آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کے حملے، متعدد شاہراہوں پر ٹریفک معطل

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سینیچر اور اتوار کی درمیانی شب مسلح افراد کے حملوں کے علاوہ بم دھماکوں کے واقعات پیش آئے ہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں شاہراہوں پر مسلح افراد کی موجودگی کے باعث ٹریفک معطل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

خلاصہ

  • حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کا کہنا ہے کہ اتوار کو ان کی تنظیم نے اسرائیلی سرزمین پر 110 کلومیٹر اندر واقع ملٹری انٹیلی جنس کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
  • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب برٹش ایئرویز نے تلِ ابیب اور ایئر فرانس نے بیروت اور تلِ ابیب آنے جانے والی تمام پروزایں منسوخ کردی ہیں
  • پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیرِ داخلہ کے مطابق کراچی میں دو گروہوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے ہیں
  • جرمنی کے شہر زولینگن میں جمعے کو ایک سٹریٹ فیسٹول کے دوران لوگوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے مشتبہ شخص نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے اور اعترافِ جرم کر لیا ہے
  • حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے آج صبح سے اسرائیل پر 320 راکٹ داغے ہیں جو ملک کے شمالی حصے میں 11 فوجی مقامات کو نشانہ بنائیں گے۔ ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل اور راکٹ حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
  • جرمن پولیس نے تین افراد کو چاقو سے قتل کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ دولت اسلامیہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
  • میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے سربراہ پاول دروف کو فرانس میں گرفتار کر لیا گیا ہے

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, انتشار کا خدشہ تھا اس لیے جلسہ ملتوی کیا، آٹھ ستمبر کو کسی نے رکاوٹ ڈالی تو خود ذمہ دار ہو گا: عمران خان

    تحریکِ انصاف کے بانی اور ملک کے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انھیں 22 اگست کو دینی جماعتوں کے احتجاج کے بارے میں علم ہوا تو انتشار پھیلنے کے خدشے کی وجہ سے انھوں نے جلسہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اڈیالہ جیل میں قائم کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کے دوران عمران خان نے کہا ’مجھے معلومات دیں گئی تھی کہ ختم نبوت کا معاملہ ہے اور دینی جماعتیں احتجاج پر ہیں، انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے اسی لیے اعظم سواتی اور بیرسٹر گوہر کو بلا کر ملاقات کی اور جلسہ ملتوی کرنے کی ہدایت کی‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ ملک میں انتشار ہو‘۔

    کمرہ عدالت میں موجود صحافی رضوان ملک نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ’آخری مرتبہ جلسہ ملتوی کیا ہے۔ انھوں نےآٹھ ستمبر کا این او سی بی جاری کیا ہے اور اگر آٹھستمبر کو کسی نےرکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو وہ خود ذمہ دار ہوں گے‘۔

    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ساری پارٹی کو جلسہ ملتوی ہونے کا رنج اور غصہ ہے۔ میں بھی سمجھتا ہوں کہ جلسہ ملتوی نہیں کرنا چاہیے تھا اور یہ جلسہ ہونا چاہیے تھا لیکن صرف انتشار سے بچنے کے لیے ملتوی کیا۔‘

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا اگر گذشتہ روز جلسہ کرتے تو’خدشہ تھا کہ ایک اور نیا نو مئی بنا کر پی ٹی آئی کے گلے میں ڈال دیا جاتا جبکہ ابھی تک پہلے والے نو مئی کی جوڈیشل انکوائری بھی نہیں کروائی گئی‘۔

  2. بظاہر لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینفیشری ہے: جسٹس گل اورنگزیب, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ بظاہر ایسا ہی لگ رہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کے معاملات سے حکومت ہی فائدہ اٹھا رہی ہے۔

    انھوں نے یہ ریمارکس جمعے کو پاکستان تحریک انصاف کے سوشل میڈیا کے انچارج اظہر مشوانی کے دو لاپتا بھائیوں کی بازیابی کے معاملے کی سماعت کے دوران دیے۔

