بنوں میں ہونے والے گھناؤنے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا: آرمی چیف
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں غیر ملکی ہتھیاروں اور آلات کا استعمال واضح ثبوت ہے کہ افغانستان اب بھی ان عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے۔
خلاصہ
پاکستان کے آرمی چیف نے کہا ہے کہ بنوں میں ہونے والے گھناؤنے حملے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
روس نے کہا ہے کہ یوکرین میں یورپی یونین کے فوجی دستوں کی موجودگی کا مطلب ہمارے خلاف براہ راست جنگ ہو گا۔
امریکہ اور اسرائیل نے فلسطین کے لیے عرب ممالک کے منصوبے کو مسترد کر دیا
جے آئی ٹی نے مبینہ طور پر منفی پروپگینڈا کرنے والی پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 افراد کو طلب کر لیا
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے بیٹے گورگین مینگل سمیت گیارہ سو افراد پر درج مقدمے کو واپس نہ لینے کے خلاف پارٹی کارکنوں نے بلوچستان کی تین اہم شاہراہوں کو بند کیا ہے
پاکستان گلوبل ٹیررازم انڈیکس میں دوسرے نمبر پر ا گیا ، گزشتہ سال کے مقابلے میں دہشت گردی کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد میں 45 فیصد اضافہ ریکارڈ
ایف آئی اے نے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث اہم ملزم کو گوجرانوالہ سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے جسے مزید تحقیقات کے لیے تھانہ ایف آئی اے منتقل کر دیا گیا ہے
لائیو کوریج
خضدار: بم دھماکے میں کم ازکم چار افراد ہلاک، پانچ زخمی, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع خضدار میں بم دھماکے میں کم ازکم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔
دھماکہ ضلع کی تحصیل نال کے ہیڈ کوارٹر نال ٹائون میں ہوا۔
ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں کم ازکم چار افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔
زخمیوں میں سے بعض کو طبّی امداد کی فراہمی کے بعد علاج کے لیے خضدار شہر منتقل کیا گیا۔
نال میں پولیس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد ایک موٹر سائیکل میں نصب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز مواد کو اس وقت اڑایا گیا جب علاقے میں حکومت کی حامی ایک قبائلی شخصیت عبدالصمد سمالانی کی گاڑی وہاں سے گزر رہی تھی۔
دھماکے کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی جس سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔
دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں عبدالصمد سمالانی بھی شامل ہیں۔
پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں سے تین کی شناخت ہوگئی ہے۔
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔
خیال رہے کہ خضدار بلوچستان کے داراحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کی آبادی مختلف بلوچ قبائل پر مشتمل ہے اور اس کا شمارصوبے کے شورش سے متاثرہ علاقوں میں ہوتا ہے۔
یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بھی معطل کر دیا ہے: امریکی حکام کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی، سی آئی اے کے سربراہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا نے فوجی امداد معطل کرنے کے علاوہ یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ بھی معطل کر دیا ہے۔
فاکس نیوز سے منسلک ماریہ بارٹیرومو کی جانب سے پوچھے گئے سوال پر جان ریٹکلف نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایک بنیادی سوال تھا کہ کیا صدر زیلنسکی امن کے لیے پرعزم ہیں اور انھوں نے کہا کہ 'چلیے ہم ٹھرتے ہیں میں آپ کو اس بارے میں سوچنے کا موقع دینا چاہتا ہوں۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ردعمل زیلنسکی کے اس بیان کے فوری بعد سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ امن کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے مشیر برائے قومی سلامتی مائیک والٹس نے کہا کہ امریکہ نے یوکرین سے خفیہ کے تبادلے کو روک دیا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ نے ابھی وقفہ لیا ہے ار وہ یوکرین کے ساتھ انٹیلیجنس شئیر کرنے کے عمل پر نظر ثانی کر رہا ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ ان کی یوکرینی ہم منصب سے فون پر بات ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے مقام اور موضوع پر ہمارے درمیان بات ہوئی۔
ادھر فرانسیسی صدر ایمینوئل میکخواں کے دفتر کا کہنا ہے کہ صدر ابھی امریکہ کا دورہ پلان نہیں کر رہے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے خبر آئی تھی کہ فرانس کے صدر برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر اور یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ پھر سے امریکہ جانے کے معاملے کو دیکھیں گے۔
بنوں حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی واضح تصدیق ہوئی ہے: پاکستانی فوج
،تصویر کا ذریعہMuhammad Waseem
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بنوں میں ہونے والے حملے میں افغان شہری ملوث تھے اور اس حملے کی ہدایات افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ نے دیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں منگل کی شام شدت پسندوں کے حملے کا ہدف تو فوجی علاقہ تھا لیکن بارود بھری گاڑیوں کی مدد سے کیے جانے والے دھماکوں میں چھاؤنی کے قریب واقع آبادی کے مکانات خصوصاً کوٹ براڑہ نامی گاؤں بری طرح متاثر ہوا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں اس حملے میں پانچ فوجیوں اور 13 شہریوں کی ہلاکت جبکہ 32 شہریوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انٹیلیجنس رپورٹس میں اس گھناؤنے عمل میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کی واضح طور پر تصدیق ہوتی ہے۔
فوج کا دعویٰ ہے کہ شواہد اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروہ کی ہدایات پر ہوا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان توقع کرتا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی اور اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
پاکستانی فوج نے یہ پیغام بھی دیا ہے کہ پاکستان اس کے جواب میں ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آئی ایس ہی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی ہر قسم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
قانون میں ملٹری کورٹ کا نہیں کورٹ مارشل کا ذکر ہے: جسٹس جمال مندوخیل, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرکورٹ اپیلوں کی سماعت کرنے والے سات رکنی بینچ میں شامل جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ قانون میں ملٹری کورٹ کا نہیں کورٹ مارشل کا ذکر ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملٹری ایکٹ کے سیکشن ٹو ڈی میں ملٹری کورٹ نہیں لکھا گیا بلکہ یہ لکھا گیا ہے کہ اس جرم میں ٹرائل ہوگا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی۔ اس موقع پر سپریم کورٹ بار کے سابقہ عہدیداران کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیے۔
سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محمد علی مظہر نے درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری سے سوال کیا کہ کیا آپ ملٹری کورٹ کو تسلیم کرتے ہیں؟ اگر تسلیم کرتے ہیں تو نتائج کچھ اور ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ کسی عدالتی فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ فوجی عدالتیں جوڈیشری کا حصہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ آج تک جتنے بھی فیصلے ہوئے اس میں ملٹری کورٹ کے بارے میں وضاحت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں آئین کے تحت بننے والے نظام کا حصہ نہیں ہیں اور ان عدالتوں میں ٹرائل صرف ان سویلینز کا ہوسکتا ہے جو فوج کا حصہ رہے ہوں۔
انھوں نے کہا کہ آرٹیکل دس اے اور چار کی موجودگی میں سویلین کا کورٹ مارشل ممکن نہیں ہے۔
آئینی بینچ کے سامنے اپنے دلائل میں عابد زبیری نے کہا ایف بی علی 1965 کی جنگ کے ہیرو تھے جن پر ریٹائرمنٹ کے بعد اپنےآفس پر اثر رسوخ کا الزام لگا۔
انھوں نے کہا کہ ایک ریٹائرڈ شخص کیسے اپنا آفس استعمال کر سکتا ہے؟
عابد زبیری نے کہا کہ جنرل ضیا الحق نے ایف بی علی کا ملٹری ٹرائل کیا اور پھر جنرل ضیا الحق نے ہی 1978 میں ایف بی علی کوچھوڑ دیا۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے جو کام ایف بی علی کرنا چاہ رہے تھے وہ ضیا الحق نے کیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا آرمی ایکٹ میں ملٹری ٹرائل کے لیے مکمل طریقہ کارفراہم کیا گیا ہے، طریقہ کار میں بنیادی حقوق کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے البتہ آرمی ایکٹ میں فراہم طریقہ کار پر عمل نہ کرنا الگ بات ہے، طریقہ کار پر عمل نہ ہو تو دستیابی کا کوئی فائدہ نہیں۔‘
