بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل
نے 12 روز قبل حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنانے کے لیے غزہ کے ایک سابقہ سکول پر
فضائی حملہ کیا تھا تاہم اس میں متعدد بچوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ شہر کی اس
عمارت میں حماس کا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر‘ قائم تھا جس پر 21 ستمبر کو حملہ کیا
گیا تھا۔
حماس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس
کارروائی میں 13 بچوں اور چھ خواتین سمیت 22 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے مطابق جنگ کی
وجہ سے سکول بند رکھا گیا تھا اور یہاں بے گھر افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔
امل نامی لڑکی نے بی بی سی کو بتایا
کہ وہ سکول کی عمارت میں موجود تھیں جب حملہ ہوا اور انھوں نے کئی لوگوں کو مرتے دیکھا۔
وہ پوچھی ہیں کہ ’ہم بچوں کا کیا قصور ہے؟ ہم اٹھتے جاگتے ڈرے رہتے ہیں۔ کم از کم
سکولوں کی حفاظت کریں۔ ہمارے پاس سکول ہیں نہ گھر۔ ہم کہاں جائیں؟‘
ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ اس
حملے میں حماس کے ایک مقامی رہنما کو ہلاک کیا گیا۔ یعنی ایک شخص کو نشانہ بنانے
کے لیے کئی معصوم شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔
اس حملے میں ہدا نے اپنے دو بچے گنوا
دیے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’جب میزائل آیا تو میں صحن سے آ رہی تپی۔ میرے شوہر بچوں کو
پکارتے ہوئے چیخ رہے تھے۔۔۔ وہ ملبے تلے دب چکے تھے۔‘
اس
حملے کے بعد 12 روز کے دوران سکول کی عمارتوں، جہاں بے گھر افراد پناہ لیے ہوئے
تھے، پر کم از کم آٹھ مزید فضائی حملے کیے گئے۔ یونیسیف کا کہنا ہے کہ جنگ کے
دوران غزہ میں 50 فیصد سکولوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ سابقہ اسکولوں میں حماس کے دہشت گرد یا ’کمانڈ اینڈ کنٹرول‘ مراکز موجود تھے۔
21 ستمبر کی کارروائی میں اس نے سابقہ سکول کا نام غلط بتایا تھا۔ اسرائیلی فوج نے اس غلطی پر مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