آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران کو ایک بھی امریکی پیسہ نہیں دیا جائے گا، ایرانی عناصر معاہدے پر پروپیگنڈا کر رہے ہیں: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر نے کہا ’ایرانی معاشرے کے کچھ عناصر اس معاہدے کو اپنے ملک کے عوام کے سامنے زیادہ سے زیادہ مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی رقم کا ایک سینٹ بھی ایران کو نہیں جائے گا، نہ 300 ارب ڈالر، نہ 24 ارب ڈالر، نہ ہی کسی قسم کی کوئی اور رقم۔‘

خلاصہ

  • برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 80 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے، جو مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
  • ایران کی افزودہ یورینیم ضبط کرنے کی جلدی نہیں، معاہدہ منظوری کے لیے کانگریس کو بھیجا جائے گا: صدر ٹرمپ
  • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں 'دہشتگردی' افغانستان سے ہو رہی ہے۔
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ’کامیاب ہونا چاہیے‘ اور ان کو توقع ہے کہ اس معاہدے کا دوسرا مرحلہ ’نسبتاً آسان ہوگا۔‘
  • پاکستانی وزیرِ دفاع نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر حکومت کو ’بلیک میل‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ’ہجوم کو، کسی جلسے جلوس کو اس بات کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔‘
  • حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران، امریکہ مذاکرات کا نیا دور جمعے سے سوئٹزرلینڈ میں شروع ہوگا: عباس عراقچی
  • معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ داخلے کی اجازت ہو گی: جے ڈی وینس

لائیو کوریج

  1. ایران کے لیے پابندیوں میں نرمی معاہدے کا حصہ نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں اقتصادی پابندیوں میں نرمی شامل نہیں ہے۔‘

    صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہ آیا اس معاہدے کے تحت ایران کو پابندیوں سے ریلیف ملے گا، ٹرمپ نے مختصر جواب دیا: ’نہیں، ایسا نہیں ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ دراصل رویے سے متعلق معاملہ ہے۔ اگر وہ وہی کریں گے جو انھیں کرنا چاہیے تو پھر اس کے اثرات خود بخود سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔‘

    بعد ازاں ٹرمپ نے لبنان اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک پیچیدہ تنازع ہے اور امریکہ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ہم اس تنازع کو مکمل طور پر ختم کر سکتے ہیں۔‘

    ٹرمپ کے بقول لبنان کی صورتحال طویل عرصے سے جاری ہے اور ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنازع کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔‘

  2. ایران کے ساتھ معاہدے کا متن ’بہت جلد‘ شائع کیا جائے گا، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی سیون سربراہی اجلاس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میخواں سے ملاقات کر رہے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے بارے میں پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ اس کا متن ’بہت جلد‘ جاری کیا جائے گا، اور یہ بھی کہا کہ غالباً یہ جمعہ کو دستخط ہونے کے بعد جاری ہو گا۔

    اور مزید کہا کہ آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل طور پر کھلی ہو گی۔

  3. ایران امریکہ معاہدے کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی: امریکی عہدیدار, ڈینیل بُش، بی بی سی واشنگٹن

    امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر عوامی طور پر جاری کر دی جائیں گی۔

    انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک طریقے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس نے دستخط کیے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف نے ایران کی جانب سے اس پر دستخط کیے۔

    حکام نے بتایا کہ اس معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب رواں ہفتے جنیوا میں منعقد ہوگی، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو جائے گا۔

    امریکی حکام کے مطابق اس عرصے کے دوران دونوں فریق اہم تنازعات اور باقی ماندہ معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ایک جامع اور مستقل امن معاہدہ طے پا سکے۔

  4. ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اگر صحیح طریقے سے نافذ ہو گیا تو یہ ایران کے لیے ایک ’باعزت دستاویز‘ کے طور پر دیکھا جائے گا: ایرانی صدر

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اگر صحیح طریقے سے نافذ ہو گیا تو یہ ایران کے لیے ایک ’باعزت دستاویز‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر آئی بی اور نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق صدر پزشکیان نے معاہدے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کی اہمیت پر زور دیا۔

    فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے 90 فیصد ارکان نے اس معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’معاہدے کی تفصیلات مناسب وقت پر منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی اور اس حوالے سے مزید اقدامات بعد میں طے کیے جائیں گے۔

