کابینہ سے منظوری کے بعد 27 ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ میں پیش، آرمی چیف کو چیف آف ڈیفینس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز
آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیمی مسودے کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ 27 نومبر 2025 کو ختم ہو جائے گا۔ چیف آف آرمی سٹاف جو چیف آف ڈیفینس فورسز بھی ہوں گے، وزیر اعظم کی مشاورت سے نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ مقرر کریں گے اور نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ کے سربراہ کا تعلق پاکستانی فوج سے ہو گا۔
خلاصہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے باکو میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے ساتھ ملاقات میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
27 ویں ترمیم کا مسودہ سینیٹ نے متعلقہ قائمہ کمیٹی میں بھیج دیا ہے۔ یاد رہے کہ مسودے میں آرمی چیف کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ دینے کی تجویز شامل ہے۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے سینیٹرعلی ظفر نے کہا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے بغیر 27 ویں ترمیم پر بحث میں حصہ نہیں لے سکتے۔
افغانستان میں طالبان حکومت نے استنبول مذاکرات میں ناکامی کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے پاکستان کی سکیورٹی تمام ذمے داری افغانستان پر ڈالنے کی کوشش کی۔
لائیو کوریج
امریکی تاریخ میں طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن: 40 بڑے ہوائی اڈوں پر ہزاروں پروازیں منسوخ ہونے کا خدشہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی
وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی حکومت کی جانب سے شٹ ڈاؤن جاری
رہا تو آنے والے دنوں میں 40 بڑے ہوائی
اڈوں پر فضائی سفر میں 10 فیصد تک کمی
کی جائے گی جس کے نتیجے میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہو جائیں گی۔
فیڈرل
ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے سربراہ نے کہا کہ یہ فیصلہ صرف
ملکی پروازوں کو متاثر کرے گا ، کیونکہ ایئر ٹریفک کنٹرولرز تھکاوٹ کا شکار ہو رہے
ہیں۔
ایئر
ٹریفک کنٹرولرز سے لے کر پارک وارڈنز تک تقریبا 14 لاکھ وفاقی کارکن بغیر تنخواہ کے
کام کر رہے ہیں یا جبری چھٹی پر ہیں کیونکہ
امریکی کانگریس نے فنڈنگ بجٹ پر اتفاق نہیں کیا ہے۔
اٹلانٹا،
نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی کے بڑے ہوائی اڈے سروس میں کمی سے متاثر ہوں گے جو مصروف ترین ہوائی اڈے ہیں۔
لیبر
یونینوں کا کہنا ہے کہ بہت سے ملازمین شدید تناؤ کی وجہ سے بیمار ہو گئے ہیں یا
انہیں اپنا گزارہ پورا کرنے کے لیے دوسری ملازمتیں لینے پر مجبور کیا گیا ہے۔
بدھ 5
نومبر کو وفاقی حکومت کا بجٹ تعطل امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن گیا۔
مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ نامکمل دستاویزات کی وجہ سے چند انڈین یاتریوں کو داخلے سے روکا گیا: پاکستان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہندو برادری کے کچھ افراد
کے ملک میں داخلے سے روکنے کے الزامات کو پاکستان بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات قرار
دے کر واضح طور پر مسترد کرتا ہے۔
وزارتِ
خارجہ کا کہنا ہے کہ ’یہ دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور حقائق کو مسخ کرنے اور
ایک ایسے معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی ایک اور کوشش کی نمائندگی کرتے ہیں جو خالصتا
انتظامی نوعیت کا تھا۔‘
بیان
میں مزید بتایا گیا کہ ’پاکستان کے ہائی کمیشن، نئی دہلی نے چار سے تیرہ نومبر 2025 تک بابا گرونانک دیو جی کے یوم پیدائش کی تقریبات میں شرکت کے لیے انڈیا
سے آنے والے سکھ یاتریوں کو 2,400 سے زیادہ ویزے جاری کیے تھے۔ مجموعی
طر پر 1,932 زائرین اٹاری-واہگہ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے۔ تاہم تقریبا
300 ویزا ہولڈرز کو انڈین حکام نے عبور
کرنے سے روک دیا تھا۔‘
پاکستانی
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی طرف سے امیگریشن کا سارا عمل ہموار، منظم اور کسی بھی
رکاوٹ سے پاک تھا۔
بیان
میں وضاحت کی گئی کہ ’بہت کم تعداد میں لوگوں کے پاس نامکمل دستاویزات پائی گئیں اور
وہ امیگریشن حکام کو تسلی بخش جوابات فراہم کرنے سے بھی قاصر تھے۔ اس لیے روایتی
طریقہ کار کے ذریعے ان سے درخواست کی گئی کہ وہ واپس انڈیا چلے جائیں۔‘
بیان
کے مطابق ’یہ کہنا کہ ان افراد کو مذہبی بنیادوں پر داخلے سے انکار کیا گیا تھا، مکمل
طور پر غلط اور شر پسندی ہے۔‘
پاکستان
کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے ہمیشہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے زائرین کو مقدس مذہبی
مقامات کی زیارت کا خیرمقدم کیا ہے۔ یہ کارروائی خالصتا انتظامی تھی جو پاکستان کے
اپنے علاقے میں داخلے کو منظم کرنے کے حق کے مطابق تھی۔ اس مسئلے کو فرقہ وارانہ یا
سیاسی رنگ دینے کی کوئی بھی کوشش نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس متعصبانہ ذہنیت کی بھی
عکاسی کرتی ہے۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان استنبول میں مذاکرات آج بھی جاری رہنے کا امکان
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ روز شروع ہونے والے مذاکرات آج بھی جاری رہنے کا امکان ہیں۔ افغان حکام کے مطابق استنبول میں جمعرات کو ہونے والے مذاکرات کے دوران ’اچھا ماحول‘ رہا۔
