وزیراعظم اور آرمی چیف کا دورہ کوئٹہ، شہباز شریف کا بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان
جمعرات کو اپنے دورہ کوئٹہ کے موقع پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کے ساتھ وفاقی وزرا اور فوج کے سربراہ بھی کوئٹہ میں موجود ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی فوج کی جانب سے کیے جانے والا کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے پر بازیاب کروائے گئے تمام مسافر کوئٹہ پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی میتیں کوئٹہ پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
خلاصہ
پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حملوں میں ملوث شدت پسندوں کے افغانستان میں ٹیلی فون کالیں کرنے کے ثبوت ملے ہیں۔
وزیراعظم نے کوئٹہ دورے کے موقع پر کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو پاکستان کے وجود کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد آپریشن میں پاکستانی فوج نے تمام 33 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ 'سکیورٹی فورسز کا آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی دہشتگردوں نے 21 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد کوئٹہ ہسپتال میں 15 زخمیوں کا علاج جاری، رہائی پانے والے دیگر مغوی مسافر اپنے گھروں کو روانہ کر دیا گیا جبکہ کوئٹہ میں میتوں کو پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان کے ضلع کچھی میں مسلح افراد نے سات مزدوروں کو اغوا کر لیا۔
برطانیہ میں 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کیس میں والد، سوتیلی والدہ اور چچا کی سزاؤں میں کمی کی اپیل مسترد کر دی گئی۔
لائیو کوریج
150 سے زائد افراد بازیاب جبکہ تین درجن کے قریب دہشتگرد ہلاک کر دیے: وزیر مملکت برائے داخلہ, روحان احمد، بی بی سی اردو، اسلام آباد
،تصویر کا کیپشنوزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ’مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے‘
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’150 سے زیادہ افراد کو بازیاب کروایا جا چکا ہے جبکہ تقریباً تین درجن دہشتگرد بھی مارے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’مسئلہ یہ ہے کہ دہشتگردوں نے خواتین اور بچوں کو ڈھال بنایا ہوا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ حملے کے دوران سکیورٹی اہلکار اور ریلوے کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
’وہاں ٹرین میں خودکش بمبار بھی موجود ہیں اس لیے ہم انتہائی محتاط طریقے سے کارروائی کر رہے ہیں۔‘
جو بھی تشدد کرے گا، ریاست توڑنے کی بات کرے گا، اس کا قلع قمع ہو گا: سرفراز بگٹی
بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’جو بھی تشدد کرے گا، جو ریاست توڑنے کی بات کرے گا، بندوق اٹھائے گا، ریاست مکمل طور پر قلع قمع کرے گی۔‘
بلوچستان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ابھی بھی ریاست صبر سے کام لے رہی ہے، نہیں لینا چاہیے۔‘ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’وہ ہمارے پانچ سو لوگ ماریں اور ہم جا کر معافی مانگیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہمیں اس لڑائی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بی ایل اے بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتی ہے، کیا اس کی اجازت دے دیں، وہ بچوں کو ماریں کیا اس کی اجازت دے دیں؟
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’نائیوں، دھوبیوں، ٹیچرز اور ڈاکٹرز کو مارا جا رہا ہے جو کہ سافٹ ٹارگٹ ہیں یہ کون سی بلوچ روایات ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’جنگ کے بھی کوئی اصول ہوتے ہیں، جو فوجی چھٹی پر ہوتا ہے اسے فوجی تصور نہیں کیا جاتا۔ مگر یہ تو نہتے لوگوں پر حملے کرتے ہیں، انھیں یرغمال بناتے ہیں۔‘
سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’ہم عام بلوچ کو سو بار گلے لگانے کو تیار ہیں۔ بلوچ بچوں کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے ہیں۔‘
سرفراز بگٹی نے مظاہرے، احتجاج اور دھرنے کرنے والوں پر بھی کڑی تنقید کی۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ریاست تو ڈائیلاگ کے لیے تیار ہے، وہ تیار نہیں ہیں۔
جعفر ایکسپریس پر حملہ ناقابل برداشت ہے، سخت فیصلے ناگزیر ہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی, محمد کاظم، بی بی سی اردو کوئٹہ
،تصویر کا کیپشنوزیر اعلی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اجلاس ہوا جس میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کے حملے سے متعلق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بریفینگ دی
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ ناقابل برداشت ہے اور اب صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔
وزیر اعلی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اجلاس ہوا جس میں جعفر ایکسپریس پر دہشت گردی کے حملے سے متعلق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ نے بریفینگ دی۔
اس اجلاس میں چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، آئی جی پولیس معظم جاہ انصاری اور آئی جی ریلوے پولیس رائے طاہر سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
سرفراز بگٹی نے اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ حملہ ناقابل برداشت ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گرد ایک انچ پر بھی قابض نہیں رہ سکتے، دہشت گردانہ کارروائی کا مقصد پر تشدد ماحول کا تاثر قائم کرنا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’ملک دشمن عناصر کا کیک کی طرح پاکستان کو کاٹنے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ہر طرح کی کنفیوژن سے نکل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ سے لڑنا ہوگا۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ’عوام کے تحفظ کے لیے سکیورٹی اداروں کو ہر ممکن وسائل فراہم کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی ہوگی۔ بلوچستان میں امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔‘
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔
’ابھی بھی ہمیں کوئی حتمی معلومات نہیں کہ امجد حسین زندہ ہیں یا نہیں‘، ٹرین ڈرائیور امجد یاسین کے بھائی, ملک مدثر، بی بی سی نیوز، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہْMalik Muddassir/BBC
،تصویر کا کیپشنعامر یاسین نے بتایا کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ امجد حسین منجلے تھے، وہ 50 برس قبل کوئٹہ میں ہی پیدا ہوئے تھے
جعفر ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور امجد یاسین کے خاندان کے لیے یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب انھیں کسی بڑے حادثے کی خبر ملی ہو۔ اس سے قبل بھی امجد یاسین کی ٹرین ایسے ہی ایک بڑے حملے کی زد میں آ چکی ہے۔
امجد یاسین کے بھائی عامر یاسین نے بی بی سی سے تفصیلی گفتگو کہا کہ ’ابھی بھی ہمیں کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں کہ امجد حسین زندہ ہیں یا نہیں۔‘
امجد یاسین کون ہیں؟
عامر یاسین کے مطابق ان کے والد قیام پاکستان کے بعد انڈین پنجاب سے پاکستان آئے اور پھر 1958 میں ملازمت کے سلسلے میں کوئٹہ آ گئے۔
عامر یاسین نے بتایا کہ ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ امجد حسین منجلے ہیں۔ وہ 50 برس قبل کوئٹہ میں ہی پیدا ہوئے تھے۔
عامر یاسین کے مطابق امجد یاسین نے گریجوایشن تک تعلیم کوئٹہ سے ہی حاصل کی اور پھر ریلوے میں ملازمت اختیار کر لی۔ ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAmjad Yasin Family
،تصویر کا کیپشنعامر یاسین کے مطابق جب ہم سب نے امجد بھائی سے یہ ملازمت چھوڑ کر واپس جانے کی بات کی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘
عامر کے مطابق انھوں نے امجد کی اہلیہ جو دمے کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی بیٹی کو اپنے رشتہ داروں کے پاس پنجاب بھیج دیا ہیں۔
عامر یاسین نے کہا کہ ’میں نے اپنی بھابھی اور بھتیجی کو بتایا کہ ابھی ہمیں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے اور جو بھی تفصیلات آئیں گی ہم آپ کو بتا دیں گے۔‘
عامر یاسین کے مطابق جب 2007 کے بعد بلوچستان کے حالات خراب ہوئے تو امجد حسین کے ساتھ ایسا ہی واقع ان دنوں میں بھی پیش آیا تھا۔
ان کے مطابق اس وقت امجد یاسین اسسٹنٹ ڈرائیور تھے اور ان کی ٹرین اسی علاقے کے قریب سے گزر رہی تھی جب اس ٹرین پر راکٹ لانچر سے حملہ کیا گیا۔ اس کے بعد دھماکہ ہوا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی تھی۔ عامر کے مطابق امجد یاسین اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہے تھے۔
،تصویر کا ذریعہْMalik Muddassir/BBC
،تصویر کا کیپشنعامر یاسین کے مطابق جب ہم سب نے امجد بھائی سے یہ ملازمت چھوڑ کر واپس جانے کی بات کی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘
عامر یاسین کے مطابق جب ہم سب نے امجد بھائی سے یہ ملازمت چھوڑ کر واپس جانے کی بات کی تو انھوں نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔‘
کوئٹہ کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے عامر یاسین نے کہا کہ ’ہمیں نہیں پتا کہ ہمارے ساتھ کیا ہونا ہے۔‘
جب گھر سے نکلتے ہیں تو ہمیں نہیں پتا ہوتا کہ ہمارے ساتھ ہونا کیا ہے۔ ہم گھر سے نکلنے کے اوقات بھی بدلتے رہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارا کوئٹہ چھوڑ کر جانے کا دل نہیں کر رہا ہے۔ ساری زندگی یہاں گزاری ہے۔ یہاں کاروبار کیا ہے۔ ہم بس یہ پوچھتے ہیں کہ آخر ہمارا قصور کیا ہے؟‘
’لوگوں کو تقسیم کرنے کے بعد فوج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ باندھ دیے‘
’گاڑی سرنگ میں نہیں تھی، کھلی جگہ تھی۔ وہ سینکڑوں کی تعداد میں تھے، ہم سے بہت زیادہ۔‘ یہ الفاظ جعفر ایکسپریس میں سوار ریلوے پولیس کے اس اہلکار کے ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ بلوچ شدت پسندوں کے حملے کے بعد پہلے تو انھوں نے دیگر ’پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مقابلہ کیا‘ لیکن پھر ’ایمونیشن ختم ہونے پر‘ انھیں بھی یرغمال بنا لیا گیا۔
کوئٹہ کا ریلوے سٹیشن جو اب ’نو گو ایریا‘ بن چکا ہے, ملک مدثر اور محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir/BBC
،تصویر کا کیپشنکوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پر جیسے کرفیو نافذ ہو، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی کو بھی ریلوے سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور نہ کوئی کسی سرکاری دفتر کا رخ کر سکتا ہے۔
کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن کے باہر لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں۔ یہاں لوگ اپنے پیاروں
کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے کبھی ایک گیٹ تو کبھی دوسرے دفتر کی طرف
جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک میاں بیوی اپنے دو بچوں سمیت اس بھیڑ میں موجود ہیں۔ خاتون نے مجھے بتایا کہ
ان کے دیور یعنی ان کے شوہر کے بھائی بھی اس جعفر ایکسپریس میں سوار تھے اور ابھی
ہمیں اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے اور نہ کوئی ہمیں اس بارے میں کچھ بتا رہا ہے۔
یہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی کو بھی ریلوے سٹیشن کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور نہ کوئی کسی سرکاری دفتر کا رخ کر سکتا ہے۔ یہاں
کرفیو جیسا سماں ہے۔
،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir/BBC
،تصویر کا کیپشناگرچہ یہاں سے زیادہ ٹرینیں تو نہیں چلتیں مگر عام طور پر پھر بھی اس چھوٹے سے ریلوے سٹیشن پر بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہ کوئٹہ شہر کے لیے تفریح کا بھی مقام ہے۔ مگر اب عوام کو یہاں سے دور رکھا جا رہا ہے۔
