آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

سیلابی ریلوں کی آمد کے باعث چناب اور راوی دریاؤں کے بہاؤ میں اضافہ، ملحقہ علاقوں میں انخلا جاری

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ دنوں کے لیے دریائے چناب اور راوی میں سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری کر دیا ہے۔ لاہور کے نزدیک شاہدرہ کے علاقے سے بھی چند گھنٹوں میں پانی کا بڑا ریلا گزرنے کی توقع ہے۔

خلاصہ

  • حکومت پنجاب کے مطابق سیلابی صورت حال کے پیش نظر اگلے چوبیس گھنٹے قصور، لاہور اور ساہیوال کے لیے اہم ہی جبکہ اگے چند گھنٹوں میں سیلابی ریلا چینوٹ اور جھنگ کو متاثر کر سکتا ہے۔
  • حکومت پنجاب نے سیلابی ریلوں کے باعث صوبے کے مختلف علاقوں میں 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے
  • سیلاب اور بارشوں کے باعث سیالکوٹ میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے بند ہیں
  • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے

لائیو کوریج

  1. گجرانوالہ ڈویژن میں سیلاب کے باعث سات افراد ہلاک، سیالکوٹ ایئرپورٹ پر آپریشنز معطل, شہزاد ملک اور احتشام شامی، بی بی سی اُردو

    پنجاب میں آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث گجرانوالہ ڈویژن کے بیشتر اضلاع سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں اور کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق اب تک اس ڈویژن میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین لاپتہ ہیں۔

    گوجرانوالہ ڈویژن نارروال، سیالکوٹ، حافظ آباد، گوجرانوالہ، گجرات اور منڈی بہاؤ الدین کے اضلاع پر مشتمل ہیں۔ اس ڈویژن کے تین اضلاع بشمول سیالکوٹ، نارووال اور حافظ آباد سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ان تینوں اضلاع کی درجنوں تحصیلیں اس وقت زیر آب ہیں اور یہاں سے ہزاروں متاثرہ افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ علاقوں تک پہنچایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان متاثرہ اضلاع میں ریسکیو کی کاررائیاں بدستور جاری ہیں اور آفات سے نمٹنے کے ادارے چوکنے ہیں۔

    کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن نوید حیدر شیرازی کے آفس سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گوجرانوالہ ڈویژن میں اب تک سات افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو سکی ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سیالکوٹ کے علاقے سمبٹریال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ پانی میں بہہ جانے والے دو افراد کی لاشیں برآمد ہو چکی ہیں جبکہ تین کی تلاش بدستور جاری ہے۔

    کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق اسی طرح گجرات میں دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ دو لاپتہ ہیں جبکہ نارووال میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

    کمشنر آفس کے مطابق گوجرانوالہ اور حافظ آباد میں بھی سیلاب کے باعث ایک، ایک شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

    سیالکوٹ ایئرپورٹ پر فلائیٹ آپریشنز بند

    دوسری جانب سیالکوٹ میں سیلابی پانی کے باعث حالات بدستور مخدوش ہیں۔ پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان نے بی بی سی کے عثمان زاہد کو بتایا کہ سیلابی پانی کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ کا رن وے زیر آب ہے جس کے باعث سیالکوٹ ایئرپورٹ فلائیٹ آپریشن کے لیے دستیاب نہیں ہے۔

    ترجمان کے مطابق آج (28 اگست) صبح دس بجے سے رات دس تک سیالکوٹ ایئرپورٹ پر پروازیں معطل رہیں گی۔

    دوسری جانب ترجمان سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے مطابق انتظامیہ سیلابی پانی کے رن وے سے بروقت اخراج کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور تمام تر حالات کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ سیلابی ریلا ایئرپورٹ کی جنوبی حصے کی جانب حفاظتی بند عبور کرتا ہوا ایئرپورٹ میں داخل ہوا۔

    نالہ پلکھو میں طغیانی کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی سیکشن پر آپریشن بدستور معطل