    سماعت کے موقع پر اظہر مشوانی کے بھائیوں کی بازیابی کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور پنجاب پولیس کے ایس پی عدالت کے سامنے پیش ہوئے

    ان کا کہنا تھا کہ مشوانی فیملی کی جانب سے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کی گئی لیکن ریزولوشن کم ہونے کی وجہ سے اس سے مدد نہ مل سکی۔

    انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں جیو فینسنگ کے ذریعے 10 ہزار موبائل نمبر حاصل کیے گئے لیکن ابھی تک لاپتا ہونے والے افراد کے بارے میں ایسی کوئی معلومات نہیں ملیں جن پر کارروائی کی جا سکے۔

    پنجاب پولیس کے افسر کا کہنا تھا کہ اس وقت تک کوئی بھی قانون نافذ کرنے والا ادارہ اس حوالے سے کچھ پتا نہیں چلا سکا ہے۔

    اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ ’بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ حکومت ہی جبری گمشدگیوں کی بینفیشری ہے‘۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’کیسے اس ملک میں لوگ اغواء ہوتے ہیں اور چیف ایگزیکٹو کچھ نہیں کرتے۔ اٹارنی جنرل نے کہا تھا وزیراعظم کو اس معاملے پر بریف کروں گا۔ چیف ایگزیکٹو کو ان معاملات کا علم ہے مگر پھر بھی لوگ جبری طور پر لاپتا ہو جاتے ہیں‘۔

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’کیوں نہیں سوچتے یہ چیزیں ملک کو برا نام دے رہی ہیں۔‘

    سماعت کے دوران مشوانی فیملی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے اس معاملے میں وزیراعظم کو عدالت بلانے کی استدعا کر دی۔

    اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے معاملے پر ’وزیراعظم کو جب بلایا گیا تو وہ ایکسرسائز بھی بےمقصد تھی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آئین میں ریاست کے سربراہ وزیر اعظم جبکہ قانون کا سربراہ اٹارنی جنرل ہوتے ہیں۔ ہم نے ایک قاعدے کے مطابق اٹارنی جنرل کو عدالت بلایا تھا، اٹارنی جنرل کو کہا وزیر اعظم سے ملیں اس معاملے کو ایڈریس کریں لیکن انھوں نے کوئی خیال نہیں کیا۔‘

    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ ’اگر حکومت نے ڈیو پراسس فالو نہیں کرنا تو پھر کیا کہہ سکتے ہیں‘۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس حوالے سے حکم دیں گے۔ عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو رپورٹس جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

  3. بریکنگ, پنجاب پولیس کا 12 اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث ڈاکوؤں کے سرغنہ کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کی پولیس نے ضلع صادق آباد کے علاقے ماچھکہ میں جمعرات کی شب ڈاکؤوں کے حملے 12 اہلکاروں کی ہلاکت کے مرکزی ملزم کی ہلاکت کی دعویٰ کیا ہے۔

    پنجاب پولیس کے ترجمان نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ جمعرات کو ہونے والے حملے کے بعد رات گئے کچے کے علاقے میں کیے گئے آپریشن میں مرکزی ملزم بشیر شر کو ہلاک کر دیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق بشیر شر کے پانچ ساتھی اس کارروائی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن اب بھی جاری ہے اور حملے میں ملوث تمام ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    خیال رہے کہ جمعرات کی شب ماچھکہ کے علاقے میں 12 پولیس اہلکار اس وقت مارے گئے تھے جب ان کی گاڑیوں کو راکٹوں اور دیگر اسلحے سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اس حملے میں نو اہلکار زخمی بھی ہوئے تھے اور پولیس کے ترجمان کے مطابق وہ رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا تھا کہ صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی اور سی ٹی ڈی کی نگرانی میں میری ٹیم ان مجرموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے۔

    صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی پولیس پر اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حملے میں ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

    ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے کچے کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔

  4. غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا وقت آگیا ہے: امریکی نائب صدر کملا ہیرس

    امریکی نائب صدر اور رواں برس نومبر ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار کملا ہیرس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کا وقت آ گیا ہے۔

    انھوں نے یہ بات جمعرات کو ڈیموکریٹ نیشنل کنونشن میں اپنی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کی منظوری کے بعد کہی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں ہمیشہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کروں گی‘ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’غزہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ المناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔‘

    کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ وہ اور صدر بائیڈن غزہ جنگ کے ایسے خاتمے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں جس سے نہ صرف اسرائیل محفوظ ہو اور یرغمالیوں کی واپسی ممکن ہو بلکہ غزہ میں مصائب کا بھی خاتمہ ہو اور فلسطینی عوام اپنے وقار، سلامتی، آزادی اور حقِ خود ارادیت کا احساس کر سکیں۔

    امریکی نائب صدر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق امریکی اور اسرائیلی وفود کے درمیان قاہرہ میں ملاقاتوں کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔

    ان ملاقاتوں کا مقصد 10 ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی تجاویز پر اسرائیل اور حماس کے درمیان موجود اختلافات کو دور کرنا ہے۔

  5. بلوچستان میں پولیو کیسز کی تعداد 12 ہو گئی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ضلع خاران سے پولیو کے ایک اور کیس کی تصدیق کے بعد پاکستان سے رواں سال پولیو کے رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 15 ہوگئی ہے۔

    سرکاری حکام کے مطابق ان میں سے سب سے زیادہ 12 کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے جبکہ متاثرہ بچوں میں سے اب تک 3 ہلاک ہوچکے ہیں۔

    بلوچستان میں 2023 سے قبل 28 مہینے تک پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا جس کے باعث حکام کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ پولیو کا خاتمہ اب قریب ہے۔

    تاہم رواں سال دیگر صوبوں کے مقابلے میں اب تک سب سے زیادہ کیسز بلوچستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

    پولیو کی روک تھام کے لیے قائم بلوچستان میں ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق کا کہنا ہے کہ ’متعدد دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ بعض والدین نے پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے۔‘

    بلوچستان میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس کہاں سے رپورٹ ہوئے؟

    بلوچستان سے اب تک رپورٹ ہونے والے آخری کیس کی تصدیق تین روز قبل ضلع خاران سے ہوئی۔ اس ضلع سے 23 ماہ کی بچّی پولیو سے متاثر ہوئی تھی۔ بلوچستان کے اب تک 8 اضلاع سے پولیو کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

    خاران کے علاوہ جن اضلاع سے پولیو کے کیسز رپورٹ ہوئے ان میں قلعہ عبداللہ، چمن، قلعہ سیف اللہ، ڈیرہ بگٹی، جھل مگسی، کوئٹہ اور ژوب شامل ہیں۔

    ان اضلاع میں سے سب سے زیادہ کیسز افغانستان کے سرحدی ضلع قلعہ عبداللہ سے رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 5 ہے جبکہ باقی اضلاع سے ایک ایک کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے بتایا کہ رواں سال بلوچستان میں پولیو سے متاثر ہونے والے تین بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان کی موت کی وجہ پولیو ہوسکتی ہے۔

    بلوچستان سے ایک مرتبہ کیسز میں اضافے کی وجوہات کے بارے میں حکام کا کیا کہنا ہے؟

    جمعرات کو ایمرجنسی آپریشن سینٹر کوئٹہ میں بلوچستان کے کوآرڈینیٹر انعام الحق نے پولیو وائرس کی روک تھام اور پولیو کیسز میں اضافے سے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں پولیو مہم کے دوران کوئٹہ بلاک کے کچھ علاقوں میں مبینہ جعلی پولیو ویکسینشن کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بعض والدین پولیو ورکرز کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے بچوں کو قطرے نہیں پلاتے۔ پولیو ورکرز قطرے پلائے بغیر بچوں کی انگلیوں پر نشانات لگانے میں ملوث پائے گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جعلی ویکسینشن پر کوئٹہ بلاک میں 500 پولیو ورکرز کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ جعلی ویکسینشن ثابت ہونے پر 74 پولیو ورکرز کو نکال دیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ بعض علاقوں میں لوگ اپنے بچوں کو چھپا کر یہ کہتے رہے کہ وہ گھروں سے باہر ہیں۔

