یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے!
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
22 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو 12 روزہ جنگ میں نقصان ہوا تھا وہ اب دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے اور کوئی بھی نیا حملہ اس ناکام تجربے کی طرح ہی ثابت ہوگا۔‘
بی بی سی اردو کی لائیو پیج کوریج جاری ہے تاہم یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
22 دسمبر کی خبریں جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحد کی بندش سے جہاں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے وہاں اس صورت حال میں سینکڑوں پاکستانی تاجر اور کارکن افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔
سرحد کی بندش سے تاجروں اور سرحد کی دوسری جانب پھنسے ہوئے تاجروں اور کارکنوں کی مشکلات کے حوالے سے بلوچستان کے افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن سے تاجروں کا ایک وفد اسلام آباد کے دورے پر ہے۔
من میں پشتون قومی جرگہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو افغانستان میں پھنسے ہوئے دو ہزار پاکستانی تاجروں اور کارکنوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے۔ سرکاری حکام نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چمن انتظامیہ کو افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کی ایک فہرست پیش کی گئی ہے۔
تاجروں کو درپیش مشکلات کے حوالے سے اسلام آباد میں ملاقاتیں
سرحد کی بندش سے تاجروں اور کارکنوں کو درپیش مشکلات کے پیش نظر چمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ایک وفد چیمبر کے صدر عبدالنافع اچکزئی کی سربراہی میں اسلام آباد کے دورے پر ہے۔
عبدالنافع اچکزئی نے فون پر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت رانا احسان کے علاوہ ایس آئی ایف سی کے حکام سے بات کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں انھوں نے وفاقی حکام کو پاکستانی تاجروں کو درپیش مشکلات اور مسائل سے آگاہ کیا۔
انھوں نے کہا کہ سرحد کی بندش سے نہ صرف پاکستانی تاجروں کا نقصان ہورہا ہے بلکہ افغان تاجروں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
چمن چیمبر کے صدر نے اس توقع کا اظہار کیا کہ وفاقی حکام تاجروں اور پاکستانی کارکنوں کو درپیش مسائل پر غور کریں گے اور انھیں مشکلات سے نکالنے کے لیے اقدامات کرِیں گے۔
'پھنسے ہوئے دو ہزار تاجروں اور کارکنوں کی فہرست چمن انتظامیہ کو پیش کیا'
سرحد کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانی تاجروں اور کارکنوں کی ایک فہرست پشتون قومی جرگہ چمن کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کو پیش کی گئی ہے۔
فون پر رابطہ کرنے پر پشتون قومی جرگہ کے وفد میں شامل حاجی عبدالباری اچکزئی نے بتایا کہ چار ہزار سے زائد تاجر اور کارکن افغانستان میں سرحد کی بندش کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے وفد کی جانب سے دو ہزار تاجروں اور کارکنوں کی فہرست ڈپٹی کمشنر چمن کو پیش کی گئی۔
’پھنسے ہوئے کارکنوں کا تعلق صرف چمن سے نہیں ہے بلکہ پنجاب اور پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی ہے۔‘
چمن چیمبر کے صدر عبدالنافع اچکزئی نے بتایا کہ جو تاجر فضائی سفر کا سکت رکھتے تھے وہ دبئی اور ایران کے راستے سے پہنچ گئے لیکن جن کے پاس فضائی سفر کے لیے وسائل نہیں ان کی بڑی تعداد افغانستان میں پھنسی ہوئی ہے۔
کوئٹہ ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے افغانستان میں پھنسے ہوئے تاجروں اور کارکنوں کی فہرست پیش کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔
سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں شدت پسندوں کے خلاف دو مختلف کارروائیوں میں نو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق 19 دسمبر کو خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دو مختلف کارروائیوں کے دوران نو شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اور اس دوران سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔
کارروائی سے متعلق بتایا گیا کہ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ایک اور خفیہ اطلاع کی بنیاد پر دوسری کارروائی ضلع بنوں میں کی گئی جہاں فائرنگ کے تبادلے میں مزید پانچ شدت پسند سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا اور ہلاک دہشت گرد سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث رہے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
آسٹریلیا میں اتوار کے روز سوگواروں نے بونڈائی بیچ حملے کے متاثرین کی یاد میں کُچھ لمحے کی خاموشی اختیار کی۔
یہ یادگاری تقریب قومی یومِ سوگ کا حصہ تھی جو اس فائرنگ کے واقعے کو ایک ہفتہ گزرنے پر منائی گئی جس میں دو مسلح افراد نے یہودی تہوار حنوکا کی مناسبت سے منعقد ایک تقریب پر فائرنگ کر دی تھی۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز جب یادگاری تقریب میں پہنچے تو انھیں ہوٹنگ کا سامنا کرنا پڑا یہ آسٹریلیا کی یہودی برادری کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف غصے کا اظہار تھا، جو گزشتہ چند مہینوں میں یہودی مخالف حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔
یادگاری تقریب کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ علاقے کی نگرانی مسلح اینٹی رائٹ سکواڈ کے اہلکار کر رہے تھے، جن کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے، جبکہ بونڈائی بیچ کے پانیوں میں پولیس اہلکاروں کی ایک کشتی مسلسل گشت بھی کر رہی تھی۔
بہت سے آسٹریلوی شہریوں کے لیے اس نوعیت کی سکیورٹی ایک غیر معمولی منظر تھا۔
تاہم اتوار کی یہ یادگاری تقریب صرف بونڈائی بیچ یا ریاست نیو ساؤتھ ویلز تک محدود نہیں رہی، بلکہ پورے ملک میں بے شمار گھروں کی کھڑکیوں پر موم بتیاں روشن کی گئیں۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے مشہور بونڈائی ساحل پر 14 دسمبر کی شام یہودی کمیونٹی کی تقریب پر ہونے والے ’دہشت گردانہ‘ حملے میں 15 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ’تہران نئے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کرتا اور اس کے لیے ’مکمل طور پر تیار‘ ہے، حتیٰ کے ماضی سے بھی زیادہ تیار۔‘
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے یہ بات ماسکو کے دورے اور آر ٹی نیٹ ورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔
عباس عراقچی نے زور دیا کہ ’ایران جنگ کا خیرمقدم تو نہیں کرتا، لیکن اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے کیونکہ جنگ کو روکنے کا بہترین طریقہ اس کے لیے تیار ہونا ہے۔‘
ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’جو 12 روزہ جنگ میں نقصان ہوا تھا وہ اب دوبارہ تعمیر ہو چکا ہے اور کوئی بھی نیا حملہ اس ناکام تجربے کی طرح ہی ثابت ہوگا۔‘
عباس عرغچی نے یہ بیانات ایک اس وقت میں دیے ہیں کہ جب امریکی این بی سی نیٹ ورک نے کل اس بارے میں خبر دی تھی کہ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ایران بیلسٹک میزائل بنانے کا پروگرام تیار کر رہا ہے اور اسی لیے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر دوبارہ حملے کے اختیارات دینے پر بات کرنا چاہتا ہے۔
سامنے آنے والی خبر میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل یورینیم افزودگی کی تنصیبات کی دوبارہ تعمیر کے بارے میں فکر مند ہے جو امریکی حملے کا نشانہ بنی تھیں، لیکن ان کی فوری تشویش میزائل پروگرام اور فضائی دفاع کی دوبارہ تعمیر ہے جو 12 روزہ جنگ میں تقریبا ناکارہ ہو گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی ملاقات نو جنوری کو ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا ریزورٹ میں متوقع ہے۔ این بی سی کے مطابق اسرائیلی انتظامیہ اس ملاقات میں امریکی صدر کو وضاحت کرے گی کہ ایران کے میزائل پروگرام کے لیے ’فوری کارروائی‘ کیوں ضروری ہے۔
جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ سے جب نیتن یاہو سے ممکنہ ملاقات کے بارے میں پوچھا گیا تو امریکی صدر نے جواب دیا تھا کہ اب تک اس ملاقات سے متعلق کوئی خاص ایجنڈا تو نہیں ہے ہاں بس ’وہ (نیتن یاہو) مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔‘
پاکستان رینجرز نے پنجاب کے ضلع قصور کے ایک سرحدی گاؤں سے انڈین شہری کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جنھیں حراست میں لینے کے بعد تھانہ گنڈا سنگھ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
پاکستان رینجرز کی طرف سے حراست میں لیے جانے والے فرد کی ہتھکڑیاں لگی ہوئی تصویر بھی جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق قصور کے تھانہ گنڈا سنگھ کی حدود سہجرہ کے مقام سے انڈین شہری پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے جہاں انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ پاکستان رینجرز کے جوان نصیر نے انڈین شہری جن کا نام شرندیپ سنگھ ولد ستنام سنگھ بتایا جا رہا ہے کو پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیا۔ انڈین شہری شرندیپ سنگھ پوئی پور تحصیل شاہ کوٹ ضلع جالندھر کے رہنے والے ہیں۔