استنبول میں ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ مذاکرات کے دوران پاکستانی فریق نے طالبان حکومتی وفد کو ایک تجویز پیش کی اور بات چیت ہوئی۔ لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس منصوبے میں کیا مطالبات اور تجاویز تھیں۔
مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں ہو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات دو روز تک جاری رہیں گے تاہم اگر ضرورت پڑی تو ان میں مزید دنوں کی توسیع کی جا سکتی ہے۔ دونوں وفود گذشتہ روز استنبول پہنچے تھے۔
طالبان کے ایک حکومتی ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین، انس حقانی، وزارت خارجہ کے دوسرے شعبے کے سربراہ، عبدالقہار بلخی، ایک اور اہلکار ظہیر بلخی اور ایک اور سرکاری اہلکار شامل ہیں۔
دونوں فریقین نے گذشتہ ہفتے مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام کے بعد بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
اگرچہ بات چیت کے اس دور کا صحیح ایجنڈا واضح نہیں ہے، لیکن پاکستانی حکام پہلے کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات کے تیسرے دور میں ’دہشت گردی کی روک تھام‘ کے اپنے وعدوں پر بھی توجہ مرکوز کی جائے گی اور یہ کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 30 اکتوبر کو کہا کہ استنبول مذاکرات نے ’افغانستان میں طالبان حکومت کو امن قائم کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کی بھاری ذمہ داری سونپی ہے۔‘
طالبان حکومت نے پاکستان کو خبردار کیا کہ اگر تنازع جاری رہا تو ’پاکستان پاکستان نہیں رہے گا‘۔
یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب پاکستان کے وزیر دفاع نے طالبان حکومت کو بار بار خبردار کیا کہ ’اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو واحد آپشن جنگ ہو گا۔‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مذاکرات
سے قبل سرحد پر کشیدگی
جمعے
کو مذاکرات سے قبل طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے
کہ پاکستانی فورسز نے ڈیورنڈ لائن پر فائرنگ کی ہے جس سے لوگوں میں خوف وہراس پھیل
گیا ہے۔ اسپن بولدک میں ہسپتال کے حکام نے بتایا کہ پاکستان کے میزائل حملے میں
ایک خاتون اور ایک مرد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے دعویٰ کیا ہے کہ چمن اسپن بولدک بارڈر
پر ’فائرنگ افغان فریق نے شروع کی۔‘
وزارت
نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’ہم افغان
فریق کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہیں جو چمن میں پاکستان-افغانستان سرحد پر
آج کے واقعے کے حوالے سے شائع کیے گئے ہیں۔ فائرنگ افغان جانب سے شروع کی گئی تھی،
جس کا ہماری سکیورٹی فورسز نے فوری اور ذمہ داری سے جواب دیا۔‘
افغانستان
میں طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے 26 اکتوبر کو کابل میں ایک
پولیس میٹنگ میں کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہم نے تحریک طالبان پاکستان بنائی۔ 2003
میں پاکستان میں قبائل اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اٹھے اور اسی سے تحریک طالبان
پاکستان قائم ہوئی۔
انہوں
نے اصرار کیا کہ 2003 کے بعد جو کچھ ہوا وہ پاکستان کے اندر تھا۔
استنبول
میں مذاکرات کے اس دور کا ایجنڈا زیادہ واضح نہیں ہے، اور اس بات کی کوئی واضح
توقع نہیں ہے کہ کوئی بنیادی فیصلہ کیا جائے گا۔ دونوں طرف کے سینئر حکام اپنے
اپنے دعوے دہرا رہے ہیں، پاکستان کابل پر اپنے دشمن (ٹی ٹی پی) کو پناہ دینے اور
اس کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا ہے، اور طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی
بات نہیں ہے، "پاکستان اور ٹی ٹی پی کا تنازعہ ان کا گھریلو معاملہ ہے۔"
ماہرین
کا کہنا ہے کہ جو چیز قطری اور ترکی کے دباؤ کو برقرار رکھ سکتی ہے اور اس طرح کی
بات چیت ڈیورنڈ لائن پر سرحدی محافظوں کے درمیان جنگ بندی ہے، جسے برقرار رکھا
جائے تو تنازع کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے، تاہم اس تنازعے کا مکمل خاتمہ اتنی
جلد ممکن نظر نہیں آتا۔
پیپلز پارٹی کا این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجاویز کی مخالفت جبکہ آرٹیکل 243 میں ترامیم کی تجاویز کی حمایت کا اعلان
،تصویر کا ذریعہScreenshot
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی
ای سی) کے آج ہونے والے اجلاس میں حکومت کی طرف سے پیش کردہ مجوزہ 27ویں آئینی
ترمیم میں صوبوں کے حصے سے متعلق این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجاویز مسترد کر
دی گئی ہیں۔ سی ای سی نے فوج سے متعلق آرٹیکل 243 میں ترامیم کی تجاویز کی منظوری دے
دی ہے۔
کراچی میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد رات
گئے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کی اور کہا کہ ان کی
جماعت کی سی ای سی نے آج کے اجلاس میں مجوزہ 27ویں ترمیم پر غور کیا ہے اور یہ
اجلاس آئینی عدالت پر حتمی فیصلے لیے ’آج بعد از نماز جعمہ پھر طلب کیا گیا ہے‘۔
آئینی عدالت کے قیام سے متعلق بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں تھا کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے، میثاق جمہوریت میں دیگر چیزیں بھی تھیں، آئینی عدالت پر رائے یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو۔
واضح رہے کہ بلاول بھٹو نے 3 نومبر کو ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مسلم لیگ (ن) کے وفد کے ہمراہ ان سے ملاقات کی، جس میں 27ویں ترمیم پر بات ہوئی اور کچھ تجاویز پیش کی گئیں۔ ان کے مطابق ان تجاویز کے لیے پیپلز پارٹی کی حمایت مانگی گئی۔
بلاول بھٹو نے لکھا تھا کہ تجاویز میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کی منتقلی، این ایف سی میں صوبائی حصے کے تحفظ کو ختم کرنا، آرٹیکل 243 میں ترمیم، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات کو وفاق کے پاس واپس لانا اور الیکشن کمیشن کی تقرریوں میں پیدا ہونے والے تعطل کو ختم کرنا شامل ہیں۔
بلوچستان میں دفعہ 144 نافذ، تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت نہ مل سکی, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
انتظامیہ نے بلوچستان کے
دارالحکومت کوئٹہ میں تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت سے انکار کرتے ہوئے جلسے سے تین دن قبل ہی صوبے بھر میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف نے سات نومبر کو کوئٹہ میں جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو درخواست دی تھی۔
جلسے سے دو روز قبل محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہرقسم کی اجتماعات کے انعقاد پر پابندی عائد کردی۔
اس سلسلے میں محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق 30 یوم کے لیے بلوچستان میں پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنے اور ریلی کے انعقاد اور اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔
تحریک انصاف کے رہنما محمد آصف ترین نے حکومت کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف ایک پرامن جماعت ہے اور اس نے کوئٹہ شہر میں سات نومبر کو پرامن جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ٹال مٹول سے کام لیا گیا جس پر پارٹی نے عدالت سے رجوع کیا۔
انھوں نے بتایا کہ اگر ان کو اجازت نہیں دینی تھی تو وہ پہلے سے بتادیتے لیکن آخری موقع پر جاکر پارٹی کو پرامن جلسے کے انعقاد کی اجازت نہیں دی گئی جو کہ ان کے بقول ایک غیر آئینی اور غیر قانونی عمل ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما نے بتایا کہ اس جلسے کے لیے بلوچستان کے تمام اضلاع میں پارٹی کے کارکنوں اور عوام کو متحرک کیا گیا جس کے باعث بلوچستان بھر کے علاوہ کوئٹہ شہر سے کارکن نکلیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک پرامن جماعت ہیں اور ان کے بقول ہم کسی طرح نہیں چاہتے کہ حکومت کو 9 مئی کی طرح مبینہ طورپر کوئی فالس فلیگ آپریشن کرنے یا مریدکے کی طرح ہمارے کارکنوں پر گولیاں چلانے کا بہانہ ملے۔ تاہم پارٹی کارکنوں کے تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے پرامن احتجاج کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
افغان طالبان کا پاکستانی فورسز پر افغانستان کے علاقے سپن بولدک میں فائرنگ کرنے کا الزام
افغانستان نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے سپن بولدک پر فائرنگ کی ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان کے دعوے کو
مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ افغانستان کی طرف سے کی گئی تھی اور ہماری سکیورٹی
فورسز نے فوری طور پر اور ذمہ دارانہ اور نپے تلے انداز میں اس کا جواب دیا۔
پاکستان نے کہا ہے کہ جنگ بندی ابھی بھی نافذ ہے۔
اس سے قبل افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا تھا کہ استنبول میں جاری مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران آج سہ پہر پاکستانی فورسز نے ایک بار پھر قندھار کے ضلع سپن بولدک پر فائرنگ کی۔
انھوں نے کہا کہ اس حملے سے ’مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے‘۔
ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ’ابھی تک امارت اسلامیہ کی فورسز نے مذاکراتی ٹیم کے احترام اور شہریوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ یہ واضح رہے کہ مذاکرات کے گذشتہ دور کے دوران فریقین نے جنگ بندی میں توسیع اور کسی بھی جارحانہ کارروائی کو روکنے پر اتفاق کیا تھا۔
خیال رہے کہ اس وقت پاکستان اور افغانستان میں مذاکرات کا تیسرا دور ترکی اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں ہو رہا ہے۔ دونوں وفود گزشتہ روز استنبول پہنچے تھے۔
پاکستان میں فی تولہ سونا 3,700 روپے مہنگا ہونے کے بعد 4,23,062 روپے تک پہنچ گیا, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں جمعرات کے روز مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں فی تولہ سونا 3,700 روپے مہنگا ہوگیا۔
یہ اضافہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قدر میں اضافے کے باعث ریکارڈ کیا گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط سونے کی قیمت فی تولہ 4,23,062 روپے تک پہنچ گئی۔
اسی طرح 10 گرام سونا 3,122 روپے کے اضافے کے ساتھ 3,62,707 روپے کا ہوگیا۔
عالمی مارکیٹ میں سونا 37 ڈالر کے اضافے سے 4,007 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔
عمومی طور پر مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں 20 ڈالر کے پریمیم کے ساتھ ایڈجسٹ کی جاتی ہیں۔
چاندی کی قیمت میں بھی 90 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد فی تولہ چاندی 5,112 روپے کی ہوگئی۔
اسی طرح 10 گرام چاندی 77 روپے بڑھ کر 4,382 روپے تک جا پہنچی۔
