غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان
حماس کے مطابق غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کی جانب سے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کیا گیا ہے۔ حماس کی جانب سے یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے ایک بڑے فوجی حملے کے چند گھنٹے بعد سامنے آ گیا ہے۔ یاد رہے کہ سرائیلی فوج نے غزہ کے کئی علاقوں پر قبضے اور حماس کو ’شکست دینے کے لیے‘ ایک وسیع آپریشن کا اعلان کیا ہے۔
خلاصہ
جب عوام اور فوج اکھٹے ہوں گے تو اس ملک میں کوئی دہشت گرد نہیں بچے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر۔
غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان۔
اسرائیلی فوج کا غزہ کے کئی علاقوں پر 'قبضے' کے لیے وسیع آپریشن کا آغاز۔
راہل گاندھی نے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے حملے سے متعلق پاکستان سے معلومات شیئر کرنے کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ 'حملے سے قبل پاکستان کو آگاہ کرنا جرم ہے۔ جے شنکر بتائیں اس کی اجازت انھیں کس نے دی؟
انڈیا کی ایک ٹریول وی لاگر جیوتی ملہوترا کو پاکستانی شہری کے ساتھ مبینہ طور پر رابطے رکھنے اور حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
لائیو کوریج
سرگودھا کے نجی ہسپتال میں مسلح شخص کی فائرنگ سے احمدی ڈاکٹر ہلاک
،تصویر کا ذریعہJammat Ahmadiyya Pakistan
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر شیخ محمود احمد
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر
سرگودھا کے ایک نجی ہسپتال میں جمعہ کے روز شیخ محمد محمود نامی ایک احمدی ڈاکٹر
کو نامعلوم مسلح شخص نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔
جماعت احمدیہ پاکستان کے ترجمان
عامر محمود اور ڈاکٹر شیخ محمد محمود کے اہلِ خانے نے بی بی سی کو اُن کی ہلاکت کے
حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھیں (ڈاکٹر شیخ محمد محمود) گزشتہ کُچھ عرصے سے جماعت احمدیہ مخالف گروہوں
کی جانب سے دھمکیاں دی جا رہیں تھی۔
ڈاکٹر شیخ محمد محمود کے سوگواران میں اہلیہ دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔
جماعت
احمدیہ کے ترجمان عامر محمود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ
کے دوران پاکستان میں شیخ محمد محمود سمیت تین احمدی شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر
نشانہ بنایا گیا ہے۔
شمالی غزہ میں 12 گھنٹوں میں 100 فلسطینی ہلاک: ’ہم سب مرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حماس کے زیر انتظام شہری دفاع کے
ادارے کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران تقریباً 100 افراد
ہلاک ہوئے ہیں۔
غزہ میں حماس کے زیر انتظام سول
ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 12 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اسرائیلی فوج
کی جانب سے جاری حالیہ کارروائیوں میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں غزہ
میں حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود باسل نے شمالی غزہ کی
صورتحال کو ’انتہائی خوفناک اور ایک خونی دن‘ کے طور پر بیان کیا ہے۔
جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس سے
تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی حاملہ بہن کو اُن کے گھر
میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی غزہ
میں جاری حالیہ بمباری کے دوران ’تو بس ہم سب مرنے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر
رہے ہیں۔‘
نام ظاہر نہ کرنے والے شخص نے بی
بی سی عربی کو بتایا کہ اسرائیل نے ’گھر پر اس وقت بمباری کی جب میری بہن اور اُن
کے شوہر اندر ہی موجود تھے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ ’ایسا لگتا ہے
کہ ہمارے مسائل کا کوئی حل کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔ غزہ کی پٹی میں کوئی
محفوظ جگہ نہیں ہے۔‘
پاکستان مسائل کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دہشت گردی پر بات چیت سے نہیں گھبراتا: ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ
ترجمان پاکستانی دفترِ خارجہ شفقت
علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ’انڈیا نے پاکستانی فضائی حدود کی
خلاف ورزی کی اور پاکستان میں بمباری کی، جس کے بعد پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے
چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنی خودمختاری اور سالمیت کی حفاظت کو یقینی بنانے کے
لیے انڈیا کے حملوں کا جواب دیا۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا
تھا کہ ’ہمارے جواب کے پیچھے محرکات سب کے سامنے واضح تھے۔ پاکستان انڈیا کے درمیان
سیز فائر کا معاہدہ خوش آئند ہے۔ جنگ بندی متعدد دوست ممالک کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔‘
ترجمان دفترِ خارجہ شفقت علی خان
