فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے کے غزہ میں کام کرنے پر پابندی: ’ہم آٹے کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟‘

اقوامِ متحدہ کے فلسظینی پناہ گزینوں کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے لگائی جانے والے پابندی کی مثال نہیں ملتی اور یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتی ہے۔

خلاصہ

  • آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان سے اسرائیل پر 50 راکٹ داغے گئے ہیں۔
  • لبنان اور غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 120 ہو گئی۔
  • حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ غزہ کے کمال ادوان ہسپتال میں اسرائیلی فوجی کی کارروائی کے بعد ہسپتال میں اب بس ایک ہی ڈاکٹر باقی رہ گئے ہیں۔
  • اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی تنظیم پر پابندی کا فیصلہ
  • پاکستان تحریک انصاف نے پیر کے روز مخصوص نشستوں کے فیصلے میں عمل درآمد نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔
  • سوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 201 پوائنٹس اضافے کے بعد 90 ہزار 195 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
  • اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ایک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے چھ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

لائیو کوریج

  1. اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کی تنظیم پر پابندی کا فیصلہ

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل کی پارلیمنٹ نے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے (انروا) کو اسرائیل اور اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی یروشلم میں کام کرنے سے روکنے کے لیے تین ماہ کے اندر قانون سازی کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    انروا کے ملازمین اور اسرائیلی حکام کے درمیان رابطوں پر بھی پابندی ہوگی جس سے ایجنسی کی غزہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے میں خدمات محدود ہوجائیں گی۔

    غزہ میں داخل ہونے والی تمام گزرگاہوں کو کنٹرول کرنے والی اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون انروا کے لیے ضروری ہے تاکہ جنگ زدہ علاقے میں امداد کی منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انروا کے عملے کو اب اسرائیل کے اندر قانونی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا اور مشرقی یروشلم میں ایجنسی کا مرکزی دفتر بھی بند کر دیا جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ ان قوانین پر عمل درآمد ’اسرائیل فلسطین تنازعے کے حل اور مجموعی طور پر خطے میں امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا ہوگا۔‘

    جبکہ اقوام متحدہ کے سربراہ فلپ لازارانی کا کہنا ہے کہ ’اس سے فلسطینیوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہوگا۔‘

    امریکہ، برطانیہ اور جرمنی سمیت متعدد ممالک نے اسرائیلی اتظامیہ کے اس اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    Gaza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اسے ’مکمل طور پر غلط اور غیر مناسب‘ قرار دیا جبکہ وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ان قوانین سے فلسطینیوں کے لیے انروا کی امدادی کارروائیوں میں خلل پڑے گا، جس سے غزہ میں بین الاقوامی سطح پر آنے والی امداد اور اس کی متاثریں تک رسائی خطرے میں پڑ جائے گی۔‘

    امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انروا نے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کی تقسیم میں ’اہم‘ کردار ادا کیا ہے۔ 20 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل علاقے کی تقریباً تمام آبادی کا انحصار ایجنسی کی جانب سے فراہم کی جانے والی امداد پر ہے۔‘

    اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ’اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث انروا کارکنوں کا احتساب کیا جانا چاہئے۔‘

    ان کی جانب سے ایک پر جاری ہونے والے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اسرائیل غزہ میں شہریوں کو ایسی انسانی امداد کی فراہمی جاری رکھی جائے جس سے اسرائیل کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہ ہو۔‘

    اسرائیل کئی دہائیوں سے انروا پر اعتراض کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس مخالفت میں شدت آئی ہے۔

    اسرائیل کی جانب سے انروا پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ’اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں انروا کے 19 کارکنوں شامل تھے۔‘

    جس کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل کے اس دعوے کی تحقیقات کرنے کے بعد نو اہلکاروں کو برطرف کر دیا، لیکن امدادی ادارے کی جانب سے کہا گیا کہ ’اسرائیل نے انروا پر لگائے جانے والے الزمات سے متعلق ثبوت فراہم نہیں کیے۔

  2. پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی

    Pakistan

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف نے پیر کے روز مخصوص نشستوں کے فیصلے میں عمل درآمد نہ ہونے پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

    درخواست پی ٹی آئی کے وکلا رہنما سلمان اکرم راجا کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں الیکشن کمیشن کے ممبران کو فریق بنایا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فوری فیصلے پر عمل درآمد کا حکم دیا جائے، کمیشن ممبران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور اسی کے ساتھ ساتھ فریقین کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت دی جائے۔

    اس عدالتی فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن نے نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے جو ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئی۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا تھا کہ الیکشن کمیشن رواں برس فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس کا یکم مارچ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

    تحریری فیصلے میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے یکم مارچ کے فیصلے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے۔

    یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے یکم مارچ کو یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اگر کسی جماعت کے پاس انتخابی نشان نہیں ہے تو پھر وہ مخصوص نشستوں کی اہل نہیں رہتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں دینے سے متعلق اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ عوام کی خواہش ہی جمہوری آئین کا بنیادی وصف ہے جبکہ صاف اور شفاف انتخابات جمہوریت کی بنیاد ہیں۔

    تفصیلی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے اُن سے 12 جولائی کے مختصر حکمنامے پر وضاحت کے لیے رجوع کیا تھا اور چونکہ اس حکمنامے میں یہ درج تھا کہ اگر کسی کو کوئی وضاحت درکار ہو تو وہ طلب کر سکتا ہے اور اس وجہ سے سپریم کورٹ نے بغیر کوئی نوٹس جاری کیے، مختصر حکمنامے پر اپنی وضاحت جاری کی۔

  3. پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان سٹاک ایکسچینج

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    سوموار کے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس کاروبار کے اختتام پر 201 پوائنٹس اضافے کے بعد 90 ہزار 195 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

    یہ ملک کی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

    گذشتہ ہفتے بھی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ ملکی معیشت میں آتی بہتری بتائی جاتی ہے۔

    تجزیہ کار طاہر عباس کا کہنا ہے کہ ملک میں شرح سود میں ہونے والی کمی اور مرکزی بینک کی جانب سے اس میں مزید کمی کے امکان نے مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو فروغ دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی کی وجہ سے بینکوں سے فکسڈ انکم پر ملنے والے منافعے میں کمی آئی ہے جس کے باعث یہ سرمایہ اس وقت سٹاک مارکیٹ کی جانب آرہا ہے۔

  4. کار سرکار میں مداخلت کے الزام میں انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر گرفتار

    ایمان مزاری

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    پاکستان تحریکِ انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کی بیٹی اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو اسلام اباد میں گرفتار کی لیا گیا ہے۔ ایمان مزاری کو دارالحکومت میں آبپارہ پولیس نے گرفتار کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ’ایمان مزاری اور ان کے شوہر نے روٹ کی خلاف ورزی کی۔ ایمان مزاری کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو دھکے بھی دیے گئے۔ دونوں میاں بیوی بیرئیرز ہٹاتے ہوئے موقع سے فرار ہوگئے تھے ایمان مزاری کے شوہر کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو گالیاں بھی دی گئیں۔‘

    اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھے۔

    سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کی ایک شاہراہ پر پولیس نے رکاوٹیں لگا کر ٹریفک کو روک رکھا ہے۔ جس کے بعد ایمان مزاری اور ان کے شوہررکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    پولیس اہلکاروں کے منع کرنے پر وہ ان سے کہتی ہیں کہ ’ہمیں کورٹ پہنچنا ہے ہمیں جانے دو۔ راستے کھولو‘۔

    اس پر پولیس اہلکار انھیں بتاتے ہیں کہ غیر ملکی کرکٹ ٹیم نے وہاں سے گزرنا ہے جس کی وجہ سے روٹ لگایا گیا ہے اور کچھ دیر میں راستہ کھول دیا جائے گا۔

    تاہم ایمان مزاری اور ان کے شوہر مشتعل ہو جاتے ہیں اور مسلسل رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہاں کھڑے لوگوں سے کہتے ہیں یہ آپ کی سٹرکیں ہیں آگے جائیے۔ اس دوران ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے رکاوٹیں واپس رکھنے کے دوران ایمان مزاری کے شوہر اور اہلکاروں میں تھوڑی دھکم پیل ہوتی اور ایمان مزاری کے شوہر نے نامناسب الفاط کا استعمال کیا۔

    کچھ دیر یہ مباحثہ ہوتا رہتا ہے تاہم اسی اثنا میں ٹریفک کھل گئی اور گاڑیاں رواں دوران ہو گئیں۔

  5. ایران کے خلاف اسرائیلی حملے پر تبادلہِ خیال کے لیے اقوامِ متحدہ کا اجلاس آج ہوگا

