افغانستان سے آئے 54 شدت پسند ہلاک: ’یہ گروہ پاکستان میں ہائی پروفائل دہشتگردی کرنا چاہتا تھا‘، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوجی کے مطابق ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ طور پر دراندازی کی کوشش کرنے والے 54 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔

خلاصہ

  • پہلگام حملے کی سازش رچنے والوں کو کڑا جواب دیں گے: مودی کا پیغام
  • کینیڈا کے شہر وینکوور میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں
  • ایران کی سب سے بڑی کمرشل بندرگاہ شہید رجائی پر دھماکے میں کم از کم 40 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں
  • اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کی مذمت، تمام ملکوں سے تعاون کا مطالبہ
  • انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا تبادلہ تیسرے روز بھی جاری
  • پاکستان کی انڈیا کو پہلگام میں حملے پر غیر جانبدار تحقیقات میں شریک ہونے کی پیشکش، ’بے بنیاد الزام تراشی بند کی جائے: شہباز شریف
  • پاکستان اورانڈیا بڑھتے تناؤ اور کشیدگی کا معاملہ خود ہی حل کریں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. کیا سعودی عرب اور ایران پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں؟

    iran and saudi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پہلگام میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے درمیان سعودی عرب اور ایران کی جانب سے سفارتی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے پاکستان اور انڈیا میں اپنے ہم منصبوں سے بات کی ہے وہیں ایرانی وزیر خارجہ نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

    خیال رہے کہ حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان کے خلاف کئی سخت اقدامات اٹھائے ہیں جن میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا، سرحدی گزرگاہیں بند کرنا اور پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کرنا شامل ہیں۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مفاہمت کے لیے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔

    عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’انڈیا اور پاکستان صدیوں پرانے ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کے ساتھ ایران کے برادر ہمسائے ہیں اور دوسرے پڑوسیوں کی طرح ہم انھیں اپنی اولین ترجیح سمجھتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تہران اس مشکل وقت میں زیادہ افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

    انھوں نے 13ویں صدی کے شاعر سعدی کی ایک نظم بھی شیئر کی جس کا مختصر مطلب یہ ہے کہ ’انسانی تہذیب کائنات کا ایک حصہ ہے اور اگر ایک کو تکلیف ہو گی تو دوسرا بھی اس سے پریشان ہو گا۔‘

    اس کے ساتھ ساتھ عراقچی نے اپنے پاکستانی ہم منصب اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار سے بھی بات کی ہے۔ ایکس پر یہ معلومات دیتے ہوئے ڈار نے لکھا کہ ’ہم خطے میں حالات کو معمول پر لانے کے لیے ایران کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

    بیان کے مطابق ڈار نے انڈیا کے بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں حالیہ تبدیلیوں سے آگاہ کیا اور انڈیا کی طرف سے کسی بھی ’اشتعال انگیز کارروائی‘ کے خلاف خبردار کیا۔

    اسی طرح سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے انڈیا اور پاکستان دونوں کے وزرائے خارجہ سے بات کی ہے۔

    ٹوئٹر پر یہ معلومات دیتے ہوئے انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے لکھا کہ ’سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے فون پر بات ہوئی۔ ان سے پہلگام دہشت گرد حملے اور سرحد پار سے اس کے تعلق پر تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل نے علاقائی پیش رفت پر بات کی۔ ڈار نے شہزادہ فیصل کو انڈیا کے فیصلے کے بعد پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ سعودی عرب نے انڈیا اور پاکستان دونوں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ سعودی عرب اس سے قبل بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر چکا ہے۔

    مڈل ایسٹ انسائٹ فورم کی بانی ڈاکٹر شوبھدا چودھری نے بی بی سی کے نامہ نگار سندیپ رائے کو بتایا کہ 2019 میں جب پلوامہ میں انڈین فوجیوں پر دہشت گردانہ حملے میں 40 فوجی مارے گئے تھے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں کی تھیں۔

    اس کے جواب میں کہ ایران اور سعودی عرب کیوں ثالثی کرنا چاہتے ہیں وہ کہتی ہیں کہ ’ایران جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے کیونکہ اس کی سرحد پاکستان کے ساتھ ملتی ہے جبکہ اس کے انڈیا کے ساتھ کچھ اہم اقتصادی منصوبے ہیں جیسے کہ چابہار بندرگاہ۔

    بقول اُن کے ’اگر جنوبی ایشیا میں عدم استحکام بڑھتا ہے تو ایران کو نقصان ہو گا۔ اس کے علاوہ وہ سرحد پار دہشت گردی سے بھی پریشان ہے۔‘

    ڈاکٹر شوبھدا چودھری کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب نے ماضی میں بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی ہے۔ پاکستان کے ساتھ اس کے گہرے سٹریٹیجک اور اقتصادی مفادات ہیں۔ اس کا اثر و رسوخ بھی ہے اور اس کی وجہ سے اس کے پاس طاقت ہے۔ وہیں اس کے انڈیا کے ساتھ اقتصادی تعلقات ہیں۔‘

    تاہم ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کے اسوسی ایٹ پروفیسر اور ساؤتھ ایشین جیو پولیٹکس کے ماہر دھننجے ترپاٹھی نے بی بی سی کے نامہ نگار سندیپ رائے کو بتایا کہ موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ جب تک پاکستان کی جانب سے کچھ ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے بیک چینل ڈپلومیسی انڈیا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ پلوامہ اور بالاکوٹ کے بعد سعودی عرب نے پاکستان پر دباؤ ڈالا تھا تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

    ’کسی تیسرے ملک کی طرف سے کسی بھی قسم کی سفارت کاری صرف اس صورت میں معنی رکھتی ہے جب پاکستان ٹھوس اقدام کرے، حالانکہ انڈیا کی طرف سے ابھی تک اس کے سامنے کوئی ٹھوس مطالبہ یا ثبوت نہیں رکھا گیا ہے۔‘

  2. پہلگام حملہ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف علاقوں میں آپریشن، سکیورٹی فورسز کا مبینہ عسکریت پسندوں کے گھروں کو بارود سے اڑانے کا دعویٰ, ریاض مسرور، بی بی سی اردو سرینگر

    indian kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پہلگام میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے جاری آپریشن کے دوران مبینہ عسکریت پسندوں کے گھروں کو بارود سے اُڑایا گیا ہے اور بانڈی پورہ میں مارے گئے نوجوان کے لواحقین نے اسے ’حراستی قتل‘ قرار دیا ہے۔

    پہلگام حملے کے بعد جہاں انڈین اور پاکستانی افواج کے درمیان ایل او سی پر تناؤ ہے، وہیں گذشتہ بدھ سے ہی وادی اور جموں کے مختلف علاقوں میں مبینہ عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    جموں کے ادھم پور میں فوج کی جانب سے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    اِدھر وادی میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ بانڈی پورہ ضلع کے کُلنار گاؤں میں جمعے کو ہوئی جھڑپ میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

    پولیس کا دعویٰ ہے کہ جھڑپ میں ’عسکریت پسندوں کا سہولت کار‘ الطاف لالی مارا گیا۔

    مقامی افراد نے بتایا کہ 27 سالہ الطاف لالی دراصل کالعدم عسکریت پسند گروپ حزب المجاہدین کے ایک کمانڈر طالب لالی کا بھائی ہے۔

    اُن کے مطابق طالب کئی سال سے بارہمولہ جیل میں قید ہے اور الطاف پڑھائی چھوڑ کر مزدوری کر رہا تھا۔ لالی کے لواحقین نے دعویٰ کیا کہ الطاف کو دو روز قبل حراست میں لیا گیا تھا۔

    اس ہلاکت کے بعد کُلنار گاؤں کے لوگوں نے الطاف کی ہلاکت کو ’حراستی قتل‘ قرار دیا ہے اور اس ہلاکت کے خلاف جمعے کی شام مظاہرے کیے گئے۔

    مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔

    پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو بانڈی پورہ میں حالات پُرامن تھے۔ ایک مقامی شہری نے بھی بتایا کہ سنیچر کو بانڈی پورہ میں معمول کے مطابق تعلیمی اور تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔

    indian administered kashmir

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسی دوران جنوبی کشمیر میں پہلگام حملہ آوروں کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس اور فوج کی مشترکہ کارروائیوں میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے گھروں کو رات کے دوران بارود سے اُڑا دیا گیا۔

