سپین میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ہلاکتوں کی تعداد 158 ہو گئی

سپین میں سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 158 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

خلاصہ

  • سپین میں ملکی تاریخ کے بدترین سیلاب کے باعث ملک کے مشرقی صوبے ویلنشیا اور دیگر علاقوں میں شدید بارشوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 158 ہو گئی جبکہ درجنوں افراد لاپتا
  • لبنان کے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ’دنوں میں جنگ بندی کا معاہدہ ممکن ہے۔‘
  • امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے میں امریکہ کے ملوث ہونے کے الزامات میں کوئی حقیقت نہیں اور عمران خان کے خلاف قانونی مقدمات کا فیصلہ پاکستان کی عدالتوں نے کرنا ہے۔
  • حزب اللہ نے جمعرات کے روز خیام قصبے کے مشرق میں راکٹوں اور بھاری توپ خانے سے اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

لائیو کوریج

  1. غزہ کے شہریوں کے خدشات: ’انروا ہمارے لیے سب کچھ ہے‘, یولانڈے نیل، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ بی بی سی

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنگ زدہ غزہ کے شہری پہلے ہی ایک گہرے انسانی بحران سے گزر ہیں، لیکن اب انھیں خدشہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی سب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیم انروا پر پابندی کی وجہ سے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔

    خان یونس سے تعلق رکھنے والی یاسمین العشرے اس صورتحال پر کہتی ہیں کہ ’انروا ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ہماری زندگی، خوراک حاصل کرنے اور ہماری صحت کی ضروریات پوری کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر میرا بیٹا بیمار پڑ جائے گا تو میں کہاں جاؤں گی؟‘

    ایک اور پناہ گزین سعید اودا کہتے ہیں کہ ’انروا پر پابندی فلسطینی عوام پر ایک اور جنگ مسلط کرنا ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ (اسرائیل) ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد نہیں دینا چاہتے۔‘

    عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمان میں اقوام متحدہ کی فلسطین کے امدادی تنظیم (انروا) پر پابندی لگانے کے لیے نئے قانون کی بھرپور حمایت موجود ہے۔

    اسرائیلی پارلیمان نے اسرائیلی حکام کے انروا کے ساتھ رابطوں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس تنظیم پر حماس کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

    اسرائیلی پارلیمان میں انروا پر پابندی کا بل متعارف کروانے والے ایک رکن شارین ہشکیل نے دعویٰ کیا کہ ’ایک دہشت گردی تنظیم نے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اقوام متحدہ اس تنظیم کو عسکریت پسندوں یا حماس کے ارکان سے پاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ہمارے لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔‘

    تاہم انروا کا کہنا ہے کہ وہ غیر جانبدار تنظیم ہے۔

    تنظیم کا کہنا ہے کہ ’اگر اس کے خلاف نئے اسرائیلی قوانین کو منصوبہ بندی کے مطابق تین ماہ کے عرصے کے لیے نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شدید ہوں گے۔‘

    انروا کے غزہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر سام روز کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمیں غزہ میں کام کرنے ناممکن بنا دے گا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں امداد پہنچانے کے قابل نہیں رہے گے کیونکہ اس کے لیے ہمیں اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ اس سے ہمارے لیے غزہ کے اندر اور باہر محفوظ نقل و حرکت کرنا ممکن نہیں ہو گا۔‘

    اسرائیلی میڈیا کا خیال ہے کہ سفارت کاروں اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انروا کے خلاف کارروائی کے نتائج کے بارے میں انتباہات تھے۔ اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

  2. مسئلہ فلسطین پر ’دو ریاستی حل‘ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس آج سعودی عرب میں ہو گا

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج سعودی دارالحکومت ریاض میں ’دو ریاستی حل‘ کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کے پہلے اجلاس کا آغاز ہو رہا ہے۔

    سعودی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ ’دو ریاستی حل‘ کے نفاذ کے لیے عالمی اتحاد کا پہلا اعلیٰ اختیاراتی اجلاس خود مختار فلسطینی ریاست کے لیے ایک موقع فراہم کرے گا اور قبضے کے خاتمے کے لیے کوششوں کو آگے بڑھائے گا۔

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایس پی اے‘ کے مطابق کابینہ کا اجلاس ریاض میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہو گا۔

    سعودی عرب میں ہونے والے اس پہلے اجلاس میں عرب لیگ اور فلسطینی انتظامیہ کے نمائندوں سمیت بحرین، اردن، قطر، مصر کے نمائندے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ تاہم یورپی یونین اور ناروے کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کا ایک نمائندہ، ترکی، اور نائیجیریا، انڈونیشیا کے نمائندوں کی بھی شرکت متوقع ہے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس اجلاس میں وہ ممالک شامل ہوں گے جنھوں نے حال ہی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے؟ ان مُمالک میں سپین ، آئرلینڈ، سلووینیا اور آرمینیا شامل ہیں۔

    تاہم روس اور چین نے فلسطین سے متعلق اپنے کردار کے باوجود اجلاس میں شرکت کا اعلان نہیں کیا کیونکہ ماسکو اور بیجنگ نے حال ہی میں ’فلسطینی عسکریت پسند‘ گروہوں کو قریب لانے اور اُن کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے سے متعلق ہونے والے اجلاسوں کی میزبانی کی تھی۔

    سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے بیان کے مطابق سعودی عرب کی توقع ہے کہ ’دو ریاستی حل پر عمل درآمد تنازعات اور مصائب کو ختم کرنے اور ایک نئی حقیقت کو نافذ کرنے کا بہترین حل ہے جس میں خطہ اور اسرائیل سلامتی اور بقائے باہمی قائم کر سکتے ہیں۔‘

    سعودی وزیر فیصل بن فرحان اجلاس سے خطاب بھی کریں گے جس کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (انروا) کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی بھی اجلاس سے خطاب کریں گے۔

  3. انروا کیا ہے اور اس پر اسرائیل کی جانب سے پابندی کیوں لگائی گئی ہے؟

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر کی شام اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے اندر کام کرنے سے روکنے کے حق میں ووٹ دیا۔

    اسرائیل میں ہونے والی اس ووٹنگ کے بعد انروا کے ملازمین اور اسرائیلی حکام کے درمیان رابطوں پر پابندی عائد کردی گئی جس کے بعد اب اس امدادی ادارے کا کام محدود ہو گیا ہے۔

    اسرائیل کے اس اقدام کے بعد غزہ میں یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اگر اسرائیل پابندی پر مکمل عمل درآمد کرتا ہے تو غزہ میں آپریشن جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔

    واضح رہے کہ غزہ کی آبادی کے بڑے حصے کا انحصار انروا کی امداد اور خدمات پر ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے انروا پر پابندی کے اس اقدام کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی ہے اور انروا نے متنبہ کیا ہے کہ نئے قانون سے آنے والے ہفتوں میں امداد کی فراہمی کا سلسلہ ’بُری طرح متاثر ہوگا‘ جس کی وجہ سے غزہ کے لوگوں کی مُشکلات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو جائے گا۔

    اسرائیل نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے اپنے اُس الزام کو دہرایا ہے کہ ایجنسی کا متعدد عملہ گذشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں ملوث تھا، جس میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    تاہم اسرائیل کی جانب سے انروا کی مخالفت بھی کئی دہائیوں پرانی ہے۔

    Unwra

    ،تصویر کا ذریعہUNWRA/BBC

    انروا کیا ہے؟

    سنہ 1949 میں قائم ہونے والا فلسطینی پناہ گزینوں کا یہ ادارہ ’انروا‘، غزہ، مغربی کنارے، شام، لبنان اور اردن میں اپنے فرائض انجان دیتا رہا ہے۔ یہ تنظیم ابتدائی طور پر ان 700،000 فلسطینیوں کی دیکھ بھال کرتی چلی آرہی ہے کہ جنھیں اسرائیل کی ریاست کے قیام کے بعد اپنے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔

    گزشتہ کئی دہائیوں میں انروا غزہ میں کام کرنے والی اقوام متحدہ کی سب سے بڑی ایجنسی بن چکی ہے۔ یہاں تقریبا 13,000 افراد کام کرتے ہیں۔

    انروا بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے ملنے والے عطیات کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں اپنے فرائض سر انجام دیتی ہے۔ اس تنظیم کو اقوام متحدہ خود بھی براہِ راست فنڈز فراہم کرتا ہے۔

    انروا شورش زدہ علاقوں میں امداد کی تقسیم، پناہ گاہوں کے قیام، طبی مراکز، بچوں کے لیے اساتذہ کی تربیت کے ساتھ ساتھ تقریباً 300 پرائمری سکول بھی چلا رہی ہے۔

    ایجنسی کا کہنا ہے کہ غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے ان کی جانب سے تقریباً 19 لاکھ افراد میں کھانا تقسیم کیا جا رہا ہے۔ انروا کی جانب غزہ، شام، لبنان اور اُردن میں کشیدہ حالات کے دوران تقریباً ساٹھ لاکھ افراد کو طبی سہولیات فراہم کی ہیں۔

    انروا کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اس کے 200 سے زائد کارکُنان اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

    غزہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل اور انروا کے درمیان کشیدگی کیوں ہے؟

    انروا کو طویل عرصے سے اسرائیل کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگوں نے اس کے وجود پر اعتراض کرتے ہیں۔

    اسرائیلی حکومت طویل عرصے سے ایجنسی کی تعلیم اور درسی کتابوں کی مخالفت کرتی رہی ہے کیونکہ اُن کے خیال میں یہ اسرائیل مخالف خیالات کو فروغ دیتی ہیں۔

    سنہ 2022 میں ایک اسرائیلی واچ ڈاگ کے مطابق انروا کا تعلیمی مواد طالب علموں کو ان خیالات کی جانب مائل کر رہے کہ جن میں کہا اُنھیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اسرائیلی ’فلسطینی شناخت کو مٹانے‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔

    اس سے قبل انروا نے اپنے تعلیمی مواد سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کو ’غلط اور گمراہ کن‘ قرار دیا تھا۔

    7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے بعد، انروا کے کچھ عملے کے ملوث ہونے کے الزامات نے اسرائیل میں ایجنسی پر پابندی عائد کرنے کے مطالبے کو مزید تقویت دی۔

    اسرائیلی دفاعی افواج نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر 450 سے زیادہ انروا ملازمین ’دہشت گرد تنظیموں‘ کے رکن تھے۔ ان الزامات کے پیش نظر 16 مغربی ممالک نے امدادی ادارے کی فنڈنگ عارضی طور پر معطل کر دی تھی۔

    اقوام متحدہ نے اسرائیل کے دعوے کی تحقیقات کی اور نو افراد کو برطرف کر دیا، لیکن اس کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے مزید الزامات کے لیے ثبوت فراہم نہیں کیے اور انروا کی جانب سے بھی اسرائیلی الزامات کی تردید کی گئی۔

  4. حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم: سکول ٹیچر سے عسکری تنظیم کی قیادت تک

    حزب اللہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حزب اللہ نے منگل کے روز اپنے ڈپٹی سیکریٹری جنرل نعیم قاسم کو لبنانی عسکری تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا۔

    حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ گذشتہ مہینے جنوبی بیروت میں اسرائیلی حملے میں تنظیم کے دیگر سینیئر اراکین کے ساتھ مارے گئے تھے۔ نعیم قاسم حزب اللہ کے اُن چند سینیئر رہنماؤں میں سے ایک ہیں جو اسرائیلی حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔

    ستمبر کی 27 تاریخ کو حسن نصراللہ کی موت کے تین دن بعد نعیم قاسم نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ان کی تنظیم جلد ہی نیا سربراہ منتخب کر لے گی اور فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے اسرائیل کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی۔

  5. شمالی غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے میں درجنوں بچوں سمیت 93 ہلاکتوں کے بعد امریکہ کی مذمت

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    حماس کے زیرِ انتظام وزارت صحت کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ کے بیت لہیا قصبے پر اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 93 تک جا پہنچی ہے۔

    امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بیت لہیا میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں زمین پر کمبل سے ڈھکی لاشیں دکھائی دے رہی ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا علم ہے کہ بیت لہیا کے علاقے میں عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم اس حوالے سے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ امریکا کو اس واقعے میں شہریوں کے جانی نقصان پر گہری تشویش ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک ہولناک واقعہ تھا جس کا خوفناک نتیجہ برآمد ہوا۔‘

    اسرائیل کی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) گزشتہ دو ہفتوں کے دوران شمالی غزہ میں خاص طور پر جبالیہ، بیت لہیا اور بیت حنون کے علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    منگل کے روز اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اُنھوں نے جبالیہ میں 40 ’دہشت گردوں‘ کو ہلاک کر دیا ہے، اور وسطی غزہ سے متعلق کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’متعدد دہشت گردوں کا خاتمہ‘ کیا گیا ہے جن میں سے کچھ نے ’فوجیوں کے قریب دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کی کوشش کی۔‘

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والی اس پانچ منزلہ عمارت میں تقریبا 150 بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔

    قریب واقع کمال اڈوان ہسپتال کے ڈائیریکٹر حسام ابو صفیہ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے بچے ان کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں عملے اور ادویات کی کمی کی وجہ سے شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ کمال اڈوان ہسپتال پر اسرائیلی فوج کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا اور اس بارے میں کہا گیا تھا کہ ہسپتال کی عمارت حماس کے عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال تھی۔

  6. گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کا خلاصہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں پر ایک نظر

    • لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی ٹینکوں نے جنوبی لبنان کے گاؤں خیام کے مضافات میں حملہ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ جنوبی لبنان کا سب سے اندرونی مقام ہے جہاں گذشتہ ماہ اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی ٹینکوں نے حملہ کیا۔
    • اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ غزہ میں اہم امدادی ادارے انروا کے آپریشن پر پابندی کے اسرائیل کے نئے قانون سے فلسطینیوں کی انسانی صورتحال پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو لکھے گئے خط میں انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ یہ قانون فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو معذور کر سکتا ہے۔
    • پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کا ملک کے بیشتر حصوں سے رابطہ اٹھارویں روز بھی بحال نہیں ہو سکا، جس کے باعث ڈسٹرکٹ ہسپتال پاڑہ چنار سے پشاور ریفر کیے جانے والے چھ مریض مر چکے ہیں۔ مرنے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔
    • آسٹریا کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایک حملے میں اقوامِ متحدہ کی امن فوج کے تحت لبنان میں تعینات اس کے آٹھ فوجی زخمی ہو گئے۔ آسٹریا کی وزارتِ دفاع کے ترجمان مائیکل باؤر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیلی سرحد کے قریب کیمپ نقورہ پر حملے میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفیل) کے سپاہی معمولی زخمی ہوئے۔
    • بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) پر پابندی سے غزہ میں بچوں کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گا۔
    • اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے بالائی گلیلی اور مغربی گلیلی کی جانب 50 کے قریب راکٹ داغے گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ راکٹوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔
  7. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوںسے متعلق ج بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    اگر آپ 29 اکتوبر کی خبروں سےمتعلق جاننا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں