’نیٹو میری بدولت زندہ ہے، ورنہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نیٹو فوجی اتحاد اُن کی بدولت قائم ہے اور اُن کے بغیر یہ تاریخ کے کوڑے دان میں ہوتا۔ یہ بیان اُن کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ اگر اتحادی گرین لینڈ کے منصوبے کی مخالفت کریں تو وہ اُن پر ٹیرفز عائد کر سکتے ہیں۔
خلاصہ
متحدہ عرب امارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شمولیت کی قبول کرلی ہے
کابل میں چینی ریستوران میں دھماکے کے بعد بیجنگ نے افغان طالبان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چینی شہریوں کو تحفظ فراہم کرے
کوئٹہ میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے درجنوں سرکاری ملازمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے
روسی صدر پوتن کو غزہ 'بورڈ آف پیس' میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تصدیق
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ راجہ ناصر عباس سینیٹ میں قائد حزبِ اختلاف مقرر
رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 43 فیصد کمی
کابل میں ریستوران کے باہر دھماکہ، ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک
لائیو کوریج
کابل میں چینی ریستوران کے باہر دھماکہ، ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
،تصویر کا کیپشنکابل پولیس ترجمان کے مطابق، ہلاک ہونے والا چینی شہری مسلمان تھا جو اپنی بیوی اور افغان پارٹنر کے ساتھ چائنیز نوڈلز کا ریستوران چلا رہا تھا۔
افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک چینی ریستوران کے
باہر دھماکے میں ایک چینی شہری سمیت سات افراد ہلاک جبکہ 20 زخمی ہو گئے ہیں۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زردان کے مطابق، دارالحکومت کے
علاقے شہرِ نو میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک چینی شہری
جبکہ چھ افغان شہری شامل ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق دن تین بجے
ہوا۔
کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کے ڈاکٹرز نے بی بی سی کو بتایا ہے
کہ دھماکے کے بعد 20 زخمی ہسہتال لائے گئے تھے جن میں چار خواتین اور ایک بچہ بھی
شامل ہے۔
پولیس ترجمان خالد زردان کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا چینی
شہری مسلمان تھا جو اپنی بیوی اور افغان پارٹنر کے ساتھ چائنیز نوڈل کا ریستوران
چلا رہا تھا۔
ان کے مطابق، دھماکہ ریستوران کے باورچی خانے کے نزدیک ہوا
جس کی نوعیت کے متعلق ابھی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب شدت پسند تنظیم نام نہاد دولتِ اسلامیہ (داعش)
نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ داعش نے مبینہ حملہ آور کی تصویر بھی جاری کی ہے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کابل میں چینی ریستوران کے باہر دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انساںی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے صدر نے اپنے ساڑھے تین گھنٹے کے دورہ انڈیا کے دوران کن معاہدوں پر دستخط کیے؟
،تصویر کا ذریعہ@narendramodi/X
متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان پیر کو ساڑھے تین گھنٹے کے مختصر دورے پر انڈیا پہنچے، جہاں وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ وزیر اعظم مودی کی دعوت پر ہوا اور دونوں رہنماؤں نے تجارت، توانائی، دفاع اور خطے کی صورتحال سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
انڈیا کے خارجہ سکریٹری وکرم مصری نے بریفنگ میں بتایا کہ دورہ مختصر ضرور تھا لیکن اس دوران کئی اہم معاہدوں اور ارادے کے خطوط پر دستخط کیے گئے۔ ان میں سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے فریم ورک، سول نیوکلیئر تعاون، خلائی شعبے میں مشترکہ منصوبے اور گجرات کے دھولیرا میں خصوصی سرمایہ کاری زون کے قیام شامل ہیں۔
خلائی شعبے میں دونوں ممالک نے نئے لانچ کمپلیکس، سیٹلائٹ مینوفیکچرنگ یونٹس، مشترکہ مشنز اور تربیتی مراکز قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ توانائی کے شعبے میں یو اے ای نے انڈیا کو سالانہ پانچ لاکھ میٹرک ٹن ایل این جی فراہم کرنے کا معاہدہ کیا، جس کے بعد وہ انڈیا کا دوسرا سب سے بڑا ایل این جی فراہم کنندہ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ انڈین پیٹرولیم کارپوریشن اور ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی گیس کے درمیان فروخت اور خریداری کا معاہدہ بھی طے پایا۔
وکرم مصری نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے یمن میں کشیدگی، غزہ کی صورتحال، ایران اور ٹیرف جیسے عالمی امور پر بھی بات کی، تاہم ملاقات کا زیادہ تر فوکس دو طرفہ تعلقات پر رہا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے 2032 تک دو طرفہ تجارت کو 200 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا اور ابوظہبی میں ’ہاؤس آف انڈیا‘ قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جو ایک ثقافتی مرکز ہوگا۔
ماہرین اس دورے کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال سے جوڑ رہے ہیں۔
سابق سفیر تلمیز احمد نے کہا کہ خطے میں ایران اور غزہ کے حالات براہِ راست انڈیا پر اثر انداز ہوتے ہیں، اسی لیے یہ دورہ اہم ہے۔ مغربی ایشیائی امور کے ماہر مدثر قمر نے کہا کہ یو اے ای خلیج میں انڈیا کا ایک بڑا شراکت دار ہے، نہ صرف توانائی اور تجارت کے حوالے سے بلکہ اس لیے بھی کہ وہاں 35 لاکھ سے زائد انڈین شہری مقیم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ دورہ کاروبار، سلامتی، توانائی اور سٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
وکرم مصری نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات میں ایران، سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان یمن میں کشیدگی اور غزہ امن بورڈ جیسے معاملات پر بات ہوئی، تاہم انھوں نے کہا کہ اس بارے میں زیادہ تفصیلات ظاہر نہیں کی جا سکتیں۔
ادھر آئی ڈی ایف ریسرچ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر عمیر انس نے خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا کہ ’یو اے ای اور انڈیا ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار رہے ہیں، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیاں خاص طور پر یو اے ای کی ایران کو برآمدات کو متاثر کر رہی ہیں۔‘
یمن میں حالیہ دنوں میں سعودی قیادت والے اتحاد نے ایک فضائی حملہ کیا، جس میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے درآمد کیے گئے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد سعودی عرب نے یمنی حکومت کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے یو اے ای سے 24 گھنٹوں کے اندر اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔
یو اے ای نے ان الزامات کی تردید کی لیکن ساتھ ہی اپنے فوجیوں کے انخلا کا اعلان بھی کر دیا، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع کھل کر سامنے آ گیا۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کو فروغ دینے کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ بنانے کا اعلان کیا اور انڈیا کو اس میں شمولیت کی دعوت دی۔ تاہم انڈیا کی جانب سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مستونگ میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، پانچ افراد ہلاک, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی میں پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تھا اور وہ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔ تاہم آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کے کسی عسکریت پسند تنظیم سے تعلق اور فائرنگ کے تبادلے میں مارے جانے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ترجمان نے بتایا کہ سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی تھی کہ عسکریت پسند دشت کے علاقے میں سبی-کوئٹہ شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس اطلاع پر علاقے کی نگرانی شروع کی گئی، جہاں عسکریت پسندوں نے اہلکاروں کو دیکھتے ہی فائرنگ کی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق جوابی کارروائی میں پانچ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ ان کے دیگر ساتھی فرار ہو گئے، جن کا تعاقب جاری ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ کارروائی کے دوران پانچ ایس ایم جیز، سات دستی بم اور تین موٹرسائیکلیں بھی برآمد کی گئیں۔
ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں سول ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں درج کر لیا گیا ہے۔
جاپان کی وزیرِاعظم کا ملک میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان, کوہ ایو، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters
جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تکائچی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعے کو پارلیمان تحلیل کر دیں گی، جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت انتخابات ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عوامی حمایت کو پارلیمانی اکثریت میں بدلنے کی کوشش ہے۔
سانائے تکائچی نے ٹوکیو میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ یہ ایک ’انتہائی اہم فیصلہ‘ ہے جو ’عوام کے ساتھ مل کر جاپان کی سمت کا تعین کرے گا۔‘
جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم اور ان کی کابینہ کو گذشتہ اکتوبر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے عوامی سطح پر بھرپور حمایت حاصل ہے۔ تاہم ان کی جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی، ایل ڈی پی، رائے عامہ کے سروے میں پیچھے ہے اور یہ قدم ایک بڑا سیاسی خطرہ بھی ہے۔ یہ جاپان میں دو برسوں میں دوسرا عام انتخاب ہوگا۔
سانائے تکائچی نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں عوام براہِ راست فیصلہ کریں کہ ’کیا سانائے تاکائچی وزیرِاعظم کے منصب کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔‘
انتخابات کے لیے مہم 27 جنوری سے شروع ہوگی، جس میں ایوانِ نمائندگان کے 465 ارکان منتخب کیے جائیں گے۔ ایل ڈی پی کے پاس اس وقت 199 نشستیں ہیں اور جاپان انوویشن پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے حکومت کر رہی ہے۔
سانائے تکائچی سابق وزیرِاعظم شنزو آبے کی قریبی ساتھی اور برطانوی رہنما مارگریٹ تھیچر کی مداح سمجھی جاتی ہیں۔ انھیں جاپان کی ’آئرن لیڈی‘ کہا جاتا ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے معیشت کو دوبارہ ترقی کی راہ پر ڈالنے کا وعدہ کیا تھا اور حکومتی اخراجات بڑھانے کی پالیسی اپنائی ہے۔
