بنگلہ دیش میں انتخابات: ووٹوں کی گنتی جاری، جماعت اسلامی نتائج میں تاخیر پر نالاں اور بی این پی کا دھاندلی کا الزام

بنگلہ دیش میں 13 ویں قومی انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی نے اپنے کارکنوں کو نتائج کے اعلان تک پولنگ سٹیشنز نہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔ بی این پی اور جماعت اسلامی نے انتخابات میں کامیابی کے بھی دعوے کیے ہیں۔

خلاصہ

  • بنگلہ دیش میں مجموعی طور پر پُرامن پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری
  • انڈیا کی ڈیفنس کونسل نے مزید رفال طیاروں سمیت فوجی سازو سامان کی خریداری کے لیے 39 ارب ڈالرز کی منظوری دے دی
  • سپریم کورٹ نے 16 فروری سے پہلے سابق وزیراعظم عمران خان کا طبعی معائنہ اور بیٹوں سے فون پر بات کروانے کا حکم دیا ہے
  • پاکستان میں گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے صنعتکاروں کے لیے بجلی سستی کر دی
  • وزیرِ اعظم کا اسلام آباد کی امام بارگاہ کا دورہ، خود کش حملہ آور کو روکنے والے عون عباس کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان

لائیو کوریج

  1. گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد، نیپرا نے صنعتکاروں کے لیے بجلی سستی کر دی, سارہ حسن، صحافی

    نیپرا

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان میں بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیپرا نے گھریلو صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ چارجز ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جائیں گے۔ دوسری جانب صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے فی یونٹ نرخ میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

    نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق وہ گھریلو صارفین جو ماہانہ تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کی سبسڈی سے مستفید ہوتے ہیں، اب فکسڈ چارجز ادا کرنے کے پابند ہوں گے۔ سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو ہر ماہ 200 روپے، دو سو یونٹ استعمال کرنے والوں کو 300 روپے اور تین سو یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 350 روپے اضافی دینا ہوں گے۔ نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے بھی فکسڈ چارجز بڑھا دیے گئے ہیں، جبکہ زیادہ یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر مزید بوجھ ڈالا گیا ہے۔

    اس فیصلے کے پس منظر میں بجلی کے شعبے کا بڑھتا ہوا خسارہ ہے۔ حکومت کم بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو رعایتی نرخوں پر بجلی فراہم کرتی ہے، جس پر سالانہ 101 ارب روپے کی سبسڈی دی جاتی ہے۔

    صنعتی صارفین کا کہنا ہے کہ اس سبسڈی کا بوجھ ان پر ڈالا جاتا ہے، جس کے باعث صنعتوں کے لیے بجلی مہنگی ہو جاتی ہے۔ اسی ’کراس سبسڈی‘ کو ختم کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور صنعتکاروں نے حکومت پر دباؤ ڈالا۔

    NEPRA

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    سینیئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق گھمن کے مطابق حکومت نے برآمدات بڑھانے کے لیے صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے بقول گھریلو صارفین سے فکسڈ چارجز کی وصولی کے ذریعے حکومت اضافی 101 ارب روپے حاصل کرے گی۔ چند روز قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹرز سے وعدہ کیا تھا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کی جائے گی تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔

    نیپرا نے صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت فی یونٹ چار روپے 40 پیسے کم کر دی ہے، جس سے نرخ 33 روپے سے کم ہو کر 29 روپے فی یونٹ ہو گئے ہیں۔ گھریلو صارفین کے لیے بھی فی یونٹ قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے، تاہم فکسڈ چارجز کے نفاذ سے ان پر مجموعی طور پر بوجھ بڑھ گیا ہے۔

    معروف صنعتکار اور انٹرلوپ گروپ کے چیئرمین مصدق ذوالقرنین کا کہنا ہے کہ صنعتکاروں کو سبسڈی پر اعتراض نہیں، لیکن یہ بوجھ صنعت پر ڈالنا درست نہیں۔ ان کے مطابق، حکومت اگر گھریلو صارفین کو رعایت دینا چاہتی ہے تو دے، مگر صنعت کو اس کا خمیازہ نہ بھگتنا پڑے۔

    یوں نیپرا کے حالیہ فیصلے نے ایک طرف صنعتکاروں کو ریلیف دیا ہے، تو دوسری جانب گھریلو صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ یہ اقدام بجلی کے شعبے میں اصلاحات اور خسارے کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے، لیکن اس کے اثرات براہِ راست عوام پر پڑیں گے۔

  2. وزیرِ اعظم کا اسلام آباد کی امام بارگاہ کا دورہ، خود کش حملہ آور کو روکنے والے عون عباس کے اہلِ خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان

    اسلاما آباد امام بارگاہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں خود کش حملے کا شکار ہونے والی امام بارگاہ کا دورہ کیا اور ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ اور زخمیوں کے لیے مالی مدد کا اعلان کیا ہے۔

    چھ فروری کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ 168 زخمی ہوئے تھے۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، وزیراعظم نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے ’عون عباس کی بے مثال شجاعت کے اعتراف میں ان کے اہل خانہ کے لیے ایک کروڑ روپے کا اعلان‘ کیا ہے۔

    یاد رہے کہ دھماکے کے بعد کئی عینی شاہدین نے دعویٰ کیا تھا کہ عون عباس نے خود کش حملہ آور کو مسجد کے ہال میں داخل ہونے سے روکا تھا جس کے بعد خود کش حملہ آور نے دھماکے سے خود کو اڑا دیا تھا۔ اس دھماکے میں دیگر لوگوں کے ہمراہ عون عباس بھی ہلاک ہو گئے تھے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’بہادری اور قربانی کی عظیم مثال نوجوان عون عباس کو سلام پیش کرتا ہوں‘ جس نے خودکش حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان دے دی۔

    بیان کے مطابق، حملے میں ہلاک ہونے والے دیگر افراد کے اہل خانہ کو پچاس، پچاس لاکھ روپے، شدید زخمی ہونے والوں کو تیس لاکھ روپے جبکہ دیگر زخمیوں کو دس لاکھ روپے دیے جائیں گے۔

  3. عمران خان کی آنکھ کا آپریشن کروانے کا مطلب ہے کہ جیل میں غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے: سہیل آفریدی کا دعویٰ

    سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانے اور اہلِ خانہ سے ملاقات نہ کروانے کو آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور ڈاکٹرز و اہل خانہ سے ملاقات نہ کروانا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اگر عمران خان کی آنکھ کا آپریشن کروانا پڑا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جیل میں ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے بنی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی مذمت کرتی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کی کابینہ عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ کرتی ہے۔

    سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

    یاد رہے کہ بدھ کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولیات اور ان کی حالت زار کے معاملے میں ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر بیرسٹر سلمان صفدر نے سات صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے۔

    رپورٹ جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی جو کہ تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔

    چیف جسٹس یحی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور ان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تھا اور انھیں اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کرنے اور وہاں پر انھیں دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

  4. ڈیرہ اسماعیل خان میں شدت پسندوں کا پولیس پر حملہ، ایس ایچ او سمیت چار اہلکار ہلاک

    پولیس خیبر پختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر شدت پسندوں کے حملے میں ایک ایس ایچ او سمیت چار پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے دفاتر سے جاری بیان میں ان حملوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

    وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر دہشتگردوں کی فائرنگ کے واقعے میں چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں قیام امن کے لیے پولیس کی قربانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    محسن نقوی نے اس واقعے میں زخمی ہونے والے ڈی ایس پی کی جلد صحتیابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس پر فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔

    اس سے قبل اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے تھانہ پنیالہ کی حدود وانڈہ بڈھ میں شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایک ایس ایچ او سمیت 4 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ ڈی ایس پی پہاڑ پور سرکل عدنان شدید زخمی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق، گل بہار چوک کے مقام پر نامعلوم افراد نے تھانہ ہوید کی موبائل وین پر فائرنگ کی تھی۔

  5. سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے نیتن یاہو کو ایران، امریکہ مذاکرات سے آگاہ کیا: اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کا بیان

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہX/IsraeliPM

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ انھوں نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے سٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کی ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں نے کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اور ان کے داماد نے ’نیتن یاہو کو ایران اور امریکہ کے درمیان گذشتہ جمعے کو ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے متعلق رپورٹ پیش کی‘۔

    اس ملاقات کا موضوع علاقائی مسائل پر بات چیت تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ان کے دورہ امریکہ کا مرکز ایران کے بارے میں بات چیت ہو گی۔

    اسرائیلی وزیرِ اعظم کی آئندہ چند گھنٹوں میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہے۔

  6. بلوچستان حکومت کی جانب سے انتہائی مطلوب افراد کی فہرست جاری: کالعدم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کے سر پر 25 کروڑ کا انعام

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہScreenshot of a Local Newspaper

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان حکومت کی جانب سے شدت پسندی کے حوالے سے انتہائی مطلوب افراد کے نام اخبارات میں شائع کیے گئے ہیں۔

    بدھ کے روز مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے اشتہارات میں ان مطلوب افراد کے سر کی قیمتیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

    مجموعی طور پر جن 39 افراد کے نام شائع کیے گئے ہیں ان میں بیرون ملک مقیم افراد بھی شامل ہیں۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری فہرست میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے سربراہ بشیر زیب اور کپتان رحمان گل کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

    دیگر افراد کے مقابلے میں ان کی سر کی قیمت سب سے زیادہ ہے جو کہ پچیس، پچیس کروڑ روپے ہے۔

    تیسرے نمبر پر سب سے زیادہ سر کی قیمت میر سفیر احمد کی مقرر کی گئی ہے جو کہ 15 کروڑ روپے ہے۔

    یاد رہے کہ 31 جنوری کو بلوچستان کے متدد شہروں کے مختلف مقامات پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔ بی ایل اے نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    حکومت کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں بیرون ملک مقیم افراد میں نوابزادہ حربیار مری اور نوابزادہ براہمداغ بگٹی کے نام شامل ہیں۔ ان دونوں کی سر کی قیمت دس، دس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ شیر محمد بگٹی کا نام بھی شامل ہے جو کہ بلوچ ریپبلیکن پارٹی کے ترجمان ہیں۔ ان کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

    ماضی میں بھی سرکاری حکام کی جانب سے ان افراد سمیت بیرون ملک مقیم دیگر بلوچ رہنماؤں پر شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے تاہم یہ افراد الزامات کی سختی سے مسترد کرتے آئے ہیں۔

  7. طالبان حکام کی اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت، ایران کا جلد طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    آیرانی سفارتخانہ کابل

    ،تصویر کا ذریعہx/IRANinKabul/

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے 10 فروری کو ایران کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں افغان طالبان کے سینیئر حکام نے بھی شرکت کی۔

    افغانستان میں ایرانی سفارتخانے کی جانب سے ایکس پر اس تقریب کے متعلق شیئر کی گئی تصاویر میں دیگر کئی اگفراد کے ہمراہ طالبان حکومت کے نائب وزیر خارجہ برائے انتظامی و مالی امور محمد نعیم وردک اور وزارت اقتصادیات میں پیشہ ورانہ امور کے نائب وزیر عبداللطیف نظری بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

    اس تقریب میں نعیم وردک نے طالبان حکومت کی جانب سے ایران کے ساتھ ’قریبی‘ تعلقات برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    افغانستان کے آریانہ نیوز کا تقریب کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وردک کا کہنا تھا کہ کابل اور تہران کے قریبی تعلقات کے بغیر خطے میں پائیدار استحکام اور ترقی نہیں ہو سکتی۔

    دوسری جانب بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، نجی افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کابل میں ایرانی سفارتخانے کے ناظم الامور علی رضا بیکدلی نے ایران کی جانب سے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

    طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے میں تاخیر کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا: ’یہ اپنے وقت پر ہو گا اور اس حوالے سے بات چیت جاری ہے، اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔‘

    گذشتہ ماہ ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران طالبان نے زیادہ تر خاموشی اختیار کی تھی، جبکہ طالبان کے ایک عہدیدار نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے امکان کو مسترد کر دیا تھا۔

  8. عافیہ صدیقی کیس: آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی سے روک دیا, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عافیہ صدیقی

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    پاکستان کی آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو امریکہ کی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں وزیرِاعظم اور وفاقی وزرا کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیرِاعظم اور کابینہ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس سے متعلق امریکہ میں قانونی کوششوں کی حمایت نہ کرنے پر وضاحت طلب کی تھی اور ان کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

    آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف وفاق کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کی۔ وفاق کی جانب سے دائر کی گئی ان اپیلوں میں 16 مئی 2025 کا حکم چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    وفاق کی جانب سے دائر اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم عدالتی اختیارات سے تجاوز اور طے شدہ مقدمات کی حیثیت کے منافی ہے۔ وفاق کا کہنا ہے کہ طویل عرصے بعد نمٹائے گئے معاملے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔

    درخواستوں میں یہ موقف بھی اپنایا گیا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ پہلے سے ہی ہائی کورٹ میں نمٹا دیا گیا تھا۔ اپیل میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے جڑا ہے۔

    وفاق کا موقف ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عافیہ صدیقی کیس سے متعلق دائر کی جانے والی ترمیم شدہ درخواست میں رہائی اور وطن واپسی کے لیے حکومتی اقدامات کی آئینی ذمہ داری قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی۔ فیڈریشن نے اپنی اپیل میں یہ موقف اختیار کیا کہ اکتوبر 2024 میں وزیرِاعظم نے امریکی صدر کو رحم کی اپیل کی حمایت میں خط لکھا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ سطحی وفد امریکہ بھیجا گیا۔ وفاق کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی منتقلی سے متعلق معاہدوں کی کوششیں کی گئیں لیکن امریکی حکام نے قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان اپیلوں کی سماعت ملتوی کر دی۔

  9. عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولیات کا معاملہ: ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ نے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروادی

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولیات اور ان کی حالت زار کے معاملے میں ’فرینڈ آف دی کورٹ‘ مقرر بیرسٹر سلمان صفدر اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کروا دی۔

    بیرسٹر سلمان صفدر نے منگل کے روز سابق وزیر اعظم سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی تھی اور اس متعلق سات صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں جمع کروا دی ہے۔

    چیف جسٹس یحی آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور ان کو جیل میں دی جانے والی سہولیات سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے موقع پر بیرسٹر سلمان صفدر کو فرینڈ آف کورٹ مقرر کیا تھا اور انھیں اڈیالہ جیل جا کر عمران خان سے ملاقات کرنے اور وہاں پر انھیں دی جانے والی سہولتوں کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خان کی صحت اور انھیں جیل میں دستیاب سہولیات سے متعلق درخواست کی سماعت جمعرات کو ہو گی۔

    رپورٹ جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ کے احاطے میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کی عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات ہوئی جو کہ تین گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔

    انھوں نے کہا کہ اس دوران انھوں نے اس سیل کا بھی وزٹ کیا جہاں پر سابق وزیر اعظم کو رکھا گیا ہے۔

    سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ ان کی پہلی ذمہ داری سپریم کورٹ کے ججوں تک وہ معلومات پہنچانی ہے جس کی ذمہ داری عدالت عظمی کی طرف سے انھیں سونپنی گئی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد جب وہ باہر نکلے تو اڈیالہ جیل کے باہر عمران خان کی بہن علیمہ خان اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی موجود تھے لیکن انھوں نے ان دونوں کو بھی عمران خان سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ روز انھوں نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران سابق وزیر اعظم کے صحت کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

