آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا وہ اس کے لیے مکمل تیار ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو 12 روزہ جنگ میں نقصان ہوا تھا وہ اب دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے اور کوئی بھی نیا حملہ اس ناکام تجربے کی طرح ہی ثابت ہوگا۔‘

خلاصہ

  • سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد وزیرِ اعلی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کی تیاری کریں
  • امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق امریکہ نے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے جو حال ہی میں وینزویلا سے روانہ ہوا تھا
  • انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے دو مزید مقدمات کا فیصلہ سنتے ہوئے دونوں مقدمات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی گی ہے۔
  • انقلاب مانچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی تدفین ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کے قریب قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے احاطے میں کر دی گئی ہے۔
  • طالبعلم رہنما کی ہلاکت کے خلاف بنگلہ دیش میں مظاہرے جاری: ’عثمان ہادی کی میت کو ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد لایا جائے گا‘

لائیو کوریج

  1. بنگلہ دیش کی نوجوان نسل1971 کی جنگ میں انڈیا کے تعاون کو اب شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے: پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ

    انڈیا میں خارجہ اُمور کی پارلیمانی کمیٹی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کو بنگلہ دیش میں چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کی وجہ سے 1971 کی جنگ کے بعد بنگلہ دیش میں سے بڑے سٹریٹجک بحران کا سامنا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر انڈیا نے بروقت اپنی پالیسی کی سمت کو درست نہ کیا تو یہ بنگلہ دیش میں غیر متعلقہ ہو جائے گا۔

    ننانوے صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ اگست 2024 کے بعد انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ رپورٹ انڈین نیشنل کانگریس کے رہنما ششتی تھرور نے لکھی ہے۔

    اگست 2024 وہ مہینہ تھا، جب بنگلہ دیش میں زبردست عوامی بغاوت کے بعد ملک کی اس وقت کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر انڈیا میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ وہ تب سے وہاں مقیم ہیں اور ملک میں محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت کام کر رہی ہے۔

    رپورٹ تیار کرنے کے لیے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی قیادت میں کمیٹی نے وزارتِ خارجہ کے نمائندوں سے بات چیت کی اور چار ماہرین سے بھی رائے لی۔

    ان ماہرین میں قومی سلامتی کے سابق مشیر شیوشنکر مینن، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین، وزارت خارجہ کی سابق سکریٹری ریوا گنگولی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ڈین اور پروفیسر ڈاکٹر امیتابھ مٹو شامل تھے۔

    بنگلہ دیش میں بدلتے ہوئے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے، ان میں سے ایک ماہرین نے رپورٹ میں کہا کہ ’1971 کی جنگ آزادی کے بعد پہلی بار انڈیا کو بنگلہ دیش سے متعلق اتنے بڑے سٹریٹجک چیلنج کا سامنا ہے۔ 1971 میں انڈیا کو درپیش چیلنج واضح تھا...انسانی بحران، اس میں انڈیا کا براہ راست کردار اور ایک نئے ملک کا قیام، لیکن آج کے چیلنجز بہت مختلف ہیں۔‘

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش ایک نئی نسل کے عروج، بدلتے ہوئے سیاسی توازن اور انڈیا سے بتدریج دور ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے۔ عوامی لیگ کے دیرینہ اثر و رسوخ کے خاتمے کے بعد، قوم پرستی عروج پر ہے، اسلامی تنظیموں نے واپسی کی ہے، اور چین اور پاکستان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب حالات کو ایک نئے موڑ پر لے آئے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی نوجوان نسل ملک کے قیام میں انڈیا کے تعاون کو پچھلی نسلوں کی طرح نہیں دیکھتی۔ بہت سے لوگ بنگلہ دیش کے قیام میں انڈیا کے کردار کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  2. امریکہ کی شام میں داعش کے خلاف کارروائی، 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی فوج نے ملک میں امریکی افواج پر مہلک حملے کے جواب میں شام میں شدت پسند گروپ داعش کے خلاف ’بڑے پیمانے پر حملہ‘ کیا ہے۔

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ لڑاکا طیاروں، حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے نے ’وسطی شام میں متعدد مقامات پر 70 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔‘ کارروائی میں اُردن کے طیارے بھی شامل تھے۔

    سینٹ کام کے مطابق آپریشن میں داعش کے بنیادی ڈھانچے اور ہتھیاروں کی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    خیال رہے کہ 13 دسمبر کو شام کے شہر پالمیرا میں داعش کے حملے میں دو امریکی فوج اور ایک امریکی شہری مترجم ہلاک ہو گئے تھے۔ صدر ٹرمپ نے اس حملے کے بعد داعش کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

    سینٹ کام کے کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکہ ’ان دہشت گردوں کا مسلسل تعاقب جاری رکھے گا جو پورے خطے میں امریکیوں اور ہمارے شراکت داروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔‘

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ آپریشن جنگ کا آغاز نہیں ہے بلکہ یہ انتقام کا اعلان ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں، تو یہ جان لیں کہ آپ کی زندگی مختصر ہو گی۔ امریکہ آپ کا شکار کرے گا، آپ کو تلاش کرے گا اور بے رحمی سے مار ڈالے گا۔‘

    امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’آج ہم نے شکار کیا اور اپنے دُشمنوں کو مار ڈالا۔‘

  3. اگر مغرب، روس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئے تو مزید جنگیں نہیں ہوں گی: روسی صدر

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک روس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آئیں تو مزید جنگیں نہیں ہوں گی۔

    روسی صدر نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ روس کسی اور یورپی ملک پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روسی صدر نے ان دعوؤں کو فضول قرار دیا۔

    تقریباً ساڑھے چار گھنٹے تک جاری رہنے والے ٹیلی ویژن پروگرام میں، بی بی سی کے اسٹیو روزنبرگ نے روسی صدر سے پوچھا کہ کیا نئے ’خصوصی فوجی آپریشن‘ ہوں گے۔

    صدر پوتن نے کہا کہ ’اگر آپ ہمارے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں، اگر آپ ہمارے مفادات کا اسی طرح احترام کرتے ہیں، جس طرح ہم نے ہمیشہ آپ کا احترام کرنے کی کوشش کی ہے تو کوئی نیا آپریشن نہیں ہو گا۔‘

  4. ’غزہ سٹیبلائزیشن فورس‘ کے لیے فوج بھیجنے کی پیشکش پر پاکستان کے شکرگزار ہیں: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ غزہ سٹیبلائزیشن فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے کی پیشکش پر ہم پاکستان کے شکرگزار ہیں۔

    جمعے کو نیوز کانفرنس کرتے ہوئے مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ’اس (غزہ سٹیبلائزیشن فورس) کا حصہ بننے کی پیشکش یا کم از کم اس پر غور کے لیے پاکستان کے بہت مشکور ہیں۔‘

    مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پاکستان اس حوالے سے ایک اہم ملک ہے، اگر وہ اس پر متفق ہو جاتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ فورس کے مینڈیٹ، کمانڈ اور فنڈنگ کے معاملات پر اب بھی بحث جاری ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اگلا مرحلہ بورڈ آف پیس اور فلسطینی ٹیکنو کریٹ گروپ کا قیام ہے، جو روزمرہ کی گورننس کے معاملات دیکھے گا۔

    مارکو روبیو کے بقول ’جب یہ معاملہ طے پا جائے گا تو اس کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ اس سے ہمیں سٹیبلائزیشن فورس کو مضبوط کرنے کی اجازت ملے گی، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس کی ادائیگی کیسے کی جائے گی، ان کی مصروفیت کے اصول کیا ہیں، غیر فوجی معاملات میں ان کا کردار کیا ہو گا وغیرہ۔‘

    مارکو روبیو کے اس بیان پر تاحال پاکستان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم جمعرات کو پریس بریفنگ میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندارابی نے کہا تھا کہ پاکستان نے اس فورس کے لیے اپنی فوج بھیجنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

    گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ غزہ میں قیامِ امن کے لیے مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شرکت کے لیے پاکستان اپنے فوجی بھجوانے کے لیے تیار ہے لیکن حماس کو غیر مسلح کرنے کے کام میں شامل نہیں ہو گا۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان واضح کر چکا ہے کہ غزہ میں امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری حاصل ہونی چاہیے۔

    غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے آئی ایس ایف کے کردار کے بارے میں انھوں نے واضح کیا کہ دیگر اہم ممالک کی طرح پاکستان بھی اس کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے۔

  5. شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کا سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر حملہ، چار اہلکار ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سکیورٹی حکام کے مطابق شدت پسندوں کے ایک حملے میں پاکستانی فوج کے چار اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جمعے کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے بویا میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر حملہ کیا اور بارود سے لدی گاڑی بیرونی دیوار سے ٹکرائی جس سے ایک مسجد سمیت قریب واقع شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔

    حکام کے مطابق اس حملے میں بچوں اور خواتین سمیت 15 بے گناہ شہری زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک ہوئے جبکہ شدت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں چار فوجی اہلکار بھی مارے گئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود شدت پسندوں نے کی جس سے وہاں موجود طالبان حکومت کے موقف کی نفی ہوتی ہے جو کہ اپنی سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کی عدم موجودگی کا دعوی کرتے ہیں۔ ’پاکستان افغان عبوری حکومت سے توقع کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔‘

  6. بنگلہ دیش: نوجوان رہنما عثمان ہادی کی میت ڈھاکہ پہنچ گئی، مختلف شہروں میں پرتشدد مظاہرے جاری

    بنگلہ دیش میں نوجوان طالبِ علم رہنما کی ہلاکت کے خلاف پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ مقتول رہنما کی نماز جنازہ سنیچر کو ادا کی جائے گی۔

