آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بنوں-لکی مروت سرحد پر جھڑپ کے دوران سات شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

پولیس حکام نے بتایا کہ 15 سے 20 مسلح افراد تختی خیل کے علاقے میں موجود تھے جنھیں ابتداً لکی مروت اور بنوں کی امن کمیٹیوں کے ارکان نے گھیرے میں لیا۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں سات شدت پسند مارے گئے۔

خلاصہ

  • صدر ٹرمپ نے بی بی سی کی جانب سے معافی کے باوجود ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے
  • انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ایک پولیس سٹیشن میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں
  • انڈین ریاست بہار میں ریاستی انتخابات کے مکمل نتائج سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق وزیرِ اعظم مودی کی جماعت بی جے پی 89 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے
  • حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ہونے والے دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث ٹی ٹی پی کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے
  • 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو ججز نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے ججز میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں

لائیو کوریج

  1. لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اُردو

    لاہور ہائی کورت کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنا چیمبر خالی کر کے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔

    ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد جسٹس شمس محمود مرزا کے تبادلے کا امکان تھا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے رُکن بھی تھے۔

    جسٹس شمس محمود مرزا نے 22 مارچ 2014 کو لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا تھا۔ اُنھوں نے سنہ 2028 میں ریٹائر ہونا تھا۔

    جسٹس شمس محمود مرزا کے خلاف سرکاری وکیل کی جانب سے رواں سال جنوری میں سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ کے دو ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے بھی 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔

  2. بلوچستان میں کم عمری میں شادیوں کے خلاف نیا قانون منظور, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ

    بلوچستان کی صوبائی اسمبلی نے ’کم عمری کی شادیوں کی ممانعت کے قانون‘ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد کم عمری کی شادی کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے اور اس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    جمعے کے روز منظور کیے گئے اس قانون کے مطابق 18 سال سے کم عمر کا فرد بچہ تصور ہوگا۔

    اسمبلی کے اجلاس کے دوران حزب اختلاف میں شامل جماعتوں جے یو آئی ف کے اراکین اور حق دو تحریک کے رکن اور امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا ہدایت الرحمان نے اس قانون کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

    اس قانون میں کیا ہے؟

    اس قانون کا اطلاق بلوچستان بھر میں ہوگا۔ اس قانون کے مطابق 18 برس سے کم عمر فرد کی شادی کو ’بچوں کی شادی‘ تصور کیا جائے گا۔

    قانون کے متن میں کہا گیا ہے کہ کم عمری کی شادی کے خلاف کوئی بھی شخص یا تنظیم شکایت درج کروا سکتی ہے۔

    فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ اس قانون کے تحت مقدمات کی سماعت کا مجاز ہوگا۔

    اس ایکٹ کے تحت کسی بھی سزا یا حکم کے خلاف تین دنوں کے اندر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔

    قانون میں کم عمری کے شادی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

    قانون میں کیا سزائیں تجویز کی گئی ہیں؟

    قانون کے مطابق اٹھارہ برس سے کم عمر افراد کی شادی کرنے والے افراد کو تین برس کی سزا سنائی جا سکتی ہے اور ان پر ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کا جُرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔

    بلوچستان اسمبلی میں منظور کیے گئے اس قانون میں کہا گیا ہے کہ کم عمری میں شادی کروانے والوں اور اس کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بھی سزا سنائی جا سکے گی۔

    ایسے افراد کے لیے بھی دو سے تین سال تک قید اور ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کا جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔

    قانون کے مطابق نکاح خواں، نکاح رجسٹرار اور یونین کونسل کے سیکریریٹریز شادی کرنے والوں اور گواہوں کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور نکاح کے ثبوت کی نقول رکھنے کے بھی پابند ہوں گے۔

    اس سلسلے میں کوئی کوتاہی قابل سزا تصور ہوگی۔ کوتاہی کے مرتکب افراد کو بھی ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تک کی سزا ہوسکتی ہے۔

    ’یہ قانون اسلام کے خلاف ہے‘

    اس قانون کے مسودے کو ایوان میں منظوری کے لیے لانے کے خلاف حزب اختلاف کی جماعت جے یو آئی (ف) کے اراکین اور حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمان نے نہ صرف احتجاج کیا بلکہ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسے ’اسلام کے خلاف‘ قرار دیا۔

    اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے حزب اختلاف کے رکن میر یونس عزیز زہری نے الزام عائد کیا کہ این جی اوز کے کہنے پر ’اسلام کے خلاف‘ قانون کی منظوری دی گئی۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہی قانون لے کر این جی او والے ہمارے پاس آئے تھے مگر ہم نے ان کی بات نہیں مانی لیکن حکومت نے ان کے قانون کو منظور کیا۔‘

    مولانا ہدایت الرحمان نے الزام عائد کیا کہ ’اس قانون کو یورپ کی ایما پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے لیے منظور کیا گیا۔‘

    تاہم بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حکومت نے آئین کے مطابق قانون سازی کا حق استعمال کیا اور اس قانون کو اسمبلی کی اکثریت نے منظور کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ بل چھ ماہ سے زیر غور تھا اور یہ کابینہ نے پہلے ہی منظور کیا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ اختلاف رائے اور احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور حکومت اس کا احترام کرتی ہے۔

  3. اردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان پہنچ گئے

    اردن کے شاہ عبداللہ دوم پاکستان پہنچ گئے ہیں جہاں اسلام آباد میں وزیرِ اعظم ہاؤس میں انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ہے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس کے مطابق شاہ عبداللہ دوم کی آمد کے موقع پر مسلح افواج کے دستوں نے انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے ارکان کا اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے تعارف کروایا، جبکہ اردن کے شاہ نے بھی اپنے وفد کے ارکان کو وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متعارف کروایا۔

  4. سونے کی فی تولہ قیمت میں 9100 روپے کی کمی، فی تولہ سونا چار لاکھ 30 ہزار 662 روپے کا ہو گیا, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 9100 روپے کم ہو کر چار لاکھ 30 ہزار 662 روپے فی تولہ ہو گئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت کم ہو کر چار لاکھ 30 ہزار 662 روپے ہو گئی ہے۔

    دس گرام سونے کی قیمت 7799 روپے کمی کے بعد تین لاکھ 69 ہزار 223 روپے پر آ گئی ہے۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق یہ کمی عالمی مارکیٹ کے رجحان کے مطابق رہی، جہاں سونا 91 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4083 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔

    ایسوسی ایشن کے مطابق قیمتوں میں یہ کمی سرمایہ کاروں کی جانب سے بلند سطح پر منافع کمانے کے رجحان کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں بین الاقوامی ریٹس کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی اونس کا پریمیم شامل ہے جو درآمدی اخراجات، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور طلب کی صورتِ حال کی عکاسی کرتا ہے۔

    چاندی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی جس میں فی تولہ 209 روپے کمی کے ساتھ نئی قیمت 5313 روپے رہی جبکہ دس گرام چاندی 179 روپے سستی ہو کر 4555 روپے پر آ گئی۔

  5. بنوں-لکی مروت سرحد پر جھڑپ کے دوران سات شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اُردو، پشاور

    ضلع بنوں اور لکی مروت کی سرحد پر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں سات شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

    بنوں پولیس کے مطابق پولیس، انسدادِ دہشت گردی پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے لوگوں کی عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ 15 سے 20 مسلح افراد تختی خیل کے علاقے میں موجود تھے جنھیں ابتداً لکی مروت اور بنوں کی امن کمیٹیوں کے ارکان نے گھیرے میں لیا۔ بعدازاں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے ساتھ جھڑپ میں سات شدت پسند مارے گئے۔

    آئی جی پی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے بنوں، لکی مروت اور سی ٹی ڈی پولیس کی اس کارروائی پر شاباش دیتے ہوئے جوانوں کی بہادری اور فرض شناسی کو سراہا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے ہمیشہ دہشت گردوں کا فرنٹ لائن پر مقابلہ کیا اور اُن کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیے۔

  6. وانا کیڈٹ کالج کا دورہ: دہشت گردی کی روک تھام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، وزیر داخلہ

    پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کی روک تھام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

    وزیر داخلہ محسن نقوی نے سنیچر کو جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے کیڈٹ کالج کا دورہ کیا۔

    محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے دشمن آرمی پبلک سکول جیسی کارروائی کرنا چاہتے تھے لیکن ہماری افواج نے بروقت کارروائی سے حملہ ناکام بنا دیا۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت سے کسی بھی معاملے پر آپ کے اختلافات یا ناراضگی ہو سکتی ہے لیکن کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ آسلحہ اُٹھا کر محاذ آرائی شروع کر دے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردوں سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

    یاد رہے کہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں کیڈٹ کالج میں پانچ شدت پسندوں نے حملہ کیا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی سے یہ حملہ ناکام بنا دیا تھا۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کے دوران 500 سے زائد طلبا کو بازیاب کروایا گیا۔

    پاکستان کی فوج نے بتایا تھا کہ دہشت گردوں نے پہلے خود کش دھماکہ کیا، جس کے بعد چار شدت پسند کیڈٹ کالج میں داخل ہوئے۔

    اس کے بعد آئی ایس پی آر نے وانا کیڈٹ کالج میں کیے جانے والے لگ بھگ 30 گھنٹے پر محیط آپریشن کی تفصیلات جاری کی تھیں۔

    اس ویڈیو میں آپریشن کی کمان کرنے والے آفسر کرنل طاہر نے بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے پہلے طلبا کو یرغمال بنانے کی کوشش کی، لیکن فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور چاروں حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب افغان حکومت نے اس حملے پر دُکھ کا اظہار کیا ہے جبکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا تھا کہ کیڈٹ کالج میں موجود شدت پسند افغانستان سے رابطے میں تھے اور اسلام آباد کچہری میں دھماکہ کرنا والا خودکش حملہ آور بھی افغانستان سے آیا تھا۔

    پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دہشت گردی کے ان دونوں واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔

  7. سرینگر کے پولیس سٹیشن میں دھماکہ، نو افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت 32 زخمی

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس سربراہ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے علاقے نوگام کے پولیس سٹیشن کے اندر ہونے والے دھماکے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    سرینگر میں پولیس کے سربراہ نلین پربھات نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس دھماکے میں ہلاکتوں کے علاوہ 27 پولیس اہلکاروں سمیت 32 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’ایف ایس ایل کی فارنزک کی ٹیم بہت احتیاط سے نمونے لے رہی تھی کہ 11 بج کر 20 منٹ پر یہ بدقسمت سانحہ ہوا۔‘

    پولیس چیف نے واضح کیا کہ اس سانحے پر کسی اور قسم کی قیاس آرائیاں کرنا بے سود ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ مرنے والے نو افراد میں فارنزک ٹیم کے تین افراد، دو ریونیو افسران اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 27 پولیس اہلکار، دو ریونیو افسران اور تین شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    تمام زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے سے پولیس سٹیشن کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور آس پاس کی عمارتیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

    خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے اس سے پہلے کہا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب ’وائٹ کالر‘ دہشت گردی کے ایک کیس میں ملنے والے دھماکہ خیز مواد کے نمونوں کی جانچ کی جاری تھی۔

    یہ دھماکہ خیز مواد ہریانہ کے علاقے فرید آباد سے لایا گیا تھا۔

  8. کشمیر کی قانون ساز اسمبلی: وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی گئی ہے۔

    سنیچر کو اسمبلی سیکریٹریٹ میں وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کروانے والوں میں چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، ملک ظفر اقبال سمیت دیگر ممبران شامل ہیں۔

    تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد اسمبلی کا اجلاس سوموار 17 نومبر کو دوپہر تین بجے طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کی خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری ہو گی۔

    آئین کے تحت تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کے بعد کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ سات دن کے اندر اندر اسمبلی کا اجلاس بلوا کر رائے شماری کروائی جاتی ہے۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اپنا وزیرِ اعظم لانے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 27 اراکینِ اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اسمبلی میں پی پی پی کے پاس اس وقت 17، مسلم لیگ (ن) کے پاس 9، پی ٹی آئی کے پاس چار، پی ٹی آئی فاروڈ بلاک (بیرسٹر سلطان گروپ) کے پاس سات، پی ٹی آئی وزیراعظم انوار گروپ کے پاس آٹھ، مہاجرین گروپ کے پاس چار جبکہ مسلم کانفرنس، جے کے پی پی اور علمائے مشائخ کے پاس ایک، ایک نشست ہے۔

