آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں۔ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔

خلاصہ

  • ایران کے معاملے میں چین کی مدد کی ضرورت نہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران نے امریکہ کے خلاف بین الاقوامی ثالثی کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا
  • قطر اور ترکی کا مشترکہ طور پر پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعلان
  • ایران جنگ پر اب تک 29 ارب ڈالر لاگت آ چکی ہے: پینٹاگون
  • عباس عراقچی برکس اجلاس میں شرکت کے لیے نئی دہلی جائیں گے: انڈیا میں ایرانی سفارت خانے کا بیان
  • ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز کی حدود میں اضافے کا اعلان

لائیو کوریج

  1. جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں نشانہ بننے والے بحری جہاز کی تصاویر جاری کر دیں

    جنوبی کوریا کی وزارتِ خارجہ نے خلیج فارس میں نشانہ بننے والے اپنے بحری جہاز کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔

    مال بردار بحری جہاز جنوبی کوریا کی ایح ایم ایم شپنگ کمپنی کی ملکیت تھا جسے دو نامعلوم پروجیکتائلز کے ذریعے چار مئی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ جہاز اُس وقت آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔

    اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، تاہم بحری جہاز کو نقصان پہنچا تھا۔

    اس بحری جہاز کا نام ایچ ایچ ایم نامو ہے اور اس کی لمبائی 180 میٹر ہے۔ میری ٹائم ٹریفک ڈیٹا بیس کے مطابق یہ بحری جہاز پاناما کے پرچم کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔

  2. ہم ایران کے جائز حقوق مانگ رہے ہیں، ہمارے مطالبات معقول اور ذمہ دارانہ ہیں: اسماعیل بقائی

    ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کے مطالبات ’معقول اور ذمہ دارانہ‘ ہیں، جبکہ انھوں نے امریکہ پر ’یک طرفہ اور غیر معقول‘ مؤقف پر اصرار کرنے کا الزام عائد کیا۔

    ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی تجاویز پر تہران کے جواب کو ’بالکل ناقابلِ قبول‘ قرار دیتے ہوئے ایران پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا تھا۔

    اسماعیل بقائی نے ایران کے بعض مطالبات گنواتے ہوئے کہا کہ جن امور پر زور دیا گیا ہے وہ سب ’ایران کے جائز حقوق‘ میں شامل ہیں۔

    انھوں نے کہا: ’کیا خطے میں جنگ کے خاتمے کا ایران کا مطالبہ، ایرانی جہازوں کے خلاف بحری قزاقی کے خاتمے کا مطالبہ، جسے وہ سمندری ناکہ بندی کہتے ہیں، ایرانی عوام کے غیر ملکی بینکوں میں منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ، آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کی تجویز، اور لبنان سمیت پورے خطے میں امن کے قیام کا مطالبہ، کیا یہ مطالبات ناجائز ہیں؟‘

  3. مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغامات میں خلیج اور آبنائے ہرمز سے متعلق 10 سٹریٹجک نکات

    ایران کی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اپنے پیغامات میں رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز سے متعلق 10 سٹریٹجک نکات بیان کیے ہیں۔

    مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے اور اب تک عوامی طور پر منظرِ عام پر نہیں آئے۔ انھوں نے خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کے حوالے سے یہ نکات پیش کیے ہیں۔

    • خلیجِ فارس کے ممالک کی سر زمین پر امریکی فوجیوں کی موجودگی خطے میں عدم تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔
    • امریکی حکام ان کی سلامتی کی ضمانت دینے سے قاصر ہیں۔
    • خطے کا روشن مستقبل امریکہ سے دوری اور عوام کی ترقی، فلاح اور خوشحالی میں ہے۔
    • خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان کے پانیوں پر ہمارا اور ہمارے پڑوسیوں کا مشترکہ حق ہے۔
    • خلیجِ فارس میں ’ولن غیر ملکیوں‘ کی کوئی جگہ نہیں۔
    • خلیجِ فارس میں ایران کی فتوحات کا سلسلہ خطے اور دنیا میں ایک نئے نظام کی راہ ہموار کر رہا ہے۔
    • خلیج فارس کے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے ہرمز کے راستے کے انتظام میں ایران کی کامیابی کا ’عملی طور پر شکریہ‘ ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
    • آبنائے ہرمز کے بے جا استعمال کے لیے ’دشمن‘ کو میسر بنیادوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
    • قانونی بنیادوں پر آبنائے ہرمز کا نیا نظام نافذ کر کے خطے کے عوام کے سکون اور ترقی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
    • آبنائے ہرمز کے نئے انتظام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے معاشی فوائد پر ایرانی عوام خوشی کا اظہار کریں گے۔
  4. حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج پر حملے کا دعویٰ

