آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

انتظامیہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گوادر دھرنا ختم کرنے پر اتفاق: بلوچستان حکومت کا دعویٰ

صوبائی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ موبائل نیٹ ورکس جلد بحال کر دیے جائیں گے جبکہ تمام راستوں سے رکاوٹیں بھی ہٹا دی جائیں گی

خلاصہ

  • روس اور مغرب کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ جمعرات کو ترکی کے شہر انقرہ کے ہوائی اڈے پر ہوا تھا۔
  • بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ آج سے صوبے بھر کی تمام قومی شاہراہیں کھول دی جائیں گی۔
  • حکومتِ پاکستان فلسطینیوں سے یکجہتی اور اسرائیلی مظالم کے خلاف آج ملک بھر میں یوم سوگ منا رہی ہے۔
  • ملک کے مختلف حصوں میں مون سون کی بارشیں زور پکڑ گئیں۔ خیبرپختونخوا میں تین روز میں 24 جبکہ پنجاب میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔
  • ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی نمازِ جنازہ ادا کر دی گئی۔
  • صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرّم میں دو قبائل کے درمیان زمین کے تنازعہ پر جرگے کے بعد فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. دہشت گردی میں ملوث گل بہادر گروپ اور مجید بریگیڈ کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل

    پاکستان کی وزارت داخلہ نے دہشت گردی میں ملوث دو تنظیموں حافظ گل بہادر گروپ اور مجید بریگیڈ کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

    وزارت داخلہ کی منظوری کے بعد دونوں جماعتوں کو نیکٹا نے کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔

    وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ دونوں جماعتوں کو دو سال تک نگرانی کے بعد کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے شیئر کی گئی فہرست کے مطابق ملک میں کالعدم جماعتوں کی تعداد بڑھ کر اب 81 ہو گئی ہے۔

    حافظ گل بہادر گروپ کا پس منظر

    شمالی وزیرستان میں متحرک حافظ گل بہادر گروپ اس وقت منظر عام پر آئے جب حافظ گل بہادر نے بیت اللہ محسود کی سربراہی میں قائم کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

    بیت اللہ محسود جب سنہ 2007 میں تنظیم کے سربراہ مقرر ہوئے تو اس وقت حافظ گل بہادر کو شمالی وزیرستان میں نائب امیر مقرر کیا گیا تھا۔

    حافظ گل بہادر بنیادی طور پر اتمانزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے سنہ 2001 میں 4000 رضا کاروں پر مشتمل ایک فورس قائم کی تھی۔

    حافظ گل بہادر گروپ ماضی میں پاکستان حکومت کی زیادہ مخالفت میں نہیں رہا لیکن شمالی وزیرستان میں جون سنہ 2014 میں آپریشن ’ضرب عضب‘ شروع ہوا جس کے بعد حافظ گل بہادر اور ان کا گروہ غیر فعال ہو گیا تھا۔

    اس آپریشن سے پہلے حافظ گل بہادر گروپ حکومت کا حمایتی گروپ سمجھا جاتا تھا اور ایسی اطلاعات تھیں کہ یہ گروپ طالبان کے اندر پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر حملوں کے خلاف تھا۔ اس گروپ کے بارے میں تجزیہ کار یہی کہتے آئے ہیں کہ یہ ’گُڈ طالبان‘ تھے۔

    مجید بریگیڈ کیوں بنائی گئی؟

    1975 میں اگست کے مہینے میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کوئٹہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے کے لیے پہنچے تو ایک دستی بم دھماکے میں مجید لانگو نامی نوجوان ہلاک ہو گیا بعد میں یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ نوجوان بھٹو پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

    مجید لانگو کا تعلق منگوچر کے علاقے سے تھا اور وہ طالب علمی سے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او سے وابستہ تھا۔

    مجید لانگو کی ہلاکت کے بعد ان کے چھوٹے بھائی مجید نے کالعدم بلوچ لبرشین آرمی میں شمولیت اختیار کی اور سنہ 2011 میں کوئٹہ کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔

    بی ایل اے کا کہنا ہے کہ اسی ہلاکت والے دن اس فدائی گروپ کی تشکیل کا اعلان ہوا اور استاد اسلم نے اس کا نام دونوں بھائیوں کی بہادری کے پیش نظر مجید بریگیڈ رکھا۔

    گذشتہ چند سالوں میں اس انتہا پسند گروپ کی کارروائیوں میں شدت دیکھنے کو ملی جن میں اکثر و بیشتر پاکستان میں کام کرنے والے چینی اہلکاروں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

    بلوچستان میں جاری عسکری تحریک پر نظر رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار بتاتے ہیں کہ اسلم اچھو اور بشیر زیب نے مجید بریگیڈ کی بنیاد رکھی تھی۔

    ان کے تربیتی اور اشاعتی مواد کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی یہ سوچ تھی کہ وہ کچھ مزید پیشرفت کریں کیونکہ سب سے خطرناک اقدام یہ ہی ہوتا ہے کہ آپ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہیں پر گھس جائیں۔

  2. سکیورٹی کی ناکامی کے ذمہ داری پر اٹھتے سوالات, رشدی ابوالوف، نامہ نگار غزہ

    آج صبح میں نے حماس کے تین سینئر عہدیداروں سے بات چیت کی ہے اور وہ سب کے سب انتہائی صدمے کی حالت میں دکھائی دیے۔

    ان عہدے داروں نے اپنی بات چیت میں مختلف اور مبہم اشارے دیے کہ ایرانی دارالحکومت تہران میں آج دن کے آغاز میں کیا کچھ ہوا تھا۔

    انھوں نے اس حملے سے متعلق اپنی شدید حیرانی ظاہر کی اور کہا کہ اسماعیل ہنیہ اس سے پہلے بھی کئی بار اس شہر کا دورہ کرچکے ہیں اور وہاں جانے میں ہمیشہ خود کو محفوظ محسوس کرتے رہے۔

    ان عہدے داروں نے بار چیت کے دوران سوال اٹھائے کہ سکیورٹی کی اس بڑی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے اور کیا ہنیہ کا تہران میں موجود ہونا صحیح فیصلہ تھا؟

  3. تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان رؤف حسن کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے کردیا گیا ہے۔

    انسداد دہشت گری کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس نے رؤف حسن کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔

    تفتیشی افسر نے بتایا کہ احمد جنجوعہ کے خلاف درج دہشتگردی کے مقدمہ میں رؤف حسن کی گرفتاری ڈالی گئی ہے۔

    پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو بتایا کہ سی ٹی ڈی نے آج رؤف حسن کو گرفتار کیا ہے تاہم انھیں شامل تفتیش کل کرلیا گیا تھا۔

    رؤف حسن کی جانب سے وکیل علی بخاری عدالت میں پیش ہوئے۔ رؤف حسن روسٹرم پر آئے تو جج نے پوچھا آپ کا کل میڈیکل ہوگیا تھا؟ اس پر انھوں ںے کہا کہ ’میڈیکل ہو گیا تاہم مجھے میڈیکل ایشو کے باوجود جیل شفٹ کردیا گیا۔‘

    ملزم کے وکیل علی بخاری نے کہا کہ رؤف حسن کو گزشتہ روز ایف آئی اے کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا گیا تھا۔

    جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ 30 جولائی کی ضمنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ رؤف حسن کو کچہری کے احاطہ سے ہی تفتیش میں شامل کرلیا گیا۔

    بعدازاں عدالت نے رؤف حسن کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر سی ٹی ڈے کے حوالے کردیا۔

    خیال رہے کہ 22 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے پی ٹی آئی کے سیکرٹریٹ پر چھاپہ مار کر سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن کو گرفتار کر لیا تھا۔

    جس کے بعد اگلے ہی روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رؤف حسن کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کیا تھا۔

    25 جولائی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن سمیت دیگرنو ملزمان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں مزید تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا تھا۔

  4. اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت میں ملوث نہیں نہ ہی منصوبے سے آگاہ تھے: امریکی وزیرِ خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انتونی بلنکن نے حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ پر حملے اور قتل میں امریکہ کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    امریکہ کے وزیرِ خارجہ انتونی بلنکن نے سنگاپور میں ایک تقریب کے دوران کہا ہے کہ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی موت میں امریکہ ملوث نہیں اور نہ ہی اس منصوبے سے آگاہ تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس بات سے قطع نظر کہ آج کی خبروں کا کیا اثرہو سکتا ہے لیکن جنگ بندی کے لیے دباؤ جاری رکھنا اس وقت شدید اہم ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جنگ بندی یرغمالیوں کے مفاد میں ہے اور انھیں گھر واپس لانا اس وقت سب سے ضروری ہے۔‘

    انتونی بلنکن نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کا ہر ایک دن شدید اور خوفناک تکلیف میں گزر رہا ہے اور غزہ میں بچے، عورتیں، مرد حماس کی جانب سے کی جانے والی کراس فائر میں پھنس گئے ہیں۔

  5. پاکستان کا اسماعیل ہنیہ کی موت پر اظہار تعزیت: ’ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں‘

    پاکستان نے فلسطین کی عسکری تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں اسماعیل ہنیہ کے اہل خانہ اور فلسطینی عوام کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی تمام اقسام کی بھرپور مذمت کرتا ہے جس میں ماورائے عدالت قتل بھی شامل ہے۔

    بیان کے مطابق ’ہمیں اس حملے کے وقت پر شدید دھچکا اور صدمہ پہنچا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب ایران کے نئے صدر نے حلف اٹھایا، اس تقریب میں غیر ملکی وفود بشمول پاکستان کے ڈپٹی وزیر اعظم موجود تھے۔‘

    بیان کے مطابق پاکستان خطے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، اسرائیل کی تازہ ترین کارروائیاں پہلے سے ہی عدم استحکام کے شکار خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ کررہی ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچارہی ہیں۔

  6. اسماعیل ہنیہ کو اب کیوں نشانہ بنایا گیا؟

    مشرقِ وسطیٰ کے امور کے لیے بی بی سی کے مدیر رافی برگ کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ہدف اور جس جگہ انھیں نشانہ بنایا گیا دونوں ہلا دینے والے ہیں۔

    اسرائیل پر حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے ہفتوں بعد، اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا تھا کہ انھوں نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کو ہدایت کی ہے کہ ’حماس کے رہنما جہاں بھی ہوں ان کے خلاف کارروائی کریں‘۔

    اسماعیل ہنیہ تہران میں تھے جب وہ ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔

    حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ قطر میں نہیں ہوا جہاں ہنیہ سکیورٹی کے گھیرے میں ہوتے تھے، بلکہ ایران کے اندر ہوا جو حماس کا سب سے اہم حمایتی ہے۔ اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ حملہ اسرائیل نے کیا ہے تو یہ کارروائی ایک پیغام ہے کہ کچھ بھی اس کی پہنچ سے باہر نہیں اور یہ کہ وہ اپنے سب سے خطرناک دشمن کی ناک کے نیچے کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتا ہے

    ہنیہ کی موت اسرائیل کی جانب سے غزہ میں حماس کے نمبر دو، محمد ضیف کو نشانہ بنائے جانے کے صرف دو ہفتے بعد ہوئی ہے اور اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اعلیٰ سیاسی اور عسکری رہنماؤں کی ہلاکت انفرادی اور آپریشنل سطح پر گروپ کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔

    بی بی سی کے مدیر برائے عالمی امور جیریمی بوئن کا بھی یہی کہنا ہے کہ ’فرض کریں کہ اسرائیل نے ہی اسماعیل ہنیہ کو مارا اور میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے سوا اور کون ہو سکتا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جبکہ انہیں ماضی میں کچھ مواقع ضرور ملے ہوں گے، اب وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟

    ان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کوئی ایسی شخصیت نہیں تھے جو حماس کے عسکری ونگ کے رہنماؤں کی طرح چھپ کر رہتے ہوں۔

    جیریمی بوئن کا یہ بھی کہنا تھا کہ سیاسی طور پر قطر میں اسماعیل ہنیہ کو قتل کرنا ممکن نہیں تھا لیکن انھیں ایران میں قتل کرنا اسرائیل کی پہنچ کے بارے میں ایک پیغام دیتا ہے، یہ پیغام کہ کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے مذاکرات میں شامل تھی، اس لیے یہ واقعہ ان کوششوں میں مزید مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

  7. اسماعیل ہنیہ کی تدفین دو اگست کو قطر میں ہو گی: حماس

    فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ 31 جولائی کو تہران میں ہلاک کیے جانے والے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تنفین دو اگست کو قطر میں ہو گی۔

    ٹیلی گرام پر تنظیم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یکم اگست کو ایرانی دارالحکومت تہران میں ہنیہ کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی جس کے بعد میت کو دو اگست کو تدفین کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ منتقل کیا جائے گا۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو قطر کے شہر لوسیل کے قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ اسماعیل ہنیہ ایک طویل عرصے سے قطر میں ہی قیام پذیر تھے۔

  8. الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قائمہ کمیٹی سے کثرت رائے سے منظور

    الیکشن ایکٹ ترمیمی بل قائمہ کمیٹی سے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ بل کے حق میں آٹھ اور مخالفت میں چار ووٹ آئے جبکہ کمیٹی چیئرمین کے مطابق جے یو آئی کی رکن شاہدہ اختر علی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

    کمیٹی سے منظوری کے بعد اب الیکشن ایکٹ ترمیمی بل جمعہ کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں الیکشن ایکٹ 2017 ترمیمی بل پیش کیا گیا تھا جسے سپیکر سردار ایاز صادق نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوایا تھا۔

    واضح رہے کہ اس بل کے مطابق کوئی رکن اسمبلی اپنی سیاسی وابستگی کے لیے نیا پارٹی سرٹیفیکیٹ نہیں دے سکے گا اور مخصوص نشستیں صرف اس سیاسی جماعت کو ملیں گی جس نے اس کے لیے فہرست پہلے سے جمع کرا رکھی ہو۔

    بدھ کے روز ہونے والے قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل زیر غور لایا گیا۔ بلال اظہر کیانی نے بل سے متعلق قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔

    ترمیمی بل میں کیا کہا گیا ہے

    بی بی سی کو حاصل دستاویزات کے مطابق الیکشن ترمیمی ایکٹ 2024 میں دو ترامیم متعارف کرائی جارہی ہیں۔ پہلی ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 66 اور دوسری ترمیم الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 104 میں متعارف کروائی گئی ہے۔

    پہلی ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اپنی کسی سیاسی جماعت سے وابستگی کا پارٹی سرٹیفیکیٹ تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ دوسری ترمیم میں کہا گیا ہے کہ جس پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست الیکشن کمیشن کو نہ دی ہو اسے مخصوص نشستیں نہیں دی جا سکتیں۔ ترمیمی ایکٹ 2024 کے مطابق یہ دونوں ترامیم منظوری کے بعد فوری طور پر نافذالعمل ہوں گی۔

    منگل کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ بل حکومتی رکن بلال اظہر کیانی نے پیش کیا تو اپوزیشن نے بل کی مخالفت کی اور ’نو نو‘ کے نعرے لگائے تھے۔

    کمیٹی اجلاس کی کارروائی اور مختلف اراکین کی رائے

    کمیٹی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی حمایت کردی اور کہا کہ مجوزہ قانون میں ترامیم آئین اور قانون کے مطابق ہیں۔

    وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ میں درخواست گزار سنی اتحاد کونسل تھی تحریک انصاف نہیں۔

    وزیر قانون کے مطابق سپریم کورٹ میں کنول شوزب کی فرماٸشی پٹیشن تھی۔ مقدمہ یہ تھا کہ مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دی جاٸیں۔

