کیا سعودی عرب اور ایران پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب اور ایران کی جانب سے سفارتی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصبوں سے بات کی ہے وہیں ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
خیال رہے کہ حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف کئی سخت اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا، سرحدی گزرگاہیں بند کرنا اور پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنا شامل ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’انڈیا اور پاکستان صدیوں پرانے ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کے ساتھ ایران کے برادر ہمسائے ہیں اور دوسرے پڑوسیوں کی طرح ہم انھیں اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’تہران اس مشکل وقت میں زیادہ افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔‘
انھوں نے 13ویں صدی کے شاعر سعدی کی ایک نظم بھی شیئر کی جس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ ’انسانی تہذیب کائنات کا ایک حصہ ہے اور اگر ایک کو تکلیف ہو گی تو دوسرا بھی اس سے پریشان ہو گا۔‘
اس کے ساتھ ساتھ عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے بھی بات کی ہے۔ ایکس پر یہ معلومات دیتے ہوئے ڈار نے لکھا کہ ’ہم خطے میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے ایران کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔
بیان کے مطابق ڈار نے انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ تبدیلیوں سے آگاہ کیا اور انڈیا کی طرف سے کسی بھی ’اشتعال انگیز کارروائی‘ کے خلاف خبردار کیا۔
اسی طرح سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے انڈیا اور پاکستان دونوں کے وزرائے خارجہ سے بات کی ہے۔
ٹوئٹر پر یہ معلومات دیتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے لکھا کہ ’سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پر بات ہوئی۔ ان سے پہلگام دہشت گرد حملے اور سرحد پار سے اس کے تعلق پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل نے علاقائی پیش رفت پر بات کی۔ ڈار نے شہزادہ فیصل کو انڈیا کے فیصلے کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سعودی عرب نے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ سعودی عرب اس سے قبل بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر چکا ہے۔
مڈل ایسٹ انسائٹ فورم کی بانی ڈاکٹر شوبھدا چودھری نے بی بی سی کے نامہ نگار سندیپ رائے کو بتایا کہ 2019 میں جب پلوامہ میں انڈین فوجیوں پر دہشت گردانہ حملے میں 40 فوجی مارے گئے تھے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی تھیں۔
اس کے جواب میں کہ ایران اور سعودی عرب کیوں ثالثی کرنا چاہتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’ایران جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے کیونکہ اس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے جبکہ اس کے انڈیا کے ساتھ کچھ اہم اقتصادی منصوبے ہیں جیسے کہ چابہار بندرگاہ۔
بقول اُن کے ’اگر جنوبی ایشیا میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو ایران کو نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ وہ سرحد پار دہشت گردی سے بھی پریشان ہے۔‘
ڈاکٹر شوبھدا چودھری کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب نے ماضی میں بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کے گہرے سٹریٹیجک اور اقتصادی مفادات ہیں۔ اس کا اثر و رسوخ بھی ہے اور اس کی وجہ سے اس کے پاس طاقت ہے۔ وہیں اس کے انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ہیں۔‘
تاہم ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر اور ساؤتھ ایشین جیو پولیٹکس کے ماہر دھننجے ترپاٹھی نے بی بی سی کے نامہ نگار سندیپ رائے کو بتایا کہ موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ جب تک پاکستان کی جانب سے کچھ ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے بیک چینل ڈپلومیسی انڈیا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پلوامہ اور بالاکوٹ کے بعد سعودی عرب نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
’کسی تیسرے ملک کی طرف سے کسی بھی قسم کی سفارت کاری صرف اس صورت میں معنی رکھتی ہے جب پاکستان ٹھوس اقدام کرے، حالانکہ انڈیا کی طرف سے ابھی تک اس کے سامنے کوئی ٹھوس مطالبہ یا ثبوت نہیں رکھا گیا ہے۔‘











