گجرانوالہ ڈویژن میں سیلاب کے باعث سات افراد ہلاک، سیالکوٹ ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل, شہزاد ملک اور احتشام شامی، بی بی سی اُردو
پنجاب میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث گجرانوالہ ڈویژن کے بیشتر اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں اور کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق اب تک اس ڈویژن میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین لاپتہ ہیں۔
گوجرانوالہ ڈویژن نارروال، سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات اور منڈی بہاؤ الدین کے اضلاع پر مشتمل ہیں۔ اس ڈویژن کے تین اضلاع بشمول سیالکوٹ، نارووال اور حافظ آباد سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان تینوں اضلاع کی درجنوں تحصیلیں اس وقت زیر آب ہیں اور یہاں سے ہزاروں متاثرہ افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ علاقوں تک پہنچایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان متاثرہ اضلاع میں ریسکیو کی کاررائیاں بدستور جاری ہیں اور آفات سے نمٹنے کے ادارے چوکنے ہیں۔
کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شیرازی کے آفس سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گوجرانوالہ ڈویژن میں اب تک سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو سکی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ کے علاقے سمبٹریال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ پانی میں بہہ جانے والے دو افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ تین کی تلاش بدستور جاری ہے۔
کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق اسی طرح گجرات میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دو لاپتہ ہیں جبکہ نارووال میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔
کمشنر آفس کے مطابق گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں بھی سیلاب کے باعث ایک، ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔
سیالکوٹ ایئرپورٹ پر فلائیٹ آپریشنز بند
دوسری جانب سیالکوٹ میں سیلابی پانی کے باعث حالات بدستور مخدوش ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان نے بی بی سی کے عثمان زاہد کو بتایا کہ سیلابی پانی کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ کا رن وے زیر آب ہے جس کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ فلائیٹ آپریشن کے لیے دستیاب نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق آج (28 اگست) صبح دس بجے سے رات دس تک سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پروازیں معطل رہیں گی۔
دوسری جانب ترجمان سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مطابق انتظامیہ سیلابی پانی کے رن وے سے بروقت اخراج کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور تمام تر حالات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیلابی ریلا ایئرپورٹ کی جنوبی حصے کی جانب حفاظتی بند عبور کرتا ہوا ایئرپورٹ میں داخل ہوا۔
نالہ پلکھو میں طغیانی کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی سیکشن پر آپریشن بدستور معطل
اسی طرح دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب اور نالہ پلکھو میں طغیانی کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی ریلوے سیکشن پر ریلوے آپریشنز معطل ہیں۔
لالہ موسی سے مسافر ٹرینوں کو متبادل راستے سے لاہور اور پھر آگے خانیوال، حیدر آباد اور کراچی آمد و رفت کےلیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بدھ کے روز سے معطل کیا جانے والا ریلوے آپریشن تاحال بحال نہ ہو سکا ہے۔ راولپنڈی سے لاہور اور کراچی جانے والی مسافر ٹرینیں لالہ موسی، ملکوال، سرگودھا، چک جھمرہ، فیصل آباد وے یا چک جھمرہ سے شیخوپورہ اور شاہدرہ سے لاہور پہنچ رہی ہیں اور لاہور سے راولپنڈی کے لیے یہی روٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے انجیینئرنگ ٹیم سیلابی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور جونہی پانی کی سطح نارمل ہو گی تو پرانے روٹ کو ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
قادر آباد بیراج محفوظ مگر درجنوں دیہات زیر آب
دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد بیراج کو محفوظ رکھنے کے لیے گذشتہ روز حفاظتی بند کو توڑا گیا تھا جس کے باعث گوجرانوالہ ڈویژن کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ ریسکیو کیے گئے ہزاروں افراد اور اُن کے مویشی کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔
بیشتر متاثرہ قصبوں اور دیہات میں بجلی، پینے کے پانی اور موبائل فون کی سروسز معطل ہیں۔
اس صورتحال کے باعث گوجرانوالہ ڈویژن کے متاثرہ اضلاع میں منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، وزیر آباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