  10. جوہری ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتے، مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے: ایرانی صدر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ’جوہری ہتھیاروں کا حصول نہیں چاہتا‘ اور ’ہم اس کی تصدیق کرنے کو بھی تیار‘ ہیں۔

    ایرانی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گذشتہ جمعے کو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوا تھا۔

    مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ’یورپ اور امریکہ نے جو بداعتمادی کی دیوار کھڑی کر دی ہے اس کے بعد ان مذاکرات کے مؤثر ہونے کا امکان نہیں ہے۔ ایران زیادہ مطالبات کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔‘

    ’ہم پڑوسی ممالک سے بات کر رہے ہیں تاکہ خطے میں امن قائم رہ سکے۔ جب ہمارا دشمن ہمارے خلاف منصوبہ بندی اور جارحیت کرنے کا سوچ رہا تھا، پڑوسی اور اسلامی ممالک ہم سے رابطے کر رہے تھے۔‘

    انھوں نے اپنے بیان میں ترکی، آذربائیجان، قطر، متحدہ عرب امارات، پاکستان، سعودی عرب اور مصر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  11. سپیکر قومی اسمبلی نے سردار اختر مینگل کا استعفی منظور کر لیا

    اختر مینگل

    سپیکر قومی اسمبلی نے بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا استعفی منظور کر لیا ہے۔

    سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی صورتحال پر حکومت کی جانب سے مطالبات نہ ماننے پر 3 ستمبر 2024 کو استعفیٰ دیا تھا۔

    سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے تقریباً ایک سال پانچ ماہ تک اختر مینگل کا استعفیٰ منظور نہیں کیا تھا۔

    اختر مینگل گذشتہ عام انتخابات میں صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار کے حلقہ این اے 256 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

  12. برطانیہ میں افغان پناہ گزین 12 سالہ لڑکی سے ریپ کا مجرم قرار

    احمد ملاخیل

    ،تصویر کا ذریعہWarwickshire Police

    ،تصویر کا کیپشنملاخیل مارچ 2025 میں برطانیہ آئے تھے

    برطانیہ کے قصبے نونیٹن میں ایک افعان پناہ گزین 12 سالہ بچی کے ریپ اور اغوا کے مقدمے میں قصوروار پایا گیا ہے۔

    23 سالہ احمد ملاخیل 22 جولائی کو لڑکی کو ایک سنسان گلی میں لے گیا اور ’انتہائی خوفناک جنسی جرائم انجام دیے۔‘

    واروک کی کراؤن کورٹ میں احمد ملاخیل کو ریپ، اغوا، جنسی حملے اور لڑکی کی نامناسب ویڈیو بنانے کا قصوروار پایا گیا۔

    شریک ملزم 24 سالہ محمد کبیر جو ایک افغان پناہ گزین بھی ہیں، کو گلا گھونٹنے، اغوا اور جنسی جرم کا ارتکاب کرنے کی کوشش کا مجرم نہیں پایا گیا۔

    اس مقدمے کی 10 دن کی سماعت کے دوران ججوں نے متاثرہ لڑکی سے شواہد سنے جس میں کہا گیا کہ ملاخیل ان پر حملہ کرتے ہوئے ہنس رہے تھے۔

    یہ جرم سرانجام دینے سے صرف چار ماہ قبل ملاخیل مارچ 2025 میں فرانس سے ایک چھوٹی سی کشتی میں برطانیہ آئے تھے۔

  13. کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں فائرنگ: مبینہ حملہ آور سمیت 10 افراد ہلاک، 25 زخمی ہو گئے

    کینیڈا

    ،تصویر کا ذریعہMadi Taylor / Facebook

    کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے علاقے ٹمبلر رج میں فائرنگ سے نو افراد ہلاک جبکہ 25 زخمی ہو گئے ہیں۔

    مرنے والوں میں سے چھ افراد کی لاشیں ایک سکینڈری سکول سے ملیں جبکہ ساتواں شخص ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گیا۔ اس کے علاوہ دو افراد کی لاشیں سکول کے قریب ایک گھر سے ملی ہیں۔

    پولیس کے مطابق مبینہ حملہ آور کی لاش بھی سکول سے ملی۔

    اس حملے کے دوران بھیجے گئے الرٹ کے مطابق مبینہ حملہ آور ’خاتون ہے، جس کے بھورے بال ہیں‘ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور کی شناخت ہو چکی لیکن اس کا نام یا صنف اپنی ظاہر نہیں کی جا رہی۔

    پولیس نے اس حملے میں استعمال ہونے والی بندوق اور متاثرہ افراد کی عمریں بھی ظاہر نہیں کی ہیں۔

    سکول اور گھر میں ہونے والی اموات کے بارے میں ابھی تعلق کا واضح ہونا بھی باقی ہے۔

    یہ واقعہ کینیڈا کی تاریخ میں کسی سکول پر ہونے والا دوسرا مہلک ترین حملہ ہے۔ اس سے قبل سنہ 1989 میں مونٹریال شہر میں ایسے ایک حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ کینیڈا میں بندوق کے حوالے سے قوانین امریکہ سے زیادہ سخت ہیں، جس کی وجہ سے وہاں اس طرح کے حملوں کا امکان کم ہے۔

  14. ’ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو یہ اس کی حماقت ہو گی‘: امریکی صدر

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کوئی معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ’اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ ایران کی حماقت ہو گی۔‘

    فاکس نیوز کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایک بڑا امریکی بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘

    امریکی صدر نے گذشتہ سال ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’پچھلی بار ہم نے ان کی جوہری طاقت ختم کر دی تھی۔ دیکھنا ہو گا کہ اس بار ہم کیا کر سکتے ہیں۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے واشنگٹن کی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ بات چیت کا محور صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ اس دوران بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں ایران کی پراکسیوں اور ایرانی عوام کے ساتھ حکومت کا برتاؤ بھی اس میں شامل ہو۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کے میزائل پروگرام پر مذاکرات کو متعدد بار مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں واپسی کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت ’برابری کی بنیاد‘ پر کی جائے۔

    یاد رہے کہ ایران میں بڑے پیمانے پر قومی کرنسی کی قدر میں شدید کمی، مہنگائی میں اضافے اور حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے۔

    امریکی صدر نے ان احتجاجی مظاہروں کے دوران کہا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ’ایران میں نئی قیادت‘ تلاش کی جائے۔

    یہ تاثر بھی سامنے آیا تھا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔

  15. پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش: افغانستان ضروری ادویات کی کمی کیسے پوری کر رہا ہے؟, عبداللہ الہام، بی بی سی پشتو

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان گذشتہ برس ہونے والی جھڑپوں اور سرحدی راستوں کی بندش کے سبب ادیات کی قلت سے بچنے کے لیے افغانستان نے ملک میں ہی دوائیں بنانے کی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔

    افغانستان کی وزارت برائے عوامی صحت اور ادویات بنانے والی کمپنیوں کی ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں استعمال کی جانے والی تقریباً تین ہزار ادویات میں سے صرف 20 فیصد دوائیں افغانستان میں بنتی ہیں، جبکہ باقی ادویات باہر سے منگوانی پڑتی ہیں۔

    افغانستان میں کتنی ادویات بنائی جاتی ہیں؟

    طالبان حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً تین ہزار قسم کی ادویات کی ضرورت ہوتی ہے اور ان میں سے فی الوقت صرف 600 افغانستان میں تیار کی جاتی ہیں۔

    فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ پروڈکٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ احمد سعید شمس کے مطابق ملک میں تیار کی جانے والی زیادہ تر ادویات وہ ہیں جو سب سے زیادہ استعمال کی جاتی ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزارت برائے عوامی صحت کے پاس افغانستان میں تیار کی جانے والی 600 ادویات رجسٹرڈ ہیں، جس سے مارکیٹ کی صرف 25 فیصد ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔‘

    فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کا منصوبہ

    احمد سعید شمس کہتے ہیں کہ ان کی اپنی فارماسیوٹیکل کمپنی بختار گذشتہ دو دہائیوں سے کام کر رہی ہے اور مارکیٹ کو تقریباً 60 قسم کی ادویات فراہم کرتی ہے۔

    تاہم ادویات کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے سبب وہ ایک اور کمپنی قائم کرنے جا رہے ہیں، جو کہ جلد ہی افغانستان کی مارکیٹ کو مزید دوائیں فراہم کرے گی۔

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ الفا ون نامی کمپنی مزید 60 قسم کی ادویات تیار کرے گی اور اس میں استعمال کے لیے مشینری بھی پہنچ چکی ہے۔ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی باضابطہ اجازت کے بعد یہ کمپنی اپنے کام کی شروعات کر دے گی۔

    افغانستان کی وزارت برائے عوامی صحت کا کہنا ہے کہ اس نے کابل میں 1 ہزار ایکڑ زمین فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے لیے مختص کر دی ہے تاکہ وہ وہاں نئی فیکٹریاں بنا کر مقامی طور پر ادویات تیار کر سکیں۔ حکومت کو امید ہے کہ اس اقدام سے ملک میں تیار ہونے والی ادویات کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔

    افغان ادویات ملک سے باہر فروخت کرنے کی کوششیں

    افغانستان میں دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات دیگر ممالک میں فروخت کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہیں۔

    احمد سعید شمس کے مطابق کم از کم چار کمپنیوں نے بین الاقوامی اجازت نامے بھی حاصل کر لیے ہیں تاکہ انھیں اپنی ادویات برآمد کرنے کی اجازت مل جائے۔

    افغانستان میں دستیاب بیرونی ادویات

    افغانستان میں اس وقت تقریباً چار سو کمپنیاں ایسی ہیں جو ہر برس بیرونِ ملک سے کروڑوں ڈالر مالیت کی ادویات اور دیگر میڈیکل مصنوعات منگواتی ہیں۔

    مقامی کمپنیاں طالبان حکومت سے گزارش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ وہ باہر سے منگوائی جانے والی ادویات پر ٹیرف بڑھائے تاکہ مقامی کمپنیاں نشونما پا سکیں۔

    طالبان حکومت نے پاکستان سے ادویات منگوانے پر پابندی عائد کر دی تھی، جس کے بعد انڈیا، ایران، چین، ترکی، بنگلہ دیش اور ازبکستان جیسے ممالک سے دوائیں منگوانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

    افغانستان میں تیار کی جانے والی ادویات کے لیے خام مال زیادہ تر چین سے منگوایا جاتا ہے۔

    افغانستان میں مقامی کمپنیوں میں بھی غیرملکی ماہرین کام کرتے ہیں۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    • اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ رواں ہفتے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران سے مذاکرات والے آپشن کو ترجیح دیں گے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ اور کینیڈا کو ملانے والے ایک پل کو کھولنے سے روک دیں گے جب تک کہ واشنگٹن کو ’ہر اُس چیز کا مکمل معاوضہ‘ نہ مل جائے جو اس نے کینیڈا کو دیا۔
    • عمران خان سے ان کے وکیل سلمان صفدر کی طویل ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد سلمان صفدر نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور سابق وزیر اعظم کے اہلخانہ کو بھی تفصیلات بتائی ہیں۔ سلمان صفدر اس حوالے سے مفصل رپورٹ اب سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔
    • پشاور کور ہیڈکوارٹرز میں خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، قومی سلامتی کے مشیر، کور کمانڈر پشاور سمیت اعلیٰ سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