طالبان کی طرف سے پابندی کے بعد افغانستان میں افیون کی فصل میں کمی واقع ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی رپورٹ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے کہا کہ 2022 میں طالبان حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندی کے بعد افغانستان میں افیون کی کاشت میں نمایاں کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم نے ایک سروے میں کہا کہ گذشتہ سال سے افیون پوست کی کاشت کے لیے زمین کے کل رقبے میں 20 فیصد کمی آئی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران افیون کی مقدار میں 32 فیصد کمی آئی ہے۔
افغانستان دنیا کی افیون کا 80 فیصد سے زیادہ پیداوار والا ملک ہے۔ افغان افیون سے بنی ہیروئن یورپ کی مارکیٹ کا 95 فیصد بنتی ہے۔
لیکن دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے
یہ کہتے ہوئے کہ افیون نقصان دہ ہے اور یہ ان کے مذہبی عقائد کے خلاف ہے اپریل 2022 میں اس کی کاشت پر پابندی عائد کر دی۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ زیادہ تر کسانوں نے ’شدید اقتصادی چیلنجوں‘ کے باوجود پابندی کی پابندی جاری رکھی۔
یو این او ڈی سی کے مطابق بہت سے افغان کسان اناج کی کٹائی کر رہے ہیں مگر پوست، جس سے افیون، منشیات ہیروئن کے لیے اہم جزو نکالا جا سکتا ہے۔۔ دوسری فصلوں کے مقابلے میں ’بہت زیادہ منافع بخش‘ ہے۔
یو این او ڈی سی منافع بخش متبادل فصلوں کی کمی، محدود زرعی پیداوار اور سنگین ماحولیاتی حالات کی وجہ سے 40 فیصد سے زیادہ زمین بنجر پڑی ہوئی ہے۔
اس سال افیون پوست کے زیر کاشت کل رقبہ کا تخمینہ 10,200 ہیکٹر لگایا گیا تھا، زیادہ تر ملک کے شمال مشرق میں یہ ہو رہا ہے اور صوبہ بدخشاں اس میں آگے آگے ہے۔
سنہ 2022 کی پابندی سے پہلے افغانستان میں 200,000 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر پوست کی کاشت ہو رہی تھی۔ سنہ 2024 میں افیون پوست کی کاشت والے چار صوبوں بلخ، فراہ، لغمان اور اروزگان کو 2025 میں افیون پوست سے پاک قرار دیا گیا۔
سروے میں کہا گیا کہ ’روایتی جگہوں سے کاشت کا قریب قریب خاتمہ افیون پوست کی کاشت پر پابندی کے پیمانے اور پائیداری کو ظاہر کرتا ہے۔‘
یو این او ڈی سی کے مطابق افیون کے کھیتوں کو تباہ کرنے کی طالبان کی کوششوں نے کبھی کبھار کسانوں کی طرف سے پرتشدد مزاحمت کو جنم دیا، خاص طور پر بدخشاں کے کئی اضلاع میں جھڑپوں کے دوران ہلاکتوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔
لیکن افغان کسانوں کی اکثریت طالبان کے سپریم لیڈر کی طرف سے جاری کردہ پابندی پر عمل پیرا ہے۔
تاہم، کسانوں کا کہنا ہے کہ انھیں متبادل فصلیں اگانے میں زیادہ مدد نہیں فراہم کی جا رہی ہے۔
نتیجتاً، انھیں غربت یا سزا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
صوبہ ہلمند کے ایک نامعلوم کسان نے اس موسم گرما میں بی بی سی پشتو کو بتایا کہ ’اگر ہم پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہیں، تو ہمیں جیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر پیسے نہیں ہیں تو پھر میں پوست کاشت کروں گا۔‘
ہلمند میں پوست کے کھیت اب نظر نہیں آتے لیکن وہ اب بھی موجود ہیں۔
ایک اور کسان نے دور دراز گاؤں میں اپنے گھر کے سامنے اپنے چھوٹے سے دیواروں والے پوست کے کھیت کے ارد گرد کا منظر دکھایا۔
وہ جیل کا خطرہ مول لے رہے ہیں، لیکن انھوں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔
انھوں نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ ’میں کیا کروں؟ میں یہ کرنے پر مجبور ہوں- میرے پاس اور کچھ نہیں ہے۔ میں اپنے گھر والوں کو کھانا بھی نہیں دے سکتا۔‘
یو این او ڈی سی کی رائے میں افیون کی کاشت میں میں کمی آ رہی ہے اور اس کی کاشب پر پابندی کے بعد سے مصنوعی ادویات جیسے میتھمفیٹامین کی سمگلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔
سنہ 2024 کے آخر میں افغانستان اور اس کے آس پاس اس طرح کی منشیات کی ضبطی گذشتہ برس کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ تھی۔
یو این او ڈی سی نے کہا کہ منظم جرائم کے گروہ مصنوعی ادویات کی حمایت کرتے ہیں جو پیدا کرنے میں آسان اور موسمیاتی سختیوں کے لیے کم خطرناک ہیں۔
سمندری طوفان کلمیگی نے ویتنام کا رخ کر لیا، متعدد ایئرپورٹ بند، سینکڑوں پروازیں متاثر
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنویتنام پہلے سے ہی ایک ہفتے سے شدید بارشوں اور سیلاب کی ذد میں ہے
سمندری طوفان کلمیگی فلپائن میں تباہی پھیلانے کے بعد اب ویتنام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ طوفان کے خدشے کے پیش نظر ویتنام کی حکومت نے ملک کے چھ ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن معطل کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ ویتنام پہلے سے ہی ایک ہفتے سے شدید بارشوں اور سیلاب کی ذد میں ہے۔
یاد رہے کہ سمندری طوفان کلمیگی سے فلپائن میں 114 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے جس کے بعد صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
ویتنام کی نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ایک حالیہ بیان کے مطابق سیلاب میں کم از کم 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ویتنام کی وزارت ماحولیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک لاکھ سے زیادہ گھر سیلاب میں ڈوب چکے ہیں اور 150 سے زیادہ لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات کی اطلاعات ہیں۔
صبح سے اب تک کی اہم خبروں کا خلاصہ
بی بی سی اردو کی لائیو کوریج کا سلسلہ جاری ہے تاہم جن لوگوں نے ابھی ہمارا ساتھ دینا شروع کیا ہے ان کے لیے یہاں آج کی اہم خبروں کا خلاصہ پیش خدمت ہے جس کے بعد خبروں کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے ایک تابوت ریڈ کراس کے حوالے کیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایک یرغمالی کی باقیات ہیں۔ان باقیات کو اسرائیلی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اسے شناخت کے لیے تل ابیب منتقل کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مئی میں ہونے والی جنگ کے دوران آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔
انڈین فوج کی ’وائٹ نائٹ کور‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ضلع کشتواڑ کے کالابن جنگلات میں بدھ کی صبح شروع ہونے والا آپریشن اب بھی جاری ہے اور اس دوران مسلح عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک پیرا کمانڈو زخمی ہو گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی وزارتِ جنگ کو نیوکلیئر تجربات شروع کرنے کے حکم کے بعد اب روسی وزیرِ دفاع کا بھی کہنا ہے کہ ماسکو کو بھی جوہری ہتھیاروں کی دوبارہ ٹیسٹنگ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
طالبان حکام نے بی بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ان کا وفد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ترکی کے شہر استنبول پہنچ گیا ہے۔ یاد رہے کہ قطر اور ترکی کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہونے کا امکان ہے۔
فلپائن میں سمندری طوفان کلمیگی کے نتیجے میں 114 افراد کی ہلاکت کے بعد صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔یہ اس سال فلپائن سے ٹکرانے والے سب سے طاقتور طوفانوں میں سے ایک ہے۔ طوفان کے نتیجے میں فلپائن کے سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے سیبو میں 71 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ حکام کے مطابق 127 افراد لاپتہ اور 82 زخمی ہیں۔
پاکستان، انڈیا کی جنگ میں آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مئی میں ہونے والی جنگ کے دوران آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے
کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مئی میں ہونے والی جنگ کے دوران آٹھ طیارے مار
گرائے گئے تھے۔
بدھ کے روز امریکہ کے شہر میامی میں امریکی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے امریکی
صدر کا کہنا تھا کہ اپنی دوسری دورِ صدارت کے ابتدائی آٹھ ، نو ماہ کے دوران انھوں
نے نہ صرف متعدد معاشی معاہدے کیے بلکہ آٹھ جنگیں بھی رکوائیں۔
’گذشتہ ہفتے ہم نے چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، گذشتہ ہفتے ہی ہم نے جاپان کے
ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا ہے۔ ملائیشیا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، انھوں نے ہماری بہت
مدد کی ہے۔ یہ سارے انتہائی زبردست معاشی معاہدے ہیں۔ یہ سب کے لیے بہترین ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ان آٹھ ماہ کے دوران میں نے آٹھ جنگیں ختم کروائی
ہیں۔‘
پاکستان اور انڈیا کے مابین مئی میں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے متعلق بات کرتے
ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان لڑائی شروع ہوئی تو اس وقت
وہ پاکستان اور انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنے والے تھے۔
’پھر میں نے ایک اخبار کے فرنٹ پیج پر پڑھا، میں اس اخبار کا نام نہیں لینا
چاہوں گا کیونکہ اس میں اکثر فیک نیوز ہوتی ہے، لیکن میں نے سنا کہ اُن کے درمیان
جنگ ہو رہی ہے، آٹھ طیارے، سات طیارے مار گرائے گئے تھے، آٹھواں بہت بری طرح سے
زخمی تھا۔ مگر آٹھ طیارے مار گرائے گئے تھے۔‘
تاہم امریکی صدر نے یہ واضح نہیں کیا کہ لڑائی کے دوران کس ملک کے کتنے طیاروں کا نقصان ہوا تھا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا، ’میں نے کہا یہ تو جنگ ہے، اور وہ لڑ رہے تھے، دو جوہری طاقتیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’میں نے کہا میں آپ کے ساتھ کوئی بھی تجارتی معاہدہ
نہیں کروں گا اگر امن کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ ’نہیں، نہیں، اس کا اُس سے کوئی تعلق
نہیں۔‘ میں نے کہا کہ اس کا اُس سے بالکل تعلق ہے، آپ دونوں جوہری ملک ہیں، میں آپ
کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کروں گا، کوئی ڈیل نہیں کروں گا، اگر آپ لوگ ایک دوسرے سے
لڑتے رہے۔‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایک دن بعد انھیں کال آئی کہ ’ہم امن کے لیے تیار
ہیں۔ وہ رک گئے۔‘
’میں نے کہا شکریہ، آئیے اب تجارت کرتے ہیں۔ ٹیرف نے یہ سب ممکن کیا، ٹیرف کے
بغیر یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد بار پاکستان اور انڈیا کے
درمیان جنگ رکوانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔
پاکستان مئی میں انڈیا کے ساتھ لڑائی رکوانے میں بطورِ
ثالث ٹرمپ کے کردار کا اعتراف کرتا آیا ہے اور پاکستان کی جانب سے امریکی صدر کو
نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرنا کا بھی کہا گیا ہے۔ تاہم، دوسری جانب انڈیا
امریکی صدر کے دعوؤں کی مسلسل تردید کرتا آیا ہے اور دعویٰ کرتا آیا ہے کہ پاکستان
کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتکاری کے
ذریعے ممکن ہوا تھا اور اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنگلات میں آپریشن، انڈین فوج کا کمانڈو زخمی, ریاض مسرور، بی بی سی اردو، سری نگر
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
انڈین فوج کی ’وائٹ نائٹ کور‘ کی جانب سے جاری ایک بیان میں
کہا گیا ہے کہ ضلع کشتواڑ کے کالابن جنگلات میں بدھ کی صبح شروع ہونے والا آپریشن اب
بھی جاری ہے اور اس دوران مسلح عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ایک پیرا کمانڈو زخمی
ہو گیا ہے۔
اترپردیش سے تعلق رکھنے والے کمانڈو کپِل کمار کو اودھمپور
کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
انڈین فوج کے مطابق، کشتواڑ کے جنگلاتی علاقوں میں مبینہ پاکستانی
عسکریت پسندوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع پر بدھ کی صبح تلاشی مہم شروع کی
گئی تھی۔ آپریشن میں فوج کے علاوہ جموں کشمیر پولیس کا سپیشل آپریشن گروپ (ایس او
جی) اور نیم فوجی سینٹرل ریزروڈ آرمڈ فورس کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔
آپریشن میں شامل ایک پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا، ’کشتواڑ
کے جنگلاتی علاقوں میں جو عسکریت پسند چھپے ہیں انھیں تکنیکی طور پر ٹریس کرنے کی
کوشش کی جارہی ہے، لیکن گھنے جنگلات اور دشوارگزار پہاڑی درّوں کی وجہ سے اس میں
مشکلات پیش آ رہی ہیں۔‘
فوج کا کہنا ہے کہ کالابن جنگل میں دو سے تین مسلح عسکریت
پسند چھپے ہوئے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رواں سال اپریل سے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مخلف علاقوں میں
انڈین فوسز کی جانب سے اس ہی طرز کے متعدد آپریشن کیا جا چکے ہیں۔
اپریل میں ایسے
ہی ایک آپریشن میں کشتواڑ کے جنگلوں میں تین عسکریت پسندوں کا ہلاک کرنے کا دعویٰ
کیا گیا تھا۔ مئی میں کشتواڑ کے ہی چھاتروں گاوٴں کے سنگھ پورہ جنگلات میں جھڑپ کے
دوران ایک فوجی اور دو عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ جولائی اور اگست میں چھاترو اور
ڈُول کے علاقوں میں بھی جھڑپیں ہوئیں لیکن عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے
تھے۔
ستمبر میں کالابن جنگلات کے قریب بھی ایک جھڑپ میں دو فوجی
ہلاک ہو گئے تھے۔
ایک فوجی افسر نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدت پسندوں نے
حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اکثر شدت پسند پاکستان سے آتے ہیں اور جنگل وارفئیر میں
تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ لیکن ہم جدید ترین
ٹیکنالوجی، ڈرونز اور نائٹ وِژن آلات کا استعمال کر کے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے
ہیں۔‘
گذشتہ سال انڈین فوج کی جانب
سے جاری اعداد و شمار جاری کے مطابق 2021 سے 2024 تک انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہوئی جھڑپوں کے
دوران 119 فوجی اور نیم فوجی اہلکار مارے گئے جن میں کئی افسر
بھی شامل ہیں۔ فوج کے مطابق، ان میں سے 40 فی صد ہلاکتیں جموں کے ڈوڈہ، کشتواڑ، راجوری اور پونچھ
اضلاع میں ہوئی ہیں۔ انڈین فوج کی جانب سے جاری ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے
کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں عسکریت پسندی کی لہر وادی سے جموں منتقل ہو گئی
ہے۔
حماس کا ایک اور یرغمالی کی باقیات واپس کرنے کا دعویٰ، خان یونس پر اسرائیل کی گولہ باری
،تصویر کا ذریعہReuters
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے ایک تابوت ریڈ کراس کے حوالے کیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں ایک یرغمالی کی باقیات ہیں۔
ان باقیات کو اسرائیلی فورسز کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اسے شناخت کے لیے تل ابیب منتقل کریں گے۔
گذشتہ ماہ امریکی ثالثی میں ہونے والے غزہ امن معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت حماس نے 72 گھنٹوں کے اندر 20 زندہ یرغمالیوں اور 28 دیگر یرغمالیوں کی باقیات واپس کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
اسرائیل نے حماس پر یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرنے میں جان بوجھ کر دیر کرنے کا الزام لگایا ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہونے والی تباہی کے باعث اسے یرغمالیوں کی باقیات تلاش کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اگر بدھ کے روز حماس کی جانب سے واپس کی جانے والی باقیات کے بارے میں تصدیق ہو جاتی ہے کہ یہ یرغمالیوں میں سے ایک کی ہے تو پھر حماس کے پاس چھ یرغمالیوں کے لاشیں رہ جائیں گی۔
دوسری جانب فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ جنوبی غزہ میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں پر اسرائیل نے توپ خانے کا استعمال کرتے ہوئے گولہ باری کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے دو فلسطینیوں کو نشانہ بنایا ہے جو اس کے زیرقبضہ علاقے میں ایسے داخل ہوئے تھے جس سے ان کو خطرہ لاحق ہوا تھا۔
غزہ میں وزارتِ صحت کے حکام نے بتایا ہے اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی شخص ہلاک ہوا ہے جو لکڑیاں اکٹھا کر رہا تھا۔
فلپائن میں سمندری طوفان سے 114 افراد ہلاک، صدر نے ملک کو آفت زدہ قرار دے دیا
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فلپائن میں سمندری طوفان کلمیگی کے نتیجے میں 114 افراد کی
ہلاکت کے بعد صدر فرڈیننڈ مارکوس جونیئر نے ملک کو آفت زدہ قرار دے دیا ہے۔
یہ اس سال فلپائن سے ٹکرانے والے سب سے طاقتور طوفانوں میں
سے ایک ہے۔ طوفان کے نتیجے میں فلپائن کے سب سے زیادہ آبادی والے جزیرے سیبو میں
71 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ حکام کے مطابق 127 افراد لاپتہ اور 82 زخمی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ سیبو