گذشتہ ماہ ان کی کابینہ نے 57 ارب ڈالر کا ریکارڈ دفاعی بجٹ منظور کیا، جسے چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں ’سب سے بڑا سٹریٹیجک چیلنج‘ قرار دیا گیا۔
سانائے تکائچی کے تائیوان سے متعلق بیانات پر چین نے سخت ردعمل دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ دوسری جانب انھوں نے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ جاپان کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی تعریف کی اور نایاب معدنیات پر معاہدہ کیا۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اگرچہ ایل ڈی پی عوام میں غیر مقبول ہے، لیکن سانائے تاکائچی اور ان کی حکومت کی حمایت 60 سے 80 فیصد کے درمیان ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ اس مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمان میں واضح اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہیں تاکہ اپنی پالیسیوں کو آسانی سے نافذ کر سکیں۔
تاہم یہ فیصلہ خطرات سے خالی نہیں۔ جاپان میں گذشتہ پانچ برسوں میں یہ چوتھی وزیرِاعظم ہیں، اور ان کے پیش رو عوامی حمایت کھو کر اور سکینڈلز کی زد میں آ کر اقتدار سے بے دخل ہوئے۔ ان کے پیش رو شیگرو ایشیبا نے بھی قبل از وقت انتخابات کرائے تھے، جس کے نتیجے میں ایل ڈی پی کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت کھونی پڑی۔
اب ایک نئی متحدہ اپوزیشن بھی سامنے آ چکی ہے، جسے ’سینٹرسٹ ریفارم الائنس‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ اتحاد آئینی ڈیموکریٹک پارٹی اور کومیتو پارٹی نے تشکیل دیا ہے، جو پہلے ایل ڈی پی کی اتحادی رہ چکی ہے۔
سانائے تکائچی نے کہا کہ پارلیمان کی تحلیل اس وقت کی جا رہی ہے جب ’معاشی پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے مکمل نظام قائم کر لیا گیا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتی ہیں عوام ان پر اعتماد کریں کہ وہ اپنے وعدے پورے کریں گی۔
شامی فوج اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات
،تصویر کا ذریعہReuters
اتوار کو شام نے کرد عسکریت پسندوں سے کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کی تھی۔ سرکاری طور پر یہ اعلان کیا گیا کہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں جنگ بندی اور اس کے ارکان کو سرکاری افواج کی صفوں میں شامل کرنا شامل ہے۔
اس معاہدے پر شام کے عبوری صدر احمدالشرع اور ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے دستخط کیے تھے۔
اب شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا نے یہ خبر دی ہے کہ شامی فوج نے پیر کو ہونے والی تازہ جھڑپوں میں اپنے تین فوجیوں کے مارے جانے کا الزام کرد عسکریت پسندوں پر عائد کیا گیا ہے۔ تاہم کرد فورسز نے ملک کے شمال اور مشرق میں ان کے خلاف حملے شروع کرنے کا الزام سرکاری فورسز پر عائد کیا۔
سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) نے اپنے ایک بیان میں فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ ’عین عیسیٰ، الشدادی (حسقہ) اور رقہ میں ہمارے دستوں پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘
یہ بات ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب شام کے عبوری سربراہ احمد الشعرع نے اتوار کی شام کردستان ریجن کے سابق صدر اور کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ مسعود بارزانی سے فون پر گفتگو کے دوران شام میں کردوں کے حقوق کے احترام اور تحفظ اور طے پانے والے معاہدوں کے مطابق تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
،تصویر کا ذریعہShutterstock
معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟
عبوری صدر احمد الشرع اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شرائط میں ایک جامع اور فوری جنگ بندی اور فرات کے مشرق کے علاقے سے ایس ڈی ایف سے وابستہ تمام فوجی فارمیشنز کا انخلا شامل ہے۔
اس معاہدے میں دیر الزور اور رقہ گورنریٹس کو انتظامی اور عسکری طور پر شامی حکومت کو فوری اور مکمل حوالے کرنے، اور شامی حکومت کی طرف سے خطے میں تمام سرحدی گزرگاہوں اور تیل اور گیس کے ذخائر کی وصولی، ایس ڈی ایف کے دفاعی ڈھانچے میں شام کے تمام فوجی اور سکیورٹی عناصر کا انضمام کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔
معاہدے میں ایس ڈی ایف کو پابند کیا گیا کہ وہ بشارالاسد کی سابق حکومت کے کسی بھی افسر کو اپنی صفوں میں شامل نہ کرے اور شمال مشرقی شام کے علاقوں میں موجود سابق حکومت کے افسران کی فہرستیں حوالے کرے۔
اس میں یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ ایس ڈی ایف کو تمام غیر شامی رہنماؤں اور کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ارکان کو شام کی سرحدوں سے ہٹانا چاہیے تاکہ ’خودمختاری اور پڑوس کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن کیا گیا جو مسائل کا حل نہیں: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا جرگے سے خطاب
،تصویر کا ذریعہPTI
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع خیبر کے مشران اور عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ضلع خیبر کی امن و امان کی صورتحال اور وادی تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تیراہ کے متاثرین کو بے یار و مددگار نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے ملک کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان کی قربانیوں کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک منظم سوچ موجود ہے جو پشتون اور بالخصوص قبائلی عوام کو مین سٹریم نظام کا حصہ نہیں بننے دینا چاہتی۔ ان کے مطابق وزیر اعلیٰ منتخب ہوتے ہی ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا شروع کیا گیا، لیکن عوامی حمایت سے انھوں نے ہر بیانیے کو شکست دی۔
انھوں نے کہا کہ عوام سے بندوق کے بجائے قلم دینے کا وعدہ کیا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے وہ صفِ اول میں کھڑے ہوں گے۔ ’جب بھی قوم پر مشکل وقت آیا ہے، میں چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا رہا ہوں۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عمران خان نے عوام کو اتنا شعور دیا ہے کہ وہ حقیقت اور منافقت میں فرق جانتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ تیراہ متاثرین کی مدد کے لیے پوری قوم متحد ہے اور تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشنز کے بعد بھی سوال یہ ہے کہ امن کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے گئے فیصلے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’زور زبردستی اور بدمعاشی کے ذریعے آپریشن کیا گیا جو مسائل کا حل نہیں ہے‘۔
جرگے کے دوران مشران نے امن کی بحالی اور متاثرین کی باعزت واپسی سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرین کو سہولت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے اور کہا کہ صوبائی حکومت متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں تیراہ متاثرین کے لیے قائم رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیا۔ انھوں نے متاثرین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور فوری حل کے لیے حکام کو ہدایات دیں۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے تقریباً 70 سال تک بغیر تنخواہ کے سرحدوں کی حفاظت کی، لیکن ریاست وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا اور عوام کو جبری طور پر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کسی بھی صورت تجربہ گاہ نہیں ہیں۔ ’یہ پالیسی ماضی میں بھی ناکام رہی اور آئندہ بھی ناکام رہے گی۔ عوامی حمایت کے بغیر کوئی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔‘
پولینڈ کو انڈیا کے پڑوس میں دہشت گردی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے: ایس جے شنکر
،تصویر کا ذریعہANI
انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پولینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ رادوساو سکورسکی سے ملاقات میں کہا ہے کہ پولینڈ کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپنانی چاہیے اور انڈیا کے پڑوس میں کسی بھی ’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے‘ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
جے شنکر نے ملاقات میں یہ بھی کہا کہ انڈیا کو مخصوص طور پر نشانہ بنانا ’غلط اور غیر منصفانہ‘ ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پولینڈ کے نائب وزیر اعظم سکورسکی نے جے شنکر کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کا مقابلہ ضروری ہے اور صرف انڈیا کو ٹیرف کے ذریعے نشانہ بنانا درست نہیں۔
جے شنکر نے ملاقات کے آغاز میں کہا کہ دونوں ممالک ایسے وقت میں بات کر رہے ہیں جب دنیا بھر میں افراتفری کا ماحول ہے۔ انھوں نے بتایا کہ پولینڈ وسطی یورپ میں انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ملکوں کی تجارت تقریباً سات ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
پولینڈ میں انڈین سرمایہ کاری تین ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
انھوں نے یوکرین تنازع پر بھی بات کی اور کہا کہ انڈیا کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ اس سے قبل سکورسکی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انڈیا نے روس سے تیل کی درآمد کم کر دی ہے، جس پر انڈیا میں سیاسی بحث چھڑ گئی تھی۔
خیال رہے کہ سکورسکی گذشتہ سال پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے اور توانائی، زرعی صنعت، گرین ٹیکنالوجی اور مالیات کے شعبوں میں تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔ پاکستان اور پولینڈ کے درمیان 2023 میں دوطرفہ تجارت 922 ملین ڈالر رہی، جبکہ پولینڈ کی آئل اینڈ گیس کمپنی 1997 سے پاکستان میں سرگرم ہے۔
پولینڈ اور پاکستان کے تعلقات دوسری عالمی جنگ کے زمانے سے ہیں، جب کراچی اور کوئٹہ میں پولینڈ کے مہاجرین کے لیے بستیاں قائم کی گئی تھیں۔ پولینڈ نے پاکستانی فضائیہ کی تشکیل میں بھی کردار ادا کیا تھا اور اس وقت پاکستان میں پولینڈ کی سرمایہ کاری 500 ملین ڈالر ہے۔
مجھے ٹارگٹ کرنے کے لیے میرے علاقے کے عوام کو بے گھر کیا جا رہا ہے: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہKPK Govt
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں تیراہ متاثرین کے لیے قائم رجسٹریشن سنٹر کا دورہ کیا اور متاثرین کے مسائل سنے۔ انھوں نے متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کرنے اور متاثرین کو تمام ممکن سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عوام نے بغیر کسی معاوضے کے 70 سال تک سرحدوں کی حفاظت کی، لیکن ریاست نے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار انتباہ کے باوجود ریجیم چینج کے بعد دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کیا گیا اور اب عوام کو جبری طور پر گھروں سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت سے کسی بھی فیصلے پر مشاورت نہیں کی گئی، حتیٰ کہ دو ماہ کی مدت کے فیصلے پر بھی نہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ قبائلی اضلاع کوئی تجربہ گاہ نہیں جہاں ہر حکومت نئی پالیسی آزما سکے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ ناکام پالیسی کل بھی ناکام تھی اور آئندہ بھی ناکام رہے گی، اور ہم کسی بھی صورت اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوامی حمایت کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ’پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی ضلع سے وزیر اعلیٰ منتخب ہوا ہے، اور یہی حقیقت کچھ لوگوں کو قبول نہیں، اسی لیے مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
سہیل آفریدی نے الزام لگایا کہ ان کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد مسلسل منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور ناکام پالیسیوں پر تنقید کرنے پر انھیں دہشت گردوں کا حمایتی کہا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’مجھے ٹارگٹ کرنے کے لیے میرے علاقے کے عوام کو بے گھر کیا جا رہا ہے، ہم نے اپنی عورتوں اور بزرگوں کی بے حرمتی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ بندوقوں کا مقابلہ قلم اور شعور سے کریں گے۔ ’ہم اپنے بچوں کو بندوق نہیں بلکہ قلم اور تعلیم دیں گے۔ خون کے آخری قطرے تک آئینی حدود میں اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ میں اپنی قوم کے ساتھ چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑا ہوں۔‘
نوبیل انعام دینے کا فیصلہ حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد کمیٹی کرتی ہے: ناروے کا ٹرمپ کو جواب
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ناروے کے وزیرِاعظم جوناس گاہر سٹورے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے اپنے جواب میں وضاحت کی ہے کہ نوبیل امن انعام ناروے کی حکومت نہیں بلکہ ایک آزاد نوبیل کمیٹی دیتی ہے۔
یہ وضاحت اس پیغام کے بعد سامنے آئی ہے جو صدر ٹرمپ نے انھیں اس متعلق خط لکھا تھا۔ اس خط میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اب ’محض امن کے بارے میں سوچنے کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے‘ کیونکہ ناروے نے انھیں نوبیل امن انعام دینے سے انکار کر دیا۔
جوناس سٹورے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ متن اتوار کی دوپہر اس وقت بھیجا گیا جب انھوں نے اور فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب نے ٹیرف میں اضافے کی مخالفت کی تھی۔ جوناس سٹورے نے مزید کہا کہ یہ صدر ٹرمپ کا فیصلہ تھا کہ وہ یہ پیغام دیگر نیٹو رہنماؤں کے ساتھ بھی شیئر کریں۔
اپنے بیان میں ناروے کے وزیرِاعظم نے گرین لینڈ کے معاملے پر بھی مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’گرین لینڈ مملکتِ ڈنمارک کا حصہ ہے اور ناروے اس معاملے میں ڈنمارک کی مکمل حمایت کرتا ہے۔‘
انھوں نے آخر میں کہا کہ ’جہاں تک نوبیل امن انعام کا تعلق ہے، میں نے صدر ٹرمپ کو واضح طور پر بتایا ہے کہ یہ انعام ایک آزاد نوبیل کمیٹی دیتی ہے، نہ کہ ناروے کی حکومت۔‘
ورلڈ اکنامک فورم نے ایران کو اجلاس میں شریک ہونے سے روک دیا
،تصویر کا ذریعہOffice of the Iranian Supreme Leader/WANA (West Asia News Agency)
عالمی اقتصادی فورم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اس سال ڈیووس اجلاس میں شرکت کی دعوت واپس لے لی ہے۔
عباس عراقچی کی دعوت کے خلاف مظاہروں میں شدت کے بعد تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ ’اگرچہ انھیں گذشتہ موسم خزاں میں اس میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں ایران میں شہریوں کی جانوں کے المناک نقصان نے ایرانی حکومت کے نمائندے کے لیے اس سال ڈیووس میں شرکت کو نامناسب بنا دیا ہے۔‘
عباس عراقچی منگل 20 جنوری کو ایک سیشن میں ایک تقریر کرنا تھی اور وہ سوال و جواب کے سیشن میں بھی مہمان تھے جس کا عنوان تھا ’ہم زیادہ تنازعات کا شکار دنیا میں کیسے تعاون کا رستہ اختیار کر سکتے ہیں؟‘
ورلڈ اکنامک فورم سوئٹزرلینڈ میں مقیم ایک غیر سرکاری، غیر منافع بخش گروپ ہے جو اپنے مشن کو عالمگیریت کے معیار کو بہتر بنانے کے طور پر بیان کرتا ہے۔
اس سال کا اجلاس، جس کا نصب العین ’مذاکرات کی روح‘ ہے، ڈیووس میں حکومت، کاروبار، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے عالمی رہنماؤں کو اکٹھا کرے گا۔
ٹرمپ کی ٹیرف سے متعلق دھمکیاں ’بالکل غلط‘ ہیں، معاملہ بات چیت سے حل ہونا چاہیے: برطانیہ
،تصویر کا ذریعہWPA Pool/Getty Images
برطانوی وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی ممالک پر ٹیرف لگانے کی دھمکی کو ’بالکل غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ’انتہائی سنگین صورتحال‘ ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کر رکھا ہے کہ جب تک امریکہ کو ڈنمارک سے گرین لینڈ خریدنے کا معاہدہ نہیں مل جاتا یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف لگایا جائے گا، جو یکم جون سے بڑھ کر 25 فیصد ہو جائے گا۔
برطانوی وزیر اعظم نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اختلافات کو اس طرح حل کرنا درست طریقہ نہیں ہے اور یہ معاملہ ’اتحادیوں کے درمیان پُرسکون بات چیت‘ سے طے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ صدر ٹرمپ گرین لینڈ میں فوجی کارروائی کریں گے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا برطانیہ جوابی ٹیرف لگانے کا سوچ رہا ہے، تو سٹارمر نے کہا کہ تجارتی جنگ ’کسی کے مفاد میں نہیں ہے‘۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ گرین لینڈ کے مستقبل کا فیصلہ صرف ’گرین لینڈ کے عوام اور مملکتِ ڈنمارک‘ کا حق ہے۔
امریکی پالیسی پر تنقید کے باوجود برطانوی وزیر اعظم نے زور دیا کہ برطانیہ اور امریکہ ’قریبی اتحادی اور قریبی شراکت دار‘ ہیں اور ان کا تعلق ’انتہائی اہمیت‘ کا حامل ہے۔
شاہی خاندان کے اپریل میں امریکہ کے مجوزہ دورے کے بارے میں پوچھے جانے پر کیئر سٹارمر نے کہا کہ ’امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہے۔‘
ٹرمپ کی نظر گرین لینڈ پر کیوں ہے؟, جیمز فٹزجیرلڈ، بی بی سی نیوز
،تصویر کا ذریعہReuters/Getty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ گرین لینڈ امریکہ کے لیے ’قومی سلامتی‘ کے نقطۂ نظر سے ضروری ہے۔
گرین لینڈ کی جغرافیائی حیثیت اسے شمالی امریکہ اور آرکٹک کے درمیان ایک اہم مقام بناتی ہے، جہاں سے میزائل حملوں کی صورت میں ابتدائی وارننگ سسٹمز مؤثر طریقے سے کام کر سکتے ہیں اور خطے میں بحری جہازوں کی نگرانی بھی ممکن ہے۔
امریکہ دوسری عالمی جنگ سے اب تک پٹوفک سپیس بیس (جسے پہلے تھول ایئر بیس کہا جاتا تھا) چلا رہا ہے، جو اس وقت میزائلوں کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہReuters
حالیہ برسوں میں گرین لینڈ کے قدرتی وسائل پر بھی عالمی دلچسپی بڑھی ہے، جن میں ریئر ارتھ منرلز، یورینیم اور آئرن شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر بھی موجود ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایک سے زیادہ مرتبہ کہا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل نہیں کرتا تو ’روس یا چین اسے لے لیں گے۔‘
اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے قانون سازوں کو بتایا ہے کہ امریکہ کا منصوبہ جزیرے کو خریدنے کا ہے، نہ کہ اس پر حملہ کرنے کا۔
ٹرمپ گرین لینڈ کو ضم کر کے ’تاریخ رقم‘ کریں گے: کریملن
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنکریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ گرین لینڈ کو اپنے اندر ضم کر لیتا ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’تاریخ رقم‘ کریں گے۔
انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام نہ صرف امریکی تاریخ بلکہ دنیا کی تاریخ میں بھی اہمیت رکھے گا۔‘ تاہم انھوں نے ماسکو کے مؤقف پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
جب ان سے صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ گرین لینڈ کو روس کے خطرے سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں، تو دمتری پیسکوف نے جواب دینے سے گریز کیا۔
انھوں نے عمومی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ دنوں میں بہت سی تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ہم یقینی طور پر ہر چیز پر قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ جہاں تک ڈنمارک اور گرین لینڈ کے حوالے سے ہمارے منصوبوں کا تعلق ہے، اس پر میں کوئی تبصرہ نہیں کروں گا۔‘
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ایک روزہ حفاظتی ضمانت دے دی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ایک روزہ حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے کل تک ان کی گرفتاری سے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس اعظم خان نے دونوں کی درخواست پر سماعت کے بعد دیا۔
اس سے قبل اسلام آباد کی ایک خصوصی عدالت نے دونوں کے عدم پیشی کی وجہ سے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور متعلقہ عدالت کے جج نے تفتیشی افسر کو علاقہ مجسٹریٹ سے ملزمان کے گھروں کے سرچ وارنٹ بھی لینے کا حکم دیا تھا۔
اس حکمنامے کے خلاف آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے دوران وکیل کامران مرتضیٰ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت دو مرتبہ منسوخ ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق وکیل سے اگر کوئی زیادتی بھی ہو جائے تو جج کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔
کامران مرتضیٰ نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں جج صاحب ہر 15 منٹ بعد کیس چلا رہے ہیں، جو مناسب طریقہ کار نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان مزاری ایک خاتون ہیں اور اس وقت ان کی طبیعت بھی ناساز ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اللہ تعالیٰ کے بعد ججز کا ایک اہم مرتبہ ہے‘ اور اس منصب کے تقاضے صبر و تحمل کے ساتھ پورے کیے جانے چاہییں۔