    سنہ 2021 میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) 26 نشستوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اور خواتین کی مخصوص نشستوں اور ٹیکنوکریٹ کی نشست کی شمولیت سے انھوں نے حکومت بنائی۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابات کے بعد اب تک دو وزیرِ اعظم تبدیل ہو چکے ہیں اور اب اپوزیشن اتحاد نے وزیر اعظم انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کروائی ہے۔

    موجود وزیرِ اعظم انوار الحق کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک سے ہے۔ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت میں ہونے والی دھڑا بندی کے سبب اب پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت ہے۔

  9. غزہ کے 153 افراد کی چارٹرڈ فلائٹ سے جنوبی آفریقہ آمد: ’اس معمے کی تحقیقات کر رہے ہیں‘

    جنوبی آفریقہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی چارٹرڈ مسافر طیارے کے ذریعے جنوبی آفریقہ آمد کے ’معمے‘ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    جنوبی آفریقہ کے ٹمبو ایئر پورٹ پر ایک چارٹرڈ مسافر طیارہ اترا جس میں 153 فلسطینی شہری سوار تھے۔

    حکام نے پہلے تو مسافروں کو جہاز سے اترنے نہیں دیا اور وہ دس گھنٹے تک جہاز میں رہے کیونکہ ’اُن کے پاسپورٹ پر ایگزیٹ یا ملک چھوڑنے کی مہر نہیں لگی ہوئی تھی۔‘

    جنوبی آفریقہ کے صدر کا کہنا ہے کہ مقامی فلاحی تنظیم کی مداخلت کے بعد حکومت نے رحمدلی کا مظاہرے کرتے ہوئے مسافروں کو جہاز سے نکلنے دیا گیا۔

    تاہم غزہ سے اُن کا نکلنا اور سفر کر کے جنوبی افریقہ پہنچنے کے معاملہ تاحال واضح نہیں ہے۔

    حماس اور اسرائیل کے درمیان دو سال تک جاری رہنے والی جنگ میں جنوبی آفریقہ نے فلسطین کی بھرپور حمایت کی ہے۔

    صدر راما فوسا نے نیوز 24 کو بتایا کہ یہ گروپ پراسرار طریقے سے طیارے میں سوار ہوا اور نیروبی سے ہوتا ہوا جنوبی آفریقہ میں داخل ہوا۔

    غزہ کے کراسنگ کو کنٹرول کرنے والے اسرائیل کے عسکری ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’تیسرے ملک کی جانب سے ان افراد کو داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد ہی اس گروپ کو غزہ سے نکلنے دیا گیا۔‘ انھوں نے اپنے بیان میں تیسرے ملک کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

    جنوبی افریقہ میں فلسطینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ یہ چارٹرڈ طیارہ اسرائیل کے رامون ہوائی اڈے سے اڑا اور کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے ہوتا ہوا جنوبی آفریقہ پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا کہ طیارہ کسی پیشگی اطلاع یا رابطہ کاری کے بغیر پہنچا ہے۔

  10. سلامتی کونسل غزہ امن منصوبے پر جلد قرارداد پیش کرے، امریکہ اور عرب اسلامی ممالک کا اصرار

    امریکہ سمیت اہم مسلمان ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر جلد قررداد منظور کرے۔

    امریکہ، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، انڈونیشیا، اردن، پاکستان اور ترکی نے غزہ میں امن کے لیے دیگر چیزوں کے ساتھ بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی مشترکہ حمایت کی تھی۔ ان ممالک نے اُمید ظاہر کی ہے کہ اس سلسلے میں سلامتی کونسل میں جلد قرارد پیش کی جائے گی۔

    رواں سال ستمبر کے آخر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے امن منصوبے کو 13 اکتوبر کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے والے اجلاس میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ اجلاس میں امریکہ سمیت بیس سے زیادہ ممالک نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

    اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نے کہا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے پر بھرپور بات چیت جاری ہے اور اس دوران اختلافات پیدا کرنے کا کوئی بھی اقدام غزہ کے عوام پر اثرانداز ہو گا۔

    امریکی ترجمان بظاہر روس کی جانب اشارہ کر رہے تھے کیونکہ ماسکو نے غزہ میں امن سے متعلق ایک اور مسودہِ قرارداد پیش کیا ہے جو امریکہ کے امن پلان سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

    امریکی سفارت کار نے کہا کہ ’غزہ میں جنگ بندی ایک نازک معاملہ ہے اور ہم سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ متحد ہو کر ضروری قیامِ امن کے لیے آگے بڑھیں کیونکہ یہ مشرقِ وسطی میں دیرپا امن کےلیے راہ ہموار کرنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔‘

    امریکہ نے گذشتہ ہفتے غزہ میں جنگ بندی اور امن منصوبے کی حمایت کے لیے سلامتی کونسل کی قراراداد کے مسودے پر بات چیت شروع کی تھی اور سلامتی کونسل کے پندرہ اراکین میں قرارداد کا مسودہ باضابطہ طور پر تقسیم کیا تھا۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس مسودے پر اُسے علاقائی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ میں پیش ہونے والی قرارداد کا تیسرا ڈرافٹ دیکھا اور اس ڈرافٹ کے مطابق اس میں غزہ میں عبوری امن کونسل کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی قرارداد کے مسودے میں امریکہ اور کئی اسلامی ممالک کے تعاون سے غزہ میں امن کے لیے ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ بنانے کی اجازت دی گئی ہے جو سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلح کرنے میں مدد دے گی۔

    دوسری جانب کئی سفارت کار قرارداد کے مسودے پر سوال اُٹھا رہے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ اس میں نگرانی کے طریقہ کار کا ذکر نہیں ہے، نہ ہی مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بات کی گئی ہے۔

  11. سرینگر کے پولیس سٹیشن میں دھماکہ، کم از کم چھ افراد ہلاک، 27 زخمی

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے ایک دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک جبکہ 27 زخمی ہو گئے ہیں۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق دھماکہ سرینگر کے مضافات میں موجود نوگام پولیس سٹیشن میں ہوا۔

    پی ٹی آئی کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب حکام ہریانہ کے شہر فرید آباد سے ملنے والے دھماکہ خیز مواد کے بڑے ذخیرے سے نمونے نکال کر ان کی جانچ کر رہے تھے۔

    حکام کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد پولیس اہلکار اور فرانزک ماہرین ہیں۔ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ دھماکہ نئی دہلی میں ہونے والے ایک مہلک کار دھماکے کے چار دن بعد ہوا ہے، جس میں کم از کم آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ انڈیا نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا تھا۔

  12. پینوراما ایڈٹ: ٹرمپ کا آئندہ ہفتے بی بی سی کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے بی بی سی کے خلاف اپنی تقریر ایڈٹ کرنے کے معاملے پر قانونی کارروائی کریں گے۔

    جمعے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم آئندہ ہفتے انھیں ایک سے پانچ ارب ڈالر کے درمیان ہرجانے کا نوٹس بھیجیں گے۔

    واضح رہے کہ بی بی سی نے امریکی صدر ڈرونلڈ ٹرمپ سے پینوراما پروگرام کی ایک قسط پر معافی مانگ لی ہے جس میں ان کی 6 جنوری 2021 کی تقریر کو ایڈٹ کیا گیا تھا تاہم بی بی سی نے معاوضے کے مطالبے کو مسترد کیا۔

    خیال رہے کہ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹِم ڈیوی اور نیوز کی سربراہ ڈیبورا ٹرنس نے اتوار کو اسی معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد استعفے دیے تھے۔

    بی بی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’چیئرپرسن سمیر شاہ نے الگ سے وائٹ ہاؤس کو خط لکھا جس میں صدر ٹرمپ کو واضح کیا گیا کہ وہ اور ادارہ 6 جنوری 2021 کی تقریر کو ایڈٹ کرنے پر معذرت چاہتے ہیں۔‘

    اس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’ہم شدید اختلاف کرتے ہیں کہ اس پر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا جا سکتا ہے۔‘

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ہفتے کے اختتام پر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر سٹارمر سے اس معاملے پر بات بھی کریں گے۔

  13. ریاستی انتخابات: وزیرِ اعظم مودی ’ریکارڈ توڑنے‘ پر بہار کے عوام کے شکر گزار، راہل گاندھی نتائج پر ’حیران‘

    انڈین ریاست بہار میں انتخابی نتائج منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی رہنماؤں کا ردِ عمل بھی سامنے آنا شروع ہو گیا ہے۔

    جہاں وزیرِ اعظم نریندر مودی اپنی جماعت کو 89 نشستیں جیتنے پر مبارکباد دے رہے ہیں، وہیں انڈین اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نتائج کو ’حیران کُن‘ قرار دے رہے ہیں۔

    وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا کہا؟

    بہار میں ریاستی انتخابات میں جیت کے بعد انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ’بہار کے لوگوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔‘

    بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیڈکوارٹر میں خطاب کرتے ہوئے انڈیا کے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے بہار کے لوگوں سے ہمیں لینڈ سلائیڈ فتح دینے کی درخواست کی تھی اور انھوں نے ہم سے اتفاق کیا۔ انھوں نے ہمیں سنہ 2010 کے بعد سے ہمیں سب سے بڑا مینڈیٹ دیا۔‘

    انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’ہم لوگوں کے ملازم ہیں۔ ہم انھیں اپنی سخت محنت سے خوش کر رہے ہیں، ہم نے ان کے دل چُرا لیے ہیں۔ اسی لیے پورے بہار نے ہماری حکومت کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

    راہل گاندھی نے کیا کہا؟

    کانگرس کے رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’میں گرینڈ الائنس پر اعتماد کا اظہار کرنے پر بہار کے کروڑوں ووٹرز کا شکرگزار ہوں۔ بہار کے یہ نتائج بہت حیران کُن ہیں۔‘

    انھوں نے مزید لکھا کہ: ’ہم ایسے الیکشن نہیں جیت سکے جو شروع سے ہی غیر شفاف تھے۔‘

    ’یہ آئین اور جمہوریت کے تحفظ کی لڑائی ہے۔ کانگرس پارٹی اور انڈیا الائنس اس پر غور کرے گا اور جمہوریت کو بچانے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنائے گا۔‘

    خیال رہے بہار انتخابات میں کانگرس صرف چھ نشستیں جیت سکی ہے جبکہ اس کی اتحادی جماعت راشٹریا جنتا دل نے 25 سیٹیں جیتی ہیں۔

  14. بہار انتخابات: وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بی جے پی سب سے زیادہ نشستیں جیتنے والی پارٹی بن گئی

    انڈیا کی ریاست بہار میں ریاستی انتخابات کے مکمل نتائج سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 89 نشستوں سے کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر اُبھری ہے۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق بہار کی ریاستی اسمبلی میں کُل 243 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے نتائج منظرِ عام پر آنے کے بعد بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں مستحکم پوزیشن میں نظر آ رہی ہیں۔

    انتخابی نتائج کے مطابق بی جے پی کی اتحادی جماعتوں جنتا دل (یونائیٹڈ) نے 85 جبکہ جانشتکتی پارٹی (رام ولاس) نے 19 نشستیں جیتی ہیں۔

    اس کے علاوہ بہار انتخابات میں راشٹریا جنتا دل نے 25، کانگرس نے چھ، ہندوستانی عوام مورچہ نے پانچ اور راشٹریا لوک مورچہ نے چار نشستیں جیتی ہیں۔

    ریاستی انتخابات میں اسد الدین اویسی کی آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین نے بھی پانچ نشستیں جیتی ہیں۔

    بی بی سی ہندی کے مطابق کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے دو جبکہ انڈین انکلیوسو پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے بھی بہار میں انتخابات میں ایک، ایک نشست حاصل کی ہے۔

  15. صدر زرداری نے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے سپریم کورٹ کے مستعفی ہونے والے ججز جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کر لیے ہیں۔

    جمعے کو ایوانِ صدر نے سپریم کورٹ کے دونوں ججز کے استعفوں کی منظوری کی تصدیق کی ہے۔

