بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے ’کم عمری کی شادیوں کی
ممانعت کے قانون‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد کم عمری کی شادی کو قابل سزا جرم
قرار دیا گیا ہے اور اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
جمعے کے روز منظور کیے گئے اس قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر
کا فرد بچہ تصور ہوگا۔
اسمبلی کے اجلاس
کے دوران حزب اختلاف میں شامل جماعتوں جے یو آئی ف کے اراکین اور حق دو تحریک کے رکن
اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان نے اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے
احتجاج کیا۔
اس قانون کا اطلاق
بلوچستان بھر میں ہوگا۔ اس قانون کے
مطابق 18 برس سے کم عمر فرد کی شادی کو ’بچوں کی شادی‘ تصور کیا جائے گا۔
قانون کے متن میں
کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کے خلاف کوئی بھی شخص یا تنظیم شکایت درج کروا سکتی
ہے۔
فرسٹ کلاس جوڈیشل
مجسٹریٹ اس قانون کے تحت مقدمات کی سماعت کا مجاز ہوگا۔
اس ایکٹ کے تحت
کسی بھی سزا یا حکم کے خلاف تین دنوں کے اندر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اپیل
دائر کی جاسکتی ہے۔
قانون میں کم عمری
کے شادی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔
قانون میں کیا سزائیں
تجویز کی گئی ہیں؟
قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر افراد کی شادی کرنے والے افراد
کو تین برس کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور ان پر ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کا
جُرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں منظور کیے گئے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ کم عمری میں شادی
کروانے والوں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بھی سزا سنائی جا سکے گی۔
ایسے افراد کے لیے
بھی دو سے تین سال تک قید اور ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کا جرمانہ تجویز کیا گیا
ہے۔
قانون کے مطابق نکاح خواں، نکاح رجسٹرار اور یونین کونسل
کے سیکریریٹریز شادی کرنے والوں اور گواہوں کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور نکاح کے
ثبوت کی نقول رکھنے کے بھی پابند ہوں گے۔
اس سلسلے میں کوئی
کوتاہی قابل سزا تصور ہوگی۔ کوتاہی کے مرتکب افراد کو بھی ایک سال قید اور ایک لاکھ
روپے جرمانہ تک کی سزا ہوسکتی ہے۔
’یہ قانون اسلام
کے خلاف ہے‘
اس قانون کے مسودے
کو ایوان میں منظوری کے لیے لانے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعت جے یو آئی (ف) کے اراکین
اور حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمان نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اجلاس کے بعد
میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسے ’اسلام کے خلاف‘ قرار دیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا
کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حزب اختلاف کے رکن میر یونس عزیز زہری نے الزام عائد
کیا کہ این جی اوز کے کہنے پر ’اسلام کے خلاف‘
قانون کی منظوری دی گئی۔
انھوں نے دعویٰ
کیا کہ ’یہی قانون لے کر
این جی او والے ہمارے پاس آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات نہیں مانی لیکن حکومت نے ان
کے قانون کو منظور کیا۔‘
مولانا ہدایت الرحمان
نے الزام عائد کیا کہ ’اس قانون کو یورپ
کی ایما پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے لیے منظور کیا گیا۔‘
تاہم بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے الزامات کی تردید کرتے ہیں
اور کہتے ہیں کہ حکومت نے آئین کے مطابق قانون سازی کا حق استعمال
کیا اور اس قانون کو اسمبلی کی اکثریت نے منظور کیا۔
ان کا کہنا تھا
کہ یہ بل چھ ماہ سے زیر غور تھا اور یہ کابینہ نے پہلے ہی منظور کیا تھا۔
انھوں
نے کہا کہ اختلاف رائے اور احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت اس کا احترام
کرتی ہے۔