ہنزہ اور غذر میں زلزلے کے جھٹکے، موٹر سائیکل سوار ملبے تلے دب گیا
،تصویر کا ذریعہCSEM-EMSC
پاکستان میٹ آفس کے مطابق پیر کی صبح 11 بج کر 21 منٹ پر شمال مغربی کشمیر میں 5.8 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی جبکہ اس کا مرکز 36.80 درجے شمالی عرض بلد اور 74.42 درجے مشرقی طول بلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے جھٹکے گلگت بلتستان، پشاور اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور کئی مقامات پر لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے تاہم متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
گلگت بلتستان ریسکیو 1122 کے مطابق گلگت بلتستان میں حالیہ 5.8 شدت کا زلزلہ زیادہ تر ہنزہ اور غذر میں محسوس کیا گیا ہے۔
اس زلزلے کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں ہنزہ کا روڈ بلاک ہوچکا ہے۔ مختلف امدادی ٹیمیں اور بھاری مشینری موقع پر پہنچائی جا رہی ہیں جبکہ امدادی کارکنان پہلے ہی موقع پر موجود ہیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق غذر کے مقام پر اطلاع ملی ہے کہ زلزلے کے دوران ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں ایک موٹر سائیکل سوار ملبے تلے دب گیا ہے، جسے نکالنے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔
اس مقام پر بھاری مقدار میں ملبہ موجود ہے۔ اسی طرح غذر میں ایک اور شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق ابھی تک کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ضلع غذر میں کم از کم بیس مکانوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
سپین میں ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 39 ہو گئی
،تصویر کا ذریعہReuters
سپین کے سول گارڈ
کا کہنا ہے کہ جنوبی سپین کے قصبے آدموز کے نزدیک دو ٹرینوں میں تصادم کے نتیجے
میں کم از کم 39 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ریل نیٹ ورک
آپریٹر عدیف کے مطابق یہ واقعہ قرطبہ شہر کے نزدیک واقع آدموز قصبے کے قریب اس وقت
پیش آیا جب ملاگا سے میڈرڈ جانے والی ایک تیز رفتار ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اتر کر
دوسری پٹری پر چڑھ گئی جو مخالف سمت سے آنے والی ایک ٹرین سے ٹکرا گئی۔
ریلوے حکام کے
مطابق حادثے کے وقت دونوں ٹرینوں میں عملہ سمیت 400 افراد سوار تھے۔
ایمرجنسی سروسز کے
مطابق، اس تصادم کے بعد 122 افراد کو طبی امداد دی گئی جن میں سے 48 اب بھی ہسپتال
میں زیرِ علاج ہیں۔
زخمیوں میں سے ایک
بچے سمیت 12 افراد انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہیں۔
اس سے قبل سپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوینٹے نے اسے ’انتہائی عجیب‘ واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرین جہاں پٹری سے اتری ہے وہاں کا ٹریک وہ بالکل سیدھا ہے جس کی پچھلے سال مئی میں مرمت کی گئی تھی۔
،تصویر کا ذریعہReuters
سٹریٹجک شراکت داری کی فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات کے صدر کا انڈیا کا سرکاری دورہ
،تصویر کا ذریعہFuture Publishing via Getty Images
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے
صدر شیخ محمد بن زاید النہیان مشرق وسطیٰ کی غیر مستحکم صورتحال کے درمیان سٹریٹجک
شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے آج سرکاری دورے پر انڈیا پہنچ رہے ہیں۔
گذشتہ روز انڈیا کی
وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شیخ محمد بن زاید کا متحدہ
عرب امارات کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے انڈیا کا تیسرا سرکاری دورہ ہوگا۔
وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، اس دورے سے دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو انڈیا اور متحدہ
عرب امارات کے درمیان جامع سٹریٹجک پارٹنرشپ کی نئی حدوں کا تعین کرنے کا موقع ملے
گا۔
دوسری جانب انڈیا کے
خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ ایک
ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات میں تیزی سے گراوٹ آ رہی ہے،
یمن کے معاملے پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے
جبکہ غزہ میں غیر مستحکم سیاسی صورتحال ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے میں تجارت اور سرمایہ کاری،
دفاعی صنعت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون زیرِ بحث آئے گا۔
امریکہ کو یقین ہے کہ بین الاقوامی قوانین سے زیادہ اہم اس کی طاقت ہے: انتونیو گوتیرس
،تصویر کا ذریعہUN Photo / Alba García Ruiz
اقوام متحدہ کے سیکرٹری
جنرل انتونیو گوتیرس کا کہنا ہے کہ امریکہ کو اس بات کا یقین ہے کہ بین الاقوامی قوانین سے زیادہ اہم اس کی طاقت ہے۔
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام سے بات کرتے ہوئے، انتونیو گوتیرس کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کو واضح طور
پر یہ یقین ہے کہ کثیرالجہتی حل کام نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا کہ
امریکہ کی نظر میں جو چیز اہم ہے وہ ’امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کا استعمال‘
ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری
جنرل کا یہ بیان امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر حملے اور اس کے صدر کو پکڑنے کے