    اقوامِ متحدہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سوئٹزرلینڈ کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز ایک اجلاس منعقد کرے گی جس میں ایران پر اسرائیلی حملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ایران کی درخواست پر الجزائر، چین اور روس کی حمایت کے بعد بلایا گیا ہے۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سلامتی کونسل کو لکھے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور پہلے سے ہی نازک صورتحال سے دوچار خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق مناسب وقت پر ان مجرمانہ حملوں کا قانونی اور قانونی جواب دینے کا اپنا بنیادی حق محفوظ رکھتا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے درجنوں جنگی طیاروں نے تہران کے قریب اور مغربی ایران میں میزائل بنانے والی تنصیبات اور دیگر مقامات پر سنیچر کی علی الصبح تین حملے کیے تھے۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کے صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا تھا کہ اس حملوں سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا تاہم اس کے کم از کم چار فوجی ان حملوں میں ہلک ہوئے ہیں۔

  6. جن چار ارکان کی پی ٹی آئی کے ارکان نے نشاندہی کی وہ الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے مطابق آزاد امیدوار ہیں: ایاز صادق

    سپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ایاز صادق

    ،تصویر کا ذریعہ@NAofPakistan

    سپیکر قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ایاز صادق نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کے دوران جن چار ارکان کی ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق پی ٹی آئی کے ارکان نے نشاندہی کی، وہ چاروں ارکان الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے مطابق آزاد امیدوار ہیں۔

    جیو نیوز کے پروگرام جرگہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر جماعت کا اپنا سٹینڈ ہوتا ہے، ووٹ جس روز تھا اس روز ہم نے دیکھا کہ پیپلز پارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم، باپ پارٹی، ق لیگ اور مولانا صاحب نے ووٹ کیا۔

    ایاز صادق کے مطابق عادل بازائی، جو کوئٹہ سے جیتے تھے، آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر ن لیگ میں شامل ہوگئے، لیکن عادل بازائی کمیٹی سے چیئرمین شپ مانگ رہے تھے، اپوزیشن میں بیٹھ رہے تھے۔

    ’بجٹ سیشن میں عادل بازائی نے ووٹ نہیں کیا تھا، انھوں نے ترمیم پر بھی ووٹ نہیں دیا، کسی بھی پارٹی کو ترمیم کے حق میں ووٹ کرنے والوں پر اعتراض ہوگا تو ریفرنس کرسکتے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے دوران پی ٹی آئی نے ترمیم کے حق میں ووٹ دینے والے اراکین قومی اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ بنیادی طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے جن اراکین نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا وہ ارکان پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہیں گے۔ اس حوالے سے پہلے اسپیکر کو ایک ریفرنس بھیجا جائے گا اور پھر ان کے خلاف الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پانچ اور ممبران نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، خالد مگسی نے بھی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، ترمیم پر سارے ایم این ایز نے مل کر مشاورت کی۔

    انھوں نے کہا کہ آئین میں موجود ہے، آئین میں ترمیم کسی کورٹ میں چیلنج نہیں ہوسکتی، میرا نہیں خیال یہ چیزیں کورٹ سے ان ڈو ہوسکتی ہیں، فرض کرلیں کہ پی ٹی آئی سب کچھ ٹیک اوور کرلیتی ہے، کیا اس طرح حکومت تبدیل ہوسکتی ہے؟

    ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’الزام لگایا جاتا ہے کہ اسمبلی میں ایجنسیز کے لوگ گھوم رہے ہیں، جبکہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسمبلی میں کوئی ایجنسی کے لوگ نہیں ہوتے۔‘

    ایک سوال کے جوب میں ایاز صادق نے کہا کہ ایم کیوایم والے اچھے پارلیمنٹرینز ہیں، ایم کیو ایم نے دیکھا کہ ترمیم میں سب کا فائدہ ہے، وہ لوگ لیس ڈیمانڈنگ ہیں، قانون سازی میں ایم کیو ایم والے کافی اچھا کام اور محنت کرتے ہیں۔

    انھوں نے دعوی کیا کہ بطورسپیکر کوئی متنازع بیان نہیں دینا چاہتا، حکومت اور اپوزیشن کو بولنے کا بھرپور موقع دیا، میرے ووٹ کی ضرورت نہیں پڑی۔

    انھوں نے بتایا کہ ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے، امریکہ میں ججز کی تعیناتی کے لیے باقاعدہ سماعتیں ہوتی ہیں، اگر پارلیمنٹ آئین بنا سکتی ہے تو جن کو آئین کی تشریح کرنی ہے ان کی تعیناتی نہیں کرسکتی؟ کیا سپریم کورٹ کو اجازت ہے کہ آئین کو ری رائٹ کرلے؟

    ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو ججز کی تعیناتی کا اختیار کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ یہ ایک ڈیبیٹ ہے جو چلتی رہے گی۔

  7. غزہ میں سکول کی عمارت میں قائم پناہ گاہ پر اسرائیل کا حملہ، متعدد افراد ہلاک

    غزہ کے الشطی کیمپ پر اسرائیلی حملے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    غزہ کے الشطی کیمپ میں سکول میں بے گھر افراد کے لیے بنائی گئی پناہ گاہ پر اسرائیلی حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    غزہ میں حماس کے زیر انتظام چلنے والے سول ڈیفنس ایجنسی نے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام کے ذریعے ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے کئی افراد مل گئے ہیں جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا اور روئٹرز کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین مقامی صحافی بھی شامل ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    غزہ کا پناہ گزین کیمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر اموات پر تشویش کا اظہار

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے شمالی غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سیکریٹری جنرل کی جانب سے جاری بیان میں غزہ میں ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے شہریوں اور ان بیمار اور زخمی افراد کا حوالہ دیا گیا ہے جنھیں جان بچانے کے لیے ضروری صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی غزہ میں لوگوں کو خوراک اور رہائش کی قلت کا سامنا ہے۔

    گوتریس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بیشتر امداد سامان کی فراہمی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ تاہم اسرائیل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر غزہ میں فوری جنگ بندی اور یرغمالیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  8. گزشتہ 24 گھنٹوں کی اہم خبروں کے چیدہ چیدہ نکات

    آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہTabnak

    ،تصویر کا کیپشناسرائیلی حملے کو نہ بڑھاوا دیا جائے نہ حقیر سمجھا جائے: آیت اللہ خامنہ ای

    بی بی سی اردو کے نئے لائیو پیج میں سب سے پہلے ہم آپ کو گزشتہ روز کی اہم حبروں کی یاد دہانی کرواتے چلیں۔

    اسرائیلی فوجی اڈے کے قریب ٹرک کی بس سٹاپ سے ٹکر، درجنوں زخمی

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے مضافات میں فوجی اڈے کے نزدیک ایک ٹرک کے بس سٹاپ سے ٹکرانے کے باعث درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں سے چھ کی حالت تشویوشناک بتائی جا رہی ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے تاہم مقامی میڈیا اسے ایک ممکنہ حملہ قرار دے رہا ہے۔ مقامی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں موجود مسلح شہریوں نے ٹرک ڈرائیور کو اس وقت گولی ماری جب اس نے اپنا ٹرک جان بوجھ کر لوگوں سے ٹکرا دیا۔

    اسرائیلی حملے کو نہ بڑھاوا دیا جائے نہ حقیر سمجھا جائے: آیت اللہ خامنہ ای

    ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ ’دو روز قبل ہونے والے صیہونی حکومت کے حملے کو نہ تو بڑھاوا دیا جائے اور نہ ہی حقیر سمجھا جائے۔‘

    ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کا یہ پہلا بیان اتوار کے روزسامنے آیا ہے۔

    اسرائیلی حملے پر ایران کے ممکنہ ردعمل کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا، حکام صیہونی حکومت کے لیے ایرانی قوم کے جذبات کو تسلیم کریں اور وہ قدم اٹھائیں جو اس قوم اور ملک کے لیے بہتر ہو۔

    نان فائلرز گاڑیاں اور جائیداد نہیں خرید سکیں گے : وفاقی وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’ پائیدار معاشی ترقی کے لیے طویل المدتی پروگرام پر کام کر رہے ہیں۔ ٹیکس کے لیے کسی کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ نان فائلر سے متعلق ہمیں قانونی کور کی ضرورت ہے، ہم نان فائلر کی اصطلاح ہی ختم کررہے ہیں۔‘

    واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ’ نان فائلر افراد گاڑیاں اور جائیدادیں نہیں خرید سکیں گے۔

    اسرائیلی حملے کے بعد ایران میں ’نظامِ زندگی معمول کے مطابق چل رہا ہے‘

    جمعے اور ہفتےکی درمیانی شب اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد ایرانی میڈیا اور نیوز چینلز پر پیغام کے مطابق وہاں زندگی معمول کی طرف لوٹ آئی ہے۔

    ایرانی میڈیا پر شہروں اور تیل کی تنصیبات کی تصاویر دکھائی جا رہی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اسرائیل کے حملے کو نہ صرف دبانا چاہتی ہے بلکہ اس کے اثرات کی اہمیت کو بھی کم کرنا چاہتی ہے۔

  9. بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!

    بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کی اہم خبروں اور تجزیوںسے متعلق ج بی بی سی کی لائیو پیج کوریج جاری ہے۔

    اگر آپ 27 اکتوبر کی خبروں سےمتعلق جاننا چاہیں تو اس لنک پر کلک کریں