عمران خان صدر زرداری سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں: وزیر قانون

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے عمران خان کو ملنے والی سزا کے حوالے سے کہا ہے کہ ’آرٹیکل 45 کے تحت سربراہ مملکت یعنی صدر کے پاس یہ اختیار ہے اور اس پر عدالتی فیصلے بھی ہیں۔ اگر کوئی صدر کو رحم کی اپیل کرتا ہے اور صدر کو لگتا ہے کہ وہ رحم کے قابل ہیں تو وہ معاف کر سکتے ہیں۔‘

خلاصہ

  • پی ٹی آئی کی جانب سے جاری عمران خان کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف حالیہ فیصلے نے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے تمام وہ مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
  • اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کو 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔
  • وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ عمران خان صدر زرداری سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں۔
  • اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر کا کہنا ہے کہ حماس کے ساتھ 'یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے پر' اتفاق ہوگیا ہے۔
  • وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے مغربی افریقہ سے سپین جانے والی غیر قانونی تارکینِ وطن کی کشتی کو پیش آنے والے حادثے میں 40 کے قریب پاکستانیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات، حکومت سنجیدگی ظاہر کرنے کے لیے سات روز میں دو تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے: تحریک انصاف کے تحریری مطالبات

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جمعرات کو منعقد ہوا جس میں تحریک انصاف نے تین صفحات پر مشتمل اپنے تحریری مطالبات پیش کر دیے ہیں۔

    پی ٹی آئی کے تحریری مطالبات میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت چیف جسٹس یا سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل دو کمیشن آف انکوائری تشکیل دیے جائیں۔

    تحریری مطالبے کے مطابق ’کمیشن کے ججز کی تعیناتی تحریک انصاف اور حکومت کی باہمی رضا مندی کے ساتھ سات روز میں کی جائے۔‘

    تحریری مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کمیشن بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نو مئی سے متعلق گرفتاری کی انکوائری کرے۔ کمیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں رینجرز اور پولیس کے داخل ہونے کی انکوائری بھی کرے۔

    پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری کے بعد نو مئی واقعات کی سی سی ٹی وی ویڈیو کی تحقیقات کی جائے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکراتی ادوار سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں ہو چکے ہیں تاہم تقریبا دو ہفتے سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار تھے۔

    مطالبے کے نکات کے مطابق ’کمیشن ملک بھر انٹرنیٹ شٹ ڈاون کی تحقیقات کرے اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔‘

    تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ دوسرا کمیشن نومبر کے آخری ہفتے میں ہونے والے واقعات کی تحقیقات کرے اوراسلام آباد میں مظاہرین پر فائرنگ اور طاقت کے استعمال کا حکم دینے والوں کی شناخت کرے۔

    پی ٹی آئی کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ کمیشن مظاہرین کے خلاف طاقت کے زیادہ استعمال کے ذمہ داران کی شناخت کرے۔

    مطالبے کے تحت کمیشن میڈیا سنسر شپ کے واقعات کی تحقیقات کرے۔ تحریری مطالبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت سمیت سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں تمام سیاسی قیدیوں کی ضمانت یا سزاوں کی معطلی کے احکامات جاری کریں۔

    تحریری مطالبات کا جواب تحریری دیا جائے گا: عرفان صدیقی

    مذاکرات سے قبل حکومتی کمیٹی کے ترجمان سینیٹر عرفان صدیقی نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ مذاکرات آئین قانون اور روایات کی بنیاد پر ہوں گے۔ تحریری مطالبات آنے پرغور کر کے تحریری جواب دیا جائے گا۔

    عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ ’مذاکرات راستہ نکالنے کے لیے ہوتے ہیں اسی لیے کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس امید کا اظپہار کیا کہ اپوزیشن کو 31 جنوری سے پہلے جواب دے دیں گے۔

    دوسری جانب اجلاس سے پارلیمنٹ کی راہداری میں میڈیا سے گفتگو میں علی امین گنڈا پور کا اس نشست سے قبل کہنا تھا ابھی تو مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں، اتفاق رائے کے حوالے سے پتہ چل جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا بیک ڈور مذاکرات کی ضرورت نہیں جب اوپن مذاکرات ہورہے ہیں۔

  2. سویلینز کے فوجی ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل: کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی، جسٹس حسن اظہر رضوی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    سپریم کورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل کی سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی بینچ نے کی۔

    جمعرات کے روز ہونے والی سماعت میں وزرات دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے آج بھی اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ سیکشن 2(1) ڈی ون اگر درست قرار پاتا ہے تو نتیجہ کیا ہوگا، قانون کے سیکشنز درست پائے تو یہ ٹرائل کے خلاف درخواستیں نا قابل سماعت تھیں۔ ملٹری ٹرائل میں پورا پروسیجر فالو کیا جاتا ہے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ’عدالت نے آپ سے خصوصی ٹرائل والے کیسز کا ریکارڈ مانگا تھا۔ عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ ٹرائل میں شہادتوں پر کیسے فیصلہ ہوا،تاہم عدالت کو یہ ریکارڈ دینے سے انکار کر دیا گیا، حکومتی وکیل کو یہ جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔‘

    خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کو ایک کیس کا ریکارڈ جائزے کے لیے دیکھا دیا جائے گا۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کو پروسیجر دیکھنا ہے کیا خصوصی عدالت میں فئیر ٹرائل کے تقاضے پورے ہوئے۔

    جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ ہائیکورٹس نہ ہی سپریم کورٹ میرٹس کا جائزہ لے سکتی ہے۔

    جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ عدالت نے ٹرائل میں پیش شواہد کو ڈسکس نہیں کرنا، عدالت محض شواہد کا جائزہ لینا چاہتی ہے۔ نیچرل جسٹس کے تحت کسی کو سنے بغیر سزا نہیں ہو سکتی۔

    خواجہ حارث نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اگر قانون کے سیکشنز درست قرار پائے تو درخواستیں نا قابل سماعت ہوگی۔ عدالت بنیادی حقوق کے نقطہ پر سزا کا جائزہ نہیں لے سکتی۔

    دوران سماعت خواجہ حارث نے ماضی کے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خصوصی عدالتوں میں شفاف ٹرائل کا پروسیجر پورا کیا جاتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جس فیصلے کے خلاف اپیل کی گئی ہے اس میں شفاف ٹرائل کا ذکر ہے، کیسے ممکن ہے کہ شفاف ٹرائل کے پہلو کا جائزہ نہ لیں۔

    خواجہ حارث نے کہا کہ آرٹیکل 8(3) اور 8(5) کی موجودگی میں ٹرائل کے خلاف درخواستیں نا قابل سماعت تھیں۔ پانچ رکنی بینچ نے قابل سماعت ہونے کے نقطہ کا جائزہ درست نہیں لیا۔ عدالت ٹرائل کے ریکارڈ کا میرٹ پر جائزہ بھی نہیں لے سکتی۔ ایف بی علی کیس میں جرم ہوا تو ملزمان سروس سے ریٹائرڈ ہو چکے تھے۔

    جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ فیئر ٹرائل کا آرٹیکل 10 اے نہ بھی ہو تب بھی پروسیجر تو فالو کرنا ہوگا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا آرٹیکل 8(3) میں بنیادی حقوق واپس لے لیے گئے ہیں جس پر وزارت دفاع کے وکیل نے کہا کہ یہ آرٹیکل 1973 سے آئین میں شامل ہے۔ ایف بی علی کیس میں ملزمان کے فئیر ٹرائل کا جائزہ بھی لیا گیا تھا۔

  3. توشہ خانہ ٹو: عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت سے متعلق درخواست پرعدالت کے اعتراضات برقرار, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    عمران خان اور بشریٰ بی بی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو میں ان کی بریت سے متعلق درخواست پرعدالت نے اعتراضات برقرار رکھتے ہوئے ان کے وکیل کو ان اعتراضات کو دور کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے اوپر سماعت کی۔

    درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے تو عدالت نے استفسار کیا کہ اس پر اعتراضات کیا ہیں جس پر وکیل سلمان صفدر نے آگاہ کیا کہ مصدقہ کاپیز ساتھ منسلک نہ ہونے کا اعتراض عائد کیا گیا ہے۔ تمام آرڈرز مصدقہ کاپیز ساتھ منسلک کر دی ہیں تاہم ٹرائل کورٹ کا مکمل ریکارڈ مانگ رہے ہیں۔

    بیرسٹرسلمان صفدر نے بتایا کہ ’رجسٹرار آفس کو اعتراض ہے کہ دو ملزمان کے لیے ایک ہی درخواست دائر کردی گئی۔ تاہم ہمارا موقف تھا کہ دونوں کا کیس ایک ہے آرڈر ایک ہے اسی وجہ سے ایک ہی درخواست دائر کردی گئیں۔

    سلمان صفدر کے مطابق توشہ خانہ ون، سائفر اور عدت نکاح میں بھی یہی طریقہ کار رہا۔ سب لوگوں کو سردیوں کی چھٹیاں ملیں ہمیں نہیں ملیں ۔ ایک ہفتے میں ٹرائل کی تین سماعتیں ہو رہی ہیں جو غیر مناسب ہے۔ ٹرائل کورٹ کی کوشش تھی کہ سردیوں میں ہی کیس نمٹا دیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے عدالت کو بتایا کہ سات گواہ ہو چکے آج کے لیے بھی تین گواہ عدالت نے رکھے ہوئے ہیں۔ تیزی سے ٹرائل آگے بڑھ رہا ہے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ہائیکورٹ ، ٹرائل کورٹ کو کہہ دے کہ ٹرائل تیز نا چلائیں؟ جس پر سلمان صفدر نے استدعا کی کہ ’جب تک ہماری اس درخواست کو ڈائری نمبر نہیں لگ جاتا عدالت ایسا آرڈر کردے۔‘

    عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو رجسٹرار آفس کے اعتراضات دور کر کے درخواست جمع کرنے کی ہدایت کر دی۔

  4. کرم میں امن کا قیام دونوں فریق اور عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں: بیرسٹر سیف, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

    کرم میں حالات کشیدہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا ہے کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا کی قیادت میں خیبر پختون خوا حکومت کرم معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہے، کرم میں امن کا قیام دونوں فریق اور عوام کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

    مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے یہ بات اہلسنت واہل تشیع وفود کی اپنے دفتر میں ہونے والی الگ الگ ملاقاتوں کے درمیان کہی۔

    اس حوالے سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں فریقین نے امن معاہدے کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اور انھوں نے بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو اپنے اپنے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔

    بیان کے مطابق بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے دونوں فریقین کے تحفظات بغور سنیں اور دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ دوسری جانب دونوں وفود نے کرم معاملے پر حکومت کو بھی اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    بیان کے مطابق دونوں وفود نے کرم میں قیام امن کے لئے حکومتی فیصلوں کا خیر مقدم کیا اورفریقین نے بنکرز کی مسماری سمیت تمام حکومتی فیصلوں پر عمل درامد کا اعادہ کیا۔

    یاد رہے کہ کئی ماہ سے خیبر پختونخوا کے ضلع کرم میں حالات مسلسل کشیدہ ہیں اور گزشتہ روز سے مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز نے مخالف گروہوں کے دو بنکرز مسمار کرنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

    رواں برس خیبر پختونخوا کے ضلع کُرم میں فرقہ وارنہ فسادات میں ناصرف 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں بلکہ نہ ختم ہونے والی کشیدگی کے باعث کُرم کے صدر مقام پاڑہ چنار جانے والی رابطہ سڑکیں بندرہیں جس کے باعث اس علاقے میں ادویات، خوراک اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا بھی ہوا۔

    مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے ایک ایک بنکر دونوں جانب سے مسمار کیے گئے ہیں ان میں ایک بنکر بالیش خیل اور دوسرا بنکر خار کلی میں مسمار کیا گیا ہے

    اس موقع پر بیرسٹر ڈاکٹر سیف نہ کہا کہ کرم کے عوام کو حکومت کا ساتھ دینا ہوگا۔ ان کے مطابق وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے ایک صدی سے زائد اس تنازع کے پرامن حل میں خصوصی دلچسپی لی۔

    بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے کہا کہ کرم کے لیے امدادی سامان کا بڑا قافلہ عنقریب روانہ کیا جائے گا۔

  5. پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق آج سے شروع ہو گیا ہے۔

    نئئ قیمتوں کے نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں تین روپے 47 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل دو روپے 61 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    حالیہ اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 256 روپے 13 پیسے مقرر ہوگئی ہے جبکہ فی لیٹرل ڈیزل 260 روپے 95 پیسے میں دستیاب ہوگا۔

    نوٹیفکیشن

    ،تصویر کا ذریعہScreen Grab/Twitter

    یاد رہے کہ حکومت نے اس سے قبل نئے سال کے آغاز پر بھی پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا تھا۔

    وزارت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 56 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد یکم جنوری سے 15 جنوری تک اس کی نئی قیمت 252 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

    تاہم نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 96 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب اس کی نئی قیمت 258 روپے 34 پیسے مقرر کر دی گئی ہے۔

  6. جلد ہی یرغمالی اپنے گھروں میں خاندان والوں کے ساتھ ہوں گے: جو بائیڈن

    صدر بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر جو بائیڈن نے نائب صدر کملا ہیرس اور وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’جلد ہی یرغمالی اپنے گھروں میں خاندان والوں کے ساتھ ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ معاہدے میں مکمل جنگ بندی، اسرائیلی فوجوں کے غزہ سے انخلا اور حماس کی جانب سے یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

    جو بائیڈن کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں فلسطینی اپنے علاقوں میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے اور غزہ کی پٹی پر انسانی امداد کی فراہمی بڑھائی جائے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں دوسرے مرحلے میں جنگ کے مکمل خاتمے کے حوالے سے ضروری تیاروں پر بات ہو گی۔ اگر یہ مذاکرات چھ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک جاری رہتے ہیں تو جنگ بندی جاری رہے گی۔

    صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ تیسرے مرحلے میں بقیہ یرغمالیوں کو اپنے خاندانوں تک پہنچانا ہو گا اور غزہ میں تعمیر نو کا کام شروع ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے تک پہنچنا ’آسان نہیں تھا اور ان کے تجربے کے مطابق یہ سب سے مشکل مذاکرات میں سے ایک تھے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ایران گذشتہ دہائیوں کے مقابلے میں خاصا کمزور ہے اور حزب اللہ بھی ’بری طرح کمزور ہو چکا ہے۔‘

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ 15 ماہ کی جنگ کے بعد حماس کے سینیئر رہنما ہلاک ہو چکے ہیں، ہزاروں جنگجو بھی مارے گئے ہیں اور اب یہ آپریشنل اعتبار سے کمزور ہو چکی ہے اس لیے اس نے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی ٹیم نے ’ایک ٹیم‘ کے طور پر ان مذاکرات میں کردار ادا کیا ہے۔

  7. گزشتہ روز کی اہم خبروں کا خلاصہ

    بی بی سی اردو کی لائیو کریج کا سلسلہ جاری ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے آپ یہاں گزشتہ روز کی چیدہ چیدہ خبروں کا خلاصہ پڑھ سکتے ہیں۔

    • صدر جو بائیڈن نے بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ امریکی یرغمالیوں کے اہل خانہ نے جنگ بندی معاہدے پر بائیڈن اور ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے
    • جنگ بندی کے معاہدے کی خبریں سامنے آنے کے بعد غزہ کی پٹی میں فلسطینی سڑکوں پر اس معاہدے کا جشن منا رہے ہیں۔ دوسری جانب تل ابیب میں لوگ اسرائیلی یرغمالیوں کی جلد واپسی کی اطلاعات پر جشن منا رہے ہیں۔
    • راولپنڈی کے اڈیالہ جیل میں 9 مئی 2024 کو پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) پر حملے سے متعلق کیس کا بدھ کے روز باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا ہے اور مقدمے کی پہلی سماعت کے دوران استغاثہ نے چار گواہان اور دیگر ثبوت بھی پیش کیے گئے۔
    • پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر محمد بن زاید النہیان اور پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے خلاف آرٹیفشل انٹیلیجنس (اے آئی) کی مدد سے بنایا گیا ’انتہائی ہتک آمیز‘ مواد شیئر کرنے پر پانچ مزید افراد کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
    • پاکستان کے وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے الیکٹرک وہیکل (ای وی) چارجنگ سٹیشنز کے قواعد و ضوابط بنا لیے ہیں اور وہ چاہیں گے کہ ملک کے ہر محلے میں چارجنگ سٹیشن ہوں۔
    • پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی عدم موجودگی کو جواز بنا کر 190 ملین پاؤنڈ (القادر ٹرسٹ) کیس کا فیصلہ موخر کرنا انتہائی مضحکہ خیز اور عدالتی نظام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