پاکستان رینجرز کی جانب سے شرندیپ سنگھ کو گرفتار کرنے کے بعد قانونی کارروائی اور پوچھ گچھ کے بعد مقامی پولیس کے حوالے کردیا ہے جہاں اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔
پاکستان رینجرز کی حراست میں موجود مشتبہ شخص کی تصویر جو وائرل ہوئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی عُمر لگ بھگ 20 سال ہے اور وہ بظاہر صحت مند دیکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ ہفتوں کے دوران یہ ایسا دوسرا واقعہ ہے کہ جس میں کوئی انڈین شہری سرحد کے قریب سے پاکستانی حدود سے حراست میں لیا گیا ہے۔ اس سے قبل رینجرز نے 27 نومبر کو سرحد کے قریب سے ایک شخص کو گرفتار کر کے گنڈا سنگھ پولیس کے حوالے کیا تھا۔
ماہ نومبر میں گرفتار ہونے والے 31 سالہ بی جے سنگھ کے خلاف تھانہ صدر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انڈین شہری آسام کے ضلع گدائی ٹوک ندی سمبری کے رہائشی تھے اور اپنے والد سے جھگڑا کرکے گھر سے نکل آئے تھے اور بارڈر کراسنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔
انڈیا نے اسسٹنٹ ہائی کمشنر کے گھر پر حملے کی کوشش کے بعد بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں اپنا ویزا سینٹر غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔
سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ فیصلہ چٹاگانگ میں انڈیا کے اسسٹنٹ ہائی کمیشن میں سکیورٹی کے ایک حالیہ واقعے کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں چٹاگانگ میں تمام ہندوستانی ویزا سے متعلق سرگرمیاں 21 دسمبر سے اگلے نوٹس تک معطل رہیں گی۔‘
’ویزا درخواست مراکز کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں مزید اعلان صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔‘
بنگلہ دیش میں طلبہ کی تنظیم انقلاب مانچا کے ترجمان عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد مشتعل گروہ نے جمعرات کی شب چٹاگانگ میں انڈین ہائی کمیشن کے سامنے دھرنا دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر مختلف ویڈیوز میں متعدد افراد کو اسسٹنٹ ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر پتھراؤ کرتے ہوئے دیکھا گیا، اس کے بعد پولیس نے اُنھیں لاٹھی چارج کے ذریعے منتشر کر دیا تھا۔
پولیس نے موقع سے 12 افراد کو حراست میں بھی لیا تھا۔
اس سے قبل 17 دسمبر کو بھی ایک طلبہ تنظیم نے ڈھاکہ میں انڈین ہائی کمیشن کے محاصرے کا اعلان کیا تھا۔ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ڈھاکہ میں بھی انڈین ویزا سیکشن بند کر دیا گیا تھا۔ لیکن اسے 18 دسمبر کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔
آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں بونڈائی ساحل حملے کے بعد پولیس اور قومی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
البانیز کا کہنا تھا کہ گذشتہ اتوار کو داعش سے متاثر ہو کر کیا جانے والا حملہ، ہمارے ملک میں سکیورٹی کے دوبارہ جائزے کا متقاضی ہے اور ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ بونڈائی ساحل پر یہودی کمیونٹی کی تقریب کے دوران حملے میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق سڈنی ساحل پر ہونے والے حملہ باپ، بیٹے نے کیا تھا اور یہ داعش کے نظریات سے متاثر تھے۔
البانیز کا کہنا تھا کہ یہ جائزہ اپریل 2026 تک جاری رہے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا آفس اور کابینہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں کے پاس یہود مخالف جذبات سے آسٹریلوی باشندوں کو محفوظ رکھنے کے اختیارات، ڈھانچہ، حکمت عملی اور اشتراک کے انتظامات ہیں یا نہیں۔
آسٹریلیا میں تقریباً تین دہائیوں میں سب سے مہلک شوٹنگ کے تناظر میں، حکومت نے بندوقوں کے کنٹرول کو سخت کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا ہے، جب کہ نیو ساؤتھ ویلز کے پریمیئر نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ کی پولیس کا کہنا ہے کہ جوہانسبرگ کے قریب ایک قصبے کے ہوٹل میں فائرنگ کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 12 نامعلوم مسلح افراد دو کاروں میں بیکرزڈل پہنچے اور ہوٹل کی بار میں موجود افراد پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
پولیس کے مطابق جس ہوٹل میں فائرنگ کی گئی وہ لائسنس یافتہ تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد قریبی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کی سنہ 2024-2023 کی رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ میں قتل کی شرح دُنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں ہر ایک لاکھ افراد میں سے 45 کو قتل کر دیا جاتا ہے۔
