وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورتحال پر
گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے اور حکام کو احتجاجی مظاہروں سے متاثرہ خاندانوں تک فوری امداد پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔
ایک
بیان میں انھوں نے کہا کہ ’پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی و جمہوری حق ہے تاہم
مظاہرین امن عامہ کو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ گذشتہ تین روز سے احتجاج کر رہی ہے۔ بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 زخمی ہوئے تھے جبکہ ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ اس جھڑپوں میں دو مظاہرین بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ریڈیو
پاکستان کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے مظاہرین کے
ساتھ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ عوامی جذبات کا احترام یقینی بنائیں اور
کسی بھی قسم کی غیر ضروری سختی سے اجتناب برتیں۔‘
شہبازشریف
نے کہا کہ ’حکومتِ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ہمہ وقت
تیار ہے۔‘
انھوں
نے مظاہروں کے دوران پیش آئے ناخوشگوار واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی
سطح پر اس مسئلے کے پرامن حل کے لیے مذاکراتی کمیٹی کی توسیع کا فیصلہ کیا
ہے۔ کمیٹی میں سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزرا بشمول سردار یوسف، احسن اقبال، پاکستان
کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر مسعود خان اور قمر زمان کائرہ کو بھی شامل کر دیا ہے۔
شہبازشریف
نے مذاکراتی کمیٹی کو فوراً مظفرآباد پہنچنے اور مسائل کے فوری اور دیرپا حل نکالنے
کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی
مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔
انھوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی
اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے تاکہ مسائل کے
فوری تدارک کے لیے اقدامات کیے جاسکیں۔ وزیراعظم نے وطن واپسی پر مذاکرات کے عمل کی
خود نگرانی کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
’بامعنی مذاکرات کے لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ فوری ختم کریں‘
دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری بحران پر فوری توجہ دیں۔
کور کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ بامعنی مذاکرات کے لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ کو فوری طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
سردار عمر نذیر کشمیری نے گذشتہ روز کشمیر کے وزیر اعظم کی جانب سے نیوز کانفرنس کے جواب میں کہا ہے کہ ’29 ستمبر کے بعد سے ایک پرامن عوامی تحریک کو ریاستی جبر، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، شہری آزادیوں پر پابندیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ریاستی فورسز اور غیر مقامی اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں کم از کم نو نہتے شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔‘
ان کا الزام عائد کیا کہ پولیس کے تین اہلکار بھی غیر مقامی فورسز کی گولیوں سے مارے گئے ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جان بوجھ کر اشیائے ضروریہ، خوراک اور ایندھن کی قلت پیدا کرنے کے لیے بین الصوبائی شاہراہوں کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں، کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔‘
بیان میں اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، آزادانہ تحقیقات کریں اور خونریزی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان پر دباؤ ڈالیں۔
بیان کے مطابق ’عوامی ایکشن کمیٹی نےپاکستان یا اس کی مسلح افواج کے خلاف کوئی مہم شروع نہیں کی۔ یہ تحریک مکمل طور پر پرامن اور آئینی ہے اور اس کا مقصد صرف کشمیری عوام کے سماجی، معاشی اور سیاسی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔‘
مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت
یاد رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ’تشدد کے راستے سے کسی بھی مقصد کا حصول ممکن نہیں۔ تنازعات کا حل ہمیشہ مذاکرات سے نکلتا ہے۔‘
چوہدری انوارالحق کا کہنا تھا کہ ’اب تک کی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جاری مظاہروں میں بدھ کے روز خاصی شدت دیکھی گئی اور چمیاٹی کے مقام پر جھڑپ کے دوران تین پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک ہے۔‘
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ’عوامی ایکش کمیٹی کے پرامن احتجاج کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔‘
اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم پاکستان نے میری ذمہ داری لگائی کہ آپ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کریں اور ان کے مطالبات کے حل کے لیے کوشش کریں۔‘
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ہم نے عوامی ایکشن کمیٹی کے 90 فیصد مطالبات کو تسلیم کیا ہے اور مزید پر بھی بات کرنے کو تیار ہیں۔‘
چوہدری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ’بدھ کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چمیاٹی کے مقام پر تین پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔‘
ان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ پولیس کے علاوہ عام ان پرتشدد واقعات میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی اطلاعات ہیں تاہم اس حوالے سے تاحال تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
یاد رہے کہ جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔
اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔
حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