آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گوادر دھرنا ختم کرنے پر اتفاق: بلوچستان حکومت کا دعویٰ

صوبائی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ موبائل نیٹ ورکس جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی

خلاصہ

  • روس اور مغرب کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ جمعرات کو ترکی کے شہر انقرہ کے ہوائی اڈے پر ہوا تھا۔
  • بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔
  • حکومتِ پاکستان فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آج ملک بھر میں یوم سوگ منا رہی ہے۔
  • ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی بارشیں زور پکڑ گئیں۔ خیبرپختونخوا میں تین روز میں 24 جبکہ پنجاب میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
  • ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
  • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرّم میں دو قبائل کے درمیان زمین کے تنازعہ پر جرگے کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیلی فوج کا اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر ردعمل دینے سے انکار

    اسرائیلی فوج نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    آئی ڈی ایف نے سی این این اور اے ایف پی سمیت متعدد خبر رساں اداروں کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر ردِعمل کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ’ہنیہ کی ہلاکت کے بارے میں غیرملکی میڈیا رپورٹس پر ردعمل نہیں دے گا۔‘

    اسرائیل کی جانب سے اب تک اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    تاہم کچھ اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے جیسے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر ورثہ ایمیچی ایلیاہو نے ایکس پر لکھا کہ ہنیہ کی موت ’دنیا کو ایک بہتر جگہ بناتی ہے۔‘

    ایلیاہو نے ایکس پر اپنی پوسٹ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کو پاک کرنے کا یہ صحیح طریقہ ہے۔‘ اس سے پہلے کہ ’اب کسی امن معاہدے کی گنجائش نہیں اور نہ ہی کسی کے لیے کوئی رحم۔‘

  2. ’سائے کا شہزادہ اور نو زندگیوں والی بلی‘

    فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی قیادت کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کئی دہائیوں سے پیش آ رہے ہیں جن میں اسماعیل ہنیہ سمیت متعدد اہم رہنما مارے گئے ہیں۔ تاہم حماس کے کئی اہم رہنما ایسے بھی ہیں جو کئی بار ایسی کارروائیوں میں بال بال بچے ہیں۔

  3. ایرانی سرزمین پر ’اسرائیلی حملوں‘ کی تاریخ

    اسرائیل اور ایران طویل عرصے سے ایک ایسی لڑائی میں مصروف ہیں جس میں ایک دوسرے کو نشانہ تو بنایا جاتا ہے لیکن کھل کر ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔

    ایران دعویٰ کرتا رہا ہے کہ اسرائیل نے اس کی سرزمین پر کئی اہم شخصیات کو ہدف بنا کر قتل کیا ہے۔

    ایسے قابل ذکر واقعات میں 2021 میں ایران کی ایک اہم شخصیت اور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کا ریموٹ کنٹرول ہتھیار سے قتل اور مئی 2022 میں تہران میں ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر کرنل سید خدائی کا قتل شامل ہے۔

  4. اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لیا جائے گا: حماس

    فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ تنظیم کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔

    حماس کے زیرِ انتظام الاقصیٰ ٹیلی ویژن چینل کے مطابق موسیٰ ابو مرزوق نے اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

  5. بریکنگ, اسماعیل ہنیہ کون تھے؟

    ایران میں منگل کی شب ایک حملے میں مارے جانے والے اسماعیل عبدالسلام ہنیہ، جن کو عبدالعبد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ حماس کے سیاسی سربراہ تھے جو 2006 میں وزیر اعظم بھی رہے۔

    سنہ 1989 میں انھیں اسرائیل نے تین سال کے لیے قید کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھیں دیگر حماس رہنماؤں کے ساتھ لبنان سرحد پر بے دخل کر دیا گیا۔ اسماعیل ہنیہ تقریباً ایک سال تک جلا وطن رہے۔

    تاہم وہ ایک سال بعد غزہ لوٹے اور 1997 میں انھیں شیخ احمد یاسین کے دفتر کا سربراہ متعین کر دیا گیا۔

    16 فروری سنہ 2006 میں حماس نے انھیں فلسطین کے وزیراعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور اسی ماہ کی 20 تاریخ کو انھوں نے یہ عہدہ سنبھال لیا۔

    سنہ 2006 میں اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کے دفاتر کو نشانہ بھی بنایا۔ اس حملے میں تین محافظ زخمی ہوئے لیکن اسماعیل ہنیہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

