غزہ کے شہریوں کے خدشات: ’انروا ہمارے لیے سب کچھ ہے‘, یولانڈے نیل، نامہ نگار برائے مشرق وسطیٰ بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنگ زدہ غزہ کے شہری پہلے ہی ایک گہرے انسانی بحران سے گزر ہیں، لیکن اب انھیں خدشہ ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کی سب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیم انروا پر پابندی کی وجہ سے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔
خان یونس سے تعلق رکھنے والی یاسمین العشرے اس صورتحال پر کہتی ہیں کہ ’انروا ہمارے لیے سب کچھ ہے۔ یہ ہماری زندگی، خوراک حاصل کرنے اور ہماری صحت کی ضروریات پوری کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ اگر میرا بیٹا بیمار پڑ جائے گا تو میں کہاں جاؤں گی؟‘
ایک اور پناہ گزین سعید اودا کہتے ہیں کہ ’انروا پر پابندی فلسطینی عوام پر ایک اور جنگ مسلط کرنا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ (اسرائیل) ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد نہیں دینا چاہتے۔‘
عالمی برادری کی مخالفت کے باوجود اسرائیلی پارلیمان میں اقوام متحدہ کی فلسطین کے امدادی تنظیم (انروا) پر پابندی لگانے کے لیے نئے قانون کی بھرپور حمایت موجود ہے۔
اسرائیلی پارلیمان نے اسرائیلی حکام کے انروا کے ساتھ رابطوں پر بھی پابندی عائد کی ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی اس تنظیم پر حماس کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسرائیلی پارلیمان میں انروا پر پابندی کا بل متعارف کروانے والے ایک رکن شارین ہشکیل نے دعویٰ کیا کہ ’ایک دہشت گردی تنظیم نے اس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اقوام متحدہ اس تنظیم کو عسکریت پسندوں یا حماس کے ارکان سے پاک کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہمیں ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ ہمارے لوگوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔‘
تاہم انروا کا کہنا ہے کہ وہ غیر جانبدار تنظیم ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ’اگر اس کے خلاف نئے اسرائیلی قوانین کو منصوبہ بندی کے مطابق تین ماہ کے عرصے کے لیے نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شدید ہوں گے۔‘
انروا کے غزہ میں ڈپٹی ڈائریکٹر سام روز کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمیں غزہ میں کام کرنے ناممکن بنا دے گا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں امداد پہنچانے کے قابل نہیں رہے گے کیونکہ اس کے لیے ہمیں اسرائیلی حکام کے ساتھ رابطے میں رہنا ضروری ہے۔ اس سے ہمارے لیے غزہ کے اندر اور باہر محفوظ نقل و حرکت کرنا ممکن نہیں ہو گا۔‘
اسرائیلی میڈیا کا خیال ہے کہ سفارت کاروں اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے انروا کے خلاف کارروائی کے نتائج کے بارے میں انتباہات تھے۔ اسرائیل پر الزام ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔







