امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بیروت پر حالیہ بمباری میں حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصر اللہ کے ممکنہ جانشین ہاشم صفی الدین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے گذشتہ شب بیروت میں ایئرپورٹ
کے قریب بڑے پیمانے پر بمباری کی ہے۔ اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی اہلکاروں
کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیلی فوج کے پاس یہ معلومات تھی کہ حسن نصر اللہ کے کزن
ہاشم صفی الدین اور حزب اللہ کے دیگر رہنما ضاحیہ میں ایک بنکر میں ملاقات کر رہے ہیں۔
ایگزیوس نے اسرائیلی اہلکاروں کے
حوالے سے لکھا ہے کہ صفی الدین زیرِ زمین بنکر میں موجود تھے۔ یہ واضح نہیں کہ آیا
ان کی اس فضائی کارروائی میں ہلاک ہوئی ہے۔ ایگزیوس کا کہنا ہے کہ لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیروت میں
حسن نصر اللہ کی ہلاکت کے مقابلے حالیہ اسرائیلی حملہ کہیں بڑا تھا۔
تاحال حزب اللہ نے ان دعوؤں پر کوئی
تبصرہ نہیں کیا ہے۔
حسن نصر اللہ ایک ایسی شخصیت تھے جنھوں نے کئی دہائیوں تک لبنان اور اس پورے خطے کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کیے رکھا اور ان کی ہلاکت نے حزب اللہ کی قیادت میں ایک بڑا خلا پیدا کیا ہے۔
امکان ہے کہ نصر اللہ کے بعد حزب اللہ کے نئے سربراہ ان کے کزن ہاشم صفی الدین ہوں گے جو فی الحال تنظیم کے سیاسی امور کی نگرانی کرتے ہیں اور عسکری کارروائیوں کے لیے قائم جہاد کونسل کے بھی رکن ہیں۔
ہاشم صفی الدین ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کے رشتہ دار ہیں۔
انھیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل کا عہدہ سنبھالے ابھی دو سال ہوئے تھے کہ اسرائیل نے ایک ہیلی کاپٹر حملے میں عباس الموسوی کو قتل کر دیا جس کے بعد 1994 میں صفی الدین سے نصر اللہ کے جانشین کے طور پر حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کی صدارت سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ ایرانی شہر قم میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1994 سے انھیں پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا۔
انھیں حزب اللہ کی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔
وہ حزب اللہ کی حکمران شوریٰ کونسل کے سات منتخب اراکین میں سے ایک ہیں اور خیال کیا جاتا تھا کہ وہ نصر اللہ کے جانشین کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