بدھ کے روز امریکی قانون
سازوں نے جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق 20,000 سے زائد صفحات پر مشتمل
دستاویزات جاری کی ہیں جن میں سے کچھ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ذکر ہے۔
ہاؤس اوور سائیٹ کمیٹی
کے ڈیموکریٹ ارکان نے تین ای میل کے تبادلے شائع کیے ہیں جس میں ایپسٹین اور ان کی دیرینہ ساتھی گیلین میکسویل کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی شامل ہے۔
یاد رہے کہ جیفری ایپسٹین پکڑے جانے کے بعد 2019 میں جیل میں مردہ پائے گئے تھے جبکہ گیلین میکسویل
نوعمر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے تیار کرنے اور ان کی انسانی سمگنگ اور اس کی سہولت
کاری کے الزامات میں 20 برس قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔
اس کے علاوہ ایپسٹین اور
مصنف مائیکل وولف کے درمیان ہونے والی ای میلز بھی جاری کی گئی ہیں۔ مائیکل وولف نے ٹرمپ
کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں۔
ڈیموکریٹ ارکان کی
جانب سے دستاویزات جاری کیے جانے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہاؤس ریپبلکنز نے اس کے
جواب میں دستاویزات کی ایک بڑی تعداد جاری کی۔ ریپبلکن ارکان کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹ
اراکین کا چنیدہ دستاویزات شائع کرنے کا مقصد ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک جعلی
بیانیہ تیار کرنے‘ کی کوشش ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری
کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ہاؤس ڈیموکریٹس نے ’صدر ٹرمپ کو بدنام کرنے کے لیے ایک
جعلی بیانیہ تیار کرنے کے لیے لبرل میڈیا کو‘ چنیدہ ڈاکیومینٹس لیک کی ہیں۔
ٹرمپ اور ایپسٹین برسوں تک دوست تھے تاہم صدر کا کہنا ہے کہ ایپسٹین کی پہلی مرتبہ گرفتاری سے دو
سال قبل 2000 کی دہائی کے اوائل میں ان کی دوستی ختم ہو گئی تھی۔ ٹرمپ ایپسٹین سے
متعلق کسی بھی غلط کام کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔
ڈیموکریٹس کی جانب
سے جاری کی جانے والی پہلی ای میل 2011 میں ایپسٹین اور میکسویل کے درمیان ہونے
والی گفتگو ہے۔
اس ای میل میں ایپسٹین
نے میکسویل کو لکھا کہ آپ کو جو بات پتہ ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ جس شخص نے اب تک
زبان نہیں کھولی ہے وہ ٹرمپ ہے۔
’متاثرہ شخص نے ان
کے ساتھ میرے گھر پر گھنٹوں گزارے تھے۔‘
ایپسٹین مزید لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کے بارے ایک بار بھی کہیں تذکرہ
نہیں ہوا ہے حتیٰ کہ پولیس چیف نے بھی نہیں کیا ہے۔
میکسویل اس کے جواب میں لکھتی ہیں کہ میں بھی یہی سوچ رہی
تھی۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کی جانے والی ای میلز میں متاثرہ
شخص کا نام چھپایا گیا ہے تاہم کمیٹی کی جانب سے جاری کیے جانے والے ڈاکیومنٹس میں
اس کا نام واضح ہے۔ متاثرہ شخص کا نام ’ورجینیا‘ ہے۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا
ہے کہ اس سے مراد ورجینیا جوفرے ہے جنھوں نے ایپسٹین پر الزامات لگائے تھے۔ ان کی رواں
سال کے آغآز میں خودکشی سے موت ہوئی تھی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا
ہے کہ جوفرے نے ’بارہا کہا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں تھے۔‘
جوفرے نے 2016 میں ایک
بیان میں کہا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کو کبھی بھی کسی بدسلوکی میں شریک نہیں دیکھا۔ اور
رواں سال بعد از مرگ جاری ہونے والی ایک یادداشت میں بھی انھوں نے صدر پر کسی غلط کام
کا الزام نہیں لگایا۔
ایپسٹین نے ٹرمپ کے متعلق وولف کی رائے لی تھی
مائیکل وولف کے ساتھ گفتگو میں، ایپسٹین نے ٹرمپ سے اپنے تعلق پر تبادلہ خیال کیا جو اس وقت اپنی صدارتی انتخاب کی مہم چلا رہے تھے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک ای میل کے تبادلے میں وولف نے 2015 میں ایپسٹین کو مطلع کرتے ہوئے لکھا کہ امریکی نشریاتی ادارہ سی این این ٹرمپ سے ان کے تعلقات کے بارے میں پوچھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ایپسٹین نے جواب دیا: ’اگر ہم اس کے لیے کوئی جواب تیار کر پائیں تو آپ کے خیال میں وہ کیا ہونا چاہیے؟‘
وولف نے لکھا کہ ان کے خیال میں ایسپٹین کو ٹرمپ کو اس سے خود ہی نمٹنے دینا چاہیے۔ وولف نے ایپسٹین سے کہا کہ اگر ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ہوائی جہاز پر نہیں تھے یا گھر نہیں گئے تو اس سے آپ کی ساکھ بہتر ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپ انھیں ایسے ہی چھوڑ دیں جس سے آپ کو ممکنہ طور پر کوئی فائدہ ہو، یا اگر ایسا لگتا ہے کہ وہ جیت جائیں گے تو آپ ان کو بچا کر انھیں اپنا احسان مند بنا سکتے ہیں۔
مائیکل وولف نے مزید کہا کہ ’ایسا بھی ممکن ہے کہ اگر پوچھا گیا تو وہ کہہ دیں کہ جیفری ایک عظیم آدمی ہے اور ان کے ساتھ برا ہوا ہے اور وہ سیاسی درستگی کے شکار ہیں، جسے ٹرمپ حکومت میں غیر قانونی قرار دیا جائے گا۔‘
اکتوبر 2016 میں بھیجی گئی ایک علیحدہ ای میل میں، امریکی صدارتی انتخابات سے کچھ روز قبل وولف نے ایپسٹین کو ایک انٹرویو کا موقع فراہم کیا جس میں وہ ٹرمپ کو ’ختم‘ کر سکتے تھے۔
’اس ہفتے سامنے آنے اور ٹرمپ کے بارے میں اس طرح بات کرنے کا ایک موقع ہے جس سے آپ کو ہمدردی حاصل ہو سکتی ہے اور انھیں ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس میں دلچسپی ہے؟، وولف نے ایپسٹین کو لکھا۔
ڈیموکریٹس کی طرف سے جاری کردہ ایک تیسری ای میل کی تاریخ جنوری 2019 ہے۔ یہ ٹرمپ کے پہلے دورہ صدارت کے دوران کی ہے۔
اس ای میل میں ایپسٹین نے وولف کو بتایا: ’ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے مجھ سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔‘ ان کا اشارہ بظاہر صدر کے ’مار اے لاگو‘ کلب میں اپنی رکنیت کی جانب تھا۔ ایپسٹین کا کہنا ہے کہ وہ ’کبھی بھی ممبر نہیں رہے۔‘
ایپسٹین نے مزید کہا کہ ’یقینا وہ لڑکیوں کے بارے میں جانتے تھے کیونکہ انھوں نے گیلین کو رکنے کا کہا تھا۔‘
ان ای میلز کی شاعت کے بعد انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں وولف نے کہا کہ ان میں سے کچھ ای میلز ایپسٹین اور میرے درمیان ہیں جن میں ایپسٹین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات پر بات کی۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں اس کہانی کے بارے میں کافی عرصے سے بات کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