    اعظم تارڑ نے کہا کہ اگر سنی اتحاد کونسل نے ایک نشست بھی جیتی ہوتی تو اسے مخصوص نشستیں مل سکتی تھیں۔ الیکشن کمیشن میں آزاد امیدواروں نے بھی بیان حلفی جمع کرایا کہ وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ اراکین نے الیکشن ترمیمی بل کی مخالفت کردی۔

    علی محمد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اس ملک میں سیاسی کرائسز پیدا کیا، الیکشن کمیشن نے ایک سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھینا، الیکشن کمیشن اس قانون کی رسٹوپریکٹو اثرات پر اپنی رائے دے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کمیٹی میں بتایا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دے سکتا، اس بل کے اثرات کے بارے میں وزارت قانون اور پارلیمان اپنی رائے دے سکتا ہے،

    تحریک انصاف کے رکن علی محمد خان نے کہا کہ ہمارے ممبران کے بچوں کو اٹھا کر بلیک میل کیا جارہا ہے، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے ہم نے کچھ نہیں کیا، یہ وقت گزر جائے گا۔

    جے یو آئی کی رکن اسمبلی شاہدہ اخترعلی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ سینڈویچ بنا رہا، ہمیں ان ترامیم کے نتائج نظر آرہے، اس طرح کی ترامیم کو تفصیل میں جانا چاہیے، الیکشن ترمیم کا دوبارہ جائزہ لینا چاہئے۔ حکومت سامنے آئے اور ترمیم لے کر آئے۔

    قائمہ کمیٹی میں بحث کے بعد الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2024 کی کثرت رائے سےمنظوری دے دی گئی۔

    بل کے حق میں چھ اور مخالفت میں چار ووٹ آیے۔ جے یو آئی کی رکن اسمبلی شاہدہ اختر علی نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور کہا کہ بل کی ریسٹو پریکٹو ایفکٹ پر بل کی مخالفت یا حمایت نہیں کرسکتی۔ پیپلزپارٹی کو کوئی رکن کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل جمعہ کو منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

    مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے میں کیا تھا

    واضح رہے کہ جولائی کے آغاز میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے سربراہی میں 13 رکنی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق سنی اتحاد کونسل کی اپیل اکثریت رائے سے منظور کر لی تھی۔

    مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے ایک فیصلہ میں قرار دیا تھا کہ پی ٹی آئی خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں لینے کی حقدار ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ میں بھی مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دے دی جائیں۔ اس فیصلے سے براہ راست تحریک انصاف کو فائدہ پہنچا۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے منتخب امیدواروں کو کسی اور جماعت کا رکن قرار نہیں دیا جا سکتا اور پی ٹی آئی ہی مخصوص نشستوں کے حصول کی حقدار ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی بحیثیت جماعت مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی قانونی و آئینی حق دار ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے منتخب ارکان پی ٹی آئی کا حلف نامہ دیں، جن امیدواروں نے سرٹیفکیٹ دیا کہ وہ پی ٹی آئی سے ہیں وہ اس جماعت کے ہی اراکین تصور کیے جائیں گے۔

    سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف حکومتی جماعت ن لیگ اور حکومتی اتحادی پاکستان پیپلز پارٹی نے نظرثانی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ سپریم کورٹ نے ابھی مخصوص نشستوں سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا ہے اور نہ ہی نظرثانی کی درخواستوں کو سماعت کے لیے ابھی تک مقرر کیا ہے۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے حق میں فیصلہ آٹھ پانچ کے تناسب سے دیا اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اقلیتی ججز میں شامل ہیں یعنی وہ ججز جو تحریک انصاف کو یہ نشستیں دینے کے خلاف تھے۔

  9. اسماعیل ہنیہ کی موت کا بدلہ لینا ایران کا فرض ہے: آیت اللہ علی خامنہ ای

    ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو ہنیہ کے ’بزدلانہ‘ قتل پر بھرپور جواب دیں گے اور ایران ’اپنی علاقائی سالمیت، وقار اور وقار کا دفاع کرے گا۔‘

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی صدر نے ایک بیان میں ہنیہ کو ایک ’بہادر رہنما‘ قرار دیا۔

    حماس کے سیاسی رہنما، جو قطر میں مقیم تھے، پیزشکیان کی صدارتی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے تہران کا دورہ کر رہے تھے۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی موت کا بدلہ لینا ’تہران کا فرض‘ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل جس نے اب تک ہنیہ کے قتل کی ذمہ واری قبول نہیں کی، نے ’سخت سزا‘ کی بنیاد فراہم کی ہے۔

  10. اسماعیل ہنیہ: اعتدال پسند اور مفاہمت کے حامی فلسطینی لیڈر

    سیاسی مبصرین و تجزیہ کار عام طور پر غزہ سے تعلق رکھنے والے سخت گیر رہنماؤں محمد ضیف اور یحییٰ سنوار کے مقابلے میں اسماعیل ہنیہ کو اعتدال پسند شخصیت کے طور پر دیکھتے رہے ہیں۔

  11. قطر نے ہنیہ کے قتل کو ’گھناؤنا جرم‘ قرار دیا ہے

    قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت کو 'گھناؤنا جرم اور بین الاقوامی اور انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی‘ قرار دیا گیا ہے۔

    بیان میں متنبہ کیا گیا ہے کہ ’یہ قتل اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانے کا لاپرواہ اسرائیلی رویہ خطے میں افراتفری کا باعث بنے گا اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچائے گا۔‘

    اسرائیل نے ابھی تک تہران میں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کوئی درِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

  12. بلوچستان کے متعدد علاقوں میں احتجاج پانچویں روز بھی جاری: ’ترقی کے لئے آگے بڑھیں یا منفی سیاست کا شکار ہوکر اپنے آنے والے مستقبل کو داؤ پر لگادیں‘ وزیرِ داخلہ بلوچستان, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے دھرنے کے شرکا پر مبینہ تشدد اور مختلف علاقوں سے قافلوں کو گوادر جانے سے روکنے کے خلاف گوادر میں دھرنا اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ پانچویں روز بھی جاری ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گزشتہ روز بھی گوادر میں مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے خواتین پولیس سٹیشن اور ایف آئی اے کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی۔

    اہلکار کے مطابق گزشتہ شب پولیس کی جانب سے دھرنے کے شرکا کو میرین ڈرائیو سے منتشر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسا مُمکن نہیں ہو سکا جس کے باعث میرین ڈرائیو پر دھرنا آج بھی جاری ہے۔

    تاہم آج صبح گوادر میں وزیرِ داخلہ بلوچستان میرضیاء اللہ لانگو کے زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا جس میں اُن کا کہنا تھا کہ ’گوادر کے نام نہاد خیر خواہوں کی وجہ سے بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری میں خلل پڑرہا ہے۔ گوادر کے عوام کو خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ گوادر کی ترقی کے لئے آگے بڑھیں یامنفی سیاست کا شکار ہوکر اپنے آنے والے مستقبل کو داؤ پر لگادیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پنجاب اور پنجابیوں کو الزام دینا کہ بلوچستان کی ترقی میں وہ رکاوٹ بن رہے ہیں یہ تاثر سراسر غلط ہے کیونکہ ان کے بقول بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کو روکنے میں یہاں کے چندنابلد لوگوں کا قصور ہے جو روز کسی نہ کسی معاملے پر سٹرکیں بند کرکے بلاجواز احتجاج کررہے ہیں۔

    محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے گزشتہ روز میڈیا کو بعض تصاویر بھی جاری کی گئیں جو کہ سرکاری حکام کے مطابق بی اینڈ آر کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہیں۔

    موبائل فون سروس اور پی ٹی سی ایل نیٹ ورک کی بندش سے گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنمائوں سے ان کا موقف معلوم نہیں کیا جاسکا تاہم کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنما بیبرگ نے حالات کی خرابی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اجلاس پرامن ہوگا اور گملا بھی نہیں ٹوٹے گا۔

    انھوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے نہ صرف 27 جولائی کو نہ صرف مستونگ میں کوئٹہ سے گوادر جانے والے قافلے کو نشانہ بنایا بلکہ گوادر میں بھی دھرنے کے شرکاء پر فائرنگ کی گئی جن میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 21 افراد زخمی ہوئے۔

    تاہم سرکاری حکام نے سیکورٹی فورسز پر فائرنگ کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    بیبرگ بلوچ نے بتایا کہ اس کے علاوہ تربت اور گوادر کے درمیان تلار کے درمیان گوادر جانے والے قافلوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ویڈیوز کو دیکھ کر خود اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ قافلوں کے شرکا کو کس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

  13. اس سے اسرائیل کو غزہ آپریشن ختم کرنے کا موقع مل سکتا ہے: لارڈ پیٹر ریکٹس

    برطانیہ کے سابق قومی سلامتی کے مشیر لارڈ پیٹر ریکٹس کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کا قتل ’اسرائیل کی خطے تک رسائی کی صلاحیت کا ایک طاقتور مظاہرہ ہے۔‘

    اسرائیل نے اس حملے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، حالانکہ اس سے پہلے اس نے کہا تھا کہ وہ حماس کے رہنماؤں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

    ریکٹس کا کہنا ہے کہ اس سے اسرائیل کو غزہ میں آپریشن ختم کرنے کے لیے سیاسی گنجائش مل گئی ہے کیونکہ اب وہ کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے ہنیہ کی قیادت کو واقعی ایک بڑا دھچکا پہنچایا ہے۔

    تاہم ریکٹس کا کہنا ہے کہ یہ ’مشرق وسطیٰ میں بہت خطرناک وقت ہے۔‘

  14. ہنیہ کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا: ایران

    ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنانی نے ہنیہ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ’قابل فخر جنگجو‘ قرار دیا ہے۔

    ایرانی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق کنانی کا کہنا ہے کہ ’ہنیہ کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ’ایران تحقیقات کر رہا ہے لیکن اس ہلاکت سے ایران اور فلسطینیوں کے درمیان ’گہرے تعلق کو تقویت ملے گی۔‘

  15. اسماعیل ہنیہ کہ چند آخری تصاویر

    اسماعیل ہانیہ منگل کے روز ایرانی صدر مسعود پیشکیان کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے تہران پہنچے تھے۔

    تہران میں اُن کی ہلاکت سے قبل کی چند تصاویر

  16. ’اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت خطے کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے‘, ہیوگو بچیگا، بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار

    تہران میں اسماعیل ہنیہ کا قتل، جہاں وہ نئے ایرانی صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کر رہے تھے، ایک اور اہم اور خطرناک پیش رفت ہے جو مشرق وسطیٰ میں تشدد میں اضافے کے خدشات کو بڑھا سکتی ہے۔

    حماس کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے جس پر اب تک اسرائیل کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    تہران میں ہونے والی یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے بیروت میں حملے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی کہ جہاں ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروہ اور سیاسی تحریک حزب اللہ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے سینئر کمانڈر فواد شکر کو ہلاک کر دیا تاہم حزب اللہ نے ابھی تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ حزب اللہ، جس کے پاس ایک اندازے کے مطابق 150،000 میزائل اور راکٹ موجود ہیں کس طرح اس کارروائی پر رد عمل ظاہر کرے گی۔

    اب تک اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی زیادہ تر پُرتشدد کارروائیاں دونوں مُمالک کی سرحد تک محدود رہی ہیں۔ تاہم اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ لڑائی ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر سکتی ہے اور اس میں خطے میں ایران کے حمایت یافتہ دیگر گروہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    اب تک، اسرائیل اور حزب اللہ دونوں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایک مکمل جنگ میں شامل ہونے سے ہچکچا رہے ہیں، جس کے لبنان، اسرائیل اور پورے خطے کے لئے تباہ کن نتائج ہوسکتے ہیں۔

  17. مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ کو ابھی بھی روکا جا سکتا ہے، امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ان کے خیال میں مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر لڑائی کو روکا جا سکتا ہے۔

    آسٹن نے فلپائن کے دورے کے آخری دن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں سفارت کاری کے لیے ہمیشہ گنجائش اور مواقع موجود رہتے ہیں۔

    آسٹن نے بدھ کے روز ایران میں اسماعیل ہنیہ کی موت کی خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، صرف اتنا کہا کہ ان کے پاس اس معاملے پر ’فراہم کرنے کے لئے کوئی اضافی معلومات‘ نہیں ہیں۔

    امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن سے پوچھا گیا کہ بڑھتے ہوئے علاقائی تنازعے کی صورت میں واشنگٹن اسرائیل کی حمایت کیسے کر سکتا ہے تو اُن کا اس سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’اس کا مقصد اب بھی کشیدگی کو کم کرنا۔‘

  18. روس اور ترکی کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت

    اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر روس اور ترکی کی جانب سے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

    روسی وزارتِ خارجہ نے اسماعیل ہنیہ کے قتل کو ’مکمل طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔ تاہم نائب وزیرِ خارجہ میخائل بوگدانوف کا کہنا ہے کہ ’حماس کے رہنما کی ہلاکت سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔‘

    دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی تہران میں اس کارروائی اور اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’اس حملے کا مقصد غزہ کی جنگ کو خطے میں پھیلانے ہے۔‘

  19. فلسطینی صدر کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار

    فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اسماعیل ہنیہ پر حملے اور اُن کی ہلاکت کو بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ ’ہنیہ کا قتل ایک بزدلانہ کارروائی ہے اور اس کی وجہ سے خطے کے حالات مزید خراب ہوں گے۔‘

    سرکاری خبر رساں ادارے وفا کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں انھوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خلاف متحد، صبر اور ثابت قدم رہیں۔

  20. اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت عزہ جنگ کو کیسے متاثر کر سکتی ہے؟, یولینڈے نیل، بی بی سی نیوز

    سات اکتوبر کو ہونے والے حملوں کے بعد سے اسرائیل حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے لیکن اب تک بیروت میں مقیم ایک سینئر رہنما کو ہلاک کرنے کے علاوہ وہ اپنی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں موجود اہم شخصیات تک پہنچنے میں ناکام رہا ہے۔

    لیکن آج صبح حماس کے مطابق ان کے سیاسی رہنما ’صیہونی حملے‘ میں مارے گئے ہیں۔

    گزشتہ رات اسماعیل ہنیہ جو غزہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن کئی سالوں سے بیرون ملک مقیم تھے، ایران کے نئے صدر کی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہونے کے لیے ایرانی حمایت یافتہ دیگر علاقائی مسلح گروہوں کے سربراہان کے ساتھ وہاں موجود تھے۔

    حملے سے متعلق اب تک سامنے آنے والی اطلاعات میں بس اتنا بتایا گیا ہے کہ تہران میں ہونے والے حملے میں اسماعیل ہنیہ اور اُن کے ایک محافظ کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ غیر ملکی میڈیا کی خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتی۔ تاہم حماس کے ایک عہدیدار نے اس قتل کو ’شورش میں اضافہ‘ قرار دیا ہے۔ تاہم حماس کی ہی جانب سے اسے ’ایک بزدلانہ کارروائی‘ بھی قرار دیا اور کہا گیا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔

    ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران اس کا کیا اثر پڑے گا، لیکن ہنیہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کی نگرانی کر رہے تھے۔

    ان کے سخت بیانات کے باوجود تجزیہ کار عام طور پر غزہ سے تعلق رکھنے والے زیادہ سخت گیر رہنماؤں محمد دیف اور یحییٰ سنوار کے مقابلے میں انھیں اعتدال پسند شخص کے طور پر دیکھتے ہیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گذشتہ سال جنوبی اسرائیل پر ہونے والے ہولناک حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