کے سیبو کے صوبائی حکام نے مزید 28 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے لیکن نیشنل
سیول ڈیفینس کے دفتر نے انھیں طوفان سے ہونے والی کل اموات میں شامل نہیں کیا ہے۔
جمعرات کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے صدر مارکوس جونیئر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ملک کو آفت زدہ قرار دینے کا فیصلہ ٹائفون کلمیگی سے ہونے والے نقصانات کے ساتھ ساتھ ایک اور طوفان اوان کی پیش گوئی کی وجہ سے کیا ہے جو ہفتے کے آخر میں فلپائن ٹکرا سکتا ہے۔
جمعرات کی صبح طوفان
فلپائن سے نکل کر وسطی ویتنام کی جانب بڑھ گیا ہے۔ طوفان کی شدت میں اضافہ ہو رہا
ہے اور وہ جمعے کے روز وسطی ویتنام سے ٹکرائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری تجربوں کے اعلان کے بعد روسی وزیرِ دفاع کا پوتن کو نیوکلیئر ٹیسٹنگ کی تیاری شروع کرنے کا مشورہ
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی وزارتِ جنگ کو
نیوکلیئر تجربات شروع کرنے کے حکم کے بعد اب روسی وزیرِ دفاع کا بھی کہنا
ہے کہ ماسکو کو بھی جوہری ہتھیاروں کی دوبارہ ٹیسٹنگ کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
وزیر دفاع آندرے بیلوسوف
نے روسی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول
کے معاہدوں سے دستبردار ہو رہا ہے، ایک نیا سینٹینیل بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے
اور مستقبل میں جوہری تجربے دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
’ان سب باتوں پر غور کرتے ہوئے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں بھی فوری طور
پر جوہری تجربات کے لیے تیاریاں شروع کر دینی چاہیے۔‘
روسی وزیرِ دفاع کا
کہنا تھا کہ نووایا زیملیا جزیرے پر واقع سینٹرل ٹیسٹ سائٹ پر تعینات فورسز اور اثاثوں
کے باعث روس انتہائی مختصر مدت میں تجربے دوبارہ شروع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیرِ دفاع کے
مشورے پر روسی صدر صدر ولادیمیر پوتن نے وزارت خارجہ، وزارت دفاع، سپیشل فورسز اور
متعلقہ سویلین ایجنسیوں کو اس معاملے پر اضافی معلومات اکٹھا کرنے کی
ہدایت کرتے ہوئے اس کا سلامتی کونسل کی سطح پر جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔
روسی صدر نے ہدایت
کی کہ جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے مربوط تجاویز پیش کی جائیں۔
یاد رہے کہ اکتوبر
کے اواخر میں امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری تجربات کرنے کا اعلان کیا تھا جسے ممکنہ طور پر امریکہ کی
قومی سلامتی پالیسی میں انتہائی اہم تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا سائٹ
ٹروتھ سوشل پر صدر ٹرمپ نے لکھا کہ ’کیونکہ دیگر ممالک بھی اپنے پروگرامز (جوہری ہتھیاروں) کے تجربے کرتے
ہیں، اس لیے میں نے امریکہ کے محکمہ جنگ (سابقہ وزارت دفاع) کو برابری کی بنیاد پر
جوہری ہتھیاروں کے تجربے شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔‘
اس کے چند روز بعد
ہی انھوں نے بی بی سی کے امریکہ میں پارٹنر ’سی بی
ایس نیوز‘ کے پروگرام ’60 منٹس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ کئی ممالک
بشمول پاکستان، روس، چین اور شمالی کوریا بھی جوہری تجربات کرتے ہیں۔
انٹرویو کے دوران صدر
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’روس تجربے کر رہا ہے اور چین بھی، لیکن وہ اس بارے میں بات
نہیں کرتے۔‘
امریکی صدر کا
کہنا تھا کہ ’ہم بھی تجربے کریں گے کیونکہ وہ ٹیسٹ کرتے ہیں اور دیگر بھی کرتے ہیں۔
اور یقینی طور پر شمالی کوریا بھی تجربے کر رہا ہے، پاکستان تجربے کر رہا ہے۔‘
افغانستان، پاکستان امن مذاکرات کا تیسرا دور: طالبان کا وفد استنبول پہنچ گیا
،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images
طالبان حکام نے بی
بی سی پشتو کو بتایا ہے کہ ان کا وفد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے ترکی کے شہر استنبول
پہنچ گیا ہے۔
قطر اور ترکی کی ثالثی
میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا دور آج سے شروع ہونے کا امکان
ہے۔
طالبان حکومت کے ایک
ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق،
نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین کے
علاوہ انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا پاکستانی وفد مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے استنبول پہنچ چکا ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ
ہفتے استنبول میں ہی ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور کے اختتام پر پاکستان اور
افغان طالبان میں جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق ہوا تھا۔
استنبول مذاکرات
کے بعد ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ فریقین
نے جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کے نفاذ کے قواعد و ضوابط 6 نومبر
سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے کیے جائیں گے۔
فریقین نے جنگ
بندی پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تصدیق کا ایک مشترکہ نظام تشکیل
دینے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر
جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔
مذاکرات کے بعد
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا کہ استنبول مذاکرات میں طے پایا
ہے کہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت قیام امن اور شدت پسندی کے خاتمے کے
لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے جبکہ خلاف ورزی کرنے والے فریق پر سزا عائد ہو گی۔
جنگ بندی پر
عملدرآمد کی خلاف ورزی پر مشترکہ اعلامیے میں جس جرمانے کا ذکر کیا گیا ہے اس کے
بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’دوست ممالک نے ضمانت دی ہے۔۔۔ یہ (سزا) مشترکہ طور پر
طے کیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ
ویریفیکیشن کا سسٹم شامل کیا گیا ہے جس کا مطلب ہے کہ مشترکہ مانیٹرنگ اور
ویریفیکیشن کے ذریعے یقینی بنایا جائے گا کہ ’خلاف ورزی کرنے والے فریق پر نہ صرف
سزا عائد ہو بلکہ اسے شدت پسند گروہوں کے خلاف واضح اور موثر کارروائی عمل میں
لانا ہو گی۔‘
خیال رہے کہ رواں ماہ پاکستان اور افغانستان کے
مابین شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک نے عارضی طور جنگ بندی پر اتفاق کیا
تھا اور پھر مذاکرات کے پہلا دور قطر میں ہوا تھا جس میں دونوں ممالک نے جنگ بندی
توسیع اور دیر پا امن کے قیام کے لیے دوسرے مرحلے کے مذاکرات کا اعلان کیا تھا۔
اسحاق ڈار کا امیر متقی کے چھ مرتبہ فون کال کرنے کا بیان ’حقائق کے منافی‘ ہے: افغان وزارت خارجہ
،تصویر کا ذریعہReuters/EPA
افغانستان کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر حافظ ضیا احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی کے حوالے سے دیے گئے حالیہ بیانات حقائق کے برعکس ہیں۔
حافظ ضیا احمد نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ ’پاکستان کے وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی نے ان سے ایک دن میں چھ بار رابطہ کیا، ان کا یہ بیان غلط اور غیر حقیقی ہے۔‘
یاد رہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منگل کے روز ایوان بالا سے خطاب میں کہا تھا کہ ’ہمارے مسائل ہیں 2012 سے بھی زیادہ بڑھ گئے ہیں، مجھے متقی صاحب کی کُل چھ مرتبہ کال آئی، میں نے کہا ہمیں آپ سے صرف ایک چیز چاہئے کہ آپ کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔‘
بدھ کے روز اسحاق ڈار کے اس بیان کے جواب میں افغانستان کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر حافظ ضیا نے دعویٰ کیا کہ درحقیقت دونوں فریقوں کے درمیان پہلا ٹیلیفون رابطہ باہمی افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کے مقصد سے ہوا تھا۔
انھوں نے لکھا کہ ’اسلامی جمہوریہ کی وزارت خارجہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور حقائق پر مبنی روابط ہیں۔ لہٰذا ایسے غلط بیانات دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور سفارتی طرز عمل کی روح کے خلاف ہیں۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’امارت اسلامیہ نے ہمیشہ پڑوسی ممالک کے ساتھ احترام، افہام و تفہیم اور تعمیری تعاون کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان امید کرتا ہے کہ پاکستانی حکومت کے اعلیٰ حکام اپنے سرکاری بیانات دیتے وقت حقائق کو درست طریقے سے پیش کرنے پر خصوصی توجہ دیں گے۔‘
امریکہ میں شٹ ڈاؤن میئر کے انتخاب میں شکست کی بڑی وجہ، ڈیموکریٹس اقتدار میں آئے ہیں تو ’بہت خراب صورتحال‘ ہو گی: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہWhite house
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیٹرز کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس اقتدار میں آتے ہیں تو ’یہ بہت خراب صورتحال ہو گی۔‘
ٹرمپ کے مطابق میئر کا انتخاب جمہوری تھا تاہم یہ ریپبلکنز کے لیے یہ قطعاً اچھا نہیں رہا۔
واضح رہے کہ امریکی شہر نیویارک میں میئر کے انتخاب میں ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ 34 سالہ زہران ممدانی کی جیت کو ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جن کی دوسری مدت صدارت کے آغاز سے اب تک یہ سب سے اہم انتخاب ہیں۔
اپنی گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو حکومتی شٹ ڈاؤن کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ امریکہ میں شٹ ڈاؤن میئر کے انتخابات میں شکست کی بڑی وجہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم اکتوبر کو شروع ہونے والا شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا سب سے طویل ترین شٹ ڈاؤن ہے۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سینیٹ میں ’قدامت پسند ڈیموکریٹ‘ اراکین نے حکومتی شٹ ڈاؤن ختم کرنے میں ’صفر دلچسپی‘ ظاہر کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اس وقت طویل ترین شٹ ڈاؤن کا سامنا کررہے ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ یہ جلد ختم ہو جائے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اب ہم ایسی قانون سازی کرنے جارہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں
34 سالہ ڈیموکریٹ امیدوار زہران ممدانی نیو یارک کے میئر کا الیکشن جیت گئے ہیں۔ وہ 100 سال سے بھی زائد عرصے میں شہر کے سب سے کم عمر میئر اور اس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کو پاکستان اور قطر کے درمیان دفاع اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی پیشکش کی ہے۔
امریکی ریاست کینٹکی کے لوئی ول کے ایئرپورٹ سے اڑان بھرتے ہوئے کوریئر کمپنی یو پی ایس کا کارگو طیارہ گر کر تباہ ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
فلپائن میں حکام کا کہنا ہے کہ اس سال آنے والے اب تک کے سب سے طاقتور طوفان کے نتیجے میں 85 سے زائد افراد ہلاک جبکہ لاکھوں افراد اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوں کے متعلق جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