    اسی طرح دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب اور نالہ پلکھو میں طغیانی کے پیش نظر لاہور، راولپنڈی ریلوے سیکشن پر ریلوے آپریشنز معطل ہیں۔

    لالہ موسی سے مسافر ٹرینوں کو متبادل راستے سے لاہور اور پھر آگے خانیوال، حیدر آباد اور کراچی آمد و رفت کےلیے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بدھ کے روز سے معطل کیا جانے والا ریلوے آپریشن تاحال بحال نہ ہو سکا ہے۔ راولپنڈی سے لاہور اور کراچی جانے والی مسافر ٹرینیں لالہ موسی، ملکوال، سرگودھا، چک جھمرہ، فیصل آباد وے یا چک جھمرہ سے شیخوپورہ اور شاہدرہ سے لاہور پہنچ رہی ہیں اور لاہور سے راولپنڈی کے لیے یہی روٹ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ریلوے حکام کا کہنا ہے انجیینئرنگ ٹیم سیلابی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور جونہی پانی کی سطح نارمل ہو گی تو پرانے روٹ کو ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    قادر آباد بیراج محفوظ مگر درجنوں دیہات زیر آب

    دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد بیراج کو محفوظ رکھنے کے لیے گذشتہ روز حفاظتی بند کو توڑا گیا تھا جس کے باعث گوجرانوالہ ڈویژن کے درجنوں دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔ ریسکیو کیے گئے ہزاروں افراد اور اُن کے مویشی کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔

    بیشتر متاثرہ قصبوں اور دیہات میں بجلی، پینے کے پانی اور موبائل فون کی سروسز معطل ہیں۔

    اس صورتحال کے باعث گوجرانوالہ ڈویژن کے متاثرہ اضلاع میں منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، وزیر آباد اور گوجرانوالہ شامل ہیں۔

  2. فیصل آباد: دینی مدرسے میں زیر تعلیم نو سالہ بچے کا مبینہ ریپ کرنے کے الزام میں قاری گرفتار, احتشام شامی، صحافی

    فیصل آباد پولیس نے ایک مقامی دینی مدرسے میں زیر تعلیم نو سالہ بچے کے مبینہ ریپ کے الزام میں مدرسے کے معلم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    متاثرہ بچے کے والد کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق اُنھوں نے اپنے بیٹے کو دینی تعلیم کے حصول کی غرض سے مدرسے میں داخل کروایا تھا تاہم 26 اگست کو اُن کا نو سالہ بیٹا روتا ہوا گھر واپس آیا اور بتایا کہ مدرسے کے قاری نے گذشتہ شب مدرسے کے کمرہ لائبریری میں لے جا کر اسے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا۔

    والد نے پولیس کو مزید بتایا کہ وہ محنت مزدوری کرتے ہیں اور بچے کی شکایت کے بعد انھوں نے مدرسہ انتظامیہ سے رابطہ کیا جنھوں نے انھیں اس ضمن میں قانونی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی۔

    والد کی درخواست پر ملزم کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا ہے۔

  3. پی ڈی ایم اے کی پنجاب میں سیلاب سے چھ ہلاکتوں کی تصدیق، ریسکیو پنجاب کا 51 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کرنے کا دعوی

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سیلاب سے اب تک صوبے بھر میں چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ان کے اعداد و شمار کے مطابق، سیلاب کے باعث اب تک پنجاب بھر میں سیلاب سے متعلقہ واقعات میں چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب ریسکیو پنجاب کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک دریائے سندھ، چناب، راوی، ستلج اور جہلم کے ملحقہ علاقوں سے 51 ہزار سے زائد لوگوں کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    ریسکیو پنجاب کے ترجمان فاروق احمد کا کہنا ہے کہ پنجاب بھر میں سیلاب سے متاثرہ علاقو ں میں 669 ریسکیو بوٹ کے ساتھ فلڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ آج صبح سے اب تک 442 لوگوں کو سیلابی علاقوں سے ریسکیو کیا جا چکا ہے۔

    انھوں نے لوگوں سے درخواست کی کہ فوری ریسکیو سروسز کے لیے ہیلپ لائین 1122 ڈائل کریں اور اپنی لوکیشن ضرور بتائیں۔

  4. مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ 29 اگست شروع ہوگا: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے 29 اگست سے دو ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون کے نویں سپیل کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گوجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    دوسری جانب، ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    ریلیف کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ مون سون بارشوں کے باعث بڑے شہروں میں ندی نالے بپھر سکتے ہیں۔

    نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ دریائے چناب راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

  5. تین اور چار ستمبر کو سیلابی ریلا سندھ سے گزرے گا، صوبائی حکومت کا وزرا کو دریا کے کناروں کی نگرانی کا حکم, ریاض سہیل، کراچی

    حکومت سندھ کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے۔ محکمہ آبپاشی سندھ کا کہنا ہے کہ تین ستمبر کو گڈو کے مقام پر چھ لاکھ 30 ہزار اور چار ستمبر کو سکھر کے مقام پر پانچ لاکھ 60 ہزار کیوسکس پانی کی آمد متوقع ہے۔

    حکومت سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، پنجاب میں جاری سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سندھ حکومت نے دریائے سندھ کے ساتھ موجود اضلاع میں ممکنہ خطرات کی نگرانی اور ان کا جائزہ لینے کے لیے صوبائی وزرا کو فوکل پرسن نامزد کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے نامزد وزرا اپنے اپنے علاقوں میں دریا کے دائیں اور بائیں کنارے کی نگرانی کریں گے۔

    حکومت سندھ کے جاری کردہ نوٹیفیکشن کے مطابق، گڈو سے سکھر تک صوبائی وزیر مکیش کمار چاؤلہ دائیں کنارے، سردار محمد بخش مہر بائیں کنارے کے فوکل پرسن ہوں گے، جبکہ سکھر سے کوٹری، جام اکرام اللہ دھاریجو دائیں کنارے، ناصر حسین شاہ بائیں کنارے کے فوکل پرسن مقرر تعینات کیے گئے ہیں۔ اسی طرح، کوٹری بیراج سے نیچے ریاض حسین شاہ شیرازی دائیں کنارے اور محمد علی ملکانی بائیں کنارے کے فوکل پرسن مقرر کیے گئے ہیں۔

    نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ دریائے سندھ کے ساتھ موجود اضلاع سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے تمام اراکین آئندہ ایک ہفتے کے لیے اپنے حلقوں میں موجود رہیں۔ اراکینِ اسمبکی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نامزد فوکل پرسنز سے قریبی رابطے میں رہیں اسی طرح نامزد وزرا کو بھی محکمہ آبپاشی سندھ کے ساتھ مل کر سیلاب کے خطرات کا جائزہ لینے اور دریا کے پشتوں کے تحفظ اور نگرانی کے لیے ایم پی ایز کو شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔

  6. سیلاب اور بارشوں کے باعث سیالکوٹ میں تعلیمی ادارے بند

    پنجاب میں سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ضلع سیالکوٹ کی حدود میں آج تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اِدارے بند ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق، شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ضلع بھر میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں تعطیل کا مقصد طلبا، اساتذہ اور دیگر عملے کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔

  7. دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد پر پانی کے دباؤ میں کمی، ہیڈ ورکس کی بائیں جانب بند کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں قادر آباد ہیڈ ورکس پر پانی کے دباؤ میں کمی ہو رہی ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی کا بہاو کل کی نسبت 1 لاکھ کیوسک کم ہو کر 9 لاکھ 96 ہزار کیوسک پر آ گیا ہے۔

    عرفان علی کاٹھیا کے مطابق، قادر آباد ہیڈ ورکس کی مجموعی صلاحیت آٹھ لاکھ کیوسک پانی کی ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ قادر آباد ہیڈ ورکس کی بائیں جانب بند کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، پنجاب پولیس اور تمام متعلقہ محکموں کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور گذشتہ 24 گھنٹوں سے بند کی مضبوطی پر مسلسل کام جاری ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا تھا کہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کے سیلاب کے نتیجے میں ہیڈورکس کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اگر ہیڈ ورکس ٹوٹ گیا تو حافظ آباد اور چنیوٹ کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔

    بدھ کے روز قادر آباد ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے منڈی بہاؤالدین کی طرف ایک شگاف ڈالا گیا تھا تاہم پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہیڈ ورکس پر دباؤ برقرار رہا۔

  8. این ڈی ایم اے کی نارووال، شاہدرہ اور لاہور میں بارشوں کی پیشگوئی

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ خلیجِ بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی شدید مون سون ہوائیں ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں داخل ہوگئی ہیں جس سے شدید بارشوں کا امکان ہے۔

    این ڈی ایم اے کی جانب سے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان ہواؤں کے داخل ہونے سے نمی کے ساتھ وسیع بارشوں کا امکان ہے۔

    بیان کے مطابق، مون سون ہواؤں کا یہ نظام جمعے کے روز تک برقرار رہے گا جس سے دریائے راوی کے واٹرشیڈ میں درمیانی سے شدید بارشیں متوقع ہیں۔

    این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں اور شدید سیلاب سے نارووال، شاہدرہ اور لاہور کے شمالی مضافات خاص طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کا مزید کہنا ہے کہ مون سون ہوأؤں کے اس نظام کے نتیجے میں ہونے والی بارشوں سے اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

  9. دریائے راوی: شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، آئندہ 12 گھنٹوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع، پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، آئندہ 12 گھنٹوں میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ شاہدرہ سے آج تقریبا 2 لاکھ کیوسک تک پانی کا ریلا گزرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 51 ہزار کیوسک ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق، دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 66 ہزار کیوسک ہے۔

    دوسری جانب، ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ دریائے راوی کے پاٹ میں بسے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ شہریوں کو غیر ضروری دریا کے اطراف جمع نہ ہونے دیں۔

    ریلیف کمشنر نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کے اطراف سیرو و تفریح کے لیے ہرگز نہ جائیں۔

    اس سے قبل گذشتہ رات کمشنر لاہور آصف بلال لودھی کا کہنا تھا کہ دریائے راوی کے بیڈ سے انخلا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ قریبی علاقوں سے انخلا جاری ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ راوی کے قریبی علاقوں سے 500 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

    کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ راوی میں سیلابی صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے۔

  10. پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال اور گذشتہ روز کی اہم خبریں

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ کئی مقامات سے شہریوں کا انخلا کروا لیا گیا ہے۔

    • پاکستان کے صوبے پنجاب میں شدید بارشوں اور انڈیا سے راوی، چناب اور ستلج دریاؤں میں چھوڑے جانے والے پانی کے سبب شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔
    • قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے) پ پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اگر ہیڈ ورکس ٹوٹ گیا تو حافظ آباد اور چنیوٹ کے علاقے شدید متاثر ہوں گے
    • پاکستان کے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ انڈیا نے پانی کو ہتھیار کی صورت میں ریلے بنا کے چھوڑا، اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون کرتے تو اس نقصان میں بہت حد تک کمی ہو سکتی تھی۔
    • نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بعد سندھ میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے سندھ میں سیلاب سے متعلق ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔
    • دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب کے کمپاؤنڈ میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہو گیا تھا۔

    فلڈ فارکسٹنگ ڈویژن کے اعداو شمار کے مطابق، اس وقت مختلف دریاؤں کی صورتحال یہ ہے:

    دریائے چناب: خانکی اور قادر آباد کے مقام پر شدید اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ خانکی ہیڈ ورکس سے پانی کا اخراج نو لاکھ کیوسک جبکہ قدر آباد سے 10 لاکھ کیوسک پانی کا ریلا گزر رہا ہے۔

