ڈاکٹر ماہ رنگ
بلوچ اور سمی بلوچ سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی
رہائی کے لیے دیئے جانے والے دھرنے کے قریب خود کش دھماکہ ہوا ہے۔
حکومت بلوچستان
کے ترجمان شاہد رند نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں
ہوا۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ
ذوہیب کبزئی نے بتایا کہ خود کش دھماکے میں پانچ سے چھ لوگ معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان نیشنل
پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے بتایا کہ ’روکے جانے کے باعث خود کُش حملہ آور
نے اپنے آپ کو دھرنے سے چار سو گز کے فاصلے پر اڑا دیا۔‘
’دھماکے کے بارے
میں تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔‘
یہ خود کش دھماکہ
ضلع کوئٹہ سے متصل ضلع مستونگ کی حدود میں ہوا۔
مستونگ کے ڈپٹی
کمشنر ذوہیب کبزئی نے بتایا کہ ’خودکش دھماکے میں جو لوگ زخمی ہوئے ہیں انھیں صرف معمولی
خراشیں آئی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا
کہ دھماکے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جاری ہے۔
دھماکے کے حوالے
سے حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کا کہنا تھا کہ ’جائے وقوعہ کے نزدیک بلوچستان
نیشنل پارٹی کا دھرنا جاری تھا تاہم اس کے شرکا، سردار اختر مینگل اور بی این پی کی
تمام سیاسی قیادت محفوظ ہے۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ ’بلوچستان حکومت واقعے کی مکمل چھان بین کررہی ہے اور انکوائری کے نتائج سے
عوام کو جلد آگاہ کیا جائے گا۔‘
میڈیا کے نمائندوں
سے بات کرتے ہوئے بی این پی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھیوں نے ایک شخص کو
مشکوک جان کر اسے دھرنے کے قریب نہیں آنے دیا۔ تاہم پکڑے جانے کے خوف سے خودکش حملہ
آور نے اپنے آپ کو دھرنے سے چار سو گز کے فاصلے پر اڑا دیا جس کے باعث ہمارے کچھ ساتھی
زخمی ہوئے۔‘
خود کش دھماکے
کے باوجود دھرنا جاری ہے
یہ دھرنا ضلع
مستونگ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام کوئٹہ کراچی ہائی وے اور کوئٹہ تفتان
ہائی وے کے سنگھم پر دیا جارہا ہے۔
اس دھرنے میں
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل، نواب محمد خان شاہوانی، سردار علی محمد قلندرانی،
سردار نادر خان لانگو اور خان آف قلات کے چچا پرنس موسیٰ جان کے علاوہ دوسرے سیاسی
اور قبائلی عمائدین بھی شریک ہیں۔
خیال رہے کہ
دھرنا کے شرکا کوئٹہ کی جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی گرفتار خواتین کی رہائی کے لیے لانگ
مارچ کررہے تھے لیکن انتظامیہ کی جانب سے لکپاس ٹنل اور دیگر راستوں کو بند کر دیے
جانے کے باعث اس مقام پر عارضی طور پر دھرنا دیا جارہا ہے۔
یہ لانگ مارچ
گزشتہ روز ضلع خضدار کے علاقے وڈھ سے بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی قیادت
میں شروع کیا گیا تھا۔
دھماکے کے حوالے سے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا ’ہمیں کسی تنظیم سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں اگر کسی سے خطرہ ہے تو وہ سرکار سے ہے۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ شب دھرنے پر بکتر بند گاڑی چڑھانے کی کوشش کی گئی جبکہ دھرنے کے شرکا پر شیلنگ بھی کی گئی۔
انھوں نے کہا کہ ’حکومت جان بوجھ کر حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے لیکن ہمارا احتجاج پر امن طور پر جاری رہے گا اور اگر حالات خراب ہوئے تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔‘
دوسری جانب بی این پی کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ شب لک پاس ٹنل کی کوئٹہ والی سائیڈ پر پولیس نے ان کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے لیکن تاحال حکومت نے کسی گرفتاری کی تصدیق نہیں کی ہے۔
’بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں‘
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کہا کہ ’حکومت گزشتہ رات سے بی این پی کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ بی این پی کے ایک وفد کی گزشتہ رات بھی انتظامیہ سے ملاقات ہوئی جس کے بعد آج حکومتی وفد کا سردار اختر مینگل سے ملاقات پر اتفاق ہوا۔
انھوں نے کہا کہ دھرنے کے شرکا بشمول سردار اختر مینگل، دیگر قیادت اور عوام کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
حکومت کے ترجمان نے سردار اختر مینگل، بی این پی اور عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں اور بات چیت سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد کریں۔