کا مزید کہنا تھا کہ ’افغانستان اور انڈیا کے درمیان اہم ملاقاتوں سے متعلق ہونے
والے سوالے کے جواب میں کہنا تھا کہ ’افغانستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے، دوسرے
ممالک سے تعلقات اس کا حق ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ
’ہم کسی ملک کے دوسرے ممالک سے تعلقات پر تبصرہ نہیں کرتے، ہر ریاست کو خود مختار
حیثیت میں اپنی خارجہ پالیسی بنانے کا حق حاصل ہے۔ ہم انڈیا اور افغانستان کو خود
مختار اور آزاد ریاستیں تسلیم کرتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان مسائل
کے پُرامن حل پر یقین رکھتا ہے، پاکستان دہشت گردی پر بات چیت سے نہیں گھبراتا، ہم
خود دہشت گردی کا شکار رہے ہیں اور اس کا درد جانتے ہیں۔‘
انہوں نے بریفنگ میں کہا کہ انڈیا
پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور پروموٹ کرنے میں ملوث رہا ہے، ہمارے پاس انڈیا
کے کردار سے متعلق ٹھوس شواہد اور مواد موجود ہے، مذاکرات کے مقام سے متعلق
بات چیت اس وقت قبل از وقت ہے۔‘
ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے
کہا کہ ’برطانوی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان ہمارے لیے اہمیت کا حامل ہے، برطانیہ
پاکستان کا اہم شراکت دار اور قریبی دوست ہے، ہم خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے
برطانیہ کے مثبت کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔‘
غزہ میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، امریکہ کو فلسطینیوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہAFP/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں مشرق
وسطیٰ سے وطن واپسی کے دوران اپنی پرواز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’امریکہ
کو فلسطینیوں کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید
کہا ہے کہ یہ بات بھی درست ہے کہ غزہ میں بہت سے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔‘
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ غزہ
میں اسرائیل کی جارحیت کو وسعت دینے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں، امریکی صدر کا
کہنا تھا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال
میں غزہ میں ’اگلے مہینے میں بہت ساری اچھی چیزیں ہونے جا رہی ہیں،‘ لیکن انھوں نے
اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں دیں۔
بی بی سی کے شمالی امریکہ کے
ایڈیٹر انتھونی زرچر نے حماس کے اقتدار چھوڑنے کے ممکنہ منصوبے کے بارے میں پوچھا
تو ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم ہر چیز کو دیکھنے جا رہے ہیں، لیکن ہم یرغمالیوں کو واپس
لانا چاہتے ہیں۔‘
اسرائیلی فوج کا شمالی اور جنوبی غزہ میں ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ پر حملے جاری رکھنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہIDF
غزہ میں اسرائیلی فوج کی
کارروائیوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ’افواج
خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ’دہشت گردوں کے ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنانا جاری رکھے ہوئے
ہیں۔‘
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی
ایف) کا کہنا ہے کہ ’فوجی ’دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور اُن کے اہم ٹھکانوں کو
تباہ‘ کر رہے ہیں اور ’دہشت گردوں کا خاتمہ‘ کر رہے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے
دوران فضائی حملوں میں 150 اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔‘
تازہ ترین معلومات میں مزید کہا
گیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی جانب سے حملے، ٹینک شکن میزائل چوکیوں، دہشت گردوں
کے سیلوں، فوجی ڈھانچوں اور آپریشنل مراکز پر کیے گئے ہیں۔
آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ ’شمالی
غزہ میں زمینی فوج نے ’متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے جو اسرائیل کے خلاف
متعدد شرانگیز کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔‘
جنوبی غزہ میں بھی کارروائیاں
جاری ہیں، جہاں آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ فوجیوں نے حماس کے زیر استعمال ’دہشت
گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے‘ اور ’متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا
ہے جو علاقے میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘
غزہ میں اسرائیلی فوج کے زمینی، فضائی اور سمندری حملے، 50 فلسطینی ہلاک
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشناس تصویر میں فلسطینی علاقوں میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی فوج کی ایک قافلے کو دیکھا جا سکتا ہے
غزہ میں اسرائیلی فوج کے بڑے
پیمانے پر زمینی، فضائی اور سمندری حملوں میں 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس
ایجنسی کا کہنا ہے کہ جمعرات کی شب شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک 50 افراد
ہلاک ہو چُکے ہیں تاہم اس سے قبل بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اسرائیلی فوج کے
حملوں میں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت کے تصدیق کی گئی تھی۔
غزہ کے شمالی علاقوں میں فلسطینیوں
کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جمعے کی علی الصبح بڑے پیمانے پر زمینی، فضائی اور
سمندری حملے کیے ہیں تاہم اسرائیلی فوج نے ابھی تک اس بارے میں کوئی بیان جاری
نہیں کیا ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق حملوں کا
آغاز سرحدی علاقوں کے قریب موجود اسرائیلی علاقوں سے توپ خانے کی شدید گولہ باری کے
ساتھ ہوا۔
غزہ میں بی بی سی کے نامہ نگار
رشدی ابوالوف کا کہنا ہے کہ مارچ کے اوائل میں اسرائیل کی جانب سے اپنی جارحیت
دوبارہ شروع کرنے کے بعد سے شمالی غزہ پر یہ سب سے بڑا زمینی حملہ ہے۔
دوسری جانب غزہ میں خوراک، ادویات
اور دیگر امدادی سامان کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ امدادی اداروں کی جانب سے سامنے
آنے والے بیانات میں اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے رواں سال مارچ
کے وسط سے علاقے میں امدادی سامان کی ترسیل روک رکھی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے
اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ’ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں سنگین
ہوتی انسانی صورتحال پر پریشان ہے۔‘
راج ناتھ سنگھ کا بھج ایئربیس پر خطاب: ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، یہ صرف ایک ٹریلر تھا‘
،تصویر کا ذریعہX/MinistryofDefenseIndia
انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے گجرات کی بھج ایئر
بیس کے دورے کے دوران کہا ہے کہ ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، جو کچھ ہوا صرف ایک
ٹریلر تھا، صحیح وقت آنے پر ہم پوری تصویر دنیا کو دکھائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آپ لوگوں نے آپریشن سندور میں واقعی ایک معجزاتی
کام کیا ہے۔ آپ نے پوری دنیا میں انڈیا کا سر فخر سے بلند کیا ہے۔‘
وزیر دفاع نے کہا کہ ’آپریشن سندور کا نام وزیر اعظم نریندر
مودی نے دیا ہے۔ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی اور حکومت پاکستان کا گہرا تعلق
ہے، اس صورت حال میں اگر جوہری ہتھیار وہاں موجود ہیں تو ان کے دہشت گرد عناصر کے ہاتھ
لگنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔‘
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’یہ نہ صرف انڈیا بلکہ پوری دنیا اور
پاکستان کے عام لوگوں کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہو گا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ بھج 1965 اور 71 کی جنگوں میں ہماری جیت
کا گواہ رہا ہے۔‘
پاکستان کو آگاہ کیا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے آنے لگے ہیں: انڈین وزیر خارجہ جے شنکر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے وزیر خارجہ جے شنکر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’آپریشن سیندور سے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر کے ہم نے اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہے،انڈیا امریکہ تجارتی معاہدے سے اچھی امید ہے۔‘
انڈین وزیر خارجہ کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ان کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران پاکستان کے خلاف حملوں میں کامیابی کا دعویٰ کرتے سنا جا رہا ہے۔
ویڈیو کلپ میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’ہم نے پاکستان میں مظفر آباد، بہاولپور مریدکے سمیت دیگر مقامات پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر کے ان کے ٹھکانے تباہ کیے تو یہ ہماری کامیابی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نے پاکستانی حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ ہم دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے آنے لگے ہیں اورہمارا مقصد ملٹری کو نشانہ بنانا نہیں ہے تو ان کے پاس آپشن ہے کہ وہ اس مداخلت نہ کریں۔ تاہم انھوں نے اس کو قبول نہ کیا۔‘
جے شنکر نے کہا کہ ’سیٹلائیٹ تصاویر سے پتا چل جاتا ہے کہ ہم نے ان پر کتنا کامیاب حملہ کیا اور انھی سیٹلائیٹ تصاویر سے پتا چلتا ہے کہ انھوں(پاکستانی فوج) نے ہمارا کتنا کم نقصان کیا۔‘
،تصویر کا ذریعہscreengrab/X
جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ جے شنکر نے مزید کہا کہ ’انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے۔ جب تک اس میں ہر معاملے پر معاہدہ نہیں ہو جاتا، کسی بھی چیز کو حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔¬
جے شنکر نے دعویٰ کیا کہ’کوئی بھی تجارتی معاہدہ ایسا ہونا چاہیے جو دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہو، اور ہمیں اس معاہدے سے اس کی امید ہے۔‘
