گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو: ٹرمپ کے وزیر خزانہ

امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکہ کا حصہ ہو، اور اگر وہ امریکہ کا حصہ ہو تو اسے دفاع کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔‘ انھوں نے کہا کہ ’میرا یقین ہے کہ یورپی ممالک سمجھ جائیں گے کہ یہ گرین لینڈ کے لیے بہتر ہے، یورپ کے لیے بہتر ہے اور امریکہ کے لیے بھی بہتر ہے۔‘

خلاصہ

  • امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں ایک کارروائی میں تین امریکی فوجیوں کے قتل میں ملوث القاعدہ کے ایک رہنما مارے گئے ہیں۔
  • کراچی کے گُل پلازہ میں لگنے والی آگ میں ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی۔ آگ بجھانے کا عمل تاحال جاری۔
  • ایرانی رہبرِ اعلیٰ کا احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد کی ہلاکتوں کا اعتراف، امریکی صدر کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔
  • امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے الزامات پر کہا ہے کہ ’صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے۔‘
  • مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر 'غزہ بورڈ آف پیس' کے رُکن نامزد

لائیو کوریج

  1. کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر گُل پلازہ میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک متعدد زخمی

    Social Media

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل شاپنگ پلازہ میں آگ لگنے سے تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

    ریسکیو 1122 اور ایدھی سروس کے مطابق آگ لگنے کے باعث ہلاک ہونے والے تین افراد اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ہسپتال منتقل کیے جانے والے افراد میں سے چند کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ شاپنگ پلازہ میں کئی افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ہے۔

    تاہم پلازہ پھنسے افراد کو نکالنے اور آگ پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔

  2. اس بار ہر چوک ہی ڈی چوک ہو گا: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ عمران خان نے سٹریٹ موومنٹ کی باقاعدہ تیاری کا حکم دے دیا ہے جس کے تحت پورے ملک میں اس تحریک کی منظم تیاری کی جا رہی ہے۔

    پریس سیکریٹری برائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سہیل آفریدی نے سٹریٹ موومنٹ کے سلسلے میں اتوار کے روز ضلع ہری پور سے مانسہرہ تک منعقد ہونے والی ریلی کی قیادت کی۔

    وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کا پیغام ملک کے کونے کونے تک پہنچایا جا رہا ہے اور اس سٹریٹ موومنٹ کو اس کے عروج تک لے جایا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس تحریک میں ملک کا ہر شہر، ہر گاوں اور ہر چوک تحریک کا مرکز بنے گا اور اس بار ہر چوک ہی ڈی چوک ہو گا جہاں عوام اپنے حق کے لیے آواز بلند کریں گے۔

    ہری پور میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہری پور کے عوام عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں، مگر بدقسمتی سے ایک بار پھر عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ اانھوں نے دعویٰ کیا کہ ’کراچی، لاہور، حیدر آباد اور دیگر اضلاع میں عوام کی جانب سے جس جوش و جذبے اور وابستگی کا اظہار کیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان آج بھی عوام کے دلوں کی آواز ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ عمران خان ختم ہو چکے ہیں، وہ آج دیکھ لیں کہ پورے ملک میں صرف عمران خان کا نام گونج رہا ہے۔ عمران خان کی قیادت میں حقیقی آزادی کی جو جدوجہد شروع کی گئی ہے، وہ دن بدن مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

    ’ ہماری جدوجہد مضبوط جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بحالی کے لیے ہے، اور اس مقصد کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔‘

    اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے ہزارہ ڈویژن کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریلی کے دوران عوام کی جانب سے جس والہانہ جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا گیا، وہ اس بات کا واضح اعلان ہے کہ عوام اس تحریک کے ساتھ کھڑے ہیں۔

  3. ایمان مزاری اور ہادی علی کے ایک بار پھر وارنٹ گرفتاری جاری

    ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں وارنٹ گرفتاری اورضمانت منسوخ کرنے کے عدالتی احکامات واپسی کی استدعا مسترد کر دی اور دونوں ملزمان کے ایک بار پھر وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

    سنیچر کو متنازع ٹویٹ سے متعلق درج مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹر رانا عثمان عدالت پیش ہوئے، عدالت نے این سی سی آئی اے سے دونوں ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے رپورٹ طلب کی۔

    ملزمان کے وکیل ریاست علی آزاد اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے، ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ عدالت کے سامنے سرنڈر کر دیتے ہیں اور پیش ہو جاتے ہیں،ہماری درخواست ہے کہ عدالت گرفتار کرکے ویڈیو لنک پر پیش کرنے کا حکم معطل کر دے۔

    جج محمد افضل مجوکا نے کہا کہ ملزمان کی عدم موجودگی میں 342 کا بیان ہو سکتا ہے، دلائل مکمل ہو گئے ہیں، پانچ منٹ میں اس پر آڈر کرتے ہیں۔

    جج افضل مجوکا نے کہا کہ این سی سی آئی اے کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہیں کروایا جاسکا۔

    عدالت کے مطابق ضمانت منسوخی کا فیصلہ معطل نہیں کیا جا سکا۔ عدالت کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں،این سی سی آئی اے اور ڈی آئی جی آپریشنز ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت پیش کیا جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

  4. صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے: امریکی محکمہ خارجہ کا ایران کو انتباہ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہTRUMP VANCE TRANSITION TEAM HANDOUT/EPA

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے فارسی زبان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرجاری ایک پیغام میں ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور امریکہ کے خلاف بیانات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

    اس پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’اگر اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ کے اثاثوں پر حملہ کرے گا تو اسے ایک نہایت طاقتور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ ان کے سامنے تمام آپشنز موجود ہیں۔‘

    پیغام کے ایک اور حصے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور دوبارہ خبردار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کھیل نہ کھیلا جائے۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر اسلامی جمہوریہ ایران نے مظاہرین کو مارنے اور قیدیوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔

    اپنے تازہ ترین بیانات میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے 800 افراد کو سزائے موت دینے سے گریز کیا جس کے لیے اسلامی جمہوریہ کی ’قیادت‘ کے شکر گزار ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے رہبر علی خامنہ ای نے آج ایک خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مجرم‘ قرار دیا ہے۔

  5. حالیہ بغاوت کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی، منظم کارروائیوں کا مقصد ایران پر غلبہ پانا تھا: خامنہ ای کا الزام

    آیت اللہ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہnews media

    ،تصویر کا کیپشنآیت اللہ خامنه ای نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی نظر میں صدر ٹرمپ ایران میں ہونے والے احتجاج کے اصل مجرم ہیں

    آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ملک کو جنگ کی طرف لے جانے کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم ساتھ ہی انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں منظم کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں امریکی صدر ملوث رہے، ہنگاموں کے پیچھے موجود ملکی اور بین الاقوامی مجرموں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے سنیچر کے روز ایک تقریب سے خطاب کے دوران مزید کہا کہ ’میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ حالیہ بغاوت کی منصوبہ بندی امریکہ نے کی۔ امریکہ کی جانب سے منظم انداز میں کارروائیاں کی گئیں جس کا مقصد ایران پر غلبہ پانا تھا۔‘

    خامنہ ای نے مزید کہا کہ ’ اسلامی انقلاب کے آغاز سے آج تک امریکہ ایران پر اپنی بالادستی کھو چکا ہے جسے وہ دوبارہ اپنی فوجی، سیاسی اور اقتصادی بالادستی کے تحت لانا چاہتا ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’ ایران میں ماضی کی متعدد بغاوتوں میں عام طور پر امریکی یا یورپی سیاست دانوں کے دوسرے درجے کے رہنما اور ذرائع ابلاغ مداخلت کرتے رہے ہیں۔‘

    سکرین شاٹ

    ،تصویر کا ذریعہ@khamenei_ir

    ان کے مطابق ’اس بغاوت کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار خود امریکی صدر نے اس میں براہِ راست مداخلت کی اور بغاوت کرنے والوں کو حوصلہ افزائی کی۔ یہ معاملہ صرف موجودہ امریکی صدر تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ امریکہ کی عمومی پالیسی ہے۔‘

    بی بی سی فارسی کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ ’حالیہ بغاوت میں جو لوگ املاک کو آگ لگانے، جلانے، نقصان پہنچانے، فساد کرنے اور ایران کو تباہ کرنے کے لیے گئے تھے، انھیں ایرانی عوام کے طور پر متعارف کرایا گیااور ایرانی قوم کے خلاف بہتان تراشی کی گئی۔ میں نے جو وجوہات پیش کی ہیں اس کے دستاویزی ثبوت ہیں، امریکہ اور صیہونی حکومت دونوں مجرم ہیں۔‘

    ان کے بقول ’امریکی اور صہیونی سازش کے خلاف جنگ میں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی اہلکاروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور دشمن کی سازش کو نیست و نابود کر دیا۔‘

  6. کراچی: بچوں کے اغوا اور ریپ کے الزام میں دو ملزمان تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

    بچوں کے اغوا اور ریپ کے الزام میں ملزم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کراچی پولیس نے اغوا کی کوشش کے دوران پکڑے گئے دو ملزمان کو سیریل ریپسٹ قرار دے کر متعدد بچوں کے ساتھ ریپ کے الزام میں ان کا تین روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا ہے۔

    ان دونوں ملزمان کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔

    محمود آباد پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے ابتدائی تفتیش میں درجنوں بچوں کے ساتھ ریپ کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد سے ملزم سے مزید تفتیش کی جانی ہے جبکہ متاثرہ بچوں کے بیانات ریکارڈ کرنے ہیں۔

    عدالت نے ملزم کو پولیس کے حوالے کردیا۔

    گرفتاری کیسے ہوئی

    ان دونوں ملزمان کو ٹیپو سلطان پولیس نے بچے کو اغوا کرنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔

    تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ مغوی بچے کے شور کرنے پر لوگوں نے ملزم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا۔ ملزم کے خلاف محمود آباد، ٹیپو سلطان، کورنگی انڈسٹریل ایریا اور دیگر تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان صدوزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو ایک لیببارٹری رپورٹ موصول ہوئی کہ سات ایسے کیسز ہیں جن میں بچوں کے ساتھ ریپ کی تصدیق کی گئی اور ان میں زیادتی کرنے والا ملزم ایک ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ایک تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ ملزم سرجانی ٹاون سے ایک بچے کو زیادتی کی نیت سے اغوا کرکے لے جارہا تھا تو پولیس نے اس کو گرفتار کیا۔

    ’دوران تفتیش سی سی ٹی وی فوٹیج سے ان کی مشابہت ہوئی جس کے بعد متاثرین بچوں کو بلایا گیا جن میں سے تین بچوں نے ملزم کی شناخت کی۔‘

    ملیر ندی میں واردات

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن عثمان صدوزئی کے مطابق ملزم کا ایک طریقہ کار تھا کہ وہ سنیچر کی شام چھ بجے سے رات بارہ بجے کے درمیان بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر ملیر ندی لے جاتا اور ان کا ریپ کرتا تھا۔ یہ بچے دس سے چودہ سال کے لڑکے ہوتے تھے۔

    ان کے مطابق ایک بچے کو موٹر سائیکل کا نمبر بھی یاد تھا جس کی بھی تحقیقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ گاڑی چوری کی تھی، ملزم بچوں کو مختلف لالچ دےکر راغب کرتا۔

    نو مقدمات میں گرفتاری

    پولیس تفتیش کے مطابق ملزم ملیر ندی کے قریب ایک کالونی کا رہائشی اور شادی شدہ ہے۔

    پولیس کے مطابق کبھی ہفتے میں ایک بار تو کبھی پندرہ دن میں دو بار بچوں کو ورغلا کر لے جاتا اس وجہ سے پولیس کا اندازہ ہے کہ متاثرین کی تعداد زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس وقت تک نو مقدمات دائر ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ملزم پر پہلا مقدمہ سنہ 2020 اور آخری مقدمہ 2025 کو دائر کیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ چھ سالوں سے یہ کام کر رہا تھا، ملزم کا ڈی این اے لیا گیا ہے جبکہ متاثرین بچوں کی ڈی این اے رپورٹس پہلے سے موجود ہیں۔

  7. ایران کے دارالحکومت تہران میں کل سے سکول کھولے جانے کا اعلان

    تہران کے ڈائریکٹر جنرل برائے تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ دارالحکومت میں سکول کل (اتوار 18 جنوری) سے کھول دیے جائیں گے۔

    ایران کے خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق گزشتہ ہفتے فضائی آلودگی کے ایمرجنسی ورکنگ گروپ کی رائے کے بعد صوبہ تہران کے سکولوں میں تعلیمی سیشنز آن لائن منعقد کیے جا رہے تھے۔