    لبنانی تنظیم حزب اللہ نے طیبہ شہر میں ایک مکان کے اندر قائم اسرائیلی فوجی پوسٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    حزب اللہ کے مطابق اس مقام پر تین مرتبہ حملہ کیا گیا، جس کے بعد زخمیوں کو نکالنے کے لیے ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر موقع پر پہنچا۔

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد اسرائیلی فورسز کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

    اسرائیلی فوج نے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

  5. مودی کی سونا نہ خریدنے کی اپیل کے بعد انڈیا میں جیولری کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ

    انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے زر مبادلہ بچانے کے لیے عوام سے سونا نہ خریدنے کی اپیل کی ہے، جس کے بعد پیر کے روز جیولری کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

    اہم جیولری کمپنیوں کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔

    سکائی گولڈ کے حصص سب سے زیادہ، تقریباً 12 فیصد تک گرے۔

    سینکو کے 365.40 روپے میں ملنے والے حصص کی قیمت 325.05 روپے ہو گئی۔ یہ 11 فیصد کے قریب کمی ہے۔

    کلیان جیولرز کے حصص بھی 424.55 روپے سے تقریباً 10 فیصد کم ہو کر 382.10 روپے رہ گئے۔

    ٹائٹن کے حصص میں تقریباً آٹھ فیصد کمی ہوئی۔

  6. بیجنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کی تصدیق کر دی

    بیجنگ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی اپنے چینی ہم منصب سے ایران جنگ اور تجارتی امور پر بات چیت متوقع ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا: ’صدر شی جن پنگ کی دعوت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 13 سے 15 مئی کے دوران چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔‘

  7. معاونت اور رہنمائی سے ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا: ایران

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ’متعین راستے‘ سے ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز عبور کر گیا ہے۔

    خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ’آگویس فانوریوس ون‘ نامی یہ انتہائی بڑا آئل ٹینکر گذشتہ روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔

    رپورٹس کے مطابق یہ ٹینکر عراق کا خام تیل لے کر اس وقت خلیجِ عمان میں ویتنام کی بندرگاہ نگی سون کی جانب رواں دواں ہے۔

    اس سے ایک روز قبل بھی یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دو آئل ٹینکرز ایران کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔

  8. اسرائیل کی جنوبی لبنان پر مزید حملوں کی وارننگ، رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی ہدایت

    اسرائیلی فوج کے عربی زبان کے ترجمان آویخائی ادرعی نے جنوبی لبنان کے لیے ایک نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے نو علاقوں کے رہائشیوں کو کہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں سے پہلے یہ علاقے خالی کر دیں۔

    اس سے قبل آج صبح اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی، جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

  9. ’امریکہ اور اسرائیل کے لیے جاسوسی‘ پر عرفان شکور زادہ کو پھانسی دے دی گئی: ایرانی عدلیہ

    ایرانی عدلیہ کا کہنا ہے کہ ’امریکی انٹیلی جنس سروس اور موساد کے ساتھ تعاون‘ پر عرفان شکور زادہ کو آج پھانسی دے دی گئی ہے۔

    ایرانی عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق عرفان شکور زادہ نے ’دشمن کے اداروں‘ کو ’خفیہ‘ معلومات فراہم کیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، 29 سالہ عرفان شکور زادہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علم تھے اور ’کئی ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھنے اور جبری اعتراف جرم حاصل کرنے‘ کے بعد انھیں سزائے موت سنائی گئی۔

    آٹھ مئی کو ایران میں انسانی حقوق کے مرکز نے رپورٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے ’یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایرو سپیس انجینیئرنگ کے ممتاز طالب علم‘ کی سزائے موت کی توثیق کی ہے۔

    عرفان شکور زادہ کو فروری 2025 میں پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس نے ’جاسوسی اور دشمن ممالک کے ساتھ تعاون‘ کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔

    جیل سے بھیجے گئے ایک تحریری پیغام میں عرفان شکور زادہ نے کہا تھا کہ ’تشدد اور کئی مہینوں کی قیدِ تنہائی کے دوران انھیں جبری طور پر اعتراف جرم کے لیے مجبور کیا گیا۔‘

  10. اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کرنے کا الزام، ایران کا سات افراد گرفتار کرنے کا اعلان

    ایران کی وزارتِ انٹیلیجنس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے چھ صوبوں میں کارروائیوں کے دوران دو ایسے سیل ختم کیے ہیں جو اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے لیے کام کر رہے تھے۔

    وزارت کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سات افراد گرفتار کیے گئے جبکہ مسلح جھڑپ میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغربی آذربائیجان میں چار افراد پر مشتمل ایک سیل صوبے کے مختلف علاقوں اور تہران میں حساس مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ دار الحکومت میں ایک قتل کی تیاری کر رہا تھا۔

    اس کے علاوہ حکام نے اعلان کیا کہ کرمان اور البرز میں علیحدہ علیحدہ کارروائیوں کے دوران مزید تین افراد کو گرفتار کیا گیا جو ایرانی فوجی دستوں کو نشانہ بنانے کے لیے ریکی کے مرحلے میں تھے۔

    وزارت کے مطابق ان سے برآمد ہونے والے سامان میں چھوٹے ڈرون، سائلنسر لگے ہتھیار، گولہ بارود، مواصلاتی آلات، سٹارلنک ریسیور اور بُلٹ پروف جیکٹس شامل ہیں۔

    صوبہ قزوین میں بھی حکام نے ایک شخص کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ ملک کی شمالی سرحد کے ذریعے حساس فوجی معلومات سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

  11. لبنان کی سرحد کے قریب ایک اسرائیلی فوجی ہلاک

    اسرائیلی فوج نے اپنے ایک فوجی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل کے مطابق یہ فوجی لبنان کی سرحد کے قریب ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا۔

    اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 47 سالہ الیگزینڈر گلووانیو فوجی گاڑی کا ڈرائیور تھا اور وہ اتوار کے روز ہلاک ہوا۔

  12. دشمن کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے: مسعود پزشکیان

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ’ہم کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔‘

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’بات چیت یا مذاکرات کا مطلب شکست تسلیم کرنا یا پسپائی نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ایرانی قوم کے حقوق کا حصول اور قومی مفادات کا دفاع ہے۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر ایران نے اپنا جواب پاکستان کے ذریعے اتوار کے روز بھجوایا تھا۔

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ) نے پیر کی صبح رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب کو ’بالکل نا قابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

  13. نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچر اور نہ ہی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل: اس سال ماسکو میں یومِ فتح کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی, سٹیو روزنبرگ، مدیر برائے روس، ماسکو

    میں ریڈ سکوائر پر یومِ فتح کی کئی پریڈز میں شریک ہو چکا ہوں، لیکن اس سال کی پریڈ بالکل مختلف محسوس ہوئی۔

    گذشتہ برسوں میں مجھے سینٹ باسل کے قریب پارک کی گئی میڈیا بس سے اتر کر دوڑ کر جانا پڑتا تھا تاکہ پریس ایریا میں کوئی اچھی جگہ حاصل کر سکوں۔

    لیکن اس سال دوڑنے کی ضرورت نہیں تھی۔ تقریب میں صحافیوں کی تعداد کہیں کم تھی اور بہت سے بین الاقوامی میڈیا اداروں کو رسائی نہیں دی گئی تھی۔

