آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث چناب اور راوی دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ، ملحقہ علاقوں میں انخلا جاری

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ لاہور کے نزدیک شاہدرہ کے علاقے سے بھی چند گھنٹوں میں پانی کا بڑا ریلا گزرنے کی توقع ہے۔

خلاصہ

  • حکومت پنجاب کے مطابق سیلابی صورت حال کے پیش نظر اگلے چوبیس گھنٹے قصور، لاہور اور ساہیوال کے لیے اہم ہی جبکہ اگے چند گھنٹوں میں سیلابی ریلا چینوٹ اور جھنگ کو متاثر کر سکتا ہے۔
  • حکومت پنجاب نے سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
  • سیلاب اور بارشوں کے باعث سیالکوٹ میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں
  • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے

لائیو کوریج

  1. پنجاب میں بارشوں کے نویں سپیل کا الرٹ جاری

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے کے بالائی حصوں میں مون سون بارشوں کے نویں سپیل کا الرٹ جاری کردیا ہے۔

    29 اگست 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کی صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے جبکہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے۔ ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ دریائے چناب راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    انھوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔ انھوں نے ہدایات دیں کہ تمام ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں۔

  2. وفاقی حکومت پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال میں بھرپور تعاون کرے گی: وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظرہر ممکن تعاون فراہم کیا، پنجاب میں بھی وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی،گجرات، سیالکوٹ، لاہور میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں،عوامی نمائندے اور حکومتی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت انخلا،محفوظ مقام پر منتقلی اور امدادی کارروائیوں کی موثر نگرانی کریں۔

    بدھ کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نےان خیالات کا اظہار پنجاب میں شدید بارشوں اور دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر پیدا ہونے والے مسائل اور اب تک کے اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر توانائی اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن احد خان چیمہ، چیئرمین این ڈی ایم اے اور متعلقہ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو دریاؤں میں سیلابی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں پیشگی انخلاء، محفوظ مقام پر منتقلی اور امدادی سامان کی ترسیل پر بریفنگ دی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ریسکیو1122، سول ڈیفنس، رینجرز، پی ڈی ایم اے اور تمام دیگر متعلقہ ادارے پوری مستعدی سے کام کر رہے ہیں۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب کے کچھ علاقوں میں سلابی صورتحال کے نقصانات سے بچاؤ کے لیے پیشگی انخلا کے لیے آرمی کے جوانوں اور پولیس کی خدمات کو حاصل کیا گیا ہے۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ دریائے چناب میں پانی کا اخراج بڑھنے کے پیش نظر ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ متاثرین کے بروقت انخلا کے لیے 2000 ٹرک مہیا کیے گیے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ دریائے راوی میں جسٹر اور شاہدرہ اور دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر پانی کے اخراج کا زیادہ دباؤ ہے، خانکی، بلو کی اور قادر آباد میں پانی کے اخراج سے پیدا ہونے والے دباؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ گذشتہ روز وفاقی حکومت اور این ڈی ایم اے کی طرف سے سیلابی صورتحال اور بارشوں کی وارننگ کی ذرائع ابلاغ میں بروقت پیشگی اطلاع نے قیمتی جانی و مالی نقصان کو بچایا۔

    انھوں نے ہدایات دیں کہ پیشگی اطلاع پہنچانے کا یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے اب تک پنجاب کے متاثرہ علاقوں کے لیے پانچ ہزار خیمے مہیا کیے ہیں دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی جاری رکھی جائے۔

    وزیر اعظم نے ہدایات دیں کہ گجرات، سیالکوٹ، لاہور میں اربن فلڈنگ کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامی اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں، پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ذرائع مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے لیے وزیر مواصلات وزیر توانائی، سیکرٹری توانائی اور چیئرمین این ایچ اے ،لاہور پہنچ کر صوبائی حکومت کے ساتھ عملی اور بھرپور تعاون کریں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ کسی بھی صوبے میں سیلابی صورتحال سے پیدا ہونے والے مسائل کو ملکی سطح پر مکمل ہم آہنگی سے حل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظرہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ انھوں نے کہا کہ پنجاب میں بھی وفاقی حکومت بھرپور تعاون کرے گی۔

    وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سندھ میں سیلابی ریلے کی پنجاب کے بعد آمد کی ہر وقت پیشگی اطلاع کو یقینی بنایا جائے تاکہ ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

    ’عوامی نمائندگان اور حکومتی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بروقت انخلا، محفوظ مقام پر منتقلی اور امدادی کارروائیوں کی موثر نگرانی کریں۔ ‘

  3. بریکنگ, فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، فوجی ترجمان

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ’آئندہ چند گھنٹوں میں قادر آباد سے انخلا ضروری ہو چکا ہے۔‘

    فوجی افسران نے سیلابی صورتحال میں اس وقت فوج کی طرف سے ریسکیو آپریشن کی تفصیلات فراہم کیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک کے تین دریاؤں میں اس وقت سیلابی صورتحال ہے۔ انھوں نے کہا کہ قادر آباد کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھے گا جب کہ دریائے ستلج میں گندھارا سے ہیڈ خانکی کی طرف پانی کا بہاؤ بڑھ گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے خیمے اور دیگر اشیائے ضروریہ فراہم کی جا رہی ہیں۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ آئندہ دو روز میں ممکنہ صورتحال کے پیش نظر پوری طرح تیار ہیں، لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال میں مزید بارشیں متوقع ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج کے اطراف سے دو لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، ہیڈ خانکی میں 10 لاکھ کیوسک ریلہ موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ خانکی اور قادر آباد کے درمیان مزید طغیانی آئے گی۔