کئی ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ کچھ عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ تواتر سے گرین
لینڈ کو امریکہ میں ضم کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے آئے ہیں۔
گوٹیرس نے کہا کہ ان
کے خیال میں اقوام متحدہ کے رہنما اصول – بشمول یہ کہ اس کے تمام رکن ممالک کو برابری کا حق حاصل ہے – اب خطرے میں ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ اقوام متحدہ پر تنقید کرتے آئے ہیں۔
گذشتہ ستمبر میں جنرل
اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے
ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے بل پر ’سات ناقابل ختم جنگیں ختم کروائی ہیں‘ اور اقوام
متحدہ نے ’اس میں کسی طرح سے مدد کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید
کہا کہ ’مجھے بعد میں احساس ہوا کہ اقوام متحدہ کبھی ہمارے لیے آیا ہی نہیں۔‘
انٹرویو کے دوران گوتیرس
نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی تنظیم ممبران سے اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کردہ
بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کروا پا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام
متحدہ بڑے عالمی تنازعات کو حل کرنے کے بے حد کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا
کہ اقوام متحدہ کے پاس کوئی طاقت نہیں جبکہ بڑی طاقتوں کا اثر و رسوخ اقوام متحدہ
سے کہیں زیادہ ہے۔
چلی کے جنگلات میں لگی آگ کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک، ہنگامی حالت نافذ
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
چلی کے صدر گیبریل بورک
نے جنگلات میں لگی آگ سے کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک کے دو خطوں میں
ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
دارالحکومت سینٹیاگو
سے تقریباً 500 کلومیٹر (300 میل) جنوب میں واقع نیوبل اوربیوبیو کے علاقوں سے 50 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات
پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
صدر بورک کا کہنا
ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
سب سے خطرناک آگ ساحلی
شہر کونسیپسیون سے متصل خشک جنگلات میں
لگی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق، جنگل میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں کم و بیش 250 گھر
تباہ ہو چکے ہیں۔
مقامی میڈیا میں جاری
تصاویر میں سڑکوں پر جلی ہوئی گاڑیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
چلی کے محکمہ جنگلات
کا کہنا ہے کہ فائر فائٹرز کو اتوار کے روز ملک بھر میں 24 مقامات پر آگ کا سامنا
تھا جس میں سے سب سے خطرناک آگ نیوبل اور بیو بیو میں لگی ہوئی ہے۔
آتشزدگی کے نتیجے
میں ان دونوں خطوں میں اب تک 21 ہزار ایکڑ اراضی جلا چکی ہے۔
صدر بورک نے ایکس پر
جاری ایک بیان میں کہا، ’جنگل میں لگنے والی سنگین آگ کے پیشِ نظر، میں نے دونوں خطوں
میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا
تھا کہ امدادی سرگرمیوں کے لیے تمام تر وسائل مہیا کیے جا رہے ہیں۔
چلی کے قانون کے مطابق،
ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد ملک کی مسلح افواج کو مدد کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہAnadolu via Getty Images
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
دو ہفتوں سے جاری لڑائی کے بعد شامی حکومت اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جنگ بندی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
شام کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے کرد جنگجوؤں پر مشتمل سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے ساتھ ملک گیر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ملک کا تقریباً مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
اس جنگ بندی کے نتیجے میں تقریباً دو ہفتوں سے حکومتی فورسز اور کرد جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی ختم ہو گئی ہے۔
یہ جنگ بندی ایک وسیع تر 14 نکاتی معاہدے کا حصہ ہے جس کے تحت ایس ڈی ایف کو شام کے فوجی اور ریاستی اداروں میں ضم کیا جائے گا۔
دمشق میں خطاب کرتے ہوئے صدر احمد الشراع کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے شام کے ریاستی اداروں کو تین مشرقی اور شمالی گورنریٹس الحسکہ، دیر الزور اور رقہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔
اس معاہدے کا اعلان دمشق میں شام کے لیے امریکہ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک اور احمد الشراع کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی ایلچی کا کہنا ہے یہ معاہدہ ایک ’متحد شام‘ کی جانب ایک قدم یے۔
احمد الشراع نے بتایا کہ ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے بھی میٹنگ میں شرکت کرنی تھی تاہم خراب موسمی حالات کے باعث وہ سفر نہیں کر سکے اور ان کا دورہ پیر تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایک ٹیلی ویژن خطاب میں، عبدی نے ملاقات کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ دارالحکومت سے واپسی پر شام کے کردوں کو معاہدے کے متعلق مزید تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