    جب میں ریڈ سکوائر میں اپنی جگہ پر پہنچا تو روسی ٹی وی کی ایک ٹیم میرے پاس آئی اور فلم بندی شروع کر دی۔

    رپورٹر مسکراتے ہوئے بولا: ’سٹیو! آپ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی میڈیا کو آنے دیا گیا ہے۔‘

    میں نے جواب دیا: ’حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ مجھے یہاں اور کوئی نظر نہیں آ رہا۔‘

    اس کے باوجود میں وہاں اپنے موجود ہونے پر خوش تھا، تاکہ خود دیکھ سکوں کہ سنہ 2026 کی یومِ فتح کی پریڈ کیسی دکھائی دیتی ہے۔

    صحافیوں کی کم تعداد کے ساتھ ساتھ سٹینڈز میں مہمان بھی کم تھے، اور عالمی رہنماؤں کی تعداد بھی گذشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔

    لیکن سب سے نمایاں فرق تب سامنے آیا جب پریڈ شروع ہوئی۔

    نہ ٹینک تھے، نہ راکٹ لانچرز اور نہ ہی بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل۔ یعنی وہ فوجی ساز و سامان نظر نہیں آیا جسے کریملن عام طور پر یومِ فتح پر روسی عسکری طاقت کے اظہار کے لیے پیش کرتا ہے۔

    اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال کی پریڈ کو محدود سطح پر منعقد کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں مہمانوں اور صحافیوں کی تعداد بھی کم رہی۔ حکام نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات قرار دیے، کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یوکرین ڈرونز کے ذریعے ریڈ سکوائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

    صدر ولادیمیر پوتن کے لیے ایسی پریڈ کو محدود کرنا آسان فیصلہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ تقریب ہمیشہ روسی طاقت دکھانے کے لیے ترتیب دی جاتی ہے۔ تاہم یوکرینی حملے کے خدشے نے اس تبدیلی کو لازمی بنا دیا۔

    بالآخر پریڈ بغیر کسی واقعے کے اپنے انجام کو پہنچی، کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ماسکو اور کیئو کے درمیان، ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی آخری لمحے کی جنگ بندی نے خطرے کو کم کر دیا تھا۔

    جمعے کے روز یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں روس کو پریڈ منعقد کرنے کی ’اجازت‘ دی گئی۔

    یوکرین کے اس طنزیہ اقدام کو ماسکو میں پسند نہیں کیا گیا۔

    کریملن کے ترجمان نے کہا کہ روس کو یومِ فتح کی پریڈ منعقد کرنے کے لیے کسی کی اجازت درکار نہیں۔

    اور جس فوجی ساز و سامان کا ذکر میں نے پہلے کیا تھا، وہ کہاں تھا؟

    ہم اسے ریڈ سکوائر میں تو نہ دیکھ سکے، لیکن وہ سکرین پر ضرور دکھائی دیا۔

    ریڈ سکوائر میں نصب بڑی سکرینز پر متعدد راکٹ لانچرز، لڑاکا طیارے، ٹینک، آبدوزیں اور دیگر ہتھیار دکھائے گئے۔

    ایسا لگتا ہے کہ کریملن نے یہ طے کیا کہ اگر عوامی طور پر فوجی ساز و سامان کی نمائش ممکن نہیں، تو ویڈیو پیشکش ہی بہترین متبادل ہے۔

    صدر پوتن نے اپنی تقریر میں کہا: ’ہم ہمیشہ فاتح رہے ہیں اور ہمیشہ فاتح رہیں گے۔‘

    سوویت یونین نے 81 برس قبل فتح حاصل کی تھی۔ سنہ 1945 میں اس نے ایک جارح قوت کو پسپا کیا تھا اور شکست دی تھی۔ اس کامیابی کو روس ’عظیم فتح‘ کہتا ہے، اور اسی کا جشن ریڈ سکوائر میں منایا گیا۔

    لیکن یوکرین کی جنگ ایک بالکل مختلف جنگ ہے۔ روس نے چار سال سے زائد عرصہ قبل یوکرین پر حملہ کیا تھا اور اس وقت تک روس کے لیے فتح کی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔

  14. ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فائرنگ سے زخمی رکن پنجاب اسمبلی علاج کے لیے لاہور منتقل، پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیم بنا دی, احتشام شامی، صحافی

    پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں فائرنگ سے زخمی رکن صوبائی اسمبلی کرنل ریٹائرڈ ایوب خان گادھی کو علاج کے لیے لاہور منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ پولیس نے ملزموں کی گرفتاری کے لیے ٹیم بنا دی ہے۔

    پولیس کے مطابق سینیئر افسران اور فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

    گذشتہ روز نامعلوم مسلح افراد نے تھانہ رجانہ کی حدود چک 184 گ ب میں مسلم لیگ (ن) کے رکن پنجاب اسمبلی ایوب خان گادھی کے ڈیرے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کے تین کارکن ہلاک جبکہ کرنل (ر) ایوب خان گادھی سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

    زخمیوں کو فوری طور پر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں کرنل (ر) ایوب کو مزید علاج کے لیے لاہور منتقل کیا گیا۔

    کرنل (ر) ایوب خان گادھی پنجاب کے صوبائی وزیر برائے انسداد دہشت گردی بھی رہ چکے ہیں۔

  15. امریکی تجویز پر تہران کے جواب میں آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور معاوضے کا مطالبہ شامل: سرکاری میڈیا

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز کے جواب میں تہران نے آبنائے ہرمز پر ایران کی حاکمیت تسلیم کرنے اور جنگ سے پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ) نے پیر کی صبح رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکہ کی جانب سے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جواب کو ’بالکل نا قابل قبول‘ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

  16. ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد تیل کی قیمت میں اضافہ، 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجاویز پر ایران کے ردِ عمل کو ’مکمل طور پر نا قابلِ قبول‘ قرار دیے جانے کے بعد ایشیا میں پیر کی صبح تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

    ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایران نے امریکہ کو اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوایا تھا۔

    امریکی صدر کی جانب سے ایرانی جواب مسترد کیے جانے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 3.8 فیصد اضافے کے ساتھ 105.20 ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ امریکہ میں فروخت ہونے والے خام تیل کی قیمت چار فیصد بڑھ کر 99.30 ڈالر ہو گئی۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز عملاً بند ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی شدید متاثر ہوئی ہے۔

  17. کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بڑی طاقتوں کی ضمانت ضروری: ایرانی سفیر

    چین میں تعینات ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ (ایران اور امریکہ میں) کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لازم ہے کہ وہ بڑی طاقتوں کی ضمانت کے ساتھ ہو اور اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی پیش کیا جائے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں عبدالرضا رحمانی فضلی نے لکھا: ’چین اور روس دو بڑی اور با اثر طاقتیں ہیں، اور ایران اور خلیجِ فارس کے خطے کے دیگر ممالک کے لیے چین کی جو حیثیت ہے، اس کے پیشِ نظر بیجنگ کسی بھی معاہدے کے ضامن کے طور پر یہ کردار ادا کر سکتا ہے۔‘

  18. ایران کا جواب قابل قبول نہیں: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے امریکی تجاویز کے جواب کو مسترد کر دیا ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے مختصر پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران کے نام نہاد ’نمائندوں‘ کی جانب سے دیا گیا جواب پڑھا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی پیشکش پر ایران کی جانب سے دیے گئے جواب کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    یہ جواب پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا تھا جو اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    اسی ہفتے کے آغاز میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ ایران میں جنگ ’جلد ختم ہو جائے گی‘۔ تاہم اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ’ختم‘ کیے بغیر ایران کے خلاف جنگ کو ختم شدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

  19. ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ’جب چاہیں چھین سکتے ہیں‘: ٹرمپ کا دعویٰ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ہے اور اس کے پاس موجود ’افزودہ یورینیم کا ذخیرہ جب چاہیں چھین سکتے ہیں۔‘

    یہ بات انھوں نے امریکی صحافی شَیریل ایٹکِسن کے ساتھ پروگرام دی نیشنل ڈیسک میں گفتگو کے دوران کہی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم کسی بھی مرحلے پر ایسا کر سکتے ہیں، جب چاہیں۔ امریکی فوج کے ذریعے اس مواد کی نگرانی کر رہی ہے، اور اگر کسی نے اس کے قریب جانے کی کوشش کی تو ہمیں فوراً پتا چل جائے گا اور ہم اسے نشانہ بنائیں گے۔‘

    امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے۔‘

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران کہا کہ ’ایران کی قیادت کے اہم حصے ختم ہو چکے ہیں۔ ایران کی اے ٹیم جا چکی ہے، بی ٹیم جا چکی ہے، اور سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر اسے توڑ دیتا ہے، پھر دوبارہ معاہدہ کرتا ہے اور اسے بھی توڑ دیتا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ آج وہاں سے نکل بھی جائے تو ایران کو دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں کم از کم 20 سال لگیں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم نہ کیا ہوتا تو ایران کے پاس جوہری ہتھیار آ چکا ہوتا اور وہ اسے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کرتا۔

    ایک سوال کے جواب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں اور ان کے بقول یہ اقدامات اسرائیل، سعودی عرب، عراق، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں کی مدد کے لیے کیے جا رہے تھے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ مے دعویٰ کیا کہ امریکہ تیل اور گیس کی پیداوار میں روس اور سعودی عرب دونوں سے کہیں زیادہ پیداوار کرتا ہے۔

  20. ایران 47 برسوں سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ’تاخیری حکمتِ عملی‘ اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران گزشتہ 47 برسوں سے امریکہ اور دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کھیل کھیل رہا ہے۔

    ٹرمپ نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم پر یہ بیان اپنی پوسٹ میں جاری کیا اور لکھا کہ ’یہ صورتحال اس وقت تبدیل ہوئی جب سابق امریکی صدر باراک اوباما صدر بنے اور ایران کو بڑا فائدہ ہوا۔‘

    ٹرمپ کے بقول باراک اوباما ایران کے ساتھ نہ صرف اچھا رویہ رکھتے تھے بلکہ بہت زیادہ نرم تھے اور انھوں نے اسرائیل اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کو نظر انداز کیا اور ایران کو ایک نئی، مضبوط معاشی مہلت فراہم کی۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کو سینکڑوں ارب ڈالر دیے گئے، جن میں 1.7 ارب ڈالر نقد رقم ’’چاندی کی تھالی میں رکھ کر‘ پیش کی گئی۔‘

    ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’واشنگٹن ڈی سی، ورجینیا اور میری لینڈ کے بینکوں سے یہ رقم نکالی گئی اور یہ اتنی زیادہ تھی کہ ایران پہنچنے پر ایرانی حکام کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا کریں۔‘

    ٹرمپ کے بیان کے مطابق ’ایرانیوں نے اس سے پہلے کبھی اتنی بڑی رقم نہیں دیکھی تھی۔ یہ پیسے ہوائی جہاز سے بیگوں اور سوٹ کیسوں میں اتارے گئے اور ایرانی اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں کر پا رہے تھے۔‘

    امریکی صدر نے اوباما پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس تمام عمل کے دوران ایرانیوں کو ’سب سے بڑا فائدہ‘ ملا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق باراک اوباما امریکہ کے لیے ایک ناکام لیڈر ثابت ہوئے، تاہم وہ صدر جو بائیڈن سے کم خراب تھے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ پچھلے 47 برسوں کے دوران ایران امریکہ کو انتظار میں رکھتا رہا، سڑک کنارے بموں کے ذریعے امریکیوں کو نشانہ بنایا، احتجاج کو کچلا، اور حال ہی میں 42 ہزار بے گناہ، غیر مسلح مظاہرین کو ہلاک کیا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران امریکہ پر ہنستا رہا ہے، تاہم امریکہ اب دوبارہ مضبوط ہو چکا ہے اور ایران کوآئندہ ایسا کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔‘