غزہ اسرائیل جنگ: مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 11 فلسطینی ہلاک: فلسطینی وزارت صحت, یولیند نیل، بی بی سی نیوز

،تصویر کا ذریعہEPA
فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے کم از کم 11 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق الفارع پناہ گزین کیمپ میں ایک فضائی حملے میں پانچ اور جنین میں ڈرون حملے اور مسلح تصادم میں چھ ہلاک ہوئے۔
تاہم اسرائیلی سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ وہ جنین اور تلکرم میں دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے آپریشن کر رہے ہیں۔
بظاہرایسا لگ رہا ہے کہ یہ ایک بڑی اسرائیلی کارروائی ہے جس میں ایک ہی وقت میں کم از کم چار فلسطینی شہروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جن میں جنین، تلکرم، نابلس اور توباس شامل ہیں۔
اسرائیلی فضائی حملے میں صبح کے وقت قریبی گاؤں میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 2000 سے 2005 کی ایک بڑی فلسطینی بغاوت کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اس طرح متعدد فلسطینی شہروں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا ہو۔
فلسطینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق شہر کے پناہ گزین کیمپ میں مسلح جھڑپوں کے بعد جنین جانے والی مرکزی سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے نابلس کے دو پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنائے جانے پر توجہ مرکوز ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ٹوباس کے قریب فارع کیمپ میں اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد ایمبولینسز کو زخمیوں تک پہنچنے کے لیے دشواری کا سامنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
طبی ماہرین کے مطابق رفاع میں ان کے عملے کو زخمیوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیلی فورسز نے کیمپ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور وہ ایمبولینسز کو وہاں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔۔
اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کاٹز کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز ایران کی حمایت یافتہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے کے لیے سرگرم ہیں اور اس سلسلے میں جنین اور تلکرم میں واقع پناہ گزین کیمپوں میں کل رات سے پوری شدت کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس حوالے سے مختصر تفصیلات دی ہیں اور اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئی ڈی ایف داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیٹ اور اسرائیل کی بارڈر پولیس فورسز اس وقت جنین اور تلکرم میں دہشت گردی کو ناکام بنانے کے لیے انسداد دہشت گردی آپریشن کر رہی ہیں۔




