خیبر پختونخوا میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد دیہات اور مضافاتی علاقوں میں مقامی لوگ اب علاقوں میں اپنے اپنے طور پر حفاظتی انتظامات کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
جنوبی ضلع بنوں کے قریب ھاتی خیل قبیلے نے ایک جرگے کے بعد اس علاقے میں موجود عسکریت پسندوں کو 10 اکتوبر تک کی ڈیڈ لائن دی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں۔
اسی طرح گزشتہ روز ضلع لکی مروت میں بھی سکیورٹی فورسز، پولیس اور مقامی سول افسران کے ایک اجلاس میں علاقے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات کے لیے مشاورت کی گئی ہے۔
لکی مروت میں بیگو خیل اور دیگر قریبی دیہات کی سطح پر پہلے سے ہی امن کمیٹیاں قائم ہیں جو عسکریت پسندوں کی جانب سے کسی بھی کارروائی یا مقابلے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوام کو تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے یہ عام لوگوں کا کام نہیں ہے بلکہ اس سے مقامی لوگ اور عسکریت پسند آمنے سامنے آ جائیں گے جس سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔
ضلع بنوں میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اگرچہ کچھ علاقے ہیں جہاں عسکریت پسند موجود ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور جہاں جہاں حالات کشیدہ ہیں وہاں مقامی کمیونٹی کو ساتھ ملا کر کارروائیاں کر رہے ہیں۔
دو روز پہلے ھاتی خیل قوم نے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑا جرگہ منعقد کیا تھا، جس میں مسلح شدت پسندوں کو علاقے سے نکلنے کا الٹی میٹم دیا گیا تھا۔
ریجنل پولیس افسر سجاد خان نے اس فیصلے کو سراہا تھا۔
سجاد خان نے بتایا کہ مقامی لوگوں کی مدد سے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے مختلف مقامات پر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ ان میں ضلع بنوں کے علاوہ لکی مروت اور نورنگ میں بھی روایتی چغہ پارٹی کی طرح مقامی لوگ حرکت میں آئے ہیں جس پر مسلح افراد فرار ہو گئے تھے۔ چغہ پشتو زبان میں ’چیخ‘ کو کہا جاتا ہے اور کسی بھی واقعہ پر ایک ’چیخ‘ پر سب لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔
بنوں سے سینئر مقامی صحافی عمر دراز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنوں کے علاوہ شمالی وزیرستان لکی مروت اور قریبی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
اُن کے بقول بنوں اور شمالی وزیرستان کے سرحدی علاقوں جانی خیل میں اس سال اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 10 واقعات پیش آ چکے ہیں شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے 19 واقعات پیش آئے ہیں اور یہ سلسلہ اسی طرح دوسرے علاقوں میں بھی جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور اس سے کوئی محفوظ نہیں ہے ان میں نوجوانوں، تاجروں سرکاری ملازمین اور دیگر کو اغوا کیا گیا ہے جنھیں مقامی لوگوں کی مدد سے پھر بازیاب کرایا گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مقامی لوگوں کے پاس صرف دو راستے ہیں ایک یہ کہ وہ مجبور ہو کراپنی حفاظت کے لیے خود نکل آئے ہیں کیونکہ جس طرح تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ان کے لیے بھی خطرات ہیں اس لیے ایک طرح سے وہ خود کھڑے ہو گئے ہیں۔
دوسرا راستہ ان کے لیے یہ ہے کہ پولیس اور سکیورٹی فورسز کا ساتھ دے کر اپنے علاقے سے عسکریت پسندوں کو نکالیں اور اس وقت ان علاقوں میں یہ دونوں طریقے اپنائے جا رہے ہیں۔
اس سے پہلے باجوڑ کے ماموند کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی ٹارگٹڈ کارروائی سے سے پہلے مقامی قبائل نے جرگے منعقد کیے اور عسکریت پسندوں سے مذاکرات کیے تھے اور ناکامی کے بعد سکیورٹی فورسز نے ان علاقوں میں کارروائی شروع کی تھی۔
اسی طرح اس کے بعد ضلع مہمند میں بھی سکیورٹی فورسز پولیس اور مقامی عمائدین کے جرگے ہوئے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے خلاف مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے پر بات کی گئی تھی۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کے تجربے پہلے بھی کیے گئے تھے لیکن اس نتائج کوئی اچھے نہیں نکلے تھے۔ لوگوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمے داری ہے اور ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے کیونکہ اس طرح مقامی کمیونٹی کو پہلے بھی تیار کیا گیا تھا ان میں دکاندار اور عام لوگ تھے ان کا کام مسلح ہونا نہیں تھا۔ لیکن انھیں مقابلے کے لیے سامنے لایا گیا تھا اور پھر ان کا کیا انجام ہوا تھا سب کو معلوم ہے۔
مشتاق یوسفزئی کے مطابق پولیس اور سکیورٹی فورسز کے پاس وسائل ہیں تمام اسلحہ اور سہولیات ہیں ان کی انٹیلیجنس ہے ان کے پاس ایئر فورس ہے سب کچھ ہے تو ایسے میں یہ دیہات کے لوگ کیا کر لیں گے۔