    ایرانی صدر کے بیان کو معاہدے کے حق میں ملکی قیادت کی مضبوط حمایت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ مذاکرات میں جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور دیگر اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

  5. آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول ٹیکس نہیں ہوگا: امریکی نائب صدر

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’اتوار کے روز طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایران کو کوئی ٹول ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا۔‘

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وینس نے کہا کہ ’ہماری توقع ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت کے لیے بغیر کسی ٹول فیس کے کھلی رہے گی۔‘

    یاد رہے کہ تنازع کے آغاز کے بعد ایران نے اس اہم سمندری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا محصولات وصول کرنے کا نظام متعارف کرایا تھا۔

    جے ڈی وینس نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ’ٹول فری رسائی عارضی بھی ہو سکتی ہے، تاہم امریکہ آنے والے دنوں میں ایران کے ساتھ مزید مذاکرات جاری رکھے گا تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جا سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ انہی تکنیکی مذاکرات کا حصہ ہے جس پر ہم تفصیلی بات چیت کریں گے۔‘

    وینس کے مطابق معاہدے کی بہت سی اہم تفصیلات ابھی طے ہونا باقی ہیں، جن پر دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر غور کریں گے اور آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

  6. کیا آبنائے ہرمز میں جہاز واقعی روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں؟ ٹرمپ کے دعوے پر سوالات, جوشوا چیتھم، بی بی سی ویریفائی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز حرکت کرنا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے بہت سے تیل سے بھرے ہوئے ہیں‘، تاہم دستیاب بحری ٹریکنگ ڈیٹا سے ابھی تک آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت میں کوئی نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا۔

    ویب سائٹ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف ایک جہاز مکمل طور پر مغرب سے مشرق کی جانب آبنائے ہرمز عبور کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ یہ جاپانی ملکیت کا مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی بردار ٹینکر ’دیشا‘ ہے، جو 13 جون کو قطر کی راس لفان بندرگاہ سے سامان لے کر روانہ ہوا تھا۔

    اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دو دیگر کارگو جہاز، ’کائزر‘ اور ’بلو اوشن 1‘، بھی آبنائے عبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تاہم آٹھ دیگر جہازوں کی نگرانی کی جا رہی ہے جو آبنائے ہرمز کے مغربی کنارے کو عبور کر چکے ہیں جبکہ ایک اور جہاز ایران کے بندر عباس کے علاقے سے روانہ ہوا ہے۔ مگر تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا یہ جہاز بھی بحیرہ عرب کی جانب مکمل سفر کریں گے یا نہیں۔

    ایک اور جہاز ’ایم ایس وی الفضل‘ کے بارے میں بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز عبور کر رہا ہو، لیکن عمان کے شمالی ساحل کے قریب اس کے مقام کا سگنل میرین ٹریفک سے غائب ہو گیا، جس کے باعث اس کی درست پوزیشن کا تعین مشکل ہو گیا ہے۔

    ماہرین کے مطابق جہازوں کے سگنلز مختلف وجوہات کی بنا پر غائب ہو سکتے ہیں، جن میں کمزور کوریج یا سگنلز میں مداخلت شامل ہیں۔

    یہ بھی ممکن ہے کہ جہاز کے عملے نے ٹریکر کو عارضی طور پر بند کر دیا ہو۔ اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق جہازوں کے ٹریکنگ آلات ہر وقت فعال رہنے چاہییں، تاہم ایک استثنا یہ ہے کہ اگر کپتان کو یقین ہو کہ ٹریکر کو فعال رکھنے سے جہاز یا عملے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے تو اسے عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔

  7. ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنائیں گے: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ اقدامات دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ساتھ کیے جائیں گے تاکہ اہم آبی گزرگاہ میں بحری نقل و حرکت محفوظ اور بلا تعطل جاری رہ سکے۔‘

    اسماعیل بقائی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’امریکہ نے جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی اور ملک کی تعمیرِ نو کے حوالے سے اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ نے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں کے خاتمے یا ان میں نرمی کے لیے بھی عملی اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ’امریکہ نے تعمیرِ نو اور اقتصادی پابندیوں سے متعلق دونوں معاملات میں اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔‘

  8. جنوبی لبنان میں دھوئیں کے بادل، دو اہم علاقوں میں حملوں کی اطلاعات

    سوموار کے روز لبنان کے جنوبی دیہات کفر تبنیت میں دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا، جو اس معاہدے کے اعلان کے اگلے دن کا واقعہ ہے۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق سوموار کی صبح سویرے کفر تبنیت اور نباطیہ الفوقا کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    رپورٹ میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں تاہم واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔

  9. ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط عراقچی اور قالیباف کی موجودگی میں ہوں گے: جے ڈی وینس

    امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر دستخط جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں کیے جائیں گے اور اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف بھی موجود ہوں گے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’معاہدے کی کئی تفصیلات ابھی بھی طے نہیں ہو سکیں ہیں تاہم امریکہ توقع رکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز طویل مدت میں ’بغیر کسی رکاوٹ کے کھلی رہے گی۔‘

    دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کی جانب سے معاہدے پر کون دستخط کرے گا۔‘

    ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران ’ٹول وصول کرنے کا خواہاں نہیں‘، تاہم وہ ’خدمات فراہم کرنے کی لاگت‘ ضرور وصول کرے گا۔

  10. خام تیل کی منڈیوں کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سکون کا باعث, بی بی سی نیوز میں معاشی امور کی نائب مُدیر دھرشینی ڈیوڈ کا تجزیہ

    خام تیل کی منڈیوں کے لیے یہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سکون کا باعث بنا ہے۔

    اگرچہ خام تیل کی قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جو تنازع سے پہلے دیکھی جا رہی تھیں اور مشرق وسطیٰ میں پیداوار کو معمول پر آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔

    خطے میں تیل کی پیداوار تقریباً نصف تک پہنچ چُکی ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑھنے والی قیمتوں کا اثر ابھی عالمی سپلائی چینز پر مکمل طور پر ظاہر ہونا باقی ہے۔ اس کے باعث مہنگائی کچھ عرصے تک بلند سطح پر رہنے کا امکان ہے، تاہم یہ صورتحال پہلے کے خدشات کے مقابلے میں شدت میں کم ہوگی۔

    ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ بالکل بروقت ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں تیل کی عالمی منڈی میں شدید کمی اور رسد کے بحران کے خدشات بڑھ رہے تھے۔

    مشرق وسطیٰ میں پیداوار میں کمی کو جزوی طور پر امریکہ کی جانب سے پیداوار بڑھا کر اور چین کی جانب سے اپنے ذخائر استعمال کر کے پورا کیا گیا، تاہم خدشہ یہ تھا کہ عالمی ذخائر جولائی تک خطرناک حد تک کم ہو سکتے ہیں جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ اور حکومتوں، صارفین اور کمپنیوں کے لیے مشکل فیصلوں کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی۔

    تاہم یہ بہتری اس شرط پر ہے کہ خطے میں امن قائم رہے اور صورتحال مزید خراب نہ ہو۔

  11. آبنائے ہرمز سے تیل سے بھرے جہازوں کی روانگی شروع ہو گئی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے روانہ ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ان میں سے کئی جہاز تیل سے بھرے ہوئے ہیں۔‘

    انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’یہ جہاز جنوبی راستے سے گزر رہے ہیں، جو ان کے بقول ’بالکل محفوظ، قابلِ اعتماد اور صاف و شفاف‘ ہے۔

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ سمندری سفر کے لیے دیگر راستے بھی موجود ہیں۔

    ادھر بی بی سی کے تحقیقاتی یونٹ بی بی سی ویریفائی کے مطابق بحری جہازوں کی ٹریکنگ سے متعلق ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا ہے، جس میں پہلے بھی یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ معاہدے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہوا دیکھا گیا۔

    بی بی سی کے مطابق اس حوالے سے مزید تفصیلات جلد سامنے لائی جائیں گی۔

  12. کیا یہ معاہدہ برقرار رہ سکے گا؟, بی بی سی سکیورٹی امور کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کا تجزیہ

    امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی ابتدائی اطمینان کی کیفیت کے بعد آنے والے دنوں میں غیر یقینی اور تشویش میں اضافہ متوقع ہے۔

    اچھی خبر یہ ہے کہ ایران اور امریکہ دونوں ہی دشمنی کے خاتمے اور خلیج کے ذریعے تجارت کی مکمل بحالی کے خواہشمند ہیں۔ تاہم اس معاہدے کے ٹوٹنے یا متاثر ہونے کے کئی ممکنہ خدشات موجود ہیں۔

    سب سے پہلے لبنان کی صورتحال ہے۔ ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کے مطابق اس معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے اور اس کے تحت خطے میں تمام جنگوں کا خاتمہ ہونا چاہیے، بشمول اسرائیل اور ایران کے اتحادی حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے۔

    اگر یہ تنازع دوبارہ بھڑکتا ہے تو سوال یہ ہے کہ آیا ایران اس کے جواب میں اسرائیل کو نشانہ بنائے گا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا امریکہ ایران کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا یا واشنگٹن اسرائیل کو اکیلے اس جنگ کا سامنا کرنے دے گا؟

    دوسرا بڑا مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے۔ 60 دن کی جو مہلت اس جنگ بندی میں دی گئی ہے وہ اس بات پر اتفاق کے لیے بہت کم ہے کہ ایران کو کتنا یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت ہوگی اس کے بدلے میں پابندیاں کیسے ہٹائی جائیں گی اور ایران کے موجودہ خطرناک حد تک افزودہ یورینیئم کے ذخائر کا کیا کیا جائے گا اور یہ سب کب اور کیسے ہوگا؟

    تیسرا اہم مسئلہ آبنائے ہرمز ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس نے اس جنگ میں ’فتح‘ حاصل کی ہے اور اب وہ اس تنگ آبی گزرگاہ پر اپنی خودمختاری یا اس کے کچھ حصے پر تسلیم شدہ کنٹرول چاہتا ہے۔

    تاہم یہ مؤقف خلیجی عرب ممالک کے لیے ناقابل قبول ہے جو چاہتے ہیں کہ جنگ سے پہلے کی طرح اس آبی گزرگاہ میں مکمل اور آزادانہ بحری آمد و رفت بحال ہو، جیسا کہ 28 فروری کو تنازع شروع ہونے سے پہلے تھا۔

    مجموعی طور پر صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ معاہدہ ایک اہم پیش رفت ہے لیکن اس کے برقرار رہنے کے حوالے سے کئی سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔

  13. معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ایران کو بغیر کسی رکاوٹ کے تیل فروخت کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جوہری مسئلہ اس مفاہمتی یادداشت میں شامل نہیں کیا گیا اور اس پر بات چیت معاہدے پر دستخط کے اگلے روز شروع ہوگی۔‘

    اسماعیل بقائی کے مطابق تفصیلات پر ابھی بات نہیں ہوئی تاہم ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مؤقف واضح ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’تمام پابندیوں کا خاتمہ، بشمول بنیادی اور ثانوی پابندیاں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیاں، اور آئی اے ای اے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، جوہری معاملے کے ساتھ جڑے اہم امور ہیں، جن پر معاہدے پر دستخط کے بعد بات چیت ہوگی اور 60 دن کے اندر اتفاق رائے حاصل کیا جائے گا۔‘

    ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات کی تلافی کو بھی اہم قرار دیا۔

    اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران کو تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور تیل سے متعلق دیگر اشیاء کی فروخت میں کسی بھی رکاوٹ یا مسئلے کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔‘

  14. اسرائیل امریکہ ایران معاہدے کا پابند نہیں: قومی سلامتی وزیر کا سخت مؤقف

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اسرائیل کو کسی طور پر پابند نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے اور وہ امریکہ کے تابع نہیں۔‘ ان کے مطابق ’اسرائیل کی ذمہ داری اپنے شہریوں، اسرائیلی فوج کے اہلکاروں اور یہودی عوام کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے اور یہ اس کے تاریخی فرض کا حصہ ہے۔‘

    اتامر بن گویر نے کہا کہ ’ہزاروں سال کی جلاوطنی میں مظلوم اور قتل ہونے والے یہودیوں کے حوالے سے بھی اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل میں یہودیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اسرائیل نے بین الاقوامی دباؤ کے تحت اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کیا، اس کی بھاری قیمت چکانی پڑی، جس میں اوسلو معاہدے، سنہ 2006 کے لبنان معاہدے اور غزہ میں مختلف ادوار کی پالیسیوں کا حوالہ دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وہ امریکہ کا احترام کرتے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں، تاہم اسرائیل کسی ’کمزور ریاست‘ کی طرح نہیں چل سکتا۔‘