یہاں ریلوے سٹیشن کے داخلی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک کا چارٹ ضرور آویزاں کیا گیا ہے مگر عوام کا داخلہ مکمل طور پر بند ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایف سی اور ریلوے پولیس کے اہلکار ادھر کا رخ کرتے ہیں اور یہاں پلیٹ فارم سے صحافیوں کو کبھی ایک کونے تو کبھی دوسرے کونے کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
ریلوے سٹیشن پر ایک ٹرین کھڑی ہے اور مجھے ایک سینیئر ریلوے اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم نے یہاں سے بڑی تعداد میں تابوت لے کر جانے ہیں۔
کچھ خیراتی اداروں کی طرف سے بھی تابوت یہاں لائے گئے ہیں۔ یہاں پر کھڑی ایک مسافر ٹرین کی پانچ بوگیوں میں یہ تابوت رکھے جا رہے ہیں۔ ابھی تک یہاں 60 سے 70 تابوت لائے گئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir/BBC
،تصویر کا کیپشنیہ ریلوے سٹیشن کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک تفریح کا بھی مقام ہے
اگرچہ یہاں سے زیادہ ٹرینیں تو نہیں چلتیں مگر عام طور پر پھر بھی اس چھوٹے سے ریلوے سٹیشن پر بہت رش لگا رہتا ہے۔ یہ کوئٹہ شہر کے لیے تفریح کا بھی مقام ہے۔ مگر اب عوام کو یہاں سے دور رکھا جا رہا ہے۔
اس ریلوے سٹیشن کے قریب ہی ریلوے کالونی ہے۔ میں یہاں اس ریلوے پولیس اہلکار کے گھر گیا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں 20 سے 25 لوگ بیٹھے ہیں اور وہ سب کو اس حادثے کی تفصیلات بتا رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہMalik Mudassir/BBC
،تصویر کا کیپشنعبدالروف دوسرے دن اپنے والد کا نام دیکھنے یہاں ریلوے سٹیشن پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب ان کی تفتیش مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ ان کے والد شدید بیمار بھی ہیں۔ یہی پریشانی ہے کہ ان حالات میں اب ان کی حالت کیا ہوگی؟
ریلوے سٹیشن پر لواحقین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ سب پریشانی کے عالم میں ہیں۔ سوگوار ماحول ہے۔ ہر کوئی اچھی خبر سننے کا منتظر ہے۔
مگر یہاں تو کسی کو بھی صحیح معلومات نہیں مل رہی ہیں۔ ریلوے حکام کی طرف سے مسافروں کی فہرستیں بھی نہیں دی جا رہی ہیں۔
عبدالروف دوسرے دن اپنے والد کا نام دیکھنے یہاں ریلوے سٹیشن پر پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب ان کی تفتیش مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ ان کے والد شدید بیمار بھی ہیں۔ یہی پریشانی ہے کہ ان حالات میں اب ان کی حالت کیا ہوگی؟
کوئٹہ کو آنے اور یہاں سے جانے والی ٹرینیں دوسرے روز سے معطل ہیں۔ آج یہاں دو بجے کے بعد ایک ریلیف ٹرین روانہ ہوئی ہے جس پر بڑی تعداد میں تابوت ہیں۔ ابھی تک حکام نے ہلاکتوں کے بارے میں حتمی تعداد نہیں بتائی ہے۔
بریکنگ, ٹرین پر قبضہ کرنے والے شدت پسندوں کے خلاف سکیورٹی آپریشن جاری، کوئٹہ سٹیشن پر درجنوں تابوت پہنچا دیے گئے
سرکاری سطح پر جعفر ایکسپریس پر قبضہ کرنے والے بلوچ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے دوران اب تک ہلاکتوں کی تعداد کی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم ریلوے حکام کے مطابق کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن سے بدھ کو 200 سے زیادہ تابوت ریلیف ٹرین پر بولان کی جانب روانہ کیے جا رہے ہیں۔
ریلوے کے ایک افسر نے بی بی سی کے محمد کاظم کو بتایا کہ آج ایک ریلیف ٹرین کوئٹہ سے بولان کی جانب روانہ کی جا رہی ہے جس میں مختلف سامان موجود ہے۔
ایک اور اہلکار نے بی بی سی کے ملک مدثر سے بات کرتے ہوئے کہا انتظامیہ کی جانب سے پلیٹ فارم پر اب تک 90 خالی تابوت لائے گئے جنھیں اس ٹرین میں روانہ کیا جائے گا جبکہ ٹرین کی روانگی سے قبل اس پر مزید 130 تابوت بھی رکھے جائیں گے جن کے سٹیشن پہنچنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس موقع پر کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ایف سی کے اہلکاروں کی بڑی تعداد پلیٹ فارمز پر موجود ہے۔
