آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, امریکی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، ’کہا تھا وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں‘ باقر قالیباف

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرض کے کنٹینر بردار جہاز ’جے ایف ایس گلیکسی‘ پر حملے کے ردِعمل میں شروع کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے اور اگلے اعلان تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ دریں اثنا قطر اور امارات نے میزائل اور ڈرونز روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. اردن کی تین ایرانی میزائلوں سے معمولی نقصان کی تصدیق

    اُردنی فوج نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح ایران کی جانب سے داغے گئے تین میزائل ملک کی حدود میں گرے۔

    فوجی بیان میں ایک عسکری ذریعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’آج صبح ایرانی سرزمین سے داغے گئے تین میزائل اردن کے مختلف مقامات پر گرے، تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

  2. انڈیا کی عمانی ساحل پر بحری جہاز پر حملے کی مذمت، اپنے 10 شہریوں کو بحفاظت نکالنے کی تصدیق

    انڈیا نے اتوار کو عمان کے ساحل پر تجارتی جہاز پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    انڈین وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز پر سوار 11 انڈین شہریوں میں سے 10 کو بحفاظت بچا لیا گیا ہے جبکہ ایک انڈین شہری تاحال لاپتہ ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق عمان میں انڈین سفارت خانہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عمانی حکام کے ساتھ مل کر کیے جانے والے تلاش اور بچاؤ کے آپریشنز میں فعال تعاون کر رہا ہے۔

    وزارت نے اس مہم میں تعاون کرنے پر حکومتِ عمان اور وہاں کے حکام کا شکریہ بھی ادا کیا۔

    وزارتِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے انتہائی تشویشناک ہیں۔ انڈیا نے ایک بار پھر خطے میں کشیدگی میں فوری کمی لانے اور جاری مذاکرات کے ذریعے سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا ہے تاکہ امن و استحکام بحال ہو سکے۔

  3. اسحاق ڈار کا ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ

    پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک پر گفتگو کی ہے جس میں مشرقِِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسحاق ڈار نے فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کی راہ اپنائیں اور تحمل کا مظاہرہ کریں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ جون 2026 میں اسلام آباد مفاہمت یادداشت پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اُنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے حصولے کے لیے بات چیت اور سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔

    دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  4. ایران اور عمانی حکام کی ملاقات کا مقصد آبنائے ہرمز سے متعلق طریقہ کار طے کرنا تھا: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مسقط میں عباس عراقچی اور عمانی حکام کے درمیان گذشتہ روز ہونے والی بات چیت کے بارے میں کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز میں آمدورفت اور جہاز رانی کے طریقہ کار کے حوالے سے باہمی ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

    ایک بیان میں اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے قانونی اور تکنیکی وفود موجود تھے۔

    اُنھوں نے کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دونوں ساحلی ممالک کے خودمختار حقوق، بین الاقوامی قوانین اور اسلام آباد مفاہمت نامے (ایم او یو) کی شق نمبر پانچ کے تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے امور پر بات چیت اور تبادلہ خیال کیا گیا۔‘

    اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے انتظام کے لیے نئے انتظامات کی تشکیل دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے دائرہ کار میں اور گذشتہ چند مہینوں کے واقعات، بالخصوص جنگ اور اس کے نتیجے میں اس آبی گزرگاہ میں جہاز رانی پر مرتب ہونے والے سکیورٹی اثرات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہیے۔

  5. قطر کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی 74 برس کی عمر میں وفات

    قطر کی حکومت نے ملک کے سابق امیر شیخ حمد بن خلیفہ الثانی کی وفات کا اعلان کیا ہے۔ وہ 1995 سے 2013 تک قطر کے امیر رہے۔ اُن کی عمر 74 برس تھی۔

    شیخ حمد بن خلیفہ الثانی جدید کے اہم معماروں میں سے ایک تھے، اور ان کے دورِ حکومت میں ملک نے تیز رفتار اقتصادی ترقی دیکھی۔

