طویل المدتی توانائی کے بحران سے بچنے کے امکانات روشن، عالمی معیشت کے لیے مثبت اشارے, بی بی سی کے معاشی امور کے مدیر فیصل اسلام کا تجزیہ
اگرچہ اس معاہدے کے حوالے سے بعض تحفظات اور خدشات اپنی جگہ موجود ہیں تاہم موجودہ صورتحال میں طویل المدتی توانائی بحران سے بچنے کے امکانات پہلے سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ خلیج میں رکے ہوئے سیکڑوں آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہونے میں وقت لگے گا۔ اسی طرح خطے میں جنگ کے دوران متاثر ہونے والی متعدد گیس تنصیبات کی بحالی میں بھی کئی ماہ درکار ہوں گے۔ مزید یہ کہ تمام پیش رفت کا انحصار ایک نازک اور غیر یقینی امن معاہدے پر ہے۔
تاہم اہم بات یہ ہے کہ اب دنیا کو ایک طویل اور شدید توانائی بحران کا سامنا کرنے کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں۔
عالمی معیشت اور برطانوی معیشت نے اب تک اس بحران کے دوران توقعات سے کہیں زیادہ مضبوطی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ صورتحال ان انتہائی معاشی جھٹکوں تک نہیں پہنچی جو چار سال قبل روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھنے میں آئے تھے۔
پیٹرول کی قیمتوں اور فکسڈ شرح سود پر دستیاب ہاؤسنگ قرضوں (مارگیج) کی شرح میں پہلے ہی کمی آنا شروع ہو چکی ہے۔ اگرچہ جولائی میں گھریلو توانائی بلوں میں اضافہ متوقع ہے تاہم موسم سرما سے قبل اکتوبر میں متوقع بڑے اضافے کے امکانات اب کم ہو گئے ہیں۔
اسی طرح جنوبی نصف کرے میں زرعی کاشت کے موسم کے دوران انتہائی مہنگی کھادوں کے استعمال سے متعلق خدشات بھی کم ہو سکتے ہیں جس سے خوراک کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے خطرات میں کمی آنے کی امید ہے۔
برطانیہ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اگر موجودہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو افراطِ زر یعنی مہنگائی کی شرح شاید چار فیصد تک بھی نہ پہنچے، جبکہ سنہ 2022 میں مہنگائی دو ہندسوں تک جا پہنچی تھی۔
عالمی سطح پر حکومتی قرضوں کی لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں بھی فکسڈ مارگیج ریٹس میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ مالیاتی منڈیاں اب شرح سود میں مزید اضافے کی ضرورت کم محسوس کر رہی ہیں۔
اگرچہ یہ امن معاہدہ ابھی بھی نازک نوعیت کا ہے تاہم عمومی تاثر یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس تنازع کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کی کوشش کریں گے۔
ماہرین کے مطابق عالمی معیشت کو مکمل معمول پر آنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ دنیا طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور معاشی اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ اس کے باوجود موجودہ پیش رفت بلاشبہ برطانیہ سمیت دنیا بھر میں معیشت اور عوام کے معیارِِ زندگی کے لیے ایک مثبت خبر سمجھی جا رہی ہے۔