    ایک سال بعد فلسطین کے صدر محمود عباس نے انھیں برطرف کر دیا جب القسام بریگیڈ نے غزہ کی پٹی میں سکیورٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔

    اسماعیل ہنیہ نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت فلسطینی عوام کے لیے کام کرتی رہے گی۔ بعد میں اسماعیل ہنیہ نے فتح کے ساتھ مفاہمت پر زور دیا۔

    چھ مئی 2017 کو اسماعیل ہنیہ کو حماس کی شوریٰ نے سیاسی شعبے کا سربراہ منتخب کیا۔

    اسماعیل ہانیہ نے سولہ سال کی عمر میں اپنی کزن امل ہانیہ سے شادی کی، اور ان کے 13 بچے تھے جن میں آٹھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

    ان کے آٹھ بیٹوں میں سے تین بیٹے اور چار پوتے، پوتیاں 10 اپریل 2024 کو غزہ کی پٹی پر عید کے دن ہونے والے ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    حماس سے منسلک میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے بیٹے ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب غزہ کی پٹی میں الشاتی کیمپ کے قریب انھیں نشانہ بنایا گیا۔

    اسماعیل ہنیہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس واقعے سے حماس کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا کہ اسماعیلہنیہ کے بیٹے حماس کے عسکری ونگ کے اراکین تھے۔

  6. بریکنگ, حماس کے سیاسی ونگ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں ایک حملے میں ہلاک

    فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں مارے گئے ہیں۔

    حماس کے مطابق، ہنیہ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے جہاں انھیں نشانہ بنایا گیا۔

    ایران کے پاسداران انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ فلسطینی گروپ حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ اور ان کے ایک محافظ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ پر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں لکھا ہے کہ ’حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ اور ان کا ایک محافظ ان کی رہائش گاہ پر حملے کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

    بدھ کو حماس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اسماعیل ہنیہ تہران میں اپنی رہائش گاہ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے ہیں۔‘

    تاہم اب تک اسرائیل نے اس حوالے سے کوئی بیان یا ردعمل نہیں دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ ’واقعہ‘ کی وجہ فوری طور پر واضح نہیں ہے لیکن اس معاملے کی ’تفتیش‘ کی جا رہی ہے۔

  7. کیرالہ میں مٹی کا تودہ گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد 123 ہو گئی

    کیرالہ کے وایناڈ ضلع میں منگل کو مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 123 تک پہنچ گئی ہے۔

    کیرالہ میں مٹی کا تودہ گرنے کے بعد سے 90 افراد کی تلاش جاری ہے اور 131 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ پیر اور منگل کی درمیانی رات 1 بجے سے صبح 4 بجے کے درمیان تین مختلف علاقوں وائناد کے چورلمالا، منڈکئی میں مٹی کے تودے گرنے سے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔

    وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایک اہلکار نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’مرنے والوں کی تعداد اب 123 تک پہنچ گئی ہے۔‘ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ غروب آفتاب کے بعد بھی فوج، بحریہ، فضائیہ، این ڈی آر ایف اور فائر بریگیڈ کے اہلکاروں کی مدد سے ریسکیو آپریشن اب بھی جاری ہے۔

    اہلکار نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ علاقوں میں موسلادھار بارشیں بھی جاری ہیں جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مُشکلات کا سامنا ہے۔

    کیرالہ میں ریسکیو اداروں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب تک امدادی کارروائیوں کے دوران 250 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

  8. بیروت میں دھماکہ: اسرائیلی فوج کا لبنان میں حزب اللہ کے کمانڈر کی ہلاکت کا دعویٰ

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی کارروائی میں حزب اللہ کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کر دیا ہے۔

    لبنانی مسلح گروہ کے مضبوط گڑھ دہییہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک حملہ کیا ہے۔ اس کا ہدف حزب اللہ کے وہ کمانڈر تھے جو اسرائیل کے بقول گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں ملوث تھے۔

    جنوبی بیروت کے جس نواحی علاقے میں دھماکہ ہوا ہے اسے حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    لبنان کے وزیر اعظم نجیب مقاتی نے بیروت میں حملے کو ’اسرائیل کی کھلے عام جارحیت‘ قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں انھوں نے اس ’مجرمانہ عمل‘ اور ’شہریوں کے قتل کے لیے مسلسل جارحانہ آپریشنز‘ کو بین الاقوامی قانون کی واضح خلاف ورزی کہا ہے۔

    لبنانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ اقوام متحدہ کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاہم انھیں امید ہے کہ حزب اللہ کا کوئی بھی جواب صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا نہیں کرے گا۔