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر کے مطابق ’انھوں نے یہ مؤقف وزیر اعظم کو متعدد بار بتایا ہے اور ہر اہم تاریخی موقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے لمحات میں تاریخی فیصلے کرنا ضروری ہوتا ہے۔‘

    انھوں نے واضح کیا کہ ’وہ اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کو یقینی نہیں بناتا۔‘

    ان کے مطابق ’اسرائیل کو حزب اللہ کے مکمل خاتمے سے کم کسی چیز پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی ان علاقوں سے نکلنا چاہیے جنھیں اسرائیلی فوج نے اپنے کنٹرول میں لے کر وہاں سے ’شدت پسندوں کے اہم ٹھکانوں‘ کو ختم کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسرائیل کو اس صورتحال کی اجازت نہیں دینی چاہیے جس میں ہزاروں جنگجو شمالی بستیوں کی سرحدوں پر موجود ہوں اور نہ ہی اس پر خاموش رہنا چاہیے کہ اسرائیل پر حملے کیے جائیں۔‘

    اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتامر بن گویر نے خبردار کیا کہ ’لبنان سے اسرائیل کی طرف ڈرون، بغیر پائلٹ طیاروں یا میزائلوں داغے جانے کا جواب بیروت کے جنوبی علاقے ’داحیہ‘ پر اسرائیلی حملے کی صورت میں دیا جائے گا اور مزاہمت کا یہی توازن کچھ عرصہ قبل تک موجود تھا جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔‘

    آخر میں انھوں نے ایکس پر جاری اپنے اس طویل بیان میں کہا کہ ’اسرائیل ایک تین ہزار سال پرانی قوم ہے جو طویل جدوجہد سے نہیں ڈرتی۔‘ ان کے مطابق یہودی قوم اپنی سرزمین پر مضبوط اور باوقار انداز میں واپس آئی ہے اور اب دشمنوں کے سامنے جھکنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

  15. حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف، ایران امریکہ معاہدے کے بعد کوئی کارروائی نہیں کی: روئٹرز

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے حزب اللہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد گروپ کی جانب سے کوئی پرتشدد کارروائی نہیں کی گئی۔‘

    اہلکار کے مطابق حزب اللہ کا جنگ بندی سے متعلق مؤقف اس بات سے مشروط ہے کہ اسرائیل بھی اس پر مکمل عمل کرے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرنے والے اس اہلکار نے مزید کہا کہ ’حزب اللہ لبنان میں اسرائیل کی ’آزادانہ نقل و حرکت‘ کو مسترد کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط اس لیے مؤخر کیے تاکہ لبنان میں جنگ بندی پر اسرائیل کے طرزِ عمل کی نگرانی کی جا سکے۔

    تاہم حزب اللہ نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔

  16. ایران کے یورینیئم ذخائر کو ختم یا انھیں کمزور کرنا ضروری ہے: فرانسیسی صدر میکخواں

    فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو غیر مؤثر بنایا جانا چاہیے اور انھیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اعلان کے بعد میکرون نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ باقی ماندہ افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو مناسب طریقے سے غیر مؤثر بنایا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’حساس مواد کو یا تو ایران سے باہر منتقل کیا جائے یا اسے کمزور کیا جائے اور پھر اسے مکمل طور پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جائے۔‘

    دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے تین روز قبل امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ’ایران نے اصفہان جوہری تنصیب میں موجود بعض سرنگوں کو تباہ کر دیا ہے اور اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیئم تک ممکنہ امریکی رسائی روکنے کے لیے سرنگوں کے داخلی راستوں کو بارودی مواد سے بند کر دیا ہے۔‘

    رپورٹ کے مطابق ان اقدامات کے باعث ان مواد تک رسائی مزید مشکل اور خطرناک ہو گئی ہے۔

    تاہم ایران اور امریکہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    ایران کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کے جوہری پروگرام اور یورینیئم ذخائر سے متعلق مذاکرات دوسرے مرحلے میں داخل ہوں گے۔

  17. آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج میں تقریباً 500 بحری جہاز موجود ہیں: میرین ٹریفک

    جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے مغرب میں خلیج کے علاقے میں 230 سے زائد آئل ٹینکرز اور 250 کارگو جہاز موجود ہیں، جن کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں چھوٹی کشتیاں اور ٹگ بوٹس بھی دیکھی گئی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ٹریک کیے گئے آئل ٹینکرز میں سے صرف ایک محدود تعداد مکمل طور پر سامان سے لدی ہوئی ہے، جبکہ زیادہ تر ٹینکرز خالی یا جزوی طور پر لوڈ ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 70 فیصد ٹینکرز حرکت میں نہیں بلکہ ایک ہی جگہ پر موجود ہیں۔ ان میں سے متعدد جہاز سعودی عرب، عراق اور متحدہ عرب امارات کی بڑی تیل برآمدی بندرگاہوں کے قریب جمع ہیں، جبکہ زیادہ تر جہاز گزشتہ ایک ماہ سے خلیج ہی میں موجود ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بحری جہازوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ متعدد جہاز اپنے لوکیشن سگنلز بند رکھتے ہیں اور ٹریکنگ ڈیٹا میں ظاہر نہیں ہوتے۔

  18. لبنان میں جنگ کا خاتمہ معاہدے کا لازمی حصہ ہے: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ ’لبنان امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا اہم حصہ ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’لبنان میں جنگ کا خاتمہ اس معاہدے کا لازمی حصہ ہے اور ہم عملی طور پر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ ہم اس پر سنجیدہ ہیں اور دوسری جانب کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے تمام ذرائع استعمال کریں گے۔‘

    انھوں نے اس سوال کا براہ راست جواب نہیں دیا کہ آیا مفاہمتی یادداشت میں اسرائیل کے جنوبی لبنان سے انخلا کا ذکر موجود ہے یا نہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاہدے میں ’لبنان‘ کا لفظ تین مرتبہ آیا ہے، جس میں تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان اور اس کی علاقائی سالمیت و خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔‘

  19. امریکہ ایران امن معاہدہ اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہے: اسرائیلی وزیر خزانہ

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ’اسرائیل اور پوری دنیا کے لیے ’نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایکس پر اپنے بیان میں سموٹریچ نے کہا کہ ’اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے مہم خود جاری رکھنا ہوگی اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم نے ایران کو کمزور کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور یہ کامیابیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔‘

    اس سے قبل اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی اس معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم اس معاہدے کے فریق نہیں ہیں کیونکہ یہ ہماری سلامتی کو یقینی نہیں بناتا اور نہ ہی یہ کسی طور پر ہمارے لیے بہتر ہے۔‘

    سموٹریچ اور بن گویر دونوں پر برطانیہ اور بعض دیگر ممالک کی جانب سے پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ دونوں رہنماؤں نے فلسطینی برادریوں کے خلاف بارہا تشدد پر اکسانے والے بیانات دیے ہیں۔

  20. امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے، اسرائیل اور امریکہ ایک پیج پر نہیں, بی بی سی نیوز یروشلم جون ڈونیسن کا تجزیہ

    اسرائیل کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے روزنامے ’یدیعوت احرونوت‘ کی آج کی سرخی تھی: ’محاذ آرائی۔‘

    تاہم یہ محاذ آرائی امریکہ اور ایران کے درمیان نہیں، بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان پائی جانے والی پالیسی اختلافات کی عکاسی کرتی ہے۔

    امریکہ اور مشرق وسطیٰ میں اس کے قریبی اتحادی اسرائیل کے درمیان اس معاہدے کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی دکھائی نہیں دیتی۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل کو معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن اس سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    گزشتہ شب نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’بہت مشکل اور پیچیدہ شخصیت‘ قرار دیا۔

    امریکہ میں رائے عامہ کے دباؤ اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ بظاہر اس مہنگی اور غیر مقبول جنگ کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں۔

    اس کے برعکس اسرائیل میں نیتن یاہو پر جنگ جاری رکھنے کے لیے سیاسی دباؤ موجود ہے۔ انھیں چند ماہ بعد متوقع انتخابات کا بھی سامنا کرنا ہے اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان انتخابات کے نتیجے میں ان کا اقتدار ختم ہو سکتا ہے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں قانونی مشکلات بڑھ سکتی ہیں، اگرچہ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو خود کو جنگی دور کے ایک مضبوط رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی کا دفاع کر رہا ہے، اور یہی حکمت عملی ان کے سیاسی مستقبل اور اقتدار میں بقا کے امکانات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