سندھ حکومت کا گل پلازہ آتشزدگی واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان

حکومتِ سندھ نے کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب کمشنر کراچی کی انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت میں بنیادی فائر سیفٹی انتظامات موجود نہیں تھے اور متعدد قوانین و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔

خلاصہ

  • پاسدارانِ انقلاب یورپی یونین کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل، کئی ایرانی رہنماؤں پر بھی پابندیاں
  • پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ فلسطین کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور یہ ایک غلط فہمی ہے، بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب ابرہیمی معاہدے کا حصہ بننا نہیں۔
  • صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے مذاکرات نہ کیے تو اس بار کارروائی پہلے سے زیادہ سخت ہو گی۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے بیان میں کہا تھا کہ ’مذاکرات چاہتے ہیں تو دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کو ختم کرنا ہوگا‘
  • پی آئی اے کی نجکاری مکمل: حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے درمیان ٹرانزیکشن دستاویزات پر دستخط کر دیے گئے
  • اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے

لائیو کوریج

  1. ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دیں گے: سعودی عرب

    ایران، سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

    اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا اور محمد بن سلمان نے انھیں یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ’اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، چاہے ان کی منزل کچھ بھی ہو۔‘

    ایرانی صدر نے اسرائیل اور امریکہ پر حالیہ مظاہروں میں ’مشتعل افراد کو اکسانے‘ کا الزام لگایا۔

    انھوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ’تصور کیا تھا کہ ان کارروائیوں سے وہ ایران کو شام یا لیبیا میں تبدیل کر سکتے ہیں‘ اور یہ کہ ’منظرعام پر ایرانی قوم کی وسیع اور شعوری موجودگی نے ان کے مقاصد اور سازشوں کو شکست دی۔‘

    ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی خطرے یا کشیدگی کو ناقابل قبول سمجھتا ہے‘ اور ’خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔‘

  2. تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا کا اتوار کو گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان

    KPK

    ،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وادی تیراہ سے نقل مکانی کے معاملے پر اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

    منگل کے روز وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سہیل آفریدی نے وادی تیراہ میں جاری آپریشن اور نقل مکانی کی صورتحال پر تفصیلی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں کے سنگین نتائج عوام کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے جرگے میں متفقہ طور پر کہا گیا تھا کہ فوجی آپریشن مسئلے کا حل نہیں بلکہ دہشت گردی کا خاتمہ بات چیت، مشاورت اور جرگہ سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ کور کمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی کی سربراہی میں 24 رکنی مقامی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ان جرگوں میں کہا گیا کہ مقامی لوگوں کو تیراہ سے نکالنا ہو گا کیونکہ جب تک لوگ وہاں موجود ہیں آپریشن ممکن نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ قوم نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا مگر ’شدید دباؤ اور برفباری کے موسم میں لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔‘

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ بوڑھے، بچے اور خواتین شدید برفباری میں نقل مکانی پر مجبور ہیں جبکہ برفباری کے باعث آپریشن بھی نہیں ہو پا رہا۔

    وزیرِ اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ 24 رکنی کمیٹی کے اراکین نے آئی جی ایف سی اور کور کمانڈر کے کہنے پر اپنی قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ دو مہینوں کے اندر بے دخل ہونے والوں کو واپس لے جایا جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے باڑہ کے دورے کے دوران اپنی قوم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ مجھے ان کے دو مہینوں کے وعدے پر کوئی بھروسہ نہیں، کیونکہ مجھے نظر نہیں آتا کہ شدید برف باری اور خراب موسم کے باوجود وہ دو مہینوں میں آپ کو واپس لے جا سکیں گے۔‘

    انھوں نے اعلان کیا کہ اتوار کے روز جمرود فٹبال سٹیڈیم میں پورے خیبر میں بسنے والی اقوام کا گرینڈ جرگہ منعقد کیا جائے گا، جہاں عوام سے پوچھا جائے گا کہ آیا وہ اپنی مرضی سے نقل مکانی کر رہے ہیں یا انھیں زبردستی بے دخل کیا گیا۔

    وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کی دیکھ بھال کے لیے چار ارب روپے جاری کیے ہیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’وفاق سے یہ ہضم نہیں ہو رہے۔‘

    سہیل آفریدی نے سوال کیا کہ ’جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (آئی بی اوز) سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو مزید آپریشن سے کون سے فائدہ مند نتائج حاصل ہوں گے؟‘

    اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں ہے۔

    وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا جس نے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 24 اور پھر 31 دسمبر کو بھی یہ جرگہ حکومت سے ملا۔

    انھوں نے کہا کہ شاید خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ کو اس متعلق معلومات نہ ہوں لیکن جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے ملا۔

  3. تیراہ سے نقل مکانی کا معاملہ: کے پی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں، خواجہ آصف

    Defence Minister

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایک بار پھر وفاقی حکومت کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ فوج خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ میں کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنے چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔

    وہ منگل کے روز اسلام آباد میں وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیرِ اعظم کے کورآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

    پریس کانفرنس کے دوران خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ افغان سرحد کے ساتھ موجود متعدد علاقے بشمول وادی تیراہ اور میرانشاہ سے سردیوں میں نقل مکانی ہوتی ہے۔ ’یہ آج کی نہیں، یہ برٹش راج کے زمانے سے چلتی آ رہی ہے۔‘

    وزیرِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ گذشتہ برس 11 دسمبر کو ایک جرگہ علاقے میں موجود تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے پاس گیا جس نے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی کے حوالے سے ان سے بات کی۔ ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں یہ جرگہ حکومت سے بھی ملا۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 24، اور پھر 31 دسمبر کو بھی یہ جرگہ حکومت سے ملا۔

    انھوں نے کہا کہ شاید خیبر پختونخوا کے وزیارِ اعلیٰ کو اس متعلق معلومات نہ ہوں لیکن جرگہ ٹی ٹی پی اور حکومت دونوں سے ملا۔

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں 400 سے 500 ٹی ٹی پی والے اپنے بال بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان مذاکرات کامیاب رہے جس کے بعد کے پی حکومت نے چار ارب روپے اور نقل مکانی کے پیکج کا اعلان کیا اور اس متعلق ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔

    وفاقی وزیر نے ایک بار پھر زور دیا کہ اس کا سارے معاملے کا وہاں تعیانت فوج سے کوئی تعلق نہیں۔ ’یہ ارینجمنٹ صوبائی حکومت اور جرگے کے درمیان طے پائی ہے، جس کے نتیجے میں نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ تیراہ میں آپریشن کئی برس پہلے ہوئے، جس کے بعد سٹریٹیجک بنیادوں پر فیصلہ ہوا کہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے آپریشنز (آئی بی اوز) زیادہ موثر ہیں کیونکہ ان میں شہری آبادی کا نقصان نہیں ہوتا۔

    ’فوج نے آئی بی اوز کے حق میں آپریشن ترک کر دیا ہے، وہاں آپریشن کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘

    ’فوج کی موجودگی یا آپریشن کے متعلق ساری باتیں مفروضے ہیں۔ وہاں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، آئی بی اوز ہوتے رہتے ہیں۔‘

    خواجہ آصف نے علاقے میں صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہاں نہ ہسپتال ہے، نہ سکول، نہ تھانہ ہے۔۔۔۔۔ وہاں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں کا وجود ہی نہیں ہے۔‘

    وفاقی وزیر نے مزید دعویٰ کیا کہ تیراہ میں 12 ہزار ایکڑ پر بھنگ کی کاشت ہوتی ہے جس کا منافعہ 30 سے 35 لاکھ پر ایکڑ ہے۔ یہ ایک بہت بڑا فیکٹر ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ بھنگ سے متعدد دوائیاں، کنسٹرکشن مٹیریل بنتے ہیں اور اس کاشت سے ہونے والے فوائد وہاں کے سیاسی افراد یا ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتے ہیں۔

    ’پاکستان میں بہت سی جگہ میں بھنگ کاشت ہوتی ہے لیکن کہیں 12 ہزار ایکڑ پر نہیں ہوتی۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس تمام عمل کو روکنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاکہ بھنگ کی کاشت سے وہاں کے لوگوں فائدہ ہو۔

    ’آپ کو جو نظر آرہا ہے وہ اصل تصویر نہیں اور صوبائی حکومت کے وہاں لوگوں کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کو جن کیمپوں میں رکھا ہے وہ سردی سے نہیں بچا نہیں سکتے۔ انھوں نے کہا کہ یہ انتظامات ہر سال کیے جاتے ہیں لیکن اب کی بار صوبائی حکومت کی کارکردگی ناقص رہی۔

    تیراہ سے لوگوں کی نقل مکانی کا معاملہ ہے کیا؟

    یاد رہے کہ رواں ماہ کی آٹھ تاریخ کو سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی تھی کہ تیراہ کے 24 رکنی جرگے سے ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کے بعد فوجی آپریشن کے پیشِ نظر 10 جنوری سے تیراہ سے مقامی آبادی کا انخلا شروع ہو گا جو 25 جنوری تک جاری رہے گا۔

    مقامی آبادی کا انخلا گذشتہ ہفتے بھی جاری تھا کہ جمعرات کے روز اس علاقے اور قرب و جوار میں برفباری کا آغاز ہوا اور راستے بند ہو گئے۔ اس صورتحال کے باعث سینکڑوں افراد راستے میں ہی پھنس گئے تھے۔ سنیچر کے روز ہنگامی امداد کے ادارے ریسکیو 1122 کی جانب سے بتایا گیا کہ وادی تیراہ میں برفباری میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے جاری ریسکیو اپریشن کے دوران 1500 سے زائد افراد اور 350 گاڑیوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

    تاہم اتوار کے روز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان خبروں کا ’مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے۔‘

    وزارتِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت یا فوج کی جانب سے خیبر پختونخوا کے علاقے وادی تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔

    بعد ازاں پیر کے روز خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کے دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے ’سراسر غلط اور گمراہ کن بیانیہ‘ قرار دیا تھا۔

    سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت سے اپنا بیان واپس لینے اور اس پر معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ جرگہ بلائیں گے۔ ’اگر بات غلط ثابت ہوئی تو نقل مکانی کرنے والے متاثرین کو خود تیراہ واپس لے کر جاؤں گا۔‘

  4. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ خبروں پر نظر دوڑانے کے لیے یہاں کلک کریں