    انھوں نے کہا کہ پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق جموں میں فلش فلڈ اور بادل پھٹنے سے نقصان ہوا ہے۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی۔ این ڈی ایم اے، پی ڈی ایم اے، چیف سیکریٹریز ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیٹفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کا کہنا ہے کہ ملٹری فارمیشنز کو آرمی چیف کی طرف سے ہدایات دی جا چکی ہیں۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا کہ 29 اگست سے 9 ستمبر تک مون سون کا آخری سپیل آئے گا جس میں انھی علاقوں میں دوبارہ بارشیں ہونے کی توقع ہے جس کے لیے تمام الرٹس متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر کیے جاچکے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے کہ کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا اور اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فوج کے تمام جوان اور افسر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ’عوام اور افواج ایک ہی ہیں، کوئی قوت دراڑ نہں ڈال سکتی‘۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ متاثرہ علاقوں میں پلوں اور شاہراہوں کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق امدادی کارروائیوں کے دوران فوج کے دو جوان اپنی جان سے گئے اور دو زخمی ہوئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی ہدایت پر اس وقت ایک انجینئر بریگیڈ اور 30 یونٹس صرف سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہیں جس میں 19 انفینٹری یونٹس، سات انجینئر اور چار میڈیکل یونٹس شامل ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ خراب موسمی حالات کے باوجود پاکستان آرمی نے تین بڑے پل جن میں دو خیبرپختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں تھا کا مرمتی کام مکمل کرلیا ہے، شاہراہ قراقرم کھول دی گئی ہے، جب کہ آرمی انجینیئرز نے سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر 104 سڑکیں مکمل طور پر کلیئر کرلی ہیں۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’سیلابی صورتحال کے باوجود ہماری ورکنگ باؤنڈری اور بارڈر ہے، وہاں پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور پاکستان کے عظیم وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی پوسٹ کو خالی نہیں کیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان امدادی کاموں کے علاوہ فوج، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خیبرپختونخوا میں مکمل طور پر خارجیوں اور دہشت گردوں کے خلاف امن قائم کرنے کے لیے آپریشن اسی طرح جاری ہیں۔ اس میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی تا کہ وہ ایسے وقت میں جب خیبرپختونخوا کی عوام مشکل میں ہے تو وہ کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھا سکیں۔‘

  4. انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں مسلسل بارشوں سے سیلابی صورتحال، کم از کم 32 ہلاکتیں, ریاض مسرور، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر

    انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں دریائے جہلم کی سطح میں مسلسل اضافہ کے بعد خطے میں ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے حکومت نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    منگل کی شب جموں کے ویشنو دیوی مندر کی طرف جانے والے 32 یاتری اس وقت مارے گئے جب بادل پھٹنے سے آئی طغیانی نے وسیع علاقے میں تباہی مچا دی۔

    واضح رہے جنوبی خطہ جموں کے دریائے توی میں پانی کی سطح بڑھنے اور مسلسل بارشوں سے بادل پھٹنے کے واقعات نے پورے خطے میں سیلابی صورتحال برپا کردی ہے جبکہ ڈوڈہ ضلع میں بادل پھٹنے سے آئی طغیانی میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    حکومت نے جموں کے ساتھ ساتھ کشمیر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے حساس علاقوں میں انسدادِ بحران محکمہ کے اہلکاروں کو تعینات کیا ہے۔

    جموں میں حکام کے مطابق دریائے توی پر کٹھوعہ سے جموں تک پنجاب اور کشمیر کو ملانے والی ہائی وے پر چار بڑے پُل سیلابی ریلوں سے ڈہہ گئے ہیں۔

    جموں خطے میں حکومت نے تمام تعلیمی اداروں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ کشمیر میں بھی الرٹ جاری جاری کیا گیا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ابھی وادی میں حالات قابو میں ہیں۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق جموں میں گذشتہ روز 199 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے توی دریا کے ساتھ ساتھ ندی نالوں اور نہروں کا پانی سڑکوں اور بستیوں میں داخل ہو گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلے سے کٹھوعہ۔ پٹھان کوٹ ہائی وے پر سحرکھور علاقے میں ایک طویل پُل ٹوٹ گیا جس سے آمدورفت متاثر ہوگئی ہے۔

    توی علاقے میں واقعہ ایک میڈیکل کالج کی عمارت کی پہلی منزل تک پانی چڑھ گیا ہے جس کے بعد درجنوں طلبا و طالبات کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    توی پُل کے قریب ایک مندر بھی سیلابی ریلے میں منہدم ہوا ہے۔

    جموں شہر کے بھوانی نگر، رُوپ نگر، جانی پور، شمبھو گیٹ، مُٹھی، بن تلاب، ٹھاٹھر نالہ اور کئی دیگر بستیوں میں لوگوں کو رافٹنگ کشتیوں میں گھروں سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

    واضح رہے توی دراصل دریائے چناب کا معاون دریا ہے جو جموں، بھدرواہ، ڈوڈہ اور اُدھمپور سے ہوتے ہوئے پاکستان کے ضلع سیالکوٹ کی طرف چناب میں بہتا ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جموں کے ہی کشتواڑ میں بادل پھٹنے سے جو طغیانی آئی تھی اُس میں ابھی تک حکومت نے 65 افراد کی ہلاکت اور 100 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

    انڈین وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے ایتوار کو جموں میں سیلاب کے متاثرین ملاقات کی۔

    پیر کو انھوں نے کشتواڑ روانگی سے قبل بتایا کہ طغیانی کی وجہ سے لاپتہ ہوئے 32 افراد کی تلاش جاری ہے جس کے لیے جموں کشمیر کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ وفاقی اہلکار بھی کام کر رہے ہیں۔

    دریں اثنا محکمہ فلڈ کنٹرول نے ایک بیان میں بدھ کے روز کہا کہ جہلم میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے تاہم حکام نے لوگوں سے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں

    ادھر جموں و کشمیر میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے کٹھوعہ میں سیلاب میں پھنسے 22 فوجیوں اور تین شہریوں کو بچا لیا گیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ لوگ سی آر پی ایف کیمپ کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے۔

    ایک فوجی افسر نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دیر رات ہمیں معلوم ہوا کہ پانی کی سطح بہت بڑھ گئی ہے۔ یہاں پل کو جوڑنے والا حصہ بھی بہہ گیا اور علاقہ پانی میں ڈوب گیا ہے۔ ہمیں اطلاع ملی کہ کچھ سی آر پی ایف جوان یہاں پھنسے ہوئے ہیں۔‘

    فوجی افسر کے مطابق اس کے بعد ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف اور فوج نے مل کر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    صبح ہوتے ہی فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کی کارروائیاں شروع کیں۔ فوج کے ہیلی کاپٹر نے سی آر پی ایف کے 22 جوانوں، ایک کتے اور تین شہریوں کو بحفاظت باہر نکالا۔

    اطلاعات کے مطابق جموں خطے میں بارش اور مٹی کے تودے گرنے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وشنو دیوی یاترا روک دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  5. پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے: پی ڈی ایم اے

    دریائے چناب، ستلج اور راوی میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجاب کی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات کے پیش نظر سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مزید امدادی سامان مہیا کر دیا گیا۔

    پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، چنیوٹ، نارووال، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، اوکاڑہ، ساہیوال، فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو اضافی سامان فراہم کیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ہر ضلع کو اضافی 175 ٹینٹ مہیا کر دیے ہیں۔

    عرفان علی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے پنجاب کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو سامان پہنچایا گیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق وزیر اعلی کی ہدایات کے عین مطابق تمام تر ریسکیو و ریلیف ایکوئپمنٹ اور ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال میں شہری احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔

    ریسکیو 1122 نے سیلابی علاقہ جات میں 233 مزید ریسکیو بوٹ بھجوا دی ہیں۔

    ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد کا کہنا ہے کہ 435 ریسکیو بوٹ پہلے ہی سیلابی علاقہ جات میں آپریشنل تھیں۔

    ترجمان کے مطابق اس وقت ٹوٹل 644 ریسکیو کشتیاں سیلابی علاقہ جات میں لوگوں کو ریسکیو کرنے مصروف ہیں۔ ان کے مطابق ریسکیو بوٹ، او بی ایم انجن، بوٹ آپریٹر اور تربیت یافتہ عملہ کے ہمراہ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

    ترجمان ریسکیو کا کہنا ہے کہ ’فوری ریسکیو سروسز کے لیے ریسکیو ہیلپ لائن 1122 ڈائل کریں اور اپنی لوکیشن بتائیں۔

  6. راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی صورتحال

    پنجاب کے دریائے راوی، چناب اور ستلج میں سیلاب سے متعلق تازہ ایمرجنسی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ مزید منتقلی کا عمل جاری ہے۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت ان تینوں دریاؤں میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

  7. قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی کے زیادہ بہاؤ کو بچانے کے لیے دھماکہ کیوں کیا گیا؟

    پی ڈی ایم اے پنجاب کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب ہے اور اس ہیڈ ورکس میں پانی کی آمد نو لاکھ 35 ہزار کیوسک ہے۔

    اتھارٹی کے مطابق ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر قادر آباد کے رائٹ مارجنل بند میں بریچنگ کر دی گئی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ قادر آباد ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت آٹھ لاکھ کیوسک کی ہے۔ ان کے مطابق آبپاشی سٹرکچر کو بچانے کے لیے بریچ ناگزیر تھی۔

    حکام کے مطابق ہیڈ قارد آباد میں پانی کا بہاو زیادہ تھا اس لیے اس کو بچانے کے لیے گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ نے ایک دھماکہ کیا ہے۔

    حکام کے مطابق ہیڈ قادر آباد کو بچانے کے لیے منڈی بہاؤالدین کی طرف سے بند کو توڑا گیا ہے۔ پنجاب انتظامیہ کی طرف سے قادر آباد سے لے کر پنڈی بھٹیاں کے چناب کنارے باسیوں سے جلد سے جلد انخلا کی التجا کی گئی ہے۔

  8. گرودوارہ کرتارپور صاحب میں پھنسے 100 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا, عمر دراز ننگیانہ، بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، لاہور

    دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب کے کمپاؤنڈ میں پھنسے 100 کے قریب افراد کو ریسکیو کر لیا ہے۔

    گردوارا کرتارپور میں سیلابی پانی داخل ہونے کی وجہ سے 18 مقامی یاتری سمیت 100 کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں جبکہ یہاں موجود سیلابی پانی کی سطح چھ فٹ تک بلند تھی۔

    کرتارپور انتظامیہ کے مطابق ریسکیو کیے گئے تمام افراد کو نزدیک موجود سڑک پر پہنچا دیا گیا ہے اور اب یہاں سے انھیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نارووال شہر پہنچایا جائے گا جہاں سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے سینٹر قائم کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل کرتارپور انتظامیہ کے عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ قریب واقع دریائے راوی میں پڑنے والے ایک شگاف کے باعث سیلاب کا پانی کرتارپور میں داخل ہو گیا تھا جو کہ چند مقامات پر چھ فٹ تک بلند ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق سیلابی صورتحال کے باعث 18 مقامی یاتریوں سمیت 100 کے قریب لوگ گردوارے میں پھنس گئے تھے۔

  9. پنجاب کے آٹھ اضلاع میں فوری امدادی اقدامات کے لیے فوج طلب

    وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر فوری امدادی اقدامات کے لیے فوج طلب کر لی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے حافظ آباد میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج طلب کر لی ہے۔ اس سے قبل لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ اور سرگودھا میں ضلعی انتظامیہ کی امداد کے لیے فوج طلب کی گئی تھی۔

    ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوج طلب کی گئی۔

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو، سول ڈیفنس اور پولیس کے ادارے پہلے ہی فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور اب تک پنجاب کے آٹھ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ نے فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست دی ہے۔

