آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بنوں-لکی مروت سرحد پر جھڑپ کے دوران سات شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پولیس حکام نے بتایا کہ 15 سے 20 مسلح افراد تختی خیل کے علاقے میں موجود تھے جنھیں ابتداً لکی مروت اور بنوں کی امن کمیٹیوں کے ارکان نے گھیرے میں لیا۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں سات شدت پسند مارے گئے۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ نے بی بی سی کی جانب سے معافی کے باوجود ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک پولیس سٹیشن میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں
  • انڈین ریاست بہار میں ریاستی انتخابات کے مکمل نتائج سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کی جماعت بی جے پی 89 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے
  • حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ہونے والے دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث ٹی ٹی پی کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے
  • 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججز نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ججز میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. جسٹس امین الدین نے وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان نے پاکستان میں نئی قائم کردہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ایوان صدر میں منعقد کی گئی تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل شاہد شمشاد مرزا، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف جسٹس آف پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    حلف برداری کی تقریب میں پارلیمنٹ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی تھی۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت قانون وانصاف نے جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے اور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہی کر سکتے ہیں۔

  2. بی بی سی کا ٹرمپ کے وکلا کو جواب: ’دستاویزی فلم نے ٹرمپ کو نقصان نہیں پہنچایا‘

    پینوراما پروگرام کے کلپ میں ٹرمپ کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’ہم کیپیٹل کی طرف چلتے ہوئے جائیں گے۔۔۔ میں وہاں آپ کے ساتھ ہوں گا۔ ہم لڑیں گے، شدت کے ساتھ لڑیں گے۔‘

    فاکس نیوز پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی تقریر کو ’کاٹا گیا‘ اور یوں دیکھنے والوں کو ’دھوکہ‘ دیا گیا۔

    اتوار کے روز بی بی سی کو ٹرمپ کے وکلا کا خط موصول ہوا جس میں بی بی سی سے نہ صرف معافی بلکہ معاوضے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس خط میں جمعے یعنی آج کی ڈیڈلائن مقرر کی گئی ہے۔

    ٹرمپ کی وکلا ٹیم کو لکھے گئے خط میں بی بی سی نے پانچ مرکزی دلائل پیش کیے ہیں:

    • اس کا کہنا ہے کہ بی بی سی کے پاس پینوراما پروگرام کی قسط کو امریکی چینلز پر دکھانے کا حق نہیں اور نہ ہی اس نے اسے امریکی چینلز کو ڈسٹریبیوٹ کیا۔ جب دستاویزی فلم بی بی سی آئی پلیئر پر دستیاب تھی تو یہ صرف برطانوی ناظرین تک محدود تھی۔
    • بی بی سی کا کہنا ہے کہ دستاویزی فلم نے ٹرمپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا کیونکہ وہ کچھ دیر بعد دوبارہ صدر منتخب ہو گئے۔
    • بی بی سی کا کہنا ہے کہ ویڈیو کلپ میں جان بوجھ کر گمراہ نہیں کیا گیا۔ اس کا کہنا ہے کہ طویل تقریر کو چھوٹا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس ایڈٹ میں کوئی بدنیتی نہیں تھی۔
    • بی بی سی کے مطابق یہ 12 سیکنڈ کا ویڈیو کلپ ایک گھنٹہ طویل پروگرام کا حصہ ہے جسے الگ سے نہیں دیکھا جا سکتا اور اس پروگرام میں ٹرمپ کی حمایت میں بھی کئی لوگ موجود ہیں۔
    • بی بی بی کی آخری دلیل یہ ہے کہ عوامی تشویش کے بارے میں سب کی اپنی رائے ہو سکتی ہے جبکہ امریکہ میں ہرجانے سے متعلق قوانین میں سیاسی تقاریر کو بہت تحفظ حاصل ہے۔
  3. شیخ حسینہ کا بی بی سی کو انٹرویو: ’میرے خلاف پہلے سے طے شدہ فیصلہ سنایا جائے گا‘, انبراسن اتھیراجن، بی بی سی

    گذشتہ سال اپنی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور کریک ڈاؤن کے بعد بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا کہنا ہے کہ ان پر عائد کردہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام درست نہیں۔ ان کے خلاف ملک میں ایک خصوصی ٹرائبیونل میں کیس چل رہا ہے۔

    شیخ حسینہ پر الزام ہے کہ انھی کے حکم پر حکومت مخالف سینکڑوں افراد کی ہلاکت ہوئی تھی مگر وہ اس الزام کی تردید کرتی ہیں۔

    5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش سے نکلنے کے بعد یہ شیخ حسینہ کا پہلا انٹرویو ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ان کے خلاف ’کینگرو کورٹ‘ کو سیاسی مخالفین کنٹرول کر رہے ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں عدالتی کارروائی کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ اگر اس کیس میں شیخ حسینہ قصوروار ٹھہرائی گئیں تو انھیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

    شیخ حسینہ کا دعویٰ ہے کہ اس ٹرائل میں ان کے خلاف ’پہلے سے طے شدہ‘ فیصلہ سنایا جائے گا۔ پیر کو فیصلے سے قبل ڈھاکہ میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے خلاف مظاہروں میں 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان کی حکومت پر اقتدار پر قابض رہنے کے لیے پُرتشدد کریک ڈاؤن کا بھی الزام ہے۔

    سابق وزیر اعظم اس وقت انڈیا میں موجود ہیں اور انھوں نے ٹرائل کے لیے ڈھاکہ جانے سے انکار کیا ہے۔

    بذریعہ ای میل پر انٹرویو کے دوران شیخ حسینہ نے کہا کہ ’میں اس بات کی تردید نہیں کرتی کہ صورتحال بے قابو ہو گئی تھی اور نہ ہی اس بات کی تردید کہ بلاضرورت کئی جانیں صائع ہوئیں۔ لیکن میں نے غیر مسلح سویلینز پر فائرنگ کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا تھا۔‘

    بی بی سی آئی کی ایک ویڈیو میں ان کی ایک فون کال ریکارڈنگ شامل تھی جس میں وہ جولائی 2024 کے دوران ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دیتی ہیں۔ اس آڈیو کو عدالت میں بھی چلایا گیا تھا۔

  4. ٹرمپ کی تقریر ایڈٹ کرنے پر بی بی سی کی معافی مگر معاوضہ دینے سے انکار

    بی بی سی نے امریکی صدر ڈرونلڈ ٹرمپ سے پینوراما پروگرام کی ایک قسط پر معافی مانگی ہے جس میں ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کو ایڈٹ کیا گیا تھا۔ تاہم بی بی سی نے معاوضے کے مطالبے کو مسترد کیا ہے۔

    ادارے نے کہا ہے کہ ایڈٹ سے غلطی سے تاثر گیا کہ ’ٹرمپ نے براہ راست پُرتشدد اقدام کی کال دی تھی‘۔ اس کا کہنا تھا کہ 2024 کو نشر ہونے والے اس پروگرام کو دوبارہ نہیں دکھایا جائے گا۔

    ٹرمپ کے وکلا نے بی بی سی کو ایک ارب ڈالر ہرجانے کی دھمکی دی ہے۔ اس میں ادارے سے معافی اور معاضے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور نیوز کی سربراہ ڈیبورا ٹرنس نے اتوار کو اسی معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد استعفے دیے تھے۔

    بی بی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’چیئرپرسن سمیر شاہ نے الگ سے وائٹ ہاؤس کو خط لکھا جس میں صدر ٹرمپ کو واضح کیا گیا کہ وہ اور ادارہ 6 جنوری 2021 کی تقریر کو ایڈٹ کرنے پر معذرت چاہتے ہیں۔‘

    اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم شدید اختلاف کرتے ہیں کہ اس پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔‘

  5. سپریم کورٹ کے دو ججز مستعفی، 27ویں ترمیم کے بعد جسٹس امین الدین خان نئی وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس تعینات

    سپریم کورٹ کے جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا ہے۔ صدر مملکت نے جسٹس امین الدین خان کی تقرری کی منظوری وزیر اعظم کی ایڈوائس پر دی۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزارت قانون وانصاف نے جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے اور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہی کر سکتے ہیں۔

  6. سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی ثابت قدمی کے اعتراف میں پارلیمنٹ کی قراردادوں کو سراہتا ہوں: چیئرمین پی سی بی

    وفاقی وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ جمعرات کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کی منظور کردہ قراردادیں ہمارے قومی اتحاد اور پاکستان کی سالمیت کے لیے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔

    محسن نقوی نے کہا کہ وہ دونوں ایوانوں کے فیصلوں کو سراہتے ہیں، جس میں سری لنکا کے پاکستان میں اپنے کرکٹ دورے کو ثابت قدمی سے جاری رکھنے کا اعتراف کیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’ہم استحکام کو برقرار رکھنے، باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور اپنے لوگوں کے اجتماعی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘

  7. بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت 37 اضلاع میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ سروس معطل, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت 37 اضلاع میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

    بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس 16نومبر تک سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ملتوی کر دی گئی ہے۔

    اگرچہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ان اضلاع کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی لیکن کوئٹہ شہر میں بھی گذشتہ روز سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی شروع ہو گئی ہے۔

    موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں گذشتہ دو تین روز سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

    اس سلسلے میں جہاں انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا ہے وہیں قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ غازیخان کے راستے پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    سیکریٹری ٹرانسپورٹ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ غازی خان کے راستے پنجاب جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ 14نومبر تک اپنی ٹرانسپورٹ اس شاہراہ پر نکالنے سے گریز کریں۔ اس سے قبل کوئٹہ اور دیگر صوبوں کے درمیان ٹرین سروس کو بھی 13نومبر تک معطل کی گئی۔

  8. 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے دو ججز مستعفی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججز نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ججز میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔

    اس سے قبل ان ججز نے نئی آئینی ترمیم پر چیف جسٹس آف پاکستان کو خطوط لکھے تھے اور اس حوالے سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار بھی کیا تھا۔

    جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے بعد سینیئر ترین جج تھے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنا استعفی صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے۔

    13 صفحات پر مشتمل اپنے استعفے میں انھوں نے عدلیہ کے معاملات اور بالخصوص آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

    اپنے استعفے میں جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ اپنے دور میں انھوں نے عدلیہ کا وقار بلند کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو رہے ہیں لیکن ان کا ضمیر مطمئن ہے۔ انھوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت عدلیہ کو حکومت کے ماتحت کر دیا گیا ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ 27 ویں آئینی ترمیم نے لوگوں کے لیے انصاف ختم کر دیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ان ججز پر افسوس رہے گا جو اس آئینی عدالت کا حصہ بنیں گے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’27 ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جہاں حکومت میں قانون کی حکمرانی کو مرکزی حثیت حاصل ہو اور عدالتی آزادی کو مقدس امانت کی طرح محفوظ رکھا گیا ہو۔

    انھوں نے اپنے استعفے میں یہ بھی لکھا ہے کہ جہاں انصاف کو جکڑ دیا گیا ہو وہ قومیں نہ صرف لڑکھڑاتی ہیں بلکہ اپنی اخلاقی اقدار بھی کھو دیتی ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا آئینی وجود اور مقام ختم ہو رہا تھا۔

    انھوں نے موجودہ چیف جسٹس کا نام لیے بغیر کہا کہ جب عدلیہ کا سربراہ اپنی متنازع حیثیت کے باوجود ادارے کے بجائے اپنے منصب اور عہدے کو ترجیح دے تو اسے قیادت نہیں بلکہ ادارے سے دستبرداری کہا جاتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ہمیشہ ایک ہی سپریم کورٹ ہے لیکن 27ویں آئینی ترمیم نے اس ڈھانچے کو توڑ کر سپریم کورٹ کے اوپر وفاقی آئینی عدالت قائم کردی جو کہ عدالتی اور جمہوری نظام سے متصادم ہیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے استعفے میں کہا کہ آئینی عدالت بصریت سے نہیں بلکہ سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی گئی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے صدر مملکت کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں کہا ہے کہ ہم پر لوگوں نے اعتماد کیا اور جس آئین کے تحت بطور جج انھوں نے حلف اٹھایا تھا اب وہ اپنی اصل حالت میں نہیں ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ اس 13 رکنی بینچ کا حصہ تھے جنھوں نے مخصوص نشستوں سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فروری 2024 کو ہونے والے عام انتحابات میں مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف کو دینے کا فیصلہ کیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے اس اکثریتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استعفے سے دو دن قبل چیف جسٹس کے نام خط میں کیا لکھا تھا؟

    پارلیمنٹ میں زیر بحث 27ویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر درخواست کی کہ آپ بطور عدلیہ سربراہ فوری انتظامیہ سے رابطہ کریں اور واضح کریں کہ آئینی عدالتوں کے ججز سے مشاورت کے بغیر ترمیم نہیں ہو سکتی۔

    انھوں نے لکھا کہ آئینی عدالتوں کے ججز پر مشتمل ایک کنونشن بھی بلایا جا سکتا ہے۔ جسٹس منصور نے لکھا کہ ’آپ اس ادارے کے اینڈمنسٹریٹر نہیں گارڈین بھی ہیں۔‘

    انھوں نے خط میں لکھا کہ ’یہ لمحہ آپ سے لیڈرشپ دکھانے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ اس ترمیم پر اعلیٰ عدلیہ سے مشاورت نہیں کی گئی۔

    جسٹس منصور نے لکھا کہ ’تمام جمہوری نظاموں میں عدلیہ سے متعلق قانون سازی کے وقت عدلیہ سے مشاورت کی جاتی ہے۔‘

    خط میں کہا گیا کہ ’کیا ایک نئی آئینی ترمیم کی جاسکتی ہے جبکہ گذشتہ آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج زدہ ہو؟‘

    انھوں نے لکھا کہ جب تک 26ویں آئینی ترمیم پر سوالات باقی ہیں، نئی آئینی ترمیم مناسب نہیں۔ جسٹس منصور شاہ کی رائے میں ’وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی دلیل نظام انصاف میں زیر التوا مقدمات کو بنایا جا رہا ہے۔‘

    جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے خط میں کیا مؤقف اختیار کیا تھا؟

    جسٹس اطہر من اللہ نے چیف جسٹس یحییٰ افریدی کو خط میں عدلیہ کو لاحق خطرات پر غور کے لیے ایک کانفرنس بلانے کی درخواست کی تھی اور ساتھ ہی اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کو بعض اوقات عوام کی رائے دبانے کے لیے ’غیر منتخب اشرافیہ‘ کے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا گیا۔

    یہ پیش رفت منگل کو اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے بل کی منظوری کے لیے اقدامات کر رہی تھی۔

    جسٹس اطہر من اللہ نے سات صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ ’یہ خط وہ یہ آئین کے احترام اور ایک سنجیدہ فریضہ کے طور پر لکھ رہے ہیں تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے ریکارڈ رہے کہ ان کی تقدیر کس طرح عدالت عظمیٰ کی سنگ مرمر کی دیواروں کے پیچھے طے کی جا رہی ہے‘۔

    انھوں نے کہا کہ یہ خط حالیہ واقعات کے پیش نظر لکھا جا رہا ہے جنھوں نے عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

  9. بریکنگ, پاکستان میں سونے کی قیمت فی تولہ 8300 روپے اضافے کے بعد 443062 روپے تک پہنچ گئی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں جمعرات کے روز سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کی گیا جب فی تولہ 8300 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی قیمت اس اضافے کے بعد 443062 روپے فی تولہ ہو گئی۔

    دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 7116 روپے کا اضافہ ریکارڈ کی گیا اور اس کی قیمت 379854 روپے فی تولہ ہو گئی۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں اضافہ عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باعث ریکارڈ کیا گیا۔

    عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 83 ڈالر کے اضافے کے بعد 4207 ڈالر فی اونس ہو گیا۔

    پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں عموماً عالمی نرخوں کے مقابلے میں فی اونس 20 ڈالر کے اضافے کے ساتھ مقرر کی جاتی ہیں تاکہ زرمبادلہ کی شرح، درآمدی اخراجات اور مقامی مارکیٹ کے حالات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

    جمعرات کے روز چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو 228 روپے اضٓفے کے بعد 5662 فی تولہ ہو گئی جب کہ دس گرام چاندی کی قیمت 196 روپے اضافے کے بعد 4854 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی۔

  10. پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیم کے بِل پر دستخط کردیے

    پاکلستان کے صدر آصف علی زرداری نے 27ویں آئینی ترمیم بِل پر دستخط کردیے، جو دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکی ہے۔

    اس سے پہلے پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی اور ایوانِ بالا یعنی سینیٹ نے بھی دو تہائی اکثریت سے منظور کر لی 27ویں آئینی ترمیمم کی منظوری دے دی تھی۔

    27 ویں آئینی ترمیم میں جہاں ایک علیحدہ آئینی عدالت کا قیام شامل ہے وہیں اس عدالت میں کام کرنے والے ججز کے بارے میں بھی طریقہ کار وضح کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ آئینی ترمیم کے باوجود جسٹس یحییٰ آفریدی ہی ملک کے چیف جسٹس رہیں گے تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا ان کے عہدے خالی کرنے کی صورت میں وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ میں سے جو سینیئر چیف جسٹس ہوں گے وہی ملک کے چیف جسٹس کہلائیں گے۔

    27ویں آئینی ترمیم کے مسودے میں صدر کے لیے تاحیات استثنیٰ کی بھی تجویز کی گئی ہے۔

    ترمیمی مسودے کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر آرمی چیف اور چیف آف ڈیفینس فورس کو مقرر کریں گے۔ آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیمی مسودے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔

    چیف آف آرمی سٹاف جو چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے اور نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔

    حکومت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے افراد کو فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کے عہدے پر ترقی دے سکے گی۔ فیلڈ مارشل کا رینک اور مراعات تاحیات ہوں گی یعنی فیلڈ مارشل تاحیات فیلڈ مارشل رہیں گے۔

    آئینی عدالت میں ٹرانسفر یا ایک ہائی کورٹ سے دوسرے ہائی کورٹ میں ٹرانسفر سے انکار کرنے والے ججز کو ریٹائر تصور کیا جائے گا۔

    اس آئینی ترمیم کے تحت ججز کی ٹرانسفر کا اختیار صدر مملکت سے لے کر سپریم جوڈیشل کمیشن کو دے دیا جائے ہے۔

    اس کے علاوہ 27 آئینی ترمیم میں واضح کیا گیا ہے کہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا تبادلہ نہیں کیا جا سکے گا اور ہائی کورٹ کے کسی جج کے دوسرے ہائی کورٹ میں تبادلے کی صورت میں اس بات کو مدنظر رکھا جائے گا کہ جس ہائی کورٹ میں وہ جا رہے ہیں وہاں کے چیف جسٹس کی سنیارٹی کمپرومائز نہ ہو۔

    پاکستانی حکومت کا یہ دعویٰ ہے کہ آئینی عدالت کی تشکیل اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ سپریم کورٹ میں موجودہ آئینی بینچ کی وجہ سے نہ صرف زیر التوا مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عام عوام کے مقدمات کی سماعت نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔

    پاکستان کے سیاسی و عدالتی نظام پر گہری نظر رکھنے والے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام کی جانے والی تبدیلیوں کا اثر نظامِ انصاف سے باہر بھی نظر آئے گا۔

  11. میرپورخاص: آٹھ سالہ بچی سے ریپ کی کوشش اور قتل کا ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے, ریاض سہیل، بی بی سی ارو

    سندھ کے ضلع میرپورخاص میں پولیس نے ایک سے ریپ کی کوشش اور قتل کے الزام میں گرفتار ملزم کا مقامی عدالت سے جسمانی رمانڈ حاصل کرلیا ہے، ملزم کی گرفتاری گزشتہ شب ظاہر کی گئی تھی۔

    آٹھ سالہ آمنہ چار نومبر کو میرپور خاص کے قصبے جہلوری سے لاپتہ ہوگئی تھی بعد میں نو نومبر کو ایک نہر سے پلاسٹک کے تھیلے میں بند اس کی لاش ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس سے متعدد بار ریپ کی کوشش کی گئی اور گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا۔

    عدالت میں ملزم کی شناخت پریڈ کرائی گئی جہاں لڑکی کے ماموں احمد علی اور محمد علی نے اس کی شناخت کی، عدالت نے ملزم کو چار روز کے لیے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

    ایس ایس پی سمیر نور چنا نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ’نور خاصخیلی پر لڑکی کے والد نے شبہ ظاہر کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس نے انھیں کہا تھا کہ اس نے لڑکی کو روتے دیکھا تھا جس کو وہ سکول چھوڑ آیا تھا اسی شک کی بنیاد پر اس کو گرفتار کیا گیا اور اس نے اعتراف کیا۔

    ایس ایس پی کے مطابق ’ملزم نائی کا کام کرتا ہے اور اس کی طلاق ہوچکی ہے۔ وہ لڑکی کو چیزیں اور خرچی دیکر اپنی طرف راغب کرتا تھا، واقعے والے روز وہ اس کو ایک سرکاری سکول کی خالی عمارت میں لے گیا اس کو قتل کرنے کے بعد لاش وہاں چھپا دی اور رات کے وقت میں اس کو پلاسٹک میں لپیٹ کر نہر میں بہا دیا۔‘

    میرپورخاص تعلقہ تھانے پر غلام حیدر نے 7 نومبر کو ایف آئی آر درج کرائی تھی جس میں بیان کیا تھا کہ ’4 نومبر کو اس کی بیٹی گھر کے باہر بچوں کے ساتھ کھیل رھی تھی کہ 12 بجے کے قریب انھوں نے اس کے چلانے کی آواز سنی وہ جب باہر نکلے تو ایک 125 موٹر سائیکل پر سوار دو افراد اسے اٹھاکر مین روڈ کی طرف لے گئے۔‘

  12. اسلام آباد میں ’محفوظ علاقوں‘ کے نام سے سروے کروانے کا فیصلہ

    وفاقی وزیرِ مملک برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ’سکیور نیبرہوڈ‘ (محفوظ علاقوں) کے نام سے سروے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    آئی جی اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے ہمراہ جمعرات کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اس سروے کے ذریعے انتظامیہ ہر گھر، دکان اور دفتر کا ڈیٹا مرتب کرے گی۔

    اُن کے بقول یہ ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا کہ فلاں گھر میں کون، کس عمر کا اور کس شہریت کا شخص موجود ہے۔ وہ کرائے پر رہتا ہے یا اپنا گھر ہے۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہر گاڑی اور موٹر سائیکل کے لیے الیکٹرانک ٹیگ لازمی ہو گا۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے کام ہو رہا ہے، اگلے چھ ماہ کے دوران اسلام آباد میں ہر چوکنگ پوائنٹ کو ختم کیا جائے گا، تاکہ شہریوں کو آسانی ہو اور سکیورٹی کے مسائل بھی نہ پیدا ہوں۔

  13. اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس دھماکہ: سکیورٹی حکام کا پانچ افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں خود کش دھماکے کے بعد سکیورٹی حکام نے پانچ افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

    اسلام آباد کے سی سی ڈی کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں سے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن سیف سٹی کیمرے سے حاصل کی گئیں فوٹیجز اور ارٹیفیشل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے۔

    اہلکار کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد میں وہ ملزمان بھی شامل ہیں جن کے بارے میں شک ہے کہ وہ خودکش حملہ آور کے سہولت کار ہیں۔

    سی سی ڈی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے تمام افراد پاکستانی ہیں اور ان کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا سے ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ملزمان سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔ واضح رہے کہ وزیر مملکت طلال چوہدری نے بدھ کی رات ایک نجی ٹی وی پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کورٹ کمپلکس کے باہر خود کش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وانا اور اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ہونے والے خودکش حملہ آوروں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ ان واقعات کے بعد پاکستان کوئی جوابی کارروائی کرے گا؟ تو وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ اس کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ افغانستان سے پاکستان کی سرزمین پر خودکش حملے کیے جا رہے ہوں اور پاکستان ان سے مذاکرات کی بات کرے۔

  14. پاکستان کو دسمبر میں آئی ایم ایف سے ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط ملنے کا امکان

    پاکستان کے ساتھ طے پائے گئے قرض پروگراموں کے تحت ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی قسط کی منظوری کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آٹھ دسمبر کو ہو گا۔

    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے کیلنڈر کے مطابق، آٹھ دسمبر بورڈ توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور ریزیلیئنس سسٹینبلٹی پروگرام (آر ایس ایف) کے تحت جاری قرض پروگراموں کے اقساط کے اجرا کا جائزہ لیا جائے گا۔

    گذشتہ ماہ مالیاتی ادارے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے ای ایف ایف اور آر ایس ایف کے تحت جاری قرض پروگراموں پر سٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    اگر بورڈ کی جانب سے معاہدے کی منظوری دے دی جاتی ہے تو پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالرز اور آر ایس ایف کی مد میں تقریباً 20 کروڑ ڈالرز تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ اس کے بعد ان دونوں پروگراموں کے تحت پاکستان کو اب تک ملنے والے قرض کی مالیت تقریباً 3.3 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گی۔

  15. ایپل کا نیا ’آئی فون پاکٹ‘ جسے لوگ ’230 ڈالر کی کٹی ہوئی جراب‘ قرار دے رہے ہیں

    ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے اپنے آئی فونز کو رکھنے کے لیے ایک نیا کیریئنگ کیس متعارف کروایا ہے جس کے بعد کمپنی کو آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    منگل کے روز ایپل نے 230 ڈالرز کے ’آئی فون پاکٹ‘ کا اعلان کیا ہے۔

    ایپل کا کہنا ہے کہ اس پراڈکٹ کا تصور ایک ’اضافی جیب بنانے کے خیال‘ سے آیا ہے۔

    بہت سے لوگوں نے اس کی زیادہ قیمت کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ دیگر نے اس کی جرابوں سے مشابہت پر اس کا مذاق اڑایا۔

    ایک صارف نے ایکس پر اسے ’230 ڈالر کی کٹی ہوئی جراب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ایپل کی بنائی کسی بھی چیز کی کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    اس کے ڈیزائن پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی زپ ہے، نہ ہی کوئی سٹرکچر اور آج کل آئی فونز کی چوری کے واقعات کو دیکھتے ہوئے اس میں کوئی بھی سکیورٹی نہیں ہے۔

    مقبول ٹیک یوٹیوبر مارکیز براؤنلی کہتے ہیں کہ دراصل یہ ان شائقین کے لیے ایک ’لٹمس ٹیسٹ‘ ہے جو ’ایپل کی کسی بھی چیز کو خریدتے ہیں یا اس کا دفاع کرتے ہیں۔‘

    ایپل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے یہ کیس جاپانی فیشن لیبل ’اسی میاکی‘ کے تعاون سے تیار کردہ محدود ایڈیشن رینج کا حصہ ہے۔

    مرحوم فیشن ڈیزائنر نے اس سے قبل ایپل کے ساتھ مل کر سیاہ ٹرٹل نیک جمپرز بنانے تھے جنھیں کمپنی کے شریک بانی سٹیو جابز نے مشہور کیا تھا۔

    اس کیس کا مختصر پٹے والا ڈیزائن آٹھ رنگوں میں جبکہ لمبے پٹے والا ڈیزائن تین رنگوں میں دستیاب ہو گا۔

  16. 27ویں ترمیم کی منظوری کے بعد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ، انڈیکس میں 2100 پوائنٹس تک کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی دیکھنے میں آئی اور کاروبار کے آغاز کے پہلے آدھے گھنٹے میں انڈیکس 2100 پوائنٹس تک کے اضافے کے بعد 160379 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز سے ہی حصص کی خریداری کا رجحان دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سرمایہ کاروں کے نزدیک موجودہ سیٹ اپ میں تسلسل ہے جسے 27ویں آئینی ترمیم سے مزید تقویت حاصل ہوئی ہے۔

    تجزیہ کار شہر یار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم باآسانی قومی اسمبلی سے پاس ہو گئی ہے اور سرمایہ کاروں کی نطر میں فی الحال موجودہ سسٹم مزید چلتا نظر آ رہا ہے جس سے غیر یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ انڈیا میں دھماکے کے بعد خدشہ تھا کہ خطے میں جنگ کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے تاہم اب تک انڈیا کی جانب سے پاکستان پر براہ راست الزام نہیں لگایا گیا ہے جسے مارکیٹ نے مثبت انداز میں لیا ہے۔

    بٹ کے مطابق، معاشی شعبے میں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کی خبر آ گئی ہے جو دسمبر کے پہلے عشرے میں ہو گا جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر قسط کی منظوری دی جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اس خبر کا مارکیٹ کے کاروبار پر مثبت اثر پڑا ہے۔

  17. ہم جیفری ایپسٹین کی ان ای میلز کے بارے میں کیا جانتے ہیں جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر ہے؟

    بدھ کے روز امریکی قانون سازوں نے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق 20,000 سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں جن میں سے کچھ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر ہے۔

    ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے تین ای میل کے تبادلے شائع کیے ہیں جس میں ایپسٹین اور ان کی دیرینہ ساتھی گیلین میکسویل کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔

    یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین پکڑے جانے کے بعد 2019 میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے جبکہ گیلین میکسویل نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے اور ان کی انسانی سمگنگ اور اس کی سہولت کاری کے الزامات میں 20 برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

    اس کے علاوہ ایپسٹین اور مصنف مائیکل وولف کے درمیان ہونے والی ای میلز بھی جاری کی گئی ہیں۔ مائیکل وولف نے ٹرمپ کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں۔

    ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے دستاویزات جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہاؤس ریپبلکنز نے اس کے جواب میں دستاویزات کی ایک بڑی تعداد جاری کی۔ ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ اراکین کا چنیدہ دستاویزات شائع کرنے کا مقصد ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک جعلی بیانیہ تیار کرنے‘ کی کوشش ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ہاؤس ڈیموکریٹس نے ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک جعلی بیانیہ تیار کرنے کے لیے لبرل میڈیا کو‘ چنیدہ ڈاکیومینٹس لیک کی ہیں۔

    ٹرمپ اور ایپسٹین برسوں تک دوست تھے تاہم صدر کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی پہلی مرتبہ گرفتاری سے دو سال قبل 2000 کی دہائی کے اوائل میں ان کی دوستی ختم ہو گئی تھی۔ ٹرمپ ایپسٹین سے متعلق کسی بھی غلط کام کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی پہلی ای میل 2011 میں ایپسٹین اور میکسویل کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔

    اس ای میل میں ایپسٹین نے میکسویل کو لکھا کہ آپ کو جو بات پتہ ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے اب تک زبان نہیں کھولی ہے وہ ٹرمپ ہے۔

