط جمعہ کے روز متوقع ہیں، جی-سیون ارکان کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاہدے بالخصوص آبنائے ہرمز سے کھولے جانے کے متعلق پوچھے جانے کا امکان ہے۔

    اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا ہے کہ اجلاس کے دوران نئے معاہدے کے تحت لبنان کی حمایت کا معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

    اس سال کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر موضوعات میں روس کے ساتھ جنگ ​​کے دوران یوکرین کی حمایت اور مصنوعی ذہانت میں اضافہ شامل ہے۔

  19. ایران کے ساتھ معاہدہ آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے‘: جے ڈی وینس

    اتوار کے روز امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ ’آئندہ 50 برسوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ کو ’بالکل بدل کر رکھ سکتا ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ کہ ’یہ خطہ میری پوری زندگی کے دوران اور اس سے پہلے سے بھی مسائل کا شکار رہا ہے۔‘

    وینس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ’ایران کے خطرے کو ختم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

    امریکی نائب صدر کا کہنا ہے کہ اب ’مشرقِ وسطیٰ میں خوشحالی اور کامیابی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھنا ممکن ہو گا۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ہم اس خطے سے امریکی عوام کے لیے بھی خاصی خوشحالی پیدا کر سکتے ہیں۔

  20. تہران اور واشنگٹن کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی فٹبال ٹیم اپنے افتتاحی میچ کے لیے لاس اینجلس پہنچ گئی

    ایران کی فٹ بال ٹیم فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچ گئی ہے۔ ایرانی ٹیم اس وقت لاس اینجلس ایئرپورٹ پر اتری جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا گیا۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ایرانی ٹیم کے نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں اس کے افتتاحی ورلڈ کپ میچ سے صرف ایک روز قبل طے پایا ہے۔ اس سے مزید کشیدگی کے خدشات تو کم ہوئے ہیں تاہم ٹیم کے حوالے سے پائے جانے والے تنازعات اب بھی موجود ہیں۔

    ایرانی فٹبال ٹیم کے سٹرائیکر مہدی طارمی نے بی بی سی کو بتایا کہ جاری کشیدگی نے ٹیم کی آمد کے لمحے سے ہی ٹورنامنٹ کو متاثر کیا ہے۔

    تیاریوں میں بھی خلل پڑا ہے۔

    ایرانی ٹیم کو ویزا مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور اسے اپنا ورلڈ کپ بیس کیمپ میکسیکو منتقل کرنا پڑا۔

    جب ایرانی ٹیم لاس اینجلس میں میدان میں اترے گی تو شہر میں مقیم ایرانیوں کی بڑی تعداد میچ دیکھنے کے لیے موجود نہیں ہو گی۔

    کچھ افراد فیفا کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلاب سے قبل کے ’شیر و خورشید‘ کے پرچم پر پابندی کے خلاف احتجاج کا منصوبہ بنا رہے ہیں، جبکہ دیگر اس ٹیم کو ایک ایسے نظام کی نمائندہ سمجھتے ہیں جسے وہ ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

    کھلاڑیوں کا اصرار ہے کہ وہ یہاں ایرانیوں کو متحد کرنے اور فٹ بال پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے آئے ہیں۔

    لیکن اس ٹیم کے لیے سیاست سے بچنا ممکن نہیں رہا۔