ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ
ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے ’بارودی
سرنگیں مکمل طور پر صاف کرنے‘ کے دعوے
پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر
امریکہ نے واقعی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں تو پھر اب تک کوئی جہاز آبنائے ہرمز سے
کیوں نہیں گزر پا رہا؟‘
کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکی دعوے ’محض پروپیگنڈا پر مبنی جھوٹ ہیں۔‘
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکی
بارودی سرنگیں صاف کرنے والے جہاز اس علاقے میں داخل ہوتے ہیں تو وہ ایران لیے بہترین
اہداف ہوں گے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عمان کے
وزیر خارجہ نے تہران کا دورہ کیا ہے اور دونوں خلیجی ملکوں کے درمیان آبنائے ہرمز
میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے ایک راہداری قائم کرنے کے معاملے پر تقریباً اتفاقِ
رائے ہو گیا ہے۔
کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ اگر تہران اور مسقط کے درمیان معاہدہ
حتمی شکل اختیار کر بھی لیتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آبنائے ہرمز کل ہی کھل
جائے گی۔
ایران- عمان معاہدے میں کیا شامل ہے؟
انھوں نے عمان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے متعلق تفصیلات فراہم کرتے
ہوئے کہا کہ ’اس معاہدے
کے تحت خلیج فارس میں داخلے کا راستہ ایرانی پانیوں سے ہو گا جبکہ باہر نکلنے کا
راستہ عمان کی سمندری حدود سے گزرے گا، اور دونوں سمتوں میں جہاز ایرانی پانیوں سے
گزریں گے۔‘
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ کا
کہنا ہے کہ یہ راستہ ’آنے جانے
والی دو رویہ شاہراہ‘ کی طرح ہو گا جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً سات میل ہو گی۔
تاہم انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور عمان کے درمیان طے پانے
والا یہ راستہ ’عارضی‘
ہے اور دونوں ممالک ایک نیا مستقل راستہ طے کرنے کے لیے 30 سے 60 دن کے اندر
مذاکرات کریں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کے مطابق اس معاہدے کے بعد ’آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ بند کر
دیا جائے گا۔‘ عمان بھی اس راستے کی بندش سے متفق ہے اور اس معاملے سے بین
الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کو آگاہ کیا جائے گا۔
غریب آبادی نے کہا کہ اگر حتمی مذاکرات کے لیے مقررہ 30 سے 60 دن کی
مدت کے اختتام پر ’ایران کے
مطالبات پورے نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز بند ہی رہے گی۔‘