افغانستان سے کیے گئے ڈرون حملے میں چینی کمپنی کے تین ملازمین ہلاک: تاجکستان کا دعویٰ

تاجکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ ایک ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے جس میں گرینیڈز اور اسلحہ نصب تھا۔‘

خلاصہ

  • ہانگ کانگ کے فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ٹاور بلاک میں آگ لگنے سے ہلاکتوں کی تعداد 65 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 70 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
  • ایف آئی اے لاہور زون کے ڈائریکٹرکیپٹن ریٹائرڈ علی ضیا نے ایئرپورٹس پر لوگوں کو مبینہ طور پر جہاز سے اتارنے کے واقعات کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ 'گمراہ کن اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز اور غلط معلومات' پر مبنی ہیں۔
  • بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو کرپشن کے مقدمات میں 21 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
  • وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی: مبینہ حملہ آور افغان شہری ہے، ٹرمپ نے واقعے کو 'دہشتگردی' قرار دے دیا
  • امریکہ کا افغان شہریوں کی امیگریشن کی درخواستیں معطل کرنے کا اعلان

لائیو کوریج

  1. ہانگ کانگ میں رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ کی چند تازہ تصاویر

    ہانگ کانگ میں رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ کی چند تازہ تصاویر۔ ان تصاویر کو دیکھ کر آگ کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    اب تک کی اطلاعات کے مطابق آگ لگنے کے اس واقع میں 13 افراد ہلاک اور 28 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم آگ پر قابو پانے کے لیے عملے کے 700 سے زیادہ ارکان کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. اسرائیلی فوج کی شمال مغربی کنارے میں کارروائی، 22 فلسطینی گرفتار

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں مغربی کنارے کے شمالی حصے میں وسیع پیمانے پر فوجی آپریشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’آئی ڈی ایف، شِن بیت اور بارڈر پولیس نے مغربی کنارے کے شمالی حصے میں بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی آپریشن شروع کیا ہے۔‘

    فلسطینی خبر رساں ادارے وفا کے مطابق طوباس میں جاری فوجی کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔

    طوباس کی انتظامیہ کے ڈائریکٹر کمال بنی عودہ نے کہا کہ ’اب تک اسرائیلی فورسز نے 22 فلسطینی شہریوں کو حراست میں لے رکھا ہے، جنھیں شہر طوباس، قصبوں عقابہ، طمون اور ایک دہی علاقے طیاسیر پر کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔‘

    اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ ’دہشت گردی کو اس علاقے میں جڑیں نہیں پکڑنے دیں گے اور وہ اس کو ناکام بنانے کے لیے بروقت اقدامات کر رہے ہیں۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ یہ اقدام ’ایک نیا آپریشن ہے اور اس کا تعلق اس آپریشن سے نہیں ہے جو جنوری 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔‘

  3. ہانگ کانگ میں رہائشی اپارٹمنٹس میں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی

    ،ویڈیو کیپشنہانگ کانگ میں رہائشی اپارٹمنٹس میں لگنے والی آگ کے مناظر

    ہانگ کانگ میں متعدد رہائشی عمارتوں میں لگنے والی آگ میں ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ 28 افراد شدید زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق رہائشی اپارٹمنٹس میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور 700 سے زیادہ آگ بجھانے والے عملے کے اراکان اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔

    پولیس کی جانب سے قریبی عمارتوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور تاحال آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    فائر سروسز ڈیپارٹمنٹ کی چو وِنگ یِن نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ’13 ہلاک ہونے والوں میں سے نو افراد کو موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا تھا۔‘

    اب تک سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارتوں سے شعلے اور دھوئیں کے بادل اٹھ رہے ہیں، تاہم متعدد لوگوں کے ان عمارتوں میں پھنس جانے کا خدشہ ہے۔

    عمارتوں میں لگ جانے والی آگ پر قابو پانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    وانگ فُک کورٹ نامی یہ ایک نیا علاقہ ہے اور جہاں آگ لگی ہے وہ ایک رہائشی کمپلیکس ہے۔ اس عمارتوں میں ایک ایسے وقت میں آگ لگی ہے کہ جب ان میں مرمت کا عمل جاری ہے۔

    اس رہائشی سکیم میں 1984 فلیٹس شامل ہیں اور یہاں تقریباً 4000 لوگ آباد ہیں۔

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    EPA/Shutterstock

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  4. عمران خان اکیلے مجرم نہیں، اُن کو لانے والے اُن سے بھی بڑے مُجرم ہیں: نواز شریف

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے نو منتخب ارکانِ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان اکیلے مجرم نہیں اُن کو لانے والے اُن سے بھی بڑے مُجرم ہیں۔ ان سب کا برابر حساب ہونا چاہیے۔ سنہ 2018 سے 2022 تک جو ہوا اس کی ذمہ داری اُن کے سر پر ہے۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’حکومتی اقدامات کی وجہ سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی ہے۔ ہم نے اپنے گزشتہ دور میں آئی ایم ایف سے جان چھڑائی تھا مگر اُن کے دورِ حکومت میں ہم پر ایک مرتبہ پھر سے آئی ایم اف کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ ’آج ایک مرتبہ پھر سے ن لیگ کی حکومت کی درست سمت اور بہترین معاشی پالیسی کی وجہ سے مُلک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، غریب کو مفت طبی سہولیات مل رہیں ہیں، سر پر چھت مل رہی ہے۔‘

    نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہمارے دورِ حکومت کے خاتمے کے بعد بہت تباہی ہوئی معیشت، امن و امان، اخلاقیات اور مُلک و قوم کا دیوالیہ نکال دیا گیا۔ اب ضمنی انتخابات میں لوگوں نے کارکردگی کو ووٹ دیا ہے۔‘

    واضح رہے کہ پاکستان میں قومی اسمبلی کی چھ اور پنجاب اسمبلی کی سات نشستوں پر چند روز قبل ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن نے تمام حلقوں کے غیر سرکاری غیرحتمی نتائج جاری کیے۔ جن کے مطابق قومی اسمبلی کی تمام چھ نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ ن کامیاب رہی جبکہ صوبائی اسمبلی کی سات میں سے چھ نشستوں پر پاکستان مسلم لیگ جبکہ ایک پر پاکستان پیپلز پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔

  5. ایران کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    ISPR

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی اردشیر لاریجانی نے چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ملاقات کی۔

    ملاقات میں دوطرفہ تعاون، علاقائی سکیورٹی کے امور اور پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں سٹریٹجک تعاون کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

    علی لاریجانی نے خطے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے میں پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف کیا اور ایران پاکستان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ انھوں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مکالمے اور شراکت داری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز علی اردشیر لاریجانی نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔

    اس ملاقات کے دوران فریقین نے اہم علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا، جبکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا تھا۔

  6. کارونجھر پہاڑی سلسلے کی کٹائی: سندھ حکومت کی آئینی عدالت میں اپیل پر سماعت ملتوی، وکلا کا احتجاج, ریاض سہیل, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    کارونجھر

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں کارونجھر کی پہاڑیوں کی کٹائی کا معاملہ ایک بار پھر ابھر کر سامنے آ گیا ہے۔ ایک طرف جہاں صوبائی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے تو وہیں دوسری جانب کراچی سے کارونجھر تک اس پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔

    گذشتہ سال سندھ ہائی کورٹ نے کارونجھر پہاڑی کے سلسلے کو ورثہ قرار دے دیا تھا۔ اس سے قبل سندھ کی صوبائی حکومت نے پہاڑ کے صرف 16 فیصد حصے کو قومی ورثہ قرار دے کر باقی کی کٹائی جائز قرار دے دی تھی۔

    یاد رہے کہ اکتوبر 2023 میں کارونجھر کو ثقافتی ورثہ قرار دیا تھا جس کے بعد سندھ کی کابینہ کے ایک اجلاس میں اعلان کیا گیا کہ کارونجھر کے 21 ہزار ایکڑ رقبے کو محفوظ ورثہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم وکلا نے اس حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا اور عدالت نے پورے پہاڑی سلسلے کو ثقافتی ورثہ قرار دے دیا۔

    27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں آئینی عدالتوں کے قیام کے بعد سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو اسلام آباد میں آئینی عدالت میں چئلینج کیا جہاں بدھ کے روز جسٹس امین الدین کی سربراہی میں بینچ نے اس کی سماعت کی۔

    سماعت کے موقع پر سندھ حکومت کے وکیل نے مہلت مانگی جس کے بعد سماعت ملتوی کردی گئی۔

    احتجاج

    خیال رہے کہ اس مقدمے میں سندھ حکومت کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین اس کیس کی پیروی کر رہے تھے جو چند روز قبل اس سے دستبردار ہو گئے تھے۔

    دوسری جانب، کراچی بار کی جانب سے کارونجھر پہاڑی سلسلے کی کٹائی کے خلاف وکلا نے وزیر اعلیٰ ہاؤس کی جانب مارچ کیا تاہم انھیں راستے میں ہی روک دیا گیا۔

    احتجاج کی قیادت کراچی بار کے صدر عامر وڑائچ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کو یاد داشت دینا چاہتے ہیں کہ سندھ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جو اپیل دائر کی ہے اس سے دستبردار ہو جائیں۔

    دریں اثنا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاھ کا کہنا ہے کہ کارونجھر اثاثہ ہے اور کسی صورت اس کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ تاہم ساتھ ہی انھوں نے تھر کول پراجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ اس کی بھی مخالفت کر رہے تھے لیکن آج تھر پاکستان بدل رہا ہے۔

    ان کے مطابق کارونجھر کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حکومت کبھی بھی اس پر سمجھوتہ نہیں کرے گی تاہم اس کی ترقی میں جو رکاوٹیں حائل ہیں انھیں ضرور بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ پاکستان فوج کے زیر انتظام سرمایہ کاری کے لیے قائم ادارے ایس آئی ایف سی کے منصوبے میں کارونجھر پہاڑی سے گرینائیٹ حاصل کرنا بھی شامل ہے جس کے لیے مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی ہے۔

    کارونجھر سے گرینائیٹ کی ایک لیز ایف ڈبلیو او کے پاس بھی تھی تاہم مقامی عدالت نے ادارے کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔

    کارونجھر کی کٹائی کے خلاف نگرپارکر شہر میں بھی احتجاجی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ اس کیمپ کی قیادت الھرکھیو کھوسو کر رہے ہیں جو کئی سالوں سے کارونجھر کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    کارونجھر

    ،تصویر کا ذریعہMustafa Dal

  7. آخری رسومات سے قبل تابوت سے دستک کی آوار: ’تابوت کھولا تو خاتون کی آنکھیں ہلکی سی کھلی ہوئی تھیں‘

    مےت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کے مضافات میں ایک بدھ مت کے مندر میں مردہ تصور کی جانے والی ایک خاتون آخری رسومات سے قبل تابوت سے زندہ نکل آئیں۔

    مندر کے جنرل منیجر پیرات سودتھوپ نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ انھیں تابوت سے ہلکی سی دستک کی آواز سنائی دی۔

    سودتھوپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے عملے کو تابوت کھولنے کے لیے کہا۔ ان کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو دیکھا کہ خاتون ’اپنی آنکھیں ہلکی سی کھول کر تابوت کی دیوار پر دستک دے رہی ہیں‘

    ’وہ شاید کافی دیر سے دستک دے رہی تھی۔‘

    65 سالہ خاتون کے بھائی نے بتایا کہ مقامی حکام نے انھیں بتایا تھا کہ ان کی بہن کی موت واقع ہو گئی ہے۔ تاہم، مندر کے منیجر کا کہنا ہے کہ اس شخص کے پاس اپنی بہن کی موت کا سرٹیفکیٹ نہیں ہے۔

    جب سودتھوپ خاتون کے بھائی کو موت کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا طریقہ سمجھا رہے تھے تو تو مندر کے عملے کو تابوت کے اندر سے ایک ہلکی سی دستک سنائی دی۔

    ایک بار جب یہ واضح ہو گیا کہ خاتون زندہ ہیں، مندر کے سربراہ نے کہا کہ خاتون کو فوری طور پر ہسپتال لے جانا چاہیے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق، بعد ازاں ایک ڈاکٹر نے اس بات کی تصدیق کی کہ خاتون کو شدید ہائپوگلیسیمیا کا سامنا تھا۔ یہ ایک ایسی طبی حالت ہوتی ہے جس میں خون میں شوگر کی سطح انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ انھوں نے اس بات کا امکان مسترد کر دیا کہ خاتون کی سانس بند ہو گئی تھی یا انھیں دل کا دورہ پڑا تھا۔

    مندر کے مینیجر کے مطابق، خاتون کے بھائی نے بتایا تھا کہ ان کی بہن پچھلے دو سالوں سے بستر پر ہے اور ان کی حالت مسلسل خراب ہو رہی تھی اور سنیچر کے روز ایسا لگا جیسے ان کی سانس بند ہو گئی ہے۔

    خاتون کا خاندان آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے تھائی لینڈ کے صوبے فٹسانولوک سے تقریباً 500 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بنکاک پہنچے تھے۔

  8. پاکستان میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ: 59 لاکھ بیروزگاروں میں سے دس لاکھ اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے حامل, تنویر ملک، صحافی

    لیبر مزدور

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں2021 سے 2025 کے درمیان بیروزگار افراد کی تعداد میں 14 لاکھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ چار سال قبل ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 45 لاکھ تھی جو مالی سال 2025 کے اختتام تک 59 لاکھ ہو گئی۔

    پاکستان کی وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے سال 25-2024 کے لیے جاری کیے جانے والے لیبر فورس سروے کے مطابق، ملک میں بیروزگاری کی شرح 2021 میں 6.3 فیصد تھی جو مالی سال 2025 میں بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

    سروے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بیروزگار افراد کی سب سے بڑی تعداد صوبہ پنجاب میں ہے جہاں تقریباً 35 لاکھ افراد روزگار سے محروم ہیں۔ خیبر پختونخواہ میں بیروزگار افراد کی تعداد 12 لاکھ جبکہ سندھ میں یہ تعداد دس لاکھ ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں دو لاکھ افراد بیروزگار ہیں۔

    وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں 38 لاکھ مرد جبکہ 21 لاکھ خواتین بیروزگار ہیں۔

    لیبر فورس سروے کے مطابق، ملک میں تمام عمر کے افراد میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔

    کل 59 لاکھ بیروزگار افراد میں سے 46 لاکھ یعنی 77.5 فیصد افراد پڑھے لکھے ہیں۔ سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دس لاکھ افراد اعلیٰ تعلیمی ڈگریوں کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ بیروزگار افراد کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق 15 سے 29 سال کی عمر کے گروہ سے ہے۔

    سروے میں سامنے آیا ہے کہ سنہ 21-2020 میں روزگار میں زرعی شعبے کا حصہ 37.4 فیصد تھا جو 25-2024 میں کم ہو کر33.1 فیصد رہ گیا۔ دوسری جانب خدمات (سروسز) کے شعبے کا حصہ 37.2 فیصد سے بڑھ کر 41.2 فیصد ہو گیا۔ روزگار میں صنعت (انڈسٹری) کے شعبے کا حصہ 25.4 فیصد معمولی کمی کے ساتھ 24.9 فیصد پر پہنچ گیا ہے۔

    لیبر فورس سروے کے مطابق، دیہی علاقوں میں بیروزگاری 5.8 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد ہو گئی جبکہ شہری علاقوں میں یہ تناسب 7.3 فیصد سے بڑھ کر آٹھ فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    ’آبادی میں اضافے پر قابو نہ پایا گیا تو 2040 تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی‘

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے لیبر فورس سروے جاری کرتے ہوئے کہا کہ آبادی میں تیز رفتار اضافے نے قومی ایمرجنسی کی صورت اختیار کر لی ہے جس پر فوری قابو پانا ناگزیر ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر آبادی میں اضافے پر قابو نہ پایا گیا تو 2040 تک ملک کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ صحت مند اور باصلاحیت نسل کی تشکیل کے لیے آبادی پر مؤثر کنٹرول نا گزیر ہو چکا ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت صوبوں کے ساتھ مل کر قومی آبادی منصوبہ بندی پر مؤثر حکمتِ عملی تیار کر رہی ہے۔

    احسن اقبال نے کہا آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو آنے والے برسوں میں ملک کو بڑے سماجی و معاشی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  9. یوکرین کا کہنا ہے کہ امریکی امن منصوبے پر اتفاق ہو گیا، ٹرمپ کی اپنے خصوصی ایلچی کو پوتن سے ملاقات کی ہدایت

    ٹرمپ زیلنسکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یوکرین کا کہنا ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کے مسودے پر امریکہ کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے۔

    یہ مسودہ گذشتہ ہفتے امریکہ کی طرف سے کئیو کو پیش کیے گئے 28 نکاتی منصوبے پر مبنی ہے، جس پر امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان جنیوا میں مذاکرات ہوئے تھے۔

    سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کی بنیاد پر منصوبے میں ترامیم کر دی گئی ہیں۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کو اگلے ہفتے ماسکو میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ امریکی سیکریٹری برائے فوج ڈین ڈرسکول کی اس ہفتے یوکرینی رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے۔

    منگل کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ وہ بقایا ’حساس نکات‘ پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ٹرمپ سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ ان کی انتظامیہ اس ماہ کے اختتام سے قبل ملاقات کی کوشش کر رہی ہے۔

    اس سے قبل یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ جنگ ​​کے خاتمے کے لیے متنازع 28 نکاتی امن منصوبے میں مجوزہ تبدیلیوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’اب جنگ کے خاتمے کے لیے ضروری اقدامات کی فہرست قابل عمل ہو سکتی ہے۔‘

  10. دبئی کے حکمران شیخ محد کے بھتیجے اور سابقہ ​​اہلیہ کے درمیان بچوں کی حوالگی کا تنازعہ: ’وہ مجھے میری بچیوں سے دوبارہ کبھی نہیں ملنے دیں گے‘

    زینب جوادلی

    دبئی کے شاہی خاندان کے ایک رکن کی سابقہ ​​اہلیہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے سابق شوہر نے مقامی پولیس میں ان کے خلاف اپنی تین کمسن بیٹیوں کے اغوا کا الزام لگایا ہے۔

    زینب جوادلی کی 2019 میں اپنے سابق شوہر شیخ سعید بن مکتوم بن راشد المکتوم سے طلاق کے بعد سے دونوں میں بچوں کی حوالگی کو لے کر لڑائی جاری ہے۔ شیخ سعید دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے بھتیجے ہیں۔ زینب جوادلی اور شیخ سعید ایک دوسرے پر بچوں کے اغوا کا الزام لگاتے آئے ہیں۔

    اپنے برطانوی وکیل ڈیوڈ ہے کو بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں زینب جوادلی کا کہنا تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ یہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کا ان کا آخری موقع تھا اس لیے انھیں لائیو اسٹریم میں مدد کے لیے پکارنے کا فیصلہ کیا۔

    ’مجھے پتا تھا کہ یہ اپنے بچوں کے ساتھ رہنے کا آخری موقع تھا کیونکہ وہ مجھے دوبارہ کبھی نہیں ملنے دیں گے۔‘

    ان کا دعویٰ ہے کہ کئی ہفتوں بعد وہ اپنی بیٹیوں کو ان کے والد کے پاس سے واپس لے آئی تھیں اور تب سے وہ اپنے گھر میں بند ہو کر رہ رہی ہیں۔

    اس سے قبل ایک معاہدے کے تحت تینوں بچیوں کی تحویل جوادلی کے پاس تھی۔ ان کے بقول یہ معاہدہ 2022 میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ طے پایا تھا جس میں یہ ضمانت دی گئی تھی کہ جب تک بچیاں 18 سال کی نہیں ہو جاتیں وہ اپنی والدہ کے ساتھ رہیں گی۔ اس کے علاوہ معاہدے کے تحت رہائش اور دیگر اخراجات ادا کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا جبکہ بچوں کے تعلیمی اخراجات ان کے والد ادا کر رہے ہیں۔

    ڈیوڈ ہے کا کہنا ہے کہ اس کے بدلے میں انھیں کچھ دستاویزات پر دستخط کرنے پڑے تھے جس کے تحت ان پر میڈیا سے بات کرنے اور مزید لائیو سٹریمنگ کرنے پر پابندی تھی۔

    بعد ازاں ایک عدالتی فیصلے نے بچوں کی تحویل شیخ سعید کو دے دی تھی تاہم جوادلی کہتی ہیں کہ انھیں یقین دہانیاں کروائی گئی تھیں کہ اس فیصلے کا اثر دبئی کے حکمران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر نہیں پڑے گا۔

    دو ماہ قبل جب بچیاں اپنے والد سے ملنے گئیں تو انھیں دبئی پولیس کے ذریعے شیخ سعید کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا کہ انھیں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ بچیاں اس دن انھیں واپس نہیں کی جائیں گی۔

    زینب جوادلی کہتی ہیں کہ بالآخر انھیں آٹھ نومبر کو اپنی بیٹیوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تو وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ساتھ واپس لے آئیں۔

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کے سابقہ شوہر کے لیے کام کرنے والے افراد نے انھیں روکنے کی کوشش کی جس پر انھوں نے لائیو سٹریم کیا۔

    زینب جوادلی کا کہنا ہے کہ وہ تب سے گھر میں ہیں اور گرفتاری کے خوف سے باہر نہیں جا رہیں۔

    بی بی سی نے متحدہ عرب امارات میں متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے لیکن تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ تاہم عدالت میں جمع کروائے گئے جوابات سے شیخ سعید کا موقف واضح ہے۔

    آٹھ نومبر کے واقعات کے متعلق جمع کروائے گئے بیان میں شیخ سعید نے جوادلی پر زبردستی بچیوں کو اپنے ساتھ لے جانے کا الزام لگایا ہے۔ جوادلی پر سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے جس میں انھوں نے اپنے سابق شوہر پر بہتان لگانے اور ریاست کو بدنام کرنے اور ریاستی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

    جاویدلی نے الزامات کو مسترد کیا ہے اور ان کی اماراتی قانونی ٹیم نے عدالت میں اس کے برعکس ثبوت پیش کر دیے ہیں۔

  11. ’افغان طالبان کے حوالے سے ہر طرح کی اُمید ختم کر دی، اسلام آباد کو مستقبل میں بھی کابل سے اچھائی کی کوئی امید نہیں‘

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان کے حوالے سے ہر طرح کی اُمید ختم کر دی ہے اور اسلام آباد کو مستقبل میں بھی کابل کی جانب سے اچھائی کی کوئی امید نہیں۔

    منگل کو جیو نیوز کے پرواگرام ’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جب افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو انھوں نے خود انھیں خوش آمدید کہا تھا کیونکہ اُس وقت تک اچھائی کی اُمید رکھنی چاہیے جب تک کچھ بُرا نہ ہو۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے کئی مرتبہ دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر افغان طالبان سے مہذب انداز بات چیت کرنے کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہیں ہوئی لیکن اب پاکستان نے افغان طالبان کی باتوں کو سنجیدہ لینا یا اُن پر اعتماد کرنا چھوڑ دیا ہے۔

    افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کی افواج کی پر خوست میں فضائی حملے کے الزام پر پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی فوج ایک ڈسپلن فوج اور ’ہم کبھی بھی سویلینز یا عام شہریوں پر حملہ نہیں کرتے ہیں۔‘

    وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان اگر افغاانستان میں کارروائی کرے گا تو واشگاف انداز میں کرے گا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان کے دوست ممالک ترکیہ، ایران، سعودی عرب، چین اور قطر سب یہی چاہتے ہیں کہ اس خطے اور پاکستان میں امن ہو جس کا فائدہ اُن ممالک کو بھی ہو گا اور پاکستان اسی وجہ سے افغانستان کو فوری جواب نہیں دے رہا ہے۔

    یاد رہے کہ پاکستان نے کہا تھا کہ اگر کسی دہشت گرد حملے میں افغانستان کا ربط نکلا تو پاکستان فوری جوابی کارروائی کرے گا۔ حالیہ ماہ کے دوران پاکستان میں تین خودکش حملے ہوئے ہیں اور حکومت کے بقول ان کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں۔

    پاکستان کے وزیر دفاع نے کہا کہ ’افغان طالبان کس شریعت، مذہب یا اخلاقیات کی بات کرتے ہیں، دنیا کے کس معاشرے میں یہ ہوتا ہے کہ جس سرزمین پر آپ پلے بڑھے ہوں وہیں آپ آگ لگائیں اور خون ریزی کریں۔‘

    خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان اس وقت سب سے زیادہ نقصان خود افغانستان کو پہنچا رہے ہیں۔

    اُن کے بقول جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلے گا ہمارے ہمسائے ضرور مداخلت کریں گے کیونکہ زیادہ عرصے تک اس طرح نہیں چل سکتا۔

    انھوں نے واضح کیا کہ اگر حالات ایسے ہی رہتے ہیں تو افغان طالبان تنہا رہ جائیں گے اور تنہائی کے بعد آخری منزل یہ ہے کہ ان کی حکومت گر جائے گی۔

  12. پاکستان کا ’رام مندر‘ پر پرچم کشائی پر تشویش کا اظہار: عالمی برادری انڈیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور نفرت پر مبنی حملوں کا نوٹس لے، دفتر خارجہ

    نریندر مودی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان نے انڈیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور ثقافتی ورثے کی مبینہ بے حرمتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انڈیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی حملوں کی طرف توجہ مرکوز کرے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیے جانے والے ’رام مندر‘ پر پرچم کشائی پر گہری تشویش کے اظہار میں منگل کو یہ بیان جاری کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق صدیوں پرانی عبادت گاہ بابری مسجد کو چھ دسمبر 1992 کو انتہا پسند مظاہرین کی جانب سے مسمار کر دیا تھا۔ ’انڈیا میں بابری مسجد کو مسمار کرنے کے بعد عدالتی کارروائی میں ذمہ داروں کو بری کر دیا گیا اور مسجد کی جگہ پر مندر کی تعمیر کی اجازت دے دی جو انڈین حکومت کے اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے رویے کا واضح ثبوت ہے۔‘

    بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ’ انڈیا میں مذہبی اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور اکثریتی ہندوتوا نظریے کے تحت مسلم ثقافتی و مذہبی ورثے کو مسخ کرنے کے اقدامات کی ایک واضح مثال ہے۔‘

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’متعدد دیگر تاریخی مساجد کو اب بے حرمتی یا انہدام کے اسی طرح کے خطرات لاحق ہیں، جبکہ انڈیا میں رہنے والے مسلمان سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر پسماندگی کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان عالمی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ انڈیا میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور نفرت پر مبنی حملوں کی طرف توجہ دے۔‘

    دفتر خارجہ کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں کو اسلامی ورثے کے تحفظ اور تمام اقلیتوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کی ضمانت میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان انڈیا کی حکومت پر زور دیتا ہے کہ وہ مسلمانوں سمیت تمام مذہبی برادریوں اور ان کی عبادت گاہوں کی سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنا کر بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔‘

  13. پاکستان بحریہ کا اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ

    بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل

    ،تصویر کا ذریعہAPP

    پاکستان کی بحریہ نے منگل کے روز مقامی طور پر تیار کردہ بحری جہاز شکن بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    چیف آف دی نیول اسٹاف، سینیئر سائنسدانوں اور انجینئرز نے اس تجربے کا مشاہدہ کیا۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا اے پی پی کے مطابق، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (بحریہ) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے ہتھیاروں کا یہ نظام انتہائی درستگی کے ساتھ سمندری اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    بیان کے مطابق، یہ نظام جدید ترین رہنمائی اور موثر نقل وحرکت کی خصوصیات سے لیس ہے اور یہ تجربہ پاکستان کی تکنیکی مہارت اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پاکستان بحریہ کے غیر متزلزل عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

  14. خوست میں نو بچوں سمیت 10 افراد کی تدفین

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خوست میں نو بچوں سمیت دس افراد کی تدفین کر دی گئی ہے۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکے، چار لڑکیاں بھی شامل تھیں، جن کے بارے میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ یہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ پاکستانی فوج نے کیا ہے، جسے وہ افغان سرزمین پر حملہ سمجھتے ہیں اور مناسب وقت پر اس کا مناسب جواب دیں گے۔‘

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    خوست میں ایک خاندان کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’خوست حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد میرے خاندان کے افراد ہیں۔‘

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ان کے مطابق ’انھیں گذشتہ رات خبر ملی کہ ان کے بھائی کے گھر پر حملہ ہوا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ گذشتہ رات ہلاک ہونے والوں میں ایک بہن، سات بھانجے اور دو پوتیاں شامل ہیں۔

    انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن (آئی ایچ آر ایف) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ رات پاکستانی فوجی دستوں نے افغانستان کے کنڑ، خوست اور پکتیکا صوبوں پر فضائی حملے کیے۔

    بین الاقوامی تنظیم کا کہنا ہے کہ تصدیق شدہ اطلاعات بتاتی ہیں کہ حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے، جن میں تقریباً تمام خواتین اور بچے تھے۔ اس تنظیم کے مطابق ان حملوں میں کئی رہائشی عمارتیں بھی تباہ ہو گئیں۔

    افغان بچے

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اس فاؤنڈیشن کی معلومات کے مطابق صوبہ کنڑ میں چھ شہری زخمی، صوبہ پکتیکا میں ایک شہری زخمی، صوبہ خوست میں دس شہری ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں سات بچیاں اور بچے شامل ہیں۔

    تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کے آباد علاقوں پر حملے اور بڑی تعداد میں ہلاکتیں انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایچ آر ایف واقعے کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

  15. ’پاکستان اعلانیہ کارروائی کرتا ہے اور شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا‘: افغان طالبان کے الزام پر پاکستانی فوج کا جواب

    ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہISPR

    پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ وہ شہری آبادی کو نشانہ نہیں بناتی اور بغیر پیشگی اطلاع کے حملہ نہیں کرتی۔

    افغانستان کی جانب سے پاکستان پر فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزام کے جواب میں منگل کو سینیئر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی کوئی بھی فوجی کارروائی علی الاعلان ہوتی ہے۔‘

    اس سے قبل افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    انھوں نے پاکستان پر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکتیکا، خوست اور کنڑ میں فضائی حملوں کا الزام لگایا اور کہا کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور رسوائی کے سوا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔

    اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا، خوست اور کنڑ میں کیے گئے فضائی حملے نہ صرف افغانستان کی خودمختاری اور فضائی حدود کی صریح خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اصولوں اور قوانین سے بھی کھلا انحراف ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی اس نوعیت کی جارحیت سے انھیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان پاکستان کی جانب سے اپنی حدود کی خلاف ورزی اور مجرمانہ اقدام کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان اپنے فضائی و زمینی حدود اور اپنے قوم کے دفاع کو اپنا شرعی حق سمجھتا ہے اور مناسب وقت پر اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

    پاکستان کے سرکاری میڈیا کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے افغان عبوری حکومت کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور واضح کیا کہ پاکستان مختلف دہشت گردوں کے گروہوں میں فرق نہیں کرتا۔

    پاکستان ٹی وی کے سربراہ عادل شاہزیب نے سرکاری ٹی وی پر فوجی ترجمان سے ہونے والی ملاقات کا احوال بتایا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک تفصیلی ملاقات تھی جس میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات بتائی ہیں۔

    عادل شاہزیب کے مطابق فوجی ترجمان نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ افغان عبوری حکومت کی بھی شدت پسند تنظیم ٹی ٹی پی کو ہر طرح کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان طالبان کی حمایت سے ہی پاکستان میں 50 اور 60 جبکہ بعض دفعہ 100، 100 ٹی ٹی پی کے شدت پسند پاکستان میں اپنی ’دہشتگردانہ کارروائیوں‘ کے لیے داخل ہوتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان اس الزام کے کئی گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

  16. گذشتہ روز کی اہم خبریں

    • افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے صوبہ خوست میں ایک گھر پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں 10 بچے اور خواتین ہلاک ہوئے ہیں جبکہ کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں میں مزید چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    • طالبان کی عبوری حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ غلط معلومات کی بنیاد پر کارروائی سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی ہے اور رسوائی کے سوا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔
    • ایتھوپیا میں ہیلی گوبی آتش فشاں کے پھٹنے کی وجہ سے راکھ کے بادل آسمان پر کئی کلومیٹر اوپر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے اثرات انڈیا تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔
    • امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے سال اپریل میں بیجنگ کا دورہ کریں گے جبکہ چینی صدر شی جنپنگ کو بھی اگلے سال کے آخر میں امریکہ کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے۔
    • پاکستان کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں آپریشن کے دوران 22 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔
  17. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