آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کا پولیس پر راکٹ سے حملہ، 11 اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماچھکہ کے علاقے میں کچا گینگ کے راکٹ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ نو زخمی ہو گئے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ یہ بہت افسوسناک ہے مگر اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی وزیر داخلہ، آئی جی اور سی ٹی ڈی کی نگرانی میں میری ٹیم ان مجرموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت کے ساتھ روانہ کر دی گئی ہے۔

خلاصہ

  • پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ماچھکہ کے علاقے میں کچا گینگ کے راکٹ حملے میں 11 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق زخمی اہلکاروں کو رحیم یار خان کے شیخ زید ہسپتال میں علاج معالجے کی سہولیات پہنچائی جا رہی ہیں۔
  • پاکستان میں پولیو کیسز کی تعداد 15 ہو گئی ہے جن میں سے 12 کا تعلق بلوچستان سے ہے۔
  • مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے 6 فروری اور 24 جولائی کے فیصلوں سے متنازع پیراگراف نمبر سات اور 42 کو حذف کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے پی ٹی آئی کو 8 ستمبر کو جلسہ کرنے کے لیے این او سی جاری کر دیا ہے.
  • اٹک میں نامعلوم افراد کی سکول وین پر فائرنگ سے دو بچے ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ہیں۔
  • اسلام آباد میں احتجاج اور بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر شہر کے مختلف داخلی و خارجی راستوں کو رکاوٹیں لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔
  • چیئرمین پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ فائر وال نہیں ویب مینجمنٹ سسٹم اپ گریڈ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار کم ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی وزیرِاعظم کا بیان غزہ جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے لیے مثبت نہیں: امریکی اہلکار

    ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کے مبینہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات غزہ جنگ بندی معاہدے کی کوششوں کے لیے تعمیری نہیں ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نتن یاہو نے کہا ہے کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی فوج غزہ کے کچھ علاقوں اور مصر کی سرحد کے ساتھ ملحقہ جنوبی علاقوں میں موجود رہے گی۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن مشرقِ وسطیٰ کے دورے پر ہیں تاکہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے۔

    پیر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ نے یروشلم میں نتن یاہو کی ساتھ تین گھنٹے ملاقات کی جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نے واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل اور حماس کو جنگ بندی معاہدے کے قریب لانے کے لیے پیش کی گئی تجویز پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، انٹونی بلنکن سے ملاقات کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں سے بات کرے ہوئے نتن یاہو کا کہنا تھا کہ کہ انھوں نے امریکی وزیرِ خارجہ کو اس بات پر راضی کر لیا ہے کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی فوجی غزہ کے کچھ علاقوں اور مصر کی سرحد کے ساتھ ملحقہ جنوبی علاقوں میں میں موجود رہیں گے۔

  2. توہین مذہب کا مقدمہ: حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اضافی درخواست دائر

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم کو سپریم کورٹ کے اُس ایک فیصلے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کہ جس کے تحت ایک احمدی شہری کو ضمانت پررہا کیا گیا تھا۔

    اجلاس کے دوران کابینہ کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر اس مقدمے کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں 17 اگست 2024 کو ایک اضافی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

    کابینہ کو مزید بتایا گیا کہ اس مقدمے کے حوالے سے قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث ہوئی اور یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے حوالے کیا گیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے اجلاس میں حکومت اور حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ قومی اسمبلی وفاقی حکومت کو یہ ہدایت دے گی کہ اس مقدمے کے واقعاتی اور قانونی پہلوؤں اور علمائے کرام کی رائے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے درخواست دائر کی جائے۔

    کابینہ کے اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق اٹارنی جنرل 22 اگست 2024 کو سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست کی سماعت میں پیش ہوں گے اور اپنی ٹیم کے ہمراہ علمائے کرام اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی رائے کی روشنی میں دلائل دیں گے۔

    واضح رہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار ایک ملزم کی درخواستِ ضمانت پر پاکستان کی سپریم کورٹ کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے چھ فروری 2024 کو دیے گئے فیصلے کے بعد اچانک سوشل میڈیا پر ان کے خلاف ایک منظم مہم کو جنم دیا تھا۔

    اس مہم کے دوران جہاں چیف جسٹس کے فیصلے کو آئین اور دین سے متصادم قرار دیا جا رہا ہے وہیں خود ان پر توہینِ مذہب جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا چُکے ہیں۔