حکومت پاکستان کا انڈیا کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر آج یوم تشکر منانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہISPR
انڈیا کے پاکستان پر کیے جانے والے حملوں کے بعد جوابی کارروائی میں سبقت لے جانے اور آپریشن بنیان مرصوص کی فتح پر آج پاکستان بھر میں حکومتی سطح پر یوم تشکر منایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سات مئی کو انڈیا نے پہلگام واقعے کو جواز بناتے ہوئے پاکستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں نو مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ مبینہ عسکریت پسند تنظیموں کے مراکز تھے تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے اس کی تردید کی اور پھر اس کے بعد پاکستانی فوج نے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے جوابی کارروائی کی تھی۔
حکومت پاکستان کی جانب سے اس کامیابی کو ’تاریخی فتح‘ قرار دیتے ہوئے 16 مئی کو ملک بھر میں یوم تشکر مننے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق یوم تشکر پر پاکستانی عوام اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔
پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابقیوم تشکر کے موقع پر دن کا آغاز مسجدوں میں قرآن خوانی اور خصوصی دعاؤں سے کیا جائے گا۔ وفاقی دارالحکومت میں31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں21 توپوں کی سلامی دی جائے گی۔
پی ٹی وی کے مطابق ’مزار قائد اور مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا اور پرچم کشائی کی تقریبات وفاقی اور صوبائی دارالحکومت میں منعقد کی جائیں گی۔ ملک بھر میں یادگار شہدا پر پھول رکھے جائیں گے اور دعائیہ تقاریب منعقد ہوں گی۔‘
پی ٹی وی کے مطابق ’آپریشن بنیان مرصوص میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لواحقین سے خصوصی ملاقاتیں بھی ہوں گی۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے کمی، پیٹرول کی قیمت برقرار، نوٹیفیکیشن جاری
حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئ قیمتیں مقرر کردی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن کے تحت ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں دو روپے فی لیٹر کی کمی گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت میں رد و بدل نہیں کی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 254 روپے 64 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا, پیٹرول کی قیمت 252 روپے 63 پیسے فی لیٹر پر برقرار ہے۔
مٹی کے تیل کی قیمت میں پانچ روپے چار پیسے فی لیٹر کمی ہوئی جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 164 روپے 65 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اعلامیے کے مطابق لائٹ ڈیزل کی قیمت میں چار روپے 68 پیسے فی لیٹر کم کیے گئے ہیں،جس کے بعد لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 150 روپے 65 یسے فی لیٹر ہوگی۔
وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا اس کے تحت قیمتوں میں کمی کا اطلاق 16 سے 31 مئی تک ہوگا۔
انڈیا کا جنگی جنون اتر چکا، اب امن کی بات کریں ہم اس کے لیے تیار ہیں: شہباز شریف
،تصویر کا ذریعہ@GovtofPakistan
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے جان ہتھیلی پر رکھ کر یہ جنگ لڑی، انڈیا کا جنگی جنون اتر چکا، اب امن کی بات کرے، ہم اس کے لیے تیار ہیں۔
یہ بات وزیراعظم شہباز شریف نے کامرہ ایئربیس کا دورے کے دوران کی جہاں انھوں نے پاکستان کی فضائی افواج کے جوانوں اور افسران سے ملاقات کی اور انڈیا کے خلاف جوابی کارروائی میں سبقت لے جانے پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔
،تصویر کا ذریعہISPR
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’پاکستان کی جوابی کارروائی پر دشمن کے چودہ طبق روشن ہوگئے، پاکستان کی تاریخ میں اس سے شاندار فتح پہلے ہمیں کبھی نصیب نہیں ہوئی، اس شاندار فتح سے نہ صرف دنیا کی سوچ کو تبدیل کیا بلکہ پوری دنیا اور خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کردیا ہے۔‘
،تصویر کا ذریعہISPR
ان کا کہنا تھا کہ ’جس مہارت اور ٹیکنیکل انوویشن سے یہ جنگ لڑی گئی اس پر پاکستان کی فضائیہ کے سربراہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آرمی چیف عاصم منیر سمیت عسکری قیادت اور پاکسستانی فوج کے جوانوں نے مربوط مشاورت اور اقدامات سے مثال قائم کی ہے۔‘
اس دورے کے دوران وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ دفاع خواجہ آصف، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام بھی موجود تھے۔
میں یہ کہنا تو نہیں چاہتا مگر میں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسئلے کو حل کرنے میں مدد کی: ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے
کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان مسئلے کو حلے کرنے میں انھوں نے اہم کرداد ادا کیا
ہے۔
امریکی صدر نے قطر کے دارالحکومت
دوحہ میں امریکی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں نے
ہی ایسا کیا، لیکن میں نے یقینی طور پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان گزشتہ ہفتے
پیدا ہونے والی کشیدگی کو حل کرنے میں مدد کی۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم نے دیکھا کہ
دونوں مُمالک کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی تھی اور پھر اچانک وہ
وقت آیا کہ آپ کو وہاں مختلف قسم کے میزائل نظر آنے لگے، لیکن ہم نے اسے معاملے کو
حل کر لیا۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’مجھے
لگتا ہے کہ یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ ہم نے ان کے ساتھ (انڈیا اور پاکستان کے ساتھ) تجارت پر بھی
تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے کہا کہ آئیے کاروبار کریں، جنگ نہیں۔ پاکستان اور انڈیا
دونوں تجارت سے متعلق جان کر بہت خوش ہوئے اور مجھے لگتا ہے کہ وہ اب صحیح سمت میں
آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہی گیا تھا کہ امریکہ کی ثالثی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ’فوری اور مکمل سیز فائر پر اتفاق ہوگیا ہے۔‘
جس کے بعد پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان ہمیشہ خطے میں امن اور سلامتی کے لیے کوشاں رہا ہے اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔‘
دوسری طرف ایکس پر انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے ایک بیان میں اس بات کا اظہار کیا گیا تھا کہ ’انڈیا اور پاکستان نے فائرنگ اور فوجی کارروائی روکنے کے لیے ایک سمجھوتے پر اتفاق کیا ہے۔‘
تاہم اسی کا ساتھ ساتھ 10 مئی کو ہی اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انڈیا کا دہشتگردی کے خلاف ایک ٹھوس موقف ہے جو یہ اپنائے رکھے گا۔‘
جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو ’فوری اور یقینی جواب‘ دیا جائے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ
جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ’انڈیا نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تو
پاکستان کی طرف سے ’فوری اور یقینی جواب‘ دیا جائے گا۔‘
برطانوی نشریاتی ادارے سکائی نیوز
کو دیے گئے ایک انٹرویو میں
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل احمد
شریف چوہدری نے خبردار کیا کہ ’دو جوہری قوتوں کے درمیان کشیدگی باہمی تباہی کا
باعث بن سکتی ہے۔‘
سکائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی
جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ ’جنگ کی حمایت کر کے، انڈیا ’باہمی تباہی کا
نسخہ‘ تیار کر رہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اب دنیا جوہری خطرے کی وسعت کو تسلیم
کرتی ہے۔‘
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے مزید کہا
کہ ’امریکا جیسا کوئی بھی ملک اس حماقت اور اسے سمجھتا ہے جو کچھ انڈیا یہاں کرنے
کی کوشش کر رہا ہے۔‘
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے
متعلق بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق کشمیری عوام کو حل کرنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جو کوئی
بھی ہماری علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کرے گا، تو
ہمارا جواب منہ توڑ ہوگا۔‘
انڈیا کے ساتھ 18 مئی تک سیزفائر پر اتفاق ہوا ہے، کشیدگی کم ہونے میں کچھ وقت لگے گا، معاملہ مذاکرات کی طرف جائے گا: وزیر خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’پاکستان اور انڈیا کے ڈی جی ایم اوز
کے درمیان 18 مئی تک سیز فائر پر اتفاق ہوا ہے۔‘
انھوں نے سینیٹ میں خطاب کے دوران
پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیز فائر سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک
سیز فائر پر متفق ہے مگر کشیدگی کم ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’10 مئی کو ڈی جی
ایم اوز نے 12 مئی تک سیز فائر پر اتفاق کیا تھا پھر 12 مئی کو دونوں کے درمیان ہونے
والے رابطے میں 14 مئی تک اور اب حالیہ بات چیت میں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز نے
18 مئی تک سیز فائر پر اتفاق کیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ملٹری ٹو
ملٹری بات چیت ہو رہی ہے مگر یہ معاملہ سیاسی مذاکرات کی طرف جائے گا کیونکہ تمام مسائل
کا حل مذاکرات ہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس بارے میں ہم نے
دنیا سے کہا ہے کہ ہم انڈیا کے ساتھ جامع مذاکرات کریں گے جن میں سندھ طاس معاہدے سمیت
ہر معاملے پر بات کریں گے۔‘
انھوں نے انڈیا پر الزام عائد کرتے
ہوئے کہا کہ ’انڈیا کی کوشش تھی کہ پلوامہ کی طرح پہلگام واقعے پر بیانیہ بنا کر دنیا
کو بیچیں تاکہ سندھ طاس پر حملہ کیا جا سکے۔‘
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا
کہ انڈیا جنوری 2023 سے سندھ طاس معاہدے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور متعدد
بار مختلف بہانے بنا کر خط لکھ رہا ہے جس کو مناسب جواب پاکستان دیتا رہا ہے۔‘
انھوں نے کہا سندھ طاس معاہدے کو انڈیا
یکطرفہ طور پر ختم نہیں کر سکتی اور یہ بات عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کے گذشتہ روز
کے بیان سے بھی واضح ہوتی ہے۔
جب تک پوتن اور میں اکٹھے نہیں بیٹھ جاتے تب تک کچھ نہیں ہونے والا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے
کہ ’جب تک وہ اور روس کے صدر پوتن ذاتی طور پر ملاقات نہیں کرتے تب تک یوکرین امن
مذاکرات میں اہم پیش رفت کا امکان نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ امریکی صدر نے یہ بیان روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ سے متعلق صحافیوں سے بات کرتے ہوئے دیا۔
ایئر فورس ون میں بی بی سی کے
نامہ نگار انتھونی زرچر نے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ سوال کیا کہ ’کیا آپ روس اور ترکی کے درمیان وفود
کی سطح پر ہونے والی بات چیت سے مایوس ہیں؟‘ تو اس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا
کہ ’دیکھیں، جب تک پوتن اور میں اکٹھے نہیں بیٹھتے تب تک کچھ نہیں ہونے والا ہے۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے
یقین نہیں ہے کہ کچھ بھی ہونے والا ہے، چاہے آپ اسے پسند کریں یا نہ کریں، جب تک
کہ وہ (روسی صدر) اور میں اکٹھے نہیں ہو جاتے تب تک کُچھ نہیں ہوگا، لیکن ہاں ہمیں
اسے حل کرنا ہوگا کیونکہ بہت سے لوگ مر رہے ہیں۔‘
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا: اسحاق ڈار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سینیٹ میں اجلاس کے
دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’سندھ طاس معاہدے پر حملے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں
کیا جائے گا اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے پہلے بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ سندھ
طاس معاہدے کے خلاف جانے کے اقدام کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔‘
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز
شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ہمیشہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سندھ
طاس معاہدے کا دفاع کریں گے۔‘
نائب وزیرِ
اعظم کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے جن مقامات کو
نشانہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
ہے وہاں ایسا کُچھ بھی نہیں۔‘
پاکستان کی سینیٹ میں اجلاس کے
دوران خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ’انڈیا کی جانب سے پاکستان
کے صوبہ پنجاب میں چار اور پاکستان کے
زیرِ انتظام کشمیر میں دو مقامات پر 24 پے لوڈز ریلیز کیے، جہاں ایک بھی دہشت
گردوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے
مزید کہا کہ ’پاکستان کے کسی ایک بھی لڑاکا طیارے کو نقصان نہیں پہنچا اور اس کے
برعکس انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرائے گئے، اس کے بعد انڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان
نے 15 فوجی مقامات کو انڈیا میں نشانہ بنایا ہے اور اس بات کو دُنیا میں خوب
پھیلایا۔‘
نائب
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اس سب کے بعد انڈیا کی جانب سے ڈرونز کا سہارا لیا گیا
اور پاکستان پر ڈرونز سے حملے کیا گیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے انڈیا
کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد اس بارے میں ہم نے تمام دُنیا کو کہا ہے کہ آ
کر دیکھیں کہ انڈیا جن مقامات کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں
وہیں دراصل ہے کیا۔‘
اسحاق ڈار
کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں پاکستان کے 11 فوجی اور
40 عام شہری ہلاک جبکہ 199 افراد زخمی ہوئے۔‘
،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟
انڈیا اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔
اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہو گا۔
دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 65 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔
اس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔
انڈیا کو مغربی دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن وہ پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے منصوبے نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اسے مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر کسی بھی قسم کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔
معاہدے کے تحت ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جو کسی متنازع منصوبے کے حل کے لیے بھی کام کرتا ہے تاہم اگر کمیشن مسئلے کا حل نہیں نکال سکتا تو معاہدے کے مطابق حکومتیں اسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ، معاہدے میں ماہرین کی مدد لینے یا تنازعات کا حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی عدالت میں جانے کا طریقہ بھی تجویز کیا گیا تھا۔
’جب بھی غزہ میں فضائی حملہ ہوتا ہے تو مجھے لگتا ہے کہ اس کا نشانہ کوئی ایسا فرد بنا ہوگا کہ جسے میں جانتا ہوں‘
’غزہ کی جنگ اور یہاں ہونے والے جانی اور
مالی نقصانات کی رپورٹنگ نے مُجھے ایسے توڑا ہے کہ جس کا اظہار بھی میرے لیے
انتہائی تکلیف دہ ہو گیا ہے۔‘
یہ الفاظ ہیں بی بی سی کے غزہ سے
نامہ نگار رشدی ابو الوف کے، اُن کا مزید کہنا ہے کہ ’ابتدائی دنوں میں، میں
دھوئیں سے بھری گلیوں سے گزرتا تھا جہاں میں وہ جگہ جہاں میں پلا بڑھا جہاں
میں کھیلا کودا تھا۔ ملبے کے ڈھیر اور بچپن کی بکھری ہوئی یادوں اور کبھی
کبھی لاشوں کے درمیان سے گُزرتے ہوئے صورتحال کو رپورٹ کرتا تھا۔‘
رشدی ابو الوف نے کہا کہ ’میں نے اُن
کے انٹرویو کیے کہ جنھوں نے اپنے بچوں کو اس جنگ میں کھو دیا۔ میں نے وہ باپ
دیکھنے اور اُن سے بھی بات کی کہ جو اپنے پیاروں کی تلاش اور انھیں بچانے کے لئے بغیر
کسی چیز کے بس اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے تھے اور ززین کی کھدائی میں مصروف
تھے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جب حالات
بہت زیادہ خراب ہوئے تو پھر میں نے غزہ چھوڑ دیا۔ لیکن میرے اہل خانہ، میرے بہادر
ساتھیوں کو چھوڑنے کے احساس نے میرا پیچھا نہیں کبھی نہیں چھوڑا۔ یہ وہ احساس ہے
کہ جس کا میری روح اور میرے دل پر بے انتہا بوجھ ہے۔‘
راشدی کے مطابق ’غزہ میں موجود
میرے ساتھ جب بھی مُجھے فون یا میسج کر کے کوئی خبر پہنچاتے ہیں تو اُن سے متعلق
ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے کہ ناجانے مُجھ تک یہ خبر پہنچانے کے بعد وہ کیسے ہیں۔‘
’جب بھی غزہ میں کسی بھی فضائی حملے کے بارے
میں میں سنتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ اس کا نشانہ کوئی نہ کوئی ایسا فرد بنا ہوگا
کہ جسے میں جانتا ہوں۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
راشدی کا کہنا ہے کہ ’دو روز قبل میں
نے ایک گھنٹہ انتہائی وحشت اور تکلیف کے عالم میں گزارا، ایک پیغام آیا کہ غزہ میں
ہمارا ایک صحافی ایک فضائی حملے میں زخمی ہو گیا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’میں ایک ڈینٹسٹ کے
پاس گیا ہوا تھا اور ڈاکٹر بس میرا معائنہ کرنے والے تھے، کہ میں نے اُن کے پاس
جانے سے معذرت کرلی۔ میں وہاں سے نکلا اور اپنی گاڑی کی جانب بھاگا اور کانپتے
ہوئے ہاتھوں اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ درجنوں فون کیے یہاں تک کہ میں نے آخر کار
سنا کہ وہ اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔‘
بی بی سی کے غزہ کے لیے نامہ نگار
رشدی ابو الوف کا کہنا ہے کہ ’میں نے اس جنگ میں بہت سے رشتہ داروں، دوستوں کو کھویا
ہے۔ میں نے اپنے ساتھی صحافیوں کو کھو دیا ہے، وہ لوگ جو وہاں سے تازہ حالات سے
متعلق رپورٹ کرنے کے لیے غزہ میں رکے ہوئے تھے، انھیں نے یہ تک نہیں سوچا کہ انھیں
اس کی کیا قیمت ادا کرنے پڑے گی۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ 18
مہینوں سے، میں اپنے گھر یعنی غزہ سے دور بیٹھا رپورٹنگ کر رہا ہوں۔ لیکن میرا دل
کبھی بھی غزہ سے دور نہیں ہوا، چاہے میں ترکی میں ہوں، لندن میں ہوں، قطر میں ہوں
یا قاہرہ میں، میرا خیالت سوچ اور دل حتیٰ کے میری روح بھی ہمیشہ غزہ میں ہے۔‘
’رپورٹ کرنا میرا کام تو ہے۔ لیکن یہ میری
زندگی بھی ہے جو مسلسل خوف اور وحشت سے بھری خبروں کی وجہ سے بے چین رہتی ہے۔‘
میں نہیں چاہتا کہ آپ انڈیا میں آئی فون بنائیں: صدر ٹرمپ کی ایپل کے سی ای او کو تنبیہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کے چیف ایگزیکٹو
ٹِم کُک سے کہا کہ وہ انڈیا میں ایپل آئی فون بنانا بند کردیں، اسی کے ساتھ اُن کا
کہنا تھا کہ انڈیا اپنے مفادات کا خیال خود رکھ سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قطر کے
دارالحکومت دوحہ میں ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے گزشتہ روز
ٹم کک سے بات کی ہے میں نے انھیں کہا ہے کہ ٹم ہم آپ کے ساتھ اچھا تعلق برقرار رکھنا
چاہتے ہیں۔ آپ 500 بلین ڈالر کی کمپنی بنا رہے ہیں، لیکن اب میں نے سنا ہے کہ آپ انڈیا
میں یہ فیکٹریاں لگا رہے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ انڈیا میں آئی فون بنائیں۔‘
صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم
نے برسوں تک چین میں قائم آپ کی فیکٹریوں کو برداشت کیا ہے۔ اب ہم نہیں چاہتے کہ
آپ اپنی فیکٹریاں انڈیا میں بنائیں۔ انڈیا اپنا خیال خود رکھ سکتا ہے اور وہ یہ
کام بہت اچھے سے کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ آپ اب امریکہ کی جانب واپس لوٹیں اور
اپنی فیکٹریاں وہاں لگائیں۔‘
امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک
ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب انڈیا اور امریکہ کے درمیان محصولات سے متعلق بات
چیت جاری ہے۔ تاہم اس سے قبل یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ ایپل انڈیا میں اپنی
پیداواری صلاحیت بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ رواں سال مئی کے آغاز
پر ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ اس کے امریکہ میں
فروخت ہونے والے زیادہ تر آئی فونز اور دیگر ڈیوائسز کی تیاری اب چین کی بجائے
انڈیا میں ہو گی۔
ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کُک کی
جانب سے کہا گیا تھا کہ آنے والے مہینوں میں امریکہ کے لیے بننے والے زیادہ تر آئی
فونز انڈیا میں ہی تیار کیے جائیں گے جبکہ ویتنام آئی پیڈز اور ایپل واچ جیسے آلات
کی تیاری کا ایک بڑا مرکز بنے گا۔
تاہم یہ سب ایک ایسے وقت میں ہوا
تھا کہ جب ایپل نے اس بات کا اندازہ لگایا تھا کہ امریکی درآمدی ٹیکسز سے اس سہ
ماہی میں کمپنی کے اخراجات میں تقریباً 900 ملین ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے نئی ڈیوٹیوں سے
اہم الیکٹرانکس کو مستثنیٰ قرار دیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ
وہ چاہتی ہے کہ ایپل اپنی پیداوار امریکہ منتقل کرے۔
غزہ میں اسرائیلی افواج کے فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
غزہ میں گزشتہ شب سے اب تک 12
اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہو گئی ہے، تاہم امدادی کارکُنان کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
غزہ سے بی بی سی کے نامہ نگار رشدی
ابو الوف نے بتایا ہے کہ حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس
ایجنسی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 103
ہوگئی ہے۔
تاہم جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ہونے
والے حملے میں ہلاک ہونے والے 13 افراد بھی شامل ہیں جس میں ایک عبادت گاہ اور ایک
خیراتی طبی مرکز کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
حماس کے زیر انتظام سول ڈیفنس ایجنسی کے ترجمان محمود
باسل کے مطابق ان حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی
شہر خان یونس میں ہوئی ہیں۔
محمود باسل کا مزید کہنا ہے کہ امدادی
ٹیموں نے خان یونس سے 56 لاشیں، شمالی غزہ کے بیت لاہیا سے چار اور وسطی غزہ کے
دیر البلاح سے دو لاشیں نکالی ہیں۔ مزید ہلاکتوں سے متعلق تعفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ مرنے
والوں میں خواتین، بچے اور ایک شیر خوار بچہ بھی شامل ہے۔ ہلاک ہونے والے میں 13
افراد پر مشتمل خان یونس کا سمور خاندان بھی شامل ہے۔
گذشتہ رات غزہ کی پٹی میں ہوئے حملوں کے
نتیجے میں ہونے والی تباہی کی بہت سی تصاویر میڈیا اداروں کو موصول ہوئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہسپتال ذرائع اور طبی امداد فراہم کرنے والے عملے کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ایک ہی روز میں اسرائیل کی جانب سے دو ہسپتالوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
منگل کے روز خان یونس کے علاقے میں اسرائیلی طیاروں نے ’یورپین ہسپتال‘ پر ایک ہی وقت میں چھ بم گرائے جس کے نتیجے میں وہاں 28 افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
گذشتہ رات ہوئے حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خان یونس کے علاقے میں لوگ اپنے تباہ شدہ گھروں کے ملبے میں بچ جانے والی اشیا تلاش کر رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں لیا جانا چاہیے: راج ناتھ سنگھ
،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ وہ دنیا سے
پوچھنا چاہتے ہیں کہ ’کیا پاکستان جیسی غیرذمہ دار قوم کے ہاتھوں میں موجود ایٹمی
ہتھیار محفوظ ہیں؟‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں
کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں لیا جانا
چاہیے۔‘
راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کی صبح یہ بیان انڈیا کے زیر انتظام
کشمیر میں ’بادامی باغ کنٹونمنٹ‘ میں انڈین فوج کے جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ کیسے پاکستان کی
جانب سے انڈیا کو ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق دھمکیاں دی گئیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے دورہ کشمیر کا مقصد کشمیری
عوام اور یہاں تعینات فوجیوں کا شکریہ ادا کرنا ہے کیونکہ جس طرح کا ردعمل انھوں
نے پہلگام حملے کے بعد دیا وہ قابل تحسین ہے۔
اس دورے کے آغاز پر انھیں انڈین فوج کی جانب سے شیل، گولوں
اور میزائل کے ٹکڑے بھی دکھائے گئے جو انڈیا کے مطابق مبینہ طور پر پاکستان کی
جانب سے فائر کیے گئے تھے۔
انھوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی اور دہشت گردوں
کے پاکستان میں موجود ٹھکانوں سے متعلق انھی الزامات کو دہرایا جو انڈیا گذشتہ کئی
دنوں سے عائد کرتا چلا آیا ہے اور جنھیں پاکستان بارہا مسترد کر چکا ہے۔