اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اسرائیل کو کسی طور پر پابند نہیں کرتا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اور وہ امریکہ کے تابع نہیں۔‘ ان کے مطابق ’اسرائیل کی ذمہ داری اپنے شہریوں، اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور یہودی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ اس کے تاریخی فرض کا حصہ ہے۔‘
اتامر بن گویر نے کہا کہ ’ہزاروں سال کی جلاوطنی میں مظلوم اور قتل ہونے والے یہودیوں کے حوالے سے بھی اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل میں یہودیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا، اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی، جس میں اوسلو معاہدے، سنہ 2006 کے لبنان معاہدے اور غزہ میں مختلف ادوار کی پالیسیوں کا حوالہ دیا گیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’وہ امریکہ کا احترام کرتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، تاہم اسرائیل کسی ’کمزور ریاست‘ کی طرح نہیں چل سکتا۔‘
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر کے مطابق ’انھوں نے یہ مؤقف وزیر اعظم کو متعدد بار بتایا ہے اور ہر اہم تاریخی موقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے لمحات میں تاریخی فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘
انھوں نے واضح کیا کہ ’وہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘
ان کے مطابق ’اسرائیل کو حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان علاقوں سے نکلنا چاہیے جنھیں اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں سے ’شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں‘ کو ختم کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کو اس صورتحال کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس میں ہزاروں جنگجو شمالی بستیوں کی سرحدوں پر موجود ہوں اور نہ ہی اس پر خاموش رہنا چاہیے کہ اسرائیل پر حملے کیے جائیں۔‘
اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے خبردار کیا کہ ’لبنان سے اسرائیل کی طرف ڈرون، بغیر پائلٹ طیاروں یا میزائلوں داغے جانے کا جواب بیروت کے جنوبی علاقے ’داحیہ‘ پر اسرائیلی حملے کی صورت میں دیا جائے گا اور مزاہمت کا یہی توازن کچھ عرصہ قبل تک موجود تھا جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘
آخر میں انھوں نے ایکس پر جاری اپنے اس طویل بیان میں کہا کہ ’اسرائیل ایک تین ہزار سال پرانی قوم ہے جو طویل جدوجہد سے نہیں ڈرتی۔‘ ان کے مطابق یہودی قوم اپنی سرزمین پر مضبوط اور باوقار انداز میں واپس آئی ہے اور اب دشمنوں کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