    ایک جانب جہاں، سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں، ان پرتشدد مظاہروں کے خلاف بھی احتجاج ہو رہا ہے۔

    جمعے کو اُساتذہ اور طلبہ سمیت دیگر افراد نے مظاہروں کے دوران نذرِ آتش کیے جانے والے میوزک سکول چھایاناوت بھبن کے سامنے دھرنا دیا۔

    مظاہرین نے مختلف پلے کارڈز اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر ان پرتشدد مظاہروں کے خلاف نعرے درج تھے۔

    اساتذہ اور طلبہ نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمیں عثمان ہادی کے قاتلوں کے لیے انصاف چاہیے، اخبارات اور سکولوں میں آگ نہیں لگائی جائے،‘ ’بچے رو رہے ہیں، سکولوں میں کتابیں چل رہی ہیں۔‘ جیسے نعرے درج تھے۔

    قبل ازیں عبوری حکومت کے ثقافتی امور کے مشیر مصطفیٰ سرور فاروقی نے تباہ شدہ چھایاناوت بھبن کی عمارت کا دورہ کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حملے میں ملوث افراد کو سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    خیال رہے کہ جمعرات کی شب دھان منڈی میں واقع بنگلہ دیش کے تاریخی ثقافتی مراکز میں سے ایک، چھایاناوت کی عمارت میں توڑ پھوڑ کر کے آگ لگا دی گئی تھی۔

    بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے سکریٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی توڑ پھوڑ، آتش زنی اور اخبارات کے دفاتر پر حملے ایک منظم سازش کا حصہ ہیں، جس کا مقصد ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا ہے۔

    دریں اثنا عثمان ہادی کی میت کو لے کر جمعے کو طیارہ ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گیا ہے۔عثمان ہادی کی نماز جنازہ سنیچر کی دوپہر ڈھائی بجے پارلیمنٹ بلڈنگ کے ساؤتھ پلازہ میں ادا کی جائے گی۔

    عثمان ہادی کے جنازے میں شرکت کے خواہشمند افراد سے خصوصی طور پر درخواست کی گئی ہے کہ وہ کوئی بھی بیگ یا بھاری چیزیں ساتھ نہ رکھیں۔

  7. ٹک ٹاک نے امریکہ میں پابندی سے بچنے کے لیے معاہدہ کر لیا

    ٹک ٹاک کی چینی مالک کمپنی بائٹ ڈانس نے امریکہ میں ایپ کو فعال رکھنے کے لیے امریکی حکومت کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔ معاہدے کے تحت امریکہ میں ٹک ٹاک کے 50 فیصد ملکیتی حقوق امریکی کمپنیوں اوریکل، سلور لیک اور اماراتی سرمایہ کاری فرم ’ایم جی ایکس‘ کے پاس ہوں گے۔

    کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شو زی چی نے جمعرات کو اپنے ملازمین کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یہ معاہدہ 22 جنوری تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

    اس معاہدے کے بعد ٹک ٹاک اور امریکی حکومت کے درمیان برسوں سے جاری تنازع بھی ختم ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کمپنی سے کہا تھا کہ وہ امریکہ میں اپنے مالکانہ حقوق امریکی کمپنیوں کو فروخت کر دے۔

    شو زی چی کی جانب سے ملازمین کے نام میمو میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے سے 17 کروڑ امریکی صارفین کے لیے ٹک ٹاک اپنی سروسز فراہم کرتا رہے گا۔

    معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کی ملکیتی کمپنی بائٹ ڈانس کے پاس 19٫9 فیصد حصص ہوں گے۔ اوریکل، سلور لیک اور ابوظہبی کے ایم جی ایکس گروپ کے پاس مشترکہ طور پر 15 فیصد حصس ہوں گے۔ میمو کے مطابق 30 فیصد حصص سرمایہ کاروں کے مشترکہ گروپ کے پاس ہوں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق اوریکل ٹک ٹاک کے تجویز کردہ الگورتھم کو لائسنس دے گا۔

  8. صدر ٹرمپ کے حکم پر گرین کارڈ لاٹری پروگرام معطل

    امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ سے دو افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر گرین کارڈ لاٹری پروگرام بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت امریکہ ہر سال ایسے ممالک کے شہریوں کو لاٹری کے ذریعے 50 ہزار ویزے دیتا ہے، جن کی امریکہ میں امیگریشن کی شرح کم ہے۔

    امریکی وزیرِ داخلہ کرسٹی نوم کہتی ہیں کہ صدر نے گرین گارڈ لاٹری پروگرام کو عارضی طور پر معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ ’تاکہ مزید کوئی امریکی اس تباہ کن پروگرام کی وجہ سے نقصان نہ اُٹھائے۔‘

    گذشتہ ہفتے براؤن یونیورسٹی میں ہونے والی فائرنگ کے مشتبہ حملہ آور کا تعلق پرتگال سے ہے۔ وہ سنہ 2017 میں لاٹری پروگرام کے تحت امریکہ آئے تھے اور اُنھیں بعدازاں گرین کارڈ مل گیا تھا۔

