ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک س بات پر غور کرنے کو تیار ہے کہ اگر امریکہ پابندیاں اٹھانے پر بات کرے تو جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے سمجھوتے کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کو تہران میں دیے گئے ایک انٹرویو میں بتائی۔
واضح رہے کہ امریکی حکام بار بار زور دیتے رہے ہیں کہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھنے سے روکنے والا فریق ایران ہے، امریکہ نہیں۔
سنیچر کے روز امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک معاہدہ چاہتے ہیں لیکن ایران کے ساتھ ایسا کرنا ’انتہائی مشکل‘ ہے۔
تاہم تہران میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا کہ گیند ’امریکہ کے کورٹ میں ہے کہ وہ ثابت کرے کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں‘، اور مزید کہا کہ ’اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم معاہدے کی راہ پر ہوں گے۔‘
صدر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے کوئی معاہدہ نہ ہوا تو وہ ایران پر حملے کر سکتے ہیں، اور اسی مقصد کے لیے امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا دی ہے۔
امریکہ اور ایران نے رواں فروری کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔ مجید تخت روانچی نے تصدیق کی کہ دوسرا دور منگل کو جنیوا میں ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ مذاکرات ’کم و بیش مثبت سمت میں ہیں لیکن ابھی کچھ حتمی نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔‘ ٹرمپ نے بھی ان مذاکرات کو مثبت قرار دیا ہے۔
نائب وزیر خارجہ نے ایران کی جانب سے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش کو سمجھوتے کی آمادگی کی علامت قرار دیا۔
افزودگی کی یہ سطح ہتھیاروں کے معیار کے قریب ہے، جس سے شبہات گہرے ہوئے ہیں کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کی وہ ہمیشہ تردید کرتا آیا ہے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’ہم اس پر اور اپنے پروگرام سے متعلق دیگر امور پر بات کرنے کو تیار ہیں اگر وہ (امریکہ) پابندیوں پر بات کرنے کو تیار ہوں۔‘ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس کا مطلب تمام یا کچھ پابندیوں کا خاتمہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا ایران اپنے 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ملک سے باہر بھیجنے پر تیار ہوگا، جیسا کہ سنہ 2015 کے معاہدے میں کیا گیا تھا، تو انھوں نے کہا ’ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کے دوران کیا ہوگا۔‘
روس، جس نے سنہ 2015 کے معاہدے کے تحت 11 ہزار کلوگرام کم سطح پر افزودہ یورینیم قبول کیا تھا، دوبارہ ایسا کرنے کی پیشکش کر چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران نے افزودگی کو عارضی طور پر معطل کرنے کی پیشکش کی ہے۔
ایران کا ایک اہم مطالبہ یہ رہا ہے کہ بات چیت صرف جوہری معاملے پر مرکوز ہو۔ تخت روانچی نے کہا کہ ’ہمارا خیال ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اگر معاہدہ کرنا ہے تو جوہری مسئلے پر ہی توجہ دینی ہوگی۔‘
اگر یہ بات درست ثابت ہوئی تو ایران کے لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی، کیونکہ وہ واشنگٹن کے زیرو افزودگی کے مطالبے کو کسی بھی معاہدے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
ایران اسے اپنی ’ریڈ لائن‘ قرار دیتا ہے اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنے حقوق کی خلاف ورزی سمجھتا ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ’زیرو افزودگی کا معاملہ اب کوئی مسئلہ نہیں رہا اور ایران کے نزدیک یہ مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔‘ یہ بات ٹرمپ کے حالیہ بیان سے متضاد ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’ہم (کسی بھی سطح کی) افزودگی کو نہیں چاہتے۔‘
ایرانی مذاکرات کار نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات کرنے سے بھی انکار کیا، جو اسرائیل کا اہم مطالبہ رہا ہے۔
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’جب ہم پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کیا تو ہمارے میزائل ہماری مدد کو آئے، تو ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں سے محروم ہونے کو کیسے قبول کر سکتے ہیں۔‘
مجید تخت روانچی نے امریکی صدر کے متضاد بیانات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم سن رہے ہیں کہ وہ مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘ انھوں نے یہ بات عوامی طور پر بھی کہی ہے اور نجی پیغامات میں بھی، جو عمان کے ذریعے پہنچائے گئے ہیں۔
لیکن ٹرمپ نے اپنی تازہ گفتگو میں ایک بار پھر حکومت کی تبدیلی پر زور دیا اور کہا: ’یہی سب سے بہتر چیز ہوگی۔‘
نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ نجی پیغامات میں ایسا نہیں کہا جا رہا، جو عمان کے وزیر خارجہ سید بدر بن حمد البوسعیدی کے ذریعے پہنچائے جا رہے ہیں۔ قطر سمیت دیگر علاقائی طاقتیں بھی اس عمل میں کردار ادا کر رہی ہیں۔
انھوں نے امریکی فوجی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک اور جنگ ’سب کے لیے تباہ کن ہوگی۔۔۔ سب کو نقصان ہوگا، خاص طور پر ان کو جنھوں نے جارحیت کی ابتدا کی۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اگر ہمیں لگا کہ ہمارے وجود کو خطرہ ہے تو ہم اس کے مطابق جواب دیں گے۔‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے خطرناک منظرنامے پر سوچنا بھی دانشمندانہ نہیں کیونکہ ’پورا خطہ انتشار کا شکار ہو جائے گا۔‘
ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اس کے نزدیک جائز ہدف ہیں۔
جب ان سے خطے میں تعینات 40 ہزار امریکی فوجیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’یہ ایک مختلف کھیل ہوگا۔‘
انھوں نے کہا کہ خطے میں تقریباً متفقہ رائے ہے کہ جنگ سے بچنا چاہیے۔ ایران نے بارہا اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مجید تخت روانچی نے کہا کہ ’ہم امید رکھتے ہیں کہ یہ کام سفارت کاری کے ذریعے ہو جائے، اگرچہ ہم سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا تاکہ حیران نہ ہوں۔‘
یہ اشارہ اسرائیل کے گذشتہ جون کے اچانک حملے کی طرف تھا، جس نے 12 روزہ جنگ کو جنم دیا، اور اس وقت ایران چھٹے دور کے مذاکرات کے لیے تیاری کر رہا تھا۔ اس پیشرفت نے ایران کے مذاکراتی عمل پر اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
ایرانی حکام بشمول صدر مسعود پزشکیان اس بات پر تنقید کرتے رہے ہیں کہ ایک دور میں طے شدہ نکات اگلے دور میں بدل دیے جاتے ہیں۔
فروری کے اوائل میں مذاکرات میں صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کی موجودگی کو ایران نے امریکہ کی سنجیدگی کی مثبت علامت سمجھا ہے۔
دوسری جانب یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا ایران وہ مشکل سمجھوتے کرنے کو تیار ہے جو کسی معاہدے کے لیے ضروری ہیں۔
بہت سے مبصرین اب بھی شکوک میں ہیں کہ نیا معاہدہ ممکن ہے، لیکن تخت روانچی نے کہا کہ ایران جنیوا میں مذاکرات کے اگلے دور میں امید کے ساتھ جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم اپنی پوری کوشش کریں گے لیکن دوسرے فریق کو بھی ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مخلص ہیں۔‘
لیز ڈوسیٹ ایران سے اس شرط پر رپورٹنگ کر رہی ہیں کہ ان کا کوئی بھی مواد بی بی سی کی فارسی سروس پر استعمال نہیں ہوگا۔ یہ پابندیاں ایران میں کام کرنے والی تمام بین الاقوامی میڈیا تنظیموں پر لاگو ہوتی ہیں۔