    اگرچہ ایران کے سرکاری میڈیا نے بندش کی وجہ فضائی آلودگی کو بتایا ہے تاہم ایران میں 20 دنوں سے زائد عرصے سے ملک گیر احتجاج جاری ہے جس نے تعلیم سمیت ہر شعبہ زندگی کے معمولات کو متاثر کیے رکھا ہے۔

    یاد رہے کہ احتجاج میں شدت آنے کے بعد سے تقریبا گزشتہ ایک ہفتے سے انٹرنیٹ اور مواصلات مکمل طور پر منقطع یا محدود ہیں۔

  8. ایران میں احتجاج کے اصل مجرم ٹرمپ ہیں: خامنہ ای کا الزام

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنه ای

    ،تصویر کا ذریعہTabnak

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنه ای نے ایک بار پھر صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں ہونے والے احتجاج کے اصل مجرم ہیں۔

    آیت اللہ خامنہ ای نے عیدِ مباعث (ایران کا مذہبی تہوار) کی تقریب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امریکی صدر کو ان جانی و مالی نقصانات اور بہتان تراشی کے لیے ’قصوروار‘ سمجھتا ہے جو انھوں نے ایرانی قوم پر ڈھائے ہیں۔

    یاد رہے خامنه ای نے تہران میں کرنسی کی قدر میں کمی سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد اپنی پہلی تقریر میں مظاہرین کو ’فسادی‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں ان کی جگہ پر رکھنا ضروری ہے۔‘

  9. ایران: احتجاجی مظاہروں میں ملوث 1500 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، پولیس کا دعویٰ

    ایران میں مظاہرے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے صوبے گیلان میں پولیس نے مجموعی طور پر 1500 سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق گیلان کے پولیس کمانڈر حسین حسن پور نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں اس صوبے میں ہونے والے احتجاج کے دوران اب تک 1500 سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے اسنا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ’ وہ تمام افراد جو فسادات کے دوران کسی بھی فتنے اور تخریب کاری میں ملوث پائے گئے ہیں ان کی شناخت اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘

    حسین حسن‌ پور نے کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں سے 50 افراد کو احتجاج کی قیادت میں ملوث پایا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ موجودہ احتجاجی مظاہروں میں ایرانی حکام پہلے سے زیادہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مظاہرین اور ’فسادیوں‘ میں فرق کیا جائے۔

    واضح رہے کہ ’فسادی‘ وہ اصطلاح ہے جو ایرانی حکومت نے ماضی کے ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں مظاہرین پر بارہا بغیر کسی امتیاز کے استعمال کی ہے۔

  10. عراقی وزیر خارجہ اتوار کو ایران کا دورہ کریں گے: ایرانی میڈیا

    ایرانی میڈیا نے خبر دی ہے کہ عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کل بروز اتوار 18 جنوری کو تہران کا دورہ کریں گے۔

    ایران کی نیوز ایجنسی اسنا کے مطابق اس دورے کا مقصد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر ایرانی حکام سے ملاقات اور موجودہ صورتحال سمیت دیگر امور پر بات چیت کرنا ہے۔

    یاد رہے کہ فواد حسین کا بطور وزیر خارجہ ایران کا یہ پہلا سرکاری دورہ ہے۔

  11. کیا انڈیا امریکی پابندیوں کے خوف سے چابہار بندرگاہ منصوبے سے الگ ہو رہا ہے؟

    چابہار

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے تمام ممالک پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد سے انڈیا اور ایران کے مشترکہ چابہار بندرگاہ منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔

    ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں واقع چابہار بندرگاہ انڈیا اور ایران مشترکہ طور پر تیار کر رہے تھے تاکہ انڈیا کو وسطی ایشیائی ممالک اور افغانستان تک براہ راست رسائی حاصل ہو سکے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ برس انڈیا کا ایران کے ساتھ تجارت کا کل حجم 1.6 ارب امریکی ڈالرز تھا جو کہ انڈیا کی کل تجارت کا محض 0.15 بنتا ہے۔

    چابہار منصوبہ انڈیا کے لیے اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ اسے پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے وسطی ایشیا تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، امریکہ کی جانب سے اضافی محصولات کے اعلان بعد سے چابہار بندرگاہ سے انڈیا کے انخلا کی خبریں زور پکڑ رہی ہیں۔