    انھوں نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفسران کے بار بار تبادلوں کو بھی ایک وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی طور پر سرحد سے آمدورفت کے باعث پولیو وائرس قندہار سے چمن آیا۔

    انھوں نے کہا کہ چمن میں دس ماہ سے جاری رہنے والے دھرنے کے باعث پولیو کے قطرے پلانے سے انکار بھی چمن اور قلعۂ عبداللہ کے اضلاع میں پولیو کے کیسز میں اضافے کی وجہ بنی۔

    ان کا کہنا تھا کہ بعض قبائل اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھی پولیو کو بارگیننگ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

    انھوں نے کہا پولیو مہمات امن و امان کی وجہ سے بھی متاثر ہوئیں جن میں سے دو مہمات شروع نہیں ہوسکیں جبکہ پانچ جبکہ پانچ متائثر ہوئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیو کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب پانچ سال تک کی عمر کے تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں لیکن آپریشنل خلیج، بچوں کی گھروں پر عدم موجودگی اور انکاری والدین کی وجہ سے بعض بچے رہ جاتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ جو بچے پولیو کے قطرے پلانے سے رہ جاتے ہیں وہ وائرس کے پھیلنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

    اانعام الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پولیو مہمات کے موثر نہ ہونے کی وجوہات میں افغانستان بھی ہے جہاں صحیح معنوں میں پولیو کے خلاف مہم نہیں چلائی جارہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2018سے افغانستان کے جنوب مغربی علاقوں میں گھر گھر پولیو قطرے پلانے پر پابندی ہے۔ اگرچہ سرحد بند ہے لیکن غیر روایتی راستوں سے لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔

  6. مبارک ثانی کیس: وفاق کی درخواست منظور، سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے سے متنازع پیراگراف حذف کر دیے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف نمبر سات اور 42 کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں کہا کہ ’مبارک ثانی نظر ثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔‘

    سپریم کورٹ نے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف 7، 42 اور 49 سی کو خذف کر دیا۔ عدالت میں علما کی جانب سے تینوں پیراگرافس کو خذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں احمدیوں کی ممنوعہ کتاب اور تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سامنے چھ فروری کو ملزم کی ضمانت اور فردِ جرم سے بعض الزامات حذف کروانے کی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی جو لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد 16 اور 27 نومبر 2023 کے فیصلوں کے خلاف دائر کی گئی تھی۔

    ملزم پر چھ دسمبر 2022 کو ضلع چنیوٹ میں درج ایف آئی آر کے مطابق صوبہ پنجاب میں قرآن کی طباعت کے قانون 2011، تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 298 سی اور دفعہ 295 بی کے تحت تین الزامات لگائے گئے تھے۔

    ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ملزم ممنوعہ کتاب ’تفسیرِ صغیر‘ تقسیم کر رہا تھا جبکہ ضمانت کی درخواست میں ملزم کے وکیل کا مؤقف تھا کہ ایف آئی آر کے مطابق اس جرم کا ارتکاب 2019 میں کیا گیا جبکہ کسی بھی ممنوعہ کتاب کی تقسیم یا اشاعت کو پنجاب قرآن شریف (ترمیم) قانون کے تحت سنہ 2021 میں جرم قرار دیا گیا تھا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے فیصلے میں کہا تھا کہ چونکہ سنہ 2019 میں ممنوعہ کتاب کی تقسیم جرم نہیں تھی اس لیے درخواست گزار پر یہ فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    ’مبارک ثانی کیس‘ کے عدالتی فیصلے کے پیراگراف سات اور 42 میں کیا کہا گیا تھا؟

    عدالت کی جانب سے ’مبارک ثانی کیس‘ میں نظرِ ثانی کی اپیل پر فیصلے کے پیراگراف نمبر سات میں کہا گیا تھا کہ ’ایف آئی آر میں ملزم پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 295B کا تو ذکر کیا گیا لیکن کسی قانونی شق کا صرف ذکر کرنا ملزم کو اس دفعہ کے تحت جرم کے لیے ذمہ دار ٹھرانے کے لیے کافی نہیں ہوتا۔ ایف آئی آر کے مندرجات میں ’توہینِ قرآن‘ کا الزام نہ تو بلاواسطہ اور نہ ہی بالواسطہ لگایا گیا تھا، اور چونکہ مذکورہ ادارہ جہاں ایف آئی آر کے مطابق ممنوعہ کتاب تقسیم کی گئی تھی احمدیوں کا ادارہ تھا، اس لیے اس فعل پر مجموعہ تعزیرات کی دفعہ 298C کا اطلاق نہیں ہو سکتا تھا۔ درخواست گزار نے فوجداری درخواست نمبر 1344-L/2023 کے ذریعے ضمانت پر رہائی کی درخواست دائر کی تھی۔ عدالتِ ہذا کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ ملزم قید میں 13 مہینے گزار چُکا ہے، جبکہ ممنوعہ کتاب کی تقسیم کا جُرم ثابت ہونے پر اسے جس قانون کے تحت سزا سُنائی جا سکتی ہے وہ فوجداری ترمیمی قانون، 1932 کی دفعہ 5 ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ 6 مہینے تک کی سزائے قید دی جا سکتی ہے۔‘

    تاہم اسی عدالتی فیصلے کے پیراگراف نمبر 42 میں کہا گیا تھا کہ ’آئینی و قانونی دفعات اور عدالتی نظائر کی اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ احمدیوں کے دونوں گروہوں کو غیر مسلم قرار دینے کے بعد انھیں آئین اور قانون کے مطابق اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کے اظہار اور اس کی تبلیغ کا حق اس شرط کے ساتھ حاصل ہے کہ وہ عوامی سطح پر مسلمانوں کی دینی اصطلاحات استعمال نہیں کریں گے، نہ ہی عوامی سطح پر خود کو مسلمانوں کے طور پر پیش کریں گے۔ تاہم اپنے گھروں، عبادت گاہوں اور اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندر انھیں قانون کے تحت مقررہ کردہ ’معقول قیود‘ کے اندر گھر کی خلوت‘ کا حق حاصل ہے۔‘

  7. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    • لاہور میں عدالت نے مذہبی منافرت پھیلانے اور ریاستی اداروں کی تضحیک کے الزام میں گرفتار تجزیہ کار اوریا مقبول جان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے اوریا مقبول جان کو بدھ کو رات گئے لاہور میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔
    • پاکستان کے صوبہ پنجاب کے سرحدی ضلعے اٹک میں نامعلوم افراد کی سکول وین پر فائرنگ سے دو کمسن طالبات ہلاک اور پانچ بچوں سمیت چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سکول وین کا ڈرائیور بھی زخمی ہوا ہے جبکہ زخمی اور ہلاک ہونے والے تمام بچوں کی عمر چار سے 12 سال کے درمیان ہیں۔
    • پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) جمعرات کو اسلام آباد کے نواحی علاقے ترنول میں ہونے والا اپنا جلسہ ملتوی کر دیا۔ تحریکِ انصاف کی جانب سے جلسے کے التوا کے بعد اب ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پی ٹی آئی کو آٹھ ستمبر کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے۔

    بی بی سی اردو کی گذشتہ دنوں کی کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