ریلوے حکام کا مزید کہنا تھا کہ یہ تابوت ریلوے کی طرف سے نہیں بلکہ کوئٹہ انتظامیہ کی جانب سے آئے ہیں اور وہ اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کر سکتے۔
اس سلسلے میں جب کوئٹہ انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو حکام نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
’اگر جعفر ایکسپریس کو کسی قسم کا خطرہ تھا تو پھر اسے کیوں چلایا گیا‘
جعفر ایکسپریس پر بلوچ شدت پسندوں کے حملے کو 22 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے اور جہاں سکیورٹی ذرائع کی جانب سے 150 سے زیادہ مسافروں کو بازیاب کروانے کا دعویٰ کیا گیا ہے وہیں ایک بڑی تعداد اب بھی یرغمال ہے جن کے لواحقین اپنے پیاروں کی سلامتی کے بارے میں فکرمند ہیں۔
ان مسافروں میں شامل اعجاز نامی شہری کی رشتہ دار لبنیٰ نے بدھ کو بی بی سی کو بتایا کہ ان کے دیور جعفر ایکسپریس کے مسافروں میں سے ایک ہیں جو سبی کے رہائشی ہیں اور کوئٹہ دفتر کے کام سے آئے تھے۔
لبنی نے بتایا کہ وہ رات سے ہی ریلوے سٹیشن پر اس امید کے ساتھ موجود ہیں کہ ان کو اپنے دیور کی کوئی اطلاع مل سکے لیکن اب تک ایسا نہیں ہوا۔
’24 گھنٹے ہو چکے ہیں، ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ہم نے سنا تھا کہ کچھ لوگوں کو چھوڑا گیا ہے، اور ان سے امید تھی کہ ہمیں بھی کچھ پتا چلے گا، لیکن ان سے بھی کوئی خبر نہیں مل سکی۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر جعفر ایکسپریس کو کسی قسم کا خطرہ تھا تو پھر اسے کیوں چلایا گیا۔ اس ٹرین میں فوجی تھے، کیوں اتنا خطرہ مول لیا گیا، اپنے لوگوں کی جانوں سے کھیلا گیا؟‘
’کوئٹہ کا ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل، بحالی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ممکن‘
پاکستان ریلویز کا کہنا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد ’کوئٹہ کا ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل ہے جسے سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی بحال کیا جائے گا۔‘
ادارے کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملے کے بعد پاکستان ریلویز نے راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر معلومات کے لیے ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دیا ہے اور کسی بھی مسافر سے متعلق تمام معلومات ہیلپ ڈیسک سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
بیان کے مطابق ’راولپنڈی ہیلپ ڈیسک کوئٹہ اور پشاور کنٹرول سے رابطے میں ہے۔ اس کے علاوہ ریلوے سٹیشن کوئٹہ کے انکوائری آفس میں ایمرجنسی سیل بھی بنا دیا گیا ہے۔‘
محکمہ ریلویز نے معلومات حاصل کرنے کے لیے 0819201210, 0819201211 اور 117 پر رابطے کی سہولت بھی فراہم کی ہے۔
بلوچستان کا کوئی ایسا علاقہ باقی نہیں جہاں حکومت یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس کا کنٹرول ہے: اختر مینگل
درۂ بولان کے علاقے میں مسافر ٹرین پر بلوچ شدت پسندوں کے حملے اور درجنوں مسافروں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے کے بعد بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’بلوچستان کا کوئی ایسا علاقہ باقی نہیں جہاں حکومت یہ دعویٰ کر سکے کہ اُس کا کنٹرول ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم نے خبردار کیا تھا، ہم سے پہلے والوں نے بھی خبردار کیا تھا مگر اُن باتوں کو سنجیدہ لینے کے بجائے لوگوں کا نہ صرف مذاق آڑایا گیا بلکہ لوٹ مار اور قتل عام کا بازار گرم کیا گیا‘۔
اختر مینگل نے الزام لگایا کہ ہر حکومت بلوچ نسل کشی میں برابر کی ذمہ دار رہی ہے اور ’یہ وہ واحد مسئلہ تھا جس پر تمام ادارے اور تمام تر حکومتیں ایک پیج پر رہیں ہیں اور اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کے بجائے ہمیشہ کی طرح الزام کسی اور پر لگانا تو ان کا وطیرہ رہا ہے۔‘