    جب ان اطلاعات کے حوالے سے انڈیا کی حکومت سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ چابہار بندرگاہ مکمل طور پر فعال رہے۔

    جمعہ کے روز وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، گذشتہ سال 28 اکتوبر کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک خط جاری کیا جس میں مشروط پابندیوں سے چھوٹ کے متعلق گائیڈ لائنز فراہم کی گئی تھیں جس کی میعاد 26 اپریل 2026 تک ہے۔

    جیسوال کا کہنا ہے انڈیا کی حکومت امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ اس انتظام کو حتمی شکل دی جا سکے۔

    یاد رہے کہ انڈین جریدے اکانامکس ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا نے مستقبل میں ممکنہ امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے چابہار منصوبے سے الگ ہو رہا ہے۔

  12. ایران میں آج سے انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں: پاسدارانِ انقلاب

    نیٹ بلاکس

    ،تصویر کا ذریعہx/netblocks/

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آج سے ملک میں انٹرنیٹ سروسز بحال کر دی گئی ہیں۔

    انٹربیٹ سروسز کی بحالی کا اعلان پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کیا۔

    اس سے قبل انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والی ایک عالمی تنظیم نیٹ بلاکس نے سنیچر کے روز کہا کہ آج صبح سے انٹرنیٹ کی ٹریفک میں مومولی بہتری آئی ہے۔

    نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ اضافے کے بعد بھی انٹرنیٹ ٹریفک بندش سے قبل کے مقابلے میں محض دو فیصد ہے۔

    ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے انٹرنیٹ کی سروسز معطل ہیں۔ یہ حالیہ برسوں میں انٹرنیٹ کی سب سے طویل بندش ہے۔

  13. دھند کے باعث سرگودھا کے نزدیک ٹرک نہر میں جا گرا، 14 افراد ہلاک

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں دھند اور تیز رفتاری کے باعث ایک ٹرک نہر میں جا گرا جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایک خاندان کے افراد وفاقی دارالحکومت اسلام اباد سے فیصل اباد میت میں شرکت کرنے کے لیے جا رہے تھے کہ گلا پور کے قریب دھند کے باعث ان کے ٹرک کو حادثہ پیش ا گیا۔

    حادثے میں 14 افراد ہلاک جبکہ نو زخمی ہو گئے۔ بیان میں کہا گیا یے کہ حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں موقع بر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوٹ مومن منتقل کر دیا گیا۔

    ریسکیو 1122 کے مطابق، حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں بھی تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال کوٹ مومن پہنچا دی گئی ہیں۔

  14. رضا پہلوی کا پاسداران انقلاب اور ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیک‘ کا مطالبہ

    رضا پہلوی

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنایران کے آخری شاہ کے بیٹے نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالیں، ایرانی سفارت کاروں کو بیدخل کریں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی دباؤ ڈالیں۔

    ایران کے آخری بادشاہ کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے دنیا سے ایران کی پاسداران انقلاب اور ایرانی کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر کے خلاف ’سرجیکل سٹرائیک‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

    امریکہ میں مقیم حزب اختلاف کے رہنما رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے ’ہمارا کام آسان ہوگا اور مزید جانوں کا ضیاع رکے گا۔‘

    65 سالہ پہلوی امریکہ میں مقیم ہیں اور وہ ایران سے باہر ہونے کے باوجود مظاہروں کے دوران نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے والد کو 1979 کے انقلاب کے دوران اقتدار سے ہٹایا گیا تھا۔ ایران کی اپوزیشن مختلف گروہوں اور نظریاتی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے جن میں پہلوی کے حامی بھی شامل ہیں۔ مگر ایران میں ان کے حامی منظم انداز میں موجود نہیں۔

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے گروپ ایچ آر اے این اے کا دعویٰ ہے کہ 28 دسمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک 2600 سے زائد افراد ہو چکے ہیں۔

    ایرانی حکومت ان مظاہروں کو ’فسادات‘ قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے پیچھے ایران کے دشمن ملوث ہیں۔

    جمعہ کے روز واشنگٹن میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا پہلوی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سکیورٹی اداروں کے کچھ حصوں نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے احتجاج کو دبانے کے لیے غیر ملکی جنگجوؤں بلائے تھے۔

    انھوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ایران کے پاسداران انقلاب کو نشانہ بنائیں، اور مطالبہ کیا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول انفراسٹرکچر پر ’سرجیکل سٹرائیک‘ کریں۔

    ایران کے آخری شاہ کے بیٹے نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالیں، ایرانی سفارت کاروں کو بے دخل کریں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کریں۔

    رضا پہلوی کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ حکومت ضرور گرے گی سوال صرف اتنا ہے کہ یہ کب ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام فیصلہ کن کارروائی کر رہی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری ان کا ساتھ دے۔

    ’دنیا کی مدد کے ساتھ یا اس کے بغیر، حکومت تو گر جائے گی۔ اگر دنیا اپنے وعدے پوارے کرے، تو یہ جلد گر جائے گی اور مزید جانیں ضائع ہونے سے بچ جائیں گی۔‘

  15. لندن میں ایرانی سفارتخانے کے باہر احتجاج، سفارتخانے کی عمارت سے پرچم اتارنے والے شخص سمیت متعدد مظاہرین گرفتار

    برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں ایرانی سفارتخانے کے باہر مبینہ طور پر پُرتشدد احتجاج میں ملوث متعدد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سفارتخانے کی چھت پر چڑھ کر پرچم اتارنے والے ایک شخص کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعے کی شام ہونے والے احتجاج کے دوران ایک شخص غیر قانونی طور ایک نجی عمارت میں داخل ہوا اور کئی بالکونیوں سے ہوتا ہوا ایرانی سفارتخانے کی چھت پر پہنچ گیا اور وہاں لگا ایک پرچم اتار دیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو املاک کو نقصان پہنچانے، بنا اجازت سفارتخانے میں داخل ہونے اور پولیس پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دیگر متعدد مظاہرین کو پُرتشدد احتجاج میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے دوران متعدد پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

  16. ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ پر قبضے کی مخالفت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی

    گرین لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ وہ ان کے گرین لینڈ کو ضم کرنے کے منصوبے کی مخالفت کرنے والے تمام ممالک پر محصولات (ٹیرف) عائد کریں گے۔

    جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس میں ہونے والی میٹنگ میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جو ممالک گرین لینڈ کے منصوبے کی حمایت نہیں کریں گے وہ ان پر ٹیرف لگا سکتے ہیں۔

    تاہم صدر ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کون سے ممالک ہیں جنھیں اس نئے ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہ ان درآمدی ٹیکسوں کو لاگو کرنے کے لیے کن اختیارات کا استعمال کریں گے۔

    خیال رہے کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے اور اس کی اپنی حکومت موجود ہے۔

    ڈنمارک اور گرین لینڈ کے علاوہ کئی دیگر ممالک بھی ٹرمپ کے اس منصوبے کے خلاف ہیں جبکہ امریکہ میں بہت سے لوگوں کو شک ہے کہ ٹرمپ ایسا کچھ کر پائیں گے۔

    گرین لینڈ ایک بہت کم آبادی والا لیکن وسائل سے مالا مال علاقہ ہے جو شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان واقع ہے۔ یہ اپنے محلِ وقوع کی وجہ سے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی انتباہی نظام اور خطے میں جہازوں کی نگرانی کے لیے بہترین جگہ ہے۔

    پہلے ہی امریکہ کے 100 سے زائد فوجی اہلکار مستقل طور پر اپنے پٹوفک اڈے پر تعینات ہیں۔ یہ گرین لینڈ کے شمال مغربی سرے پر موجود ایک میزائل مانیٹرنگ سٹیشن ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکہ چلا رہا ہے۔

    امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان موجودہ معاہدوں کے تحت، واشنگٹن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ گرین لینڈ میں جتنے چاہے فوجی بھیج سکتا ہے۔

    تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ممکنہ روسی یا چینی حملوں کے خلاف مناسب طریقے سے دفاع کے لیے اس علاقے کی ’ملکیت‘ امریکہ کے پاس ہونی چاہیے۔

    ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکہ اور ڈنمارک کے درمیان ’بنیادی اختلاف‘ پایا جاتا ہے۔

    لارس لوکی راسموسن کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو ’فتح‘ کرنے پر اصرار کر رہے ہیں جو کہ ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے یہ بات بالکل واضح کر دی کہ یہ [ڈنمارک] کے مفاد میں نہیں ہے۔‘

  17. مارکو روبیو اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ’غزہ بورڈ آف پیس‘ کے رُکن نامزد

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہBBC/Monika Ghosh

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو غزہ کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ کے دو بانی اراکین کے طور پر نامزد کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وِٹکوف اور صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی ’ایگزیکٹو بورڈ‘ کا حصہ ہوں گے۔

    ٹرمپ بورڈ کے چیئرمین کے طور پر کام کریں گے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ان کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ توقع ہے کہ یہ بورڈ عارضی طور پر غزہ کا نظم و نسق چلانے اور اس کی تعمیر نو کا انتظام کرے گا۔

    ایگزیکٹو بورڈ میں ایک نجی ایکویٹی فرم کے سربراہ مارک روون، ورلڈ بینک کے سربراہ اجے بنگا اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ گیبریل بھی شامل ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہر رُکن کے پاس ایک عہدہ ہو گا اور یہ ’غزہ کے استحکام اور طویل مدتی کامیابی کے لیے اہم ہو گا۔‘

    صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ غزہ کے حوالے سے بورڈ تشکیل دے دیا گیا اور یہ اب تک تشکیل دیا جانے والا ’سب سے باوقار بورڈ‘ ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق بورڈ کے مزید ارکان کے ناموں کا اعلان آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔

    ٹونی بلیئر 1997 سے 2007 تک برطانیہ کے وزیر اعظم رہے ہیں اور سنہ 2003 میں امریکہ کی عراق میں جنگ میں اس کے اہم اتحادی تھے۔

    عہدہ چھوڑنے کے بعد اُنھوں نے امریکہ، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کے لیے مشرق وسطی کے ایلچی کے طور پر خدمات سرانجام دی ہیں۔

  18. پھانسیوں کی منسوخی سے ’گہرا اثر‘ پڑا، ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے خود کو قائل کیا: صدر ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 800 زیادہ افراد کی پھانسی منسوخ کر دی ہیں اور وہ اس بات کا ’احترام‘ کرتے ہیں۔

    جمعے کو وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا: ایران ’گذشتہ روز 800 سے زیادہ افراد کو پھانسی دینے جا رہا تھا اور میں اس بات کا احترام کرتا ہوں کہ انھوں نے ان سزاؤں پر عملدرآمد کو منسوخ کر دیا۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے انھیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے کسی نے قائل نہیں کیا بلکہ میں نے خود کو قائل کیا۔ پھانسیوں کی مسنوخی سے گہرا اثر پڑا۔‘

  19. خاران میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 12 شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے ضلع خاران میں سکیورٹی فورسز کے ایک آپریشن میں ’فتنہ الہندوستان‘ سے تعلق رکھنے والے 12 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 15 سے 20 شدت پسندوں نے خاران میں پولیس سٹیشن، نیشنل بینک اور حبیب بینک کی عمارتوں پر حملہ کیا جس دوران انھوں نے بینکوں سے 34 لاکھ روپے کی ڈکیتی بھی کی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں 12 شدت پسندوں کو ہلاک کیا جبکہ ان کی جانب سے پولیس سٹیشن میں لوگوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کو بھی ناکام بنایا گیا۔

    اس کا کہنا ہے کہ علاقے میں آپریشن جاری ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث تمام گروہوں کو ’فتنہ الہندوستان‘ کا نام دے رکھا ہے۔ پاکستانی حکومت ان گروہوں پر انڈیا کو پشت پناہی کا الزام لگاتی ہے تاہم نئی دہلی ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کر چکا ہے۔

  20. ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کی حمایت پر صدر پوتن کا شکریہ

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن

    ،تصویر کا ذریعہSPUTNIK/KREMLIN

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے ٹیلیفونک رابطے میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کی حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    مسعود پزشکیان نے روسی صدر کے ساتھ گفتگو میں الزام عائد کیا کہ ’ایران میں حالیہ واقعات میں امریکہ اور اسرائیل کا براہِ راست کردار اور مداخلت واضح ہے۔‘

    صدر پزشکیان نے اس گفتگو میں ایران کی داخلی پالیسی کوعوام دوست کہا اور عوامی مشکلات کو ’ظالمانہ پابندیوں‘ کا نتیجہ قرار دیا۔