    واضح رہے کہ عدلیہ مخالف مہم کے بعد جہاں سپریم کورٹ نے اس فیصلے کا اردو متن اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا وہیں ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر اس فیصلے کی غلط رپورٹنگ کی گئی جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور ایسا تاثر دیا گیا کہ جیسے سپریم کورٹ نے دوسری آئینی ترمیم میں مسلمان کی تعریف سے انحراف کیا ہے۔

  3. عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس، سابق وزیراعظم کے ملٹری سیکریٹری بھی گواہان میں شامل

    سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے مقدمے میں 22 گواہوں کے نام منظرِعام پر آ گئے ہیں۔

    عمران خان کے سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد کا نام بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہے۔ محمد احمد پاکستان فوج میں ترقی پانے کے بعد اب میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔

    نیب حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی سابق وزیراعظم کے احتساب کے مقدمے میں ان کے ملٹری سیکریٹری کو بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے میں مزید گواہان میں کیبنٹ ڈویژن میں توشہ خانہ کے سیکشن آفیسر، وزیراعظم ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر طلعت محمود، نیب ہیڈکوارٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر قیصر محمود اور وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فہیم کے نام بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ کا نام بھی گواہوں کی فہرست میں موجود ہے۔

    خیال رہے انعام اللہ شاہ کا نام بشریٰ بی بی کی ایک مبینہ آڈیو لیک میں بھی آیا تھا، جس میں بشریٰ بی بی مبینہ طور پر مختلف ملکوں کے سربراہان مملکت کی طرف سے ملنے والے تحائف کی تصاویر کھینچنے پر برہمی کا اظہار کر رہی تھیں۔

    مقدمے میں نیب کے ڈائریکٹر شفقت محمود اور تفتیشی افسر محمد محسن ہارون کے نام بھی بطور گواہ شامل کیے گئے ہیں۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی تفصیلات

    دستاویزات کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا دوسرا مقدمہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھنے پر دائر کیا گیا ہے۔

    ریفرنس کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ بشریٰ بی بی کو 7 سے 10 مئی کے دوران سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دیا گیا تھا، جس میں ایک عدد انگوٹھی، ایک بریسلٹ، ایک ہار اور ایک جوڑی بالیوں کی شامل تھی۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ تحقیقات یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے غیرقانونی طور پر بلغاری کا سیٹ اپنے پاس رکھا۔

    نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے مطابق بلغاری کمپنی نے سالوجنٹ ٹریڈنگ سعودی عربیہ نامی فرنچائز کو 25 مئی 2018 کو ہار تین لاکھ یورو جبکہ بالیاں 80 ہزار یورو میں فروخت کی تھیں۔

    ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 مئی 2021 کو بلغاری جیولری سیٹ کی کُل قیمت سات کروڑ 56 لاکھ 61 ہزار 600 پاکستانی روپے بنتی تھی۔

    نیب کے ریفرنس کے مطابق ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے 18 مئی 2021 کو سیکشن آفیسر توشہ خانہ کو قیمت کا تخمینہ لگانے اور تحفہ ڈکلیئر کرنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن جیولری سیٹ نہیں جمع کروایا گیا تھا۔

    توشہ خانہ رولز کے مطابق 50 فیصد دے کر بلغاری جیولری سیٹ اپنے پاس رکھا جا سکتا تھا، جس کی قیمت تین کروڑ 57 لاکھ 65 ہزار 800 روپے بنتی ہے۔

  4. انٹرنیٹ کی سُست رفتار: اس سے پہلے کہ ہم کوئی آرڈر جاری کریں، یہ بتائیں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے؟ چیف جسٹس

    انٹرنیٹ کی سُست روی اور مبینہ فائر وال کی تنصیب پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پیر 26 اگست تک جواب طلب کرلیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں انٹرنیٹ کی سست رفتار اور مبینہ فائر وال کی تنصیب کے خلاف صحافی حامد میر کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست پر آج سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’اس سے پہلے کہ ہم کوئی آرڈر جاری کریں، یہ بتائیں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے؟‘

    عدالت میں پٹیشنر یعنی حامد میر کی جانب سے ایمان مزاری ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔

    چیف جسٹس عامر فاروق نے صحافی حامد میر کی درخواست پر ریمارکس دیے کہ ’آج کل انٹرنیٹ سست ہو گیا ہے؟ کون سی وزارت اس سے متعلقہ ہے، پتہ چلے کہ انٹرنیٹ سپیڈ میں کمی کی وجہ کیا ہے؟ اس متعلق پی ٹی اے سے پوچھیں یا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے؟ کیا اس متعلق پی ٹی اے سے پوچھیں یا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی سے؟‘

    چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے اُٹھائے جانے والے ان سوالات کے جواب میں حامد میر کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والی ایڈووکیٹ ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی اے اس معاملے پر خاموش ہے۔‘