    دریائے ستلج: گنڈا سنگھ کے مقام پر شدید اونچے درجا کا سیلاب ہے جہاں سے اس وقت دو لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زائد پانی گزر رہا ہے۔

    دریائے راوی: اس وقت جسڑ اور شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

  11. دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد ٹوٹنے کا خدشہ، حافظ آباد اور چنیوٹ کے علاقے شدید متاثر ہوں گے

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد ٹوٹنے کا خدشہ ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق اگر ہیڈ ورکس ٹوٹ گیا تو حافظ آباد اور چنیوٹ کے علاقے شدید متاثر ہوں گے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے جہاں پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ہیڈ ورکس کی موجودہ صلاحیت صرف آٹھ لاکھ کیوسک ہے۔

    خیال رہے اس سے قبل بدھ کے روز قادر آباد ہیڈ ورکس کو بچانے کے لیے منڈی بہاؤالدین کی طرف ایک شگاف ڈالا گیا تھا تاہم پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہیڈ ورکس پر دباؤ برقرار رہا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ آبپاشی کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں اور مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ انھوں نے حافظ آباد اور چنیوٹ کے ڈپٹی کمشنرز کو شہریوں کے فوری انخلا کی ہدایت دی ہے اور کہا ہے کہ آبادیوں کو مساجد میں اعلانات کے ذریعے آگاہ کیا جائے۔

    پنجاب پولیس کو بھی شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا ہے کہ دریائے راوی میں سائفن کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں پانی کا بہاؤ 91 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔

  12. امریکی شہر منیاپولس میں کیتھولک سکول کے چرچ میں دعائیہ تقریب پر حملے میں دو بچے ہلاک، 17 افراد زخمی

    امریکی شہر منیاپولس میں ایک کیتھولک سکول کے چرچ میں دعائیہ تقریب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں دو بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    منیاپولس کے پولیس چیف برائن او ہارا نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے ایننسی ایشن چرچ پہنچی تھی، جہاں بچے اور دیگر افراد دعائیہ سروس میں مصروف تھے۔

    ’اس دوران ایک مسلح شخص عمارت کے باہر آیا‘ اور اس نے چرچ کی کھڑکیوں سے فائرنگ شروع کردی۔

    منیاپولس پولیس کے سربراہ کے مطابق مسلح شخص نے ’عمارت کے اندر موجود بچوں اور عبادت میں مصروف دیگر افراد کو نشانہ بنایا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ مسلح شخص کے پاس ایک رائفل، ایک شاٹ گن اور ایک پستول تھی۔

    ان کے مطابق اس حملے میں 14 بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے ہیں، حن میں سے دو بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    پولیس چیف برائن نے بتایا کہ حملہ آور کی عمر 20 برس سے زیادہ تھی اور ’وہ مارا جا چکا ہے۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ حملہ آور کا کوئی ’وسیع کرمنل ریکارڈ‘ نہیں تھا اور وہ اس حملے کی وجہ کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکہ کے نائب جے ڈی وینس نے حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤ ’منیاپولس میں صورتحال کی نگرانی کر رہا ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’ہمارے ساتھ مل کر متاثرین کے لیے دعا کریں۔‘

  13. پنجاب میں سیلاب: اگلے 12 گھنٹوں میں بیشتر اضلاع میں کیا صورتحال ہوگی؟

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں تین دریاؤں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ کئی مقامات سے شہریوں کا انخلا کروا لیا گیا ہے۔

    آئندہ چند گھنٹوں میں صوبے کے بیشتر اضلاع میں کیا صورتحال سامنے آ سکتی ہے اور کن کن علاقوں میں الرٹس جاری کیے گئے ہیں؟ جانیے ہمارے ساتھی عمر دراز ننگیانہ سے۔