    ان کے دورِ حکومت میں، ان کے حکم پر 1996 میں ’الجزیرہ انٹرنیشنل نیٹ ورک‘ کا آغاز کیا گیا تھا۔

  6. عمان کے ساحل کے قریب نشانہ بنائے گئے جہاز کے عملے کو بچا لیا گیا: میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    برطانوی ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے کہا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے بحری جہاز کے عملے کو ’مقامی حکام نے بچا لیا ہے۔‘

    اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں یو کے ایم ٹی او نے فوجی حکام کے حوالے سے بتایا کہ حملے کے نتیجے میں ’بحری جہاز کے پچھلے حصے کو نقصان پہنچا اور آگ بھڑک اٹھی۔‘

    ادارے کے مطابق جہاز میں آگ لگنے کے بعد عملہ لائف بوٹ کے ذریعے جہاز چھوڑنے پر مجبور ہو گیا تھا۔

    لیکن اس کے بعد یو کے ایم ٹی او کی جانب سے جاری اپ ڈیٹ میں جہاز کی کمپنی کے سکیورٹی افسر کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ مقامی حکام نے عملے کو بچا لیا ہے۔

  7. امریکی حملوں میں ایران کے بوشہر اور لرستان کے علاقے نشانہ بنے

    ایران میں بوشہر کے گورنر محمد مظفری نے کہا ہے کہ گذشتہ رات امریکی حملوں میں شہر کے چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ان حملوں میں 10 میزائل شہر کے تین علاقوں اور بوشہر کے نواحی شہر چُغادک کے قریب ایک علاقے پر گرے۔

    بوشہر کے گورنر کے مطابق اب تک ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    ادھر صوبہ لرستان کی انتظامیہ نے بھی ضلع چگنی کے علاقے ویسیان میں ایک میزائل گرنے کی اطلاع دی ہے۔

  8. کہا تھا کہ وعدے پورے کریں یا وعدہ خلافی کی قیمت ادا کریں: باقر قالیباف

    ایران کے مرکزی مذاکرات اور پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا: ’یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا۔ ہم نے آپ سے کہا تھا، یا اپنے وعدے پورے کریں یا (وعدہ خلافی کی) قیمت ادا کریں۔ حقیقت آپ کے سامنے ہے۔‘

    اس پوسٹ کے ساتھ امریکہ اور ایران میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی۔

    اس میں درج ہے: ’مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس آنے جانے والے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے انتظامات کرے گا، اور یہ سہولت صرف 60 دن تک بغیر کسی فیس کے فراہم کی جائے گی۔‘

    اس شق کی جو تصویر باقر قالیباف نے شیئر کی، اس میں ’ایران انتظامات کرے گا‘ کے الفاظ کو نمایاں کیا گیا ہے۔

  9. پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں ایک اور جہاز اور قطر کے العدید ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جنوبی ایرانی شہروں پر امریکی حملوں کے جواب میں اس نے آبنائے ہرمز میں دوسرے جہاز کو نشانہ بنا کر روک دیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’جوابی کارروائی کے دوسرے مرحلے میں قطر میں واقع امریکی العدید ایئر بیس کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا اور اس اڈے میں لڑاکا طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کے مرکز کے ساتھ ساتھ کمانڈ اور کنٹرول مرکز کو بھی تباہ کر دیا گیا۔‘

  10. پاسدارانِ انقلاب کا عمان کی دُقم بندرگاہ میں امریکی لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کے خبر رساں ادارے فارس کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک شدید اور اچانک حملے میں عمان کی بندرگاہ دُقم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کے لیے لاجسٹک معاونت کے مراکز اور ایندھن فراہم کرنے والے پلیٹ فارمز کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

  11. دشمن کے فضائی حملوں کا سامنا کر رہے ہیں: کویتی فوج

    کویتی مسلح افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کی حدود میں دشمن کے فضائی حملوں کا سامنا ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کویتی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے دشمن کے حملوں کو روکنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔

    بیان میں شہریوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کردہ سکیورٹی اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

  12. امریکہ کا حالیہ حملوں کی تیسری لہر کے دوران ایران میں 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکی فوجی کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی فوج کا کہنا ہے کہ نئے حملوں کا مقصد ’آبنائے ہرمز میں ایک اور تجارتی جہاز پر حملے کے بعد ایرانی افواج کو جواب دہ ٹھہرانا تھا۔‘

    سینٹ کام کے مطابق ’امریکی افواج نے لڑاکا طیاروں، ڈرونز اور بحری جہازوں کے ذریعے داغے گئے ہتھیاروں‘ سے ایران کو نشانہ بنایا۔

    امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ’نشانہ بنائے گئے اہداف میں ایرانی میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری صلاحیتیں، گولہ بارود ذخیرہ کرنے کی سہولیات، مواصلاتی نیٹ ورکس اور ساحلی نگرانی کے مقامات شامل تھے۔‘

    سینٹ کام کے مطابق، رواں ہفتے کے دوران کیے گئے تین حملوں میں ایران کے 300 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ طور پر گزرنے والے بحری جہازوں پر حملے کرنے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

  13. ایران کا اُردن میں امریکی فوجی اڈے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں اُردن میں واقع امریکی ایئر بیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اور ایم کیو ڈرون ہینگر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں ایک غیر قانونی راستے پر کئی بحری جہازوں کو اشتعال دلایا، لیکن ایرانی بحری افواج کے دو ٹوک ردِعمل نے اسے روک دیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج نے اس ناکامی کی تلافی کی کوشش میں جنوبی ساحلوں پر واقع متعدد ساحلی اڈوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ٹاورز پر فضائی حملے کیے۔ ’جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا تھا، اسے اپنی جارحیت کا فوری اور منھ توڑ جواب ملا۔‘

  14. امریکی حملوں کے بعد ایران کا خطے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کا دفاعی نظام ایران سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    ابھی تک داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کی تعداد، ممکنہ اہداف یا کسی قسم کے نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق متعدد میزائلوں نے قطر اور متحدہ عرب امارات میں اپنے اہداف کو ’کامیابی‘ سے نشانہ بنایا ہے اور دونوں ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر متعدد دھماکے ہوئِے ہیں۔

    دوسری جانب قطر کی وزارتِ دفاع کے مطابق ملک کی مسلح افواج نے قطر پر کیے گئے میزائل حملے کو روک دیا ہے۔

    اے ایف پی کے نامہ نگاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے آسمان پر دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ اُنھوں نے شہر کے آسمانوں میں میزائل انٹرسیپٹر دیکھے ہیں۔

    دوحہ میں رہائشیوں کو پیغامات بھیجے گئے ہیں کہ وہ اپنے گھروں اور محفوظ مقامات پر رہیں۔ دوسری جانب بحرین میں بھی سائرن بج رہے ہیں اور رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر جانے کا کہا گیا ہے۔

    یہ پیش رفت آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز پر حملے کے ردعمل میں ایران پر امریکی حملوں کے بعد ہوئی ہے۔

  15. عمان کے قریب متاثرہ کنٹینر بردار جہاز کے عملے نے جہاز چھوڑ دیا

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عمان کے قریب ایک کنٹینر بردار جہاز کے پچھلے حصے کو نقصان پہنچنے اور وہاں آگ لگنے کے بعد عملے نے جہاز کو چھوڑ دیا ہے۔

    ادارے نے اس سے قبل بتایا تھا کہ اسے عمان سے مشرق کی جانب 9 ناٹیکل میل (تقریباً 16 کلومیٹر) کے فاصلے پر پیش آنے والے ایک واقعے کی اطلاع ملی ہے۔ تازہ ترین بیان کے مطابق عملہ اب لائف بوٹ میں موجود ہے اور حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    امریکی فوج نے بھی اتوار کی صبح ایران کے خلاف حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز پر حملے کے ردعمل میں کی گئی ہے۔

    سینٹ کام نے بتایا کہ عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے اور آگ لگنے نیز انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

    آئی آر جی سی (IRGC) کی بحریہ نے اس سے قبل کہا تھا کہ جہاز کو اس وقت نشانہ بنا کر روکا گیا جب اس نے اپنے سسٹمز بند کر دیے اور ایک ’غیر مجاز‘ راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔

  16. ایران کو اپنے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے: امریکی وزیرِ دفاع

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایران پر تازہ حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اس کے غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔

    ایکس پر اپنے بیان میں امریکی وزیرِ دفاع نے امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران پر حملوں سے متعلق بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایران نے غلط فیصلہ کیا، اب اسے اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا تھا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع کر دیا ہے۔

    اس سے قبل، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز ’اگلے حکم اور امریکی مداخلت کے خاتمے تک‘ بند رہے گی اور کسی بھی جہاز کو اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  17. ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں

    ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے بندر عباس، سیرک، جاسک، چابہار، کنگان، بندر دیر اور عسلویہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایرانی نشریاتی ادارے نے صوبہ خوزستان کے جنوبی حصے میں واقع گاؤں ’شاہ عبداللہ‘ اور صوبہ بوشہر کی ’دیلم کاؤنٹی‘ کے داخلی راستے پر بھی ایک دھماکے کی اطلاع دی ہے جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    بوشہر گورنریٹ کے ایک عہدیدار کے مطابق، بوشہر، عسلویہ اور دیر شہروں پر ہونے والے حملوں میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

    ایرانی نشریاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ بندر عباس، سیرک اور جاسک میں صورتحال اب پرسکون ہے۔

  18. امریکہ کے ایران پر مزید حملے، پاسدارن انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کر دی, رابرٹ گرینال اور ٹیبی ولسن

    امریکہ نے کہا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس نے ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔

    ایران کے پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اگلے اعلان تک آبی گزر گاہ بند کر دی گئی ہے اور سرکاری میڈیا کے مطابق ’خلاف ورزی کرنے والے‘ جہاز پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ اپنی شناخت اور ٹریکنگ والا نظام بند کر کے منظور شدہ راستے سے ہٹ گیا۔

    امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) کے مطابق جب پاسداران انقلاب نے قبرص کے پرچم بردار ایک جہاز کو نشانہ بنایا تو اس نے ’رواں ہفتے تیسری بار حملے کیے۔‘

    یہ پیش رفت اس ہفتے کے اوائل میں پیش آنے والے ان واقعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں تین تجارتی بحری آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں امریکہ نے ایران پر حملے کیے اور ایران نے جواب میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

    سینٹ کام نے کہا کہ جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا اور وہ ’اپنا سفر جاری نہ رکھ سکا۔‘ سینٹ کام کے مطابق جہاز پر موجود عملے کا ایک رکن لا پتہ ہے۔

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں سینٹ کام نے لکھا: ’تجارتی جہازوں پر پہلے حملوں کے لیے جوابدہ ٹھہرائے جانے کے بعد ایران کو مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کا ایک اور موقع فراہم کیا گیا تھا، لیکن وہ ایک بار پھر ناکام رہا ہے۔‘

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے یہی بیان شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’ایران نے ایک غلط انتخاب کیا۔ اب اسے اس کی قیمت چکانی ہو گی۔‘

    اتوار کے روز اس سے پہلے ایران کے سرکاری میڈیا نے کہا تھا کہ غیر منظور شدہ راستے پر سفر کرنے کی کوشش کرنے والے ایک بحری جہاز پر کروز میزائل داغنے کے بعد اگلے اعلان تک آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے نشر کیے گئے ایک بیان کے مطابق پاسداران انقلاب نے کہا کہ ہدایات کو بار بار نظر انداز کرنے کے بعد جہاز کو ’انتباہی فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور روک دیا گیا۔‘

    پاسدارن انقلاب نے یہ انتباہ بھی دیا کہ بندش کے نتیجے میں کسی بھی امریکی ’جارحیت‘ کا ’شدت‘ سے جواب دیا جائے گا اور خطے میں نئی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

  19. ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ جاری ہے: امریکی سینٹرل کمانڈ

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق ایران پر حملوں کا تیسرا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ جو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرض کے کنٹینر بردار جہاز ’جے ایف ایس گلیکسی‘ پر حملے کے ردِعمل میں شروع کیے گئے ہیں۔

    سینٹ کام کے مطابق، جہاز کے عملے کا ایک رکن لاپتہ ہے اور آگ لگنے اور انجن روم کو شدید نقصان پہنچنے کے باعث جہاز اپنا سفر جاری رکھنے کے قابل نہیں رہا۔

    سینٹ کام کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تجارتی جہازوں پر گذشتہ حملوں کے بعد ایران کے پاس مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کی پاسداری کرنے کا ایک اور موقع تھا، لیکن اس نے ایک بار پھر ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔

    سینٹ کام نے کہا کہ امریکہ ایران کی اس صلاحیت کو کم کرنے کے لیے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے شہری ملاحوں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ حملے امریکی صدر کی ہدایت پر کیے جا رہے ہیں۔

  20. ایران اور عمان آبنائے ہرمز پر مذاکرات جاری رکھنے پر متفق

    عمان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ ملک اور ایران نے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے معاہدے تک پہنچنے کے مقصد سے اپنے تکنیکی اور سیاسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اس مسئلے پر بات چیت کے لیے عمان گئے ہیں۔

    آج اپنے دورے کے دوران انھوں نے عمانی وزیر خارجہ بدر بسیدی سے ملاقات کی۔

    عباس عراقچی نے اپنے ٹیلیگرام چینل پر لکھا کہ دونوں ممالک نے ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے مناسب طریقہ کار پر خیالات کا تبادلہ کیا۔‘

    ادھر ایک امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ میڈیا میں بعض قیاس آرائیوں کے باوجود امریکی تکنیکی ٹیم عمان میں جاری مذاکرات میں براہ راست شریک نہیں ہوگی۔ تاہم امریکہ عمانی اور قطری حکام کے ذریعے مذاکراتی عمل سے رابطے میں رہے گا۔

    یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں کم از کم تین تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات کے بعد قطر، سعودی عرب اور امریکہ نے ان حملوں کا ذمہ دار ایران کو قرار دیا تھا۔

    ان واقعات کے بعد امریکہ نے مسلسل دو رات ایران میں مختلف اہداف پر فوجی حملے کیے، جس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    پریس ٹی وی، جو ایران کا سرکاری انگریزی زبان کا نیوز چینل ہے، نے ایک سینیئر انٹیلی جنس ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے لیے اپنے انتظامی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے اور ’امریکی دھمکیوں، نفسیاتی دباؤ اور میڈیا مہم‘ کے سامنے پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل اقوام متحدہ کی میری ٹائم ایجنسی کی گورننگ کونسل نے رکن ممالک کو مشورہ دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز پر ایران کی خودمختاری کے دعوے اور آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت کی نگرانی سے متعلق اس کے ’یکطرفہ فیصلے‘ کو تسلیم نہ کریں۔

    سعودی اور امریکی وزرائے خارجہ کا رابطہ، خطے کے امن اور سمندری سلامتی پر زور

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فون پر گفتگو کے دوران خطے کی تازہ صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی پریس ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھیں گے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی اور امریکی قیادت نے مختلف سیاسی سطحوں پر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر بحری جہازوں اور اہم سمندری گزرگاہوں کی سلامتی کی اہمیت پر زور دیا گیا، جبکہ خطے میں استحکام کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت کا اعادہ بھی کیا گیا۔

    یہ رابطے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گذشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد سعودی عرب اور امریکہ ایران پر ان حملوں کی ذمہ داری عائد کر چکے ہیں، تاہم تہران نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

    آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اور وہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی سلامتی پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