مظاہرین اگر مسلح ہوتے تو پولیس، رینجرز اہلکاروں کو بھی گولیوں کے زخم آتے: ترجمان وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیرِ اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر بیرسٹر محمد علی سیف کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین مسلح ہوتے تو دوسری طرف کے لوگوں کو بھی گولیوں کے زخم آنے چاہیے تھے۔ ’پوسٹ مارٹم رپورٹ ہونی چاہیے کہ فلاں فلاں بندے کو گولی لگی ہے، فلاں پولیس اہلکار یا رینجرز کو۔ لیکن یہاں تو ایک ہی طرف گولیاں چل رہی ہیں۔‘
اتوار کی شب نجی ٹی چینل سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے اسلحے میں شاید جعلی کارتوس تھے کہ وہ نہیں کام کر رہا تھا لیکن ان کا اسلحہ کام کر رہا تھا۔
اس سے قبل اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات نے دعویٰ کیا تھا کہ پی ٹی آئی کے اس احتجاج میں تربیت یافتہ مسلحہ افغان شہری اور دیگر شرپسند عناصر موجود تھے۔ مظاہرین جدید اسلحہ اور آنسو گیس کے شیل چلانے میں ماہر تھے۔
جب بیرسٹر سیف سے وزیرِ اطلاعات کے اس دعویٰ کے بارے میں پوچھا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید بھی موجود تھے تو ان کا کہنا تھا کہ ’مراد سعید اگر ان کو نظر آیا ہے تو مراد سعید کو پکڑ لیتے۔ کس نے ان کو روکا تھا۔‘
’وہ اگر اسلام آباد پہنچ گیا تھا تو وہاں سے گرفتار کیوں نہیں ہوا اور وہاں سے بھاگا کیوں؟‘
وفاقی وزیرِ اطلاعات نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مراد سعید خیبر پختونخوا کے چیف منسٹر ہاؤس میں روپوش ہیں لیکن وزیراعلی ہاؤس پر چھاپہ مارنا اچھا نہیں لگتا۔ بیرسٹر سیف نے اینکر جواب دیتے ہوئے کو کہا کہ ’آپ خود آکر چیف منسٹر ہاؤس میں رہیں اور دیکھ لیں، اگر آپ کو نظر آجائے تو عطااللہ تارڑ کو بتادیں کہ آکر لے جائے۔‘
واضح رہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے جن چند رہنماؤں نے روپوشی اختیار کی تھی ان میں مراد سعید نے بھی شامل ہیں۔
اس سوال پر کہ کیا پی ٹی آئی کے احتجاج میں افغان باشندے شامل تھے، ان کا کہنا تھا کہ افغان باشندے اپنے ملک میں بھی در بدر ہیں اور یہاں بھی جو جرم ہوتا ہے ہم اس کا الزام ان پر لگا دیتے ہیں۔ ’اگر ہمارے پاس ورکر نہیں تھے اور حکومت کو پتا تھا کہ ہم کرائے پر افغان باشندوں کو لے آرہے ہیں تو پھر آپ کو ڈرنے کی کیا ضرورت تھی اور پورے اسلام آباد کو کنٹینرستان کیوں بنایا ہوا تھا؟‘
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ آیا ان کی اور پی ٹی آئی چیئر مین بیرسٹر گوہر علی خان کی اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ہونے والی ملاقات کے دوران عمران خان نے سنگجانی کے مقام پر احتجاج پر رضامندی ظاہر کردی تھی، تو بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ جب ہم نے عمران خان بتایا کہ ڈی چوک جانا مناسب نہیں کیونکہ وہاں بڑی تعداد میں رینجرز اور پولیس تعینات ہے اور حکومت کی جانب سے آفر ہے کہ سنگجانی میں جلسہ کر لیں تو عمران خان نے اس کی اجازت دے دی تھی۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جلوس میں موجود قیادت میں اس پر اتفاق نہ ہو سکا۔ ’وہاں جو بھی ہوا وہ پارٹی کا ایسا فیصلہ تھا جو پارٹی نے ان حالات میں کیا۔‘
بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا کو فون کر کے بتایا کہ خان صاحب مان گئے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ آپ لوگ ڈی چوک کے بجائے سنگجیانی میں جلسہ کریں۔
ان کے مطابق بعد ازاں رات میں عمران خان کی وزیراعلی کے پی سے فون پر بات ہوئی جس میں انھوں اس بات کی تصدیق کی کہ انھوں نے ڈی چوک کی جگہ سنگجیانی میں جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ تاہم ڈاکٹر سیف کے مطابق تب تک کافی دیر ہو چکی تھی۔