آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان

حماس کے مطابق غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے ان کی جانب سے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کیا گیا ہے۔ حماس کی جانب سے یہ اعلان اسرائیل کی جانب سے ایک بڑے فوجی حملے کے چند گھنٹے بعد سامنے آ گیا ہے۔ یاد رہے کہ سرائیلی فوج نے غزہ کے کئی علاقوں پر قبضے اور حماس کو ’شکست دینے کے لیے‘ ایک وسیع آپریشن کا اعلان کیا ہے۔

خلاصہ

  • جب عوام اور فوج اکھٹے ہوں گے تو اس ملک میں کوئی دہشت گرد نہیں بچے گا: ڈی جی آئی ایس پی آر۔
  • غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کے لیے دوحہ میں مذاکرات کے نئے دور کا اعلان۔
  • اسرائیلی فوج کا غزہ کے کئی علاقوں پر 'قبضے' کے لیے وسیع آپریشن کا آغاز۔
  • راہل گاندھی نے انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کے حملے سے متعلق پاکستان سے معلومات شیئر کرنے کے بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ 'حملے سے قبل پاکستان کو آگاہ کرنا جرم ہے۔ جے شنکر بتائیں اس کی اجازت انھیں کس نے دی؟
  • انڈیا کی ایک ٹریول وی لاگر جیوتی ملہوترا کو پاکستانی شہری کے ساتھ مبینہ طور پر رابطے رکھنے اور حساس معلومات شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. ’پوتن اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ لوگ اندازے لگاتے رہیں‘, اورلا گورین، استنبول

    عالمی رہنما اور تجزیہ کار یہ اندازے لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر پوتن آج ترکی میں ہونے والے روس، یوکرین امن مذاکرات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ اور صدر پوتن کو یہ بات پسند ہے کہ لوگ بس اندازے ہی لگاتے رہیں۔ تاہم اب بظاہر ایسا ہی لگ رہا ہے کہ وہ اِن مذاکرات سے ذاتی طور پر دور ہی رہیں گے۔

    اس کے برعکس انقرہ میں موجود یوکرین کے صدر زیلنسکی نے واضح انداز میں کہا تھا کہ اگر پوتن ان مذاکرات میں ذاتی طور پر شرکت کرنے کا عندیہ دیتے ہیں تو وہ (زیلنسکی) کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر انقرہ سے استنبول روانہ ہو جائیں گے۔ تاہم انھوں نے اپنی شرکت کو صدر پوتن کی شرکت سے مشروط کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف اُن (پوتن) سے بات کریں گے۔

    ولادیمر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’یہ اُس (پوتن) کی جانب سے مسلط کردہ جنگ ہے، لہذا مذاکرات براہ راست اُس کے ساتھ ہی ہونے چاہئیں۔‘

    ترکی میں ہونے والی بات چیت کو تین سال قبل روس کی جانب سے یوکرین کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے پہلے براہ راست بات چیت کے موقع پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم فی الحال کوئی ایسا اشارہ نہیں ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو کوئی بڑی رعایت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔

    اور فی الحال اس پورے معاملے میں کامیاب نظر آنے والے شخص ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان ہیں جن کے خلاف حال ہی میں ترکی کے مرکزی اپوزیشن رہنما کو پابند سلاسل کرنے کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے ہیں۔

    اور ان امن مذاکرات کے ذریعے اب وہ دنیا کی توجہ ترکی کے اندرونی مسائل سے ہٹا کر بین الاقوامی ڈپلومیسی کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کریں گے۔

  2. صدر پوتن استنبول میں ہونے والے امن مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے: روس

    روس نے کہا ہے کہ صدر ولادیمر پوتن یوکرین جنگ پر استنبول میں آج سے شروع ہونے والے امن مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق اگرچہ گذشتہ روز اس ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تھی تاہم وہ بھی آج ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے۔

    مذاکرات میں شرکت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ اگر صدر پوتن شریک ہوں گے تو وہ بھی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

    دوسری جانب یوکرین کے صدر زیلنسکی کی جمعرات کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں آمد متوقع ہے جہاں ان کی ملاقات صدر طیب اردوغان سے ہو گی۔

    یاد رہے کہ زیلنسکی بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ مذاکرات میں صرف اسی وقت شامل ہوں گے اگر صدر پوتن بھی ایسا کرتے ہیں۔

    دسمبر 2019 کے بعد سے پوتن اور زیلنسکی میں کوئی بالمشافہ ملاقات نہیں ہو سکی ہے۔

    اتوار کے روز جب صدر پوتن نے براہ راست مذاکرات کی تجویز پیش کی تھی تو صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’روس اور یوکرین کے لیے ممکنہ طور پر ایک بڑا دن!‘

    اب جب کہ آپ منتظر ہیں کہ اِن امن مذاکرات میں کون شرکت کرے گا اور کون نہیں، تو بی بی سی اُردو اس حوالے سے آپ کو تازہ ترین تفصیلات سے آگاہ کرتا رہے گا۔

  3. پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی، انڈیکس میں 1100 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز تیزی کارجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس میں 1170 پوائنٹس تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد مارکیٹ انڈیکس 119662 پوائنٹس کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

    جمعرات کے روز مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری میں دلچسپی کی وجہ سے حصص کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ سے انڈیکس میں تسلسل سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    تجزیہ کار اس کی ایک بڑی وجہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستان کو ملنے والی ایک ارب ڈالر کی قسط اور اگلے بجٹ میں صنعتی شعبے کے لیے مراعات کی خبروں کو قرار دیتے ہیں۔

    تجزیہ کار جبران سرفراز نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی قسط موصول ہو گئی جس کا مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت اثر پڑا۔

    انھوں نے کہا اسی طرح توانائی کے شعبے میں گردشی شعبے کو حل کرنے کے لیے اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ اگلے بجٹ میں صنعتی شعبے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کے لیے تجوززیر غور ہیں۔

    انھوں نے کہا یہ خبریں معیشت کے لیے مثبت ہیں جو سٹاک مارکیٹ میں کاروبار پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوئی ہیں۔

  4. مکیش امبانی کی دوحہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیر قطر سے ملاقات

    انڈیا کی امیر ترین کاروباری شخصیت مکیش امبانی کی دوحہ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امیر قطر سے ملاقات ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مکیش امبانی کی یہ ملاقات دونوں ممالک میں حکام کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے اہم تصور کی جا رہی ہے۔

    یاد رہے کہ قطر کے خودمختار ویلتھ فنڈ کیو آئی اے نے گزشتہ برسوں کے دوران مکیش امبنانی کے انڈیا میں ان کے کاروبار ریلائنس انڈسٹری میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے جبکہ دوسری جانب مکیش امبانی گوگل اور میٹا جیسی امریکہ کی ٹیک جائنٹ کمپنیز کے ساتھ کاروباری شراکت دار ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق توقع ہے کہ مکیش امبانی دوحہ کے لوسیل پیلس میں ٹرمپ کے لیے دیے جانے والے سرکاری عشائیہ میں شرکت کریں گے تاہم یہ واضح نہیں کہ اس ملاقات کے دوران سرمایہ کاری یا کاروباری بات چیت بھی ہو پائے گی۔

    یاد رہے کہ رواں سال فروری میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے انڈیا کا دورہ کیا تھا جہاں ان کے ملک نے مختلف صنعتوں میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔

  5. ترکی میں یوکرین امن مذاکرات: زیلنسکی کو دعوت دے کر پوتن کا نام روس سے شرکت کرنے والے عہدیداروں کی فہرست سے غائب, ایک ایکمان، ٹام بیٹمین، بی بی سی نیوز

    ترکی کے شہر استنبول میں جمعرات کے روز یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کی روک تھام کے حوالے سے فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے حوالے سے اہم مانا جا رہا ہے تاہم کریملن نے روس کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کرنے والے حکام کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کا نام شامل نہیں۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمر زیلنسکی نے مذاکرات کے لیے روسی صدر کی شرکت کی شرط رکھی تھی۔ کریملن کے بیان کے مطابق روسی وفد کی قیادت صدارتی مشیر ولادیمر میدینسکی کریں گے۔

    اس حوالے سے یوکرینی صدر زیلنسکی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر روسی صدر نے مذاکرات میں شرکت کی حامی بھری تو ہی وہ ان مذاکرات میں شریک ہوں گے اور پوتن سے بالمشافہ ملاقات کریں گے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے حالانکہ انھوں نے اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ اگر روسی صدر پوتن شریک ہوں تو وہ بھی آئیں گے۔

    یوکرینی صدر زیلینسکی کی آج (جمعرات کو) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں صدر رجب طیب اردوغان سے ملاقات طے شدہ ہے۔

    اور زیلنسکی اس بات کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ استنبول میں روس کے ساتھ امن مذاکرات میں براہِ راست شامل ہو سکتے ہیں اگر صدر پوتن بھی اس میز پر آئے۔

    بدھ کی شب اپنے ویڈیو خطاب میں صدر زیلنسکی نے کہا تھا کہ،

    ’میں ابھی دیکھ رہا ہوں کہ روس کی جانب سے کون آئے گا، اور پھر فیصلہ کروں گا کہ یوکرین کو کیا قدم اٹھانا چاہیے۔ اب تک ان کے میڈیا میں آنے والے اشارے غیر تسلی بخش ہیں۔‘

    یاد رہے کہ صدر پوتن اور زیلنسکی کی آخری ملاقات دسمبر 2019 میں ہوئی تھی۔

    روس اور یوکرین کے درمیان آخری براہِ راست مذاکرات مارچ 2022 میں استنبول میں ہوئے تھے جب ماسکو نے اپنے ہمسایہ ملک پر مکمل اور شدید حملہ کیا تھا اور تب سے اب تک دونوں ممالک کے درمیان جنگ جاری ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران روسی افواج نے آہستہ آہستہ یوکرین کے مشرقی حصوں میں مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

    صدر پوتن کی براہِ راست مذاکرات کی تجویز اس وقت آئی تھی جب یورپی ممالک کی جانب سے نے ہفتے کے روز کییومیں ملاقات کے بعد 30 دن کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    اتوار کو جب ٹرمپ نے یوکرین پر اس پیشکش کو قبول کرنے پر زور دیا تو صدرزیلنسکی نے کہا کہ وہ خود مذاکرات کے لیے جائیں گے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ ’قتل و غارت کو طول دینا بے فائدہ ہے۔ اور میں جمعرات کو ترکی میں پوتن کا انتظار کروں گا‘

    روس اور یوکرین کے لیے ممکنہ طور پر ایک عظیم دن ہو گا: ٹرمپ

    اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا تھا کہ اگر پوتن آئے تو وہ خود بھی اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ قطر میں موجود امریکی صدر نے صحافیوں سے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ روسی صدر آئیں گے یا نہیں۔

    ’میں جانتا ہوں کہ وہ چاہیں گے کہ میں وہاں موجود ہوں، اور یہ ممکن ہے۔ اگر ہم جنگ کا خاتمہ کر سکیں، تو میں ضرور اس بارے میں غور کروں گا۔‘

    امریکہ کی جانب سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطحی وفد بھیجے جانے کی توقع ہے۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو بدھ کو ترکی پہنچے جہاں وہ آج نیٹو کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

    مارکو روبیو جمعے کو استنبول روانہ ہوں گے جہاں وہ یورپی وزرائے خارجہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کریں گے تاکہ یوکرین میں جنگ پر بات کی جا سکے۔

    یاد رہے کہ صدر ٹرمپ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ روس اور یوکرین ایک معاہدے کے بہت قریب تھے۔

    اتوار کو جب صدر پوتن نے براہِ راست مذاکرات کی تجویز دی تو ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’روس اور یوکرین کے لیے ممکنہ طور پر ایک عظیم دن ہو گا۔‘

  6. اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں کے انخلا کے احکامات جاری کر دیے, وائر ڈیویس، بی بی سی نیوز

    اسرائیل نے غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے پیمانے پر شہریوں کے انخلا کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    جنگ کے باعث غزہ شہر کا ایک بڑا حصہ، جو پہلے ہی بمباری سے جزوی طور پر تباہ ہو چکا ہے، غیر محفوظ قرار دے دیا گیا ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے وہاں پناہ لینے والے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی افواج (آئی ڈی ایف) کے ’شدید حملوں‘ سے قبل اپنی حفاظت کے لئے وہاں سے چلے جائیں۔

    اسرائیل نے جن عمارتوں کی نشاندہی کی ہے ان میں اسلامک یونیورسٹی، الشفا ہسپتال اور پناہ گزین عمارتوں میں تبدیل ہونے والے تین سکول شامل ہیں۔

    اسرائیل کا الزام ہے کہ حماس ان عمارتوں کو ’کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے جبکہ مقامی حکام اور امدادی اداروں کا دعویٰ ہے کہ وہاں ہزاروں شہری پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    امدادی اداروں نے متنبہ کیا ہے کہ ان علاقوں کو خالی کرنے میں وقت درکار ہوگا اور حملے کی صورت میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔

    یاد رہے کہ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے غزہ میں اپنی فوجی مہم کو نمایاں طور پر وسعت دینے کی دھمکی کی علامت ہے۔

    'جو کچھ ہو رہا ہے زیادہ تر اسرائیلی اس کے خلاف ہیں‘: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ

    اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ ان چند سینئر اسرائیلیوں میں شامل ہیں جنھوں نے غزہ میں فوجی مہم کو وسعت دینے کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

    بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا کہ ' جو کچھ ہو رہا ہے زیادہ تر اسرائیلی اس کے خلاف ہیں، فوج کے کمانڈروں کی ایک بڑی تعداد فوجی آپریشن میں توسیع کے خلاف ہے اورجنگ کا فوری خاتمہ چاہتی ہے۔'

    یاد رہے کہ اولمرٹ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم بینامین نیتن یاہو کے ناقد ہیں اور ان کے خیالات ملک کی ساکھ ، معیشت اور بین الاقوامی حیثیت پر 20 ماہ طویل جنگ کے اثرات کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتے ہیں۔

    اولمرٹ نے غزہ کے باشندوں پر جنگ کے انسانی اثرات پر بھی کھل کر بات کی۔ حکومت کے حامی اداروں کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے لابنگ کا الزام عائد کیے جانے پر سابق اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ 'یہ مکمل طور پر ناقابل برداشت، ناقابل قبول اور ناقابل معافی ہے، اسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں آبادی کی تمام انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے. ہم اخلاقی طور پر غزہ میں قحط کے آغاز کی اجازت نہیں دے سکتے۔ یہ بند ہونا چاہئے.‘

    یاد رہے کہ فرانسیسی صدر نے غزہ میں اسرائیل کے اقدامات کو ’شرمناک‘ قرار دے چکے ہیں جس پر نیتن یاہو نے ان پر ’حماس کی حمایت میں کھڑے ہونے‘ کا الزام لگایا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی تقریبا 2.1 ملین فلسطینی آبادی قحط کے ’سنگین خطرے‘ سے دوچار ہے اور غذائی عدم تحفظ کی انتہائی نچلی سطح کا سامنا کر رہی ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق مناسب غذائیت سے بھرپور خوراک، صاف پانی اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے بغیر ایک پوری نسل مستقل طور پر متاثر ہوگی۔

    ادھر اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'اسرائیل یقینی طور پر غزہ کو بھوکا نہیں چھوڑ رہا ہے۔'

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ مجھے اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ غزہ میں بھوک ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اس بھوک کا زمہ دار حماس ہے۔ غزہ میں خوراک کے ذخائر موجود ہیں اور قحط کی صورت حال نہیں۔‘

  7. آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا: وزیراعظم شہباز شریف کا پسرور چھاؤنی میں فوجی جوانوں اور افسران سے خطاب

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کی فرنٹ لائن پسرور چھاؤنی سیالکوٹ کا دورہ کیا جہاں انھوں نے انڈیا پاکستان کی حالیہ کشیدگی میں غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے والے فوجیوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ’آپ نے انڈیا سے 1971 کا بدلہ اس جنگ میں لے لیا ہے۔‘

    وزیراعظم شہباز نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مسٹر مودی اگر دوبارہ یہ رستہ اختیار کرو گے تو منھ کی کھاو گے، اگر دوبارہ حملے کا سوچا تو جو تمھارا بچا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے کے دوران وزیراعظم کو آپریشن کو تفصیلات اور تیاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ خارجہ، دفاع، منصوبہ بندی اور اطلاعات کے وفاقی وزرا بھی تھے جبکہ فوج کے سربراہ جنرل سید عاصم منیر اور پاکستان فضائیہ کے ایئرمارشل سربراہ ظہیر احمد بابر سدھو بھی تھے۔

    وزیراعظم شہباز نے اپنے خطاب میں انڈین قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’سندھ طاس معاہدے سے متعلق کبھی سوچنا بھی نہ۔ اگر آپ نے پانی بند کرنے کا سوچا بھی تو وہ ریڈ لائن ہے تو واقعی پھر خون اور پانی اکھٹا نہیں بہے گا۔ پھر یہ کڑیل جوان پانی کا اپنا حق واپس لیں گے اور اس کو موجودہ صورتحال میں اسی طرح قائم رکھیں گے۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’انڈیا یہ سمجھتا تھا کہ روایتی جنگ میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ مگر جس طرح اس محاذ پر ہماری فوج نے مقابلہ کیا اب اس پر ماہرین کی طرف سے کالم لکھے جائیں گے۔‘

