پاکستان کی سینیٹ میں اجلاس کے
دوران نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ ’سندھ طاس معاہدے پر حملے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں
کیا جائے گا اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے پہلے بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ سندھ
طاس معاہدے کے خلاف جانے کے اقدام کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔‘
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز
شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ’ہم ہمیشہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سندھ
طاس معاہدے کا دفاع کریں گے۔‘
نائب وزیرِ
اعظم کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے جن مقامات کو
نشانہ بناتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
ہے وہاں ایسا کُچھ بھی نہیں۔‘
پاکستان کی سینیٹ میں اجلاس کے
دوران خطاب کرتے ہوئے نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ’انڈیا کی جانب سے پاکستان
کے صوبہ پنجاب میں چار اور پاکستان کے
زیرِ انتظام کشمیر میں دو مقامات پر 24 پے لوڈز ریلیز کیے، جہاں ایک بھی دہشت
گردوں کا ٹھکانہ نہیں ہے۔‘
انھوں نے
مزید کہا کہ ’پاکستان کے کسی ایک بھی لڑاکا طیارے کو نقصان نہیں پہنچا اور اس کے
برعکس انڈیا کے چھ لڑاکا طیارے گرائے گئے، اس کے بعد انڈیا کی جانب سے کہا گیا کہ پاکستان
نے 15 فوجی مقامات کو انڈیا میں نشانہ بنایا ہے اور اس بات کو دُنیا میں خوب
پھیلایا۔‘
نائب
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اس سب کے بعد انڈیا کی جانب سے ڈرونز کا سہارا لیا گیا
اور پاکستان پر ڈرونز سے حملے کیا گیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نے انڈیا
کی جانب سے پاکستان پر حملے کے بعد اس بارے میں ہم نے تمام دُنیا کو کہا ہے کہ آ
کر دیکھیں کہ انڈیا جن مقامات کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں
وہیں دراصل ہے کیا۔‘
اسحاق ڈار
کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں پاکستان کے 11 فوجی اور
40 عام شہری ہلاک جبکہ 199 افراد زخمی ہوئے۔‘
انڈیا اور پاکستان نے دریائے سندھ اور معاون دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے لیے عالمی بینک کی ثالثی میں نو برس کے مذاکرات کے بعد ستمبر 1960 میں سندھ طاس معاہدہ کیا تھا۔
اس وقت انڈیا کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے سربراہ مملکت جنرل ایوب خان نے کراچی میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے اور یہ امید ظاہر کی گئی تھی کہ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے کاشتکاروں کے لیے خوشحالی لائے گا اور امن، خیر سگالی اور دوستی کا ضامن ہو گا۔
دریاؤں کی تقسیم کا یہ معاہدہ کئی جنگوں، اختلافات اور جھگڑوں کے باوجود 65 برس سے اپنی جگہ قائم ہے۔
اس معاہدے کے تحت انڈیا کو بیاس، راوی اور دریائے ستلج کے پانی پر مکمل جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، چناب اور جہلم کے پانی پر اختیار دیا گیا تھا تاہم ان دریاؤں کے 80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق ہے۔
انڈیا کو مغربی دریاؤں کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کرنے کا حق ہے لیکن وہ پانی ذخیرہ کرنے یا اس کے بہاؤ کو کم کرنے کے منصوبے نہیں بنا سکتا۔ اس کے برعکس اسے مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اور ستلج پر کسی بھی قسم کے منصوبے بنانے کا حق حاصل ہے جن پر پاکستان اعتراض نہیں کر سکتا۔
معاہدے کے تحت ایک مستقل انڈس کمیشن بھی قائم کیا گیا جو کسی متنازع منصوبے کے حل کے لیے بھی کام کرتا ہے تاہم اگر کمیشن مسئلے کا حل نہیں نکال سکتا تو معاہدے کے مطابق حکومتیں اسے حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ، معاہدے میں ماہرین کی مدد لینے یا تنازعات کا حل تلاش کرنے کے لیے ثالثی عدالت میں جانے کا طریقہ بھی تجویز کیا گیا تھا۔