سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کے دوسرے مقدمے میں 22 گواہوں کے نام منظرِعام پر آ گئے ہیں۔
عمران خان کے سابق ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر محمد احمد کا نام بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہے۔ محمد احمد پاکستان فوج میں ترقی پانے کے بعد اب میجر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی سابق وزیراعظم کے احتساب کے مقدمے میں ان کے ملٹری سیکریٹری کو بطور گواہ شامل کیا گیا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے میں مزید گواہان میں کیبنٹ ڈویژن میں توشہ خانہ کے سیکشن آفیسر، وزیراعظم ہاؤس کے پروٹوکول آفیسر طلعت محمود، نیب ہیڈکوارٹر کے ایڈیشنل ڈائریکٹر قیصر محمود اور وزارتِ خارجہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد فہیم کے نام بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پرسنل سیکریٹری انعام اللہ شاہ کا نام بھی گواہوں کی فہرست میں موجود ہے۔
خیال رہے انعام اللہ شاہ کا نام بشریٰ بی بی کی ایک مبینہ آڈیو لیک میں بھی آیا تھا، جس میں بشریٰ بی بی مبینہ طور پر مختلف ملکوں کے سربراہان مملکت کی طرف سے ملنے والے تحائف کی تصاویر کھینچنے پر برہمی کا اظہار کر رہی تھیں۔
مقدمے میں نیب کے ڈائریکٹر شفقت محمود اور تفتیشی افسر محمد محسن ہارون کے نام بھی بطور گواہ شامل کیے گئے ہیں۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمے کی تفصیلات
دستاویزات کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ کا دوسرا مقدمہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیے گئے بلغاری جیولری سیٹ کو اپنے پاس رکھنے پر دائر کیا گیا ہے۔
ریفرنس کے مطابق بلغاری جیولری سیٹ بشریٰ بی بی کو 7 سے 10 مئی کے دوران سعودی عرب کے دورے کے موقع پر دیا گیا تھا، جس میں ایک عدد انگوٹھی، ایک بریسلٹ، ایک ہار اور ایک جوڑی بالیوں کی شامل تھی۔
ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ تحقیقات یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے غیرقانونی طور پر بلغاری کا سیٹ اپنے پاس رکھا۔
نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کے مطابق بلغاری کمپنی نے سالوجنٹ ٹریڈنگ سعودی عربیہ نامی فرنچائز کو 25 مئی 2018 کو ہار تین لاکھ یورو جبکہ بالیاں 80 ہزار یورو میں فروخت کی تھیں۔
ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ 28 مئی 2021 کو بلغاری جیولری سیٹ کی کُل قیمت سات کروڑ 56 لاکھ 61 ہزار 600 پاکستانی روپے بنتی تھی۔
نیب کے ریفرنس کے مطابق ڈپٹی ملٹری سیکریٹری نے 18 مئی 2021 کو سیکشن آفیسر توشہ خانہ کو قیمت کا تخمینہ لگانے اور تحفہ ڈکلیئر کرنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا لیکن جیولری سیٹ نہیں جمع کروایا گیا تھا۔
توشہ خانہ رولز کے مطابق 50 فیصد دے کر بلغاری جیولری سیٹ اپنے پاس رکھا جا سکتا تھا، جس کی قیمت تین کروڑ 57 لاکھ 65 ہزار 800 روپے بنتی ہے۔