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، سیاسی جماعتیں، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ لینا چاہیے کے اب بات ’نہ ہمارے اختیار میں ہے، اور نہ ہی آپ کے.‘
بریکنگ, عسکری ذرائع کا 155 مسافروں کی بازیابی اور 27 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ، آپریشن تاحال جاری
عسکری ذرائع نے بدھ کی صبح دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی دوپہر جعفر ایکسپریس پر حملے میں یرغمال بنائے جانے والے مسافروں میں سے اب تک 155 افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
حملے کا نشانہ بننے والے ریل گاڑی پر 400 سے زیادہ مسافر سوار تھے اور تاحال یہ واضح نہیں کہ بقیہ افراد ریل گاڑی پر ہی موجود ہیں یا نہیں۔
وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ طلال چوہدری نے منگل کی شب بتایا تھا کہ حملہ آور کچھ مسافروں کو اغوا کر کے پہاڑوں میں لے گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے اور اس دوران اب تک 27 شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بھی متعدد سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق اب تک کی کارروائی میں بازیاب کروائے جانے والے افراد میں سے 37 زخمیوں کو علاج کے لیے روانہ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جعفر ایکسپریس پر حملہ کرنے والے شدت پسند افغانستان میں اپنے سہولت کاروں سے رابطے میں ہیں اور حملہ آوروں
میں شامل خود کش بمبار یرغمالی مسافروں کے پاس موجود ہیں۔
بی بی سی سکیورٹی ذرائع اور شدت پسند تنظیم کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
’ان کا لیڈر انھیں بار بار کہہ رہا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں پر خصوصی نظر رکھو، یہ ہاتھ سے نکلنے نہیں چاہییں‘
مچھ سٹیشن پہنچنے والے مسافروں نے بی بی سی کو منگل کی دوپہر جعفر ایکسپریس پر شدت پسندوں کے حملے اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی روداد بی بی سی کو سنائی اور بتایا کہ حملے کے آغاز ایک بڑے دھماکے سے ہوا جس کے بعد ریل گاڑی پر شدید فائرنگ کی گئی۔
اگر آپ ابھی ابھی ہمارے لائیو پیج پر آئے ہیں تو جعفر ایکسپریس حملے
سے متعلق تازہ ترین صورتحال کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی جانب سے کوئٹہ سے
پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے اور سینکڑوں مسافروں کو یرغمال
بنائے جانے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے۔
عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی رات تک 100 سے زیادہ مسافروں کو بازیاب کروا لیا
گیا ہے جبکہ باقی افراد کے بارے میں تاحال کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں جبکہ کلیرئنس آپریشن کے دوران 16 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ٹرین پر حملہ آور ہونے
والے شدت پسندوں میں خود کش بمبار بھی موجود،جنھوں نے چند یرغمالی مسافروں کو بالکل اپنے ساتھ
بٹھایا ہوا ہے لہذا آپریشن انتہائی احتیاط سے کیا جا رہا ہے۔‘
جعفر ایکسپریس کے بازیاب ہونے والے 80 سے زائد مسافروں کو پنیر ریلوے
سٹیشن سے مال گاڑی کے ذریعے پہلے مچھ ریلوے سٹیشن لایا گیا جہاں انھیں ابتدائی طبی
امداد دینے کے بعد کوئٹہ پہنچا دیا گیا
ہے۔
کوئٹہ ریلوے سٹیشن پہنچنے والے مسافروں نے ٹرین حملے کی روداد سناتے
ہوئے بتایا ہے کہ ٹرین پر حملے کے وقت پہلے دھماکہ کیا گیا اور پھر فائرنگ کا
سلسلہ شروع ہوا۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز درۂ بولان کے علاقے میں شدت پسندوں نے کوئٹہ
سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا تھا اور سینکڑوں مسافروں
کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)
نے قبول کی تھی۔
جعفر ایکسپریس پر کس جگہ حملہ ہوا؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشندرہ بولان میں ٹرین ٹریک پر 17 سُرنگیں ہیں (فائل فوٹو)
پاکستان کے
صوبہ بلوچستان میں درۂ بولان کے علاقے میں
جعفر ایکسپریس پر حملہ ہوا ہے۔
بولان
دراصل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور سبی کے درمیان سو کلومیٹر سے زیادہ کا
دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔
اس علاقے میں
کوئٹہ کے جنوب مشرق میں کولپور سے سبی تک ریلوے لائن پر 17 سرنگیں ہیں۔ ریلوے حکام
کے مطابق دشوار گزار علاقہ ہونے کی وجہ سے بولان کے علاقے میں ٹرین کی رفتار معمول
سے بہت کم ہوتی ہے۔
بلوچستان میں
حالات کی خرابی کے بعد سے بولان میں اب تک ٹرینوں اور ریلوے ٹریک پر متعدد حملے
ہوئے ہیں۔ ماضی میں اس علاقے میں ریلوے ٹریک پر دور سے راکٹوں یا ریموٹ کنٹرولڈ
بموں کے ذریعے حملے ہوتے رہے ہیں۔
تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ اس علاقے میں عسکریت پسندوں نے ٹرین کو روک کر
مسافروں کو یرغمال بنایا ہے۔ ماضی میں اس علاقے میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری
کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی رہی ہے۔
جعفر ایکسپریس پر عسکریت پسندوں کا حملہ، سو سے زائد مسافر بازیاب، سکیورٹی فورسز کا تاحال آپریشن جاری
پاکستان کے صوبے بلوچستان میں عسکریت پسندوں کی جانب سے کوئٹہ سے
پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملے اور سینکڑوں مسافروں کو یرغمال
بنائے جانے کے بعد سیکورٹی فورسز کا کلیرینس آپریشن تاحال جاری ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز درۂ بولان کے علاقے میں عسکریت پسندوں نے کوئٹہ
سے پشاور جانے والی مسافر ٹرین جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا تھا اور سینکڑوں مسافروں
کو یرغمال بنا لیا تھا۔
اس حملے کی ذمہ داری عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)
نے قبول کی تھی۔
کوئٹہ میں ریلوے حکام کے مطابق اس ٹرین پر 400 سے زائد مسافر سفر کر
رہے تھے۔ جن میں عام شہریوں، خواتین اور بچوں کے علاوہ سرکاری ملازمین، سکیورٹی فورسز
اور قانون نافذ کرنے سے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔
تاہم منگل کی رات کو سو سے زائد مسافروں جن عام شہری، خواتین بچے اور
بزرگ شامل تھے کو بازیاب کروا لیا گیا ہے جبکہ دیگر کی بازیابی کے لیے سکیورٹی
فورسز کا کلیئرینس آپریشن جاری ہے۔
عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک 104 مسافروں کو بازیاب کروا لیا
گیا ہے جبکہ 16 عسکریت پسند آپریشن میں ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ بی ایل اے کی جانب سے
بھی سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل
کالعدم بلوچ انتہا پسند جماعت بی ایل اے نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں دعویٰ کیا
تھا کہ وہ عام شہریوں، خواتین اور بچوں کو چھوڑ دیں گے۔
منگل کو نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا تھا کہ ’شدت پسند بہت سارے مسافروں کو لے کر پہاڑوں میں چلے گئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ یہ چند ماہ میں دوسرا موقع ہے کہ بلوچ شدت پسندوں نے جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والے دھماکے میں 26 افراد ہلاک اور 62 زخمی ہوئے تھے جن میں سے 12 کا تعلق لیویز، ایف سی اور فوج سے تھا۔
عسکری ذرائع کے مطابق جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا وہ انتہائی دشوار گزار اور مرکزی سڑک سے دور ہے تاہم سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے جو شدت پسندوں کے خاتمے تک جاری رہے گا۔
ریلوے حکام کے مطابق جس جگہ یہ حملہ ہوا، وہاں موبائل اور ٹیلی فون نیٹ ورک نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین کے عملے سے رابطہ ممکن نہیں ہے۔
بی بی سی کے لائیو پیج میں خوش آمدید!
پاکستان اور دنیا بھر کی اہم خبروں
کے بارے میں جاننے کے لیے بی بی سی کی لائیو پیج کوریج میں خوش آمدید!
11 مارچ تک کی اہم خبروں کو جاننے کے لیے یہاں کلک کریں