آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا وہ اس کے لیے مکمل تیار ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو 12 روزہ جنگ میں نقصان ہوا تھا وہ اب دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے اور کوئی بھی نیا حملہ اس ناکام تجربے کی طرح ہی ثابت ہوگا۔‘

خلاصہ

  • سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد وزیرِ اعلی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کی تیاری کریں
  • امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق امریکہ نے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے جو حال ہی میں وینزویلا سے روانہ ہوا تھا
  • انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے دو مزید مقدمات کا فیصلہ سنتے ہوئے دونوں مقدمات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی گی ہے۔
  • انقلاب مانچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی تدفین ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کے قریب قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے احاطے میں کر دی گئی ہے۔
  • طالبعلم رہنما کی ہلاکت کے خلاف بنگلہ دیش میں مظاہرے جاری: ’عثمان ہادی کی میت کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد لایا جائے گا‘

لائیو کوریج

  1. شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بارودی مواد سے لیس گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ دھماکہ میرانشاہ دتہ خیل روڈ پر بویہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کے قلعے پر کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی کو قلعے کی دیوار سے ٹکرایا گیا ہے جس سے زور دار دھماکہ ہوا ہے۔

    اس حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ تھی جن میں ایک خود کش حملہ آور شامل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کیمپ پر خودکش حملے کے بعد چاروں حملہ آوروں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ہے، لیکن کیمپ میں موجود سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حملے کو ناکام بنا دیا اور کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے میں چار سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

    اس بارے میں اب تک فوج کے تعلقات عاملہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    سول ہسپتال میرانشاہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد آصف نے بتایا ہے کہ ان کے ہسپتال میں اب تک کوئی زخمی یا لاشیں نہیں لائے گئے ہیں۔

    مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ 20 سے 25 کلومیٹر دور میرانشاہ میں بھی سنی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے دھماکے کے بعد جائے واقعہ سے اٹھتے دھویں کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔

    خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑے حملوں میں عسکریت پسند پہلے بارود سے بھڑی گاڑی کے ذریعے حملہ کرتے ہیں اور اس کے بعد متعلقہ عمارت میں گھس جاتے ہیں۔ کیڈٹ کالج وانہ، فیڈرل کانسٹبلری ہیڈ کواٹر پشاور اور ایف سی ہیڈ کواٹر بنوں کے علاوہ پولیس ٹریننگ سکول میں اسی طرح کے حملے کیے جاچکے ہیں۔

    سکیورٹی فورسز کے اہلکار کلیئرنس آپریشن کر رہے ہیں جبکہ ان کی معاونت کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اور امدادی ادارے موجود ہیں۔ اس وقت علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اہم شاہراہ پر آمدورفت عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔

    یہ دھماکہ میر علی میں سکیورٹی فورسز کے کانوائے پر حملے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے دو دنوں کے بعد کیا گیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں آئے روز سکیورٹی فورسز پر حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

    میر علی کے علاقے حسو خیل کے قریب منگل کی صبح نا معلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے کانوائے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں جانب سے جھرپ شروع ہوئی تھی اور شدتد فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اس میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کی کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی لیکن اس میں دو عام شہری ایک بزرگ اور ایک 10 سالہ بچی کی جان چلی گئی تھی جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس علاقے میں اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔

    چند روز پہلے میرانشاہ کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان کو ان کے عملے کے ہمراہ اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ بنوں میں عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے لیے جا رہے تھے۔ ان پر حملہ ضلع بنوں کی حدود میں ہوا تھا۔

  2. پاکستان کا داعش کے ترجمان کی گرفتاری کا دعویٰ، خراسان کی میڈیا اور پروپیگنڈا سرگرمیاں بھی معطل: سرکاری میڈیا

    پاکستان کے سرکاری ٹی وی کو انٹیلیجنس ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان نے رواں برس مئی میں داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کے میڈیا سربراہ سلطان عزیز عزام کو گرفتار کیا ہے۔

    پاکستان ٹی وی کے مطابق سلطان عزیز عزام کی پیدائش 1978 میں افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ہوئی۔ وہ ننگرہار یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور داعش خراسان کے ’العزائم‘ میڈیا چینل کے سربراہ رہے ہیں۔

    پاکستان ٹی وی کے مطابق انھیں نومبر 2021 میں امریکہ نے ’سپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ قرار دیا تھا۔

    پاکستان ٹی وی کے ذرائع کے مطابق سلطان عزیز عزام سنہ 2016 میں داعش خراسان میں شامل ہوئے تھے اور مئی 2025 میں پاکستان میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیے گئے۔

    پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے بھی یہ خبر شائع کی ہے کہ ’ذرائع کے مطابق گرفتاری کئی ماہ پہلے عمل میں آئی تھی لیکن اس کا انکشاف حال ہی میں کیا گیا۔ سلطان عزیز عزام کی گرفتاری کے بعد داعش خراسان کی میڈیا اور پروپیگنڈا سرگرمیاں بھی معطل کر دی گئیں۔‘

    اے پی پی کے مطابق حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام نے داعش خراسان کے خلاف کئی اہم گرفتاریاں کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان میں 16 مئی 2025 کو داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز عزام کی گرفتاری بھی شامل ہے۔

    اس گرفتاری کا اقوامِ متحدہ کی تجزیاتی سپورٹ اور پابندیوں کی مانیٹرنگ ٹیم کی 16ویں رپورٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے اقدامات نے عالمی سطح پر داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔

    مزید یہ کہ کئی منصوبہ بند دہشت گرد حملے ناکام بنا دیے گئے اور شدت پسندوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔

    اقوام متحدہ کا سلطان عزیز کے بارے میں کیا کہنا ہے؟

    اقوام متحدہ کےمطابق سلطان عزیز عزام سنہ 2015 میں افغانستان میں داعش خراسان (ISIL-K) کے قیام کے وقت سے اس کے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

    یو این کے مطابق ’ترجمان کی حیثیت سے سلطان عزیز نے داعش کی پرتشدد جہادی سوچ کو پھیلانے، دہشت گردانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے اور ان کی تشہیر میں اہم کردار ادا کیا۔ افغان صحافی کے طور پر اپنے سابقہ تجربے کی بنیاد پر ان کی سرگرمیوں نے داعش خراسان کی مرئیّت اور اثر و رسوخ کو بڑھایا۔ ان کے متعدد بیانات اور پروپیگنڈا سرگرمیوں نے نئے افراد کی بھرتی اور تنظیم کی جانب سے حملوں میں اضافے کا باعث بنی۔‘

    اقوام متحدہ کے مطابق 26 اگست 2021 کو سلطان عزیم نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب خودکش حملے کی ذمہ داری داعش خراسان کی جانب سے قبول کی، جس میں کم از کم 170 افغان اور 13 امریکی فوجی ہلاک جبکہ 150 زخمی ہوئے۔ اپنے بیان میں انھوں نے بتایا کہ اس حملے کی نگرانی داعش خراسان کے سربراہ ثنا اللہ غفاری نے کی تھی۔

    اس عالمی ادارے کے مطابق دو مارچ 2021 کو داعش خراسان نے تین خواتین صحافیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ قتل کے اگلے روز داعش خراسان کے نیوز چینل ’اخبار ولایت خراسان‘ نے سلطان عزیز کا پیغام نشر کیا جس کا عنوان تھا: ’ہم عمل پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں‘۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ قتل افغان حکومت کی جانب سے داعش خراسان کے زیرِ اثر دیہات کی تباہی کے جواب میں کیا گیا، جس میں خواتین اور بچے مارے گئے تھے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ان خواتین کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ افغان حکومت گرفتار غیر ملکی داعش خراسان کے ارکان کو ان کے ممالک واپس بھیجنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

    اقوام متحدہ کے مطابق 3 اگست 2020 کو داعش خراسان نے جلال آباد کی جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں 29 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد تنظیم کے میڈیا پلیٹ فارم نے 20 منٹ کی آڈیو جاری کی جس میں اعظم نے بتایا کہ ایک خودکش بمبار نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی جیل کے دروازے پر دھماکہ کیا، جس کے بعد گروہ کے ارکان اندر داخل ہو کر سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق انھوں نے حملہ آوروں کی تفصیلات بھی فراہم کیں اور کہا کہ یہ کارروائی ثنا اللہ غفاری کے اس وعدے کے مطابق تھی کہ جیل میں موجود ارکان کو رہا کیا جائے گا۔

    سلطان عزیز کی پروپیگنڈا سرگرمیوں نے داعش خراسان کو افغانستان میں بڑے حملے کرنے کے لیے اپنے ارکان کو بھرتی اور متاثر کرنے میں مدد دی۔ انھوں نے کئی کتابیں اور مضامین لکھے جن میں جہادیوں کے قصے بیان کیے گئے تاکہ لوگوں کو تنظیم میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔ ان کتابوں کے اقتباسات اور واقعات اکثر حامیوں کی جانب سے ٹیلیگرام پر شیئر کیے جاتے ہیں۔

  3. گزشتہ روز کی اہم خبریں

    گزشتہ روز کی چند اہم خبروں پر ایک نظر:

    • پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے جمعے کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو ڈی نوٹیفائی کرنے کی منظوری دے دی۔ ایوان صدر سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر جسٹس طارق محمود جہانگیری کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹانے کی منظوری دی۔ پاکستان میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے جج طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جمعرات کے روز انھیں بطور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے نااہل قرار دیا گیا تھا۔
    • پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا میں چلنے والی ان خبروں کی تردید کی ہے کہ چیف آف ڈیفینس سٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر جلد ہی امریکہ کا دورہ کریں گے۔ جمعرات کے روز، دفترِ خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ جہاں تک چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے امریکہ کے دورے کا سوال ہے، اس حوالے سے فی الحال ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہیں۔ ’میں نے رپورٹس دیکھی ہیں، لیکن میرے پاس آپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے کوئی معلومات نہیں ہیں۔‘
    • گلگت بلتستان کی حکومت نے آنے والے سیاحتی سیزن سے دیوسائی نیشنل پارک کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کے موسمی ہوٹل یا تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔ گلگت بلتستان کے ڈویژنل فاریسٹ افسر کے دفتر سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنگلات، جنگلی حیات و ماحولیات کے احکامات کی روشنی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ آنے والے سیاحتی سیزن سے دیوسائی نیشنل پارک کی حدود کے اندر کسی بھی قسم کا موسمی ہوٹل اور رہائش گاہ کھولنے یا دیگر تجارتی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہو گی۔
  4. بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو کوریج جاری ہے۔

    گذشتہ روز تک کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