جسٹس محمد علی مظہر نے مزید کہا کہ ملٹری کورٹ پر دو اعتراض ہیں، ایک اعتراض ملٹری ٹرائل غیر جانبدار نہیں ہوتا، دوسرا اعتراض ٹرائل کرنے والوں پر قانونی تجربہ نہ ہونے کا الزام لگایا گیا، اگر ملٹری کورٹ جوڈیشری ہے تو پھر وہ عدلیہ ہے۔‘
اس موقع پر وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ملٹری کورٹ ایگزیکٹو کا حصہ ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ’ملٹری کورٹ پرغیر جانبدارنہ ہونا اور قانونی تجربہ نہ ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں، آرمی کا کیا کام ہوتا ہے؟ آرمی کے کام میں ایگزیکٹو کہاں سے آ گیا؟‘
اس پر عابد زبیری نے جواب دیا فوج کا کام سرحد پر لڑنا ہے۔
جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے فوج کا کام ملک کا دفاع کرنا ہے۔
جامعہ حفصہ کا کچھ حصہ گرانے کے بعد مدرسے کی نگران امّ حسان کی ضمانت پر رہائی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
،تصویر کا ذریعہGetty Images
لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی اہلیہ اور جامعہ حفصہ کی نگران ام حسان کو عدالت نے ضمانت بعدازگرفتاری دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔
بدھ کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پورا ہونے پر ام حسان کو ساتھ دیگر طالبات اور معلمات کے ہمراہ عدالت میں پیش کیا گیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے ام حسان سمیت تمام ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کا ایک حصہ گرادیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق سرکاری اراضی پر مدرسے کی دوبارہ سے غیر قانونی تعمیر کی جارہی تھی جس کی وجہ سے اس کے کچھ حصے کو گرایا گیا ہے۔
ان کے مطابق سرکاری اراضی پر ابھی صرف اس عمارت کی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں جن کے بیشتر حصوں کو گرا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کے بعد لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کو منہدم کر دیا گیا تھا اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ نے خواتین کے مدرسے کے لیے مسجد کی انتظامیہ کو اسلام آباد کے علاقے ترنول کے قریب دس مرلے کی زمین الاٹ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم لال مسجد کی انتظامیہ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔
دوسری جانب، لال مسجد کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی دیواریں ضلعی انتظامیہ یا سی ڈی اے کے اہلکاروں نے نہیں بلکہ لال مسجد کی انتظامیہ نے خود گرائی ہیں۔
صدر ٹرمپ شاید کینیڈا اور میکسیکو پر عائد ٹیرف کم کر دیں: امریکی وزیرِ تجارت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک لٹنک کے خیال میں صدر ٹرمپ ٹیرف ختم کرنے کے بجائے انھیں کم کر دیں گے۔
امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کینیڈا اور میکسیکو سے مصنوعات کی درآمد پر لگائے گئے ٹیرف کو کم کرنے کے لیے
بدھ کے روز ایک معاہدے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز بزنس کو دیے گئے ایک
انٹرویو میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ وہ پورا دن کینیڈا اور میکسیکو کے حکام کے ساتھ
رابطے میں تھے جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ طاقتور اوپیوئڈ فینٹینیل
کی امریکہ میں سمگلنگ کو کم کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان کے دعوے کے برعکس، کینیڈا کی وزیرِ خارجہ میلانی جولی نے
بی بی سی کے پروگرام نیوز نائٹ کو بتایا ہے کہ ان کے دفتر سے اس معاہدہ کے بارے میں
کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات پر 25 فیصد محصولات عائد
کیے جانے کے بعد کینیڈا نے جواباً 107 ارب ڈالرز کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد
ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 20.8 ارب ڈالرز کی مصنوعات پر ٹیرف فوری طور پر لاگو ہوگا جبکہ بقیہ 86 ارب ڈالرز کی مصنوعات پر محصولات کا اطلاق اگلے 21 روز میں ہوگا۔
لٹنک کے خیال میں امریکی صدر ٹیرف ختم کرنے کے بجائے انھیں
کم کر دیں گے۔
ان کے مطابق ٹرمپ کچھ لو، کچھ دو کی پالیسی کے تحت اس کا
کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔
لٹنک کا کہنا ہے کہ ہم شاید کل اس بارے میں کوئی اعلان کرنے
جا رہے ہیں۔
کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی حکام جو چاہے
کہہ سکتے ہیں لیکن اصل فیصلہ صدر ٹرمپ نے لینا ہے۔
تاہم ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لٹنک کا اونٹاریو
