بریکنگ, تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات، حکومت سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے سات روز میں دو تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے: تحریک انصاف کے تحریری مطالبات

،تصویر کا ذریعہPTI
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جمعرات کو منعقد ہوا جس میں تحریک انصاف نے تین صفحات پر مشتمل اپنے تحریری مطالبات پیش کر دیے ہیں۔
پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دیے جائیں۔
تحریری مطالبے کے مطابق ’کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ سات روز میں کی جائے۔‘
تحریری مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نو مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے۔ کمیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری بھی کرے۔
پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی ادوار سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں ہو چکے ہیں تاہم تقریبا دو ہفتے سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔
مطالبے کے نکات کے مطابق ’کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔‘
تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ دوسرا کمیشن نومبر کے آخری ہفتے میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرے اوراسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے۔
پی ٹی آئی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے۔
مطالبے کے تحت کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے۔ تحریری مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں۔
تحریری مطالبات کا جواب تحریری دیا جائے گا: عرفان صدیقی
مذاکرات سے قبل حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مذاکرات آئین قانون اور روایات کی بنیاد پر ہوں گے۔ تحریری مطالبات آنے پرغور کر کے تحریری جواب دیا جائے گا۔
عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ ’مذاکرات راستہ نکالنے کے لیے ہوتے ہیں اسی لیے کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس امید کا اظپہار کیا کہ اپوزیشن کو 31 جنوری سے پہلے جواب دے دیں گے۔
دوسری جانب اجلاس سے پارلیمنٹ کی راہداری میں میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور کا اس نشست سے قبل کہنا تھا ابھی تو مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں، اتفاق رائے کے حوالے سے پتہ چل جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا بیک ڈور مذاکرات کی ضرورت نہیں جب اوپن مذاکرات ہورہے ہیں۔






