اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی کارروائی میں حزب اللہ کے
ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔
لبنانی مسلح گروہ کے مضبوط گڑھ
دہییہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک حملہ کیا ہے۔ اس کا ہدف حزب اللہ کے وہ کمانڈر
تھے جو اسرائیل کے بقول گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں ملوث تھے۔
جنوبی بیروت کے جس نواحی علاقے
میں دھماکہ ہوا ہے اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔
لبنان کے وزیر اعظم نجیب مقاتی نے
بیروت میں حملے کو ’اسرائیل کی کھلے عام جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انھوں
نے اس ’مجرمانہ عمل‘ اور ’شہریوں کے قتل کے لیے مسلسل جارحانہ آپریشنز‘ کو بین
الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی کہا ہے۔
لبنانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ
یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاہم انھیں امید ہے کہ حزب اللہ کا
کوئی بھی جواب صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا نہیں کرے گا۔
ادھر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑنا ناگزیر نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے
نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن ’کا ماننا ہے کہ اسے روکا جاسکتا ہے۔‘
ان کے مطابق وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے
کہ لڑائی میں سفارتی حل ممکن ہے جو لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کو ’گھر لوٹنے‘ اور
محفوظ زندگی گزارنے کا موقع دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم جارحیت میں
اضافہ یا مکمل جنگ نہیں دیکھنا چاہتے۔‘
سنیچر کو مقبوضہ گولان ہائٹس کے
علاقے مجدل شمس کی ایک فٹبال فیلڈ پر راکٹ حملے میں 12 بچے ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیل نے اس کا الزام حزب اللہ
پر عائد کیا تھا تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
کیا یہ وہ جوابی
کارروائی ہے جس کی اسرائیل نے دھمکی دی تھی؟
سنیچر کے راکٹ حملے کے بعد
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ حزب اللہ کو اس کی ’بھاری قیمت
چکانا پڑے گی جو اس نے اب تک ادا نہیں کی۔‘
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ گولان کی
پہاڑیوں پر حملے میں وہ ملوث نہیں تھا۔
یہ غیر واضح ہے کہ آیا بیروت پر
حملہ وہی ’بھاری قیمت‘ ہے جس کی نتن یاہو نے دھمکی دی تھی۔ ممکن ہے کہ اسرائیل نے
اس کارروائی کے ذریعے اپنے مخالفین کو صرف ایک پیغام دیا ہو۔
اسرائیل نے جان بوجھ کر اس حملے
کا عوامی سطح پر اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے حملے کے کچھ منٹوں بعد ذمہ داری قبول
کی۔ یہ اسرائیلی فوج کا ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ اکثر اوقات اس کی جانب سے
ایسے واقعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاتی۔
دو اسرائیلی اہلکاروں نے خبر رساں
ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تاہم وہ
لبنان کو جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔
مگر اسرائیل کی مزید کوئی
کارروائی، کوئی غلطی یا حزب اللہ کا ردعمل منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔
آپ اسرائیل اور حزب اللہ کے
درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں مزید یہاں پڑھیے: