بلوچستان کے ضلع خاران سے پولیو کے ایک اور کیس کی تصدیق کے بعد پاکستان سے رواں سال پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ 12 کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے جبکہ متاثرہ بچوں میں سے اب تک 3 ہلاک ہوچکے ہیں۔
بلوچستان میں 2023 سے قبل 28 مہینے تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جس کے باعث حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ پولیو کا خاتمہ اب قریب ہے۔
تاہم رواں سال دیگر صوبوں کے مقابلے میں اب تک سب سے زیادہ کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
پولیو کی روک تھام کے لیے قائم بلوچستان میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کا کہنا ہے کہ ’متعدد دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ بعض والدین نے پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے۔‘
بلوچستان میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس کہاں سے رپورٹ ہوئے؟
بلوچستان سے اب تک رپورٹ ہونے والے آخری کیس کی تصدیق تین روز قبل ضلع خاران سے ہوئی۔ اس ضلع سے 23 ماہ کی بچّی پولیو سے متاثر ہوئی تھی۔ بلوچستان کے اب تک 8 اضلاع سے پولیو کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔
خاران کے علاوہ جن اضلاع سے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، کوئٹہ اور ژوب شامل ہیں۔
ان اضلاع میں سے سب سے زیادہ کیسز افغانستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 5 ہے جبکہ باقی اضلاع سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے تین بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کی موت کی وجہ پولیو ہوسکتی ہے۔
بلوچستان سے ایک مرتبہ کیسز میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں حکام کا کیا کہنا ہے؟
جمعرات کو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کوئٹہ میں بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے پولیو وائرس کی روک تھام اور پولیو کیسز میں اضافے سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران کوئٹہ بلاک کے کچھ علاقوں میں مبینہ جعلی پولیو ویکسینشن کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بعض والدین پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔ پولیو ورکرز قطرے پلائے بغیر بچوں کی انگلیوں پر نشانات لگانے میں ملوث پائے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ جعلی ویکسینشن پر کوئٹہ بلاک میں 500 پولیو ورکرز کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ جعلی ویکسینشن ثابت ہونے پر 74 پولیو ورکرز کو نکال دیا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لوگ اپنے بچوں کو چھپا کر یہ کہتے رہے کہ وہ گھروں سے باہر ہیں۔
انھوں نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران کے بار بار تبادلوں کو بھی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر سرحد سے آمدورفت کے باعث پولیو وائرس قندہار سے چمن آیا۔
انھوں نے کہا کہ چمن میں دس ماہ سے جاری رہنے والے دھرنے کے باعث پولیو کے قطرے پلانے سے انکار بھی چمن اور قلعۂ عبداللہ کے اضلاع میں پولیو کے کیسز میں اضافے کی وجہ بنی۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض قبائل اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھی پولیو کو بارگیننگ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
انھوں نے کہا پولیو مہمات امن و امان کی وجہ سے بھی متاثر ہوئیں جن میں سے دو مہمات شروع نہیں ہوسکیں جبکہ پانچ جبکہ پانچ متائثر ہوئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں لیکن آپریشنل خلیج، بچوں کی گھروں پر عدم موجودگی اور انکاری والدین کی وجہ سے بعض بچے رہ جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جو بچے پولیو کے قطرے پلانے سے رہ جاتے ہیں وہ وائرس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
اانعام الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیو مہمات کے موثر نہ ہونے کی وجوہات میں افغانستان بھی ہے جہاں صحیح معنوں میں پولیو کے خلاف مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018سے افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں گھر گھر پولیو قطرے پلانے پر پابندی ہے۔ اگرچہ سرحد بند ہے لیکن غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