    وزیراعظم نے فوجی جوانوں اور افسران سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’میں آج یہاں ایک ایک افسر کوسلام پیش کرنے آیا ہوں، جس طرح آپ نے پاکستان کا وقار بڑھایا، اس کے لیے میرے پاس موزوں الفاظ نہیں ہیں۔ ‘

    ’ہم امن اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے انڈیا کے وزیراعظم کو مخاطب ہو کر کہا کہ ’ہم تیار ہیں امن کے لیے بھی اور جنگ کے لیے بھی، چوائس آپ کی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’تم نے نیلم جہلم کو تباہ کرنے کی کوشش کی، اس کا زیادہ نقصان نہیں ہوا مگر آپ اگر اسے تباہ کرتے تو ہم تمھارے بگلہیار سمیت دیگر اثاثے تباہ کر دیتے۔‘

    شہباز شریف نے وزیراعظم مودی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم صرف دہشتگردی پر بات کریں گے۔

    پاکستان کے وزیراعظم نے کہا کہ مودی کو مخاطب ہو کر کہا کہ 1971 میں مکتی باہنی کو کس نے تربیت دی، کس نے انھیں بغاوت پر اکسایا۔ سمجھوتہ ٹرین پر کس نے حملہ کیا تھا۔ بلوچستان میں جو ٹرین اغوا کا افسوسناک واقعہ ہوا اس میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے تانے بانے آپ سے ملتے ہیں۔‘

    ’مربوط ڈائیلاگ ہو گا‘

    شہباز شریف نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم تھانیدار نہیں ہیں ہم خطے میں امن چاہتے ہیں۔ آؤ آگ کو ختم کریں۔‘ شہباز شریف نے کہا کہ مربوط ڈائیلاگ ہوگا۔ اس کے بغیر میٹھا میٹھا ہپ ہپ ہم نہیں ہونے دیں گے۔‘

  8. اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں آگے بڑھنے سے پہلے یاد دہانی کے لیے گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات پیش خدمت ہیں۔

    • بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں جشن فتح پاکستان جلسے میں شرکت کے لیے آنے والی ایک ریلی پر بم حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور11 زخمی ہوگئے ہیں۔
    • انڈیا کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے افواج پاکستان کے مزید دو فوجی اہلکار حوالدار محمد نوید اور پاکستان فضائیہ کے سینیئر ٹیکنیشن محمد ایاز دم توڑ گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ زخمی اہلکاروں کی تعداد 78 ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے عبوری صدر احمد الشرح سے سعودی عرب میں ہونے والی ملاقات میں انھیں اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے اور ملک سے غیرملکی ’دہشتگردوں‘ کو نکالنے کا مطالبہ کیا ہے
    • انڈیا کے ادارے بارڈر سکیورٹی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ بدھ کے روز بی ایس ایف کے کانسٹیبل پرنم کمار شو کو پاکستان نے واپس انڈیا کے حوالے کر دیا ہے۔
    • عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ایک ارب دو کروڑ ڈالر سے زائد رقم کی قسط موصول ہوگئی ہے۔
    • پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں سلیمان خان اور قاسم خان نے ایک انٹرویو کے دوران عمران خان کی رہائی کے حوالے سے مطالبہ کیا ہے کہ ’اپنے والد عمران خان کی رہائی کے لیے ہم ہر اُس حکومت سے اپیل کریں گے، جو آزادیٔ اظہار اور حقیقی جمہوریت کی حامی ہو اس معاملے پر توجہ دینے کے لیے ٹرمپ سے بہتر اور کون ہوسکتا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کی قیادت غیر متزلزل اور طاقتور اور ذہین ہے، دونوں ممالک نے موجودہ کشیدہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور امید ہے یہ جنگ بندی مستقل ہو گی۔
  9. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں خوش آمدید

    بی بی سی اردو کی ٹیم آپ کو نئے لائیو پیج میں خوش آمدید کہتی ہے۔ اس صفحے پر آپ کو پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں سے آگاہ رکھا جائے گا۔

    اگر آپ 14 مئی کی خبروں کو پڑھنا چاہیں تو اس لنک پر کلک کیجیئے۔