    جس پر عدالت کی جانب سے ریمارکس دیے کہ ’سیکرٹری، جوائنٹ سیکرٹری میں سے کس کو بلائیں؟‘

    ایمان مزاری کی جانب سے عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کیا جائے اور اُن سے انٹرنیٹ کی سُت رفتار اور مبینہ فائر وال تنصیب کے حوالے سے پوچھا جائے تاکہ وہ عدالت کو آگاہ کریں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے۔

    جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ’عدالت میں اُس کو بلائیں گے جو اس معاملے کا علم رکھتا ہو اور عدالت کو بریف کر سکے۔‘

    عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئےپیر تک جواب طلب کرنے کے حکم کے ساتھ سماعت 26 اگست تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ انٹرنیٹ کے مبینہ غیر اعلانیہ خلل اور اس سے جڑے مسائل پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی حامد میر کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’ذریعۂ معاش کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت بنیادی انسانی حقوق قرار دیا جائے اور ’شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔‘

    حکومت کا انٹرنیٹ کی سُست رفتار کے بارے میں کیا کہنا ہے؟

    تاہم ملک میں انٹرنیٹ کی سست روی کے حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں دیا جا رہا تھا تاہم وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ کہا تھا کہ ’انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ پاکستان میں وی پی این کا بہت زیادہ استعمال ہے۔‘

    اس سے قبل شزہ فاطمہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پوری دنیا میں حکومتیں سائبر سکیورٹی کے لیے فائر وال انسٹال کرتی ہیں۔ فائر وال سے پہلے ویب منیجمنٹ سسٹم تھا جسے حکومت اب اپڈیٹ کر رہی ہے۔‘

  5. پاکستانی فوج کا مستونگ میں بی ایل اے کے تین شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی ایک کارروائی میں بلوچستان کے ضلع مستونگ میں تین عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ 18 اور 19 اگست کی درمیانی شب اس کارروائی میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد کالعدم عسکریت پسند تنظیم بی ایل اے سے تعلق رکھنے والے تین عسکریت پسند مارے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے۔

    صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ڈی سی پنجگور کے قتل میں ملوث دہشتگردوں کو خلاف آپریشن پر سیکورٹی فورسز کو سراہا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اُن کا کہنا تھا کہ ’مُلک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شد پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘

    اسی کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے مستونگ میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں بی ایل اے کے 3 دہشتگردوں کی ہلاکت پر کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ ’بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔‘

    اس کارروائی کے حوالے سے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کا ایک بیان میں کہنا ہے کہ جس میں انھوں نے مستونگ میں ’کامیاب انٹیلجنس بیسڈ آپریشن‘ پر اطمنان کا اظہار کیا ہے۔

    وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ ’ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ کے قتل میں ملوث عناصر کے خلاف کی گئی کارروائی میں اہمکامیابی حاصل ہوئی۔‘

    انھوں نے کہا کہ ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروے کار لائے جارہے ہیں۔

    اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مارے جانے والے افراد کا تعلق کالعدم بی ایل اے سے ہے اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے لیکن تاحال آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔

    تاحال کسی تنظیم کی جانب سے ڈپٹی کمشنر پنجگور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی جبکہ کالعدم بی ایل اے نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

    دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس نے ڈپٹی کمشنر پنجگور کے قتل کے واقعے کے حوالے سے لیویز فورس کھڈ کوچہ کے ایس ایچ او اویس خان اور تین دیگر اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کیا ہے۔

    ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق چاروں اہلکاروں کے خلاف کارروائی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں کی گئی۔

    نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے اہلکاروں کی جانب سے غفلت اور اپنے فرض کی آدائیگی میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔

    خیال رہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے 12 اگست کی شب ڈپٹی کمشنر پنجگور پر ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں حملہ کیا تھا۔

    اس حملے میں ڈپٹی کمشنر ذاکر بلوچ ہلاک اور چیئرمین ضلع کونسل عبدالمالک بلوچ زخمی ہوئے تھے۔

  6. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    • وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ کے اُس ایک فیصلے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی کہ جس کے تحت ایک احمدی شہری کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاج بھی کیا گیا۔
    • سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے مقدمے میں 22 گواہوں کے نام منظرِعام پر آ گئے ہیں۔ عمران خان کے سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد کا نام بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہے۔ محمد احمد پاکستان فوج میں ترقی پانے کے بعد اب میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔

    بی بی سی اردو کی گذشتہ دنوں کی کوریج کے لیے اس لنک پر کلک کیجیے۔