    ’متاثرہ شخص نے ان کے ساتھ میرے گھر پر گھنٹوں گزارے تھے۔‘

    ایپسٹین مزید لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بارے ایک بار بھی کہیں تذکرہ نہیں ہوا ہے حتیٰ کہ پولیس چیف نے بھی نہیں کیا ہے۔

    میکسویل اس کے جواب میں لکھتی ہیں کہ میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔

    ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی ای میلز میں متاثرہ شخص کا نام چھپایا گیا ہے تاہم کمیٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ڈاکیومنٹس میں اس کا نام واضح ہے۔ متاثرہ شخص کا نام ’ورجینیا‘ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس سے مراد ورجینیا جوفرے ہے جنھوں نے ایپسٹین پر الزامات لگائے تھے۔ ان کی رواں سال کے آغآز میں خودکشی سے موت ہوئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جوفرے نے ’بارہا کہا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں تھے۔‘

    جوفرے نے 2016 میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کو کبھی بھی کسی بدسلوکی میں شریک نہیں دیکھا۔ اور رواں سال بعد از مرگ جاری ہونے والی ایک یادداشت میں بھی انھوں نے صدر پر کسی غلط کام کا الزام نہیں لگایا۔

    ایپسٹین نے ٹرمپ کے متعلق وولف کی رائے لی تھی

    مائیکل وولف کے ساتھ گفتگو میں، ایپسٹین نے ٹرمپ سے اپنے تعلق پر تبادلہ خیال کیا جو اس وقت اپنی صدارتی انتخاب کی مہم چلا رہے تھے۔

    ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک ای میل کے تبادلے میں وولف نے 2015 میں ایپسٹین کو مطلع کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی نشریاتی ادارہ سی این این ٹرمپ سے ان کے تعلقات کے بارے میں پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ایپسٹین نے جواب دیا: ’اگر ہم اس کے لیے کوئی جواب تیار کر پائیں تو آپ کے خیال میں وہ کیا ہونا چاہیے؟‘

    وولف نے لکھا کہ ان کے خیال میں ایسپٹین کو ٹرمپ کو اس سے خود ہی نمٹنے دینا چاہیے۔ وولف نے ایپسٹین سے کہا کہ اگر ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ہوائی جہاز پر نہیں تھے یا گھر نہیں گئے تو اس سے آپ کی ساکھ بہتر ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ انھیں ایسے ہی چھوڑ دیں جس سے آپ کو ممکنہ طور پر کوئی فائدہ ہو، یا اگر ایسا لگتا ہے کہ وہ جیت جائیں گے تو آپ ان کو بچا کر انھیں اپنا احسان مند بنا سکتے ہیں۔

    مائیکل وولف نے مزید کہا کہ ’ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر پوچھا گیا تو وہ کہہ دیں کہ جیفری ایک عظیم آدمی ہے اور ان کے ساتھ برا ہوا ہے اور وہ سیاسی درستگی کے شکار ہیں، جسے ٹرمپ حکومت میں غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔‘

    اکتوبر 2016 میں بھیجی گئی ایک علیحدہ ای میل میں، امریکی صدارتی انتخابات سے کچھ روز قبل وولف نے ایپسٹین کو ایک انٹرویو کا موقع فراہم کیا جس میں وہ ٹرمپ کو ’ختم‘ کر سکتے تھے۔

    ’اس ہفتے سامنے آنے اور ٹرمپ کے بارے میں اس طرح بات کرنے کا ایک موقع ہے جس سے آپ کو ہمدردی حاصل ہو سکتی ہے اور انھیں ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس میں دلچسپی ہے؟، وولف نے ایپسٹین کو لکھا۔

    ڈیموکریٹس کی طرف سے جاری کردہ ایک تیسری ای میل کی تاریخ جنوری 2019 ہے۔ یہ ٹرمپ کے پہلے دورہ صدارت کے دوران کی ہے۔

    اس ای میل میں ایپسٹین نے وولف کو بتایا: ’ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے مجھ سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔‘ ان کا اشارہ بظاہر صدر کے ’مار اے لاگو‘ کلب میں اپنی رکنیت کی جانب تھا۔ ایپسٹین کا کہنا ہے کہ وہ ’کبھی بھی ممبر نہیں رہے۔‘

    ایپسٹین نے مزید کہا کہ ’یقینا وہ لڑکیوں کے بارے میں جانتے تھے کیونکہ انھوں نے گیلین کو رکنے کا کہا تھا۔‘

    ان ای میلز کی شاعت کے بعد انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں وولف نے کہا کہ ان میں سے کچھ ای میلز ایپسٹین اور میرے درمیان ہیں جن میں ایپسٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات پر بات کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں اس کہانی کے بارے میں کافی عرصے سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

  18. صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے بعد امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن ختم ہو گیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکومتی فنڈنگ کے متعلق بل پر دستخط کیے جانے کے بعد ملکی تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن ختم ہو گیا ہے۔

    اس سے قبل امریکی کانگریس کے ایوان زیریں نے حکومتی شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کا بل منظور کیا تھا۔

    ایوانِ نمائندگان میں رائے شماری کے دوران بل کے حق میں 222 جبکہ مخالفت میں 209 ووٹ پڑے۔ چھ ڈیموکریٹ ارکان نے بھی ریپبلیکنز کا ساتھ دیتے ہوئے اس بل کی منظوری کے لیے ووٹ دیا تھا۔

    اس بل پر دستخط کرنے سے قبل صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ملک کبھی اس سے بہتر حالت میں نہیں رہا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج بہترین دن ہے۔

    43 دن سے جاری شٹ ڈاؤن کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں ہزاروں سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ کے کام کر رہے تھے جبکہ کئی کو فار لو (رخصت) اور کئی کو نکال دیا گیا تھا۔

  19. اسلام آباد کچہری حملہ: ’خودکُش بمبار کا تعلق افغانستان سے تھا، جسے پاکستانی کرنسی کی پہچان تھی نہ زبان سمجھ سکتا تھا،‘ طلال چوہدری کا دعویٰ

    پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد کچہری پر حملہ کرنے والے خود کش بمبار کا تعلق افغانستان سے تھا۔

    بدھ کے روز جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے خود کش بمبار کا تعلق افغانستان سے تھا اور وہ نہ ہی پاکستان میں بولی جانی والی زبان سمجھ سکتا تھا اور نہ ہی اُسے پاکستانی کرنسی کی پہچان تھی۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اسلام آباد کچہری پر حملہ کرنے والا خودکش بمبار جب اسلام آباد میں داخل ہوا تو اُس نے شہر کے اندر سفر کرنے کے لیے مختلف موٹر سائیکلوں پر رائیڈ لی اور دورانِ تفتیش پتہ چلا ہے کہ اُسے پاکستان کرنسی نوٹوں سے کرایہ ادا کرنے میں دشواری ہو رہی تھی۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منگل کو ہونے خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بم دھماکہ اسلام آباد کی کچہری کے باہر اُس وقت جب ایک خودکش بمبار کی موٹر سائیکل پولیس کی وین کے ساتھ ٹکرا گئی۔

    پاکستان نے اسلام آباد اور وانا کیڈٹ کالج پر حملے میں انڈیا اور افغانستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ انڈیا نے الزامات کی تردید کی ہے اور افغانستان نے پاکستان میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی ہے۔

    پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور وہ بغیر کسی ثبوت اور شواہد کے کسی دوسرے ملک پر الزام عائد نہیں کرتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور افغانستان نے کہا تھا کہ اگر اب کوئی حملہ ہوا تو اسلام آباد کو نشانہ بنایا جائے گا۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ افغانستان کے پاس کوئی لانگ رینج میزائل تو ہے نہیں اور انھی طریقوں سے پاکستان کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی نظریاتی اور آپریشنل دونوں لحاظ سے ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام کے لیے افغان طالبان نے دوحہ معاہدے میں یقین دہانی کروائی تھی لیکن اُس کی پاسداری نہیں کی۔

    انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق افغانستان نے کئی دیگر عرب ممالک کے ساتھ بھی خفیہ معاہدے کیے ہیں لیکن پاکستان سے اس طرح کے معاہدے کرنے میں کبھی کوئی دینی مسئلہ سامنے لے آتے ہیں۔

    یاد رہے کہ پاکستان چاہتا تھا کہ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ ٹی ٹی پی کے حوالے سے کوئی فتویٰ جاری کریں لیکن مذاکرات میں اس معاملے اتفاقِ رائے قائم نہیں ہو سکا۔

  20. ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں معاونت کا الزام: امریکہ کی انڈیا سمیت دیگر ممالک کے 32 اداروں اور افراد پر پابندیاں

    امریکہ نے انڈیا، ایران، چین، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، ترکی اور دیگر ممالک میں موجود 32 کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جن پر الزام ہے کہ وہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون (یو اے وی) پروگرام کے لیے پرزے اور آلات حاصل کرنے میں مدد کر رہے تھے، جن میں کچھ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ اقدام اقوامِ متحدہ کی ان پابندیوں کی حمایت میں کیا گیا ہے جو 27 ستمبر کو ایران پر دوبارہ عائد کی گئیں۔ یہ پابندیاں ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کے بعد لگائی گئی تھیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی یہ پابندیاں ایران کے جوہری، بیلسٹک میزائل اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے ساتھ ساتھ اس کی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر قابو پانے کے لیے ہیں۔

    امریکہ نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی ان پابندیوں پر مکمل عمل کریں اور ایران کو ہتھیاروں اور میزائل سازی میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی یا سامان فراہم نہ کریں۔

    محکمۂ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ایران کے جارحانہ میزائل پروگرام کو روکنا اور پاسدارانِ انقلاب کو ایسے وسائل تک رسائی سے محروم کرنا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ تیسرے ممالک میں موجود اداروں پر بھی پابندیاں لگاتا رہے گا تاکہ ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے سامان حاصل کرنے والے نیٹ ورکس کو روکا جا سکے، کیونکہ یہ سرگرمیاں عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

    امریکی محکمۂ خزانہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ پابندیاں ایگزیکٹو آرڈر 13382 کے تحت لگائی گئی ہیں، جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ میں ملوث عناصر کو نشانہ بناتا ہے اور ایگزیکٹو آرڈر 13224 (ترمیم شدہ شکل میں) کے تحت، جو دہشت گرد گروہوں اور ان کے حمایتیوں پر پابندیوں سے متعلق ہے۔