    حکام کے مطابق بروقت فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی امداد اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال، اوکاڑہ، سرگودھا اور حافظ آباد میں امدادی سرگرمیوں کے لیے فوج کو طلب کیا گیا ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق سیلابی علاقوں میں ضرورت کے مطابق آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

    حکام نے مزید بتایا کہ ’ان آٹھ اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے طے ہو رہی ہے حکومت پنجاب کے تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال کو 24/7 مانیٹر کر رہے ہیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدامات بروقت اٹھائے جا رہے ہیں۔‘

  10. راوی اور چناب میں سیلابی صورتحال نے تاحال کن کن علاقوں کو متاثر کیا ہے؟, احمد اعجاز، صحافی

    دریائے راوی میں جموں و کشمیر سے آنے والے چند نالوں کے پانی سے پاکستان کے ضلع نارووال کے درجنوں دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔

    دریائے راوی نارووال کی تحصیل شکرگڑھ کے گاؤں کوٹ نیناں کے مقام پر پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ دوسری طرف انڈیا سے ایک نالہ ’اوج‘ بھی آتا ہے جو اسی مقام پر دریائےِ راوی میں شامل ہوتا ہے۔

    مقامی افراد اور ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث نارووال کے لگ بھگ 35 سے 40 چھوٹے بڑے گاؤں زیرِ آب ہیں۔

    ضلع نارووال دو طرح سے سیلابی پانی سے متاثر ہو رہا ہے، ایک جانب تو دریائے راوی کے پانی سے اور دوسری جانب ان نالوں سے جو جموں و کشمیر سے آتے ہیں اور راوی میں ملتے ہیں۔

    نارووال سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی راحیل نے بتایا کہ راوی میں آنے والے سیلابی ریلے ہی کے باعث گرودوارہ کرتارپور صاحب کی عمارت کئی فٹ پانی میں ڈوب چکی ہے۔ جبکہ نارووال سے شکر گڑھ جانے والی سڑک کا بھی تین سے چار کلومیٹر تک کا حصہ سیلابی پانی میں ڈوب چکا ہے۔ جبکہ اس کے آس پاس کے دیہات مکمل زیرِ آب ہیں۔

    جموں و کشمیر سے آنے والے نالوں کی وجہ سے نارووال کی تحصیل ظفر وال میں درجنوں دیہات زیرِ آب ہیں۔ یہاں موجود ایک بڑا قصبہ ’کنجروڑ‘ جس کی آبادی بیس ہزار کے لگ بھگ ہے، کو اس وقت شدید سیلاب کا خطرہ ہے۔

    دوسری جانب نالہ ڈیک میں طغیانی کے باعث بھی ظفروال کی صورتحال مخدوش بن رہی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق نالہ ڈیک پر حفاظتی بند متعدد مقامات سے ٹوٹ چکے ہیں جبکہ ہنجلی کے مقام پر موجود پل بھی مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔

    نالہ ڈیک اس وقت سیالکوٹ کے بعض دیہی علاقوں کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ چونڈہ سے ظفر وال جانے والی سڑک بھی اسی نالے میں سیلابی صورتحال کے باعث بڑی حد تک متاثر ہوئی ہے۔

    دریائےِ راوی میں سیلابی صورتحال شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ کو بھی متاثر کر رہی ہے، جبکہ اسی دریا نے فیصل آباد کے علاقے تاندلیاوالہ اور ضلع ساہیوال کو بھی متاثر کیا ہے۔

    ننکانہ صاحب کے مقامی صحافی جاوید احمد کے مطابق روای کے سیلابی پانی سے ہیڑے، جٹاں داواڑہ، نواں کوٹ، خزرہ آباد اور لالو آنہ کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ اسی طرح شیخ داٹول، گجراں دا ٹھٹہ، کھوہ صادق، ڈیرہ حاکم، ڈیری مہر اشرف کی آبادیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

    اوکاڑہ کا موضع جندراکہ، جس کی آبادی 30 ہزار سے زائد ہے، جہیڈو اور جھنڈومنج میں بھی دریائے روای سے آنے والا سیلابی پانی داخل ہو چکا ہے۔

    فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کا بھی دریائے راوی کی طغیانی سے متاثر ہونے کا امکان ہے اور مقامی حکام کے مطابق اس کے متعدد دیہات زیر آب آ سکتے ہیں۔

    مقامی صحافی محمد احسان کے مطابق مقامی حکام بتا رہے ہیں کہ راوی کے کنارے پر آباد سو سے زائد چھوٹی بڑی آبادیوں بشمول بستی جموں ڈولوں، جلی تریانہ، جلی فتیانہ، ماڑی پتن، شیرازہ، ٹھٹھہ ڈوکاں وغیرہ کے سیلاب سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    دریائے چناب

    دریائے چناب سے متاثر ہونے والے اضلاع میں سیالکوٹ، منڈی بہاوالدین، سرگودھا، گجرات، وزیر آباد، حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ شامل ہیں۔ ان اضلاع کی حد تک چناب کے پانی کی شدت تھوڑی زیادہ رہتی ہے۔

    وزیر آباد کے مقامی صحافی عقیل لودھی کے مطابق چناب کا پانی فی الوقت وزیر آباد شہر کو متاثر کر رہا ہے، اس کے علاقہ سوہدرہ کا علاقہ بھی شدید متاثر ہے۔

    ڈسٹرکٹ سیالکوٹ کے انتہائی شمال میں واقع علاقہ بجوات جو دریائے چناب اور دریائے توی کے وسط میں واقع ہے، سیلاب سے شدید متاثر ہے۔ اس میں لگ بھگ ستر کے قریب دیہات آتے ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق سیالکوٹ شہر کو ان دیہاتوں سے ملانے والا راستہ مکمل طور پر زیر آب ہے۔

    منڈی بہاؤ الدین سے تعلق رکھنے والے مقامی زمیندار و کاروباری شخصیت فرحان وڑائچ کے مطابق منڈی بہاؤ الدین کے علاقے قادر آباد، فرخ پور بھٹیاں، کالاشادیاں، باری، رنڈیالی، ملہیاں، جوکالیاں، کھسرلونگ، سعداللہ پور، کامونکی، چاڑکی، بھابڑا، لاکھا کدھر متاثرہو رہے ہیں۔

  11. ’مودی کو بتا دیا تھا کہ اتنا ٹیرف عائد کروں گا کہ اُن کا سر چکرا جائے گا‘، ٹرمپ کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے محصولات عائد کرنے اور تجارتی معاہدے منسوخ کرنے کی دھمکی دے کر پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی جنگ روکوائی تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران انھوں نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو امریکا اتنے زیادہ محصولات عائد کرے گا کہ آپ پریشان ہو جائیں گے۔

    امریکہ کی جانب سے انڈیا پر 50 فیصد محصولات کا اطلاق 27 اگست سے ہو گیا ہے۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنی کابینہ کے اجلاس میں ٹرمپ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات شیئر کیں اور ایک مرتبہ پھر انڈیا اور پاکستان کے درمیان تنازع کو ختم کروانے کا کریڈٹ لیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں ایک شاندار شخص انڈیا کے وزیر اعظم مودی سے بات کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ پاکستان اور آپ کے درمیان کیا چل رہا ہے؟ بہت زیادہ نفرت ہے۔ یہ سب ایک طویل عرصے سے اور مختلف ناموں سے چل رہا ہے۔‘

    اس کے بعد میں نے پاکستان کے ساتھ تجارت کی بات کی۔ میں نے کہا کہ ’آپ کے اور انڈیا کے درمیان کیا چل رہا ہے؟

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت نے پاکستان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’میں نے کہا کیا ہو رہا ہے؟ میں کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔ آپ لوگ (بھارت اور پاکستان) ایٹمی جنگ کرنے جا رہے ہیں۔ آپ لوگ ایٹمی جنگ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘

    ’میں نے کہا، کل مجھے دوبارہ فون کریں، لیکن یاد رکھیں ہم آپ لوگوں کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ نہیں کریں گے۔‘

    ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس بات چیت کے پانچ گھنٹے کے اندر ہی دونوں فریق پیچھے ہٹ گئے۔

    انھوں نے کہا کہ اب یہ خطرہ ٹل گیا ہے اور اگر ایسا دوبارہ ہوا تو تجارتی معاہدہ دوبارہ رک جائے گا۔

    ٹرمپ نے انڈیا پر روس سے بھاری مقدار میں تیل خریدنے اور اسے دوسرے ممالک کو فروخت کرکے منافع کمانے کا الزام عائد کیا تھا۔ لیکن ہندوستان نے امریکہ اور یورپی یونین کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ روس سے خام تیل خریدنے پر ہندوستان کو نشانہ بنانا 'غیر منصفانہ اور غیر منطقی' ہے۔

    بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ اور یورپ خود روس کے ساتھ تجارت کر رہے ہیں اور بھارت کے ساتھ دوہرا معیار اپنایا جا رہا ہے۔

  12. پنجاب کے تین دریاؤں میں ایمرجنسی الرٹ جاری

    مُلک میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کی جانب سے قائم کردہ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے صوبہ پنجاب کے تین دریاؤں چناب، راوی، اور ستلج کے حوالے سے ایک ایمرجنسی الرٹ جاری کیا ہے۔

    نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر کا کہنا ہے کہ اس وقت ان تینوں دریاؤں میں غیر معمولی سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    سینٹر کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ پر 7 لاکھ 69 ہزار 481 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا موجود ہے جس کی کی وجہ سے دریا کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر 7 لاکھ 5 ہزار 225 کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا موجود تاہم اس کے بہاؤ میں کمی ہو رہی ہے۔

    این ڈی ایم کی جانب سے جاری تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ دریائےِ راوی میں جسر کے مقام پر 2 لاکھ 2 ہزار 200 کیوسک کا اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے جو 2 لاکھ 29 ہزار 700 کیوسک پر پہنچ سکتا ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر 72900 کیوسک کابہاؤ جاری ہے، تاہم اس سیلابی ریلے کی وجہ سے شاہدرہ، پارک ویو اور موٹروے ٹو کے نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے۔

    راوی اور چناب کے ساتھ ساتھ دریائےِ ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر 2 لاکھ سے زیادہ کیوسک کا انتہائی اونچے درجے کا سیلابی ریلا برقرار ہے جس کی وجہ سے سلیمانکی کے مقام پر حالیہ بہاؤ 1 لاکھ 355 کیوسک سیلابی ریلا گُزر رہا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں ان تین دریاؤں کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتِ حال کے پیشِ نظر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر این ڈی ایم اے تمام ریسکیو و ریلیف سرگرمیاں کی نگرانی کر رہا ہے۔ نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر 24 گھنٹے کے لئے مکمل فعال ہے اور این ڈی ایم اے سول و عسکری اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دریاؤں کے کناروں اور واٹر ویز پر رہائش پذیر افراد فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر فوری عمل کریں اور ہنگامی حالات میں امدادی ٹیموں سے رابطہ کریں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں۔ ہنگامی کٹ (پانی، خوراک، ادویات) تیار رکھیں اور اہم دستاویزات محفوظ کریں۔

  13. سیلابی ریلا آج رات لاہور کے نزدیک سے گزرے گا: ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے سیلابی ریلا آج رات لاہور کے نزدیک سے گزرے گا۔

    بدھ کے روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ 40 ہزار کیوسک کے قریب ہے جو آج رات 10 سے 12 کے درمیان لاہور کے نزدیک سے شاہدرہ کے مقام سے گزرے گا اور کل صبح 9 بجے یہ ہیڈ بلوکی کے مقام سے گزرے گا۔

    عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ شاہدرہ سے ڈھائی لاکھ کیوسک پانی آسانی سے گزر سکتا ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے شاہدرہ سے تقریباً ایک لاکھ ا90 ہزر کیوسک پانی گزرے گا۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً 38 سے 39 سال بعد اتنا پانی یہاں سے گزرے گا۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ گذشتہ روز ریکارڈ بارشوں کے باعث، چناب میں پانی کا بہاؤ محض چند گھنٹوں کے دوران 80، 90 ہزار کیوسک سے 9 لاکھ تک پہنچ گیا۔

    تاہم، ان کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی ہیڈ مرالہ سے گزر گیا اور اس سے ہیڈ ورکس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ ہیڈ مرالہ پر اس وقت پانی کا بہاؤ 675000 کیوسک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت پانی خانکی کے مقام سے گزر رہا ہے اور اس سے سٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خانکی ہیڈ ورکس کی کپیسیٹی کو کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگلے چند گھنٹوں میں یہ پانی آسانی سے یہاں سے بھی گزر جائے گا۔

    ’ہمیں امید ہے چناب میں پانی دریا [کے اندر] سے ہی ہوتا ہوا پنج نتھ کے مقام پر باقی دریاؤں سے جا ملے گا۔‘

    عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں پچھلے پانچ سے 10 دن سے اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ گنڈا سنگھ سے پچھلے 6 سے 8 گھنٹے سے مسلسل دو لاکھ 45 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے لیکن اس میں اضافہ نہیں ہو رہا۔ ’اپر کیچمنٹ میں بارشیں رکی ہیں جس سے ہمیں توقع ہے کہ پانی کے بہاؤ میں کمی دیکھنے میں آئے گی۔‘

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ہم نے صورتحال کے پیشِ نظر، تینوں دریاؤں کے اطراف سے انخلا کو یقینی بنایا۔ انھوں نے بتایا کہ دریائے سندھ اور ستلج کے اطراف سے ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا تھا کہ لیکن گذشتہ روز راوی اور چناب میں پانی کے بہاؤ میں محض چند گھنٹوں کے دوران ہونے والے اچانک اضافہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا۔

    انھوں نے بتایا کہ راتوں رات، ان دریاؤں کے اطراف سے لوگوں کو نکالا گیا اور اس کے لیے فوج کی مدد بھی لی گئی۔

    ان کا کہنا تھا پانی دریا کے ساتھ موجود کچے کے علاقے سے باہر نہیں آیا۔ ’اب تک تمام دریاوں کے پشتے اب تک سلامت ہیں، کہیں کوئی بریچ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ اتنے بڑے سیلاب کے باوجود پنجاب میں بہت زیادہ جانی نقصان اتنا نہیں ہوا ہے۔

  14. سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ضلع نارووال میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع نارروال میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے آج بروز بدھ 27 اگست کو بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا کی جانب سے جاری ہونے والے سرکاری حکم نامے کے مطابق علاقے کی متعدد اہم رابطہ سڑکوں کے زیرِاب آجانے کی وجہ سے سفری سہولیات بُری طرح سے متاثر ہوئی ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موجود لوگوں کو جلد باحفاظت مقامات اور فلڈ ریلیف کیمپس میں منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

  15. گرودوارہ کرتارپور صاحب میں سیلابی پانی داخل، 18 یاتری سمیت 100 کے قریب افراد محصور

    دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔

    کرتار پور پراجیکٹ کے ڈپٹی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ گردوارا کرتارپور میں سیلابی پانی داخل ہونے کی وجہ سے 18 مقامی یاتری سمیت 100 کے قریب افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

    بی بی سی اردو کے نامہ نگار عمر دراز ننگیانہ کے مطابق، ڈپٹی سیکرٹری کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی کرتارپور کی تصاویر ان کے عملے نے ہی بھیجی ہیں۔

    انھوں اس بات کی تصدیق کی کہ تصاویر میں دکھائی دینے والا پانی بارش کا نہیں بلکہ سیلاب کا ہے۔

    کرتارپور انتظامیہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ نزدیک ہی دریائے راوی میں شگاف پڑا ہے جس کے نتیجے میں سیلاب کا پانی کرتارپور میں داخل ہوا ہے جو کہ نو سے دس فٹ تک بلند ہے۔

    ڈپٹی سیکرٹری کے مطابق، اس وقت 100 کے قریب لوگ گردوارے میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں 18 مقامی یاتری اور ان کے عملے کے افراد علاوہ مذہبی لوگ بھی شامل ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک ریسکیو یا ایموجنسی سروسز کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔

    ڈپٹی سیکریٹری کا کہنا ہے کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کوئی ہیلی کاپٹر آئے اور وہاں پھنسے افراد کو ایئر لفٹ کر لیا جائے۔

    اس سے قبل مقامی صحافی میاں شاہد اقبال نے بی بی سی کو بتایا تھا سیلابی صورتحال کی وجہ سے گرودوارہ کرتارپور صاحب کے قریب بند کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے دربار میں بھی پانی داخل ہو گیا ہے۔

    میاں شاہد کے مطابق شکر گڑھ کو ضلع نارووال سے ملانے والی قومی شاہراہ زیرِآب آچُکی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نارووال کے مطابق اب تک 250 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔

    شکرگڑھ دریائے روای نالہ اوج اور جسٹر کے مقام پر پانی کا بہاؤ تیز ہونے سے آبادیوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

    پانی نارووال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسٹر بستر کا بند ٹوٹ جانے سے گرودوارہ کرتارپور صاحب میں یاتریوں کو ریسکیو کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، سرحدی علاقوں میں پاکستان کی مسلح افواج اور ریسکیو کا آپریشن جاری ہے۔

    اب تک مال مویشیوں سمیت 409 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ آپریشن جاری ہے اب 21 مقامات پر آپریشن ہوا ہے اور کئی مقامات پر آپریشن میں دشواری پیش آرہی ہیں۔ جھن مان سنگھ گاؤں کے اطراف پانی جمع ہونے سے گاؤں کے لوگوں گھروں میں محصور ہو رہا گے ہیں۔

    کمشنر گوجرانوالہ نوید حیدر شیرازی نے میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے امدادی ٹیمیں سیالکوٹ اور نارووال کے لیے روانہ ہو گئی ہیں اور سیالکوٹ سے ساڑھے چار ہزار افراد کو جبکہ نارووال سے دو سو افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

    ،کمشنر نوید حیدر شیرازی کے مطابق وزیرآباد کے چار دیہات سے مکمل آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ گجرات سے پندرہ ہزار کے قریب افراد کو محفوط مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اُن کا مزید کہنا ہے کہ ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں، ریلیف کیمپ فعال ہیں، کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کا سٹاک موجود ہے۔

  16. ضلع نارووال میں ’ہنجلی والا پل‘ سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے تحصیل ظفروال کا تحصیل پسرور سے رابطہ منقطع

    صوبہ پنجاب کی تحصیل ظفروال کے نالہ ڈیک پر موجود ’ہنجلی والا پل‘ سیلاب کے پانی میں بہہ گیا ہے اور اس کی وجہ سے تحصیل ظفروال کا تحصیل پسرور سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا کی جانب سے جاری ایک ویڈیو بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ دریاےِ راوی میں کوٹ نینا کو شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    پاکستان میں محکمہ موسمیات کی جانب سے بدھ کی صبح جارے ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق سیالکوٹ، نارووال اور گردونواح میں بارش کا موجودہ سلسلہ آئندہ ایک سے تین گھنٹوں تک مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔

    جن علاقوں میں مزید بارش کا امکان ہے ان میں سیالکوٹ اور نارووال کے علاوہ جہلم، منڈی بہاؤالدین، راولپنڈی، چکوال، مری، گلیات، اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کوٹلی، بھمبر، میر پور، باغ، مظفرآباد، راولاکوٹ پونچھ، ہٹیاں اور نیلم شامل ہیں۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق سیالکوٹ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 363 مل میٹر بارش ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ

    محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ بارشوں کے سلسلے اور سیلابی صورتحال کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کریں ندی نالوں اور دریاؤں کے قریب جانے سے گُریز کریں۔

    ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا کا کہنا تھا کہ دریائے راوی کے گردو نواح میں موجود دیہاتوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان دیہات میں کوٹ نینا، اخلاص پور، کرتارپور اور اس کے آس پاس کے دیگر دیہی علاقوں جن میں دودے، ککّے، جسر اور ان کے علاوہ بدوملی کے قریب کے دہی علاقے جن میں داؤد، بھینیہ، اور دیگر شامل ہیں، ان علاقوں کے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی جانب سے لگائے جانے والے فلڈ ریلیف کیمپس میں منتقل ہو جائیں۔‘

    ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا کا کہنا تھا کہ ان کیمپس میں آنے والوں کا صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بھرپور خیال رکھا جائے گا۔

    وسطی پنجاب کے ضلع وزیر آباد میں ٹھٹھہ فقیر اللہ کے قریب دریائے چناب کے پانی میں پھنسے 14 متاثرین کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے بحفاظت نکال لیا اور محفوظ مقام پر منتقل کردیا ریسکیو 1122 کی ٹیمیں اس وقت سیالکوٹ، نارووال، گجرات، وزیر آباد، گوجرانوالہ، حافظ آباد، منڈی بہائوالدین کے اضلاع میں دریا سے ملحقہ علاقوں میں آپریشن کررہی ہیں اور سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    صوبہ پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں کے بہاو میں تاریخی اضافہ ہوا ہے۔ دریائے چناب، راوی، ستلج اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہے۔‘

    ڈی جی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر انتہائی زیادہ اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے۔ دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 لاکھ 69 ہزار جبکہ اخراج 7 لاکھ 62 ہزار کیوسک ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ کے علاوہ خانکی کے مقام پر اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے جہاں پانی کا بہاو 7 لاکھ 5 ہزار کیوسک ہے۔‘

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 29ہزار کیوسک ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کا بہاؤ 72 ہزار کیوسک ہے۔ تاہم بلوکی ہیڈورکس پر درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال اور پانی کی آمد 79 ہزار جبکہ اخراج 67ہزار کیوسک ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق سلیمانکی کے مقام پر پانی کا بہاو 1 لاکھ کیوسک ہے۔ تاہم ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کی اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات کی گئی ہے۔

  17. پنجاب میں بہنے والے دریا مزید بپھر گئے: سیالکوٹ، ناروال اور لاہور سمیت صوبے کے چھ اضلاع میں فوج طلب

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے چھ اضلاع میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے چھ اضلاع میں فوج کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔

    صوبہ پنجاب کے جن چھ اضلاع میں فوج کی فوری تعیناتی کی درخواست کی گئی ہے اُن میں لاہور، قصور، سیالکوٹ، فیصل آباد، نارووال اور اوکاڑہ شامل ہیں۔

    ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ کی امداد کے لیے فوج طلب کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ، صوبائی سطح پر قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور پولیس پہلے ہی فرنٹ لائن پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

    ترجمان محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب ان چھ اضلاع میں فوجی دستوں کی تعداد ضلعی انتظامیہ کی مشاورت سے طے ہو گی۔ تاہم سیلابی علاقوں میں ضرورت کے مطابق آرمی ایوی ایشن اور دیگر وسائل بھی فراہم کیے جائیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پنجاب کے تمام متعلقہ ادارے سیلابی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات بروقت اٹھائے جا رہے ہیں۔

  18. دریائے چناب میں خطرناک سیلابی صورتحال، شہریوں کو فوری نقل مکانی کی ہدایت

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے اور ہیڈ مرالہ پر یہ سطح 7.7 لاکھ کیوسک تک پہنچ گئی ہے جو انتہائی خطرناک سیلابی صورتحال ہے۔

    اس کے علاوہ خانکی میں بہاؤ 4.5 لاکھ کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے ہیڈ مرالہ، خانکی اور ملحقہ نچلے علاقوں میں رہائشیوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

    ادارے نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں، امدادی ٹیموں سے رابطے میں رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

  19. انڈین ڈیموں سے پانی کے اخراج کے بعد این ڈی ایم اے کی راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی صورتحال کی وارننگ

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    این ای او سی کے مطابق:

    • انڈین ڈیم تھین اپنی گنجائش کے قریب بھر چکا ہے اور سپل ویز کھلنے کے بعد 77000 کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے۔ انڈیا کے علاقوں میں جاری بارشوں اور ڈیم سے پانی کے اخراج کے باعث دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔
    • دریائے راوی کے بالائی علاقوں میں کوٹ نینا کے مقام پر موجودہ بہاؤ 1,90,000 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تقریباً 12 گھنٹوں میں یہ پانی جسر پہنچے گا جہاں بہاؤ 1,80,000 کیوسک تک متوقع ہے۔
    • پیر پنجال رینج کے نالوں بشمول بین، بسنتر اور ڈیک میں بھی اونچے درجے کے بہاؤ اور سیلابی صورتحال کا امکان ہے۔ ممکنہ بارشوں اور ڈیم سے اخراج کی صورت میں دریائے راوی کے ملحقہ علاقوں میں سیلاب میں شدت آنے کا خدشہ ہے۔
    • دریائے ستلج کے بالائی علاقوں میں انڈین ڈیموں پونگ اور بھاکھڑا سے بھی پانی کا اخراج جاری ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر موجودہ بہاؤ 1,88,810 کیوسک ہے جو اگلے 12 گھنٹوں میں 2,20,000 کیوسک تک پہنچ سکتا ہے اور شدید سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
    • دریائے چناب کے بالائی علاقوں جموں توی اور منور توی سے بھی اونچے درجے کا بہاؤ پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔ مرالہ ہیڈ ورکس پر موجودہ بہاؤ چار لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے اور رات 11 بجے تک 6 لاکھ کیوسک تک پہنچ سکتا ہے جو دریائے چناب میں شدید سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پیشگی الرٹ پر پی ڈی ایم اے پنجاب ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلا کے اقدامات کر رہا ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق، تربیلا ڈیم کے سپل ویز آج رات 2 بجے آپریشنل کیے جائیں گے۔ ڈیم سے مجموعی اخراج 2,50,000 کیوسک تک پہنچ سکتا ہے اور سیلابی سطح نچلے درجے کے سیلاب تک رہنے کی توقع ہے۔

    شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آبی گزرگاہوں، دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

    این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت بھی جاری کر دی ہے۔

    ادھر اسلام آباد میں منگل کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں سیلابی صورتحال اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں دریائے ستلج، راوی اور چناب کے اطراف کے متاثرہ اضلاع میں ریسکیو آپریشنز کی رفتار بڑھانے، پھنسے افراد کے انخلا، خوراک، ادویات اور خیموں کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئیں۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ:

    • ستلج کے سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں میں اب تک کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور ایک لاکھ 74 ہزار 74 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
    • نارووال میں لہری بند کے علاقے، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ مقامات پر ریسکیو اور بحالی کے کام جاری ہیں۔
    • گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی، جسٹر اور مرالہ کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے جبکہ نالہ ڈیک میں بھی شدید سیلابی صورتحال ہے۔
    • اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں لاہور، گوجرانوالا، گجرات، راولپنڈی ڈویژنز، آزاد جموں و کشمیر کے اضلاع اور گلگت بلتستان کے متعدد مقامات پر شدید بارشوں کی توقع ہے۔
  20. گزشتہ روز کی چند اہم خبریں

    آئیے آج آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

    • اسرائیلی فوج نے گذشتہ روز خان یونس کے ناصر ہسپتال پر حملے کی ’ابتدائی انکوائری‘ رپورٹ جاری کی گئی۔ اسرائیل ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا تھا کہ اس کے فوجی اہلکاروں نے ’ناصر ہسپتال کے علاقے میں حماس کی جانب سے نصب کیے گئے ایک کیمرے کو شناخت کیا تھا۔‘ آئی ڈی ایف کے مطابق یہ کیمرا ’فوجی اہلکاروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔‘
    • منگل کے روز عمران خان کی بہنوں نے منگل کے روز سنٹرل جیل اڈیالہ میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارٹی کو ہدایات دی ہیں کہ ’پارلیمنٹ کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہو جائیں اور ضمنی انتخابات کے حوالے سے بیرسٹر گوہر خان اور سلمان اکرم راجہ کو ہدایات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ضمنی انتخابات میں حصہ لے کر ان انتخابات کو قانونی جواز فراہم نہیں کرنا چاہیے۔‘
    • جنوبی غزہ کے علاقے رفح میں گذشتہ برس قتل کیے جانے والے اسرائیلی یرغمالی کارمیل گیٹ کے کزن گِل ڈکمین کا کہنا ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے میں اپنا پیغام پہنچانے کے لیے شامل ہو رہے ہیں کہ ’بس اب بہت ہو گیا ہے۔‘ گِل کے کزن کارمیل 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد 11 مہینوں تک مسلح تنظیم کی حراست میں رہے تھے۔ گذشتہ برس ستمبر میں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ کارمیل اور پانچ مزید افراد کی لاشیں رفح میں ایک زیرِ زمین سُرنگ سے ملی ہیں۔
    • قطر کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مجوزہ معاہدہ ’میز پر موجود ہے‘ تاہم اس کا جواب دینا۔۔۔ یا نہ دینا اسرائیل پر منحصر ہے۔‘ منگل کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ دوحہ سے مذاکرات کو کہیں اور منتقل کرنے کی باتیں اسرائیل کے ’پینترے ہیں جس کا مقصد معاہدے میں تاخیر کرنا ہے۔‘