    خیال رہے دونوں ججز نے گذشتہ روز 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف احتجاجاً اپنے استعفے صدرِ پاکستان کو ارسال کیے تھے۔

  16. ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف کراچی میں وکلا کی ہڑتال، آئینی درخواستوں کی سماعت بھی منسوخ, ریاض سہیل، بی بی سی کراچی

    ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد سندھ ہائی کورٹ کے تمام بینچز میں دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت روک دی گئی ہے جبکہ کاز لسٹ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

    ڈپٹی رجسٹرار کی جانب سے جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ 27 ویں ترمیم کے بعد کراچی، حیدر آباد، سکھر اور لاڑکانہ بینچز میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت اب آئینی بینچ کرے گا۔

    دوسری جانب کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جمعے کو عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا، ہائی کورٹ بار نے کل سنیچر کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

    کراچی بار اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے سکریٹری جنرلز نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ٹارگٹڈ‘ ترامیم ہیں جس میں عدلیہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 199 کے اختیارات واپس لے لیے گیے ہیں جس کی وجہ سے ججز نے ہائی کورٹ میں آج آرٹیکل 199 کے تحت درخواستیں سننے سے انکار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 26 ویں ترمیم کے بعد اس میں بہتری لانی چاہیے تھی لیکن 27 ویں ترمیم کے ذریعے اس میں مزید خرابی پیدا کی گئی ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جس 26 ویں ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا آئینی بینچ اس کا فیصلہ تک نہیں کر سکا ہے، جوڈیشل کمیشن کی ساخت تبدیل کردی گئی ہے اور انتظامیہ کو اکثریت دی گئی ہے۔

    وکلا رہنماؤں نے اعلان کیا کہ سکھر میں وکلا کنونشن منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

  17. وفاقی آئینی عدالت کے تین ججوں کی حلف برداری، اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ جـجز نے تقریب میں شرکت نہیں کی

    پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے حلف اٹھا لیا ہے۔ آئینی عدالت کے ججز کی حلف برداری کی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ اور سپریم کورٹ آف پاکستان کو کوئی بھی جج شریک نہیں ہوا۔

    27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے تشکیل پانے والی وفاقی آئینی عدالت کے تینوں ججز کی تقریبِ حلف برداری جمعے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں منعقد ہوئی۔ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنی عدالت کے تین ججز جسٹس حسن اظہر رضوی ، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا۔

    اس سے پہلے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے چھ ججز تعینات کیے تھے۔

    حلف برداری کی تقریب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر بھی اسٹیج پر ہی موجود تھے جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب طاہر، جسٹس خادم سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس بھی وفاقی آئینی عدالت کے ججز کی تقریب حلف برداری میں شریک ہوئے۔ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی تقریب میں شریک تھے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز جسٹس محسن اختر کیانی ، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار ، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس ثمن رفعت نے آئینی عدالت کے ججز کی حلف برداری تقریب میں شرکت نہ کی۔

    اس سے پہلے سپریم کورٹ کے جج جسٹس امین الدین خان نے پاکستان میں نئی قائم کردہ وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس کے طور پر حلف اٹھایا۔

    ایوان صدر میں منعقد کی گئی تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس سے حلف لیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ایڈمرل ظفر محمود عباسی، چیف جسٹس آف پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ روز جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے اور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہی کر سکتے ہیں۔

  18. سپریم کورٹ کے دو ججز کا ضمیر جاگ گیا کیونکہ ان کی اجارہ داری پر قدغن لگائی گئی: خواجہ آصف

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر سپریم کورٹ سے مستعفی ہونے والے دو ججز جسٹس اطہر من اللہاور جسٹس منصور علی شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    جمعے کو قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ان ججز کا ضمیر دہائیوں سے سویا ہوا تھا۔ آج جب دم پر پیر آیا تو یہ ججز بیان دے رہے ہیں، شاعری کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ ’اس دن ان کی غیرت کہاں تھی جب اس اسمبلی میں آدھی رات کو 52 بِل پاس کیے گئے اور اسمبلی کو تحلیل کیا گیا۔۔۔ آج یہ جمہورت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ ’پارلیمان کی جانب سے منظور کردہ ترمیم پر سپریم کورٹ کے دو ججز کی غیرت جاگ گئی۔ لیکن جب یہ کینگرو کورٹس بنا کر میاں نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔۔۔ اس وقت کسی کی غیرت نہ جاگی۔‘