    ادھر امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ چھڑنا ناگزیر نہیں ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر جو بائیڈن ’کا ماننا ہے کہ اسے روکا جاسکتا ہے۔‘

    ان کے مطابق وائٹ ہاؤس سمجھتا ہے کہ لڑائی میں سفارتی حل ممکن ہے جو لبنانی اور اسرائیلی شہریوں کو ’گھر لوٹنے‘ اور محفوظ زندگی گزارنے کا موقع دے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم جارحیت میں اضافہ یا مکمل جنگ نہیں دیکھنا چاہتے۔‘

    سنیچر کو مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے مجدل شمس کی ایک فٹبال فیلڈ پر راکٹ حملے میں 12 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

    اسرائیل نے اس کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا تھا تاہم حزب اللہ نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

    کیا یہ وہ جوابی کارروائی ہے جس کی اسرائیل نے دھمکی دی تھی؟

    رفیع برگ، بی بی سی

    سنیچر کے راکٹ حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا تھا کہ حزب اللہ کو اس کی ’بھاری قیمت چکانا پڑے گی جو اس نے اب تک ادا نہیں کی۔‘

    حزب اللہ کا کہنا ہے کہ گولان کی پہاڑیوں پر حملے میں وہ ملوث نہیں تھا۔

    یہ غیر واضح ہے کہ آیا بیروت پر حملہ وہی ’بھاری قیمت‘ ہے جس کی نتن یاہو نے دھمکی دی تھی۔ ممکن ہے کہ اسرائیل نے اس کارروائی کے ذریعے اپنے مخالفین کو صرف ایک پیغام دیا ہو۔

    اسرائیل نے جان بوجھ کر اس حملے کا عوامی سطح پر اعلان کیا ہے۔ اسرائیل نے حملے کے کچھ منٹوں بعد ذمہ داری قبول کی۔ یہ اسرائیلی فوج کا ایک غیر معمولی اقدام ہے کیونکہ اکثر اوقات اس کی جانب سے ایسے واقعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی جاتی۔

    دو اسرائیلی اہلکاروں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا تھا کہ اسرائیل حزب اللہ کو تکلیف پہنچانا چاہتا ہے تاہم وہ لبنان کو جنگ میں دھکیلنا نہیں چاہتا۔

    مگر اسرائیل کی مزید کوئی کارروائی، کوئی غلطی یا حزب اللہ کا ردعمل منظرنامہ تبدیل کر سکتا ہے۔

    آپ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بارے میں مزید یہاں پڑھیے:

  9. گزشتہ روز کی چند اہم خبروں کا خلاصہ

    گزشتہ روز کی اہم خبروں پر ایک نظر

    • مُلک بھر میں 29 جولائی سے جاری بارشوں کے باعث مُلک کے شمالی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ منگل کے روز خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل اولڈ بازید خیل میں بارش کا پانی گھر کے تہہ خانے میں داخل ہونے سے ایک ہی خاندان کے 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق گھر کے تہہ خانے میں موجود ایک ہی خاندان کے افراد سیلابی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ ادارے کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
    • منگل کے روز پاکستان کے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل پیش کردیا گیا، جسے سپیکر سردار ایاز صادق نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجویا۔ اس بل کے مطابق کوئی رکن اسمبلی اپنی سیاسی وابستگی کے لیے نیا پارٹی سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکا گا اور مخصوص نشستیں صرف اس سیاسی جماعت کو ملیں گی جس نے اس کی لیے فہرست پہلے سے جمع کرا رکھی ہو۔
    • حکومت کے ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے عمران خان کے مذاکرات کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سمجھ نہیں آتی کبھی یہ گریبان پکڑ لیتے ہیں تو کبھی پیر پکڑ لیتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر منگل کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ’پہلے چھوڑوں گا نہیں، اب پلیز مجھ سے بات کر لو۔‘ حکومتی ترجمان نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب ادارہ (فوج) نیوٹرل ہوا ہے تو اب آپ حمایت مانگ رہے ہیں۔‘
    • اس سے قبل منگل کو سابق وزیر اعظم عمران خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فوجی قیادت کے ساتھ مذاکرات سے متعلق کہا کہ ’ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں، فوج اپنا نمائندہ مقرر کرے۔‘
  10. بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج پر خوش آمدید

    اس لائیو پیج میں پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے حوالے سے تازہ معلومات شامل کی جائیں گی۔

    30 جولائی کی خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