عالمی بینک نے پاکستان کے لیے کثیر سالہ پروگرام کے تحت 70 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دی ہے. اس کا مقصد ملک میں معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق یہ رقم پبلک ریسورسز فار اِنکلیوسِو ڈیولپمنٹ — ملٹی فیز پروگرامٹک اپروچ (PRID-MPA) کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کے ذریعے مجموعی طور پر 1.35 ارب ڈالر تک کی فنانسنگ ممکن ہو سکتی ہے۔
منظور شدہ رقم میں سے 60 کروڑ ڈالر وفاقی پروگراموں کے لیے جبکہ 10 کروڑ ڈالر سندھ میں ایک صوبائی پروگرام کی معاونت کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
عالمی بینک کی جانب سے جاری ایک بیان میں پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے کہا ہے کہ پاکستان میں جامع اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ملکی وسائل کو بہتر انداز میں متحرک کرنا اور انہیں مؤثر اور شفاف طریقے سے استعمال کرنا ناگزیر ہے تاکہ عوام کو حقیقی فوائد پہنچ سکیں۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ ملٹی فیز پروگرامٹک اپروچ کے تحت عالمی بینک وفاقی حکومت اور حکومتِ سندھ کے ساتھ مل کر ایسے عملی نتائج کے حصول پر کام کر رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ان میں سکولوں اور صحت کے مراکز کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد فنڈنگ، منصفانہ ٹیکس نظام اور فیصلہ سازی کے لیے مضبوط ڈیٹا شامل ہے، جبکہ سماجی اور ماحولیاتی ترجیحی سرمایہ کاری کے تحفظ اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد وزیرِ اعلی خیبرپختونخوا کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاج کی تیاری کریں۔
عمران خان کی جانب سے سنیچر کو اڈیالہ جیل میں اپنے وکلا سے گفتگو کا متن اُن کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر شیئر کیا گیا ہے۔
عمران خان نے توشہ خانہ ٹو کیس میں 17 سال قید کی سزا ملنے پر ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ’یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ تین برسوں کے ’بے بنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ ٹو کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ اُنھیں اور اُن کی اہلیہ کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں کسی پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے اُنھیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔‘
’سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا۔ جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں۔‘
انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ریاست آسام کے ضلع ہوجائی میں ٹرین کی زد میں آ کر سات ہاتھیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کا ریوڑ، ریلوے لائن عبور کر رہا تھا کہ اس دوران آنے والی ٹرین نے اُنھیں ٹکر مار دی۔ ٹرین کی ٹکر سے ایک بچھڑے سمیت سات جنگلی ایشیائی ہاتھی ہلاک ہو گئے۔
شمال مشرقی سرحدی ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹرین ڈرائیور نے درجنوں ہاتھیوں کو دیکھا اور ہنگامی بریکوں کا استعمال کیا، لیکن کچھ جانور پھر بھی مارے گئے۔
تصادم کے بعد پانچ بوگیاں پٹری سے اتر گئیں، لیکن دہلی جانے والی ایکسپریس ٹرین میں سوار کسی مساافر کو نقصان نہیں پہنچا۔ حادثے کی وجہ سے مختلف ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ بعض کا رُخ موڑ دیا گیا۔
مارے گئے ہاتھیوں کا بعد میں جانوروں کے ڈاکٹروں نے معائنہ کیا، جس کے بعد اُنھیں دفنا دیا گیا ہے۔
ریاست آسام، انڈیا میں ہاتھیوں کی سب سے بڑی آبادی میں سے ایک ہے۔ ریاست میں تقریباً چھ ہزار ہاتھی موجود ہیں۔
شمال مشرقی سرحدی ریلوے کا کہنا ہے کہ مقامی ریلوے کی پٹریوں کو اکثر ہاتھیوں کے ریوڑ عبور کرتے ہیں۔ لیکن سنیچر کا واقعہ ایک ایسے مقام پر پیش آیا جو ہاتھیوں کی راہداری نہیں تھی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے مطابق امریکہ نے ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے جو حال ہی میں وینزویلا سے روانہ ہوا تھا۔
رواں ماہ یہ دوسرا موقع ہے جب امریکہ نے ملک کے ساحل سے تیل بردار جہاز کو پکڑا ہے۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منگل کے روز اُس بیان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ وینزویلا انے اور جانے والے تیل کے ٹینکرز کی ’ناکہ بندی‘ کا حکم دے رہے ہیں۔
وینزویلا نے امریکی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’چوری اور اغوا‘ قرار دیا ہے۔ وینزویلا پہلے بھی امریکہ پر الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ اس کے وسائل چوری کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
وینزویلا کی حکومت طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں میں اس معاملے پر شکایت درج کرائیں گے۔
حالیہ ہفتوں میں، امریکہ بحیرہ کیریبین میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور اس نے وینزویلا کی منشیات کی سمگلنگ کی مبینہ کشتیوں پر مہلک حملے کیے ہیں، جس میں تقریباً 100 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
امریکہ نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے کہ یہ جہاز منشیات لے کر جا رہے تھے، اور اس معاملے پر امریکی انتظامی فوجی حملوں پر کانگریس کی طرف سے بڑھتی ہوئی جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔
شام میں امریکی فضائی حملوں میں شدت پسند تنظیم داعش کے پانچ جنگجو مارے گئے ہیں۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے سنیچر کو رپورٹ کیا کہ اُردن نے بھی اس حملے میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ نے گذشتہ ہفتے وسطی شام کے شہر پالمیرا میں ایک حملے میں دو امریکی فوجیوں اور ایک مترجم کی ہلاکت کے بعد سنیچر کو شام میں 70 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
امریکی حملوں کے چند گھنٹے بعد، اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی افواج نے اس ہفتے کے شروع میں شام میں داعش سے تعلق کے شبے میں ایک شخص کو گرفتار کر کے اسرائیل منتقل کر دیا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سنیچر کو بتایا تھا کہ اس سے وسطی شام میں لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے سے 70 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے جواب میں ’انتہائی طاقتور جوابی حملہ‘ قرار دیا ہے۔
ایک شامی سکیورٹی ذرائع نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ امریکی فضائی حملوں میں شام کے وسیع ریگستانوں میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق زیادہ تر اہداف پہاڑی علاقوں میں ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی کے دو مزید مقدمات کا فیصلہ سنتے ہوئے دونوں مقدمات میں پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت دیگر کو دس دس سال قید کی سزا سنا دی گی ہے۔
اے ٹی سی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کوٹ لکھپت جیل میں کلمہ چوک پر کیٹینر جلانے اور گلبرگ میں گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں فیصلہ سنایا، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر گلبرگ میں گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں یاسمین راشد عمر سرفراز چیمہ سمیت سات ملزمان کو دس دس سال کی سزا سنائی ہے۔
تاہم عدالت نے ان دو مقدمات میں 22 ملزمان کو بری بھی کیا ہے۔ گلبرگ میں گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں میاں اسلم اقبال سمیت چار ملزمان اشتہاری تھے۔ نو مئی کو کلمہ چوک میں کنیٹیر جلانے کے مقدمے میں کل 24 ملزمان کو دس دس سال سزا سنائی گئی۔ کلمہ چوک کنٹینر جلانے کے مقدمے 5 ملزمان کو بری کیا گیا۔
گلبرگ گاڑیاں جلانے کے کیس میں کل 33 ملزمان کو نامزد کیا گیا۔ کلمہ چوک کنٹینر جلانے کے مقدمے میں سات ملزمان کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
تاہم سنیچر کے روز دونوں مقدمات میں شاہ محمود قریشی کا ٹرائل نہیں ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کا دونوں مقدمات میں چالان پیش نہیں کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ لاہور میں نو مئی کے حوالے سے ابتک سات مقدمات کا فیصلہ سنایا جاچکا ہے۔
جمعے کے روز لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے نو مئی کے ایک اور مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
تاہم گزشتہ روز سنائے جانے والے فیصلے میں شاہ محمود قریشی کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز جس مقدمے کی سماعت ہوئی تھی اُس میں ملزمان کے خلاف نو مئی کو سرکاری افسران کی رہائش گاہ جی او آر کے گیٹ پر توڑ پھوڑ کا الزام تھا۔
یاد رہے کہ دو برس قبل نو مئی 2023 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس میں عسکری املاک پر بھی حملے کیے گئے تھے۔
اس کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں ملک بھر میں متعدد گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ عثمان ہادی ہمیشہ بنگلہ دیشیوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
انھوں نے یہ الفاظ سنیچر کی شب نیشنل پارلیمنٹ بلڈنگ کے جنوبی پلازہ میں منعقدہ عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے بعد کہے۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ ’پورے بنگلہ دیش میں کروڑوں لوگ اس لمحے کا انتظار کر رہے ہیں اور بیرونِ ملک موجود بنگلہ دیشی بھی ہادی کی باتیں سننے کے منتظر ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’پیارے ہادی، تمہاری باتیں اور تمہارا نظریہ سب کا سب لوگوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔ ہم انھیں دل و جان سے قبول کر رہے ہیں۔ یہ خیالات ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں تاکہ ہم ان پر عمل کر سکیں۔‘
عثمان ہادی کے بھائی ابو بکر صدیق نے اپنے بھائی کے جنازہ سے قبل قومی اسمبلی کی عمارت کے جنوبی پلازہ میں تقریر کرتے ہوئے چند سوالات اُٹھائے اُن کا کہنا تھا کہ ’دارالحکومت میں دن دہاڑے عثمان ہادی کو گولی مارنے کے بعد ان کے قاتل کیسے فرار ہو گئے؟
ابو بکر صدیق نے کہا کہ سات سے آٹھ دن گزر جانے کے باوجود قاتلوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا جا سکا؟ انھوں نے عثمان ہادی کے قاتلوں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ ’عثمان ہادی ہم سب بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور آج مجھے اس کا جنازہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔‘
انقلاب مانچا کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی تدفین ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی مسجد کے قریب قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے احاطے میں کر دی گئی ہے۔
اس سے قبل قومی اسمبلی کی عمارت کے جنوبی پلازہ میں عثمان ہادی کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس، مشاورتی کونسل کے اراکین اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما و کارکنان نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کے بعد عثمان ہادی کا جنازہ ڈھاکہ یونیورسٹی لے جایا گیا۔
دوسری جانب عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کی شب لکشمی پور کے بھوانی گنج میں شرپسندوں نے مبینہ طور پر ایک مقامی بی این پی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی ہے۔ واقعے میں ایک بچہ ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔
بنگلہ دیش میں طلبہ تنظیم 'انقلاب مانچا' کے مقتول رہنما عثمان ہادی کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی ہے۔ نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
شریف عثمان ہادی انڈیا کے ناقدین میں شمار ہوتے تھے اور انھیں گذشتہ ہفتے ڈھاکہ میں اُس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔
چہرہ ڈھانپے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے اُن پر گولی چلائی تھی جس کے بعد انھیں علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا تاہم جمعرات کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔
سنیچر کی دوپہر 12 بجے کے بعد سے بڑی تعداد میں لوگ پارلیمنٹ کی عمارت کے علاقے میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس سے قبل صبح سے ہی پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے والی سڑک پر ٹریفک روک دی گئی تھی۔
عثمان ہادی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے عام لوگوں کے ساتھ ساتھ مشاورتی کونسل کے اراکین، مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما پارلیمنٹ کی عمارت کے احاطے میں پہنچے تھے۔
پارلیمنٹ کی عمارت اور آس پاس کی سڑکوں پر فوج اور بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی) سمیت قانون نافذ کرنے والے افسران کی ایک بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس نے چوکیاں قائم کر کے آنے والوں کی تلاشی لی۔
عثمان ہادی کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے احاطے میں قومی شاعر قاضی نذر الاسلام کے مقبرے میں دفن کیا جائے گا۔
دوسری جانب عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں پرتشدد مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کی شب لکشمی پور کے بھوانی گنج میں شرپسندوں نے مبینہ طور پر ایک مقامی بی این پی لیڈر کے گھر کو آگ لگا دی ہے۔ واقعے میں ایک بچہ ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔
پاکستان کے بڑے صنعتی شعبے (لارج سکیل مینوفیکچرنگ ـ ایل ایس ایم) میں اکتوبر کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر پیداوار میں 8.33 فیصد اور ستمبر کے مقابلے میں 3.75 فیصد اضافہ ہوا۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مجموعی صنعتی نمو 5.02 فیصد تک پہنچ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ خوراک، مشروبات، تمباکو، ملبوسات، آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، کوک اور پیٹرولیم مصنوعات، برقی آلات اور غیر دھاتی معدنی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ رہا۔ تاہم کیمیکلز، ادویہ سازی، لوہا و اسٹیل اور مشینری و آلات جیسے چند اہم شعبوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایل ایس ایم شعبے کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً آٹھ فیصد حصہ بنتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اسے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
کن شعبوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے؟
کن شعبوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے؟
سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رُجوع کا فیصلہ کیا ہے۔
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ فیصلے کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ ون اور سائفر کیس کی طرح اس مقدمے کے ترائل میں بھی کئی سقم موجود ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کے توسط سے اس فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورت میں اپیل دائر کریں گے۔
سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ عمران خان اور اُن کی اہلیہ کو جیل میں بہت مشکل حالات میں رکھا گیا ہے۔
سلمان صفدر نے دعویٰ کیا کہ کل رات 8 بجے عمران کی لیگل ٹیم کو اطلاع دی گئی کہ صبح 9 بجے توشہ خانہ ٹو کی سماعت اڈیالہ میں ہو گی۔ موٹروے بند تھا موسم کی صورتحال سامنے ہے ہم جیسے تیسے لاہور سے یہاں پہنچے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جج نے بغیر ملزمان اور وکلا کے ہی فیصلہ سنا دیا۔ جج نے آج دلائل مکمل کر کے فل سٹاپ لگانا تھا لیکن جج اج۔ ’لکھا لکھایا‘ 59 صفحات کا فیصلہ ساتھ لے آئے۔
اسلام آباد کی عدالت نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 409 کے تحت دونوں کو سات، سات سال قید الگ سے سنائی گئی ہے۔
سپیشل جج سینٹرل شاہ رُخ ارجمند نے اڈیالہ جیل میں کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے زائد کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
اڈیالہ جیل کے اہلکار کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کمرہ عدالت میں پیش کیا گیا اور ان کی موجودگی میں فیصلہ سنایا گیا۔
عدالتی اہلکار کے مطابق فیصلہ سنانے سے پہلے عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
توشہ خانہ ٹو کیس کی ابتدائی تحقیقات نیب نے کی تھی اور نیب ترامیم کی روشنی میں یہ کیس ایف آئی اے کو منتقل ہوا تھا۔ ستمبر 2024 میں ایف آئی اے نے تحقیقات کے بعد چالان عدالت میں جمع کروایا تھا۔
توشہ خانہ کے دوسرے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر 12 دسمبر 2024 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ توشہ خانہ کے پہلے کیس میں عدالت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کر چکی ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی پر کیا الزامات ہیں؟
عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر الزامات یہ ہیں کہ انھوں نے 2021 میں دورۂ سعودی عرب کے دوران حاصل شدہ بلگاری جیولری سیٹ توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا۔
عدالت میں جمع کروائی گئی تفصیلات کے مطابق یہ بلگاری جیولری سیٹ وزیر اعظم کی اہلیہ کو ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دیا گیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق بلگاری سیٹ میں ایک عدد بریسلٹ، انگوٹھی، جھمکے اور نیکلس بھی شامل تھا۔ سیٹ میں شامل انگوٹھی میں گلابی رنگ کا ہیرا جڑا تھا۔ بریسلٹ میں بھی گلابی ہیرے اور دیگر جواہرات جڑے تھے اور نیکلس میں بھی بیش قیمت موتی اور ہیرے لگے ہوئے تھے۔
ان پر یہ بھی الزام ہے انھوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے پرائیویٹ فرم سے جیولری سیٹ کی قیمت 58 لاکھ روپے لگوائی اور 29 لاکھ روپے ادا کیے۔
عدالت میں جمع کروائے گئے دفتر خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے سے حاصل شدہ ریکارڈ کے مطابق بلگاری سیٹ کی اصل قیمت سات کروڑ 15 لاکھ روپے سے زائد ہے۔