    ویڈیو: وقاص انور، محمد بلال

  14. دریائے راوی میں سائفن کے مقام پر اونچے درجےکا سیلاب: پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی میں سائفن کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب کے حوالے سے متنبہ کیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق پنجاب کے دریائے راوی میں سائفن کے مقام پر پانی کا بہاو 91 ہزار کیوسک سے بڑھ گیا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ قادر آباد کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔پی ڈی ایم اے پنجاب قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی کا بہاو 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق قادر آباد ہیڈ ورکس میں بائیں جانب بھی پانی کا کٹاو بڑھ رہا ہے جس سے قادر آباد ہیڈ ورکس بائیں جانب سے شگاف پڑ نے کا خدشہ ہے۔

    ڈی جی عرفان علی کاٹھیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بائیں جانب بند کو مضبوط بنانے کے لیے مشینری و عملہ موقع پر موجود ہے جبکہ بند کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب پولیس کو شہریوں کو موقع سے فوری ہٹانے کی ہدایت جاری کر دیں۔

  15. کرتارپور سمیت پنجاب کے علاقوں میں سیلابی صورتحال

    دریائے راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ نارروال بھی پنجاب کے ان اضلاع میں شامل ہے جو سیلاب سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔

    اسی ضلع میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے قریب تاریخی اہمیت کا حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب بھی واقع ہے۔

    کرتارپور سمیت پنجاب کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کے بارے میں تفصیلات جانیے عمر دراز ننگیانہ اور وقاص انور کی ویڈیو میں۔

  16. تصاویر: نارروال میں سیلاب کے بعد کیا صورتحال ہے؟

    پاکستان کے صوبے پنجاب کو شدید بارشوں اور انڈیا سے راوی، چناب اور ستلج دریاؤں میں چھوڑے جانے والے پانی کے سبب شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔

    نارروال بھی پنجاب کے ان اضلاع میں شامل ہے جو سیلاب سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ اسی ضلع میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے قریب تاریخی اہمیت کا حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب بھی واقع ہے۔

    بی بی سی کی ترہب اصغر اور فرقان الٰہی نے نارووال میں گرودوارہ کرتارپور صاحب سمیت متعدد مقامات کا دورہ کیا ہے۔ پنجاب کے اس ضلع کے علاقوں میں موجودہ صورتحال دیکھیں بی بی سی اردو کی ان تصاویر میں۔

  17. انڈیا نے پانی کو ہتھیار بنا کے ریلے کی صورت میں چھوڑا تاکہ پاکستان کا نقصان ہو: احسن اقبال

    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ انڈیا نے پانی کو ہتھیار کی صورت میں ریلے بنا کے چھوڑا، اگر سندھ طاس معاہدے کے تحت تعاون کرتے تو اس نقصان میں بہت حد تک کمی ہو سکتی تھی۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ’اس وقت ایک آفت زدہ ضلع ہیں کیونکہ تاریخ میں اس سے زیادہ سطح کا میں نے سیلاب نہیں دیکھا۔ دو لاکھ 60 ہزار کیوسک سے زیادہ پانی کا اخراج دریائے راوی سے ہوا ہے جبکہ نالہ ڈیک جس میں 35 ہزار کیوسک کی گنجائش ہے، وہاں سے سوا لاکھ کیوسک فٹ پانی کا ریلہ گزارا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پیر کو ایک بیان میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’24 اگست کو انڈیا نے سفارتی چینلز کے ذریعے سیلاب کی وارننگ پاکستان کو ارسال کی۔‘

    یاد رہے کہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق انڈیا نے ’سفارتی ذرائع‘ کے ذریعے پاکستان کو سرحد کے دونوں جانب ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا تھا۔‘

    احسن اقبال نے بدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا اگر آہستہ یا محفوظ طریقے سے پانی کو چھوڑتا انھیں مینیج کرنا آسان ہوتا اور نقصان کم ہوتا۔‘

    ان کے مطابق سیلابی پانی فلیش فلڈ کی طرح گزرا ہے جس کے راستے میں پل سڑک جو کچھ آیا وہ اس کو بہا کے لیے گیا ہے۔‘

    احسن اقبال کے مطابق ’یہ ایک قدرتی آفت ہے، کلائمیٹ چینج ہے جس کا مقابلہ کراس بارڈر تعاون سے کیا جا سکتا ہے۔ انڈیا نے جو پانی کو ہتھیار بنایا ہے اور جو بارشیں ہوئیں اس کا نقصان جموں و انڈیا کی طرف بھی ہوا۔‘

    انھوں نے انڈیا پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ یک دم پانی کا ریلا چھوڑتے ہیں تاکہ اس کی تباہ کاریاں پاکستان پر آئیں اور یہاں نقصان ہو۔‘

    احسن اقبال کے مطابق ’آپ انسانیت کو چھوڑ کر اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت قدرت آفات کو استعمال کررہے ہیں۔ ان کی بدنیتی ظاہر ہے۔ جب سیلاب آ گیا اس وقت وہ بتاتے ہیں کہ سیلاب آئے گا آپ ہوشیار ہو جائیں۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں پابند ہیں کہ دریاؤں کی صورتحال سے آگاہ رہیں تاکہ جب سیلاب آئے تو اس سے نمٹنے کی تیاری وہ ملک کر سکے۔‘

    ان کے مطابق ’بدقسمتی سے اس وقت جو انڈیا میں حکومت ہے اس میں پانی کو ایک ہتھیار بنا دیا اور سندھ طاس معاہدے کو نظر انداز کر کے ایک بہت بڑی آفت ہم پر توڑنے کی کوشش کی ہے تاہم پاکستانی قوم بہادر اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والی قوم ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ پولیس، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو، فوج سب نے مل کر ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیا جس میں اتنے بڑے سکیل کے سیلاب کے باوجود ہم بہت بڑے نقصان سے بچ گئے ہیں۔ اگرچہ کروڑوں کی فصلوں کا اور اربوں روپے کے انفراسٹرکچرکا نقصان ہوا تاہم شکر ہے کہ انسانی جانوں کے نقصان روکنے میں ہم محفوظ رہے۔‘

    ’پاکستان کے ساتھ ’انسانی بنیادوں‘ پر ممکنہ سیلاب کی وارننگ شیئر کی‘

    یاد رہے کہ انڈیا نے ’سفارتی ذرائع‘ کے ذریعے پاکستان کو سرحد کے دونوں جانب ممکنہ سیلاب کے خطرے سے خبردار کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستانی حکام اور نئی دہلی میں ذرائع نے اس پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

    انڈین ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں انڈیا کے سفارتخانے نے اتوار کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ساتھ ’انسانی بنیادوں‘ پر ممکنہ سیلاب کی وارننگ شیئر کی ہے نہ کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت۔

    پاکستان کے دفتر خارجہ نے انڈیا کی جانب سے وارننگ موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    پیر کو ایک بیان میں دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’24 اگست کو انڈیا نے سفارتی چینلز کے ذریعے سیلاب کی وارننگ پاکستان کو ارسال کی، جبکہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے ایسا کرنے کا پابند ہے۔

  18. سیالکوٹ میں شہری اور دیہی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل، ہیڈ مرالہ میں اونچے درجے کا سیلاب, احتشام شامی، صحافی

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں سیلاب کے باعث آج بھی متعدد مقامات پر کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ شہری اور دیہی علاقوں میں پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو چکا ہے۔

    سیلابی پانی کے باعث لوگوں کے ذرائع آمد و رفت معطل ہوکر رہ گئے جبکہ سیالکوٹ کی تمام سڑکیں پانی کی وجہ سے بند ہیں۔

    سیالکوٹ کے محلہ اسلام آباد، رنگ پورہ، کینٹ، نیکا پورہ سمیت پورا شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس سے بچنے کے لیے لوگ گھروں کی دوسری منزلوں پر پناہ لیے بیٹھے ہیں۔

    ضلعی حکومت کا موقف ہے کہ شہر سے گزرنے والے نالوں میں پانی کی سطح کم ہونے تک سیلابی پانی نہیں نکالا جا سکتا۔

    انتظامیہ کے مطابق دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام سے پانی کی سطح نیچے آنے لگی ہے۔

    دوسری جانب سیالکوٹ پولیس کا سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    یاد رہے کہ پولیس کے مطابق سیلاب میں اب تک ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہیں جبکہ متاثرہ ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ سیلاب میں محصور 2,650 افراد اور 350 مویشیوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے.

    ترجمان کے مطابق 133 دیہات اور 25 محلے سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو چھتوں اور درختوں سے ریسکیو کیا جا رہا ہے.

    ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ ہیڈ مرالہ میں ابھی تک اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ سیالکوٹ نالہ پلکھو سے پانی کی سطح کم ہو رہی ہے۔

    امدادی ٹیموں نے 200 سے زائد افراد کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔

  19. سندھ میں بھی سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دیا

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمنٹے والے ادارے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے بعد سندھ میں بھی سیلاب کا خدشہ ہے۔ این ڈی ایم اے نے سندھ میں سیلاب سے متعلق ہائی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    ادارے نے تمام متعلقہ اداروں کو ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ اور پاکستانی فوج کے ترجمان کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین این ڈی ایم اے نے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کہا کہ ’آنے والے دنوں میں ہم سندھ حکومت کے ساتھ بھی معلومات شیئر کریں گے کہ کوٹری یا گدو بیراج پر جو دباؤ آئے گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اسی طرح وہ علاقے جن میں انخلا کی ضرورت ہوگی، وہ ڈیٹا پی ڈی ایم اے سندھ کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا ہے۔‘

  20. پنجاب میں سیلاب: گرودوارہ کرتارپور میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری:’پانی آیا تو سب بہا کے لیے گیا‘, ترہب اصغر، بی بی سی اردو، لاہور

    دریائےِ راوی میں شدید سیلابی صورتحال کے باعث پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واقع تاریخی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب کے کمپاؤنڈ میں 80 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے کا آپریشن تاحال جاری ہے۔

    نامہ نگار ترہب اصغر جو نارووال میں سیلابی صورتحال کی کوریج کے لیے موجود تھیں انھوں نے بتایا کہ گرودوارہ کرتارپور میں 80 کے قریب لوگ پھنسے ہوئے تھے جس میں زائرین کے علاوہ انتظامیہ کے لوگ بھی شامل تھے۔

    ترہب کے مطابق ’کرتارپور کی عمارت کا سامان بہت نقصان ہوا ہے۔ جو عملہ ریسکیو کیا گیا انھوں نے بتایا کہ وہ کل رات سے پھنسے ہوئے تھے اور اس دوران انھوں نے عمارت کی بالائی منزل پر پناہ لی۔‘

    ریسکیو ہونے والے عملے کے اراکین نے بی بی سی کو مزید بتایا کہ ’جو کل شام سے لنگر اور دیگر کھانا بچا ہوا تھا وہی کھایا۔ تاہم پھر پانی آیا تو سب بہا کے لیے گیا۔ صورت حال یہ رہی کہ پانی میں سانپ اور دیگر کیڑے مکوڑے بھی تھے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ یہاں اس وقت بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور یہاں ابھی بھی کچھ لوگ اندر پھنسے ہوئے ہیں۔

    ترہب کے مطابق ’سیلابی پانی یہاں موجود ہے ابھی اترا نہیں۔ ’کیونکہ راوی کا بہاؤ بہت تیز آ رہا ہے اور اردگرد کی آبادیوں کا پانی نیچے اتر نہیں پا رہا، تو جب تک راوی کا فلو کم نہیں ہو گا تو آس پاس کی آبادیوں کا پانی اتر نہیں پائے گا۔‘

    ’ابھی امدادی کام چل رہا ہے۔ موقع پر انتظامیہ اور اقلیتی امور کے صوبائی وزیر بھی موقع پر موجود ہیں۔