کے پریمیئر ڈگ فورڈ سے فون کال پر رابطہ ہوا ہے۔
منگل کے روز کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ڈونلڈ
ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات کی امریکہ درآمد پر 25 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو
’بیوقوفانہ اقدام ‘ قرار دیتے ہوئے جوابی ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔
ٹروڈو نے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ سے دونوں
ممالک کو نقصان پہنچے گا۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم نے امریکی صدر پر الزام عائد
کیا ہے کہ وہ ’کینیڈا کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ‘ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں
کیونکہ اس سے امریکہ کے لیے کینیڈا کا الحاق کرنا آسان ہو جائے گا۔
’ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ ہم کبھی بھی 51ویں ریاست
نہیں بنیں گے۔‘
اسلام آباد کی انتظامیہ نے زیرِ تعمیر جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں, شہزاد ملک
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا کیپشنلال مسجد
اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے لال مسجد سے
ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کا ایک حصہ گرادیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق سرکاری اراضی پر
مدرسے کی دوبارہ سے غیر قانونی تعمیر کی جارہی تھی جس کی وجہ سے اس کے کچھ حصے
کو گرایا گیا ہے۔
ان کے مطابق سرکاری اراضی پر ابھی صرف اس عمارت کی دیواریں
کھڑی کی گئی تھیں جن کے بیشتر حصوں کو گرا دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور
میں لال مسجد آپریشن کے بعد لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کو منہدم کر دیا گیا تھا
اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ نے خواتین کے مدرسے کے لیے مسجد کی انتظامیہ کو
اسلام آباد کے علاقے ترنول کے قریب دس مرلے کی زمین الاٹ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم لال مسجد کی انتظامیہ نے اس
پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔
دوسری جانب، لال مسجد کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے
مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی دیواریں ضلعی انتظامیہ یا سی ڈی اے
کے اہلکاروں نے نہیں بلکہ لال مسجد کی انتظامیہ نے خود گرائی ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعوی کیا کہ ضلعی
انتظامیہ کے اہلکار یہ کام کرنے سے گھبراتے تھے اور انھیں خطرہ تھا کہ اگر وہ لال
مسجد کی جانب پیش قدمی کریں گے تو انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔
مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس معاملے میں
کچھ علما کی خدمات بھی حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے دیواریں گرانے کے عمل میں کوئی
تصادم نہیں ہوا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیشکش کی گئی
تھی کہ اگر وہ جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں تو انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات
کے تحت درج مقدمے میں گرفتار ام حسان کی درخواستِ ضمانت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
واضح رہے کہ 20 فروری کی شب پولیس نے ام حسان سمیت دیگر افراد کو کارِ سرکار میں مداخلت اور حکومتی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
مولانا عبالعزیز کا کہنا ہے کہ ام حسان اور اس مقدمے میں گرفتار دیگر خواتین کی آج ضمانت کی درخواست کی سماعت ہونا تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس پیشکش کے بعد ہی لال
مسجد انتظامیہ نے زیر تعمیر عمارت کی کچھ دیورایں گرائی ہیں۔
مولانا عبدالعزیز کے اس دعوے کے متعلق اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ کے
متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا افغانستان میں انسداد دہشتگردی میں پاکستان کا کردار تسلیم کرنے پر امریکی صدر کا شکریہ
،تصویر کا ذریعہPM Office
،تصویر کا کیپشنوزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھے گا۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی جانب سے افغانستان میں انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں پاکستان کے کردار کا
اعتراف کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن اور
استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ قریبی شراکت داری جاری رکھے گا۔