    فوج کا دعویٰ ہے کہ ان عسکریت پسندوں کا پہلگام میں ہوئی ہلاکتوں کی سازش میں براہ راست کردار رہا ہے تاہم اس دعوے کے حوالے سے مزید تفصیلات اور شواہد فراہم نہیں کیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ 22 اپریل کی دوپہر کو مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں مسلح حملہ آوروں نے انڈین سیاحوں کی کیمپ سائٹ پر فائرنگ کی جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے جن میں 25 سیاح اور ایک مقامی شخص شامل تھا۔

    ان ہلاکتوں پر پورے کشمیر میں اگلے روز ہڑتال کی گئی اور زندگی کے تقریباً ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ان ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ جمعہ کے روز علیحدگی پسند رہنما اور مذہبی لیڈر میر واعظ عمر فاروق کو ایک ماہ کی نظر بندی کے بعد تاریخی جامع مسجد میں جمعے کے اجتماع سے خطاب کی اجازت دی گئی۔

    انھوں نے خطبے میں ان ہلاکتوں کو بہیمانہ قرار دے کر ان کی مذمت کی اور کہا کہ ’اپنوں کو ایسے قتل ہوتا دیکھنے کا درد ہم سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے۔‘

    دریں اثنا کشمیر میں فوج کا دعویٰ ہے کہ لائن آف کنٹرول پر جمعہ کی رات انڈین اور پاکستانی افواج کے بیچ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

    انڈین فوج کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی تاہم اس کا مناسب جواب دیا گیا۔ فوج نے کہا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    کشمیر میں فوج اور پولیس نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ انتظامیہ نے ٹریکنگ (کوہ پیمائی) پر اگلے اعلان تک پابندی اور ایل او سی کے قریبی علاقوں میں جانے کے لیے پیشگی اجازت لازمی قرار دے دی ہے۔

    انڈیا کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جس میں دفاعی آپریشنز کی لائیو کوریج پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

  3. انڈیا اور پاکستان کے درمیان لائن آف کنٹرول پر دوسرے روز بھی فائرنگ کا تبادلہ

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد انڈیا پاکستان کے درمیان تعلقات میں مسلسل کشیدگی میں اضافہ سامنے آ رہا ہے اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر مسلسل دوسرے روز بھی دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلہ ہوا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں مبینہ طور پر پاکستانی عسکریت پسندوں پر سیاحوں پر حملے کے الزام کے بعد دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    انڈین فوج کے مطابق جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کشمیر پاکستانی فوج کی متعدد چوکیوں سے چھوٹے ہتھیاروں سے ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں انڈین فوج نے بھی فائرنگ کی۔

    انڈین فوج کے مطابق پاکستانی فوجیوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ کی۔ انڈین فوج کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں انڈیا کے فوجیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔

    انڈین فوج نے کہا کہ جمعرات کی نصف شب کے قریب پاکستانی فوجیوں نے بھی گولہ باری کی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق انڈیا کی جانب سے تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے جبکہ پاکستانی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

  4. مقررہ ڈیڈلائن کے بعد کوئی بھی پاکستانی انڈیا میں نہ رہے : انڈین وزیر داخلہ امت شاہ

    امت شاہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے تمام وزرائے اعلیٰ کو ہدایت کی ہے کہ کوئی پاکستانی طے شدہ ڈیڈ لائن کے بعد انڈیا میں نہ رہے۔

    انڈیا کے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق انڈین وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعے کے روز تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو فون پر ہدایات دی ہیں کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مقررہ ڈیڈلائن کے بعد کوئی بھی پاکستانی انڈیا میں نہ رہے۔

    یاد رہے کہ انڈیا نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ 27 اپریل سے تمام پاکستانی شہریوں کو جاری کیے گئے ویزے منسوخ کر دیے جائیں گے اور پاکستان میں مقیم انڈین شہریوں کو جلد از جلد وطن واپس آنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ان کے ذرائع نے بتایا کہ وزرائے اعلیٰ کو یہ ہدایات بھی دی گئی ہیں کہ اپنے اپنے علاقوں میں مقیم پاکستانی شہریوں کی شناخت کریں اور ان کی ملک بدری کو یقینی بنائیں۔

    تاہم ویزوں کی منسوخی ان طویل مدتی ویزوں پر لاگو نہیں ہوگی جو انڈین حکومت نے ہندو پاکستانی شہریوں کو جاری کیے تھے اور ان کے یہ ویزے بدستور مؤثر رہیں گے۔

    انڈیا کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزہ خدمات معطل کرنے کا اعلان بھی سامنے آ چکا ہے۔

    بدھ کے روز انڈیا کی جانب سے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستانی شہری اب سارک ویزہ استثنیٰ سکیم (SVES) کے تحت انڈیا کا سفر نہیں کر سکیں گے اور جو پاکستانی شہری سارک ویزہ کے تحت انڈیا میں موجود ہیں ان کے پاس ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے ہیں۔

    یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’انڈیا ہر دہشت گرد اور ان کے ’سرپرستوں‘ کی شناخت کرے گا اور ان کا پیچھا کرے گا اور انھیں سزا دے کر انجام تک پہنچائے گا۔‘

  5. ’کچھ بڑا ہونے والا ہے‘: انڈین میڈیا پہلگام حملے کے بعد ہیڈ لائنز میں پاکستان کو کیا پیغام دے رہا ہے, شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ ، کام ، دلی

    انڈیا احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنپہلگام حملے کے بعد سے انڈیا میں پاکستان مخالف مظاہرے جاری ہیں

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام پر حملے کے بعد انڈین میڈیا میں پاکستان کے خلاف ممکنہ جوابی اقدامات کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے اور مختلف ٹی وی چینلز اپنے اپنے طریقے سے تجزیے اور بحث و مباحثے میں’ فوجی ٹکراؤ‘ کے خدشات کو ہوا دے رہے ہیں۔

    انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سمیت پہلے ہی کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے لیکن اس حملے کے منصوبہ سازوں کو تباہ کرنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سخت بیان کے بعد ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی کہ انڈیا بیانات سے آگے بڑھ کر کچھ فوجی نوعیت کی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    انڈین میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کے مطابق امریکہ کی قومی انٹیلیجنس کی سربراہ تلسی گیبرڈ نے ایک پیغام کہا ہے کہ ’امریکہ پہلگام کے دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوششوں میں پوری طرح انڈیا کے ساتھ ہے۔‘

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے بیچ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود سے پہلگام حملے اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔

    جے شنکر نے اسرائیل سمیت دیگر ملکوں کے سفیروں سے بھی ملاقات کی اور انھیں انڈیا کے موقف سے آگاہ کیا۔

    ٹی وی چینلوں پر روٹین پر نظر آنے والے تجزیہ کاروں اور مبصرین کے ساتھ ساتھ اب بڑی تعداد میں سابقہ فوجی بطور دفاعی ماہرین کے بحث ومباحثے میں حصہ لیتے نظر آ رہے ہیں۔

    اور اس میں ’انڈیا کیا کر سکتا ہے‘ اور ’پاکستان کی فوجی قوت کتنی ہے‘ جیسے موضوعات مسلسل خبروں کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔

    انڈین میڈیا

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab

    ،تصویر کا کیپشنٹی وی چینلوں پر روٹین کے تجزیہ کاروں اور مبصرین کے ساتھ سابقہ فوجی بطور دفاعی ماہرین کے بحث ومباحثے میں حصہ لے رہے ہیں

    ’چن چن کر بدلہ لیں گے‘: میڈیا ہیڈ لائنز

    انڈیا میں ٹی وی چینلز کی سرخیوں نے پورے ملک کی فضا گرم کر رکھی ہے۔ ان سرخیوں میں

    • ’کچھ بڑا ہونے والا ہے‘
    • ’اسلامی شدت پسندوں کو پالنے والوں کا خاتمہ ضرور ہو گا‘
    • ’چن چن کر بدلہ لیں گے‘
    • ’بھارت کی بڑی تیاری‘
    • آرمی چیف کشمیر میں اور جنرل منیر کے لیے پل پل بھاری‘

    اور انھی جیسے دیگر عنوان سکرین پر مسلسل دکھائے جا رہے ہیں۔ این ڈی ٹی وی کے نامہ نگار ایل او سی کے نزدیک سے رپورٹنگ کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ پاکستان کی جانب سے فائرنگ کا انڈین فوجیوں نے منھ توڑ جواب دیا ہے۔

    وہ جنگ جو پاکستان بغیر لڑے ہی ہار گیا: ٹائمز آف انڈیا

    کئی انڈین چینل اب انڈیا اور پاکستان کی جنگی طاقت کا موازنہ بھی کر رہے ہیں کہ کس کے پاس کتنے مزائیل اور کتنے جنگی جہاز اور دوسرے ہتھیار ہیں۔

    ٹائمز آف انڈیا جیسے بڑے اخبار نے پاکستان کی اقتصادی ، تعلیمی ، صحت اور فوجی اخراجات کا ایک موازنہ پیش کیا ہے اور ہیڈنگ دی ہے کہ ’وہ جنگ جو پاکستان بغیر لڑے ہی ہار گیا‘

    نیوز 24 چینل کے نامہ نگار پاکستان سے انڈیا آنے والے ہندو پناہ گزینوں کے کیمپ میں پناہ گزینوں سے پہلگام حملے اور جوابی کارروائی کے بارے میں بات کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

    انڈین چینلز پر مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف کوئی موثر فوجی کارروائی کرنی چاہیئے اور یہ کہ انڈیا اس طرح کی کاروائی کرنے والا ہے۔

    ہر بار انڈیا اور پاکستان وہاں تک پہنچنے سے پہلے واپس آ گئے: تجزیہ کار سی راجہ موہن

    تجزیہ کار سی راجہ موہن نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کشمیر کے کئی بحرانوں میں ’آر یا پار یعنی حتمی لڑائی‘ کا استعارہ استعمال ہوتا رہا ہے لیکن ہر بار انڈیا اور پاکستان وہاں تک پہنچنے سے پہلے واپس آ گئے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’گزشتہ چار عشرے میں سبھی وزرا اعظم نے پاکستان کے ساتھ فوجی بحران کا سامنا کیا ہے۔‘

    وزیر اعظم مودی نے ایک زیادہ بار اس کا سامنا کیا لیکن موجودہ بحران ماضی کے مقابلے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

    جو بھی قدم اٹھایا جائے وہ دکھاوا نہیں طویل مدتی تناظر میں مصلحت آمیز ہو: انڈین مبصر بھانو پرتاپ مہتہ

    انڈین مبصر اور دانشور بھانو پرتاپ مہتہ نے انڈین ایکسپریس میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ پہلگام حملے کی نوعیت اتنی سنگین ہے کہ ہر ملک اس کے زمہ داروں ور ان کی اعانت کرنے والوں کے خلاف ہر وہ کارروائی کرنے کا مجاز ہے جو انصاف کے حصول کے لیے ضروری ہے۔`

    انھوں نے لکھا کہ ایک کامیاب فوجی کاروائی انصاف کا ایک عمل ہو سکتی ہے۔ یہ مملکت کی صلاحیت میں اعتماد کا احساس بحال کر سکتی ہے اور انتقام کے جذبے کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ فوجی قدم محدود سطح پر بھی کامیاب رہے تب بھی ہم ایک گہری کھائی کے نذدیک ہی کھڑے رہیں گے۔

    انھوں نے لکھا کہ ’صرف یہی امید کی جاسکتی ہے کہ جو بھی قدم اٹھایا جائے وہ دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ طویل مدتی تناظر میں مصلحت آمیز ہو۔ لیکن اس لمحے کی ٹریجڈی یہ ہے کہ ہم جو کوئی بھی قدم اٹھائیں۔ پہلگام کے خوفناک حملے نے جو خونی سرحد کھینچی ہے اس کا سایہ ہمارے سیاسی مستقبل پر پڑتا رہے گا۔‘

    انڈیا میں احتجاج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنانڈیا میں جمعے کے روز بھی جگہ جگہ مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا

    واشنگٹن کو اپنے معاملے میں پاکستان کی ضرورت ہے: امریکی تجزیہ مائیکل کوگلمین

    امریکی تجزیہ کار اور برصغیر کے امور کے ماہر مائکل کوگلمین نے لکھا ہے کہ انڈیا کو یہ مان کر نہیں چلنا چاہئیے کہ امریکہ انڈیا کی کسی فوجی کاروائی کی حمایت کرے گا۔

    وہ کہتے ہیں کہ واشنگٹن کو اپنے معاملے میں پاکستان کی ضرورت ہے۔ امریکہ کا بہت گہرا مفاد اس میں ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام بگڑنے نہ پائے۔ اس لیے وہ کاؤنٹر ٹررزم کے معاملے میں انڈیا سے تعاون کرنے کے کمٹمنٹ میں توازن بنا کر چلے گا ۔'‘

    وہ مزید کہتے ہیں کہ برسوں میں انڈیا پر ہونے والے سب سے بڑے دہشت گردانہ حملے کے بعد امریکہ کی جانب سے انڈیا کے لیے بھرپور حمایت توقع کے مطابق ہے اور جائز بھی ہے ۔ لیکن آنے والے دنوں میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بگڑتی ہوئی صورتحال میں اس حملے کے مضمرات بالخصوص علاقائی استحکام پر پڑنے والے اثرات جب واضح ہونے لگیں گے تو کوئی پوزیشن لینے میں امریکہ کی مشکلیں بڑھ جائیں گی۔‘

    احتجاجی مظاہرے، جلوس اور اعلی سطحی اجلاس میں فیصلے

    انڈیا میں جمعے کے روز بھی جگہ جگہ مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

    اپوزیشن جماعتوں نے رات میں کئی جگہ کینڈل لائٹ جلوس نکالا۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کی سربراہی میں سندھ طاس معاہدے پر ایک اعلی اختیاراتی میٹنگ ہو ئی ہے۔اس میٹنگ میں وزیر خارجہ اور آبی وسائل کے وزیر بھی شریک ہوئے۔

    میٹنگ کے بعد ٹی وی چینلوں نے خبر دی کہ آبی وسائل کے وزیر نے کہا ہے کہ وہ مختصر اور طویل مدتی تین مرحلوں پر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا وہ اسی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں کہ پاکستان کو پانی نہ مل سکے۔

  6. بریکنگ, پاکستان پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے: شہباز شریف

    شہباز شریف اور مودی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے حوالے سے انڈیا کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں منعقد پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’مشرقی پڑوسی نے بغیر تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے ہیں۔ پہلگام سانحہ کے بعد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ذمہ دار ملک کی حیثیت سے پاکستان غیر جانبدار، شفاف اور معتبر تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے۔‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج ملک کی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں اور اس حوالے سے کسی غلط فہمی میں نہ رہا جائے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اگر انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ معطل کر کے پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔‘

    ’پانی ہماری لائف لائن ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور ایسی کوششوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔‘

    شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ ’پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا۔ کوئی مہم جوئی ہوئی تو فروری 2019 کی طرز پر اس کا منھ توڑ جواب دیں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔

    خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ پاکستان امن پسند ملک ہے اور ہماری ترجیح خواہش ہے مگر اس کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔‘

  7. ’پاکستان اور انڈیا کے درمیان تناؤ 1500 سال سے ہے‘: صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کیا کہا

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جمعے کے روز ائیرفورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ (انڈیا کے زیر انتظام) کشمیر میں حملے کے بعد سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی ہے تو کیا آپ ان ممالک کو کوئی پیغام دیں گے؟

    اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ انڈیا سے میرے قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان سے بھی میں بہت قریب ہوں۔ آپ کے علم میں ہے کہ دونوں ممالک ہزاروں سال سے کشمیر کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ اور یہ صورت حال بہت بری ہے۔ اور ایسا ہی گزشتہ روز(منگل کو) ہوا جس میں 30 کے قریب لوگ مارے گئے۔‘

    تاہم یہ واضح نہیں کہ انڈیا پاکستان کشیدگی کی تاریخ کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا صدر ٹرمپ کی جانب سے طنزیہ جملہ تھا یا وہ نادانستہ طور پر ایسا کہہ گئے۔

    صحافیوں نے تاریخ کے حوالے سے تصحیح کے بغیر پھر سوال کیا کہ سرحد پر اس کشیدگی پر کیا رائے دیں گے؟

    صدر ٹرمپ نے اس جوابا کہا کہ ’ان دونوں ممالک کے درمیان 1500 سال سے زیادہ تناؤ موجود ہے تاہم مگر دونوں لیڈرز کسی نہ کسی طرح سے خود مسئلے کا حل نکال لیں گے۔‘

  8. پاکستان پرامن ملک ہے لیکن کسی بھی ’مس ایڈونچر‘ کا جواب دینا جانتا ہے: عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ انڈیا پہلگام کا جھوٹا ڈرامہ رچایا تاہم انڈیا کسی بھول میں نہ رہے، پاکستان پرامن ملک ہے لیکن کسی بھی مس ایڈونچر کا جواب دینا جانتا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے، فالس فلیگ آپریشن سے انڈیا کی عالمی سطح پر سبکی ہو رہی ہے، پہلگام واقعے کی ایف آئی آر نے جھوٹا پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’یہ کیسا واقعہ ہے جس کی ایف آئی آر حملے کے صرف 10 منٹ بعد درج کر دی گئی۔ انڈیا کی اہلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہےکہ آج اپنی ہی آبادی کو نشانہ بنا دیا۔‘

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے انڈیا کو بھرپور جواب دیا اور انڈیا کے طیاروں کے لیے پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے انڈیا میں فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انڈیا نے بوکھلاہٹ میں اب جیلوں میں پاکستانی قیدیوں اور اپنے زیر انتظام کشمیر کے شہریوں کا ان کاونٹر کرنا شروع کر دیا ہے۔ انڈیا دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مظلوم بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ انڈیا کے خلاف پاکستان میں دہشت گردی کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔

  9. انڈین آرمی چیف کا سری نگر کا دورہ، حملے میں ملوث شدت پسندوں کی تلاش بھی جاری

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کے روز ہونے والے حملے کے بعد سے انڈیا نے حملے میں ملوث شدت پسندوں کی تلاش شروع کر دی ہے جس کے تحت کشمیر میں مسلح پولیس اور فوجی اہلکاروں کی جانب سے گھر گھر تلاشی کا سلسلہ جاری ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈین آرمی چیف اپیندر دویدی نے سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا دورہ کیا ہے۔ دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے پہلگام حملے میں ملوث افراد کی تلاش کا کام جاری رکھا۔

    یاد رہے کہ اس حملے کے بعد نئی دہلی نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں دہشت گردی کو مالی امداد اور حمایت فراہم کر رہا ہے تاہم پاکستان نے اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی تردید کی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ جموں و کشمیر کی پولیس نے جن تین مشتبہ افراد کی نشاندہی کی ہے ان میں سے دو کا تعلق پاکستان سے بتایا جا رہا ہے۔

  10. انڈیا اور پاکستان تناؤ کی صورت حال کو خود حل کر لیں گے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ممالک اپنے درمیان تناؤ کو خود حل کرلیں گے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ انڈیا اور پاکستان اپنے تعلقات خود آپس میں طے کر لیں گے۔

    یاد رہے کہ منگل کو انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ انڈیا نے اس حملہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاہم پاکستان نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

    اس حملے کوتقریباً دو دہائیوں میں سب سے سنگین واقعہ قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

    روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے متنازع سرحدی علاقے میں پیش آنے والے دیگر تنازعات کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو جانتے ہیں تاہم لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ان سے رابطہ کریں گے تو انھوں نے اس کے جواب کے بجائے کہا کہ وہ دونوں کسی نہ کسی طرح اسے حل کر ہی لیں گے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’پاکستان اورانڈیا کے درمیان شدید کشیدگی ہے لیکن ایسا ہمیشہ سے ہی رہا ہے۔‘

    یاد رہے کہ نئی دہلی کی طرف سے پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے طے شدہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش سمیت دیگر اقدامات کے جواب میں پاکستان نے انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    دوسری جانب اسلام آباد میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اپنی پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اگر انڈیا نے پانی روکا تو بھرپور جواب دیا جائے گا جبکہ اسے ’اقدام جنگ سمجھا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی انڈیا کا ’غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔‘

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے پاکستان اور انڈیا سے ’زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ‘ کرنے پر زور دیا ہے۔

  11. انڈیا یقینی بنا رہا ہے کہ پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ نہ مل سکے: انڈین وزیر آبی وسائل, شکیل اختر، بی بی سی اردو، دہلی

    انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    انڈیا کے وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹیل نے کہا ہے کہ ’انڈین حکومت ایسی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس سے اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پاکستان کو ایک قطرہ پانی نہ مل سکے۔‘

    پہلگام حملے کے بعد انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور انڈیا کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کو معطل کرنے سے سلسلے میں انڈیا میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہا کہ ’انڈین وزیر اعظم مودی نے اس سلسلے میں کئی ہدایات جاری کی تھیں اور یہ اجلاس اسی پر عملدرآمد پر غور کرنے کے لیے ہوا تھا۔‘

    وزیر آبی وسائل پاٹیل کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ ’اس کے لیے مختصر، درمانی اور طویل مدت کے تین مرحلے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے انڈیا سے ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہ جا سکے۔‘

    اس اجلاس کی صدارت انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کی تھی اور اس اجلاس میں انڈین وزیر خارجہ بھی شریک تھے۔ اجلاس میں امت شاہ نے ان اقدامات کے موثر نفاذ کے لیے کئی تجاویز پیش کیں۔

  12. گزشتہ روز کی اہم حبروں کا خلاصہ

    اس نئے لائیو پیج پر خبروں کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل 24 گھنٹوں کے دوران کی اہم خبروں کا خلاصہ آپ کے لیے پیش خدمت ہے۔

    • پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ’دریائے سندھ پر انڈیا نے ایک اور حملہ کرنے کی کوشش کی ہے میں کہنا چاہوں گا کہ دریائے سندھ ہمارا ہے اور یہ ہمارا رہے گا، اس دریا سے ہمارا پانی بہے گا یا ان کا خون بہے گا۔‘
    • بلوچستان کے ضلع پشین میں سی ٹی ڈی نے ایک کارروائی کرتے ہوئے اس میں نو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سرکاری حکام کے مطابق یہ افراد شدت پسند تھے جو کہ سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے لیکن تاحال آزاد ذرائع سے ان افراد کے مقابلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
    • بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بی این پی نے کارکنوں کی رہائی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
    • روسی صدر پوتن اور امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف کے درمیان تین گھنٹوں تک ملاقات جاری رہی جس کے بعد صدر پوتن کے معاون یوری اوشاکوف نے کہا کہ یہ ملاقات تعمیری رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر معاملات کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے یوکرین اور روس کے درمیان براہ راست مذاکرات کے امکان پر بات چیت کی۔
    • پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ امید ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان صورتحال اشتعال انگیزی کی جانب نہیں جائے گی تاہم اس کا امکان ہے اور ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔
    • ماسکو میں کار بم دھماکے میں روسی فوج کے اعلیٰ عہدے پر فائز جنرل یاروسلاو موسکالک ہلاک ہو گئے ہیں۔وہ روس کے مرکزی آپریشنل ڈیپارٹمنٹ کے نائب سربراہ تھے۔
    • انڈیا کے جیولن سٹار نیرج چوپڑا نے کہا ہے کہ انھیں اپنے پاکستانی حریف ارشد ندیم کو اپنے نام سے منسوب ایک ٹورنامنٹ میں مدعو کرنے پر نفرت انگیز رویے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
  13. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

    یہاں ہم آپ کے لیے پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم اور تازہ ترین خبریں اور تجزیے پیش کرتے ہیں۔ تاہم اگر آپ 25 اپریل کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کر کے پڑھ سکتے ہیں۔