گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے صنعتکاروں کے لیے بجلی سستی کر دی, سارہ حسن، صحافی

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا نے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ چارجز ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔ دوسری جانب صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق وہ گھریلو صارفین جو ماہانہ تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کی سبسڈی سے مستفید ہوتے ہیں، اب فکسڈ چارجز ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ہر ماہ 200 روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو 300 روپے اور تین سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 350 روپے اضافی دینا ہوں گے۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بھی فکسڈ چارجز بڑھا دیے گئے ہیں، جبکہ زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔
اس فیصلے کے پس منظر میں بجلی کے شعبے کا بڑھتا ہوا خسارہ ہے۔ حکومت کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرتی ہے، جس پر سالانہ 101 ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔
صنعتی صارفین کا کہنا ہے کہ اس سبسڈی کا بوجھ ان پر ڈالا جاتا ہے، جس کے باعث صنعتوں کے لیے بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ اسی ’کراس سبسڈی‘ کو ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور صنعتکاروں نے حکومت پر دباؤ ڈالا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق گھمن کے مطابق حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول گھریلو صارفین سے فکسڈ چارجز کی وصولی کے ذریعے حکومت اضافی 101 ارب روپے حاصل کرے گی۔ چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔
نیپرا نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت فی یونٹ چار روپے 40 پیسے کم کر دی ہے، جس سے نرخ 33 روپے سے کم ہو کر 29 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ گھریلو صارفین کے لیے بھی فی یونٹ قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے، تاہم فکسڈ چارجز کے نفاذ سے ان پر مجموعی طور پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔
معروف صنعتکار اور انٹرلوپ گروپ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ صنعتکاروں کو سبسڈی پر اعتراض نہیں، لیکن یہ بوجھ صنعت پر ڈالنا درست نہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اگر گھریلو صارفین کو رعایت دینا چاہتی ہے تو دے، مگر صنعت کو اس کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔
یوں نیپرا کے حالیہ فیصلے نے ایک طرف صنعتکاروں کو ریلیف دیا ہے، تو دوسری جانب گھریلو صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ یہ اقدام بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور خسارے کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، لیکن اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑیں گے۔