    براؤن یونیورسٹی امریکہ کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے اور اسے شمال مشرقی امریکہ کی آٹھ بڑی نجی یونیورسٹیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی حکام کا خیال ہے کہ مشتبہ حملہ آور 48 سالہ کلاڈیو نوس ویلنٹ نے اس ہفتے کے شروع میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پرتگالی پروفیسر نونو لوریرو کو بھی ہلاک کر دیا تھا۔

    کرسٹی نوم کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سنہ 2017 میں نیویارک سٹی میں ٹرک حملے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد بھی اس پروگرام کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔

  9. یاسمین راشد، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کو نو مئی کے ایک اور کیس میں 10، 10 سال قید، شاہ محمود قریشی بری, ترہب اصغر، بی بی سی اُردو، لاہور

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے ایک اور مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

    شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف نو مئی کو سرکاری افسران کی رہائش گاہ جی او آر کے گیٹ پر توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج ہے۔

    اس مقدمے میں 33 ملزمان ہیں جبکہ 41 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔

    رواں برس جولائی میں نو مئی کے ایک مقدمے میں یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو دس، دس سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں اور شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے بھی بری کر دیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ دو برس قبل نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں عسکری املاک پر بھی حملے کیے گئے تھے۔

    اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔

    دوران ٹرائل ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت 21 ملزمان کے حتمی بیانات قلمبند کیے گئے۔

    پراسیکیوشن کی جانب سے 56 گواہوں کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے مقدمے کا فیصلہ سنایا دوران ٹرائل چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔

    عدالت نے مجموعی طور پر 13 ملزمان کو بری کر دیا۔ اٹھ ملزمان کو عدالت نے سزائیں سنائیں۔

  10. متنازعہ ویڈیوز اور ٹویٹس کیس میں یوٹیوبر سہراب برکت کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست منظور, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    اسلام آباد کی ڈسڑکٹ اینڈ سیشن عدالت نے متنازع ویڈیوز اور ٹوئٹس کیس میں یوٹیوبر سہراب برکت کی ضمانت بعداز گرفتاری کی درخواست منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی، جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے جمعے کو ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

    سہراب برکت کے خلاف نیشنل سائبر کرائم ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    سہراب برکت کو 26 نومبر کو اُس وقت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا تھا، جب ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ جا رہے تھے۔

    نیوز ویب سائٹ سیاست ڈاٹ پی کے سے وابستہ سہراب برکت کے خلاف این سی سی آئی اے میں ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    این سی سی آئی اے نے سہراب برکت کا 30 روزہ جسمانی طلب کیا تھا، تاہم عدالت نے ابتدائی طور پر اُن کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ دیا تھا۔

  11. بنگلہ دیش میں مشتعل مظاہرین نے دو اخبارات کے دفاتر پر کیوں حملہ کیا؟, انبرآسن ایتھیراجن، بی بی سی

    بنگلہ دیش کے معروف اخباروں، روزنامہ ڈیلی سٹار اور پروتھوم آہو کو کئی حلقے سیکولر اور ترقی پسند اخبارات کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں یہ دونوں ادارے دباؤ میں رہے اور سابق وزیرِاعظم نے کُھلے عام اُن کی حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی رپورٹنگ کو نشانہ بنایا۔

    تاہم، بنگلہ دیش میں ایک گروہ اب یہ رائے رکھتا ہے کہ یہ دونوں اخبارات دراصل عوامی لیگ اور انڈیا کے حامی ہیں، خصوصاً 2024 میں حسینہ واجد کی حکومت کے گرنے کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں۔

    گذشتہ کچھ عرصے میں ان دونوں اخبارات نے سخت گیر اسلام پسند عناصر کے خلاف مضامین شائع کیے ہیں۔ بعض اسلام پسند اور مفاد پرست افراد سوشل میڈیا پر ان کے خلاف تنقید کر رہے ہیں اور عوام کو ان کے خلاف بھڑکا رہے ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی، یہ دونوں اخبارات موجودہ عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز کی بعض پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ انھوں نے بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، گمشدگیوں اور اُن گرفتاریوں سے متعلق خبروں کو اجاگر کیا ہے جنھیں عوامی لیگ کے حامیوں، سابق حکومتی اہلکاروں اور صحافیوں کے خلاف غیر منصفانہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    مزید برآں، یہ دونوں اخبارات ملک کی آزادی کی جنگ یعنی سنہ 1971 کے حوالے سے بعض مشکوک بیانیوں کو بھی چیلنج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    حالیہ دنوں میں ان اخبارات نے ایسی رپورٹنگ بھی کی ہے جس میں عوامی لیگ اور بانی رہنما شیخ مجیب الرحمن سمیت دیگر شخصیات کے آزادی کی جدوجہد میں کردار کو کمزور دکھایا گیا ہے۔

  12. براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کا مشتبہ ملزم مردہ حالت میں ملا: امریکی پولیس

    گذشتہ ہفتے امریکہ کی براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کرنے والا مشتبہ ملزم امریکی ریاست نیو ہیمپشائر میں واقع ایک سٹوریج فیسیلیٹی سے مردہ حالت میں ملا ہے۔

    پولیس نے مردہ حالت میں ملنے والے شخص کی شناخت 48 سالہ کلاڈیو نیویس ویلینٹے کے طور پر کی ہے، جو پرتگالی شہری تھے اور تقریباً 25 برس قبل براؤن یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہے تھے۔

    پروویڈنس پولیس چیف آسکر پیریز کے مطابق ویڈیو شواہد اور عوامی معلومات کی بنیاد پر تفتیش کار ایک ایسی رینٹ اے کار کمپنی کے آفس تک پہنچے جہاں سے مشتبہ شخص نے گاڑی حاصل کی تھی۔ اس کمپنی کے آفس سے ملنے والی تفصیلات کے بعد کلاڈیو کو ’پرسن آف انٹرسٹ‘ قرار دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ انھیں شبہ ہے کہ کلاڈیو نیویس نے 13 دسمبر کو، براؤن یونیورسٹی میں فائرنگ کے واقعے کے دو دن بعد، میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ایک پروفیسر کو بھی قتل کیا تھا۔ تاہم ان دونوں حملوں کی کوئی وجہ یا محرک سامنے نہیں آیا ہے۔

    براؤن یونیورسٹی کی صدر کرسٹینا پیکسن نے کہا ہے کہ کلاڈیو سنہ 2000 میں پی ایچ ڈی فزکس کے طالب علم کے طور پر براؤن یونیورسٹی میں داخل ہوئے تھے، تاہم بعدازاں ان کا ’یونیورسٹی سے کوئی فعال تعلق نہیں رہا تھا۔‘

    حکام کے مطابق، کلاڈیو نے پیر کے روز بروکلائن میں ایم آئی ٹی کے پروفیسر نونو ایف گومس لوریرو کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول اور مشتبہ شخص، دونوں نے 1990 کی دہائی کے آخر میں پرتگال کی ایک ہی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی۔

    یہ دونوں کیس اس وقت جُڑ گئے جب مشتبہ شخص کی گاڑی کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور براؤن یونیورسٹی کے ایک گواہ کے ذریعے شناخت کیا گیا۔

    رہوڈ آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کلاڈیو کو ایک بیگ اور دو پستولوں کے ساتھ سٹوریج فیسیلیٹی میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ قریب کھڑی ایک گاڑی سے ملنے والے شواہد پروویڈنس کے واقعے سے مطابقت رکھتے تھے۔ یہی گاڑی ایم آئی ٹی پروفیسر کے قتل کے مقام کے قریب بھی دیکھی گئی تھی۔

    ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلاڈیو نے خود کو گولی مار کر جان لی۔ پولیس یہ بتانے سے قاصر ہے کہ وہ سٹوریج یونٹ میں کب سے موجود تھے۔=

    ایف بی آئی کے سپیشل ایجنٹ انچارج ٹیڈ ڈاکس نے کہا ہے کہ ’اگرچہ مشتبہ شخص آج رات مردہ پایا گیا ہے، تاہم ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔ بہت سے سوالات ہیں جن کے جواب دینا باقی ہیں۔‘

    امریکی ریاست میساچوسٹس کی اسٹیٹ اٹارنی نے کہا ہے کہ کلاڈیو ایسا فون استعمال کر رہا تھا جو ٹریکنگ کو ’مشکل‘ بنا دیتا تھا۔ اُن کے مطابق ’وہ اپنے نشانات چھپانے میں ماہر تھا۔‘

  13. ’معجزہ ہی ہے کہ حملوں میں کوئی شدید زخمی نہیں ہوا‘, انبرآسن ایتھیراجن، بی بی سی

    جمعرات کی رات جو کچھ ہوا وہ بےمثال اور چونکا دینے والا تھا۔

    35 برس میں پہلی بار، آج پہلی بار روزنامہ سٹار شائع نہیں ہو سکا۔ اس انگریزی اخبار کے کنسلٹنٹ مدیر کمال احمد نے مجھے بتایا کہ جتنا نقصان ہوا ہے اسے دیکھ کر لگ یہی رہا ہے کہ تعطل کچھ عرصے کے لیے رہے گا۔

    حملوں کا نشانہ بننے والے روزنامہ سٹار اور بنگالی روزنامہ پروتھوم آلو، ملک میں کسی بھی بڑی خبر کی موجودگی میں خبر جاننے کے ایسے دو اہم ذرائع ہیں جن پر توجہ دی جاتی ہے۔ یہ دونوں ادارے ماضی میں خاص طور پر معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے علاوہ دیگر حکومتوں کے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

    جمعرات کی رات جو ہوا اس صورتحال میں یہ معجزہ ہی ہے کہ حملوں میں کوئی شدید زخمی نہیں ہوا۔

    کمال احمد نے بتایا کہ ’ہمارے 28 ساتھی کئی گھنٹوں تک عمارت کی چھت پر پھنسے رہے۔ جب اضافی کمک آئی تب ہی انھیں نکالا جا سکا۔‘

    کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملوں کے درمیان، سوشل میڈیا پر ایک بڑا سوال یہی تھا کہ پولیس اور حکومت کہاں ہیں؟

  14. عثمان ہادی کی میت بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد لے جائی جائے گی: انقلاب مانچا

    ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تنظیم کا کہنا ہے کہ عثمان ہادی کی میت سنگاپور سے بنگلہ دیش پہنچنے کے بعد ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی جامع مسجد لے جائی جائے گی۔

    شریف عثمان ہادی انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور انھیں گذشتہ ہفتے ڈھاکہ میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔

    چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے اُن پر گولی چلائی تھی جس کے بعد انھیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تاہم جمعرات کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

    یہ خبر سامنے آنے کے فوراً بعد بنگلہ دیش بھر میں جلاؤ گھیراؤ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

    انقلاب مانچا کے فیس بک پیج کے ذریعے مظاہرین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ڈھاکہ ایئرپورٹ سے شاہ باغ تک سڑک کے دونوں اطراف منظم انداز میں کھڑے رہیں، تاکہ عثمان ہادی کی میت کو یونیورسٹی پہنچانے کے عمل کے دوران نظم و ضبط قائم رکھا جا سکے۔

  15. ڈھاکہ میں مظاہرین پھر سڑکوں پر

    جمعے کو ڈھاکہ کے علاقے شاہ باغ میں احتجاج دوبارہ شروع ہوا ہے اور مظاہرین نے سڑکیں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔

    گذشتہ رات ملک کے مختلف حصوں میں نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد حملوں اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے تھے۔

    جمعے کو 200 کے قربب مظاہرین شاہ باغ میں جمع ہوئے۔ مظاہرین نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ وہ شاہ باغ کسی سیاسی ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ ذاتی طور پر آئے ہیں۔

    مظاہرین ’تم کون ہو، میں کون ہوں، ہادی ہادی‘ اور ’اس وقت ایک انقلابی حکومت کی ضرورت ہے‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

    قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مزید مظاہروں کے خدشے کے پیشِ نظر ڈھاکہ کی مختلف سڑکوں پر ٹریفک کو محدود کرنے کے لیے رکاوٹیں لگا دی ہیں۔

  16. بنگلہ دیش میں پرتشدد احتجاج: ہم اب تک کیا جانتے ہیں؟

    بنگلہ دیش میں نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد شروع ہونے والے تشدد کے بعد حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جمعرات کو سینکڑوں مظاہرین سڑکوں پر نکلے اور جمعے کو مزید مظاہرے متوقع ہیں

    • عثمان ہادی گذشتہ ہفتے فائرنگ کے نیتجے میں زخمی ہوئے تھے اور جمعرات کو ان کی موت کی خبر کے بعد احتجاج جلد ہی شدت اختیار کر گیا۔
    • ملک میں ذرائع ابلاغ کے دو بڑے اداروں، ڈیلی اسٹار اور پروتھوم آلو نے کے دفاتر میں گذشتہ رات مظاہرین کی توڑ پھوڑ کے بعد آج دونوں اداروں میں کام معطل ہے۔
    • عثمان ہادی کی ہلاکت پر ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تعزیتی پیغامات جاری کیے گئے ہیں جن میں حکام سے مجرموں کو سزا دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
    • طالبعلم رہنما کی لاش جمعے کی شام مقامی وقت کے مطابق تقریباً چھ بجے (12:00 GMT) سنگاپور سے بنگلہ دیش پہنچنے کی توقع ہے۔ ڈھاکہ میں گولی لگنے کے بعد ہادی کو علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تھا۔
    • حکام نے اعلان کیا کہ بنگلہ دیش میں سنیچر کو یومِ سوگ منایا جائے گا۔
    • عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے سوگواران سے صبر کی اپیل کی ہے اور انھیں جلد بازی میں کوئی کارروائی نہ کرنے کی تلقین کی ہے۔ یونس نے ہادی پر فائرنگ کے واقعے کو ’انتخابات کو پٹری سے اتارنے‘ کی کوشش قرار دیا تھا
  17. عوام ’انتہا پسند گروہوں‘ کی جانب سے کی جانے والی پُرتشدد کارروائیوں کے خلاف چوکنے رہیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں چند ’تنہا انتہا پسند گروہوں‘ کی جانب سے کی جانے والی پُرتشدد کارروائیوں کے خلاف پوری طرح چوکنے اور باخبر رہیں۔

    یہ بیان عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے آفس سے جاری کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’ہم ہر قسم کے تشدد، دھمکی، جلاؤ گھیراؤ اور جان و مال کی تباہی کی سخت اور غیر مبہم الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

    اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک اِس وقت ’جمہوری تبدیلی‘ کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور ’ہم کسی صورت اس پیش رفت کو چند افراد کے ہاتھوں متاثر نہیں ہونے دیں گے جو انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ گذشتہ روز ہوئے پرتشدد مظاہروں میں بنگلہ دیش کے دو بڑے اخبارات ڈیلی سٹار اور پروتھو آہو کے دفاتر کو مکمل طور پر نذر آتش کر دیا گیا تھا۔

    محمد یونس کے دفتر سے جاری بیان میں صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم اس دہشت اور تشدد پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہیں جس کا آپ کو سامنا کرنا پڑا۔ قوم نے اس سب کے باوجود آپ کا حوصلہ اور برداشت دیکھی ہے۔ صحافیوں پر حملے دراصل سچائی پر حملے ہیں۔ ہم آپ کو مکمل انصاف کی یقین دہانی کراتے ہیں۔‘

  18. عثمان ہادی کی ہلاکت: مشتعل مظاہرین نے اخبارات کے دفاتر نذر آتش کر دیے، انڈین اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے دفتر پر بھی حملہ, بی بی سی بنگلہ

    ’انقلاب مانچا‘ نامی طلبہ تنظیم سے منسلک 32 سالہ شریف عثمان ہادی کی وفات کی خبر سامنے آنے کے بعد سے بنگلہ دیش بھر میں پُرتشدد واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں مظاہرین نے متعدد اہم عمارتوں کو نذرِ آتش اور تباہ کیا ہے۔

    شریف عثمان ہادی انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور انھیں گذشتہ ہفتے ڈھاکہ میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے اُن پر گولی چلائی تھی جس کے بعد انھیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تاہم جمعرات کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

    یہ خبر سامنے آنے کے فوراً بعد بنگلہ دیش بھر میں جلاؤ گھیراؤ کے متعدد واقعات پیش آئے۔

    جمعہ کی صبح یہ منظر دیکھا گیا کہ ڈھاکہ کے کاروان بازار میں واقع بنگلہ دیش کے معروف اخبار روزنامہ پروتھوم آہلو کی چار منزلہ عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکی ہے۔ بعض حصوں سے دھواں اب بھی اٹھ رہا تھا جبکہ فائر سروس کی ٹیم موقع پر موجود تھی۔

    جمعرات کی رات مظاہرین نے روزنامہ ڈیلی سٹار کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا۔ عمارت کی نچلی اور دوسری منزل آگ سے بُری طرح متاثر ہوئی، جبکہ اندر توڑ پھوڑ کے مناظر اور بکھری ہوئی اشیاء دیکھی گئیں۔ جمعہ کی صبح قانون نافذ کرنے والے اہلکار ان دونوں عمارتوں کے باہر موجود تھے۔

    حکام کے مطابق جمعرات کی نصف شب کاروان بازار میں دونوں بڑے میڈیا اداروں کے دفاتر پر حملہ ہوا، جس کے دوران صحافی اندر پھنس گئے۔ بعد ازاں فائر فائٹرز نے کرین کی مدد سے انھیں نکالا اور آگ پر قابو پایا۔ حملہ آوروں کو ان عمارتوں کے اندر لوٹ مار کرتے بھی دیکھا گیا۔

    ایڈیٹرز کونسل کے صدر نورالکبیر جب موقع پر پہنچے تو انھیں بھی مظاہرین کی جانب سے ہراساں کیا گیا۔ بعد ازاں اس علاقے میں فوج کو تعینات کر دیا گیا۔

    پروتھوم آہلو کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر سجاد شریف نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ حملے سے دفتر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بجلی کا نظام بھی متاثر ہوا ہے، جس کے باعث آن لائن خبروں کی اشاعت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ اُن کے مطابق ادارے کی تاریخ میں پہلی بار اشاعت روکنی پڑی ہے۔ ’یہ واقعہ صحافت پر کاری ضرب ہے، ہم شدید صدمے میں ہیں۔‘

    ڈیلی سٹار کے عملے نے بتایا کہ حملہ آوروں نے تقریباً ہر منزل پر توڑ پھوڑ کی اور قیمتی سامان لوٹ لیا۔ ایک ملازم نے بتایا کہ اُن کا کیمرہ، وی سی آر اور ہارڈ ڈرائیو چھین لی گئی، جن میں اس کی زندگی بھر کی یادیں محفوظ تھیں۔ کئی کارکنوں نے کہا کہ خوف اور دہشت کے باعث وہ اب بھی نارمل گفتگو کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

    گذشتہ رات تقریباً ایک بجے ڈھاکہ کے دھان منڈی میں واقع ثقافتی ادارے چھایانوت کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا اور آگ لگا دی گئی۔ ادارے نے اپنے فیس بک پیج پر اعلان کیا کہ تمام سرگرمیاں بشمول چھایانوت میوزک اکیڈمی کی کلاسز غیر معینہ مدت تک معطل رہیں گی۔

    جمعرات کی شب ہی دھان منڈی میں شیخ مجیب الرحمن کا تاریخی مکان بھی ایک بار پھر حملہ آوروں کی زد میں آیا اور مظاہرین کو اس کی بچ جانے والے دیواروں کو اینٹوں سے توڑتے ہوئے دکھایا گیا۔

    تشدد کا دائرہ دارالحکومت ڈھاکہ سے باہر بھی پھیل گیا۔ چٹگانگ میں انڈین اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے دفتر پر حملہ ہوا جہاں انقلاب مانچا کے دھرنے کے بعد مشتعل افراد نے پتھراؤ کیا تھا۔ پولیس نے آنسو گیس استعمال کی اور صورتحال پر قابو پایا۔

    مزید برآں، سابق میئر محی الدین کا مکان بھی رات 11 بجے کے قریب نذر آتش کر دیا گیا جبکہ عوامی لیگ کے دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔

  19. سندھ طاس معاہدے پر انڈیا کا غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل پاکستان میں انسانی بحران لا سکتا ہے: اسحاق ڈار

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اتار چڑھاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انڈیا پر تنقید کی ہے۔

    انھوں جمعہ کو اسلام آباد میں سفارت کاروں کے ساتھ ایک میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے رواں برس اپریل میں انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کا مشاہدہ کیا، لیکن اب جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ انڈیا کی جانب اس معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔

    اسحاق ڈار نے بتایا کہ رواں سال دو مرتبہ دریائے چناب کے بہاؤ میں غیرمعمولی اور اچانک تبدیلیاں دیکھی گئیں، جو 30 اپریل سے 21 مئی اور 7 دسمبر سے 15 دسمبر کے درمیان ریکارڈ ہوئیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’پانی کے بہاؤ میں یہ تبدیلیاں پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں کیونکہ یہ انڈیا کی جانب سے دریائے چناب میں یکطرفہ طور پر پانی چھوڑنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ انڈیا نے یہ پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت لازم پیشگی اطلاع، ڈیٹا یا معلومات کے تبادلے کے بغیر چھوڑا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے اس منفی اقدام کے باعث ہمارے انڈس واٹر کمشنر نے اپنے انڈین ہم منصب کو خط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے، جیسا کہ سندھ طاس معاہدے میں درج ہے۔‘

    وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’انڈیا کا حالیہ اقدام واضح طور پر پانی کو ہتھیار بنانے کی مثال ہے، جس کی جانب پاکستان مسلسل عالمی برادری کی توجہ دلاتا آ رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ انڈیا کا یہ غیرقانونی اور غیرذمہ دارانہ طرزِ عمل پاکستان میں انسانی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بالخصوص سلامتی کونسل کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔

    انھوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری انڈیا پر زور دے گی کہ وہ سندھ طاس معاہدہ مکمل طور پر بحال کرے، پانی کو ہتھیار بنانے کا عمل روکے، بین الاقوامی قانون اور معاہدے سے متعلق ذمہ داریوں کا احترام کرے اور جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے باز رہے۔

  20. یورپی یونین کا یوکرین کو روسی اثاثے استعمال کیے بغیر 90 ارب یورو قرض دینے پر اتفاق

    یورپی یونین کے رہنماؤں نے روس کے منجمد اثاثوں کے استعمال پر اتفاق نہ ہونے کے بعد یوکرین کو 90 ارب یورو کا قرض دینے پر معاہدہ کر لیا ہے۔

    یہ معاہدہ جس کے بارے میں یورپی یونین کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس سے اگلے دو برس تک یوکرین کی فوجی اور معاشی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔ برسلز میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں ایک دن سے زائد طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدے طے پایا ہے۔

    یورپی یونین کے سربراہ انتونیو کوسٹا نے معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ ’ہم نے عزم کیا اور کر دکھایا۔‘انھوں نے کہا کہ یہ قرض یورپی یونین کے مشترکہ بجٹ کی ضمانت پر فراہم کیا جائے گا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا تھا کہ 200 ارب یورو کے منجمد روسی اثاثے استعمال کیے جائیں، تاہم بیلجیم جہاں روس کے سب سے زیادہ اثاثے موجود ہیں کی جانب سے ضمانتوں کے مطالبہ پر دیگر ممالک ایسا کرنے پر متفق نہیں ہوئے۔

    وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکہ اور روس کے حکام اس ہفتے کے آخر میں میامی میں امن منصوبے پر مزید بات چیت کے لیے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات سے متعلق اس یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کریملن کے ایلچی کریل دمتریئیف میامی میں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے ملاقات کریں گے۔

    دوسرے جانب یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور امریکہ کے وفود جمعہ اور سنیچر کو امریکہ میں مذاکرات کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ واشنگٹن اس بات پر مزید تفصیلات فراہم کرے کہ وہ یوکرین کو مستقبل میں کسی اور حملے سے بچانے کے لیے کون سی ضمانتیں دے سکتا ہے۔