    ’یہ جج اس وقت بھی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اب وہ شاعری بھی کرتے ہیں، اب وہ سیاسی بیانات بھی دے رہے ہیں۔۔۔ عدلیہ کا کردار پاکستان کی تاریخ میں ہر موڑ پر اتنا بھیانک اور سیاہ رہا ہے کہ شاید ہی کسی ملک میں ایسا ہوا ہو۔‘

    ’ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے لے کر آئین کی تمام معطلیوں پر مہر لگانا اور پھر نواز شریف کو نااہل کرنا، یہ سب اسی عدلیہ نے کیا ہے جو ساتھ والی عمارت میں بیٹھتے ہیں۔‘

    انھوں نے سوال کیا کہ جسٹس اطہر من اللہ کو ’آئین کی محبت کا اُبال آیا ہے‘ وہ تو ’جنرل مشرف کی صوبائی کابینہ میں شامل تھے۔‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ ’لیکن آج ان کا ضمیر اس لیے جاگ گیا کہ ان کی سپریم کورٹ پر اجارہ داری پر قدغن لگائی گئی ہے اور پارلیمان نے آئین کی بالادستی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

  19. وفاقی آئینی عدالت میں چھ ججز تعینات

    27ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے وفاقی آئینی عدالت کے چھ ججز تعینات کیے ہیں۔

    14 نومبر کو وزارت قانون و انصاف کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس محمد کریم خان آغا، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ کو وفاقی آئینی عدالت میں بطور جج تعینات کیا گیا ہے۔

  20. اسلام آباد خودکش حملہ: پاکستان کا مبینہ سہولت کار سمیت ٹی ٹی پی کے چار ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ

    حکومت پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں ہونے والے دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث ٹی ٹی پی کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    حکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان کے مطابق انٹیلیجنس بیورو ڈویژن اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں جوڈیشل کمپلیکس جی 11 اسلام آباد پر حملے میں ملوث ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے دہشت گرد سیل کے چار ارکان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    یاد رہے کہ رواں ہفتے منگل کے روز اسلام آباد کی جی 11 کچہری کے باہر ایک خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    بیان کے مطابق دوران تفتیش ساجد اللہ عرف شینا، جو خودکش حملہ آور کا ہینڈلر ہے، نے اعتراف کیا کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں مقیم کمانڈر سعید الرحمن عرف داد اللہ نے ٹیلی گرام کے ذریعے رابطہ کر کے اسلام آباد میں خودکش حملہ کروانے کا کہا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

    بیان کے مطابق داد اللہ نے ساجد الله عرف ’شینا‘ کو خودکش بمبار عثمان عرف ’قاری‘ کی تصاویر بھیجیں تاکہ وہ اسے پاکستان میں وصول کرے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ خودکش بمبار عثمان عرف ’قاری‘ کا تعلق شینواری قبیلے سے تھا اور وہ اچین، نگرہار، افغانستان کا رہائشی تھا۔

    بیان کے مطابق خودکش بمبار افغانستان سے پاکستان پہنچا تو ساجد الله عرف ’شینا‘ نے اسے اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ٹھہرایا۔

    ’افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے کمانڈر داد الله کی ہدایت پر ساجد الله عرف ’شینا‘ نے اکھن بابا قبرستان پشاورسے خودکش جیکٹ حاصل کی اور اسے اسلام آباد پہنچایا اور دھماکے کے روز ساجد الله نے خودکش بمبار عثمان عرف ’قاری‘ کو خودکش جیکٹ پہنائی۔‘

    حکومت پاکستان کے مطابق ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجود اعلیٰ قیادت ہر قدم پر اس نیٹ ورک کی رہنمائی کر رہی تھی۔

    ’اس واقعے میں ملوث پورا سیل پکڑا جا چکا۔ آپریشنل کمانڈر اپنے تین دہشتگرد ساتھیوں سمیت گرفتار ہو چکے ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور مزید انکشافات اور گرفتاریاں متوقع ہیں۔‘