شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر حملہ، متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر بارودی مواد سے لیس گاڑی کے ذریعے حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
یہ دھماکہ میرانشاہ دتہ خیل روڈ پر بویہ کے مقام پر سکیورٹی فورسز کے قلعے پر کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی کو قلعے کی دیوار سے ٹکرایا گیا ہے جس سے زور دار دھماکہ ہوا ہے۔
اس حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ایسی اطلاعات ہیں کہ حملہ آوروں کی تعداد پانچ تھی جن میں ایک خود کش حملہ آور شامل تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کیمپ پر خودکش حملے کے بعد چاروں حملہ آوروں نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ہے، لیکن کیمپ میں موجود سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے حملے کو ناکام بنا دیا اور کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس حملے میں چار سکیورٹی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
اس بارے میں اب تک فوج کے تعلقات عاملہ کے شعبے آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
سول ہسپتال میرانشاہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد آصف نے بتایا ہے کہ ان کے ہسپتال میں اب تک کوئی زخمی یا لاشیں نہیں لائے گئے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ 20 سے 25 کلومیٹر دور میرانشاہ میں بھی سنی گئی ہیں۔ مقامی لوگوں نے دھماکے کے بعد جائے واقعہ سے اٹھتے دھویں کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر جاری کی ہے۔
خیبر پختونخوا میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بڑے حملوں میں عسکریت پسند پہلے بارود سے بھڑی گاڑی کے ذریعے حملہ کرتے ہیں اور اس کے بعد متعلقہ عمارت میں گھس جاتے ہیں۔ کیڈٹ کالج وانہ، فیڈرل کانسٹبلری ہیڈ کواٹر پشاور اور ایف سی ہیڈ کواٹر بنوں کے علاوہ پولیس ٹریننگ سکول میں اسی طرح کے حملے کیے جاچکے ہیں۔
سکیورٹی فورسز کے اہلکار کلیئرنس آپریشن کر رہے ہیں جبکہ ان کی معاونت کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اور امدادی ادارے موجود ہیں۔ اس وقت علاقے میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اہم شاہراہ پر آمدورفت عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔
یہ دھماکہ میر علی میں سکیورٹی فورسز کے کانوائے پر حملے اور اس کے بعد سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے دو دنوں کے بعد کیا گیا گیا ہے۔ شمالی وزیرستان کے بیشتر علاقوں میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں جہاں آئے روز سکیورٹی فورسز پر حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔
میر علی کے علاقے حسو خیل کے قریب منگل کی صبح نا معلوم افراد نے سکیورٹی فورسز کے کانوائے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد دونوں جانب سے جھرپ شروع ہوئی تھی اور شدتد فائرنگ اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اس میں سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کی کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی لیکن اس میں دو عام شہری ایک بزرگ اور ایک 10 سالہ بچی کی جان چلی گئی تھی جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس علاقے میں اب بھی حالات کشیدہ ہیں۔
چند روز پہلے میرانشاہ کے اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی خان کو ان کے عملے کے ہمراہ اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ بنوں میں عدالت میں ایک کیس کی سماعت کے لیے جا رہے تھے۔ ان پر حملہ ضلع بنوں کی حدود میں ہوا تھا۔