منگل کے روز کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان
سے انخلا کے دوران امریکی اڈے پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر
حکومتِ پاکستان کا ’خصوصی‘ شکریہ ادا کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی
خفیہ ادارے ایف بی آئی کے ڈائیریکٹر کشیپ پٹیل نے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا تھا ایف
بی آئی، محکمہ انصاف اور سی آئی اے ایبی گیٹ حملے کے ذمہ داردوں میں سے ایک
کو امریکہ لے آئے ہیں۔
وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ
ٹرمپ نے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں
کارروائی کے دوران نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے آپریشنل کمانڈر شریف اللہ کی گرفتاری
کے تناظر میں کیا ہے۔ بیان کے مطابق شریف اللہ افغانستان کا شہری ہے اور ایک مطلوب
دہشت گرد ہے۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ انسداد دہشت گردی
کی کوششوں میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے
ان کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان عسکریت پسند گروپوں کو کسی
دوسرے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے اقدام کو روکنے
پر یقین رکھتا ہے۔
’ہم دہشت گردی
کے مظاہر سے نمٹنے کے لیے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی کانگریس سے خطاب: گرین لینڈ پر قبضہ، یوکرین سے معدنیات کا معاہدہ، یورپ پر تنقید اور پاکستان کا شکریہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ نے یوکرین کی جتنی مدد کی ہے اس سے کہیں زیادہ رقم روسی تیل کی خریداری پر خرچ کی ہے۔
منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری
بار صدر منتخب ہونے کے بعد امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے اپنا پہلا خطاب کیا
جو تقریباً ایک گھنٹے 40 منٹ جاری رہا۔
ٹرمپ کے خطاب کے آغاز میں ریپبلکن پارٹی سے
تعلق رکھنے والے سپیکر نے ڈیموکریٹ رکن ایل گرین کو اس وقت ایوان سے باہر نکال دیا
جب وہ احتجاجاً اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور دوبارہ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔
تقریر کے دوران ٹرمپ نے اپنے پسندیدہ موضوعات
بشمول امریکہ کی امیگریشن پالیسی پر تنقید کی اور امن و امان کی صورتحال بہتر
بنانے پر زور دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کانگریس
سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان سے انخلا کے دوران امریکی اڈے پر ہونے والے حملے کے
مرکزی ملزم کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کا ’خصوصی‘ شکریہ ادا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ منگل کے روز انھیں یوکرین
کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا ایک خط موصول ہوا ہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ دیا گیا
ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ
دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ ہفتے اوول آفس میں ہونے والے تنازع کے بعد امریکہ کی
جانب سے معطل کی جانے والی فوجی امدار جاری رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ کو تنقید کا نشانہ بناتے
ہوئے کہا ہے کہ یورپ نے یوکرین کی جتنی مدد کی ہے اس سے کہیں زیادہ رقم روسی تیل کی
خریداری پر خرچ کی ہے۔ ان کے مطابق، اس کے برعکس امریکہ نے یوکرین کو سینکڑوں
ارب ڈالرز کی امداد دی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے کینیڈا،
میکسیکو، چین اور دیگر ممالک سے درآمد پر محصولات عائد کیے جانے کی وجہ سے امریکی
معیشت کو کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے ان تکالیف کو ’بدہضمی‘ سے
تشبیہ دی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ہے گرین لینڈ کا امریکہ
کا حصہ بننا نا گزیر ہے اور ان کی انتظامیہ اسے کسی نہ کسی طریقے سے حاصل کرنے کے
لیے کوششیں کر رہی ہے۔
امریکی صدر کے خطاب کے دوران ڈیموکریٹ اراکین
نے احتجاجی پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’مسک چوری کرتے ہیں، سابق فوجیوں کی حفاظت
کریں، میڈیکیڈ کو بچاؤ‘ جیسے جملے درج تھے۔ کچھ ڈیموکریٹ اراکین صدر ٹرمپ کی تقریر
ختم ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر چلے گئے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی کانگریس سے خطاب اور ’پاکستان حکومت کا خصوصی شکریہ‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا کیا گیا وہ ’شاید ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔‘
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کانگریس سے خطاب کرتے
ہوئے افغانستان سے انخلا کے دوران امریکی فوج پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزم کی گرفتاری
پر حکومتِ پاکستان کا ’خصوصی‘ شکریہ ادا کیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایک بار پھر بنیاد پرست
اسلامی شدت پسند قوتوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑا ہے۔ ’ساڑھے تین سال قبل افغانستان
سے [امریکہ کے] تباہ کن اور نااہل انخلاء کے دوران داعش کے شدت پسندوں
کے حملے میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور لاتعداد افراد زخمی ہوئے تھے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ جس طریقے سے افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا کیا گیا وہ ’شاید
ہمارے ملک کی تاریخ کا سب سے شرمناک لمحہ تھا۔‘
’آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہم نے اس حملے
کے مرکزی ملزم کو پکڑ لیا ہے، اور وہ امریکی انصاف کا سامنا کرنے کے لیے اپنے
راستے پر ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا، ’میں اس عفریت کی گرفتاری میں مدد
کرنے پر حکومت پاکستان کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ان 13 خاندانوں کے لیے ایک
بہت ہی اہم دن ہے جن کے پیارے اس حملے میں مارے گئے تھے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے
افراد کے اہلِ خانہ اور زخمیوں سے رابطے میں ہیں اور ان کی آج فون پر ان سے بات ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ہولناک دن تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد امریکی خفیہ ادارے فیڈرل بیورو آف
انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے ڈائیریکٹر کشیپ
پٹیل نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا ہے کہ آج رات ایف بی
آئی، ڈیپارٹمنٹ آف جسٹس اور سی آئی اے ایبی گیٹ حملے کے ذمہ
داردوں میں سے ایک کو واپس لے آئے ہیں۔
ہمارے ناقابل یقین شراکت داروں اور بہادر ایف بی آئی اہلکاروں کا شکریہ جنہوں نے ایسا کیا۔ آپ نے اپنے ملک کی شاندار نمائندگی کی۔
جسٹن ٹروڈو نے ڈونلڈ ٹرمپ کے کینیڈا کی مصنوعات پر ٹیرف کے فیصلے کو ’بیوقوفانہ اقدام‘ قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنکینیڈین وزیر اعظم نے جوابی ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچے گا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی جانب سے کینیڈا کی مصنوعات کی امریکہ درآمد پر 25 فیصد ٹیرف کے نفاذ کو ’بیوقوفانہ
اقدام ‘ قرار دیتے ہوئے اپنے ملک کی معیشت کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا اعادہ کیا
ہے۔
خیال رہے کہ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی
مصنوعات پر 25 فیصد محصولات نافذ کر دیے ہیں جبکہ چین سے آنے والی اشیا پر بھی محصولات
بڑھا دیے ہیں۔
کینیڈین وزیر اعظم نے جوابی ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچے گا۔
ٹروڈو نے امریکی صدر پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ’کینیڈا کی
معیشت کو مکمل طور پر تباہ‘ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں کیونکہ اس سے امریکہ کے لیے
کینیڈا کا الحاق کرنا آسان ہو جائے گا۔
’ایسا کبھی نہیں
ہوگا۔ ہم کبھی بھی 51ویں ریاست نہیں بنیں گے۔‘
’یہ سخت جواب کارروائی
کرنے اور یہ ثابت کرنے کا وقت ہے کہ کینیڈا کے ساتھ لڑائی میں کسی کی جیت نہیں ہوگی۔‘
کینیڈا نے 107 ارب ڈالرز مالیت کی امریکی مصنوعات پر 25 فیصد
ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، 20.8 ارب ڈالرز کی
مصنوعات پر ٹیرف فوری طور پر لاگو ہوگا جبکہ بقیہ 86 ارب ڈالرز کی مصنوعات پر
محصولات کا اطلاق اگلے 21 روز میں ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹروڈو کو کینیڈا کا ’گورنر‘ پکارتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی انھیں سمجھائے کہ اگر امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کیے گئے تو امریکہ فوری طور پر اپنے ٹیرف کو اسی تناسب سے مزید بڑھا دے گا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف کے نفاذ کا مقصد امریکی ملازمتوں اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی حفاظت، غیر قانونی نقل مکانی اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔
ولادیمیر زیلنسکی صدر ٹرمپ کی ’مضبوط قیادت‘ کے تحت کام کرنے پر تیار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنزیلنسکی کا کہنا ہے کہ یوکرین امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے۔
اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی تکرار کے
چند روز بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ’مضبوط
قیادت‘ کے تحت کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انھوں نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی تکرار کو افسوسناک
قرار دیا ہے۔ یوکرینی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے
یوکرین کو دی جانے والی عسکری امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ چیزوں کو بہتر بنایا جائے‘۔
اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے یوکرینی
صدر پر مذاکرات کے لیے رضامند نہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔
تاہم اب سوشل میڈیا پر جاری ایک طویل پیغام میں زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلہ کا بھی خاکہ پیش کیا ہے۔
زیلنسکی کا کہنا ہے،
’ہم جنگ کے خاتمے کے لیے تیزی سے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور پہلے مرحلے میں قیدیوں
کی رہائی اور آسمان میں جنگ بندی ہو سکتی ہے – جس میں میزائلوں، طویل فاصلے تک مار
کرنے والے ڈرونز، توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملے پر پابندی
- اور فوری طور پر سمندر میں بھی جنگ بندی ممکن ہے اگر روس بھی ایسا کرنے کو تیار
ہے۔‘
’اس کے بعد ہم جنگ
بندی کے اگلے مراحل تیزی سے طے کرنا چاہتے ہیں اور ایک مضبوط حتمی معاہدے پر پہنچنے
کے لیے امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔‘
جمعے کے روز امریکی صدر اور ان کے نائب جے ڈی وینس کے ساتھ
ہونے والی ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ’ویسی نہیں ہوئی جیسی ہونی
چاہیے تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے چیزیں بہتری کی طرف لے جائی
جائیں۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والا تعاون اور ملاقاتیں تعمیری ہوں۔‘
انھوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ یوکرین امریکہ کے ساتھ
معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے۔ زیلنکسی کے گذشتہ ہفتے امریکہ کے
دوران اس معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے تھے۔
زیلنسکی نے امریکہ کی طرف سے اب تک یوکرین کو دی جانے والی
مدد کے لیے تشکر کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم واقعی اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ امریکہ
نے یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھنے میں کتنی مدد کی ہے۔‘
’اور ہمیں وہ وقت
بھی یاد ہے جب صدر ٹرمپ نے یوکرین کو جیولنز فراہم کیے اور اس سے حالات کیسے بدل
گئے تھے۔ ہم اس کے لیے شکر گزار ہیں۔‘ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران یوکرین
کو فروخت کیے گئے امریکی اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کا حوالہ دے رہے تھے۔
اوول آفس میں جمعے کے روز ہونے والی میٹنگ کے دوران نائب
صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ کی طرف سے فراہم کی
جانے والی فوجی مدد کے لیے شکرگزار نہیں ہیں۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں چھاؤنی کے علاقے میں دو بم دھماکوں کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ دور دراز کے علاقوں میں مکانات اور مساجد کو نقصان پہنچا جس میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔
یورپی یونین کی صدر اُرزولا فان ڈیئر لائن نے کہا ہے کہ یورپ کی دفاعی انڈسٹری کو مضبوط کرنے کے لیے اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے یورپی یونین کے نئے پلان میں 800 بلین یورو تک لگائے جا سکتے ہیں۔
امریکہ کی جانب سے چین، میکسیکو اور کینیڈا کی درآمدات پر ٹیرف لاگو ہو گیا ہے لیکن امریکی صدر مزید ٹیرف لگانے کی بھی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
چین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اگر تجارتی جنگ کو جاری رکھے گا تو ہم ایک ’تلخ انجام‘ تک لڑیں گے۔
امریکہ نے یوکرین کو دی جانے والی عسکری امداد روک دی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک نمائندے کے مطابق امریکہ اپنی امداد روک کر اس کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ امداد مسئلے کے حل میں کردار ادا کر رہی ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